فیصل آباد(محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے اس موسم میں ممکنہ سموگ کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے متعلقہ محکموں کی طرف سے بھر پور انتظامی و انسدادی اقدامات کئے گئے ہیں تاہم سموگ کی صورت میں اس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے شہری احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں تاکہ صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بات ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے زیر اہتمام سموگ سے بچاؤکے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق منعقدہ عوامی آگاہی واک کی قیادت کرتے ہوئے کہی۔واک ضلع کونسل چوک سے شروع ہو کر خلیق قریشی روڑ،پریس کلب سے ہوتی ہوئی کچہری بازار چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی جہاں ڈپٹی کمشنر نے موٹر سائیکل سواروں،رکشوں اور کاروں میں موجود شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس اورفیس ماسک بھی تقسیم کئے اور شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے سموگ کے بارے میں دریافت اور انہیں اس کے مضر اثرات سے بچنے کا احساس دلایا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل میاں آفتاب احمد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد آصف شہزاد،ضلعی کوآرڈینیٹر برائے وبائی امراض ڈاکٹر بلال احمد،ڈاکٹر عطاء المعنم،محکمہ صحت کے دیگر افسران،لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شریک تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سردی کے موسم میں دھند اور دھواں کی آمیزش سے ماحول میں سموگ کی صورتحال انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے جس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی بہترین اقدام ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے افراد کے علاوہ محلے داروں اور اردگرد کے افراد کو سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ کوڑا کرکٹ کو جلانے پر پابندی اوردھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے علاوہ گردوغبار کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم شہری اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے موسمی تغیرات کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے حکومت کے صحیح سمت اقدامات اور پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری اور درختوں کی حفاظت سے موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے محکمہ صحت ودیگرمحکموں کے افسران سے کہا کہ وہ سموگ پر قابو پانے کے لئے آگاہی پروگرامز کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خرابیوں کا بروقت ادراک کیا گیا ہے کیونکہ مستقبل میں ان چیلنجز کا مقابلہ پوری تیاری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کی صورتحال میں صحت کے بچاؤ کے لئے ہر گھر میں احتیاطی اقدامات ضرور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرتی کا ماں کی طرح خیال رکھا جائے تاکہ اسکے تحفظ سے آئندہ نسلوں کا ماحول خوشگوار اور سازگار رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویڑن کے مطابق ماحولیاتی تحفظ حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے اور سر سبز پاکستان کے لئے ضلعی سطح پر بھرپوراقدامات کئے جارہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر برائے وبائی امراض محکمہ صحت ڈاکٹر بلال احمد نے سموگ کی وجوہات‘ احتیاطی تدابیر اور مثاترین کے لئے علاج معالجے کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ سموگ کے دوران گھروں کی کھڑیاں اور دروازے بند رکھیں۔ باہر نکلنے کے لئے ماسک استعمال کریں اور زیادہ پانی پئیں۔علاوہ ازیں ہاتھ‘ چہرہ ناک اور آنکھوں کو باربار دھوئیں۔ گھروں میں صفائی کے لئے جھاڑو کے استعمال کی بجائے گیلا کپڑا استعمال کریں۔
Category: صحت
ادویات ، آکسیجن سلنڈرغائب، نشتر ہستپال میں صرف نشتر ہی چل رہے ہیں،مریض پریشان ، بے حس حکمران
ملتان :جنوبی پنجاب کی ترقی کا نعرہ لے کر آنے والے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے نگری میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب سے خراب ترہوگئی ہے،اطلاعا ت یہ ہیں کہ جنوبی پنجاب میں طبی سہولتوں کے بحران نے مریضوں کو مزیدمشکلات سے دوچارکردیا ادویات، ڈرپ اسٹینڈ کے بعد آکسیجن سلینڈ بھی نایاب ہوگئے۔
عمران خان تے باجوہ نے بھارتیاں دےدل تے قرار لٹ لئے،بھارت میں زلزلہ طاری ،نوجوت سدھو
