Baaghi TV

Category: صحت

  • کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک،دنیا پریشان

    کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک،دنیا پریشان

    واشنگٹن:کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ایک درجن سے زائد بایو ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مسلسل کوشش میں لگے رہیں تب بھی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بننے میں اب بھی ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا۔

    کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے کیمبرج، میسا چیوسیٹس میں واقع ماڈرنا فارما سیوٹیکل کے سربراہ اسٹیفن بینکل نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے جینیاتی بنیاد پر کام کرنے والی ایک ویکسین تیار کی ہے لیکن اس کا دوسرا مرحلہ (فیزٹو) اس سال موسمِ گرما میں شروع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب چھ امریکی سربراہ کے مشیرِ صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف الرجی اینڈ انفیکشنز ڈیزیز کے سربراہ اینتھونی فاؤکی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایک مؤثر ویکسین بنانے میں 18 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
    اسی ملاقات میں دیگر کئی کمپنیوں کے سرہراہ بھی شریک تھے جنہوں نے ماضی میں زکا وائرس کے خلاف اپنی ویکسین کی کامیابی سے صدرٹرمپ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ کورونا ویکسین کا سیفٹی (حفاظتی) مطالعہ اپریل میں شروع کیا جارہا ہے۔

    ان سب میں ماڈرنا کی ویکسین کو ’ایم آر این اے ویکسین‘ کہا گیا ہے جس میں نینو ذرات کے اندرجینیاتی ہدایات رکھی جائیں گی اور اسے ٹیکے کی صورت میں جسم میں داخل کیا جاسکے گا۔ اگرچہ یہ ویکسین سازی کا نیا اور تیزرفتار طریقہ ہے لیکن اب تک اسے پوری دنیا میں کہیں بھی لائسنس نہیں ملا کیونکہ یہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ویکسین جاری کرنے سے قبل اسے انسانوں کے لیے ہر طرح سے محفوظ بنایا جاتا ہے تاکہ کسی مضر اثر یا انفیکشن سے چوکنا رہا جاسکے۔ اس سارے عمل کے لیے ادویہ ساز اداروں کو 18 ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ واضح رہے کہ ماڈرنا کمپنی کے شیئر میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور کمپنی کے اثاثے 11 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔

    اس نئی ٹیکنالوجی میں جینیاتی معلومات نینو ذرات میں شامل کی جاتی ہے اور انجکشن سے لگانے کے بعد نینو ذرات کورونا وائرس کا مقابلہ جسم کو امنیاتی طور پر محفوظ بنا کر کرتے ہیں تاہم ماڈرنا کمپنی نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ اپنی طرف سی کورونا وائرس کے جینیاتی ڈرافٹ بنائیں گے انہیں آن لائن پوسٹ کرتے رہیں گے تاکہ دیگر کمپنیاں اور سائنسداں بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔

  • دنیاکےڈاکٹرزانسانیت کوبچانےکی تگ ودومیں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانےکے چکروں،مریض،شہری سب رسوا،بددعائیں دینے لگے

    دنیاکےڈاکٹرزانسانیت کوبچانےکی تگ ودومیں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانےکے چکروں،مریض،شہری سب رسوا،بددعائیں دینے لگے

    لاہور:دنیاکے ڈاکٹرزانسانیت کوبچانے کی تگ ودو میں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانے کے چکروں میں احتجاج کی راہ پر،مریض بھی رسوا،شہری بھی خوار،اطلاعات کےمطابق گرینڈ ہیلتھ الائنس نے احتجاج کرتے ہوئے شہر کی مختلف شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ راستے بند ہونے سے شہری خوار ہو کر رہ گئے۔

    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، چلڈرن اور میو ہسپتال کے باہر مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف شدید نعرہ بازی کی۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت ایم ٹی آئی ایکٹ کو نہیں مانتے۔ حکومت نے مشاورت کے بغیر بل اسمبلی سے پاس کروایا تو سخت درعمل دیں گے۔

