Baaghi TV

Category: صحت

  • دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا

    دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا

    واشنگٹن: دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں، اموات کی تعداد 3600 ہو گئی،فرانس نے تاریخ کا اہم اعلان کردیا۔ چین میں مزید 27 افراد کی موت کے ساتھ تعداد 3 ہزار 97 ہو گئی، جنوبی کوریا میں مزید 2 افراد کی موت کے ساتھ تعداد 50 ہو گئی، اٹلی میں وائرس 233 افراد کی جان لے گیا۔ ایران میں مرنے والوں کی تعداد 145 ہو گئی، اٹلی میں ایک کروڑ 6 لاکھ افراد پر مشتمل علاقے کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا، چین میں مریضوں سے بھری عمارت منہدم ہونے سے 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

    دنیا کے 103 ممالک کرونا وائرس کی زد میں آگئے۔ چین کے بعد اٹلی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں وائرس سے بچاؤ کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ جم خانے، سوئمنگ پولز، میوزیم اور اسکیئنگ ریزارٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی ہنگامی اقدامات کی زد میں آ گئے ہیں، اٹلی یورپ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

    چین کے شہر کونزو میں ہوٹل کی عمارت زمین بوس ہو گئی، اس عمارت کو کرونا کے مریضوں کے لیے قرنطینہ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، عمارت میں 70 افراد موجود تھے جنہیں نکالنے کا کام جاری ہے۔فرانس نے ملک بھر میں اسکولوں کو بند کر دیا ہے۔ 15 امریکی شہریوں کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔

  • کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا :  ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا

    کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا : ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا

    واشنگٹن:کرونا وائرس نے امریکی اسٹیبلشمنٹ پرزلزلہ برپا کردیا : ٹرمپ نے صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر چیف آف اسٹاف کو ہٹادیا،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی پر اپنے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو عہدے سے ہٹادیا۔

    عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کو لے کر حکومتی اقدامات کو دیکھنے کے لیے امریکی نائب صدر مائیک پینس کی نامزدگی سے قبل ٹرمپ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف مک ملوینے کورونا وائرس کی صورتحال کے معاملات دیکھ رہے تھے اور انہیں صورتحال پر قابو نہ پانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا۔

    امریکی صدر نے ٹوئٹر کے ذریعے مک ملوینے کی تبدیلی کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ اب شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت مارک میڈوس کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ مک ملوینے شمالی آئرلینڈ میں امریکی نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے کام کریں گے۔ مک ملوینے ایک سال سے زائد عرصے تک ٹرمپ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف رہے۔

    ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں مک ملوینے کا شکریہ ادا کیا اور نئے چیف آف اسٹاف کے حوالے سے کہا کہ وہ مارک میڈوس کو طویل عرصے سے جانتے ہیں، ان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں نے ساتھ کام بھی کیا ہے۔عرب میڈیا کا کہناہے کہ مارک میڈوس کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے خبریں زیرگردش تھیں اور انہوں نے اپنی نشست پر دوبارہ انتخابات نہ لڑنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

  • کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی

    کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی

    ریاض:کرونا وائرس : عمرے پرپابندی کے بعد طواف پربھی پابندی ؟ کچھ وقت کےلیے طواف کیوں روکنا پڑا اہم وجہ سامنے آگئی ،عمرہ کرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی آگئی ،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب نے غیرملکیوں کے بعد اب مقامی شہریوں پر بھی عمرہ ادائیگی اور مسجد نبوی ﷺ کی زیارت پر عارضی پابندی عائد کردی۔

    عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ایک اور شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ، جس کے بعد متاثرین کی تعداد2ہوگئی ، تاہم دوسرا متاثرہ شخص بھی ایران سے سعودی عر ب آیا تھا۔دوسری جانب مہلک وائر س کے پھیلاوکو روکنے کیلئے سعودی عرب نے ہنگامی اقدام اٹھاتے ہوئے سعودی شہریوں پر بھی عمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی۔سعودی حکام کاکہنا ہے کہ اسباب ختم ہوئے تو پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    ذرائع کےمطابق بیت اللہ کے طواف کا کچھ وقت کے لیے سلسلہ اس وجہ سے روکنا پڑاکیونکہ وہاں طبی ماہرین اس خطرناک وائرس سے بچاوکےلیے سپرے کررہےتھے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اوپروالی منزلوں پرطواف جاری رہا اورجاری ہے

