گجرات ( چوہدری فیضان ارشاد سے)ضروری اطلاع آج ریلوے روڈ گجرات اور باقی شہر کی شاپر مرچنٹس نے افتخار احمد شاکر جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران گجرات کی سر کردگی میں ڈپٹی کمشنر گجرات سے ملاقات کی اور شاپر کی فروخت اور استعمال کی مدت میں توسیع کی درخواست کی ۔جس کو ڈپٹی کمشنر نے منظور کرتے ہوئے اس میں توسیع کر دی اب اس کے استعمال اور فروخت کی تاریخ 15 نومبر 2019 تک کر دی
Category: صحت

چھاتی کے سرطان کا مکمل علاج کیسے ممکن ہے…..
لاہور۔ (اے پی پی) وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں چھاتی کے سرطان کی مناسبت سے منعقدہ آگاہی سمپوزیم میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پروائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، بریسٹ کینسرپروگرام کی انچارج پروفیسرڈاکٹرعندلیب، رجسٹرارپروفیسرمنیزہ قیوم، پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرشیریں، ایم ایس گنگارام ہسپتال ڈاکٹرفیاض بٹ، دیگرفیکلٹی ممبران اورطلباء وطالبات کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔چھاتی کے سرطان سے بچاؤکی آگاہی کیلئے غبارے بھی اڑائے گئے اورآگاہی واک بھی منعقدکی گئی۔ وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ2018 کے اعدادوشمارکے مطابق پوری دنیامیں بیس لاکھ خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلاہوئیں۔پاکستان میں ہرسال ہزاروں خواتین اس مرض کی وجہ سے جان کی بازی ہارجاتی ہیں۔ لوگوں کو کسی بیماری کے بارے میں آگاہی دینابڑی نیکی ہے۔ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے مکمل علاج ممکن ہوجاتا ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے انتہائی اہم موضوع پرسمپوزیم منعقدکروانے پروائس چانسلراورانتظامیہ کومبارکباد دی۔وزیر صحت پنجاب نے مزیدکہاکہ چھاتی کے سرطان کی آگاہی سے خواتین کواس مرض سے بچایاجاسکتاہے۔ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے مں تشخیص علاج کی ضمانت ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء وطالبات کیلئے ہرقسم کی علمی سہولت فراہم کی جائے گی۔ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کی ذاتی زندگی بری طرح متاثرہوتی ہے۔ معاشرہ میں چھاتی کے سرطان بارے شعورپیداکرنے کیلئے آگاہی سیمینارمنعقدکروائے جائیں۔پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان نے بھی حاضرین سے خطاب کیا اور وزیرصحت کی آگاہی سمپوزیم میں آمدپران کاشکریہ اداکیا۔ پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان نے کہاکہ معاشرے میں چھاتی کے سرطان بارے آگاہی پیداکرنابہت ضروری ہے۔ پروفیسرڈاکٹرعندلیب نے چھاتی کے سرطان کی وجوہات، علامات اورسدباب بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
lh/shk/tmb 1536
صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.
