ابلتے گٹروں نے جینا کیا حرام
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) محلہ رام گڑھا (مدینہ پارک) گنجان آبادی کا حامل شہر کا ایک وسطی محلہ ہے جہاں ابلتے گٹروں کا انکشاف ہوا ہے جس سے اہل محلہ مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں 
کیا بچے کیا بڑے سبھی ان ابلتے گٹروں کے گندے پانی سے گزرنے پر مجبور ہیں
نمازی مسجد تک جانے سے قاصر ہیں کیونکہ گلیاں گندے پانی سے بھری پڑی ہیں
نمائندہ باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مقامی محمد طارق نے بتایا کہ اگر مہمان آجائے تو ہم شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ گھروں کو جانے والا کوئی راستہ صاف نہیں، متعدد مرتبہ متعلقہ اداروں کو درخواست دے چکے، سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروا چکے، میونسپل کارپوریشن کو فون کالز کر چکے، لیکن اول تو کوئی آتا نہیں اور اگر میونسپل کارپوریشن والے آتے ہیں تو فی گھر 300 روپے اینٹھتے ہیں، کچھ دیر مشین چلاتے ہیں عارضی طور پر پانی نکالتے ہیں اور رفو چکر ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد گٹر ہیں کہ پھر سے ابلنا شروع ہوجاتے ہیں یہی نہیں پانی بہہ کر قریبی کھیل کے کھلے میدان میں جمع ہو چکا ہے جس سے بد بو اور تعفن کے ساتھ مچھر کی افزائش ہو رہی ہے، بیماریاں الگ پیدا ہو رہی ہیں
ہم جائیں تو کہاں، شکایت کریں تو کس سے؟
یہ بھی شہری ہیں جو اس گندے ماحول میں جی رہے ہیں اور اس ماحول کو صاف کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو بار بار شکایات کر چکے ہیں لیکن ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والے شاید اس اذیت ناکی سے واقف نہیں جس سے اہل محلہ گزر رہے ہیں، ورنہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر کب کا حل کیا جا چکا ہوتا
اہل محلہ نے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور چیف میونسپل کارپوریشن آفیسر سے پھر سے درخواست کی ہے کہ ہمارا یہ مسئلہ حل کروایا جائے
Category: صحت

ابلتے گٹروں نے کیا جینا حرام

گرین بیلٹ مویشیوں کے لیے چراگاہ
رپورٹ (کاشف تنویر)
تکبیر روڑ منڈی بہاؤالدین
ڈاکٹر مجاھد مغل کی لاکھوں روپے سے تعمیر کردہ گرین بیلٹ کو کسی ایک شخص نے اپنے اثر رسوخ کی بنیاد پر اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہ بنا رکھا ھے. تمام اعلی حکام بے بسی نہ دکھائیں.براے مہربانی نوٹس لیا جاے
کیا شہر کی خوبصورتی کے لیے آئندہ کسی شہری کو اپنی ذاتی جیب سے خرچ کرنا چاہیے؟؟
واٹر فلٹر پلانٹ کو چالو کروایا جائے
رپورٹ (کاشف تنویر)
انتہائی شرمناک
گوڑھا محلہ منڈی بہاؤالدین میں یہ واٹر فلٹر پلانٹ کچھ عرصہ قبل ایم پی اے حمیدہ وحیدالدین صاحبہ نے کروڑوں روپے کی گرانٹ سے لگوایا تھا. اس واٹر فلٹر پلانٹ کے اردگرد اب سارے محلے کا گند گرایا جاتا ہے کیا انتظامیہ اس جگہ کو صاف کروا کر اس واٹر پلانٹ کو چالو کروا سکتی ہے؟
ایل محلہ کا انتظامیہ سے پر زور مطالبہ ہے کہ اس جگہ کو صاف کروا کر اس واٹر پلانٹ کو چالو کروایا جائے.
گرین بیلٹ مویشیوں کے لیے چراگاہ
رپورٹ (کاشف تنویر)
تکبیر روڑ منڈی بہاؤالدین
ڈاکٹر مجاھد مغل کی لاکھوں روپے سے تعمیر کردہ گرین بیلٹ کو کسی ایک شخص نے اپنے اثر رسوخ کی بنیاد پر اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہ بنا رکھا ھے. تمام اعلی حکام بے بس.
