Baaghi TV

Category: صحت

  • موسمی نزلہ زکام دور رکھنے میں مددگار غذائیں

    موسمی نزلہ زکام دور رکھنے میں مددگار غذائیں

    موسم سرما کے ساتھ ہی نزلہ زکام، فلو اور بخار کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے اور لوگ بہت تیزی سے ادویات اور سیرپ وغیرہ خریدنا شروع کردیتے ہیں۔

    مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچن میں موجود چند چیزیں اس حوالے سے ادویات سے زیادہ موثر فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور مضر اثرات کا امکان بھی نہیں ہوتا۔

    ویسے تو سوپ کا استعمال بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر کچھ سبزیاں، پھل اور مشروبات آپ کو موسم سرما میں بھی ان عام بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

    جڑوں والی سبزیاں
    وٹامن سی وہ اہم غذائی جز ہے جو سرد موسم میں موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ حالت کو بھی بہتر بناتا ہے، مالٹے اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے مگر جڑوں والی سبزیاں جیسے چقندر، گاجریں اور دیگر بھی یہ فائدہ پہنچاتی ہیں، گاجر کو تو آپ ایسے بھی کھاسکتے ہیں، ورنہ سالن یا سوپ میں ان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    سبزچائے
    سبز چائے سردیوں کے لیے بہترین گرم مشروب ہے، یہ ایسے منرلز اور وٹامنز فراہم کرتا ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے دیگر کیفین والی چائے کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، اس میں موجود ایک اینٹی آکسائیڈنٹس وائرس کو مارتا ہے۔

    جو کا دلیہ
    جو کا دلیہ سردیوں کے لیے ایک صحت بخش انتخاب ثابت ہوسکتا ہے، اس میں زنک اور حل پذیر فائبر ہوتا ہے، زنک سے مدافعتی نظام کو مدد ملتی ہے جبکہ فائبر جسم کو گرمائش کا احساس دینے کے ساتھ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے۔

    انار
    سردیوں کا یہ پھل بہت کم عرصے تک ہی دستیاب ہوتا ہے اور اس کو چھیلنا کافی مشکل لگ سکتا ہے، یہ پھل اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش ہوتا ہے جو نزلہ زکام کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

    آلو
    سردیوں میں جسم گرمائش مانتا ہے اور آلو جسم کو گرمی فراہم کرسکتے ہیں، آلو کھانے سے دوران خون کا نظام بہتر ہوتا ہے اور جسمانی کاموں کے لیے ایندھن بھی ملتا ہے۔

    میٹھا کدو
    نارنجی رنگ کا یہ کدو بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے جو سردیوں کی طویل راتوں میں بے وقت منہ چلانے کی عادت کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جبکہ موسمی نزلہ زکام سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

    لہسن
    جراثیم کش خاصیت سے بھرپور یہ سبزی موسم سرما کے مخصوص بیکٹریا اور وائرسز وغیرہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی ہے۔ اس میں شامل جز الیسین انفیکشنز کو بلاک کرتا ہے اور چکن سوپ کے ساتھ اسے استعمال کریں آپ کو اس کے فوائد یقیناً حیران کرکے رکھ دیں گے۔

    نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

  • خبردار: موٹے افراد کے پھیپھڑوں میں چربی جمع ہونے کا انکشاف

    خبردار: موٹے افراد کے پھیپھڑوں میں چربی جمع ہونے کا انکشاف

    سڈنی : ماہرین طب نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،موٹاپے کے شکار افراد میں ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر متعدد بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے مگر اب انکشاف ہوا کہ اس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں چربی جمع ہونے لگتی ہے جو سانس لینا بھی مشکل بنادیتی ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

    اس سے پہلے یہ بات تو سامنے آئی تھی کہ موٹاپے کے شکار افراد میں نظام تنفس کے مسائل جیسے دمہ وغیرہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے مگر اس کی وجہ واضح نہیں تھی، مگر یہ پہلی بار ہے جب دریافت کیا گیا کہ چربی کے ذرات پھیپھڑوں میں سانس کی نالی کو بند کرکے جسم کو آکسیجن کی فراہمی محدود کردیتے ہیں۔

    ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی اور سر چارلس گرینڈر ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی چربی کی اضافی مقدار جمع ہونے سے سانس کی نالی کی دیواریں سوج کر موٹی ہوجاتی ہیں جس سے ورم چڑھ جاتا ہے۔

    تحقیق کے دوران 52 افراد کے مرجانے کے بعد پھیپھڑوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں سے 15 افراد ایسے تھے جو دمہ کا شکار نہیں تھے، 21 کو دمہ تھا مگر موت کی وجہ مختلف تھی جبکہ 16 کی موت دمہ سے ہوئی۔

    محققین نے 1373 ہوا کی نالیوں کا تجزیہ کیا اور یہ دیکھا گیا کہ وہ کسی قسم کے چربی کے ٹشوز سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں اور پھر اس کا موازنہ جسمانی وزن سے کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی وزن اور پھیپھڑوں میں چربی کے اکٹھا ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے اور جو افراد دمہ کا شکار ہوئے ان کی شریانوں میں بھی چربی جمع ہوگئی تھی۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    محققین کا کہنا تھا کہ چربی جمع ہونے سے سانس کی نالیوں کے معمول کی ساخت بھی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ ان کے بلاک ہونے سے پھیپھڑوں میں ورم بھی ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں دمہ اور دیگر نظام تنفس کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    توہین آمیز پوسٹ کیخلاف احتجاج، پولیس کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق

    انہوں نے کہا کہ محققین اس سے پہلے عندیہ دے چکے تھے کہ اضافی وزن سے پھیپھڑوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے یا اضافی وزن سے ورم بڑھتا ہے اور اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اور میکنزم بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔

    امریکہ پھر افغان طالبان کے منتیں کرنے لگا ،

    خیال رہے کہ یہ بھی عام دیکھا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد کی سانس بھی تھوڑی جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں پھول جاتی ہے اور ممکنہ طور پر اس کے پیچھے بھی یہی وجہ چھپی ہوتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین Respiratory جرنل میں شائع ہوئے۔

  • ایک کروڑ پنجابی ہیپاٹائٹس کے مریض‌

    ایک کروڑ پنجابی ہیپاٹائٹس کے مریض‌

    لاہور:گورنر پنجاب چوہدری سرور نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں ۔گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پینے کا گندا پانی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر ، بھارتی مظالم کی کہانی بھارتی صحافی کی زبانی

    انہوں نے کہا کہ 2020 تک پنجاب کے 2 کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے،پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے پہلے ایک شہر کے 60 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس کے مریض پائے گئے۔

    گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا چلنج یہ ہےکہ ہماری درآمدات، برآمدات سے 3 ارب ڈالر زیادہ ہے، کوئی ہمارے خلاف لکھے تو ہم اسے مخالف سمجھتے ہیں ہمیں اس سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔

    سپین کے سفیر بھی لاہوری نکلے

    واضح رہے کہ 11 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں ایک کروڑ لوگوں کا ہیپاٹائٹس جیسے مرض سے متاثر ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔رواں سال اپریل کے مہینے میں بھی پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے ہونے والے ایک سروے میں پنجاب کی 8 اعشاریہ 9 فیصد آبادی کے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

    صف علی زرداری پر نیب کا خوف طاری ، اہم پیش رفت

    ڈاکٹروں کے مطابق ہیپاٹائٹس کی علامات میں بھوک نہ لگنا، اسہال، تھکاوٹ، جِلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ اور پٹھوں، جوڑوں و معدے میں درد شامل ہے، دیہی علاقوں کے لوگ ہیپا ٹائٹس میں زیادہ مبتلا ہورہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کیلئے اتائیوں کے پاس جانے والے اوراسپتالوں میں دیر سے آنے والے ہیپاٹائٹس کے مریض مصیبت میں پڑ سکتے ہیں، اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • یہی وجہ ہے کہ آپ کو کوکا کولا دوبارہ کبھی نہیں پینی چاہئے

    یہی وجہ ہے کہ آپ کو کوکا کولا دوبارہ کبھی نہیں پینی چاہئے

    کوکا کولا ایک ایسا مشروب ہے جسے دنیا بھر میں لوگ پسند کرتے.کوک کے علاوہ ہزاروں مشروبات ہیں لیکن کوکا کولا کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا. اس کا ذائقہ سب کو اسے پینے پر مجبور کرتا ہے لیکن اس کا کتنا نقصان ہے، تفصیل میں بتاتے ہیں:

