Baaghi TV

Category: صحت

  • کرونا وائرس لوگوں کےکس خون گروپ پرزیادہ اثراندازہوتا ہے ، نئی تحقیق نے کسی کوپریشان تو کسی کوبے فکرکردیا

    کرونا وائرس لوگوں کےکس خون گروپ پرزیادہ اثراندازہوتا ہے ، نئی تحقیق نے کسی کوپریشان تو کسی کوبے فکرکردیا

    بیجنگ :کرونا وائرس لوگوں کےکس خون گروپ پرزیادہ اثراندازہوتا ہے ، نئی تحقیق نے کسی کوپریشان تو کسی کوبے فکرکردیا،اطلاعات کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس کی دنیا میں پھیلنے کی رفتار سائنسدانوں کی توقعات سے بھی زیادہ ہے اور وہ اس بارے میں مسلسل جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شرح میں تیزی سے اضافہ کررہے ہیں۔

    ذرائع کےمطابق جیسے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہونے والا یہ وائرس اس وقت لگ بھگ دنیا بھر میں پھیل چکا ہے جس سے 3 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 13 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس وبا کے نتیجے میں مختلف ممالک میں لاک ڈائون کیا جاچکا ہے اور پاکستان میں بھی صوبہ سندھ نے بھی اگلے 15 روز تک ایسا کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ 5 افراد کے اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں

    اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی فرد کے خون کا گروپ بھی کووڈ 19 کے خطرے میں اضافے یا کمی پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔اس تحقیق کے دوران چین سے تعلق رکھنے والے 22 سو کے قریب کووڈ 19 کے مریضوں اور لاکھوں صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اے بلڈ گروپ والے افراد میں کووڈ 19 کا شکار ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ او بلڈ گروپ کے مالک افراد میں یہ خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج ویب سائٹ medRxiv پر شائع ہوئے، جہاں اکثر سائنسدان تحقیق کے نتائج کسی جریدے میں شائع ہونے کے عمل کے دوران شائع کردیتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ مختلف بلڈ گروپس اور کووڈ 19 کے خطرے میں فرق ممکنہ طور پر خون میں موجود مخصوص اینٹی باڈیز کا نتیجہ ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔مختلف بلڈ گروپس کا کووڈ 19 کے خطرے پر ممکنہ اثر مریضوں کا علاج کرنے والے طبی ماہرین کے لیے اہم ہوسکتا ہے جبکہ اے بلڈ گروپ والے افراد کو مضبوط ذاتی تحفظ کی ضرورت ہوسکتی ہے تاکہ وہ انفیکشن کے امکان کو کم کرسکیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو طبی ماہرین کی زیادہ نگرانی اور علاج کی ضرورت پڑسکتی ہے، جبکہ مریض کے خون کے گروپ کی شناخت کووڈ 19 اور دیگر کورونا وائرس انفیکشنز کے علاج کے لیے ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق طبی ماہرین کے لیے تو شاید مددگار ہو مگر عام شہریوں کو ان اعدادومشار کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا بلڈ گروپ اے ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سوفیصد اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں، اور اگر آپ کا بلڈ گروپ او ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بالکل محفوظ ہیں، آپ کو ہر صورت ہاتھوں کو دھونے کی ضرورت ہے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

  • کرونا کیسے حملہ آورہوتا ہے ، ابتدائی علامات کیا ہیں ، بچاو کس طرح ممکن ہے ،سائنسدانوں نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

    کرونا کیسے حملہ آورہوتا ہے ، ابتدائی علامات کیا ہیں ، بچاو کس طرح ممکن ہے ،سائنسدانوں نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

    واشنگٹن :کورونا وائرس کے خلاف جسم کیسے ردعمل ظاہر کرتا ہے؟ماہرین طب نے ساری حقیقت سے آگاہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق سائنسدانوں نے نئے نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے جسم کے اندر اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے خلاف مزاحمت یا ردعمل کو جاننے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے وبا کے خلاف ویکسین اور علاج میں مدد مل سکے گی۔