ملتان میں واقع سب سے بڑے نشتر ہسپتال میں طبی سہولتوں کے فقدان نے غریب عوام کی کمر مزید توڑ دی، ہسپتال میں دیگر طبی وسائل کے ساتھ ساتھ آکسیجن سلنڈر بھی نایاب ہوگیا۔ پیڈز میڈیسن ایمرجنسی میں زیر علاج 3، 3 بچوں کو ایک سلنڈر سے آکسیجن دی جارہی ہے۔ جو بچوں میں انفیکشن کا پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان مخالف فلموں کے مرکزی کردار،ممبربی جے پی سرکار،بالی وڈ اداکار سنی دیول کی پاکستان آمد
رپورٹ کے مطابق مریضوں کے لواحقین سلنڈر لگے اپنے بچوں کو گود میں لیے گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں دوسری جانب بیشتر سلنڈرز میں آکسیجن ختم ہوچکی ہے جن کی بجٹ نہ ملنے کے باعث دوبارہ فلنگ نہیں کرائی جاسکی ہے۔
تبدیلی سعودی عرب پہنچ گئی ، نصاب میں موسیقی، تھیٹراوردیگرفنون شامل
ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 44 ہزار،66 جانبحق ہوگئے
اسلام آباد:پاکستان میں وبائی شکل اختیار کرنے والے وائرس ڈینگی نے جو تباہیاں پھیلائی ہیںان کا سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے، اطلاعات کے مابق این ایچ آئی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ڈٰینگی کے مریضوں کی تعداد 44 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ملک میں ڈینگی سے اب تک 66 افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔
ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی کل تعداد کے بارے میں اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے سینیئر آفیشل ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ 2011 میں 27 ہزار مریض تھے اور اب اس وقت تک ان کی تعداد 44 ہزار سے زائد ہوچکی ہے تاہم 2011 کی ڈٰینگی وبا میں مرنے والوں کی تعداد قدرے زیادہ یعنی 371 تھی۔ انہوں نے اس کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی کو قرار دیا لیکن اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ رانا صفدر نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے تدارک کے لیے تمام وسائل استعمال کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ افراد اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہیں جہاں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12433 سے تجاوز کرچکی ہے۔ واضح رہے کہ یہ وائرس ایڈس ایچپٹیائی مچھر سے پھیلتا ہے جو صاف پانی پر پلتا ہے اور پاکستان میں یہ مرض وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔
خسراجسم کے دفاعی نظام کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے،ماہرین طب کی تحقیق
ہالینڈ: خسرا جان لیوابیماری ، یہ ان چند موذی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا علاج پاکستان میں پیدائش سے شروع ہوجاتا ہے، اس بیماری پر اچھی طرح قابو پایا جاچکا تھا تاہم دو تین سال سے یہ پھر دنیا میں نئے جوش کےساتھ پیدا ہورہی ہے، خسرے کے دوبارہ سر اٹھانے پر ماہرین طب نے اس پر تحقیقات شروع کردی ہیں،
جوبھی کشمیریوںکی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت
تٍفصیلات کےمطابق ہالینڈ میں کئے گئے دو اہم مطالعات سے معلوم ہوا ہےکہ بچوں میں خسرہ کی بیماری ان پر طویل اثرات مرتب کرتی ہے یہاں تک کہ ان کا فطری امنیاتی نظام کمزور ہوکر دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ ایک پریشان کن خبر ہے کیونکہ یورپ اور افریقہ میں 2006 کے بعد سے خسرے کے واقعات میں کئ گنا بڑھے ہیں۔ صرف 2017 میں ہی پوری دنیا میں خسرے کے 70 لاکھ مزید کیس سامنے آئے ہیں۔ لیکن 2018میں ان کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ۔
جوکشمیریوں کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی وجہ ویکسین سے بیزاری کی اس حالیہ لہر کو قرار دیا ہے جو ایشیا سے لے کر یورپ تک جاری ہے۔ تاہم غریب ممالک میں ویکسین کی رسائی اور نقل و حمل کے اپنے مسائل بھی موجود ہیں۔
2015 میں ایک سائنسداں ڈاکٹر مائیکل مینا نے نے ایک سروے کےبعد کہا تھا کہ جو بچے خسرے کے شکار ہوتے ہیں وہ آگے چل کر دیگر کئی امراض کے شکار ہوتے ہیں اوران میں سے نصف تعداد کسی اور بیماری کے انفیکشن کی شکار ہوکر مرجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں ایک لاکھ بچوں کی اموات خسرے یا اس کے بعد کسی اور مرض میں مبتلا ہونے سے واقع ہوئی ہیں۔ لیکن ماہرین کے خیال میں اس کی شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرے بچے کے جسم میں ان خلیات کو ختم کردیتے ہیں جو مختلف امراض کے جراثیم کے ردِ عمل میں ان سے لڑنے کی اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔
مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،