6 چیزوں میں ہے علاج تیزابیت کا ،ماہرین طب
لاہور : معدے میں گیس ، تیزابیت ہر دوسرے انسان کا مسئلہ ، اس مسئلے کے حل کے لیے مریض ہر قسم کا علاج اور ٹوٹکا استعمال کرتا ہے، غیر متوزن غذائیں، جنک فوڈ، غیر معیاری اور تیز مصالحہ جات اور تیل کا استعمال ہر عمر کے افراد کو تیزابیت میں مبتلا کرسکتا ہے۔ ماہرین طب نے اس کے حل اور علاج کے لیے انسان کے عام استعمال کی چیزوں کے ذریعے علاج کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے
غیرت کے نام پر مرد اور عورت کو "پھانسی”
اسی طریقہ علاج کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین طب نے ایک چارٹ تیار کیا ہے جس کے مطابق اگر ہم اپنی خوراک کھانا پینا کرلیں تو اس بیماری سے جان بھی چھوٹ جائے گی اور صحت بھی بہتر ہوجائے گی آج ہم آپ کو اس عام شکایت پر قابو پانے کے لیے کچھ غذائیں بتا رہے ہیں جو اس تکلیف کو خاصی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کا روزمرہ یا باقاعدہ استعمال تیزابیت میں کمی کرسکتا ہے۔
ادرک
ماہرین طب کا کہنا ہےکہ ادرک تیزابیت کے لیے بہترین غذا ہے، ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹس اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ادرک تیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے کی جلن، بدہضمی اور پیٹ کے دیگر امراض میں بھی مفید ہے۔اب بھارت نہیں ترکی جائیں گے ،مشاورت شروع
جو کا دلیہ
جوکا دلیہ تو بہت سی بیماریوں کے لیے اکثیر کی حیثیت رکھتا ہے ، معدے کی تیزابیت کے حوالےسے ماہرین طب کا کہنا ہےکہ ناشتے میں جو کا دلیہ تیزابیت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود فائبر ہاضمے میں معاون ہوتا ہے۔جو پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال تیزابیت کی شکایت سے نجات دلا سکتا ہے۔ہرے پتوں کی سبزیاں
ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک، پودینہ، دھنیہ، میتھی، بند گوبھی وغیرہ تیزابیت میں کمی کے ساتھ ساتھ اور بھی بے شمار فائدوں کی حامل ہیں۔ یہ جسم کے تمام اعضا کو فعال رکھتی ہیں اور خون کی روانی کو بہتر بناتی ہیں۔
دہی
دہی سینے میں جلن اور تیزابیت کی فوری اور اکسیر دوا ثابت ہوسکتا ہے۔ دہی کا باقاعدہ استعمال تیزابیت کے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔پردیسیوں کی قسمت جاگ اٹھی ، یونان میں موقع مل گیا
کیلا
فوری توانائی پہنچانے والی شے کیلا ایتھلیٹس کی غذا کا لازمی جز ہے۔ کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لیے یہ تیزابیت کے خلاف فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔خربوزہ
خربوزہ بھی کیلے کی خاصیت رکھنے والا پھل ہے، خربوزہ پیٹ کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ پانی کی کمی دور کر کے جسم میں خون اور پانی کی روانی بحال رکھتا ہے جبکہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اب بھارت نہیں ترکی جائیں گے ،مشاورت شروع
اسلام آباد:پاکستان نے بھارت کی منافقت اور مخاصمت کے پیش نظر اپنے راستے تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پاکستانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے باعث پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی کشیدگی کے پیش نظر کیا جارہا ہے،
اسلام آباد سے حکام کے مطابق بھارت میں پاکستانی مریضوں پر ویزا پابندیوں کے باعث قابلِ دسترس علاج کے لیے پاکستان نے ترکی سے امید باندھ لی۔پاکستانی حکام کو امید ہےکہ یہ معاہدہ طئے پاجائے گا جس کے تحت ترک صدر رجب طیب اروان کے دورہ پاکستان کے موقع پر سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
مسنگ پرسن معاملہ حل ہونے کے قریب ، اہم پیش رفت ، 4000افراد کا معاملہ سامنے آگیا
یہ بات تو اکثر پاکستانیوں کو معلوم ہی ہے کہ اس سے پہلے پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ علاج بالخصوص جگر کی پیوند کاری کے لیے بھارت جاتے تھے لیکن 5 اگست کے متنازع اقدام کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو ویزہ دینا بند کردیا جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت روک دی تھی۔