    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد دھرنا موخر کر دیا۔ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ دوسری جانب احتجاجی دھرنے کے باعث شہر کی مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہریوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ادھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین کا کہنا ہے کہ ایم ٹی ائی صحت کا اصلاحاتی ایکٹ ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس سڑکوں پر آکر سیاست چمکا رہا ہے۔ ایکٹ کا مقصد مالی اور انتظامی خود مختاری ہے۔ کورٹ کی ڈائریکشن پر عمل درآمد کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز سے مشاورت کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس سے 30 سے زائد مشاورتی ملاقاتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ہم مریضوں کی بھلائی کے لیے ایم آئی ٹی ایکٹ لا رہے ہیں۔

  • اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی

    اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی

    اٹلی :اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی،اطلاعات کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس سے خطرناک صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے اور ایک روز میں مہلک وائرس نے 133 افراد کی جان لے لی ہے۔

    چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے یورپی ملک اٹلی میں خطرناک صورتحال پیدا کردی ہے جہاں مہلک وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 133 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 366 تک جاپہنچی ہے۔

    حکام نے بتایا کہ 1492 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 7375 ہوگئی ہے۔خطرناک صورتحال کے بعد اٹلی کی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شمالی اٹلی اور دیگر 14 صوبوں کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹلی کے وزیراعظم جوزپے کونٹے نے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں۔ حکومت کے اِس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ کی آبادی کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور یہ قرنطینہ 3 اپریل تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔متاثرہ شہروں میں داخلے اور نکلنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر3 ماہ قید کی سزا اور 206 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومتی فیصلے سے میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی متاثرہوں گے۔اٹلی کی حکومت نے اسکولز اور یونیورسٹیز پہلے ہی 15 مارچ تک بند کررکھی ہیں تاہم اب عوامی اجتماعات، کھیل اور مذہبی تقریبات بھی منسوخ کردی ہیں۔

    خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے اب تک 3 ہزار 98 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 704 تک جاپہنچی ہے اور ہزاروں افراد مہلک وائرس سے متاثر ہیں

  • پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا

    پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا

    برلن: پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا ،جرمنی کے ماہرین طب کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلسل فضائی آلودگی میں رہنے سے انسانی زندگی میں اوسط 3 سے 4 سال کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فہرست میں جنوبی ایشیا سرِ فہرست ہے جہاں چین میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی انسانی زندگی کے اوسط عمر سے 4.1 سال، بھارت میں 3.9 برس اور پاکستان میں اوسط 3.8 سال کم ہوسکتے ہیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ آلودہ فضا میں مسلسل رہنے سے امراضِ قلب، سانس میں دقت اور بلڈ پریشر جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے آپ کو متاثر کرسکتی ہے اور کسی عارضے میں مبتلا کرکے بیمار کرسکتی ہیں۔

    جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے یہ سروے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں یا تیل اور گیس کے جلنے سے پیدا ہونے والے بخارات پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرسکتے ہیں اور کئی امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    یہ تحیق جرنل آف کارڈیالوجی ریسرچ میں شائع ہوئی ہے یہاں تک کہ سروے سے وابستہ ایک ماہر ہوز لیلی ویلڈ نے اسے سگریٹ نوشی سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے۔

    انہوں نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ فضائی آلودگی پوری دنیا میں 88 لاکھ افراد کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ توانائی کے صاف اور ماحول دوست ذرائع سے اسے کم کیا جاسکتا ہے۔

    قبل از وقت موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی ملیریا سے 19 گنا، ایچ آئی وی ایڈز سے 9 گنا اور شراب نوشی سے 3 گنا زائد اموات کی وجہ بن رہی ہے۔ ان میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور فالج سرِ فہرست ہیں جبکہ پھیپھڑے کے سرطان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ماہرین نے بھارت کے آلودہ ترین علاقے اترپردیش کو بھی اپنے مطالعے میں بطورِ خاص شامل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہاں 20 کروڑ لوگ رہتے ہیں اور زندگی میں ساڑھے 8 برس کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ دوسرے نمبر پر چین کا صوبہ ہیبائی ہے جس کی آبادی ساڑھے 7 کروڑ ہے اور اوسط عمر میں 6 سال کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔

    ماہرین نے خواتین کے حوالے سے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں گھر کے اندر لکڑی، تیل اور کوئلے وغیرہ کے جلنے سے اندرونی فضائی آلودگی انتہائی خطرناک ہے جو بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے بہت مضر ثابت ہورہی ہے۔

  • دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا

    دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا

    واشنگٹن: دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا۔ چین میں مزید 27 افراد کی موت کے ساتھ تعداد 3 ہزار 97 ہو گئی، جنوبی کوریا میں مزید 2 افراد کی موت کے ساتھ تعداد 50 ہو گئی، اٹلی میں وائرس 233 افراد کی جان لے گیا۔ ایران میں مرنے والوں کی تعداد 145 ہو گئی، اٹلی میں ایک کروڑ 6 لاکھ افراد پر مشتمل علاقے کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا، چین میں مریضوں سے بھری عمارت منہدم ہونے سے 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

    دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں آگئے۔ چین کے بعد اٹلی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں وائرس سے بچاؤ کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ جم خانے، سوئمنگ پولز، میوزیم اور اسکیئنگ ریزارٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی ہنگامی اقدامات کی زد میں آ گئے ہیں، اٹلی یورپ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

    چین کے شہر کونزو میں ہوٹل کی عمارت زمین بوس ہو گئی، اس عمارت کو کرونا کے مریضوں کے لیے قرنطینہ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، عمارت میں 70 افراد موجود تھے جنہیں نکالنے کا کام جاری ہے۔فرانس نے ملک بھر میں اسکولوں کو بند کر دیا ہے۔ 15 امریکی شہریوں کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔

  • کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا :  ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا

    کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا : ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا

    واشنگٹن:کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا : ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی پر اپنے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو عہدے سے ہٹادیا۔

    عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کو لے کر حکومتی اقدامات کو دیکھنے کے لیے امریکی نائب صدر مائیک پینس کی نامزدگی سے قبل ٹرمپ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف مک ملوینے کورونا وائرس کی صورتحال کے معاملات دیکھ رہے تھے اور انہیں صورتحال پر قابو نہ پانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا۔

    امریکی صدر نے ٹوئٹر کے ذریعے مک ملوینے کی تبدیلی کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ اب شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت مارک میڈوس کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ مک ملوینے شمالی آئرلینڈ میں امریکی نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے کام کریں گے۔ مک ملوینے ایک سال سے زائد عرصے تک ٹرمپ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف رہے۔

    ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں مک ملوینے کا شکریہ ادا کیا اور نئے چیف آف اسٹاف کے حوالے سے کہا کہ وہ مارک میڈوس کو طویل عرصے سے جانتے ہیں، ان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں نے ساتھ کام بھی کیا ہے۔عرب میڈیا کا کہناہے کہ مارک میڈوس کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے خبریں زیرگردش تھیں اور انہوں نے اپنی نشست پر دوبارہ انتخابات نہ لڑنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

  • کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی

    کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی

    ریاض:کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی ،عمرہ کرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی آگئی ،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب نے غیرملکیوں کے بعد اب مقامی شہریوں پر بھی عمرہ ادائیگی اور مسجد نبوی ﷺ کی زیارت پر عارضی پابندی عائد کردی۔

    عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ایک اور شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ، جس کے بعد متاثرین کی تعداد2ہوگئی ، تاہم دوسرا متاثرہ شخص بھی ایران سے سعودی عر ب آیا تھا۔دوسری جانب مہلک وائر س کے پھیلاوکو روکنے کیلئے سعودی عرب نے ہنگامی اقدام اٹھاتے ہوئے سعودی شہریوں پر بھی عمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی۔سعودی حکام کاکہنا ہے کہ اسباب ختم ہوئے تو پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    ذرائع کےمطابق بیت اللہ کے طواف کا کچھ وقت کے لیے سلسلہ اس وجہ سے روکنا پڑاکیونکہ وہاں طبی ماہرین اس خطرناک وائرس سے بچاوکےلیے سپرے کررہےتھے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اوپروالی منزلوں پرطواف جاری رہا اورجاری ہے