    کرونا کیسے حملہ آورہوتا ہے ، ابتدائی علامات کیا ہیں ، بچاو کس طرح ممکن ہے ،سائنسدانوں نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ،جریدے جرنل نیچر میڈیسین میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 4 مدافعتی خلیات اس نئے نوول کورونا وائرس کے خلاف متحرک ہوتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ مریض کا جسم اس وائرس پر اسی طرح حملہ آور ہوتا ہے جیسے فلو کے خلاف ہوتا ہے۔

    اس تحقیق میں چین کے شہر ووہان سے تعلق رکھنے والی 47 سالہ خاتون کو شامل کیا گیا تھا جس میں کووڈ 19 کی معتدل علامات کی تصدیق ہوئی تھی۔یہ خاتون ووہان سے آسٹریلیا گئی تھی اور 11 دن بعد میلبورن کے ایک ہسپتال میں مرض کی تشخیص ہوئی حالانکہ اس کا بظاہر کسی پہلے سے متاثر فرد سے رابطہ بھی نہیں ہوا تھا۔ہسپتال جانے سے 4 دن قبل علامات سامنے آئی تھیں جن میں گلے میں سوجن، خشک کھانسی، سینے میں درد اور بخار شامل تھا۔

    ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کے بعد کووڈ 19 کی تصدیق کی اور 7 دن بعد وائرس کا ٹیسٹ مثبت ہوگیا، جسکے بعد اسے گھر بھیج کو خود کو الگ کرنے کا کہا گیا، جہاں بیماری کی علامات 13 دن بعد غائب ہوگئیں۔مریضہ کے خون کے نمونوں کو علاج سے قبل اور بعد میں لینے پر تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ اس کا جسم وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا حالانکہ جسم کو اس سے قبل وائرس کا سامنا کبھی نہیں ہوا تھا۔

    میلبورن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر کیتھرین کیڈزیرسکا نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے مریضہ کا جائزہ ہر وقت کیا اور مدافعتی ردعمل کے بارے میں جاننے میں کامیاب رہے۔علامات غائب ہونے سے 3 دن قبل سائنسدانوں نے مخصوص مدافعتی خلیات کو مریضہ کے خون میں دریافت کیا جو عام طورپر فلو کے مریضوں میں بھی نظر آتے ہیں۔

    اب وہ کووڈ 19 کے مختلف مریضوں میں اس مدافعتی ردعمل کا نقشہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے معتدل کے ساتھ سنگین نوعیت کے انفیکشن کے شکار افراد کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ وائرس کے علاج اور ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ پہلی بار ہم نوول کورونا وائرس کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کے ردعمل کو سمجھ سکے ہیں،انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کو اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ مریضوں میں اس کی شدت زیادہ کیوں ہوتی ہے یا وہ ہلاک کیوں ہوجاتے ہیں تاکہ ان کے تحفظ کے طریقہ کو تشکیل دیا جاسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مدافعتی خلیات اکثر امراض جیسے فلو کے خلاف مریض کے صحت یاب ہونے سے قبل نمودار ہوتے ہیں اور اس کو دیکھ کر ہم مریضوں کی صحت یابی کی پیشگوئی کرسکتے ہیں اور ایسا ہی کووڈ 19 کے متاثر افراد میں بھی ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معلومات سے ہمیں کسی ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکے گی جو کہ جسمانی مدافعتی نظام کی نقل کے مطابق کام کرے گی۔

    آسٹریلیا کے وزیرصحت گریگ ہنٹ نے تحقیق کے حوالے سے کہا کہا یہ کورونا وائرس کے خلاف اب تک دنیا کی جدید ترین میپنگ ہے جس سے ویکسین کے ساتھ تھراپیز کو تشکیل دینے میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوگی۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 237 ہوگئی ہے۔دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ 87 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ساڑھے 7 ہزار کے قریب اموات اور 80 ہزار سے زائد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