    1) شوگر کی ایک خوفناک مقدار

    عام طور پر سوڈا پینے کے آس پاس یہ سب سے واضح مسئلہ ہے۔ یہ مائع چینی ہے۔ آپ بنیادی طور پر ایک چاکلیٹ بار پی رہے ہیں! کوک کی ایک باقاعدہ کین میں چینی کے 10 چائے کے چمچ سے اوپر کی سمت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تیز رفتار مائع شوگر کا کام کررہا ہے لہذا آپ بلڈ شوگر اور انسولین میں اضافے کو اسکائروکیٹنگ کر رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ انسولین کے خلاف مزاحمت، موٹاپا، دل کی بیماری اور ذیابیطس کا باعث بنتا ہے۔

    2. ہائی فریکٹوز کارن سیرپ

    ایک بار جب یہ چینی کے لئے ایک بہت ہی سستا متبادل پایا گیا تو ہائی فریکٹوز کارن سیرپ مشروبات میں متعارف کرایا گیا تھا۔ ایچ ایف سی ایس میں بھی طویل عرصے تک شیلف زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینے کے سائز گذشتہ برسوں میں بہت بڑا ہوچکا ہے۔ چونکہ اس میں مینوفیکچرز کو بنانے میں بہت کم لاگت آتی ہے لہذا اب آپ کے پاس بگ گلپس ایس یو وی کا حجم ہے۔

    جب آپ ایچ ایف سی ایس کا استعمال کرتے ہیں تو یہ سیدھے جگر تک جاتا ہے اور لیپوجنسیس کو متحرک کرتا ہے۔ اس سے مراد ٹرائی گلیسریڈس اور کولیسٹرول جیسے چربی کی پیداوار ہے۔ یہ ملک میں جگر کو نقصان پہنچانے کی ایک سب سے بڑی وجوہ ہے جس کی وجہ سے "فیٹی جگر” ہوتا ہے۔ اس سے 70 ملین افراد متاثر ہوتے ہیں!

    3. اعلی کیفین مواد

    کچھ کیفین صاف ذرائع سے آتی ہیں جیسے چائے یا تازہ گرافی کافی۔ اعتدال کے لحاظ سے یہ خراب نہیں ہیں، اور در حقیقت صحت سے متعلق کچھ فوائد فراہم کرتے ہیں۔ کوک میں کیفین صاف ذرائع سے دور ہے۔ مستقل نمائش بلڈ پریشر کو بڑھا سکتی ہے، دل کو جلانے کا سبب بن سکتی ہے، آپ کی نیند پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، السر کا باعث بنتی ہے اور اجیرن کا سبب بن سکتی ہے۔

    4. پانی کی کمی اور پیاس کو فروغ دیتا ہے

    یہ وہ ڈبل ویمی ہے جس کی وجہ سے آپ زیادہ پیتے رہتے ہیں۔ مذکورہ بالا کیفین کے مسائل بھی پانی کے ضیاع کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک موترطی کا کام کرتا ہے۔ اس کے بعد سوڈیم مواد آپ کو بھی پیاسا رکھتا ہے۔ اس میں شوگر اور کیفین کی لت خصوصیات کو شامل کریں اور آپ کے پاس مسلسل کھپت کے دور میں ایک مصنوع موجود ہے۔

    5. فاسفورک ایسڈ

    آپ کو حیرت ہوسکتی ہے کہ یہ سافٹ ڈرنک میں کیوں جزو ہے۔ فاسفورک ایسڈ کوک جیسے سوڈاس کو تیز ذائقہ دینے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سانچوں اور بیکٹیریا کی نشوونما کو بھی سست کرتا ہے جو عام طور پر شوگر کے حل میں تیزی سے ضرب لیتے ہیں۔

    جب آپ فاسفورک ایسڈ کھاتے ہیں تو یہ معدنی ہڈیوں کی کثافت اور آسٹیوپوروسس کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ کولاس کے لئے مخصوص ہے نہ کہ دوسرے واضح سوڈاس کے لئے جس میں سائٹرک ایسڈ استعمال ہوتا ہے۔ معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز سے یہ تیزاب مارتا ہے وہ آپ کے دانت ہیں۔ فاسفورک ایسڈ دانت تامچینی کٹاؤ کا سبب بن سکتا ہے، یہاں تک کہ نچلی سطح پر بھی۔

