Baaghi TV

Category: صحت

  • کیا وٹامن ڈی کوویڈ 19 کو روک سکتا ہے ؟

    کیا وٹامن ڈی کوویڈ 19 کو روک سکتا ہے ؟

    برطانیہ میں ماہرین صحت کے جائزے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ COVID-19 کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کورونا کے لئے خطرناک ہے تاہم ، ملک کی نیشنل ہیلتھ سروس لاک ڈاؤن کے دوران سورج کی روشنی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے کی اصلاح کرتی ہے-

    صحت مند ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لئے وٹامن ڈی بہت ضروری ہے۔ کچھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے یہ سانس کی بیماریوں کے انفیکشن سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے اور جسم کے مدافعتی ردعمل (امیون سسٹم) میں باقاعدہ کردار ادا کرسکتی ہے۔

    اس کی وجہ سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے سے کوویڈ-19 کو روکنے یا اس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جو بنیادی طور پر سانس کی بیماری ہے جو وائرس سارس کوویڈ 2 کی وجہ سے ہے۔

    تاہم ، برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس ((NICE) کی طرف سے ان میں سے پانچ اصولوں کا جائزہ ، جو بہترین طریقوں سے متعلق رہنما اصول مرتب کرتا ہے ، اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی سطح کوویڈ-19 ہونے کے خطرے پر اثر انداز ہوتی ہے اس کے نتیجے میں موت واقع ہو نا ہے-

    مصنفین کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پانچوں مطالعات میں سے کسی کو بھی انفیکشن کے خطرہ پر اضافی اثرات یا اس بیماری کے علاج کے لئے اثرات کی تحقیقات کے لئے ریکمنڈ نہیں کیا گیا تھا۔ یا تو تحقیقات میں مداخلت کے مطالعے کی ضرورت ہوگی جیسے بے ترتیب کنٹرول ٹرائل۔

    لہذا ، موجودہ مطالعات کوویڈ-19 کے علاج اور روک تھام کے ذریعہ وٹامن کی افادیت ، مناسب خوراک ، یا ممکنہ منفی اثرات کی کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے ہیں۔

    مزید برآں ، جائزہ میں ایک مطالعے کے مطابق وٹامن ڈی کی حیثیت اور کوویڈ-19 کے مابین مشاہدہ ایسوسی ایشن کے لئے متبادل وضاحت فراہم کرسکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اعلی جسمانی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ، عمر بڑھنے ، اور معاشی محرومی ، وہ تمام عوامل ہیں جو کوویڈ-19 اور وٹامن کی سطح دونوں کے خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں۔

    اس سے اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ناممکن ہے کہ آیا وٹامن کی کمی سے وائرس کا معاہدہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے COVID-19 ہوتا ہے یا بیماری کے نتیجے میں اس کی موت ہوجاتی ہے۔

    ایک مطالعہ میں ، اوسطا وٹامن ڈی کی سطح اور COVID-19 کیسوں کی تعداد اور ملک کی شرح کے لحاظ سے اموات کے درمیان ایسوسی ایشن ملا۔ لیکن تحقیق کی کچھ حدود تھیں – مثال کے طور پر ، ان آبادی میں بوڑھے لوگوں کی تعداد کا حساب نہیں دیا گیا۔

    کورونا کیسے پھیلا؟،عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین پہنچ گئی