پروفیسر مائیکل نے ہالینڈ میں 77 بچوں کو منتخب کیا جنہوں نے خسرے کے خلاف ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔ کئی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بچے اپنے جسم میں خسرے سے قبل کئی امراض کے خلاف اینٹی باڈیز بنارہے تھے لیکن خسرے میں مبتلا ہونے کے بعد ان میں اینٹی باڈیز کا کوٹہ ختم ہوگیا جس کی شرح 11 سے 74 فیصد تھی یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی دفاعی نظام 74 فیصد کمزور ہوچکا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ خسرے کی ویکسین دی جائے تاکہ امنیاتی نظام پیدا ہوسکے۔یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے ایک اور سائنسداں پروفیسر کولِن رسل نے ایسی ہی کیفیت میں مبتلا 20 بچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا۔ ان کے جسم میں امنیاتی خلیات بے حس اور بے کار بیٹھے تھے اور کسی بھی بیماری سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔اس اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خسرہ جیسا مرض بچوں کو کئی امراض کا شکار کرسکتا ہے اسی لیے اس مرض کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
سموگ سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احیتاط کی ضرورت ہے
فیصل آباد (محمد اویس )شہری موجودہ موسمی حالات میں سموگ (فضائی آلودگی) سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر ذمہ داری سے عملدرآمد کریں اور موٹر سائیکل ڈرائیو کرتے وقت عینک اور چہرے پر حفاظتی ماسک کا استعمال ضرور کیا جائے تاکہ آنکھوں کی انفیکشن سمیت دیگر بیماروں سے محفوظ رہا جا سکے۔ یہ بات پرنسپل ڈاکٹر ظہور احمد بھٹی نے گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج میں منعقدہ انسداد سموگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پروفیسر خالد حسن‘ پروفیسر محمد جعفر قمر‘ پرویز خالد‘ اقبال سندھو و دیگر بھی موجود تھے۔ پرنسپل ادارہ نے کہا کہ سموگ سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احیتاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سموگ کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں ماحول کو صاف و شفاف بنانے کے لئے کلین اینڈ گرین پروگرام پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔ پروفیسر خالد حسن و دیگر نے سموگ سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر ذمہ داری سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر طالب علموں میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔
۔۔۔///۔۔۔ڈاکٹروں کی غفلت، 16 سالہ لڑکی جاں بحق
سرگودہا (نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودھا کےپرائیویٹ اسپتال (نیازی وی آئی پی )میں ڈاکٹروں کی عفلت سے 16 سالہ لڑکی کو علظ انجکشن لگنے سے جاں بحق ہوگئی ورثاء کا اسپتال کے باہر لاش رکھ کر ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ۔
تفصیلات کے مطابق شاہ پور شہر کی رہائشی سولہ سالہ نادیہ بی بی طبعیت خراب ہونے کے باعث سرگودھا کے شمع چوک میں واقع نیازی وی آئی پی اسپتال لایا گیا جہاں پر اسپتال میں علمہ نے علظ انجکنش لگا دیا جس سے نادیہ بی بی کی حالت بگڑ گئی اسپتال میں موجود عملہ نادیہ بی بی کی حالت تشویشناک ہونے پر غائب ہونا شروع ہوگئے اور چند منٹ بعد سولہ سالہ نادیہ بی بی دم توڑ گئی لواحقین نے اسپتال انتظامیہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور ذمہ دار کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جاں بحق ہونے والی سولہ سالہ لڑکی نادیہ بی بی کے بھائی ثمرعباس کا کہنا ہے کہ اسپتال میں انسانوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ہم اپنی بچی کو طبیعت خراب ہونے پر اس پرائیویٹ ہسپتال میں لیکر آئے لیکن یہاں پر موجود عملہ نے بچی کو علظ انجکشن لگا دیا جس سے وہ تڑپ تڑپ کےجاں بحق ہوگئی ورثاء نے وزیراعظم عمران خان وزیراعلی پنجاب عثمان بزادر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسپتال کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور مقدمہ درج کرکے عفلت کے مرتکب افراد کو گرفتار کیا جائے
صحت کے حوالہ سے کس شہر کو ماڈل سٹی بنایا جا رہا ہے؟ ڈاکٹرظفرمرزا نے بتا دیا
صحت کے حوالہ سے کس شہر کو ماڈل سٹی بنایا جا رہا ہے؟ ڈاکٹرظفرمرزا نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معاون خصوصی صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے اسلام آباد میں شاہ اللہ دتہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکا دورہ کیا،ترجمان وزارت صحت کے مطابق ڈاکٹرظفرمرزا نے کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکی اپ گریڈیشن تزئین وآرائش کے کام کا جائزہ لیا.