    سعودی عرب کے وزارت داخلہ کی جانب سے گزشتہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سعودی شہریوں اور مکینوں پر عمرہ ادائیگی پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مقامی شہریوں اور غیرملکی کارکنان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ زیارت کے لیے مسجد نبوی ﷺبھی نہ جائیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق مقامی شہریوں پر پابندی کا فیصلہ اعلیٰ سطح کمیٹی کی جانب سے ارسال کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کے خطرات جیسے ہی کم ہوں گے پہلی فرصت میں فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

  • آئی ایم ایف کا کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے 50ارب ڈالر امداد کا اعلان

    آئی ایم ایف کا کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے 50ارب ڈالر امداد کا اعلان

    نیویارک: کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے عالمی طاقتیں حرکت میں آگئیں، آئی ایم ایف کا 50ارب ڈالر جبکہ امریکی ایوان نمائندگان نے8ارب 30 کروڑ ڈالر ایمرجنسی امداد کا اعلان کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے بڑا اقدام اٹھا تے ہوئے ہنگامی طورپر50ارب ڈالر مختص کرنے کااعلان کردیا۔رقم کا بڑا حصہ بلاسود ہوگا۔

    رقم ان ملکوں کو بھی دی جا سکے گی جنہوں نے آئی ایم ایف سے کوئی پروگرام نہیں لے رکھا، عالمی بینک بھی کررونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 12 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں ایوان نمائندگان نے بھی وائرس سے نمٹنے کیلئے آٹھ ارب تیس کروڑ ڈالرکاایمرجنسی امدادی بل منظور کرلیا۔ بل سینٹ میں بھیج دیا گیا جس پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    واضح رہے کہ کرونا وائرس نے 84ممالک میں پنجے گاڑھ لیے۔چین میں وائرس سے 48،جنوبی کوریا میں34 اور ایران میں مزید 15افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔عراق میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی ہے۔بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد29اور امریکا میں 137ہوچکی ہے۔مہلک وائرس سے دنیابھر میں ہلاکتوں کی تعداد 3200جبکہ متاثرین کی تعداد 94ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے

    قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے

    لندن: قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ،نئے شادی شدہ جوڑے اس ایپ کوبڑی تیزی سے استعمال کرنے لگے،تفصیلات کے مطابق پوری دنیا میں ہرسال لاکھوں بچے یا تو قبل از وقت آنکھ کھولتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی پیچیدگی کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں لیکن اب ب ایک ایپ اس سے خبردار کرسکتی ہے تاکہ مائیں چوکنا رہ کر اپنا علاج کرواسکیں اور اپنی اور آنے والے بچے کی جان بچاسکیں۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی بچے رحمِ مادر میں مدتِ حمل کے 37 اہم ہفتے پورے نہیں کرپاتے اور اس دنیا میں کئی امراض کے ساتھ آنکھ کھولتے ہیں۔ ایسے بچوں کو عام طور انکیوبیٹر میں بھی رکھا جاتا ہے۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ اب ایک ایپ QUiPP v2 کے ذریعے ماں کے حمل اور قبل از وقت بچے کی پیدائش پر نظر رکھی جاسکے گی۔ یہ ایپ بالخصوص ایک قسم کا اہم پروٹین ’فیٹل فائبرونیکٹن‘ پر نظر رکھتی ہے۔ یہ پروٹین رحم کے اندر مائع کی تھیلی کو رحم کی دیوار سے ’چپکائے‘ رکھتا ہے۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کسی انفیکشن یا بیماری کی کیفیت میں حمل کے چپکنے کی یہ صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خاتون چند دنوں یا ہفتے میں بچے کو وقت سے قبل جنم دے سکتی ہے۔

    برطانیہ میں مریضوں کے تحفظ کی وزیر ناڈین ڈوریز کے مطابق بچے کی قبل از وقت پیدائش اولاد کی خوشی کو خوف میں بدل دیتی ہے۔ اس طرح بچے کی قبل از وقت پیدائش کو نوٹ کرکے ہم زچہ و بچہ ، دونوں کو ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    ڈاکٹروں کے مطابق جو بچے 24 ہفتے میں آنکھ کھولتے ہیں ان کے زندہ رہنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں تاہم ان کے پھیپھڑے یا تو پوری طرح نہیں بنتے یا پھر طرح طرح کے امراض اور انفیکشن کے شکار ہوجاتے ہیں یا پھر دماغی امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    کسی بھی خطرے کی صورت میں ڈاکٹر ماؤں کو مکمل آرام کا مشورہ دیتے ہیں۔ کنگز کالج کے ماہرین نے یہ ایپ تیار کی ہے ۔ QUiPP v2 ایپ خاتون سے بعض کیفیات کے متعلق پوچھتی ہیں جن میں سکڑاؤ، ماہانہ ایام جیسے درد، کمرکی تکلیف اور بار بار پانی کی تھیلی پھٹ جانے یا بہہ جانے کا ان دیکھا احساس شامل ہیں۔

