فیصل آباد(محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی کی ہدایت پر سموگ کی روک تھام کے سلسلے میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کے لئے دو روزہ آگاہی مہم جاری ہے اس کے بعد زیادہ دھواں چھوڑنے والی ٹرانسپورٹس کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیکرٹری آرٹی اے اورسٹی ٹریفک پولیس کی طرف سے آگاہی مہم میں مشترکہ حصہ لیا جارہا ہے جن کی ٹیمیں شہر کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کو چیک کرکے ڈرائیوز حضرات اورمالکان کو ضروری ہدایات جاری کررہی ہیں۔اسی طرح جنرل بس سٹینڈ اوردیگر مسافر ٹرانسپورٹ اڈوں پر بھی انسداد سموگ مہم پر عمل کیا جارہا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد علی نے واضح کیا ہے کہ سموگ کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے نہیں دیا جائے گالہذا گاڑیوں مالکان گاڑیوں کے ایندھن کی ضروری مرمت ودرستگی کروالیں بصورت دیگر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں بند کردیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ انسداد سموگ کے سلسلے میں دھواں چھوڑنے والے بھٹوں،فصلوں کی باقیات اور کوڑا کرکٹ اور ٹائر وپلاسٹک کو آگ لگانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
Category: صحت
-
ٹی بی کی مفت تشخیص کیلیے حکومت نے مراکز قائم کر دیے
سرگودھا (بیورو رپورٹ) حکومت پنجاب نے ٹی بی کی مفت تشخیص کیلئے سرگودھا سمیت صوبہ بھر میں 549 ٹی بی مراکز قائم کردیئے ہیں جبکہ سرگودھا‘ فیصل آباد‘ سیالکوٹ‘ ملتان‘ ڈیرہ غازی خان‘ رحیم یار خان اور بہاولپور میں ٹی بی تشخیصی کے خصوصی 11 مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں جبکہ موبائل ٹیمیں بھی ٹی بی کی تشخیص کیلئے متحرک ہیں پی ایم اے پنجاب کے نائب صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ کا کہنا ہے کہ ٹی بی کو معمولی بیماری نہیں سمجھنا چاہیئے دو ہفتے سے زائد مسلسل کھانسی رہنے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ اس کی تشخیص مفت ہوسکے۔
-
چند عام غذائیں جو گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
لاہور :اللہ تعالٰی نے انسانی جسم کو ایسی مشنری میں موجزن کردیا ہےکہ ہر اعضا پورے جسم کی وکالت بھی کررہا ہوتا ہے اور کفالت بھی ، ہرعضو کی اپنی اہمیت ہے ، دل ، دماغ،گردے ، جگر، آنکھ اور دیگر اعضا ، ان میں سے گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
اللہ کی طرف سے دی گئی ان نعمتوں کا شکراداکرنا چاہیے اگردل میں یہ احساس پیدا نہ ہوتو کبھی کبھارہسپتالوں میں جاکرمریضوں کی کیفیت دیکھ لیا کریں ، خود بخود شکرانے کے الفاظ نکل آئیںگے،اللہ تعالیٰنے انسان کو طرح طرح کی غزائیں بھی نعمت کے طوردی ہیں، ان کا استعمال بھی بہت مفید اور ضروری ہے مگر ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے ،انسان کو اپنے ہرمعمولات زندگی میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے ،
بات ہورہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوبصورت جسم عطا کیا اور انسان کو چلانےکے لیے پرزے بھی لگا دیئے ان پرزوں میں سے گردہ ایک ایسا پرزہ ہے جس پر انسانی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے، اس پرزے کی صحت کے حوالےسے ماہرین طب نے ایک تحقیقاتی مشورہ دیا ہےکہ گردوں کو جو چیزیںنقصان دہ ہوتی ہیں اور ہم ان کو بے دریغ استعمال کررہے ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے ، کچھ غذائیں بھی گردوں کے تکلیف دہ امراض کا باعث بن سکتی ہیں خصوصاً ان کے استعمال میں احتیاط نہ کی جائے؟

گوشت
گوشت جسم میں پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا بہت زیادہ استعمال خصوصاً سرخ گوشت گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سنگاپور کے ڈیوک این یو ایس گریجویٹ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ حیوانی پروٹین پر مشتمل غذا گردوں کے افعال کو متاثر کرسکتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ بہت زیادہ پروٹین کا اخراج گردوں کے لیے مشکل ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

نمک