    فاسفورک ایسڈ کو ایسی چیز کے طور پر سوچیں جو آپ کے کنکال کے نظام کو کافی حد تک تحلیل کرسکتی ہے، جیسے انڈیانا جونز میں غلط ہولی گریل سے پینا اور آخری صلیبی جنگ۔

    6. اسپرٹیم

    اس سے ڈائیٹ کوک پر زیادہ سے زیادہ اطلاق ہونے والا ہے لیکن باقاعدگی سے زیادہ مقدار میں ڈائیٹ تیار ہونے سے یہ زیادہ تر لوگوں پر لاگو ہوگا۔ اسپرٹیم ایک مصنوعی میٹھا ہے جو منظوری کے ل sha بہت سایہ دار سیاست میں گزرا۔ اسے شاید اپنے اصلی مقصد کے لئے چھوڑ دینا چاہئے تھا: السر کی دوائی۔

    جب آپ اسپرٹیم جیسے مصنوعی میٹھے کا استعمال کرتے ہیں تو یہ کچھ چیزیں کرتا ہے: یہ ایکسیٹوٹوکسن (جو دماغ کے خلیوں کو تباہ کرسکتا ہے) کا کام کرتا ہے ، اس سے نشے کا سبب بنتا ہے ، آپ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہتا ہے ، اور نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ہمارے آنتوں کے بیکٹریا کو تبدیل کرتا ہے۔

    اسپارٹیم / مصنوعی میٹھا دینے والا مسئلہ ایک بہت بڑا گڑبڑ ہے۔ آپ اس کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔ دماغ کے تباہ شدہ خلیوں کی بات کرتے ہوئے ، میں حیران ہوں کہ کارڈیشینوں نے ڈائیٹ کوک نے کتنا کھایا؟

    7. یہ آپ کے جسم کے لئے برا ہے لیکن دوسرے استعمال کے لیے اچھا ہوسکتا ہے

    کیا آپ واقعتا کوئی ایسی چیز پینا چاہتے ہیں جو زنگ کو ختم کردے؟ اب جب آپ جانتے ہو کہ کوک پینا کتنا نقصان دہ ہے تو یہاں کچھ اور طریقے ہیں جو آپ مائن جو گرین کا پسندیدہ مشروب استعمال کرسکتے ہیں۔

    1. کوڑے کو کسی بگ کے کاٹنے یا مکھی کے ڈنک پر ڈالنے سے درد کو بے اثر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    2. کوک کی ایک کین اور گیلے کپڑے سے کار کی کھڑکیوں سے کیڑے اور دھول کو دور کرنے کے لئے صفائی ستھرائی کا ایک بہترین حل بنایا جاتا ہے۔

    3. چھوٹی چیزوں سے مورچا کو ہٹا دیں. آپ نے یہ کوشش کرکے رات کے چال میں کوک کے گلاس میں پرانے پیسوں سے آزمایا ہو۔

    4. کوک آپ کے پالتو جانوروں کو اسکیچ کی بدبو حاصل کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ بس بعد میں اپنے پالتو جانوروں کو کللا کرنا نہ بھولیں۔

    5. کوک ٹوائلٹ کلینر کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فاسفورک ایسڈ دراصل کسی چیز کے لیے اچھا ہے! آپ (پرانا) کا پسندیدہ مشروب اب بیت الخلا میں تمام چونے کے مبہم اور تعمیر میں مدد مل سکتا ہے۔

  • ڈینگی کے بعد اب پولیو؛3 نئے کیسز سامنے آ گئے

    ڈینگی کے بعد اب پولیو؛3 نئے کیسز سامنے آ گئے

    اسلام آباد:ملک میں ایک طرف ڈینگی سے جان چھوٹ نہیں رہی تھی تو دوسری طرف پولیوسے متعلق نئ خبر نے پھر غمگین کردیا ، اطلاعات کےمطابق ملک میں پولیو کے تین نئے کیسز سامنے آ گئے، جس کے بعد رواں برس کے مجموعی پولیو کیسز کی تعداد 76 ہو گئی ہے۔

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تفصیلات کے مطابق تین نئے پولیو کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے، لکی مروت کی یو سی سلمان خیل کی 7 ماہ کی بچی، پہاڑ خیل ٹھل کا 21 ماہ کا بچہ اور بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے 11 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی۔

