Baaghi TV

Category: صحت

  • کرونا نے اعلی پولیس افسران سے عدم نقصان کیا معاہدہ

    کرونا نے اعلی پولیس افسران سے عدم نقصان کیا معاہدہ

    دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت کی عملی تصویر بنے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی صلاح الدین
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)
    کرونا نے اعلی پولیس افسران سے عدم نقصان کا معاہدہ کر لیا ہے جس کے بعد ڈی پی او شیخوپورہ نے تمام ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ دیا
    آیا اگر ایک عام شہری دکاندار ایسا کرے تو قانون اسے برداشت کرے گا؟یقینا ہر گز نہیں،
    لیکن قانون اگر خود ایسا کرے تو اس پر بھی کوئی قانون لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟
    یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے چودہ طبق روشن کر دے گا
    ڈی پی او شیخوپورہ نے تھانہ صفدر آباد کے دورہ کے دوران کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں
    ڈی پی او نے نا تو خود ماسک لگایا نا ہی لیڈی خاتون اے ایس پی نے

    غریب آدمی یا کوئی دوکاندار ماسک نا لگائے تو ان پر فوری مقدمہ درج کردیا جاتا ہے لیکن اگر بات کی جائے محکمہ پولیس کے اعلی افسران کی تو شاید ان پر کرونا ایس او پیز لاگو نہیں ہوتیں
    ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے اے ایس پی بشری کے ہمراہ تھانہ صفدر آباد کا دورہ کیا تو ان کا پھولوں کی پتیوں کیساتھ پرتپاک استقبال کیا گیا
    کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ماتحت عملہ نے ڈی پی او کے خوف سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے ماسک لگائے لیکن ڈی پی او شیخوپورہ اور خاتون اے ایس پی نے ماسک کے بغیر ہی تقریب میں شرکت کی
    اس موقع پر معصوم بچوں نے انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے
    پھول پیش کرنے والے بچوں نے بھی ماسک نہیں لگا رکھے تھے
    شاید کرونا کا ان بچوں سے بھی عدم نقصان کا کوئی معاہدہ ہے
    واضح رہے پاکستان بھر میں کرونا وبا کے پیش نظر کسی بھی قسم کی تقریب پر پابندی عائد ہے لیکن محکمہ پولیس کو ایس او پیز کی خلاف ورزی کی عام اجازت ہے

  • کرسٹل میرج کھول دیا گیا ہے

    کرسٹل میرج کھول دیا گیا ہے

    رپورٹ (کاشف تنویر) آج پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی خصوصی دعوت کے لئے کرسٹل میرج کھول دیا گیا ہے. حکومتی عہدیداروں کو کیا کورونا نہیں ہوتا یا صرف شادی پر آنے والوں کو ہی کورونا ہوتا ہے.
    اگر آج کی دعوت ایس او پیز کے ساتھ ہو سکتی ہے تو شادی بیاہ کے فنکشن ایس او پیز کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتے؟

  • ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ  کا دورہ سول ہسپتال

    ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کا دورہ سول ہسپتال

    ڈپٹی کمشنر کا دورہ سول ہسپتال
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے رات اچانک سول ہسپتال کا دورہ کیا
    سٹاف کی حاضری چیک کی
    مریضوں سے بات چیت کر کے طریقہ علاج پر اطمینان کا پوچھا
    انہوں نے مریضوں کے لواحقین سے بھی بات چیت کی اور سوال کیا کہ آیا وہ دستیاب سہولیات سے مطمئین ہیں؟
    انہوں نے سٹاف ممبرز سے بھی بات چیت کی اور روز مرہ بارے آگاہی لی

  • لاہور میں پولیو سے بچے کی ہلاکت

    لاہور میں پولیو سے بچے کی ہلاکت

    قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن اسوہ آفتاب کی جانب سے جمع کرائی گئی

    پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان لاہور میں کمسن بچے کی پولیو سے ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہے. لاہور میں پولیو سے ہلاکت کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے. رواں برس رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز کی تعداد 53 تک پہنچ گئی. مئی کے مہینے میں پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل مارچ میں تین بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی. رواں سال میں اب تک صوبہ سندھ میں 21، کے پی کے 18، بلوچستان 11 اور پنجاب میں 3 کیسز رپورٹ ہوئے. پولیو کے حوالے سے سال 2019 بدترین رہا جب ملک بھر میں 146 نئے کیسز سامنے آئے تھے، متن

