Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    جاپانی سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں جاپان کی Saitama یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ پودے اپنے اردگرد مادے کے ذرات خارج کرکے ایک دوسرے سے ‘بات چیت’ کرتے ہیں، یہ پودے اپنے قریب خطرے کو محسوس کرکے اس طرح آپس میں رابطہ کرتے ہیں،انہوں نے کیمرے میں ایک بائیو سنسر کا اضافہ کیا تھا جو سبز چمک خارج کرتا تھا تاکہ پودوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے calcium ions کو دیکھا جاسکے۔

    جاپانی سائنسدانوں نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ کس طرح پودے فضا کے ذریعے دئیے جانے والے خطرے کے سگنلز پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مادے کی بو پر صحت مند پودوں کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے پودے اپنے قریب موجود ایسے پودوں سے خارج مادے کی بو کو محسوس کرتے ہیں جن کو کیڑوں یا دیگر وجوہات کے باعث نقصان پہنچا ہوتا ہے، جس کے بعد مختلف دفاعی نظام متحرک ہوتے ہیں –

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں …

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح …

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط …

    پودوں کے باہمی رابطے کو ریکارڈ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پتوں اور کیڑوں سے بھرے ایک کنٹینر پر ایک پمپ لگایا اس کے ساتھ دوسرے ڈبے میں Arabidopsis thaliana نامی پودا تھا جس کے پتوں کو ان کیڑوں کو کھانے دیا گیا پھر یہ مشاہدہ کیا گیا کہ قریب موجود اسی قسم کے صحت مند پودے نے خطرے کے سگنلز پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

    https://youtu.be/wJ0SgwWG1q4

  • یوکرینی قیدیوں کو لے کر جانے والا روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    یوکرینی قیدیوں کو لے کر جانے والا روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    یوکرینی قیدیوں کو لے کر جانے والا روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق طیارہ آج صبح روسی شہر بیلگوروڈ کے قریب گر کر تباہ ہوا، طیارت میں 65 یوکرینی قیدی، عملے کے 6 اور دیگر 3 افراد سوار تھے،طیارے گرنے کے بعد اسکو آگ لگ گئی ہے، طیارے میں گرنے والے تمام افراد کی موت ہو گئی ہے،کوئی بھی زندہ نہیں بچا

    روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے فوجی طیارے کے تباہ ہونے کی فوری طور پر وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ طیارہ کیسے تباہ ہوا،روسی وزارتِ دفاع کے مطابق حکام نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور خصوصی ملٹری کمیشن جائے حادثہ پر روانہ ہوگیا ہے

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے 65 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق جہاز میں عملے کے پانچ افراد شامل تھے اور یہ 90 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،یوکرین کی سرحد سے متصل یہ علاقہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کی جانب سے مسلسل حملوں کی زد میں آیا ہے، ان میں دسمبر کا میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    بیلگورود کے علاقائی گورنر ویاچیسلاو گلاڈکوف کا کہنا ہے کہ وہ اس ’واقعے‘ سے آگاہ ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں،آئی ایل-76 ایک فوجی نقل و حمل کا طیارہ ہے جو فوجیوں، کارگو، فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کو ہوائی جہاز کے ذریعے لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

  • حوثیوں کے حملے،امریکا نےچین سے مدد مانگ لی

    حوثیوں کے حملے،امریکا نےچین سے مدد مانگ لی

    حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے، امریکا نے چین سے مدد مانگ لی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نےگزشتہ تین ماہ کے دوران چین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ متعدد بار بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا معاملہ ا ٹھایا ہے،اب امریکا نے چین سے یمنی حوثیوں کو کنٹرول کرنے میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے،امریکہ نے چین کو متعدد بار کہا کہ وہ ایران کو قائل کرے کہ وہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں‌پر حملےنہ کریں تاہم بیجنگ کی طرف سے مدد کےکوئی آثار نظر نہیں آرہے،وائٹ ہاؤس کے حکام نے رواں ماہ واشنگٹن ڈی سی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی رابطہ کے شعبے کے سربراہ لیو جیان چاو کے ساتھ ملاقاتوں میں اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا تھا

    چین نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں متعلقہ فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ بحیرہ احمر کے راستے سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنائیں

    حوثی باغیوں نے اسرائیل آنے اور جانیوالے جہازوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، حوثیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملےکے بعد اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے، ان حملوں‌کو تب تک جاری رکھیں گے جب تک اسرائیل غزہ کے خلاف کاروائی نہیں روکتا

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے 2 اینٹی شپ میزائل تباہ کر دیے ہیں جو بحیرہ احمر میں حملےکے لیے تیار تھے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اینٹی شپ میزائل بحیرہ احمر میں حملے کے لیے تیار تھے، بتایا جا رہا ہے کہ حوثیوں کے میزائل تجارتی جہازوں اور خطے میں امریکی بحریہ کےجہازوں کے لیے خطرہ ہیں اور امریکا کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا،