    اسی طرح رحم کی چوڑائی کم ہونے کو بھی ایپ نوٹ کرتی رہتی ہے اور ان علامات کی بنا پر خطرے کو فی صد میں ظاہر کرتی ہے۔ کنگز کالج کے ماہرین نے ایپ کو باقاعدہ استعمال کیا ہے اور اس کی تفصیلات متعلقہ سائنسی جریدے میں شائع کرائی ہیں۔

    اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ اب ہم اپنی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہیں اور یہ ایپ ہر طرح سے قابلِ اعتبار ہے جس سے خطرے کی شکار خواتین کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر جینی نے کہا کہ خود ماں، ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کے لیے یہ ایپ بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر مرض کا بوجھ کم کرے گا اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔

    دوسری جانب ایپ کو ایک اور ہسپتال سینٹ تھامس میں بھی استعمال کیا گیا ہے جس کے نتائج اگلے چند ماہ میں پیش کیے جائیں گے۔

  • خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    واشنگٹن:خبردار: جن کونیند کے مسائل ہیں ، ان کے دل کامعاملہ کچھ ٹھیک نہیں رہتا ، طبی ماہرین کا دعویٰ ،رپورٹ کے مطابق پانچ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے کے بعد طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بڑی عمر کے وہ لوگ جو روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند نہیں لیتے یا جن کے سونے کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا، انہیں دل کی مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

    نیند کے حوالے سے اہم مسائل کی بحث امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے تحت کیا گیا، پانچ سال تک جاری رہا جبکہ اس میں 45 سے 84 سال تک کے ایسے بالغ افراد شریک تھے جنہیں مطالعہ شروع ہوتے وقت دل کی کوئی بیماری نہیں تھی۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ ابتداء میں سات روز تک ان کی کلائی پر اسمارٹ بینڈ باندھ کر ان میں سونے جاگنے کے اوقات، دورانیے اور معمولات کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں جبکہ بعد کے پانچ سال میں بھی اس حوالے سے ان کے معمولات پر وقفے وقفے سے نظر رکھی گئی۔ مطالعے کے شرکاء میں سے 111 افراد مختلف امراضِ قلب میں مبتلا ہوئے جن میں دل کا دورہ اور فالج کے علاوہ دل کی خرابی کے باعث موت تک شامل تھے۔

    امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے مطالعہ میں یہ بات بطورِ خاص مشاہدے میں آئی کہ وہ لوگ جن کی نیند سب سے زیادہ متاثر رہی، ان میں لگے بندھے معمول کے مطابق روزانہ 7 سے 8 گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا دگنا اور مضبوط امکان مشاہدے میں آیا۔

    سونے جاگنے کے معمولات میں بے قاعدگی سے مراد یہ ہے کہ نہ تو سونے کا کوئی وقت مقرر ہو اور نہ ہی جاگنے کا۔ یعنی کسی دن دیر سے سو کر جلدی اٹھ گئے، کبھی دن میں سوئے رہے تو کسی روز جلدی سوئے اور گھنٹوں خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے رہے۔ماضی میں کم نیند اور بے خوابی سے موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے خدشات کا براہِ راست تعلق ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ مذکورہ مطالعے کا تعلق نیند کے معمولات میں بے قاعدگی سے ہے۔

    امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘کے اس مطالعے کی روشنی میں یہ تجویز یقیناً مناسب رہے گی کہ اگر آپ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اپنی صحت مناسب رکھنا چاہتے ہیں تو دیگر عملی تدابیر کے ساتھ ساتھ سونے جاگنے کا وقت بھی مقرر کرلیجیے اور روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیجیے۔

  • کورونا وائرس 2 مختلف اقسام میں تبدیل ہوگیا،ایک جارحانہ رویے کا حامل ہے ، ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا انکشاف

    کورونا وائرس 2 مختلف اقسام میں تبدیل ہوگیا،ایک جارحانہ رویے کا حامل ہے ، ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا انکشاف