جسم کو نمک کی ضرورت تو ہوتی ہے تاکہ جسمانی سیال کے توازن کو برقرار رکھا جاسکے مگر جب آپ جنک یا فاسٹ فوڈ کو کھانا عادت بنالیں جس میں نمک کی مقدار بہت زیادہ وہتی ہے تو گردے جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے حرکت میں آتے ہیں، جس کے نتیجے میں گردوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق طویل المعیاد بنیادوں پر نمک کا بہت زیادہ استعمال دل کے ساتھ ساتھ گردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، اسی طرح نمک کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھتا ہے جو کہ گردوں کے حصے نیفران کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو کہ کچرے کو فلٹر کرتا ہے۔

کیلے
اگر آپ کو گردوں کے امراض کا شبہ ہے تو صحت مند رہنے کے لیے اچھی غذائیت اور مناسب غذا ضروری ہے، اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ غذائیں جیسے کیلوں کا استعمال محدود کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو گردوں کے افعال کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ صحت مند افراد کے لیے تو فرق نہیں پڑتا مگر گردوں کے امراض کے شکار افراد کو پوٹاشیم کی کم مقدار جسم کا حصہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سوڈا یا کولڈ ڈرنکس
کولڈ ڈرنکس جیسے سوڈا اور انرجی ڈرنکس گردوں کی پتھری کا باعث بن سکتی ہیں، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ دو یا اس سے زائد کولڈ ڈرنکس کا استعمال طویل المعیاد بنیادوں پر گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

دودھ سے بنی مصنوعات
ان مصنوعات کا استعمال بھی احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے کیونکہ ان میں بھی حیوانی پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، لہذا ان کا معتدل استعمال ضروری ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان مصنوعات میں فاسفورس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو گردوں پر دباﺅ بڑھانے کا باعث سکتی ہیں، جب گردے مکمل طور پر کام نہیں کرپاتے تو ان کے لیے اضافی فاسفورس کو خارج کرنا بھی مشکل ہوتا ہے جس سے ہڈیاں پتلی اور کمزور ہوسکتی ہیں۔

مالٹے اور اس کا جوس
اس پھل اور اس کا جوس کیلوریز میں کم جبکہ وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، مگر ان میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اوپر بتایا جاچکا ہے کہ زیادہ پوٹاشیم گردوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، تو ان کا استعمال کریں مگر ایک حد میں رہ کر، خاص طور پر اگر آپ پہلے ہی گردوں کے امراض کا شکار ہوں۔ -
پاکستان میں ذیابطس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے،آگاہی بہت ضروری ہے، ماہرین طب
لاہور:پاکستان میں ذیابطس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے،آگاہی بہت ضروری ہے، ماہرین طب نے خطرے سے آگاہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق آج لاہورمیں ذیابطس کے مرض کے حوالے سے آگاہی مہم جاری ہے ، دوسری طرف پاکستانی طبی ماہرین نے آنے والے وقتوں میں اس موذی بیماری کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ اس بیماری سے جان چھڑانے کے لیے سب کو مل کرکوششیںکرناہوںگی
ذرائع کےمطابق آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے ارکان کی پریس بریفنگ کے دوران ملک میں ذیابطس کی بیماری کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی ، اس پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک کی کل آبادی کا 20 فیصد سے زائد افراد ذیابطس کے مرض کا شکار ہیں،پروفیسر ڈاکٹرجاوید اکرم نے بتایا کہ 14 نومبر کو صوبائی اسمبلی کے سامنے میڈیکل کیمپ لگانے جارہے ہیں
پاکستان میں اس بیماری کی شدت کے حوالے سے بتایا گیا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی، پروفیسر طارق وسیم نے بتایا کہ ذیابطس سے آگاہی کیلئے 14 نومبر سے 17 نومبر تک صوبائی اسمبلی کی عمارت کو نیلے رنگ کی لائیٹوں سے مزین کیا جائے گا، صوبائی اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی
سینئر نائب صدر پی آئی ایس ایم نے اس موقع پر بتایا کہ اسمبلی کے جاری سیشن کو ذیابطس سے آگاہی مہم سے موسوم کیا جائے گا، پروفیسر جاوید اکرم نے اس پریس بریفنگ میں بتایا کہ 10 ہزار سے زائد افراد کی سکریننگ کا پروگرام ہے،
وی سی یو ایچ ایس کی طرف سے بتایا کہ کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی میڈیکل کیمپ کا افتتاح کریں گے، یہ بھی بتایا گیا کہ پریس بریفنگ میں پی ایس آئی ایم کی موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی ، ذیابطس کے حوالے سے اس پریس بریفنگ میں پروفیسر آفتاب محسن، پروفیسر ساجد عبید اللہ، ڈاکٹر ثومیہ اقتدار کی شرکت