    سعودی عرب کے وزارت داخلہ کی جانب سے گزشتہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سعودی شہریوں اور مکینوں پر عمرہ ادائیگی پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مقامی شہریوں اور غیرملکی کارکنان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ زیارت کے لیے مسجد نبوی ﷺبھی نہ جائیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق مقامی شہریوں پر پابندی کا فیصلہ اعلیٰ سطح کمیٹی کی جانب سے ارسال کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کے خطرات جیسے ہی کم ہوں گے پہلی فرصت میں فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

  • آئی ایم ایف کا کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے 50ارب ڈالر امداد کا اعلان

    آئی ایم ایف کا کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے 50ارب ڈالر امداد کا اعلان

    نیویارک: کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے عالمی طاقتیں حرکت میں آگئیں، آئی ایم ایف کا 50ارب ڈالر جبکہ امریکی ایوان نمائندگان نے8ارب 30 کروڑ ڈالر ایمرجنسی امداد کا اعلان کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے بڑا اقدام اٹھا تے ہوئے ہنگامی طورپر50ارب ڈالر مختص کرنے کااعلان کردیا۔رقم کا بڑا حصہ بلاسود ہوگا۔

    رقم ان ملکوں کو بھی دی جا سکے گی جنہوں نے آئی ایم ایف سے کوئی پروگرام نہیں لے رکھا، عالمی بینک بھی کررونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 12 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں ایوان نمائندگان نے بھی وائرس سے نمٹنے کیلئے آٹھ ارب تیس کروڑ ڈالرکاایمرجنسی امدادی بل منظور کرلیا۔ بل سینٹ میں بھیج دیا گیا جس پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    واضح رہے کہ کرونا وائرس نے 84ممالک میں پنجے گاڑھ لیے۔چین میں وائرس سے 48،جنوبی کوریا میں34 اور ایران میں مزید 15افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔عراق میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی ہے۔بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد29اور امریکا میں 137ہوچکی ہے۔مہلک وائرس سے دنیابھر میں ہلاکتوں کی تعداد 3200جبکہ متاثرین کی تعداد 94ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے

    قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے

    لندن: قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے،تفصیلات کے مطابق پوری دنیا میں ہرسال لاکھوں بچے یا تو قبل از وقت آنکھ کھولتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی پیچیدگی کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں لیکن اب ب ایک ایپ اس سے خبردار کرسکتی ہے تاکہ مائیں چوکنا رہ کر اپنا علاج کرواسکیں اور اپنی اور آنے والے بچے کی جان بچاسکیں۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی بچے رحمِ مادر میں مدتِ حمل کے 37 اہم ہفتے پورے نہیں کرپاتے اور اس دنیا میں کئی امراض کے ساتھ آنکھ کھولتے ہیں۔ ایسے بچوں کو عام طور انکیوبیٹر میں بھی رکھا جاتا ہے۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ اب ایک ایپ QUiPP v2 کے ذریعے ماں کے حمل اور قبل از وقت بچے کی پیدائش پر نظر رکھی جاسکے گی۔ یہ ایپ بالخصوص ایک قسم کا اہم پروٹین ’فیٹل فائبرونیکٹن‘ پر نظر رکھتی ہے۔ یہ پروٹین رحم کے اندر مائع کی تھیلی کو رحم کی دیوار سے ’چپکائے‘ رکھتا ہے۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کسی انفیکشن یا بیماری کی کیفیت میں حمل کے چپکنے کی یہ صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خاتون چند دنوں یا ہفتے میں بچے کو وقت سے قبل جنم دے سکتی ہے۔