  • اسرائیل نے حماس کے ساتھ  جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط  رکھ دیں

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط رکھ دیں

    تل ابیب: اسرائیل نے حماس کے ساتھ 2 ماہ تک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے 6 شرائط پیش کردیں –

    باغی ٹی وی : اسرائیل نے مبینہ طور پر غزہ میں حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو دو ماہ تک روکنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بدلے میں تل ابیب حماس کے زیر حراست باقی 136 یرغمالیوں کی بتدریج رہائی کا خواہاں ہےAxios کی رپورٹ کے مطابق دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے یہ تجویز قطر اور مصر کے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی-

    اس سے قبل نومبر کے آخر میں، امریکہ اور قطر کی ثالثی میں دو ہفتے کی "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کے دوران 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا، لیکن اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے مزید معاہدے کی باتیں معدوم ہیں۔

    ترک سرکاری خبر ایجنسی انادولو کے مطابق اسرائیلی نیوز چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے 6 شرائط پیش کردئیے ہیں اور اب ثالثوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے جواب کا منتظر ہے اور اس کا جواب 48 گھنٹوں کے دوران متوقع ہے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    چینل 12 کے مطابق حماس سے بات کرنے کے بعد ثالثوں کا جواب آج یا کل تک آنے کا امکان ہے، جس میں طے ہوگا کہ آیا اس پر پیشرفت ہوسکتی ہے یا نہیں جبکہ حماس کا مطالبہ ہے جب تک اسرائیل غزہ کو آزاد نہیں چھوڑ دیتا، تب تک جنگ جاری رہے گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی اسی وقت ہوگا اسرائیلی عہدیدار کا نام ظاہر کیے بغیر رپورٹ میں بتایا گیا کہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم مذاکرات شروع کرنے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے 2 ماہ کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے پیش کش کی ہے لیکن شرائط کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا۔

    چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت نے 6 شرائط رکھ دی ہیں، جس میں سب سے اہم غزہ میں جنگ بندی کے جواب میں قیدیوں کا تبادلہ ہے، جو اس وقت اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران قید ہیں ، اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھا جائے گا اور عوامی سطح پر نہیں لایا جائے گا اور حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کو انسانی بنیادوں پر ہونے والے اقدام کے طور پر پیش کرے گا۔

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس بتدریج قیدیوں کو رہا کرے گی اور ابتدا میں خواتین، بزرگ اور زخمیوں کو آزاد کیا جائے گا او اس کے بعد ایسے افراد جو فوج کا حصہ نہ رہے ہوں اور آخر میں اسرائیلی فوج اور پھر ہلاک افراد کی لاشیں واپس کردی جائیں گی جنگ بندی کا عمل کئی ہفتوں یا ممکنہ طور پر دو سے تین ماہ جاری رہے گا اور قیدیوں کا مکمل تبادلہ کیا جائے گا، قیدیوں کے نام ان کی رہائی سے قبل دئیے جائیں گے اور ہر مرحلے پر اس سے آگاہ کیا جائے گا۔

    پانچویں شرط کے تحت غزہ پٹی میں اسرائیل اپنے فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی کرے گا اور رہائشی علاقوں سے فوج واپس بلائے گا، فلسطینیوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی، چھٹی شرط کے مطابق اسرائیل اس دوران کسی بھی موقع پر جنگ کے خاتمے کا وعدہ نہیں کرے گا جبکہ حماس اس سے قبل کئی مرتبہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک غزہ میں مکمل طور پر جنگ بندی نہیں ہوتی۔

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے جواب میں شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 25 ہزار 490 فلسطینی شہید اور 63 ہزار 354 زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 1200 اسرائیلی بھی ہلاک ہوگئے ہیں-

  • او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    دبئی: او آئی سی نے بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت کردی۔

    باغی ٹی وی: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے بھارتی شہر ایودھیا میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید کی گئی بابری مسجد کے مقام پر "رام مندر” کے افتتاح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جاری بیان کے مطابق او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے جس کا مقصد پانچ صدیوں قدیم بابری مسجد کی نمائندگی کرنے والے اسلامی نشانات کو مٹانا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز پیر کو ایودھیا میں ہندو رسومات ادا کرکے رام مندر کا افتتاح کیا تھا، اس موقع پر ہندو پنڈتوں، ارکان اسمبلی، کھلاڑیوں اور شوبز شخصیات سمیت 7 ہزار مہمان موجود تھے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    واضح رہے کہ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر 1528 میں یو پی کے شہر ایودھیا میں تعمیر کی گئی تھی جسے 1992 میں ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کرکے شہید کردیا تھا، جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

    برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا، بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے 1980 میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی تھی۔

    نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر معیشت سنبھالیں گے،جہانگیر ترین

    1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا جب کہ اس دوران 2 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دئیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیےکئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019کو بابری مسجد کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی اور مرکزی حکومت ٹرسٹ قائم کرکے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا جب کہ عدالت نے مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

    عمران خان نے نئے پاکستان کے نام پر مجھے بیوقوف بنایا،پرویز خٹک

  • گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں  بہترین کارکردگی دکھائی

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں بہترین کارکردگی دکھائی

    واشنگٹن: امریکی خبررساں ادارے ”بلومبرگ“ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حکومت نے گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اس ہفتے شائع ہونے والے ایک تجزیے میں بلومبرگ اکنامکس کےانکور شکلا نے کہا کہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نےعمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

    گزشتہ تین دہائیوں میں نواز شریف اور انکے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چار بار حکومت کی،بھٹو خاندان کی پیپلز پارٹی نے تین بار اقتدار سنبھالا ہے، جب کہ عمران خان اپریل 2022 میں ختم ہونے والی حکومت میں چار سالہ مدت کے لیے عہدے پر تھے، جنہیں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بلومبرگ اکنامکس نے 1990 کےبعد سے ملک پر حکمرانی کرنے والی ہر ایک بڑی سیاسی پارٹی کے دور اقتدار میں انڈیکس کی اوسط قدروں کا استعمال کیا، زیادہ قدر شہریوں کے لیے زیادہ معاشی مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے پاکستان کے لیے بلومبرگ اکنامکس مسری انڈیکس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے 14.5 فیصد، پاکستان تحریک انصاف کو 16.1 فیصد اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 17.2 فیصد اسکور کیے ہیں۔

    حالیہ گیلپ رائے شماری کے مطابق اعلیٰ مصائب کے اشاریہ کے باوجود عمران خان کی پارٹی اب بھی مقبول ترین سیاستدان ہے، جس کی درجہ بندی 57 فیصد ہے جبکہ نواز شریف کی ریٹنگ گزشتہ چھ ماہ میں 36 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے، بلومبرگ اکنامکس کےانکور شکلا نے رپورٹ میں لکھا کہ عوام شاید نواز شریف کو شک کا فائدہ دے رہے ہوں،انتخاب جیتنے والی کسی بھی پارٹی کے لیے آگے کی راہ آسان نہیں ہوگی، کیونکہ مہنگائی ریکارڈ بلندی کے قریب ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔

    پاکستان میں افراط زر کی شرح 30 فیصد کے قریب ہے، گزشتہ سال کرنسی ایشیا کی بدترین کارکردگی تھی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ہےملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مالیاتی بیل آؤٹ پر انحصار کر رہا ہے، اور فنڈ کی شرائط کے تحت، نئی حکومت کو ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی جو ووٹرز میں غیر مقبول ہوں، جیسے کہ سبسڈی واپس لینا اور ٹیکس بڑھانا۔

    آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ سال کے معاہدے کے بعد رواں مالی سال میں 2 فیصد بڑھے گی۔

  • غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: پیر کے روز جنوبی اور وسطی غزہ کی پٹی میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز کہا ہے کہ یہ حماس کے خلاف جنگ کے ایک دن میں سب سے بڑی اسرائیلی ہلاکتیں ہیں، جب کہ اسرائیل نے 2024 میں اب تک کے سب سے بڑے زمینی حملے کیے ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ہلاک ہونے والے 24 فوجیوں میں سے 21 اسرائیلی سرحد کے قریب علاقے کے اندر ایک ہی دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں اخبار نے اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر فوجی دو منزلہ عمارتوں کے اندر تھے جو بظاہر اسرائیلی فوج کی جانب سے عمارتوں کو برابر کرنے کے لیے رکھے گئے دھماکہ خیز مواد سے بھرے دھماکے میں منہدم ہو گئیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 24 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت سات اکتوبر 2023 کے بعد سے ایک دن میں اسرائیلی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے، اسرائیل غزہ میں حماس کے باقی ماندہ مضبوط ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے اور سرحد کے قریب علاقوں کو خالی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • کتنے افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر گئے؟یو این  افغان مشن نے اعدادوشمار جاری کر دیئے

    کتنے افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر گئے؟یو این افغان مشن نے اعدادوشمار جاری کر دیئے

    جنیوا: اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے15 ستمبر 2023 سے 13 جنوری 2024 کے درمیان پاکستان چھوڑ کر جانے والے افغان باشندوں کے تازہ ترین اعدادو شمار جا ری کر دیئے-