  • 10 کی ٹیبلٹ بکے 100 میں

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں شیر شیخوپورہ کے ایک نجی ہسپتال کی طرف
    صنعت زار شیخوپورہ کے سامنے واقع دارالشفاء ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر لوٹنا معمول بن چکا ہے
    تفصیل کے مطابق HCQ-200 نامی ٹیبلٹ جس کی روزمرہ قیمت 10 سے 12 روپے فی گولی ہے ہسپتال کے میڈیکل سٹور اس گولی کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر یہی معمولی قیمت کی گولی عوام کو 100 روپے کی فروخت کر رہا ہے
    عوام جہاں مہنگائی کے دیگر طوفانوں کا مقابلہ کرتے عاجز آ چکی ہے وہاں مہنگی ادویات ان کی قوت خرید سے باہر ہے
    باغی ٹی وی بات کرتے ہوئے مریض کے لواحقین نے بتایا کہ ہم یہی ٹیبلٹ پہلے بھی مریض کو استعمال کروا چکے ہیں جس سے وقتی افاقہ ہوتا ہے لیکن آج طبعیت زیادہ بگڑنے پر مذکورہ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں مریض کو لایا گیا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے مذکورہ ٹیبلٹ لکھ کر دی جب ہسپتال کے سٹور سے پتہ کیا گیا تو انہوں نے عدم دستیابی کا بہانہ بناتے ہوئے 10 روپے کی ٹیبلٹ 100 روپے میں دی
    عوام سراپا سوال ہیں کہ وہ جائیں تو کدھر جائیں؟؟
    مریض اور اس کے لواحقین نے مقامی حکومتی مشینری سے ہسپتال مذکورہ کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دن دیہاڑے ہسپتال عوام کو دھڑلے سے لوٹ رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی

  • ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد

    ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد

    رپورٹ (کاشف تنویر)
    الغنی ہاسپٹل اینڈ شوگرسنٹر
    ماشاءاللّہ
    حکومت پنجاب نے ڈاکٹر مجاہد مغل کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈوائزی بورڈ کا چیئرپرسن نامزد کر دیا، صوبائی منسٹر ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ ڈاکٹر مجاہد مغل کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ، دوست احباب و اہل علاقہ کا خیرمقدم ،ڈسٹرکٹ چیئرمین ہیلتھ نامزد ہونے پر ڈاکٹر مجاہد مغل کو مبارکباد بھی دی
    Congratulations

  • کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    دنیا بھر میں پھیلے وبائی مرض کورونا وائرس نے گذشتہ برس دسمبر سے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے ماہرین نے اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے چند احتیاطی تدابیر بتا ئی ہیں جن پر عمل کر کے اس وبائی مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ان میں ایک ماسک پہننا بھی ہے ماسک پہننے سے اور سماجی دوری اختیار کرنے سے اس وبا سے خود کے ساتھ دوسروں کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم اب یہ سوال جو سب کے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں چہرے کا ماسک کب تک پہننا ہے؟

    یہ واضح ہے کہ چہرے کا ماسک پہن کر اور معاشی فاصلے کو برقرار رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اس سے ہماری معمول کی زندگیوں میں واپس جانے کے لئے خطرہ کم ہوسکتا ہے؟

    ماہرین صحت کے مطابق ، ہمیں اب بھی آنے والے وقت تک چہرے کا ماسک پہننا پڑے گا۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ ہم کئی سالوں سے چہرے کے ماسک پہن سکتے ہیں — ہاں ، یہاں تک کہ اگر ہمارے پاس ویکسین بھی ہے۔

    اگرچہ بہت سے لوگ وبائی مرض سے قبل کی زندگی میں واپسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، حالیہ کورونا وائرس کے اضافے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کی طرف سے ماسک پہننے پر زور دیا جارہا ہے-

    جان ہاپکنز سنٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر اسکالر اور عالمی رہنما ، نے CNET سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ ہم ماسک پہن کر کئی سالوں تک خوشی اور امید بھری زندگی گزار سکتے ہیں-

    جیسا کہ بیسٹ لائف میں ذکر کیا گیا ہے ، ٹونر نے کہا کہ آج ماسک پہنے ہوئے رہنما اصولوں پر عمل کرنا ایک واحد راستہ ہے جس سے ہمیں یقین ہوسکتا ہے کہ ہم زیادہ لمبے عرصے تک چہرہ ڈھانپ کر اس جان لیوا مرض سے بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا ، "اگر ہم اپنے چہروں کو ڈھانپتے ہیں ، اور آپ اور آپ کے ساتھ جس سے بھی بات چیت ہو رہی ہے دونوں ماسک پہنے ہوئے ہیں تو ، وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔”

    ماہرین صحت کے مطابق ، کوویڈ ۔19 کی ویکسین 2022 تک نہیں مل سکے گی ، اور پھر بھی ، ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مریضوں کو ایک سے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی ، اسی وجہ سے ماسک کا استعمال کئی سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا-