  • گھر میں خود سینیٹائزر تیار کریں

    گھر میں خود سینیٹائزر تیار کریں

    کرونا وائرس سے گھبرانے اور مہنگا سینیٹائزر خریدنے کی ضرورت بلکل نہیں
    اس سے اچھی بات تو یہ ہے کہ صابن سے کم از کم 20 سیکنڈ ہاتھ بار بار دھوئیں لیکن اگر صابن اور پانی میسر نہیں اور سینیٹائزر ہی آپکی ضرورت پوری کر سکتا ہے تو بازار سے مہنگا سینیٹائزر خریدنے کی بلکل ضرورت نہیں
    اپنا سینیٹائزر خود گھر پر تیار کریں
    اچھے اور معیاری سینیٹائزر میں تین اجزا ضروری ہیں
    سپرٹ
    ایلو ویرا یعنی کنوارگندل
    کوئی سا اچھا باڈی آئل یا وٹامن ای کے کیپسول
    اچھے اور معیاری ہینڈ سینیٹائزر کیلئے اس میں 40 سے 70 فیصد والا الکوحل استعمال ہوتا ہے
    خالص الکوحل آپ کو کسی بھی میڈیکل سٹور یا ہومیوپیتھک سٹور سے مل جائے گا (واقفیت ہونے پر) جسے عرف عام میں سپرٹ یا کپی کہتے ہیں
    ایلو ویرا ایکسٹریکٹ بھی مارکیٹ سے دستیاب ہے اگر بازار والا ایلو ویرا ایکسٹریکٹ استعمال کریں تو پھر باڈی آئل یا وٹامن ای استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اور خالص ایلو ویرا کنوارگندل ہر دیہات نرسری اور شاید آپکے گھر کے لان میں بھی موجود ہو
    ایک لیٹر ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا طریقہ
    500 ملی لیٹر خالص الکوحل لیں اس میں 200 ملی لیٹر پانی شامل کر لیں یہ آپکا 70% والا الکوحل تیار ہو گیا
    اب ایلو ویرا یعنی کنوارگندل کے چند ڈنڈے لیں اور انہیں چھری سے ایک جانب سے چھیل کر اس میں سے چمچہ کے ذریعے تمام گودا نکال لیں اور اسے اچھے طرح شیک یا بلینڈر میں بلینڈ کر کے 300 ملی لیٹر لے لیں
    اب اس 300 ملی لیٹر ایلو ویرا کے محلول میں 700 ملی لیٹر پانی ملا الکوحل ملا لیں اگر خالص الکوحل میسر نہ ہو تو اس میں 40 فیصد سے اوپر والا کوئی بھی معیاری واڈکا , جن یا وہسکی بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہ آپکو مہنگی پڑے گی
    اب اس مکس شدہ محلول میں 9/10 چمچ باڈی آئل یا 9/10 کیپسول وٹامن ای کے کیپسول ڈال دیں جو کسی بھی میڈیکل سٹور سے دستیاب ہوتے ہیں
    اگر ضرورت محسوس کریں تو Mint یا اپنی کسی پسندیدہ خوشبو /عطر کا ایک چھوٹا چمچ بھی ڈال لیں
    اور اس سارے محلول کو آخر میں دوبارہ بلینڈر میں بلینڈ کر لیں
    لیں جی آپکا ایک لیٹر خالص اور بہترین ہینڈ سینیٹائزر صرف 250/300 میں تیار
    اس کی مارکیٹ میں قیمت کم از کم قیمت 2000 سے زائد ہی ہوگی اور اسکے معیار کی بھی کوئی گارنٹی نہیں

  • کرونا سے تباہ حال ایران نے ذیابیطس کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کرکے حیران کردیا

    کرونا سے تباہ حال ایران نے ذیابیطس کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کرکے حیران کردیا

    تہران :کرونا سے تباہ حال ایران نے ذیابیطس کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کرکے حیران کردیا ،اطلاعات کےمطابق ایران نے امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں کے باوجود ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور اب ایران میں دوا بنانے والی ایک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ذیابیطس کی دوا تیار کرلی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایران کی دوا ساز کمپنی کے ڈائریکٹر مجتبی طباطبائی نے کہا کہ "اگزونا ٹائیڈ ” نامی دوا ذیابیطس کے مریضوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

    دواساز کمپنی کے ڈائریکٹر مجتبی طباطبائی نے کہا کہ دواؤں کی فراہمی معاشرے کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور اس شعبہ میں خاص توجہ مبذول کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران دواسازی کے شعبہ میں بھی استقلال کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ دواؤں کے شعبہ میں اغیار سے وابستگی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں کے باوجود سائنس و ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور اب ایران نے ذیابیطس کی دوا بھی تیار کر لی ہے۔

  • پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد مزید بڑھ گئی

    پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد مزید بڑھ گئی

    پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد مزید بڑھ گئی

    باغی ٹی وی :کرونا وائرس اپنے پنجے پھیلائے جا رہا . پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 31 ہو گئی۔ گلگت کی خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔

    محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے سندھ میں 17، بلوچستان میں 7، گلگت بلتستان میں 3 جبکہ اسلام آباد میں 4 مریض زیر علاج ہیں۔ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے 4 مریض زیر علاج ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان آنے والی خاتون کی حالت سنبھل نہ سکی جو پمز اسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ خاتون کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کے بھی خون کے نمونے لیے گئے ہیں۔غیر ملکی جوڑا جس شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچا اُن کے مہمانوں کی تفصیلات بھی اکھٹی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 4 افراد نے پاکستان کا سفر کیا جن میں کورونا وائرس کے شواہد ملے۔

    دوسری جانب گلگت سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی جو پمز اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد تندرست ہوگئی اور انہیں آج اسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے متاثر دو افراد صحت یا ہو چکے ہیں.

    کورونا وائرس کا خطرہ ، بھارت نے کرتارپور راہداری بند کردی

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    کرونا وائرس، مودی کو بھی ہوش آ‌گیا، بڑی پابندی لگا دی

    یاد رہے کہ گزشتہ روز کرونا وائرس سے متعلق وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے 5 اپریل تک بند رہیں گے۔

    کرونا وائرس کے حفاطتی انتظامات کے تحت تعلیمی ایمرجنسی کے بعد حکومت نے پلان بی پر تیاری شروع کر دی.حکومت نے سرکاری اداروں میں بھی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے،نیشنل ہیلتھ ریسرچ کونسل نے ایکشن پلان کی تیاری شروع کردی،سرکاری اداروں اور وزارتوں میں اسکریننگ شروع کی جائے گی،سرکاری دفاتر، اداروں اور محکموں کو ڈیجیٹل تھرما میٹرفراہم کیے جائیں گے،پبلک ڈیلینگ سے متعلق دفاتر میں ماسک اور دستانے لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سرکاری ملازمین کو کور وناوائرس سے متعلق آگاہی دی جائے گیکراچی میں کرونا وائرس ایک اور مریض سامنے آ گیا، سندھ میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 16 اور پاکستان میں 30 ہوگئی

  • ایم ٹی آئی ایکٹ منظور، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا ایکٹ کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ،حکومت ڈٹ گئی

    ایم ٹی آئی ایکٹ منظور، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا ایکٹ کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ،حکومت ڈٹ گئی

    لاہور:پنجاب اسمبلی میں ایم ٹی آئی ایکٹ منظور، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا ایکٹ کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق ایم ٹی آئی ایکٹ پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور ہو گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے ایم ٹی آئی ایکٹ کی مخالف ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے مالی اور انتظامی معاملات چلانے کے لئے بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ انتظامی بورڈ 3 سال کیلئے ہسپتال میں ڈائریکٹرز کی بھرتی اور برطرفی کر سکے گا۔بورڈ ہسپتال کو چلانے کے لئے ترقیاتی منصوبہ اور آلات کی خریداری کا ذمہ دار ہوگا۔

    بورڈ کو اپنے ہسپتال میں پروفیسرز، سرجن، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کو بھرتی کرنے کا اختیار ہوگا۔بورڈ اپنے ہسپتال کے مالی معاملات چلانے کے لئے علاج کی فیسوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ وزیر صحت چیئر پرسن، ایڈیشنل چیف سیکرٹری وائس چیئرمین اور 5 ممبرز بورڈ میں شامل ہونگے۔

    دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس نے ایم ٹی آئی ایکٹ کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا ہے کہ ہم اس ایکٹ کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ان ہسپتالوں کو بند کرنے سے متعلق لائحہ عمل کل طے کریں گے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ بل کا پاس ہونا افسوسناک اور مریض دشمنی ہے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ بل ہسپتالوں میں نافذ نہیں ہونے دینگے۔

  • کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک،دنیا پریشان

    کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک،دنیا پریشان

    واشنگٹن:کورونا کی ویکسین بننے میں کم از کم 18 ماہ لگیں گے، فارما کمپنیوں کا حتمی جواب،دنیا کا کیا حشرہوگا پھر18ماہ تک ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ایک درجن سے زائد بایو ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مسلسل کوشش میں لگے رہیں تب بھی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بننے میں اب بھی ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا۔

    کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے کیمبرج، میسا چیوسیٹس میں واقع ماڈرنا فارما سیوٹیکل کے سربراہ اسٹیفن بینکل نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے جینیاتی بنیاد پر کام کرنے والی ایک ویکسین تیار کی ہے لیکن اس کا دوسرا مرحلہ (فیزٹو) اس سال موسمِ گرما میں شروع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب چھ امریکی سربراہ کے مشیرِ صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف الرجی اینڈ انفیکشنز ڈیزیز کے سربراہ اینتھونی فاؤکی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایک مؤثر ویکسین بنانے میں 18 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
    اسی ملاقات میں دیگر کئی کمپنیوں کے سرہراہ بھی شریک تھے جنہوں نے ماضی میں زکا وائرس کے خلاف اپنی ویکسین کی کامیابی سے صدرٹرمپ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ کورونا ویکسین کا سیفٹی (حفاظتی) مطالعہ اپریل میں شروع کیا جارہا ہے۔

    ان سب میں ماڈرنا کی ویکسین کو ’ایم آر این اے ویکسین‘ کہا گیا ہے جس میں نینو ذرات کے اندرجینیاتی ہدایات رکھی جائیں گی اور اسے ٹیکے کی صورت میں جسم میں داخل کیا جاسکے گا۔ اگرچہ یہ ویکسین سازی کا نیا اور تیزرفتار طریقہ ہے لیکن اب تک اسے پوری دنیا میں کہیں بھی لائسنس نہیں ملا کیونکہ یہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ویکسین جاری کرنے سے قبل اسے انسانوں کے لیے ہر طرح سے محفوظ بنایا جاتا ہے تاکہ کسی مضر اثر یا انفیکشن سے چوکنا رہا جاسکے۔ اس سارے عمل کے لیے ادویہ ساز اداروں کو 18 ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ واضح رہے کہ ماڈرنا کمپنی کے شیئر میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور کمپنی کے اثاثے 11 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔

    اس نئی ٹیکنالوجی میں جینیاتی معلومات نینو ذرات میں شامل کی جاتی ہے اور انجکشن سے لگانے کے بعد نینو ذرات کورونا وائرس کا مقابلہ جسم کو امنیاتی طور پر محفوظ بنا کر کرتے ہیں تاہم ماڈرنا کمپنی نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ اپنی طرف سی کورونا وائرس کے جینیاتی ڈرافٹ بنائیں گے انہیں آن لائن پوسٹ کرتے رہیں گے تاکہ دیگر کمپنیاں اور سائنسداں بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔

  • دنیاکےڈاکٹرزانسانیت کوبچانےکی تگ ودومیں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانےکے چکروں،مریض،شہری سب رسوا،بددعائیں دینے لگے

    دنیاکےڈاکٹرزانسانیت کوبچانےکی تگ ودومیں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانےکے چکروں،مریض،شہری سب رسوا،بددعائیں دینے لگے

    لاہور:دنیاکے ڈاکٹرزانسانیت کوبچانے کی تگ ودو میں؛ہمارےڈاکٹرزاپنی منوانے کے چکروں میں احتجاج کی راہ پر،مریض بھی رسوا،شہری بھی خوار،اطلاعات کےمطابق گرینڈ ہیلتھ الائنس نے احتجاج کرتے ہوئے شہر کی مختلف شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ راستے بند ہونے سے شہری خوار ہو کر رہ گئے۔

    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، چلڈرن اور میو ہسپتال کے باہر مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف شدید نعرہ بازی کی۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت ایم ٹی آئی ایکٹ کو نہیں مانتے۔ حکومت نے مشاورت کے بغیر بل اسمبلی سے پاس کروایا تو سخت درعمل دیں گے۔

    گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد دھرنا موخر کر دیا۔ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ دوسری جانب احتجاجی دھرنے کے باعث شہر کی مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہریوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ادھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین کا کہنا ہے کہ ایم ٹی ائی صحت کا اصلاحاتی ایکٹ ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس سڑکوں پر آکر سیاست چمکا رہا ہے۔ ایکٹ کا مقصد مالی اور انتظامی خود مختاری ہے۔ کورٹ کی ڈائریکشن پر عمل درآمد کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز سے مشاورت کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس سے 30 سے زائد مشاورتی ملاقاتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ہم مریضوں کی بھلائی کے لیے ایم آئی ٹی ایکٹ لا رہے ہیں۔

  • اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی

    اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی

    اٹلی :اٹلی میں کورونا وائرس تباہی پھیلانے لگا ، مزید 133 افراد ہلاک ، صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی،اطلاعات کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس سے خطرناک صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے اور ایک روز میں مہلک وائرس نے 133 افراد کی جان لے لی ہے۔

    چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے یورپی ملک اٹلی میں خطرناک صورتحال پیدا کردی ہے جہاں مہلک وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 133 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 366 تک جاپہنچی ہے۔

    حکام نے بتایا کہ 1492 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 7375 ہوگئی ہے۔خطرناک صورتحال کے بعد اٹلی کی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شمالی اٹلی اور دیگر 14 صوبوں کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹلی کے وزیراعظم جوزپے کونٹے نے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں۔ حکومت کے اِس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ کی آبادی کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور یہ قرنطینہ 3 اپریل تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔متاثرہ شہروں میں داخلے اور نکلنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر3 ماہ قید کی سزا اور 206 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومتی فیصلے سے میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی متاثرہوں گے۔اٹلی کی حکومت نے اسکولز اور یونیورسٹیز پہلے ہی 15 مارچ تک بند کررکھی ہیں تاہم اب عوامی اجتماعات، کھیل اور مذہبی تقریبات بھی منسوخ کردی ہیں۔

    خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے اب تک 3 ہزار 98 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 704 تک جاپہنچی ہے اور ہزاروں افراد مہلک وائرس سے متاثر ہیں

  • پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا

    پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا

    برلن: پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے،طبی ماہرین نے خبردار کردیا ،جرمنی کے ماہرین طب کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلسل فضائی آلودگی میں رہنے سے انسانی زندگی میں اوسط 3 سے 4 سال کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فہرست میں جنوبی ایشیا سرِ فہرست ہے جہاں چین میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی انسانی زندگی کے اوسط عمر سے 4.1 سال، بھارت میں 3.9 برس اور پاکستان میں اوسط 3.8 سال کم ہوسکتے ہیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ آلودہ فضا میں مسلسل رہنے سے امراضِ قلب، سانس میں دقت اور بلڈ پریشر جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے آپ کو متاثر کرسکتی ہے اور کسی عارضے میں مبتلا کرکے بیمار کرسکتی ہیں۔

    جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے یہ سروے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں یا تیل اور گیس کے جلنے سے پیدا ہونے والے بخارات پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرسکتے ہیں اور کئی امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    یہ تحیق جرنل آف کارڈیالوجی ریسرچ میں شائع ہوئی ہے یہاں تک کہ سروے سے وابستہ ایک ماہر ہوز لیلی ویلڈ نے اسے سگریٹ نوشی سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے۔

    انہوں نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ فضائی آلودگی پوری دنیا میں 88 لاکھ افراد کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ توانائی کے صاف اور ماحول دوست ذرائع سے اسے کم کیا جاسکتا ہے۔

    قبل از وقت موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی ملیریا سے 19 گنا، ایچ آئی وی ایڈز سے 9 گنا اور شراب نوشی سے 3 گنا زائد اموات کی وجہ بن رہی ہے۔ ان میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور فالج سرِ فہرست ہیں جبکہ پھیپھڑے کے سرطان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ماہرین نے بھارت کے آلودہ ترین علاقے اترپردیش کو بھی اپنے مطالعے میں بطورِ خاص شامل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہاں 20 کروڑ لوگ رہتے ہیں اور زندگی میں ساڑھے 8 برس کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ دوسرے نمبر پر چین کا صوبہ ہیبائی ہے جس کی آبادی ساڑھے 7 کروڑ ہے اور اوسط عمر میں 6 سال کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔

    ماہرین نے خواتین کے حوالے سے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں گھر کے اندر لکڑی، تیل اور کوئلے وغیرہ کے جلنے سے اندرونی فضائی آلودگی انتہائی خطرناک ہے جو بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے بہت مضر ثابت ہورہی ہے۔