    برطانیہ میں مریضوں کے تحفظ کی وزیر ناڈین ڈوریز کے مطابق بچے کی قبل از وقت پیدائش اولاد کی خوشی کو خوف میں بدل دیتی ہے۔ اس طرح بچے کی قبل از وقت پیدائش کو نوٹ کرکے ہم زچہ و بچہ ، دونوں کو ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    ڈاکٹروں کے مطابق جو بچے 24 ہفتے میں آنکھ کھولتے ہیں ان کے زندہ رہنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں تاہم ان کے پھیپھڑے یا تو پوری طرح نہیں بنتے یا پھر طرح طرح کے امراض اور انفیکشن کے شکار ہوجاتے ہیں یا پھر دماغی امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    کسی بھی خطرے کی صورت میں ڈاکٹر ماؤں کو مکمل آرام کا مشورہ دیتے ہیں۔ کنگز کالج کے ماہرین نے یہ ایپ تیار کی ہے ۔ QUiPP v2 ایپ خاتون سے بعض کیفیات کے متعلق پوچھتی ہیں جن میں سکڑاؤ، ماہانہ ایام جیسے درد، کمرکی تکلیف اور بار بار پانی کی تھیلی پھٹ جانے یا بہہ جانے کا ان دیکھا احساس شامل ہیں۔

    اسی طرح رحم کی چوڑائی کم ہونے کو بھی ایپ نوٹ کرتی رہتی ہے اور ان علامات کی بنا پر خطرے کو فی صد میں ظاہر کرتی ہے۔ کنگز کالج کے ماہرین نے ایپ کو باقاعدہ استعمال کیا ہے اور اس کی تفصیلات متعلقہ سائنسی جریدے میں شائع کرائی ہیں۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ اب ہم اپنی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہیں اور یہ ایپ ہر طرح سے قابلِ اعتبار ہے جس سے خطرے کی شکار خواتین کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر جینی نے کہا کہ خود ماں، ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کے لیے یہ ایپ بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر مرض کا بوجھ کم کرے گا اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔

    دوسری جانب ایپ کو ایک اور ہسپتال سینٹ تھامس میں بھی استعمال کیا گیا ہے جس کے نتائج اگلے چند ماہ میں پیش کیے جائیں گے۔

  • خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    واشنگٹن:خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین کا دعویٰ ،رپورٹ کے مطابق پانچ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے کے بعد طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بڑی عمر کے وہ لوگ جو روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند نہیں لیتے یا جن کے سونے کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا، انہیں دل کی مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

    نیند کے حوالے سے اہم مسائل کی بحث امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے تحت کیا گیا، پانچ سال تک جاری رہا جبکہ اس میں 45 سے 84 سال تک کے ایسے بالغ افراد شریک تھے جنہیں مطالعہ شروع ہوتے وقت دل کی کوئی بیماری نہیں تھی۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ ابتداء میں سات روز تک ان کی کلائی پر اسمارٹ بینڈ باندھ کر ان میں سونے جاگنے کے اوقات، دورانیے اور معمولات کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں جبکہ بعد کے پانچ سال میں بھی اس حوالے سے ان کے معمولات پر وقفے وقفے سے نظر رکھی گئی۔ مطالعے کے شرکاء میں سے 111 افراد مختلف امراضِ قلب میں مبتلا ہوئے جن میں دل کا دورہ اور فالج کے علاوہ دل کی خرابی کے باعث موت تک شامل تھے۔

    امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے مطالعہ میں یہ بات بطورِ خاص مشاہدے میں آئی کہ وہ لوگ جن کی نیند سب سے زیادہ متاثر رہی، ان میں لگے بندھے معمول کے مطابق روزانہ 7 سے 8 گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا دگنا اور مضبوط امکان مشاہدے میں آیا۔

    سونے جاگنے کے معمولات میں بے قاعدگی سے مراد یہ ہے کہ نہ تو سونے کا کوئی وقت مقرر ہو اور نہ ہی جاگنے کا۔ یعنی کسی دن دیر سے سو کر جلدی اٹھ گئے، کبھی دن میں سوئے رہے تو کسی روز جلدی سوئے اور گھنٹوں خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے رہے۔ماضی میں کم نیند اور بے خوابی سے موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے خدشات کا براہِ راست تعلق ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ مذکورہ مطالعے کا تعلق نیند کے معمولات میں بے قاعدگی سے ہے۔

    امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘کے اس مطالعے کی روشنی میں یہ تجویز یقیناً مناسب رہے گی کہ اگر آپ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اپنی صحت مناسب رکھنا چاہتے ہیں تو دیگر عملی تدابیر کے ساتھ ساتھ سونے جاگنے کا وقت بھی مقرر کرلیجیے اور روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیجیے۔