فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے نیشنل انٹر ڈویژنل بوائز باسکٹ بال چیمپئن شپ جیتنے پر فیصل آباد ڈویژن کی ٹیم،ڈویژنل سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اورآفیشلز کو مبارکباد دی اورتوقع کی ہے کہ ٹیم آئندہ بھی اس محنت سے کامیابی حاصل کرکے ڈویژن کانام روشن کرے گی۔ڈویژنل سپورٹس آفیسرطارق نذیراورڈویژنل صدر باسکٹ بال ایسوسی ایشن منوراحمدنے ڈویژنل کمشنر کو ونرٹرافی پیش کی۔ڈویژنل کمشنر نے سرگودھا میں کھیلی جانے والی چیمپئن شپ میں کھلاڑیوں کی عمدہ پروفارمنس اور ان کی بہترین تربیت پر کوچز ودیگر آفیشلز کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں کھیلوں کے مقابلے تسلسل سے منعقد کرائے جارہے ہیں تاکہ کھلاڑی بھرپور تیاری سے قومی مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکیں۔ڈویژنل سپورٹس آفیسر نے بھرپور سرپرستی پر ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ فائنل مقابلہ میں فیصل آباد نے لاہور کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 76-80پوائنٹ سے شکست دی۔فیصل آباد ڈویژن کی ٹیم میں محمد اسرار،حسن خضر،عثمان طالب،حافظ عمر اور حسن طارق نے چیمپئن شپ میں عمدہ کھیل پیش کیا۔
Category: صحت
-
فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کیلئے مہم
فیصل آباد( )فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ سیور فاؤنڈیشن کے زیراہتمام بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لئے خواتین میں پمفلٹس تقسیم کئے گئے۔میڈیکل سوشل آفیسر آسیہ فقیر حسین اور جنرل سیکرٹری ہارٹ سیور فاؤنڈیشن کاشف فاروق نے ہسپتال کے مختلف ویٹنگ ایریازمیں مریضوں کے ساتھ آئی ہوئیں خواتین میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس تقسیم کئے۔میڈم عاصمہ مزمل اور دیگر بھی موجود تھے۔میڈیکل سوشل آفیسر نے کہا کہ بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان)خواتین میں پائی جانے والی سب سے عام کینسر کی بیماری ہے جس سے بچاؤ کے لئے احتیاط ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین علامات کی صورت میں اپنا فوری طبی معائنہ اور بالخصوص 40سال سے زائد عمر خواتین فوراً میموگرافی کرائیں۔جنرل سیکرٹری نے کہا کہ چھاتی کے سرطان سے بچاؤ کے لئے احتیاط لازم ہے اور بروقت علاج سے اس بیماری سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہارٹ سیور فاؤنڈیشن کی طرف سے مختلف بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے طبی وسائل فراہم کئے جارہے ہیں جس کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔اس موقع پر بتایا گیا کہ چھاتی میں درد،چھاتی میں گلٹی یارسولی،سوجن اور چھاتی کسی حصے سے خون یا رطوبت آنے کی صورت میں فورا متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
-
ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام یکجہتی کشمیر کبڈی ٹورنامنٹ کا انعقاد
فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام یکجہتی کشمیر کبڈی ٹورنامنٹ چک 198ر ب منیانوالہ میں کھیلا گیا جس میں مختلف کلبز کی ٹیموں کے مابین میچز کھیلے گئے۔ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر رانا حماد اقبال،ملک اشتیاق،ملک غلام مصطفی،مہر اشرف،مہر عرفان اور عمر شہزاد کے علاوہ دیگر آفیشلز اورشائقین کبڈی بھی موجود تھے۔کبڈی ٹورنامنٹ میں منڈا پینڈ،مکوانہ،کشمیر کبڈی کلب،گڈیا،پکا جنڈیالہ،چک 204،جوہل بگہ،مرزا کبڈی کلب،جڑانوالہ کبڈی کلب،ڈھڈی والا،نشاط آباد،لوکھا کبڈی کلب اور فخر آباد کبڈی کلب کی ٹیموں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔اس موقع پر کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔
-