    کچھ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہا کہ مستقبل قریب کے لئے یا جب تک ہم اس جان لیوا وبائی مرض سے استثنیٰ حاصل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں ماسک پہننا پڑے گا۔ وائرس کی قوت مدافعت اس وقت ہوتی ہے جب آبادی کی اکثریت ویکسینیشن کے ذریعے اور وائرس سے مدافع ہوجاتی ہے۔

    بدقسمتی سے ، اس جان لیوا مرض کا استثنیٰ ایسا لگتا ہے جیسے یہ حال ہی میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ امپیریل کالج لندن میں امیونولوجی کے پروفیسر ڈینی الٹ مین نے سی این بی سی کو بتایا ، "اس چیز سے استثنیٰ انتہائی نازک نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس کچھ مہینوں تک اینٹی باڈیز ہوں گی اور پھر اس کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

    پاک بھارت جنگوں کے غازی 105 سالہ ریٹائرڈ فوجی نے کرونا کو شکست دے دی

  • ڈاکٹرز برخاستگی کیس میں اہم پیش رفت

    ڈاکٹرز برخاستگی کیس میں اہم پیش رفت

    ‎رپورٹ (کاشف تنویر) پی ایم اے منڈی بہاوالدین کے وفد نے صدر ڈاکٹر طارق چدھڑ کی قیادت میں ہمراہ ڈاکٹر مہر اختر حسین ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ، ڈاکٹر اعجاز وڑائچ سابقہ ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ، ڈاکٹر مہدی خان اور جنرل سیکرٹری پی ایم اے ڈاکٹر شکیل نذر کے ، آج منسٹر ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ سے طہ شدہ پروگرام کے تحت ، ڈاکٹرز کی بحالی کے لیے ملاقات کی۔
    ‎ملاقات خوشگوار ماحول میں جاری رہی اور وفد کی طرف سے ہمارے دوستوں کی اِس کیس پر بے گناہی کی مکمل یقیں دہانی کروانے پر منسٹر صاحبہ نے انھیں بحال کرنے کی رضامندی کا اظہار کیا۔
    بحالی کے لیے دفتری کاغذی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا جسکی نگرانی ڈاکٹر طارق چدھڑ صاحب خود کریں گے۔ اس موقع پر صدر پی ایم اے تمام ساتھیوں سے پہلے کی طرح دلجمعی سے انسانیت کی فلاح کےلئے کام کرنے کی درخواست کے ساتھ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ شکریہ

  • ڈاکٹرز کی بحالی تک ضلع بھر میں  او پی ڈی سروسز معطل

    ڈاکٹرز کی بحالی تک ضلع بھر میں او پی ڈی سروسز معطل

    مئاتالرپورٹ (کاشف تنویر) پی ایم اے منڈی بہاوالدین کا ہنگامی اجلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر صدارت ڈاکٹر طارق چدھڑ ، صدر پی ایم اے منڈی بہاوالدین منعقد ہوا۔ ڈاکٹرز برخاستگی کیس پر تمام ارباب اختیار کے دروازہ کٹھکٹانے اور حکام بالا کی جانب سے صرف ٹامک ٹولیوں نے بالاخر ہمیں تاریک اور بند گلی میں لا کر تنہا چھوڑ دیا لہذا ہمارے پاس اپنے حق کے لئے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا ہے۔ اجلاس کے فیصلہ کے مطابق کل مورخہ 2020-07-03 سے ڈاکٹرز کی بحالی تک ضلع بھر میں او پی ڈی سروسز معطل کی جا رہی ہیں۔ تمام ڈاکٹرز کل صبح 10 بجے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں جمع ہو کر اس متعصبانہ کاروائی کے خلاف احتجاج
    کریں گے۔

  • کورونا وائرس میں ذہنی دباو کم کریں امیدیں جگائیں مایوسیوں کا خاتمہ کریں

    کورونا وائرس میں ذہنی دباو کم کریں امیدیں جگائیں مایوسیوں کا خاتمہ کریں

    چین کے شہر ووہان پھیلے جان لیوا کورونا وائرس نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے اجہاں لوگ اس جان لیوا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس بیماری کو مذاق اور حکومت کا پروپیگنڈا سمجھ رہے ہیں کچھ لوگ اس کی علامات ظاہر ہونے پر نیم حکیموں کے پاس جا کر نہ صرف پیسے کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ اُلٹی سیدھی دوائیاں استعمال کر کے خود کو دھوکہ دیتے ہیں-