-
گجرات چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ڈی ایس پی ٹریفک کو سموگ سے بچاؤ کے ماسک دے رہے۔۔۔
گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے )گجرات:۔چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن محمود گوندل ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس آفیسر چوہدری سعید احمد وڑائچ کو سموگ سے بچاؤ کیلئے ماسک دے رہے ہیں طیب بٹ،ایس ایچ او تھان بی ڈویثرن عدنان اور محمد عاصم بھی موجود ہیں اس موقع پر ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس آفیسر چوہدری سعید احمد وڑائچ نے کہا کہ سموگ سے بچاو کیلئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد اور اس سے آگاہی کیلئے شہر کے معروف چوک اور چوراہوں میں کیمپ لگائے جا رہے ہیں جس میں سٹی ٹریفک ایجوکیشن ونگ کے اہلکار شہریوں میں سموگ سے بچاؤ کیلئے ماسک کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ان کو احتیاطی تدابیراور احتیاطی اقدامات بھی کر رہی ہے شہریوں کو سموگ سے محفوظ رکھنے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کیا جائیگا۔۔۔۔۔۔
-
سموگ سے بچاؤ کیلیئے احتیاتی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق آگاہی واک
فیصل آباد(محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے اس موسم میں ممکنہ سموگ کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے متعلقہ محکموں کی طرف سے بھر پور انتظامی و انسدادی اقدامات کئے گئے ہیں تاہم سموگ کی صورت میں اس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے شہری احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں تاکہ صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بات ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے زیر اہتمام سموگ سے بچاؤکے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق منعقدہ عوامی آگاہی واک کی قیادت کرتے ہوئے کہی۔واک ضلع کونسل چوک سے شروع ہو کر خلیق قریشی روڑ،پریس کلب سے ہوتی ہوئی کچہری بازار چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی جہاں ڈپٹی کمشنر نے موٹر سائیکل سواروں،رکشوں اور کاروں میں موجود شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس اورفیس ماسک بھی تقسیم کئے اور شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے سموگ کے بارے میں دریافت اور انہیں اس کے مضر اثرات سے بچنے کا احساس دلایا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل میاں آفتاب احمد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد آصف شہزاد،ضلعی کوآرڈینیٹر برائے وبائی امراض ڈاکٹر بلال احمد،ڈاکٹر عطاء المعنم،محکمہ صحت کے دیگر افسران،لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شریک تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سردی کے موسم میں دھند اور دھواں کی آمیزش سے ماحول میں سموگ کی صورتحال انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے جس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی بہترین اقدام ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے افراد کے علاوہ محلے داروں اور اردگرد کے افراد کو سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ کوڑا کرکٹ کو جلانے پر پابندی اوردھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے علاوہ گردوغبار کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم شہری اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے موسمی تغیرات کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے حکومت کے صحیح سمت اقدامات اور پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری اور درختوں کی حفاظت سے موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے محکمہ صحت ودیگرمحکموں کے افسران سے کہا کہ وہ سموگ پر قابو پانے کے لئے آگاہی پروگرامز کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خرابیوں کا بروقت ادراک کیا گیا ہے کیونکہ مستقبل میں ان چیلنجز کا مقابلہ پوری تیاری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کی صورتحال میں صحت کے بچاؤ کے لئے ہر گھر میں احتیاطی اقدامات