گجرات تعلیمی ادارے بھی طلباء کی زندگیوں سے کھیلنے لگے۔اسسٹنٹ کمشنر نے صفائی نہ ہونے کی وجہ سے UOL گجرات کیمپس سیل کر دیا۔
گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)یونیورسٹی آف لاہور گجرات کیمپس صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سیل کردیاگیا ۔ڈی سی گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کی ہدایت پر اے دی گجرا ت محمد جمیل نے لاہور یونیورسٹی گجرات کیمپس کو ڈینگی لاورہ ملنے پر سیل کردیا پندرہ دن پہلے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اس کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے کوئی صفائی نہی کی اے سی گجرات محمد جمیل نے بتایا کہ ڈی گجرات کی ہدایت پر یہ کاروائی کی گی ہے حکومت کسی سٹوڈنٹس کی جانوں پر کسی کو کھلنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔۔
-

سگریٹ ایک ہویا زیادہ تباہی ایک جتنی ہی ہوگی ، ماہرین طب
سگریٹ ایک ہویا زیادہ تباہی ایک جتنی ہی ہوگی ، ماہرین طب نے خطرات سے آگاہ کردیا ، ماہرین طب کا کہنا ہےکہ درحقیقت روزانہ چند سیگریٹ پینا بھی پھیپھڑوں کو اتنا ہی نقصان پہنچاتا ہے جتنا دن بھر میں ایک پیکٹ سے زیادہ پینے پر ہوسکتا ہے۔
سگریٹ پینے کے حوالے سے کی جانی والی تحقیق طبی جریدے دی لانسیٹ Respiratory Medicine میں شائع ہوئی ، تحقیق میں 17 سے 93 سال کی عمر کے 25 ہزار سے زائد افراد میں تمباکو نوشی کی عادت اور صحت کے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے پوچھا کہ وہ کتنی تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ صحت اور طرز زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرکے پھیپھڑوں کے افعال کا تجزیہ کیا گیا۔ان افراد کا جائزہ محققین نے 20 سال تک لیا اور اس دوران بھی پھیپھڑوں کی صحت کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔
پھیپھڑوں کے افعال عمر بڑھنے سے قدرتی طور پر تنزلی کا شکار ہوتے ہیں مگر تمباکو نوشی سے یہ عمل زیادہ تیز رفتار ہوجاتا ہے اور پھیپھڑوں اور نظام تنفس کے مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اور اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تمباکو نوشی کی معمولی مقدار بھی اس تنزلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کافی ہے۔
تحقیق کے آغاز پر اس میں شامل 10 ہزار افراد نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی، 7 ہزار اس عادت کو ترک کرچکے تھے، 58 سو افراد چھوڑنے اور تمباکو نوشی کے درمیان جھول رہے تھے جبکہ ڈھائی ہزار اس کے عادی تھے۔
شہزادہ اورشہزادی پاکستان پہنچ گئے، استقبال کس نے کیا خبرآگئی
وقت گزرنے کے ساتھ محققین نے دریافت کیا کہ تمباکو نوشی چھوڑ دینے والے اور اس عادت میں تاحال مبتلا افراد کے پھیپھڑوں کے افعال سیگریٹ سے ہمیشہ دور رہنے والوں کے مقابلے میں ناقص ہے بلکہ کم اور زیادہ پینے والوں کے پھیپھڑوں میں کچھ زیاہد فرق نہیں تھا۔
2424 افراد قتل کردیئے گئے ، کیوں اور کیسے قتل ہوئے ،خطرناک رپورٹ آگئی
تحقیق کے مطابق دن بھر میں 5 سے کم سیگریٹ پینے والے افراد کے پھیپھڑوں کو بھی اتنا ہی نقصان پہنچتا ہے جتنا روزانہ 30 یا اس سے زائد سیگریٹ پینے والوں کو ہوسکتا ہے، بس معمولی فرق ہے۔یعنی کم سیگریٹ پینے والوں میں جو افعال ایک سال میں کم یا ختم ہوتے ہیں اس کے لیے زیادہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو 9 ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔
نئی کھچڑی پک گئی، مولانا پرشدید بداعتمادی، ن لیگ تین حصوں میںبٹ گئی
-