    ان نیم حکیموں پر پیسہ لُٹانے کی بجائے اگر علامات ظاہر ہوں تو اس کا پی سی آر ٹیسٹ کروائیں اس ٹیسٹ سے ہی صحیح ادراک ہو گا کہ کورونا ہے یا نہیں اگر آپ کا ٹیسٹ پو زیٹیو آئے گا تو اس سے آپ کے اندر ایک دم خوف اور سٹریس پیدا ہو گا اس سٹریس کی بھی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ ہمارا میڈیا روزانہ اموات کو رپورٹ کر رہا ہے سوشل میڈیا پر اور آس پاس بھی ایسی خبریں وائرل ہو رہی ہوتی ہیں-

    اگر آپ کورونا کو مانتے ہیں یا نہیں پھر بھی آپ اس سے پھیلی ہوئی تباہی کے بارے میں آپ کو خبریں آ رہی ہو تی ہیں کورونا سے ہوئی اموات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی اموات گردوں کے مسائل یا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے یا وہ استھما کا مریض تھا اسی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے-

    کورونا آپ کے جسم میں موجود پہلے سے بیماری کے اثرات کو تیز کر دیتا ہے جس سے موت واقع ہو جاتی ہے اس کے لئے سب سے پہلے ٹیسٹ کروا کر خود کو آئسولیٹ کریں- اور اس دوران امید باندھے رکھنی ہے اور سٹریس کو کم کرنا ہے-اگر کسی کو کورونا ہوا ہے تو اسے پتہ ہونا چاہیئے کہ 80 فیصد ایسے لوگ ہیں جن کو اس کی ہلکی سی علامات ہوتی ہیں بس ہلکا سا بخار ہوتا ہے کھانسی ہوتی ہے اور وہ 14 دن کے آئسولیٹ اور احتیاط کے بعد وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ان میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں-

    دوسری جانب بہت سے ایسے کم لوگ ہیں جن کی عمر زیادہ ہو تی ہے ان میں سے بھی کم کے پھیپھڑوں میں انفیکشن پیدا ہوتا ہے اس کے لئے آکسی میٹر لے کر آکسیجن لیول چیک کرتے رہیں اگر آپ کا آکسیجن لیول 90 یا 94 سے کم ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ہاسپٹل جائیں کیونکہ اگر آکسیجن لیول کم ہے یا اس ے اگلا لیول وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے تو وہ آپ کو مہیا ہو-

    اور اس دوران سب سے زیادہ ضروری سٹریس کو کم کر نا ہے اس کے لئے سب سے پہلے میڈیا کو دیکھنا چھوڑ دیں نیوز چینلز جو بار بار ایک ہی خبر دکھا رہے ہوتے ہیں پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں سے 2 لاکھ اگر کوروناکا شکار تھے تو پہلے آپ ان 2 لاکھ افراد سے باہر تھے اب اگر آپ کا کورونا مثبت آیا یے تو آپ ان میں سے ایک ہیں جن میں 3 کی موت ہو چکی ہے تو آپ اس خوف کا شکار ہوں گے کہ آپ ان 3 فیصد میں ہیں

    اس خوف کو ختم کرنے کے لئے آپ میڈیا اور سوشل میڈیا ترک کر دیں انٹر ٹینمنٹ کے چینل دیکھیں یہاں تک کہ واٹس ایپ کا ستعمال بھی چھوڑ دیں کیونکہ آپ کے ارد گرد لوگ آپ کو ڈرائیں گے جو اس کا شکار ہو چکیں ہو ں گے وہ آپ کو امید دلائیں گے باقی زیادہ تر آپ کو ڈرائیں گے آپ اپنے اردگرد پوزیٹیویٹی پیدا کریں کیونکہ اگر اس سے ایک دو کی موت ہوئی ہے تو پندرہ لوگ ٹھیک بھی ہوئے ہوں گے آپ ہر طرح کے میڈیا سے دور رہیں بس اپنے گھر والوں سے تعلق رکھیں اور اپنے کمرے میں آئسولیٹ رہیں-