    بیجنگ :کورونا وائرس 2 مختلف اقسام میں تبدیل ہوگیا،ایک جارحانہ رویے کا حامل ہے ، ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا انکشاف ،اطلاعات کےمطابق چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس 2 مختلف حصوں میں تقسیم ہوگیا، جن میں سے ایک زیادہ جارحانہ رویے کا حامل ہے۔ یہ وائرس ارتقائی مراحل سے گزر کر 2 حصوں ایل اور ایس ٹائپس کی شکل اختیار کرگیا۔

    یہ بات چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی اور اس دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ اس نئے نوول کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔پیکینگ یونیورسٹی اسکول آف لائف سائنسز اور انسٹیٹوٹ Pasteur آف شنگھائی کے سائنسدانوں محدود ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا کہ انہوں نے 2 اقسام کی بیماری کو دریافت کیا ہے جو انفیکشنز کا باعث بنتا ہے۔

    اس ابتدائی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وائرس کی زیادہ جارحانہ قسم ووہان میں 70 فیصد کیسز میں دریافت ہوئی جبکہ باقی 30 فیصد کم جارحانہ قسم کے وائرس سے شکار ہوئے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس حوالے سے فوری طور پر جامع تحقیق کی ضرورت ہے جس میں جینوم ڈیٹا، وبائی ڈیٹا اور مریضوں کی علامات کے چارٹ ریکارڈز کا جائزہ لیا جائے۔تحقیق کے نتائج چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے نیشنل سائنس ریویو میں شائع ہوئے۔

    دوسری جانب بدھ کو چائنیز میڈیک لایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس کی علامات نمودار ہونے کا دورانیہ 5 سے 7 دن اور زیادہ سے زیادہ 14 دن ہے۔یہ اب تک حکومت سے منسلک طبی ادارے کی وائرس کی علامات نمودار ہونے کے دورانیے کے بارے میں سب سے تفصیلی تجزیہ ہے اور اس دورانیے کے دوران بھی یہ وائرس متاثرہ فرد سے صحت مند افراد میں منتقل ہوسکتا ہے۔

    چین میں منگل کو کورونا وائرس کے 119 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ پیر کو یہ تعداد 125 تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چین میں وبائی صورتحال میں کمی آرہی ہے اور فروری کے وسط سے ہی نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

    چین میں مجموعی طور پر 80 ہزار 270 کیسز سامنے آئے اور 3 مارچ تک ہلاکتوں کی تعداد 2981 تھی۔اگرچہ چین سے باہر مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد چین کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے مگر چینی حکام مستقبل میں اس کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کررہے ہیں۔

    حکام نے بیرون ملک موجود چینی شہریوں کو ملک واپس نہ اانے کا مشورہ دیا ہے جبکہ زیادہ کیسز والے ممالک سے واپس آنے والے افراد کے لیے قرنطینہ کے ضوابط مرتب کیے گئے ہیں۔چین کی جانب سے مقامی کمپنیوں میں حفاظتی ملبوسات بیرون ملک برآمد کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ وائرس پھیلنے سے پیدا ہونے والی طبل کو پورا کیا جاسکے۔چینی حکام کی جانب سے ایمرجنسی طبی سہولیات اور حفاظتی مواد کو محفوظ کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

  • برطانیہ میں کرونا وائرس نے حملہ کردیا، ایمرجنسی نافذ ہونے کا امکان،لوگوں میں خوف وہراس

    برطانیہ میں کرونا وائرس نے حملہ کردیا، ایمرجنسی نافذ ہونے کا امکان،لوگوں میں خوف وہراس

    مانچسٹر: ببرطانیہ میں کرونا وائرس نے حملہ کردیا، ایمرجنسی نافذ ہونے کا امکان،لوگوں میں خوف وہراس پایا جارہا ہے، ادھر ذرائع کےمطابق رطانیہ میں کرونا وائرس کے مزید 12 کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 33 تک پہنچ گئی۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت برطانیہ میں کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے لگے، اتوار کے روز بھی 12 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد مریضوں کی تعداد بڑھ گئی۔شمالی آئرلینڈ اور ویلرز کے علاقوں میں کرونا وائرس سے اب تک متاثر ہونے والے افراد کی تعداد بھی 35 تک پہنچ گئی۔