گجرات ڈپٹی کمشنر کی پلاسٹک بیگ کی خریدو فروخت میں توسیع
گجرات ( چوہدری فیضان ارشاد سے)ضروری اطلاع آج ریلوے روڈ گجرات اور باقی شہر کی شاپر مرچنٹس نے افتخار احمد شاکر جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران گجرات کی سر کردگی میں ڈپٹی کمشنر گجرات سے ملاقات کی اور شاپر کی فروخت اور استعمال کی مدت میں توسیع کی درخواست کی ۔جس کو ڈپٹی کمشنر نے منظور کرتے ہوئے اس میں توسیع کر دی اب اس کے استعمال اور فروخت کی تاریخ 15 نومبر 2019 تک کر دی
-

چھاتی کے سرطان کا مکمل علاج کیسے ممکن ہے…..
لاہور۔ (اے پی پی) وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں چھاتی کے سرطان کی مناسبت سے منعقدہ آگاہی سمپوزیم میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پروائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، بریسٹ کینسرپروگرام کی انچارج پروفیسرڈاکٹرعندلیب، رجسٹرارپروفیسرمنیزہ قیوم، پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرشیریں، ایم ایس گنگارام ہسپتال ڈاکٹرفیاض بٹ، دیگرفیکلٹی ممبران اورطلباء وطالبات کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔چھاتی کے سرطان سے بچاؤکی آگاہی کیلئے غبارے بھی اڑائے گئے اورآگاہی واک بھی منعقدکی گئی۔ وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ2018 کے اعدادوشمارکے مطابق پوری دنیامیں بیس لاکھ خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلاہوئیں۔پاکستان میں ہرسال ہزاروں خواتین اس مرض کی وجہ سے جان کی بازی ہارجاتی ہیں۔ لوگوں کو کسی بیماری کے بارے میں آگاہی دینابڑی نیکی ہے۔ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے مکمل علاج ممکن ہوجاتا ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے انتہائی اہم موضوع پرسمپوزیم منعقدکروانے پروائس چانسلراورانتظامیہ کومبارکباد دی۔وزیر صحت پنجاب نے مزیدکہاکہ چھاتی کے سرطان کی آگاہی سے خواتین کواس مرض سے بچایاجاسکتاہے۔ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے مں تشخیص علاج کی ضمانت ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء وطالبات کیلئے ہرقسم کی علمی سہولت فراہم کی جائے گی۔ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کی ذاتی زندگی بری طرح متاثرہوتی ہے۔ معاشرہ میں چھاتی کے سرطان بارے شعورپیداکرنے کیلئے آگاہی سیمینارمنعقدکروائے جائیں۔پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان نے بھی حاضرین سے خطاب کیا اور وزیرصحت کی آگاہی سمپوزیم میں آمدپران کاشکریہ اداکیا۔ پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان نے کہاکہ معاشرے میں چھاتی کے سرطان بارے آگاہی پیداکرنابہت ضروری ہے۔ پروفیسرڈاکٹرعندلیب نے چھاتی کے سرطان کی وجوہات، علامات اورسدباب بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
lh/shk/tmb 1536 -

صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے. -

6 چیزوں میں ہے علاج تیزابیت کا ،ماہرین طب
لاہور : معدے میں گیس ، تیزابیت ہر دوسرے انسان کا مسئلہ ، اس مسئلے کے حل کے لیے مریض ہر قسم کا علاج اور ٹوٹکا استعمال کرتا ہے، غیر متوزن غذائیں، جنک فوڈ، غیر معیاری اور تیز مصالحہ جات اور تیل کا استعمال ہر عمر کے افراد کو تیزابیت میں مبتلا کرسکتا ہے۔ ماہرین طب نے اس کے حل اور علاج کے لیے انسان کے عام استعمال کی چیزوں کے ذریعے علاج کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے
غیرت کے نام پر مرد اور عورت کو "پھانسی”
اسی طریقہ علاج کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین طب نے ایک چارٹ تیار کیا ہے جس کے مطابق اگر ہم اپنی خوراک کھانا پینا کرلیں تو اس بیماری سے جان بھی چھوٹ جائے گی اور صحت بھی بہتر ہوجائے گی آج ہم آپ کو اس عام شکایت پر قابو پانے کے لیے کچھ غذائیں بتا رہے ہیں جو اس تکلیف کو خاصی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کا روزمرہ یا باقاعدہ استعمال تیزابیت میں کمی کرسکتا ہے۔
ادرک
ماہرین طب کا کہنا ہےکہ ادرک تیزابیت کے لیے بہترین غذا ہے، ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹس اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ادرک تیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے کی جلن، بدہضمی اور پیٹ کے دیگر امراض میں بھی مفید ہے۔اب بھارت نہیں ترکی جائیں گے ،مشاورت شروع
جو کا دلیہ
جوکا دلیہ تو بہت سی بیماریوں کے لیے اکثیر کی حیثیت رکھتا ہے ، معدے کی تیزابیت کے حوالےسے ماہرین طب کا کہنا ہےکہ ناشتے میں جو کا دلیہ تیزابیت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود فائبر ہاضمے میں معاون ہوتا ہے۔جو پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال تیزابیت کی شکایت سے نجات دلا سکتا ہے۔ہرے پتوں کی سبزیاں
ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک، پودینہ، دھنیہ، میتھی، بند گوبھی وغیرہ تیزابیت میں کمی کے ساتھ ساتھ اور بھی بے شمار فائدوں کی حامل ہیں۔ یہ جسم کے تمام اعضا کو فعال رکھتی ہیں اور خون کی روانی کو بہتر بناتی ہیں۔
دہی
دہی سینے میں جلن اور تیزابیت کی فوری اور اکسیر دوا ثابت ہوسکتا ہے۔ دہی کا باقاعدہ استعمال تیزابیت کے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔پردیسیوں کی قسمت جاگ اٹھی ، یونان میں موقع مل گیا
کیلا
فوری توانائی پہنچانے والی شے کیلا ایتھلیٹس کی غذا کا لازمی جز ہے۔ کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لیے یہ تیزابیت کے خلاف فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔خربوزہ
خربوزہ بھی کیلے کی خاصیت رکھنے والا پھل ہے، خربوزہ پیٹ کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ پانی کی کمی دور کر کے جسم میں خون اور پانی کی روانی بحال رکھتا ہے جبکہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ -

اب بھارت نہیں ترکی جائیں گے ،مشاورت شروع
اسلام آباد:پاکستان نے بھارت کی منافقت اور مخاصمت کے پیش نظر اپنے راستے تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پاکستانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے باعث پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی کشیدگی کے پیش نظر کیا جارہا ہے،
اسلام آباد سے حکام کے مطابق بھارت میں پاکستانی مریضوں پر ویزا پابندیوں کے باعث قابلِ دسترس علاج کے لیے پاکستان نے ترکی سے امید باندھ لی۔پاکستانی حکام کو امید ہےکہ یہ معاہدہ طئے پاجائے گا جس کے تحت ترک صدر رجب طیب اروان کے دورہ پاکستان کے موقع پر سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
مسنگ پرسن معاملہ حل ہونے کے قریب ، اہم پیش رفت ، 4000افراد کا معاملہ سامنے آگیا
یہ بات تو اکثر پاکستانیوں کو معلوم ہی ہے کہ اس سے پہلے پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ علاج بالخصوص جگر کی پیوند کاری کے لیے بھارت جاتے تھے لیکن 5 اگست کے متنازع اقدام کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو ویزہ دینا بند کردیا جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت روک دی تھی۔
پولیس آفیسر وحشی گجر، بیٹے بھی باپ کے نقش قدم پر ، پھر کیا ہوا، ضرور جانیئے
تاہم اب پاکستانی مریضوں کے ترکی کو زیرِ غور لایا جارہا ہے جہاں علاج کی غرض سے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ترکی خود بھی دنیا بھر سے طبی سیاحت کے لیے آنے والوں کو حوصلہ افزائی کررہا ہے۔اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوگا جب ترک صدر پاکستان آئیں گے اور اس سلسلے میں معاہدہ کریں گے
فیصل واڈا کو ترس آگیا