    دوسری طرف ان پولیوکیسز کے حوالےسے محکمہ صحت کی طرف سے ایک وضاحت بھی پیش کی گئی ہے جس کے مطابق بچی کے والدین پولیو ویکسین پلانے سے انکاری تھے، پولیو ٹیسٹ کے لیے نمونے لینے سے قبل سات ماہ کی بچی انتقال کر گئی تھی،

    مقبوضہ کشمیر ، بھارتی مظالم کی کہانی بھارتی صحافی کی زبانی

    محکمہ صحت کی طرف سے مزید رپورٹ جو سامنے آئی ہے اس کے مطابق لکی مروت کی یو سی پہاڑ خیل ٹھل کا 21 ماہ کا بچہ بھی پولیو وائرس کا شکار ہوا، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے، بچے کی ایک بار پولیو ویکسینیشن کی گئی تھی۔

    سپین کے سفیر بھی لاہوری نکلے

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے گیارہ ماہ کے بچے کا تعلق یو سی شاہرگ رورل وَن سے ہے، پولیو کے شکار بچے کی ایک بار پولیو ویکسینیشن ہوئی ہے۔ جامشورو کی تحصیل کوٹری کے 31 ماہ کے بچے میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

  • ورزش نوجوانوں کے لیے فائدہ مند تو بوڑھوں کے لیے نقصان دہ

    ورزش نوجوانوں کے لیے فائدہ مند تو بوڑھوں کے لیے نقصان دہ

    لندن: طبی امور کے حامل سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق پیش کرکے بہت سے دلائل کو کمزور کردیا ہے ، ویسے کسی معاشرے میں یہی تصور ہے کہ ورزش ضروری ہے اور پھر دیکھا دیکھی بچے بوڑھے جوان سب ورزش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،مگر برطانوی طبی ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کچھ نئی اور انوکھی چیزیں پیش کردی ہیں ، ماہرین کے مطابق 36 ہزار عمر رسیدہ افراد کے مشاہدے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے خود کو فٹ رکھنے کے لیے غیر محتاط ورزش کا معمول ان کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    بھارتی جارحیت، پاکستان کا منہ توڑ جواب، 9 بھارتی فوجی ہلاک

    ورز ش کے متعلق نئے حقائق پیش کرنے والے برطانوی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں ورزش کو معمول بنا لینا چاہیئے اس سے صحت مند رہا جا سکتا ہے اور لمبی عمر بھی پائی جا سکتی ہے تاہم غفلت میں گزاری جوانی کے بعد بڑی عمر میں خود پر ورزش کے بوجھ لاد لینے سے مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بزرگوں کو ورزش کے لیے مستند اور ماہر انسٹرکٹر یا ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ورزش کرنی چاہیئے۔

    کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا اور نتائج کے طور پر وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کو بیان کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ امراض قلب میں مبتلا افراد کو غیر محتاط ورزش کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق طبی ماہر پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

    ابھی ایمانداری زندہ ہے،کراچی ایئرپورٹ کا دلچسپ واقعہ

    پروفیسر آن پین نے مزید بتایا کہ عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ورزش کو بچپن سے ہی معمول بنایا جائے اور نوجوانی میں زیادہ اور بھرپور ورزش کی جائے تاہم ڈھلتی عمر کے ساتھ ورزش کو کم اور آسان کیا جائے۔