     یہ شرح سنہ 2014 کے بعد بلند ترین تھی. اسی طرح سنہ 2015 میں ملک میں 54، 2016 میں 20، 2017 میں سب سے کم صرف 8 اور سنہ 2018 میں 12 پولیو کیسز ریکارڈ ہوئے. اس تمام عرصے میں پولیو کیسز کی سب سے زیادہ شرح صوبہ خیبر پختونخواہ میں دیکھی گئی. موجودہ حکومت پولیو وائرس کے پھیلاﺅ کو سنجیدہ نہیں لے رہی. پولیو جیسی جان لیوا بیماری کا پاکستان میں دوبارہ سر اٹھانا سنگین خطرے کی علامت ہے، متن.

     ملک بھر میں فوری پولیو ایمرجنسی نافذ کی جائے،بلاتعطل ملک بھر میں پولیو مہم چلائی جائے:مطالبہ

  • لالہ بشیراحمد بانی شاتک اسپتال دارفانی سے کوچ فرما گئے

    لالہ بشیراحمد بانی شاتک اسپتال دارفانی سے کوچ فرما گئے

    إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
    رپورٹ (کاشف تنویر) منڈی بہاؤالدین کے لیجنڈ جناب لالہ بشیراحمد بانی شاتک اسپتال دارفانی سے کوچ فرما گئے ہیں
    نماز جنازہ آج مرکزی جامع مسجد ( اولڈ GTS اڈہ) کے سامنے ادا کی جائے گی شرکت کی استدعا ہے
    اللّٰــہ تعالیٰ جنت الفــــــــردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

  • 10 کی ٹیبلٹ بک رہی ہے 100 کی

    10 کی ٹیبلٹ بک رہی ہے 100 کی

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں شیر شیخوپورہ کے ایک نجی ہسپتال کی طرف جہاں مہنگی ادویات بیچنا معمول ہو چکا ہے
    صنعت زار شیخوپورہ کے سامنے واقع دارالشفاء ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر لوٹنا معمول بن چکا ہے
    تفصیل کے مطابق HCQ-200 نامی ٹیبلٹ جس کی روزمرہ قیمت 10 سے 12 روپے فی گولی ہے ہسپتال کے میڈیکل سٹور اس گولی کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر یہی معمولی قیمت کی گولی عوام کو 100 روپے کی فروخت کر رہا ہے
    عوام جہاں مہنگائی کے دیگر طوفانوں کا مقابلہ کرتے عاجز آ چکی ہے وہاں مہنگی ادویات ان کی قوت خرید سے باہر ہے
    باغی ٹی وی بات کرتے ہوئے مریض کے لواحقین نے بتایا کہ ہم یہی ٹیبلٹ پہلے بھی مریض کو استعمال کروا چکے ہیں جس سے وقتی افاقہ ہوتا ہے لیکن آج طبعیت زیادہ بگڑنے پر مذکورہ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں مریض کو لایا گیا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے مذکورہ ٹیبلٹ لکھ کر دی جب ہسپتال کے سٹور سے پتہ کیا گیا تو انہوں نے عدم دستیابی کا بہانہ بناتے ہوئے 10 روپے کی ٹیبلٹ 100 روپے میں دی
    عوام سراپا سوال ہیں کہ وہ جائیں تو کدھر جائیں؟؟
    مریض اور اس کے لواحقین نے مقامی حکومتی مشینری سے ہسپتال مذکورہ کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دن دیہاڑے ہسپتال عوام کو دھڑلے سے لوٹ رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی

  • کیا وٹامن ڈی کوویڈ 19 کو روک سکتا ہے ؟

    کیا وٹامن ڈی کوویڈ 19 کو روک سکتا ہے ؟

    برطانیہ میں ماہرین صحت کے جائزے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ COVID-19 کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کورونا کے لئے خطرناک ہے تاہم ، ملک کی نیشنل ہیلتھ سروس لاک ڈاؤن کے دوران سورج کی روشنی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے کی اصلاح کرتی ہے-