پولیس آفیسر وحشی گجر، بیٹے بھی باپ کے نقش قدم پر ، پھر کیا ہوا، ضرور جانیئے
تاہم اب پاکستانی مریضوں کے ترکی کو زیرِ غور لایا جارہا ہے جہاں علاج کی غرض سے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ترکی خود بھی دنیا بھر سے طبی سیاحت کے لیے آنے والوں کو حوصلہ افزائی کررہا ہے۔اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوگا جب ترک صدر پاکستان آئیں گے اور اس سلسلے میں معاہدہ کریں گے
فیصل واڈا کو ترس آگیا

ان للہ وانا الیہ راجعون ، ڈینگی کی متاثرہ خاتون فوت ہوگئی، بچے یتم ہوگئے
کراچی :ان للہ وانا الیہ راجعون ، ڈینگی کی متاثرہ خاتون فوت ہوگئی، بچے یتم ہوگئے ، سندھ میں یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی 16 افراد ڈینگی کے حملے میں بچ نہ سکے ، اس وفات کے بعد اب کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی،
پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی
محکمہ صحت سندھ کے مطابق ڈینگی کے خلاف موثر کارروائی کے باوجود پھر بھی کئ لوگ متاثر ہوگئے ہیں ، جن کا علاج معالجہ جاری ہے، محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہےکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی مچھر بے قابو ہوتا جارہا ہے اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں ڈینگی سے متاثرہ 400 سے زائد افراد کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے اجمیر نگری میں ایک ہی گھر کے 3 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں سے ایک 45 سالہ اسماء نامی خاتون نجی اسپتال میں دم توڑ گئیں۔سال 2019 میں سندھ بھر میں مجموعی طور پر 5 ہزار 190 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 4 ہزار 878 افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔
خبردار! ملک میں ڈینگی کے 50 ہزار مریض، 250 جاں بحق ،

خبردار! ملک میں ڈینگی کے 50 ہزار مریض، 250 جاں بحق ،
قومی ادارہ برائے صحت کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے جبکہ اس مرض میں مبتلا 250 سے زائد افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 27 ہزار ہے، جبکہ 44 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈینگی کے سب سے زیادہ کیسز جڑواں شہروں راول پنڈی اسلام آباد میں سامنے آئے جن کی تعداد 25 ہزار کے قریب ہے۔راول پنڈی، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ڈینگی نے تباہی مچا دی ہے، ایک ایک گھر میں کئی کئی افراد ڈینگی کا شکار ہیں۔اسلام آباد کے صرف 2 بڑے اسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں ہی ڈینگی کے ساڑھے 8 ہزار سے زائد پازیٹو کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
قومی ادارۂ صحت کے ذرائع کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 25 ہزار کے قریب ہے، اب تک جڑواں شہروں میں ڈینگی سے 35 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جمعے کو بھی ہولی فیملی اسپتال میں مورگاہ کا رہائشی آزاد نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔جمعے کی شام تک مجموعی طور پر ساڑھے 7 سو سے زائد مریض جڑواں شہروں کے اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، متاثرہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تعداد 35 ہے۔
رواں سال ملک بھر میں ڈینگی سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کلیکشن سینٹرز کو سختی سے ہدایات کی گئی ہیں کہ کسی قسم کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کرے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 27 ہزار ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 44 ہے۔موسم قدرے سرد ہونے پر ڈینگی کیسز میں 20 فیصد کمی آئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درجۂ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو گا تو ڈینگی کا از خود خاتمہ ہو جائے گا۔