    باغی ٹی وی : آئی او ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2023 سے 13 جنوری 2024 کے درمیان 5 لاکھ 200 افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر گئے، یکم نومبر کے آس پاس ابتدائی عروج کے بعد سے ان سرکاری سرحدی مقامات کو عبور کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے لیکن یہ 15 ستمبر سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے افغان مشن نے پیر کے روز ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 17 لاکھ افغانوں کے لیے یکم نومبر کو دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے کے دنوں میں زیادہ تر افراد واپس روانہ ہوئےکچھ افغانوں کو جبری طور پر واپس آنے پر مجبور کیا جا سکتا ہےاور انہیں گرفتاری یا بدسلوکی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    دوسری جانب تجارتی ڈرائیوروں کے لئے دستاویزات کے قواعد پر تنازع کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مصروف ترین سرحدی کراسنگ دسویں روز بھی بند رہی یہ تنازع دونوں اطراف کے ڈرائیوروں کے لیے ویزا اور پاسپورٹ کے مطالبے پر مرکوز ہےوہ دستاویزا ت جو بہت سے افغانوں کے پاس نہیں ہیں کیونکہ پاکستان نے سرحد پار نقل و حرکت پر کریک ڈاؤن کیا ہے۔

    سکول،کالجز اور کاروباری مراکز کی بندش سےمتعلق نوٹیفکیشن جعلی ہے،اسلام آباد پولیس

    سندھ میں خام تیل کے بھاری ذخائر سے پیداوار کا کامیاب تجربہ

  • یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق پیر کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے لواحقین نے یروشلم میں پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس پر دھاوا بول دیا اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے مزید اقدامات
    کریں۔
    https://x.com/ogeday_nigar/status/1749425171163758671?s=20
    مظاہرین سکیورٹی حصار توڑ کر پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود کمیٹی میٹنگ روم میں داخل ہوئے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں، لواحقین نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حماس کے ساتھ معاہدے سے مسلسل انکار کی ضد پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وہاں چیخ و پکار کرتے ہوئے کہا کہ تم سب ابھی اسی وقت اپنی کرسیوں سے اٹھ جاؤ۔

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    اس سے قبل مرکزی تل ابیب اسکوائر میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں اکثریت گزشتہ برس احتجاج کرنے والوں کی تھی تاہم گزشتہ برس کے مظاہروں کے مقابلے میں لوگوں کی تعداد کم تھی،یرغمالیوں کی رہائی میں حکومتی ناکامی پر برہم مظاہرین نے نیتن یاہو کو شیطان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے الزامات عائد کردئیے مظاہرین نے اسرائیلی پرچم تھاما ہوا تھا اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور ڈھول بجاتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    حماس کے ساتھ جنگ میں مارے گئے ایک فوجی کے بھائی نوام ایلون نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں جس طرح 7 اکتوبر کو چھوڑا تھا وہ سلسلہ تاحال جاری ہے، تبدیلی اور معاملات ٹھیک کرنے کے لیے طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے دوران اغوا کیے گئے 130 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، نومبر کے آخر میں چھ روزہ جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگا،روسی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے سینیئر حماس رہنما موسیٰ ابومرزوق نےکہا کہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگااسرائیل معاہدے کے ذریعے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں لےگا، اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہےحوثی فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور مؤثر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہےہیں، تمام قوتیں غزہ میں نسل کشی بند کرانے کے لیےجرأت مندانہ اقدامات کریں۔

    اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

  • انڈین گلوکار کا لائیو کنسرٹ کے دوران مظلوم فلسطینیوں سے  اظہار یکجہتی

    انڈین گلوکار کا لائیو کنسرٹ کے دوران مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

    دبئی: انڈیا کے نامور گلوکار لکی علی نے دبئی میں لائیو کنسرٹ کے دوران مظلوم فلسطینیوں سے منفرد انداز میں اظہار یکجہتی کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں گلوکار نے کنسرٹ میں حاضرین سے گفتگو کرتے اسرائیل کی سخت ترین مذمت کی ہے،ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں صرف ایک ریاست ہونی چاہئے، اور میں نیتن یاہو سے متفق ہوں لیکن وہ ریاست فلسطین کی ہوگی، لکی علی کی بات پر حاضرین نے نعرے لگائے اور خوشی کا اظہار کیا، گلوکار نے اپنی بات کو دوہرایا اور مزید کہا کہ ہم سب لوگ مل جل کر رہ سکتے ہیں لیکن اس کیلئے ریاست صرف فلسطین کی ہوگی۔

    جہاں بہت سی مشہور شخصیات خاموش ہیں، اس شخص نے اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کیالکی علی اس سے قبل نومبر 2023 میں واشگاف انداز میں مظلوم فلسطینیوں کیلئے اپنی آواز اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے فلسطین جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

    دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا بتانا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ 62 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