  • کب اور کیسے ڈینگی نے قہرام برپا کیا ، رپورٹ نے ہلچل مچادی

    کب اور کیسے ڈینگی نے قہرام برپا کیا ، رپورٹ نے ہلچل مچادی

    اسلام آباد: پاکستان میں ڈینگی کی طرف سے جو تباہی اور نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کے بارے میں وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ڈینگی کنٹرول سیل کی وائرس کیس اسٹڈی رپورٹ تیار کر لی گئی، ذرائع وزارتِ صحت کا کہنا ہے یہ کیس اسٹڈی وزارت قومی صحت کو ارسال کی جائے گی، رپورٹ این آئی ایچ کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق قومی ڈینگی کنٹرول سیل نے ایک کیس اسٹڈی تیار کر لی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈینگی وائرس کا پہلا کیس 1994 میں سامنے آیا، ملک میں ڈینگی نے وبائی صورت 2005 میں کراچی میں اختیار کی، جب کہ پنجاب میں ڈینگی نے 2011 میں وبائی صورت اختیار کی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق2011 میں پنجاب میں 22 ہزار ڈینگی کیس رپورٹ ہوئے جب کہ 350 اموات ہوئیں، 2017 میں خیبر پختون خوا میں 25000 ڈینگی کیس اور 70 اموات ہوئیں، رواں سال جڑواں شہروں میں 16 ہزار ڈینگی کیس سامنے آئے جب کہ 24 اموات ہو چکی ہیں، رواں سال ملک میں تا حال 34 ہزار ڈینگی کیسز اور 50 اموات ہو چکی ہیں۔

    ڈینگی کنٹرول سیل کی وائرس کیس اسٹڈی رپورٹ کے مطابق ڈینگی وائرس کی دنیا میں 4 اسٹیریو ٹائپ اقسام ہیں، ملک میں ڈینگی وائرس ٹائپ وَن، ٹو، تھری کیس سامنے آئے ہیں، پاکستان میں ڈینگی اسٹیریو ٹائپ فور وائرس تاحال سامنے نہیں آیا، رواں برس ملک میں بیش تر افراد ڈینگی اسٹیریو ٹائپ وَن کا شکار ہوئے، بلوچستان میں ڈینگی اسٹیریو ٹائپ ون وائرس سرگرم ہے، کے پی، پنجاب، اسلام آباد میں ڈینگی اسٹیرو ٹائپ ون، ٹو وائرس سرگرم ہیں۔

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    کیس اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں کوئٹہ، لسبیلہ، گوادر اور کیچ ڈینگی سے زیادہ متاثر ہیں، سندھ میں کراچی کے ضلع وسطی و جنوبی ڈینگی سے زیادہ متاثر ہیں، آزاد کشمیر کا ضلع مظفر آباد، اپر و لوئر چھتر ڈینگی سے زیادہ متاثر ہیں، پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، لیہ، اٹک، خیبر پختون خوا میں سوات، مانسہرہ، کوہاٹ، پشاور اور صوابی ڈینگی سے متاثر ہیں، جب کہ ضلع پشاور کی 8 یونین کونسلز شیخ محمدی، دیہ بہادر، سربند، شیخان، بڈھ بیر، بازید خیل، اچھنی، ماشو گگر ڈینگی سے زیادہ متاثر ہیں۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقے ترلائی، کورال، بہارہ کہو، سوہان، اسلام آباد کے رہایشی سیکٹر جی سکس اور سیون ڈینگی سے زیادہ متاثر ہیں۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کو آئندہ کے لیے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلینی چاہیے تاکہ اگلے سال مون سونی بارشوں کے نتیجے میں اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکے

    مولانا فضل الرحمن مان گئے؟ اہم خبر آگئی

  • کیا آپ تھوڑی سی پیتے ہیں‌ ! پینےسے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں‌!

    کیا آپ تھوڑی سی پیتے ہیں‌ ! پینےسے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں‌!

    لندن : سافٹ ڈرنکس کی تھوڑی مقدار پئیں یا زیادہ یہ انتہائی نقصان دہ ہیں، اس کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کئی برسوں سے تحقیق کرتے آچلے ہیں ، اس سلسلے مٰیں ایک واضح ،بروقت اور عین حقیقت تحقیق جو سامنے آئی ہے ، وہ بہت ہی پریشان کن ہے، ’ڈائٹ ڈرنکس‘ قبل از موت کی وجہ قرار بہت سے لوگ کولڈ ڈرنک کے استعمال کی جگہ ڈائٹ کولڈ ڈرنکس کا ستعمال کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ڈائٹ ڈرنکس میں چینی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ڈائٹ ڈرنکس کا استعمال ایک گلاس سے زیادہ کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کے اس سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔حال ہی میں ایک تحقیق کی گئی جس کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں 2 گلاس ’ڈائٹ ڈرنکس‘ استعمال کرتے ہیں ان لوگوں میں قبل از موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

    اس تحقیق میں 450,000 سے زائد لوگوں کا مطالعہ کیا گیا جن کا تعلق یورپ کے 10 ممالک سے تھا، تحقیق سے یہ نتیجہ حاصل ہوا ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں ڈائٹ ڈرنکس کا روزانہ استعمال کرنے والے افراد میں قبل از موت کے 26 فیصد سے زائد امکانات ہوں گے۔