اعتدال ہی بہتر ہے، کم اورزیادہ کھانےوالےخطرناک رجحان کا شکار ہوجاتے ہیں،ماہرین
نیویارک: انسان کو اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگی نعمتیں دی ہیں، وہ ان نعمتوں کا استعمال اگر طریقے کے مطابق کرے تو پھر ان میں اور بھی برکت پیدا ہوجاتی ہے اور ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کردے تو نقصان بھی ہوسکتا ہے ، جیسےکہ حال ہی میں تین الگ الگ تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے نفسیاتی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جو بہت کم یا بہت زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں خودکشی کا رجحان بھی اعتدال سے کھانے والوں کی نسبت پانچ سے چھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
چونیاں: درندہ صفت انسان نے خود ہی حقائق سے پردے اٹھادیئے
یہ تینوں مطالعات ڈاکٹر ٹوموکو یوڈو کی قیادت میں کیے گئے جو اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک، البینی میں صحتِ عامّہ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں؛ جبکہ ان مطالعات میں 36,000 سے زیادہ بالغ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔خودکشی کا رجحان بطورِ خاص کم کھانے والوں میں سب سے نمایاں طور پر دیکھا گیا۔واضح رہے کہ کھانے پینے میں بے اعتدالی کی تین الگ الگ صورتیں ہیں:
پہلی صورت میں متاثرہ فرد اپنا وزن بڑھنے سے اتنا زیادہ خوفزدہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کم کھاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا وزن بھی معمول سے نہایت کم رہ جاتا ہے۔ طبّی اصطلاح میں اسے ’’اینوریکسیا نرووسا‘‘ (Anorexia Nervosa) یا مختصراً اینوریکسیا کہا جاتا ہے۔
عرب دنیا کی سب سے بااثر خاتون کون؟
دوسری صورت میں متاثرہ فرد اتنا کھاتا ہے کہ بھوک ختم ہوجانے کے بعد بھی کھاتا رہتا ہے۔ اس کیفیت کو اردو میں بسیار خوری جبکہ انگریزی میں Binge-Eating کہا جاتا ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری
تیسری صورت میں متاثرہ فرد سب سے چھپ کر خوب کھاتا ہے لیکن احساسِ جرم میں مبتلا ہو کر زبردستی الٹیاں کرتا ہے، دست آور/ قبض کشا گولیاں کھاتا ہے یا پھر وزن گھٹانے والی دواؤں کا خوب استعمال کرتا ہے جو اس کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسے ’’بولیمیا نرووسا‘‘ (Bulimia Nervosa) یا مختصراً صرف بولیمیا کہتے ہیں۔
ٹی ٹونٹی کرکٹ میلہ آج سے فیصل آباد میں سجے گا، اقبال اسٹیڈیم میں انتظامات مکمل زونگ فور جی نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کا آغاز آج سے ہو گا
فیصل آباد: ٹی ٹونٹی کرکٹ میلہ اتوار سے فیصل آباد میں سجے گا۔ اقبال انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں انتظامات مکمل۔ • زونگ فور جی نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 13 سے 24 اکتوبر تک اقبال اسٹیڈیم میں جاری رہے گا. ملک بھر کے بہترین کرکٹر زونگ فور جی نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں شرکت کے لیے فیصل آباد پہنچ چکے ہیں۔
اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد 8 سال بعد ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ جہاں 96 بہترین کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے شائقین کرکٹ کی ایک بڑی تعداد اسٹیڈیم کا رخ کرے گی۔ نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کی تیاری کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈکی جانب سے کھلاڑیوں کی آمدن میں اضافہ کو ترجیح دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد میں شیڈول ٹی ٹونٹی کپ کی فاتح ٹیم کی انعامی رقم میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا۔13 سے 24 اکتوبر تک جاری رہنے والے ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گی۔ ایونٹ کی رنرزاپ ٹیم کو 25 لاکھ روپے بطور انعام دیا جائے گا۔ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں شیڈول ایونٹ کے دوران مین آف دی میچ کو 25 ہزار اور فائنل میچ کے بہترین کھلاڑی کو 35 ہزار جبکہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کوایک لاکھ روپےکی انعامی رقم دی جائے گی۔