ضرور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرتی کا ماں کی طرح خیال رکھا جائے تاکہ اسکے تحفظ سے آئندہ نسلوں کا ماحول خوشگوار اور سازگار رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویڑن کے مطابق ماحولیاتی تحفظ حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے اور سر سبز پاکستان کے لئے ضلعی سطح پر بھرپوراقدامات کئے جارہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر برائے وبائی امراض محکمہ صحت ڈاکٹر بلال احمد نے سموگ کی وجوہات‘ احتیاطی تدابیر اور مثاترین کے لئے علاج معالجے کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ سموگ کے دوران گھروں کی کھڑیاں اور دروازے بند رکھیں۔ باہر نکلنے کے لئے ماسک استعمال کریں اور زیادہ پانی پئیں۔علاوہ ازیں ہاتھ‘ چہرہ ناک اور آنکھوں کو باربار دھوئیں۔ گھروں میں صفائی کے لئے جھاڑو کے استعمال کی بجائے گیلا کپڑا استعمال کریں۔
-
ادویات ، آکسیجن سلنڈرغائب، نشتر ہستپال میں صرف نشتر ہی چل رہے ہیں،مریض پریشان ، بے حس حکمران
ملتان :جنوبی پنجاب کی ترقی کا نعرہ لے کر آنے والے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے نگری میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب سے خراب ترہوگئی ہے،اطلاعا ت یہ ہیں کہ جنوبی پنجاب میں طبی سہولتوں کے بحران نے مریضوں کو مزیدمشکلات سے دوچارکردیا ادویات، ڈرپ اسٹینڈ کے بعد آکسیجن سلینڈ بھی نایاب ہوگئے۔
عمران خان تے باجوہ نے بھارتیاں دےدل تے قرار لٹ لئے،بھارت میں زلزلہ طاری ،نوجوت سدھو
ملتان میں واقع سب سے بڑے نشتر ہسپتال میں طبی سہولتوں کے فقدان نے غریب عوام کی کمر مزید توڑ دی، ہسپتال میں دیگر طبی وسائل کے ساتھ ساتھ آکسیجن سلنڈر بھی نایاب ہوگیا۔ پیڈز میڈیسن ایمرجنسی میں زیر علاج 3، 3 بچوں کو ایک سلنڈر سے آکسیجن دی جارہی ہے۔ جو بچوں میں انفیکشن کا پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان مخالف فلموں کے مرکزی کردار،ممبربی جے پی سرکار،بالی وڈ اداکار سنی دیول کی پاکستان آمد
رپورٹ کے مطابق مریضوں کے لواحقین سلنڈر لگے اپنے بچوں کو گود میں لیے گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں دوسری جانب بیشتر سلنڈرز میں آکسیجن ختم ہوچکی ہے جن کی بجٹ نہ ملنے کے باعث دوبارہ فلنگ نہیں کرائی جاسکی ہے۔
تبدیلی سعودی عرب پہنچ گئی ، نصاب میں موسیقی، تھیٹراوردیگرفنون شامل
-
ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 44 ہزار،66 جانبحق ہوگئے
اسلام آباد:پاکستان میں وبائی شکل اختیار کرنے والے وائرس ڈینگی نے جو تباہیاں پھیلائی ہیںان کا سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے، اطلاعات کے مابق این ایچ آئی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ڈٰینگی کے مریضوں کی تعداد 44 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ملک میں ڈینگی سے اب تک 66 افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔
ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی کل تعداد کے بارے میں اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے سینیئر آفیشل ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ 2011 میں 27 ہزار مریض تھے اور اب اس وقت تک ان کی تعداد 44 ہزار سے زائد ہوچکی ہے تاہم 2011 کی ڈٰینگی وبا میں مرنے والوں کی تعداد قدرے زیادہ یعنی 371 تھی۔ انہوں نے اس کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی کو قرار دیا لیکن اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ رانا صفدر نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے تدارک کے لیے تمام وسائل استعمال کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ افراد اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہیں جہاں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12433 سے تجاوز کرچکی ہے۔ واضح رہے کہ یہ وائرس ایڈس ایچپٹیائی مچھر سے پھیلتا ہے جو صاف پانی پر پلتا ہے اور پاکستان میں یہ مرض وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔
-
خسراجسم کے دفاعی نظام کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے،ماہرین طب کی تحقیق
ہالینڈ: خسرا جان لیوابیماری ، یہ ان چند موذی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا علاج پاکستان میں پیدائش سے شروع ہوجاتا ہے، اس بیماری پر اچھی طرح قابو پایا جاچکا تھا تاہم دو تین سال سے یہ پھر دنیا میں نئے جوش کےساتھ پیدا ہورہی ہے، خسرے کے دوبارہ سر اٹھانے پر ماہرین طب نے اس پر تحقیقات شروع کردی ہیں،