    آپ اپنے کمرے میں آئسولیٹ رہ کر بھی بہت سے کام کر سکتے ہیں آپ تھوڑی دیر باہر جا سکتے ہیں آپ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو ا20 فٹ کا فاصلہ رکھ کر اپنے گھر والوں جے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے آپ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر سامنے بیٹھ بات کر سکتے ہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ واٹس ایپ پر ویڈیو کال پر ات کر سکتے ہیں اور سماجی دوری اور کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے اپ اپنے گھر والوں سے مل سکتے ہیں-

    آئسولیٹ کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ مریض کو اکیلے اس کی حالت پر چھوڑ دیں اس طرح اس کے زہن میں التی سیدھی سوچیں پیدا ہوں گی بلکہ سوشل ڈیسٹینس کا خیال رکھتے ہوئے اس سے بات چیت کریں ہوئے اس کے گرد نیگٹیویٹی بالکل نہ آنے دیں-

    وی لاگ :انجینئر خالد اقبال

    پنجاب میں کرونا کا پھیلاؤ جاری،اموات 1800 سے بڑھ گئیں

    اسلام آبادیوں کیلئے خوشخبری ، یومیہ کرونا کیسز کی تعداد بدستور کم ہوتے ہوتے دو سو تک آگئی

  • ضلع بھر میں  او پی ڈی سروسز معطل

    ضلع بھر میں او پی ڈی سروسز معطل

    رپورٹ (کاشف تنویر) پی ایم اے منڈی بہاوالدین کا ہنگامی اجلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر صدارت ڈاکٹر طارق چدھڑ ، صدر پی ایم اے منڈی بہاوالدین منعقد ہوا۔ ڈاکٹرز برخاستگی کیس پر تمام ارباب اختیار کے دروازہ کٹھکٹانے اور حکام بالا کی جانب سے صرف ٹامک ٹولیوں نے بالاخر ہمیں تاریک اور بند گلی میں لا کر تنہا چھوڑ دیا لہذا ہمارے پاس اپنے حق کے لئے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا ہے۔ اجلاس کے فیصلہ کے مطابق کل مورخہ 2020-07-03 سے ڈاکٹرز کی بحالی تک ضلع بھر میں او پی ڈی سروسز معطل کی جا رہی ہیں۔ تمام ڈاکٹرز کل صبح 10 بجے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں جمع ہو کر اس متعصبانہ کاروائی کے خلاف احتجاج کریں گے۔

  • پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ینگ ڈاکٹرز کے حق میں شدید احتجاج

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ینگ ڈاکٹرز کے حق میں شدید احتجاج

    بریکنگ نیوز
    رپورٹ (کاشف تنویر) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن منڈی بہاؤالدین کا ینگ ڈاکٹرز کے حق میں شدید احتجاج. صدر پی ایم اے ڈاکٹر طارق چدھڑ نے انتظامیہ کو 3 دن کا الٹی میٹم دے دیا. تفصیلات دیکھئے باغی ٹی وی کی اس وڈیو رپورٹ میں.

  • سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے نا انصافی پر شدید مزمت

    سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے نا انصافی پر شدید مزمت

    رپورٹ(کاشف تنویر) پی ایم اے اور وائ ڈی اے منڈی بہاوالدین ینگ ڈاکٹرز کے خلاف سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے نا انصافی پر مبنی نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کی شدید مزمت کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے چند ماہ پہلے پورے پنجاب کے ہیلتھ ورکرز کے لئے محکمہ صحت کی جانب سے کرونا حفاظتی سامان بر وقت مہیا نہ کرنے پر ہائی کورٹ پنجاب میں رِٹ دائر کی گئی تھی جس کی انتقامی کاروائی کرتے ہوئے سیکرٹری صحت نے رِٹ داخل کرنے والے ڈاکٹرز کو نوکری سے برخاست کیا ہے۔ پی ایم اے اور واۓ ڈی اے نے نوکری سے برخاست ہونے والے ڈاکٹرز کی فوری بحالی کے لئے حکومت کو 3 دن کا وقت دیا ہے ورنہ سوموار سے سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا اور اسکی ذمہ داری حکومت پر آئے گی۔
    پی ایم اے / وائی ڈی اے
    منڈی بہاولدین
    27-06-2020