    محققین کا مزید کہنا تھا کہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال مہلک بیماریوں کو جنم دیتا ہےجن میں دورانِ خون اور نظام ہاضمہ کے حوالے سے بیماریاں شامل ہیں۔دو یا دو سے زیادہ گلاس سافٹ ڈرنکس پینے والے افراد میں دل کا دورہ پڑنے، فالج اور شریانوں کی دیگر مہلک بیماریوں کے 52 سے زائد فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر نیل مرفی کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتیجے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمیں لوگوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سافٹ ڈرنکس کا استعال کم کرنے کی ہدایت دینی ہو گی۔ڈاکٹر نیل مرفی نے مزید بتایا کہ سافٹ ڈرنکس دل کی بیماری، ٹیومر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بنتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ2010 میں سافٹ ڈرنکس کے باعث مرنے والوں کی تعداد تقریباً 184,000 تھی۔

    فرانس کے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے ڈاکٹر نیل مرفی نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بجائے کولڈ ڈرنک پینے کے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔محققین کا کہنا ہے کہ ڈائٹ کولڈ ڈرنکس یا سافٹ ڈرنکس دونوں کا استعمال دل اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اور یہ وہ بیماریاں ہیں جس سے دنیا بھر میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

  • لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے بھٹو؟ 4  نومولود بچے جاںبحق

    لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے بھٹو؟ 4 نومولود بچے جاںبحق

    جیکب آباد:آکیسجن نہ ملنے پر4نومولود دم توڑگئے، دوسری طرف مقہور ، مجبور اور پریشان حال لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے بھٹو؟ 4 نومولود بچے جاںبحق ہوگئے ہیں اور بلاول ابھی تک اپنے ابو اور پھوپھو کو بچانے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ہمیں کون بچائے گا ،عوام سخت ناراض ہوگئے

    28 ارب روپےکسے کم نہ آئے،نااہلی آڑے آگئی

    انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زيرعلاج چاروں بچوں کو آکسیجن کی کمی کے باعث گزشتہ رات اسپتال لایا گیا تھا اور وہ انکیو بیٹرز میں رکھے گئے تھے۔ہسپتال انتظاميہ کا موقف ہے کہ آکسیجن سیلنڈرمیں آکسیجن کم ہونے کے باعث سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران بچوں کی ہلاکت ہوئی۔

    وکلاسے تکرار ، جیل لے گیا

    جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاء نے افسوسناک واقعہ کے خلاف ہسپتال کے باہر احتجاج کیا۔ورثاء کا الزام ہے کہ بچوں کي موت آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی۔دوسری طرف اس موقع پر عوامی ردعمل سخت سامنے آرہا تھا کہ لوگ پریشان تھے کہ جنہیں اپنی فکر پڑی ہے وہ ہماری خاک فکرکریں گے

    بینظیرمر کر ہمی جینا سکھا گئیں۔،بلاول بھٹو

  • ڈينگی سے مرنے والوں کی تعداد 19 ہوگئی

    ڈينگی سے مرنے والوں کی تعداد 19 ہوگئی

    کراچی :ڈینگی نے تو حد ہی کردی ، جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، اطلاعات کے مطابق کراچی ميں بھی ڈينگی وائرس بے قابو ہوگيا ہے۔کراچی میں ڈینگی کے 2723 کیسز سامنےآئے ہیں۔ سندھ میں مجموعی طور پر ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 2930 ہوگئی ہے۔

    انسداد ڈینگی سیل کے مطابق کراچی میں ڈینگی کے باعث لڑکی دم توڑ گئی ہے۔ 20 سالہ لڑکی نجی اسپتال ميں زيرِعلاج تھی۔ شہر میں ڈينگی سے ہلاکتوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔24 گھنٹوں کے دوران سندھ ميں 235 کيسز رپورٹ ہوئےجن ميں سے207 صرف کراچی سے رپورٹ ہوئے۔

    انسداد ڈٰينگی سيل کے مطابق رواں ماہ سندھ ميں 2930 کيسز سامنے آئےجن ميں سے کراچی کے 2723 کيسز ہيں۔ رواں سال سندھ میں6147 اورکراچی میں5766کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