جوبھی کشمیریوںکی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت
تٍفصیلات کےمطابق ہالینڈ میں کئے گئے دو اہم مطالعات سے معلوم ہوا ہےکہ بچوں میں خسرہ کی بیماری ان پر طویل اثرات مرتب کرتی ہے یہاں تک کہ ان کا فطری امنیاتی نظام کمزور ہوکر دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ ایک پریشان کن خبر ہے کیونکہ یورپ اور افریقہ میں 2006 کے بعد سے خسرے کے واقعات میں کئ گنا بڑھے ہیں۔ صرف 2017 میں ہی پوری دنیا میں خسرے کے 70 لاکھ مزید کیس سامنے آئے ہیں۔ لیکن 2018میں ان کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ۔
جوکشمیریوں کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی وجہ ویکسین سے بیزاری کی اس حالیہ لہر کو قرار دیا ہے جو ایشیا سے لے کر یورپ تک جاری ہے۔ تاہم غریب ممالک میں ویکسین کی رسائی اور نقل و حمل کے اپنے مسائل بھی موجود ہیں۔
2015 میں ایک سائنسداں ڈاکٹر مائیکل مینا نے نے ایک سروے کےبعد کہا تھا کہ جو بچے خسرے کے شکار ہوتے ہیں وہ آگے چل کر دیگر کئی امراض کے شکار ہوتے ہیں اوران میں سے نصف تعداد کسی اور بیماری کے انفیکشن کی شکار ہوکر مرجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں ایک لاکھ بچوں کی اموات خسرے یا اس کے بعد کسی اور مرض میں مبتلا ہونے سے واقع ہوئی ہیں۔ لیکن ماہرین کے خیال میں اس کی شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرے بچے کے جسم میں ان خلیات کو ختم کردیتے ہیں جو مختلف امراض کے جراثیم کے ردِ عمل میں ان سے لڑنے کی اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔
مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،
پروفیسر مائیکل نے ہالینڈ میں 77 بچوں کو منتخب کیا جنہوں نے خسرے کے خلاف ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔ کئی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بچے اپنے جسم میں خسرے سے قبل کئی امراض کے خلاف اینٹی باڈیز بنارہے تھے لیکن خسرے میں مبتلا ہونے کے بعد ان میں اینٹی باڈیز کا کوٹہ ختم ہوگیا جس کی شرح 11 سے 74 فیصد تھی یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی دفاعی نظام 74 فیصد کمزور ہوچکا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ خسرے کی ویکسین دی جائے تاکہ امنیاتی نظام پیدا ہوسکے۔یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے ایک اور سائنسداں پروفیسر کولِن رسل نے ایسی ہی کیفیت میں مبتلا 20 بچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا۔ ان کے جسم میں امنیاتی خلیات بے حس اور بے کار بیٹھے تھے اور کسی بھی بیماری سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔اس اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خسرہ جیسا مرض بچوں کو کئی امراض کا شکار کرسکتا ہے اسی لیے اس مرض کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
-
سموگ سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احیتاط کی ضرورت ہے
فیصل آباد (محمد اویس )شہری موجودہ موسمی حالات میں سموگ (فضائی آلودگی) سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر ذمہ داری سے عملدرآمد کریں اور موٹر سائیکل ڈرائیو کرتے وقت عینک اور چہرے پر حفاظتی ماسک کا استعمال ضرور کیا جائے تاکہ آنکھوں کی انفیکشن سمیت دیگر بیماروں سے محفوظ رہا جا سکے۔ یہ بات پرنسپل ڈاکٹر ظہور احمد بھٹی نے گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج میں منعقدہ انسداد سموگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پروفیسر خالد حسن‘ پروفیسر محمد جعفر قمر‘ پرویز خالد‘ اقبال سندھو و دیگر بھی موجود تھے۔ پرنسپل ادارہ نے کہا کہ سموگ سے گھبرانے کی نہیں بلکہ احیتاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سموگ کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں ماحول کو صاف و شفاف بنانے کے لئے کلین اینڈ گرین پروگرام پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔ پروفیسر خالد حسن و دیگر نے سموگ سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر ذمہ داری سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر طالب علموں میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔
۔۔۔///۔۔۔