    برطانیہ کے سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ کرونا کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے عوامی اجتماعات پرپابندی اور شہروں کولاک ڈاؤن کیاجاسکتاہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ برطانیہ میں کوروناوائرس تیزی سےپھیل رہا ہے، اٹلی اور ایران سے واپس آنے والےمسافروں کے ٹیسٹ لازمی کیے جا رہےہیں کیونکہ ہمیں خدشہ ہے یہ مسافر اپنےساتھ وائرس لائے ہیں۔

    سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، وزیراعظم نے اس حوالے سے کل ’کوبرا‘ مٹینگ طلب کی جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ کرونا وائرس دنیا کے 51 ممالک تک پھیل چکا ہے اور اب تک اس سے 2800 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ مریضوں کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • ہندووں کا عقیدہ گائے کے گوبرمیں نہانے سے کرونا وائرس ختم ہوجاتا ہے،وائرل ویڈیونے تہلکہ مچا دیا

    ہندووں کا عقیدہ گائے کے گوبرمیں نہانے سے کرونا وائرس ختم ہوجاتا ہے،وائرل ویڈیونے تہلکہ مچا دیا

    لاہور:ہندووں کا عقیدہ گائے کے گوبرمیں نہانے سے کرونا وائرس ختم ہوجاتا ہے،وائرل ویڈیونے تہلکہ مچا دیا،باغی ٹی وی کے مطابق بھارت میں اس وقت کرونا وائرس کے حوالے پائے جانے والے خوف سے عجیب قسم کے واقعات رونما ہورہے ہیں ،ذرائع کے مطابق ہندووں کا عقیدہ ہے کہ گائے کے گوبرمیں‌ نہانے سے کرونا وائرس کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پرایک ویڈیوبڑی تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں دو ہندو گائے کے گوبر میں نہارہے ہیں اورساتھ ساتھ اپنے عقیدے کے مطابق گائے کے گوبر میں نہانے سے کرونا وائرس کے جراثیم بالکل ختم ہوجاتے ہیں ،

    ہندو اس ویڈیو میں اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ بھگوان نے گائے ماتا کے گوبرمیں شفا رکھی ہے، یاد رہے کہ ہندووں کا عقیدہ ہےکہ گائےکے پیشاب میں بھی شفا ہے ، یہی وجہ ہےکہ ہندووں نے بڑے بڑے تالاب بنا رکھے ہیں جہاں وہ گائے کا گوبراکٹھا کرکے اس میں نہاتے ہیں

  • کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کی پہچان کے فری ٹیسٹ ، طریقہ کاربتادیا گیا

    کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کی پہچان کے فری ٹیسٹ ، طریقہ کاربتادیا گیا

    لاہور:کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کی پہچان کے فری ٹیسٹ ، طریقہ کاربتادیا گیا ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کا مشتبہ مریض کون ہو سکتا ہے؟ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مریض کی پہچان کا طریقہ کار جاری کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق کرونا وائرس کی نشاندہی کس طرح کی جانی چاہیے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں بتادیا گیا

    1۔ تیز بخار، کھانسی اور سانس میں دشورای کا شکار ایسا فرد جو متاثرہ ملک سے آیا ہو مشتبہ کیس ہو سکتا ہے۔

    2۔ فلو، کھانسی یا سانس کی بیماری کے شکار شخص کو متاثرہ ملک کا سفر کیے 14 دن سے کم وقت ہوا ہو، وہ مشتبہ مریض ہو سکتا ہے۔

    3۔ فلو، کھانسی یا سانس کا مسئلہ ایسے ہیلتھ ورکر کو ہو جو کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کرتا رہا ہو۔

    4۔ فلو، کھانسی یا سانس کی بیماری میں مبتلا شخص کا گزشتہ 14دن میں کنفرم کورونا وائرس کے شکار مریض سے قریبی تعلق رہا ہو وہ بھی مشتبہ مریض ہو سکتا ہے۔

    5۔ گزشتہ 14 دن میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریض کے قریب رہنے والے افراد میں کوئی علامت ظاہر ہو تو اسے بھی مشتبہ مریض سمجھا جائے۔

    6۔ فلو، کھانسی یا سانس میں دشواری میں مبتلا مریض اگر متاثرہ جگہ یا شخص کے قریب نہیں رہا تو اسے کورونا کا مشتبہ مریض نہ سمجھا جائے۔

    7۔ آئسولیشن میں صرف علامات ظاہر ہونے اور قوت مدافعت کی کمی کے شکار مریض کو رکھ کر مزید ٹیسٹ کیے جائیں۔

    پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ عوام کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے 080099000 پر کال یا فیس بک PSHDepartment پر ان باکس کریں۔