کیا شہر کی خوبصورتی کے لیے آئندہ کسی شہری کو اپنی ذاتی جیب سے خرچ کرنا چاہیے؟؟
براے مہربانی نوٹس لیا جاے.
عید قربان پر صفائی کے شاندار انتظامات
عید قربان پر صفائی کے بہترین انتظامات
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)
عید قربان جہاں اپنے اندر بے پناہ خوشیاں سموئے ہوتی ہے وہاں جانور قربان کرنے والے لوگ آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگات ہوئے انہیں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دیتے ہیں جس سے بدبو پیدا ہوتی ہے
لیکن اس بار میونسپل کارپوریشن شیخوپورہ نے جس بہترین انداز سے آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی صفائی کی ہے وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ عملی طور پر نمونہ بھی ہے
sa
اس شاندار کارکردگی پر جہاں شہری انتظامیہ داد کے لائق ہے وہاں چیف میونسپل کارپوریشن آفیسر احسن عنایت سندھو بھی تعریف کے لائق ہیں کہ جن کی سربراہی میں یہ سب کام انجام دیا گیااگر یونہی شہر کی صفائی کا خیال رکھا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب شیخوپورہ سے گندگی کے ڈھیروں کا نہ صرف بالکل صفایا ہو جائے گا بلکہ شہر شیخوپورہ ایک صاف ستھرا شہر بن کر ابھرے گا


جانور موجود،خریدار موجود، لیکن…..
جانور موجود، خریدار بھی موجود، لیکن…
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے)
عید قربان جبکہ چند گھنٹوں کی دوری پر ہے اور بکر منڈی میں جانور بیچنے والوں کا ہجوم ہے تو خریداروں کا بھی ہجوم ہے لیکن بیوپاری ریٹ زیادہ لگا رہے ہیں ایسا کہنا ہے کہ خریداروں کا لیکن خریدار جانور خریدنے کے لیے بہت کم قیمت دے رہے ہیں ایسا کہنا ہے جانور بیچنے والوں کا
کیا بچے کیا بڑے کیا بوڑھے سبھی جوش و خروش سے جانور خریدنے منڈی پہنچے ہوئے ہیں لیکن بھاو تاو کی راہ میں حائل دشواریاں دیوار بن کر کھڑی ہیں، شہری انتظامیہ کے تحت لگائی گئی بکر منڈی کے سوا شہر کے اندر غیر قانونی جانور منڈیاں بھی قائم ہیں جن میں ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک ، رائل پیلس چوک، سبزی منڈی چوک، لُنڈا پھاٹک شامل ہیں
ایس او پیز پر عمل تو بہرحال حکومتی بکر منڈی میں بھی نہیں ہو رہا غیر قانونی منڈیوں بھی تو صورتحال زیادہ ابتر ہے جہاں بندے پر بندہ چڑھا ہوا ہے اور دھکم پیل کے علاوہ ٹریفک جام کی صورتحال ہے، بیوپاریوں اور خریداروں کو کرونا سے زیادہ حکومتی افسران کے چھاپے کا ڈر ہے جس وجہ سے یہ منڈیاں متحرک منڈیوں کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں اور بیوپاری و خریدار چل پھر کر کاروبار کر رہے ہیں
منڈیوں میں جانور تو وافر موجود ہیں لیکن کرونا لاک ڈاون نے خریداروں کی قوتِ خرید کو جس برے طریقے سے متاثر کیا ہے اس کے بعد ان سبھی منڈیوں میں سابقہ ادوار کی مانند ہجوم یا جوش و خروش دیکھنے کو نہیں مل رہا
محلہ معراجپورہ صفائی کا منتظر
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) محلہ معراجپورہ 10 ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل علاقہ ہے جہاں ایک طرف تنگ گلیاں ہیں تو دوسری طرف سیوریج کا ناکارہ نظام، جس بدبو پھیلانے کے ساتھ ساتھ محلے کو بدصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
انتظامیہ کو کبھی خیال نہیں ہوا کہ اس کی صفائی کی طرف توجہ دی جائے
تنگ گلیوں کو چھوڑ کر ایک ہی مرکزی راستہ اس محلے کو جاتا ہے جو سپورٹس کمپلیکس کی دیوار کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے
سپورٹس کملیپکس کی دیوار بھی دیوارِ میکسیکو معلوم ہوتی ہے کہ جس کے شمالی جانب تو سجی سجائی بنی سنوری کروڑوں کی لاگت سے کھڑی عالی شان عمارت ہے تو جنوبی جانب گندگی اور کچرے کے بے تحاشہ ڈھیر، یہ تفریق محلہ معراجپورہ کے رہائشیوں کو اس قدر چھبتی ہے کہ وہ اس پر بات کرتے وقت چِلّا اُٹھتے ہیں اور سپورٹس کمپلیکس کو زحمت اور باعثِ کوفت قرار دیتے ہیں
ان کا خیال ہے کہ پہلے علاقہ مکینوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہیئے تھے پھر سپورٹس کمپلیکس پر پیسہ لگنا چاہیے تھا
پانچ سال ہوچلے اس کمپلیکس کو بنے لیکن معراجپورہ کو جاتے مرکزی راستے کہ تعمیر تو درکنار یہاں کی صفائی ہی نہیں کروائی گئی، شاید یہ علاقہ شہری انتظامیہ کے زیر انتظام نہیں اس لیے یہاں میونسپل کارپوریشن والے آنا گوارا نہیں کرتے
مقامی بزرگ نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بارش ہوجائے تو یہاں بدبو کے بھبھوکے جینا حرام کر دیتے ہیں کیونکہ اس گہری جگہ سے پانی کے نکاس کی کوئی سبیل تو ہے نہیں، پھر اگر کوئی فوت ہوجائے تو یہی مرکزی راستہ ہے جہاں سے گزرنا ہوتا ہے لیکن گندگی کے ڈھیروں سے اٹا پڑا یہ راستہ جنازے کا راستہ بھی روک لیتا ہے
ایک دوسرے نوجوان نے بتایا کہ یہی وہ خالی جگہ تھی جہاں ہمارے بچے کھیل لیا کرتے تھے لیکن یہاں پر سپورٹس کمپلیکس بنا کر ہمارے بچوں سے کھیل کی جگہ چھین لی گئی ہے اب اس میں مقامی افراد اور بچوں کا داخلہ بھی منع ہے نہ ہم اس کے اندر صبح کی سیر کرنے جا سکتے ہیں نہ ہمارے بچے کھیلنے جا سکتے ہیں
بے ہنگم اُگی گھاس سے یہ میدان اٹا پڑا ہے نہ اس کی صفائی کروائی جاتی ہے نہ بچوں کو کھیلنے دیا جاتا ہے
رضوان نے بتایا کہ انتظامیہ اگر اس راستے کو پختہ نہیں کروا سکتی تو کم از کم گندگی کے ڈھیر اٹھوا کر یہاں مٹی ڈال کر راستہ اونچا اور برابر ہی کر دیا جائے تاکہ گزرنا آسان ہو
سمیر اور دیگر اہل محلہ نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس راستے کی فی الفور صفائی کروائی جائے تاکہ بارشوں سے پہلے پہلے یہ راستہ نہ صرف گزرنے کے قابل ہو جائے بلکہ پانی کے پانی کے یہاں جمع رہنے کے احتمال سے بچا جا سکے
اوور چارجنگ کرنے پر ایک لاکھ 53 ہزار روپے جرمانے
رپورٹ (کاشف تنویر)
ڈپٹی کمشنر مہتاب وسیم اظہر کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ملک محمد طاہر نےاچانک شہر کے مختلف اڈہ جات کے اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو چیک کیا, کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اور مسافروں سے اوور چارجنگ کرنے پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 53 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ملک محمد طاہر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق عوام الناس کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے جس کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیورز, کنڈیکٹرز کے علاوہ تمام سواریوں کا ماسک پہننا لازم ہے اور سواریوں کیلئے سینیٹائزر کے استعمال اور سوشل ڈسٹنسنگ کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ اس پر کوئی کمپرومائز نہ کیا جائے۔ انہوں نے ماسک نہ پہننے والی سواریوں میں فری ماسک تقسیم کئے اور انہیں آئندہ ماسک پہن کر سفر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
کیا صفائی صرف حکومت کا کام ہے؟
کیا صفائی صرف حکومت کا کام ہے؟
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) طارق روڈ شہر شیخوپورہ کی ایک مشہور سڑک ہے جس کے دونوں اطراف گنجان آبادی کے حامل علاقے ہیں لیکن شاید کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کا کوئی موثر بندوبست نہیں یا عوام کو شعور نہیں جس وجہ سے طارق روڈ پر جا بجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں
نمائندہ باغی ٹی وی کو مذکورہ روڈ کے سروے کے دوران دکانداروں کے منع کرنے کے باوجود لوگ سڑک پر کچرے پھینکتے نظر آئے
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صفائی صرف حکومت کا کام ہے یا عوام کو بھی اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کرنا ہوگا
دراصل صفائی ایک رویے کا نام ہے اگر انسان خود نہ چاہے تو صفائی نہیں رہ سکتی
مقامی انتظامیہ کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ عوامی آگاہی کے لیے ایسی مہم جاری کریں جس میں ذاتی، گھریلو، اور رہائشی علاقے کی صفائی رکھنے بارے ضروری اور اہم تدابیر شامل ہوں
انتظامیہ ضلع بھر کے سکولز کالجز اور ٹیکنیکل اداروں کے طلبہ کو اس عمل میں شریک کر کے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے
تعلیمی اداروں میں موجود کثیر تعداد میں طلبہ کی اگر ذہن سازی کر دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے گھر علاقے اور تعلیمی ادارے کو صاف رکھیں گے بلکہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی اس پر تیار کریں گے اور اس باہمی زنجیری عمل کی مدد سے شہر بھر کو صاف رکھنے میں تسلسل سے شاندار مدد مل سکتی ہے
اس کے ساتھ ساتھ اگر شہری انتظامیہ کوڑے کرکٹ کو تلف کرنے کے لیے ایک موثر اور مرطوب نظام وضع کرے تو شہر کے اطراف میں کوڑے کے وسیع ذخائر ملنا بھی بند ہوجائیں گے
شہر بھر سے جمع شدہ کوڑا شیخوپورہ بائی پاس کے اطراف میں بھی پھینکا جاتا ہے جس سے وہاں کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور جا بجا چرتے جانور گھاس پھونس کے ساتھ کچرے کے ٹکرے بھی نگل لیتے ہیں جس سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں
اب یہ شہری انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر سنجیدگی سے اس مسئلے کے حل کی طرف غور کرتی ہے
فیصل آباد روڈ ابتر صورتحال کا شکار
فیصل آباد روڈ کی ابتر صورتحال
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے)
فیصل آباد روڈ شہر شیخوپورہ سے نکلتی ایک مرکزی شاہراہ ہے جس پر چھوٹی بڑی ہر قسم کی ٹریفک رواں دواں رہتی ہے چونکہ یہ مرکزی شاہراہ اطراف کے دیہات و قصبات کو ذیلی سڑکوں کی مدد سے ملاتی ہے لہذا ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اسی مرکزی شاہراہ کی مدد سے شہر شیخوپورہ آتے جاتے ہیں لیکن وہ جگہ جہاں بھکی روڈ فیصل آباد روڈ سے آکر ملتا ہے وہاں گٹروں کا ابلتا پانی گذشتہ طویل عرصہ سے درد سر بنا ہوا ہے
ایک طرف جہاں یہ پانی گزرتی ٹریفک کی وجہ سے پیدل عوام پر چھینٹیں بن کر پڑتا ہے وہاں دوسری طرف سڑک پر مسلسل موجود رہنے کی وجہ سے سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے
گذشتہ عرصہ میں چند بار اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن شہر بھر کے نکاسی آب کے خراب نظام کی وجہ سے یہاں موجود گٹروں کا ابلتا پانی ایک مرتبہ پھر اسی مرکزی شاہراہ پر جمع ہونا شروع ہو چکا ہے جہاں سے ٹریفک گرزتی ہے اور سڑک کی توڑ پھوڑ کا باعث بنتی ہے
اس گندے پانی کی بدبو سے راہگیروں کے لیے مشکلات بھی کھڑی ہیں
انتظامیہ کو اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی طرف سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا





لیکن اس بار میونسپل کارپوریشن شیخوپورہ نے جس بہترین انداز سے آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی صفائی کی ہے وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ عملی طور پر نمونہ بھی ہے
sa