ایونٹ کے بہترین بیٹسمین، باؤلر اور وکٹ کیپر کو بھی ایک ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گی۔ ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف 3 ٹی ٹونٹی میچوں پرمشتمل سیریز اور ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کی ڈرافٹنگ میں شامل کیا جاسکتا ہے تاہم نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کی منظوری کے بعدکھلاڑیوں کو اقبال اسٹیڈیم میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔
زونگ فور جی نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے تمام میچز ٹین اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس پر براہ راست نشر کیے جائیں گے۔ ایونٹ میں روزانہ 2 میچز کھیلے جائیں گے تاہم فائنل مقابلہ 24 اکتوبر کو ہوگا۔ پاکستانی وقت کے مطابق پہلا میچ روزانہ دوپہر 1:30 بجے اور دوسرا میچ 5:30 بجے شروع ہوگا۔ تمام میچوں کی تازہ ترین تفصیلات پاکستان کرکٹ بورڈ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کی جائیں گی۔
پی سی بی ہر میچ کی رپورٹ بھی شائع کرے گا۔ شان مسعود، کپتان سدرن پنجاب: سدرن پنجاب کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ قومی کرکٹ کو نئے ستارےدے گا۔ انہوں نے شائقین کرکٹ سے اسٹیڈیم آنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے جاوید میانداد انکلوژر کو فیملیز کے لیے مختص کیا ہے۔ امید ہےگراؤنڈ میں مداحوں کی بھرپور اسپورٹ میسر ہوگی۔
احمد شہزاد، نائب کپتان سنٹرل پنجاب: سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان احمد شہزاد نے کہا کہ شائقین کرکٹ کھیل کی جان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کی عوام کرکٹ اور کرکٹر سے بے حد محبت کرتی ہے۔ سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم کے اوپنر نے مداحوں کو اسٹیڈیم کا رخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمران فرحت، نائب کپتان بلوچستان: بلوچستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان عمران فرحت کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں شامل ٹیموں میں نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہترین کھلاڑیوں کی موجودگی میں فیصل آباد کی عوام کومعیاری کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ سرفراز احمد، کپتان سندھ: سندھ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ نئےڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے ماتحت پہلے ٹی ٹونٹی کپ میں معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے والدین کو بچوں کےہمراہ جاوید میانداد انکلوژر کی نشستیں بھرنے کی درخواست کی ہے۔
سہیل تنویر، کھلاڑی ناردرن: ناردرن کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑی سہیل تنویر کا کہنا ہےکہ فیصل آباد میں موجود کرکٹ کے مداح ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے میدان کا رخ کرتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ شائقین کرکٹ اتوار سے شروع ہونے والے ایونٹ میں بھی اپنی روایت کو برقرار رکھیں گے۔ محمد رضوان، کپتان خیبرپختونخوا: خیبرپختونخوا کرکٹ ٹیم کےکپتان محمد رضوان نے کہا کہ انہیں میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود مداحوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی منظوری کے بعد ہر ٹیم میں 10 سے 11 کھلاڑیوں کے پاس بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ ہے۔ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ: نیشنل ٹی ٹونٹی کپ سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ کا آغاز 13 اکتوبر سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوگا۔ ٹورنامنٹ سیکنڈ الیون ٹیموں میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرے گا۔
یہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو فرسٹ الیون ٹیموں میں بطور بیک اپ شامل کیا جاسکتا ہے۔ فرسٹ الیون ٹورنامنٹ کی طرح سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ میں بھی آخری روز کے علاوہ روزانہ 2 میچز کھیلے جائیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نیشنل اسٹیڈیم کراچی سے دونوں میچوں کے اختتام پر روزانہ راؤنڈ اپ جاری کرے گا۔ فرسٹ الیون اسکواڈز: بلوچستان: حارث سہیل (کپتان)، عمران فرحت (نائب کپتان)، عاکف جاوید، علی شفیق، عماد بٹ، اویس ضیاء، بسم اللہ خان (وکٹ کیپر)، حسین طلعت،امام الحق، عمران بٹ، محمد اصغر، محمد طلحہٰ، شہباز خان، تیمور خان، عمر گل اور یاسر شاہ۔
سنٹرل پنجاب: بابر اعظم (کپتان)، احمد شہزاد(نائب کپتان)، احمد بشیر، علی شان، بلال آصف، فہیم اشرف، حسن علی (فٹنس سے مشروط)، کامران اکمل، نسیم شاہ، رضوان حسین، سعد نسیم، سلمان بٹ، عمر اکمل، عثمان قادر، وقاص مقصوداورظفر گوہر۔ خیبرپختونخوا: محمد رضوان (کپتان، وکٹ کیپر)، صاحبزادہ فرحان (نائب کپتان)، عادل امین، فخر زمان، افتخار احمد، اسرار اللہ، جنید خان، خوشدل شاہ، محمد محسن، محمد الیاس، مصدق احمد، عمر خان، عثمان خان شنورای، ذوہیب خان، عمران خان جونیئر، عرفان اللہ شاہ۔
ناردرن: عماد وسیم (کپتان)، عمر امین (نائب کپتان)، علی عمران، آصف علی، حیدر علی، حماد اعظم، حارث رؤف، محمد عامر،محمد نواز، موسیٰ خان، نوید ملک، روحیل نذیر، شاداب خان، سہیل اختر، سہیل تنویر اور زید عالم۔ سندھ: سرفراز احمد (کپتان ، وکٹ کیپر)، اسد شفیق (نائب کپتان)، عابد علی، احسان علی، انور علی، فواد عالم، کاشف بھٹی، خرم منظور، میر حمزہ، مرزا احسن جمیل، محمد حسنین، عمیر بن یوسف، سعد علی، سعود شکیل، سہیل خان اور ولید احمد
سدرن پنجاب: شان مسعود (کپتان)، سمیع اسلم (نائب کپتان)، عامر یامین، بلاول بھٹی، محمد عرفان، محمد عباس(فٹنس سے مشروط)، محمد حفیظ، محمد عرفان (اسپنر)، راحت علی، سیف بدر،شعیب ملک، صہیب مقصود، عمید آصف، عمر صدیق، وہاب ریاض اور زاہد محمود
پرنس ہیری اور ایڈ شیران نے دماغی صحت پر ایک تحقیق جاری کی
انگلینڈ کے پرنس ہیری اور ایڈ شیران 10 اکتوبر کو عالمی دماغی صحت کے دن کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے ایک پرجوش ویڈیو بنائی ہے، جس سے ذہنی صحت کی اہمیت کو سمجھنے اور اس سے منسلک بدنما داغ مٹانے کے لئے وقف کیا جاتا ہے۔ لیکن تاروں کو ابتدائی پچ ای میل میں ہی عبور کرنا پڑا ہے کیونکہ جب ایڈ شیران شہزادہ ہیری کے دروازے پر پہنچے تو "گالے گرل” گلوکار کا خیال تھا کہ وہ ایک اور معاشرتی بدنما کے خلاف لڑنے کے لئے متحد ہو رہے ہیں۔
"میں آج واقعی بہت پرجوش ہوں ،” شیران نے کیمرے میں دیکھ کر کہا جیسے ہی ایک اسٹائلسٹ داڑھی تراشتا ہے۔ "میں جاؤں گا اور شہزادہ ہیری کے ساتھ کوئی چیز فلماؤں گا۔ اس نے مجھ سے اس کے ساتھ چیریٹی ویڈیو کرنے کے بارے میں رابطہ کیا جس کے بارے میں آپ جانتے ہو کہ اچھا لگ رہا ہے کیونکہ میں نے دور سے ہی اس کی تعریف کی ہے۔ ”
شیران نے پر جوش انداز میں شہزادہ ہیری کے دروازے پر گھنٹی بجائی ، جس میں "خدا بچانے والی ملکہ” (یا "میرے امریکیوں کے لئے” میرا ملک ، ‘Tis of thee ") ادا کیا جاتا ہے۔ ریڈ ہیڈ جوڑی اپنے منصوبے پر گفتگو کرنا شروع کردیتی ہے، جس کے بارے میں وہ دونوں ہی دل سے پرجوش ہیں ، ہیری نے مزید کہا کہ "یہ ایک مضمون ہے اور ایسی گفتگو جس کے بارے میں کافی بات نہیں کی گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ واقعی دنیا بھر کے لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔” شیران اس سے متفق ہے اور انکشاف کرتا ہے کہ وہ دراصل کہا مضمون کے بارے میں کوئی گانا لکھنا چاہتا تھا۔
https://www.instagram.com/tv/B3bZfCSJlFd/?igshid=1i8a67aj5w53z