فردوس عاشق اعوان صبح صبح کہاں پہنچ گئیں؟ دیکھ کر سب حیران رہ گئے
اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں ایک نئےدور کا آغاز کیا جا رہا ہے، ملک میں پرائمری ہیلتھ کیئرسسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے پہلا تاریخی قدم ہے ،شاہ اللہ دتہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکا ایک لارجر ماڈل ہیلتھ کیئرسسٹم کا حصہ ہوگا ،اسلام آباد کو صحت کے حوالے سے ماڈل سٹی بنا رہے ہیں ،آئندہ ہفتے پہلے ماڈل کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکا افتتاح کریں گے
مولانا کو کون کونسی سہولیات حکومت نے دیں؟ فردوس عاشق اعوان نے بتا دیا
مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کو قانون کے سخت شکنجے میں لائیں گے۔ اسلم بھروانہ
فیصل آباد(محمد اویس )صوبائی وزیر کوآپریٹومہرمحمد اسلم بھروانہ نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کو قانون کے سخت شکنجے میں لائیں اس سلسلے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور فیلڈ میں رہ کر سرکاری طور پر مقررہ قیمتوں پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا قبلہ درست ہو۔انہوں نے یہ بات ڈپٹی کمشنر آفس چنیوٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر سید امان انور قدوائی اور ڈی پی او سید حسنن حیدر نے صوبائی وزیر کو ضلع میں پرائس کنٹرول میکنزم،ترقیاتی عمل،انسداد ڈینگی اقدامات اور امن وامان کے حوالے سے بریفنگ دی۔ایم پی اے تیمور امجد لالی کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز طارق خان نیازی،عمران عصمت،اسسٹنٹ کمشنرز خضر حیات بھٹی،عدنان رشید،فضل عباس اور مختلف ضلعی محکموں کے سربراہان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیرنے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سبزیوں سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے جا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور صارفین کو منافع خوروں سے نجات دلانے کے لئے صوبائی کابینہ کے ارکان کو اضلاع و تحصیلوں کے دورے کرکے قیمتوں پر عملدرآمد کرانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں اور وہ اسی سلسلے میں ضلع میں پرائس کنٹرول میکنزم کا جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے گراں فروشوں کے خلاف کی گئیں کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے مستقل سدباب کے لئے ایسا جامع اور قابل عمل میکنزم وضع کریں کہ عوام کو ریلیف نظر آئے۔ صوبائی وزیر نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے کہا کہ کاغذی کارروائیوں کا وقت گزرچکا ہے اب عملی طور پر اقدامات نظر آنے چاہیں جس میں معمولی سی بھی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں اور بازاروں میں پھل،سبزیاں اور دیگر اشیا فروخت کرنے والوں کی دکانوں وریڑھیوں پر نرخنامے آویزاں ہونے چاہیں جبکہ اوورچارجنگ کی شکایت کے اندراج کے لئے ٹال فری نمبر 08000234کی بھی بھرپور تشہیر کی جائے۔انہوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے کہا کہ ان کی کارروائیوں کے واضح نتائج نظر آنے چاہیں۔صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ وہ قیمتوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کو روزانہ چیک کریں اور مطلوبہ نتائج نہ دکھانے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔صوبائی وزیر نے ضلع میں انسداد ڈینگی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور افسران کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دیانتداری سے محکمانہ فرائض انجام دیکر مطلوبہ اہداف حاصل کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیم ورک کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں اور عوامی مسائل کاحل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ڈپٹی کمشنر نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ضلع میں 19 پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سرگرم عمل ہیں اور رواں سال اب تک پرائس چیکنگ کرتے ہوئے مارکیٹوں وبازاروں کے 5171 وزٹ کرکے اوورچارجنگ پر 4153 گرانفروشوں کو 53 لاکھ سے زائد جرمانے اور 234 کو پرائس کنٹرول ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی پر جیل بھجوایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پھل وسبزی منڈی کی روزانہ نیلامی کا عمل بھی جاری ہے۔انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیونٹی ڈویلمپنٹ پروگرام کے تحت 20 کروڑ سے 24 سکیموں کا 65 فیصد،صوبائی ترقیاتی پروگرام کے تحت دو ارب 65 کروڑ سے 52 منصوبوں کا 72 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 25 کھلی کچہریاں لگا کر 325 لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیا گیاہے جبکہ 75 درخواستوں پر محکمانہ اقدامات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام کے تحت ضلع میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے بھی موثر اقدامات جاری ہیں۔بعدازاں صوبائی وزیر کوآپریٹو مہر محمد اسلم بھروانہ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز ہے جس میں واضح پیشرفت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام پر بھرپور عملدرآمد جاری ہے۔انہوں نے بتایاکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر اشیا ضروریہ کے گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے اور کسی کو من مانی قیمتیں وصول نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ ضلع چنیوٹ میں حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے تسلسل سے دورے بھی کریں گے۔
گجرات ڈی ایس پی ٹریفک کا نقلابی قدم۔۔۔
گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے )ڈسٹرک ٹریفک پولیس آفیسر چوہدری سعید احمد وڑائچ کے خصؤصی ہدایت پر سٹی ٹریفک پولیس ایجوکیشن ونگ کی ٹیم نے واجد نزیر کی زیر نگرانی شہر کے مختلف چوک و چوراہوں میں سموگ سے بچاؤ بارے آگاہی کیمپ لگائے گئے جس میں عوام الناس کو سموگ سسےبچاؤ کیلئے مفت ماسک تقسیم کئے گئے اؤر سموگ سے بچاؤ بارے آگاہ کیا گیا عوامی و سماجی حلقوں نے ٹریفک پولیس کے اس اقدام کو زبردست سراہا اور خراج تحسین پیش کیا!