    صحت مند ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لئے وٹامن ڈی بہت ضروری ہے۔ کچھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے یہ سانس کی بیماریوں کے انفیکشن سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے اور جسم کے مدافعتی ردعمل (امیون سسٹم) میں باقاعدہ کردار ادا کرسکتی ہے۔

    اس کی وجہ سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے سے کوویڈ-19 کو روکنے یا اس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جو بنیادی طور پر سانس کی بیماری ہے جو وائرس سارس کوویڈ 2 کی وجہ سے ہے۔

    تاہم ، برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس ((NICE) کی طرف سے ان میں سے پانچ اصولوں کا جائزہ ، جو بہترین طریقوں سے متعلق رہنما اصول مرتب کرتا ہے ، اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی سطح کوویڈ-19 ہونے کے خطرے پر اثر انداز ہوتی ہے اس کے نتیجے میں موت واقع ہو نا ہے-

    مصنفین کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پانچوں مطالعات میں سے کسی کو بھی انفیکشن کے خطرہ پر اضافی اثرات یا اس بیماری کے علاج کے لئے اثرات کی تحقیقات کے لئے ریکمنڈ نہیں کیا گیا تھا۔ یا تو تحقیقات میں مداخلت کے مطالعے کی ضرورت ہوگی جیسے بے ترتیب کنٹرول ٹرائل۔

    لہذا ، موجودہ مطالعات کوویڈ-19 کے علاج اور روک تھام کے ذریعہ وٹامن کی افادیت ، مناسب خوراک ، یا ممکنہ منفی اثرات کی کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے ہیں۔

    مزید برآں ، جائزہ میں ایک مطالعے کے مطابق وٹامن ڈی کی حیثیت اور کوویڈ-19 کے مابین مشاہدہ ایسوسی ایشن کے لئے متبادل وضاحت فراہم کرسکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اعلی جسمانی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ، عمر بڑھنے ، اور معاشی محرومی ، وہ تمام عوامل ہیں جو کوویڈ-19 اور وٹامن کی سطح دونوں کے خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں۔

    اس سے اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ناممکن ہے کہ آیا وٹامن کی کمی سے وائرس کا معاہدہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے COVID-19 ہوتا ہے یا بیماری کے نتیجے میں اس کی موت ہوجاتی ہے۔

    ایک مطالعہ میں ، اوسطا وٹامن ڈی کی سطح اور COVID-19 کیسوں کی تعداد اور ملک کی شرح کے لحاظ سے اموات کے درمیان ایسوسی ایشن ملا۔ لیکن تحقیق کی کچھ حدود تھیں – مثال کے طور پر ، ان آبادی میں بوڑھے لوگوں کی تعداد کا حساب نہیں دیا گیا۔

    کورونا کیسے پھیلا؟،عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین پہنچ گئی

  • 10 کی ٹیبلٹ بکے 100 میں

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں شیر شیخوپورہ کے ایک نجی ہسپتال کی طرف
    صنعت زار شیخوپورہ کے سامنے واقع دارالشفاء ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر لوٹنا معمول بن چکا ہے
    تفصیل کے مطابق HCQ-200 نامی ٹیبلٹ جس کی روزمرہ قیمت 10 سے 12 روپے فی گولی ہے ہسپتال کے میڈیکل سٹور اس گولی کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر یہی معمولی قیمت کی گولی عوام کو 100 روپے کی فروخت کر رہا ہے
    عوام جہاں مہنگائی کے دیگر طوفانوں کا مقابلہ کرتے عاجز آ چکی ہے وہاں مہنگی ادویات ان کی قوت خرید سے باہر ہے
    باغی ٹی وی بات کرتے ہوئے مریض کے لواحقین نے بتایا کہ ہم یہی ٹیبلٹ پہلے بھی مریض کو استعمال کروا چکے ہیں جس سے وقتی افاقہ ہوتا ہے لیکن آج طبعیت زیادہ بگڑنے پر مذکورہ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں مریض کو لایا گیا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے مذکورہ ٹیبلٹ لکھ کر دی جب ہسپتال کے سٹور سے پتہ کیا گیا تو انہوں نے عدم دستیابی کا بہانہ بناتے ہوئے 10 روپے کی ٹیبلٹ 100 روپے میں دی
    عوام سراپا سوال ہیں کہ وہ جائیں تو کدھر جائیں؟؟
    مریض اور اس کے لواحقین نے مقامی حکومتی مشینری سے ہسپتال مذکورہ کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دن دیہاڑے ہسپتال عوام کو دھڑلے سے لوٹ رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی

  • ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد

    ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد

    رپورٹ (کاشف تنویر)
    الغنی ہاسپٹل اینڈ شوگرسنٹر
    ماشاءاللّہ
    حکومت پنجاب نے ڈاکٹر مجاہد مغل کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈوائزی بورڈ کا چیئرپرسن نامزد کر دیا، صوبائی منسٹر ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ ڈاکٹر مجاہد مغل کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ، دوست احباب و اہل علاقہ کا خیرمقدم ،ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد ہونے پر ڈاکٹر مجاہد مغل کو مبارکباد بھی دی
    Congratulations

  • کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    دنیا بھر میں پھیلے وبائی مرض کورونا وائرس نے گذشتہ برس دسمبر سے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے ماہرین نے اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے چند احتیاطی تدابیر بتا ئی ہیں جن پر عمل کر کے اس وبائی مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ان میں ایک ماسک پہننا بھی ہے ماسک پہننے سے اور سماجی دوری اختیار کرنے سے اس وبا سے خود کے ساتھ دوسروں کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم اب یہ سوال جو سب کے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں چہرے کا ماسک کب تک پہننا ہے؟

    یہ واضح ہے کہ چہرے کا ماسک پہن کر اور معاشی فاصلے کو برقرار رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اس سے ہماری معمول کی زندگیوں میں واپس جانے کے لئے خطرہ کم ہوسکتا ہے؟

    ماہرین صحت کے مطابق ، ہمیں اب بھی آنے والے وقت تک چہرے کا ماسک پہننا پڑے گا۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ ہم کئی سالوں سے چہرے کے ماسک پہن سکتے ہیں — ہاں ، یہاں تک کہ اگر ہمارے پاس ویکسین بھی ہے۔

    اگرچہ بہت سے لوگ وبائی مرض سے قبل کی زندگی میں واپسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، حالیہ کورونا وائرس کے اضافے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کی طرف سے ماسک پہننے پر زور دیا جارہا ہے-

    جان ہاپکنز سنٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر اسکالر اور عالمی رہنما ، نے CNET سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ ہم ماسک پہن کر کئی سالوں تک خوشی اور امید بھری زندگی گزار سکتے ہیں-

    جیسا کہ بیسٹ لائف میں ذکر کیا گیا ہے ، ٹونر نے کہا کہ آج ماسک پہنے ہوئے رہنما اصولوں پر عمل کرنا ایک واحد راستہ ہے جس سے ہمیں یقین ہوسکتا ہے کہ ہم زیادہ لمبے عرصے تک چہرہ ڈھانپ کر اس جان لیوا مرض سے بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا ، "اگر ہم اپنے چہروں کو ڈھانپتے ہیں ، اور آپ اور آپ کے ساتھ جس سے بھی بات چیت ہو رہی ہے دونوں ماسک پہنے ہوئے ہیں تو ، وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔”

    ماہرین صحت کے مطابق ، کوویڈ ۔19 کی ویکسین 2022 تک نہیں مل سکے گی ، اور پھر بھی ، ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مریضوں کو ایک سے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی ، اسی وجہ سے ماسک کا استعمال کئی سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا-

    کچھ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہا کہ مستقبل قریب کے لئے یا جب تک ہم اس جان لیوا وبائی مرض سے استثنیٰ حاصل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں ماسک پہننا پڑے گا۔ وائرس کی قوت مدافعت اس وقت ہوتی ہے جب آبادی کی اکثریت ویکسینیشن کے ذریعے اور وائرس سے مدافع ہوجاتی ہے۔

    بدقسمتی سے ، اس جان لیوا مرض کا استثنیٰ ایسا لگتا ہے جیسے یہ حال ہی میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ امپیریل کالج لندن میں امیونولوجی کے پروفیسر ڈینی الٹ مین نے سی این بی سی کو بتایا ، "اس چیز سے استثنیٰ انتہائی نازک نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس کچھ مہینوں تک اینٹی باڈیز ہوں گی اور پھر اس کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

    پاک بھارت جنگوں کے غازی 105 سالہ ریٹائرڈ فوجی نے کرونا کو شکست دے دی