Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • میکسیکو اور چلی نے  اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی

    میکسیکو اور چلی نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی

    میکسیکو سٹی: اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے میکسیکو اور چلی نے عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میکسیکو اور چلی کی جانب سے دائر مشترکہ درخواست میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش کی جائےچلی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگی جرائم کا اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم ہوں یا فلسطین کی جانب سے، چلی تفتیش کی حمایت کرتا ہے۔

    اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے بھی عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی،دوسری جانب فلسطین میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر کے خلاف دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران شکایت درج کی گئی،سوئس پراسیکیوشن نے جمعہ کو کہا کہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے دورے کےموقع پر شکایت جمع کروائی گئی ہےفیڈرل پراسیکیوٹر آفس (بی اے) نےتصدیق کی ہےکہ اسے اسرائیلی صدر کے خلاف مجرمانہ شکایت موصول ہوئی ہے جو جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں غزہ جنگ پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔

    سینئیر لیگی رہنما کو پارٹی سے نکال دیا گیا،نوٹیفکیشن جاری

    بی اے نے ایک بیان میں کہا کہ مجرمانہ شکایات کی جانچ اب معمول کے طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی، "متعلقہ شخص کے استثنیٰ کے سوال کا جائزہ لینے کے لیے” وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا تاہم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ مخصوص شکایات کیا تھیں یا انہیں کس نے درج کروایا تھا۔

    مخالفین خلائی مخلوق سے امید لگائے ہوئے ہیں،بلاول بھٹو

    مخالفین خلائی مخلوق سے امید لگائے ہوئے ہیں،بلاول بھٹو

  • لندن :ریستوران کا مالک خاتون کے مشروب میں منشیات ڈالنے  کے الزام میں گرفتار

    لندن :ریستوران کا مالک خاتون کے مشروب میں منشیات ڈالنے کے الزام میں گرفتار

    لندن: لندن کے ایک ریستوران کے ڈائریکٹر پر مے فیئر میں ایک پرائیویٹ ممبرز کلب میں ایک خاتون کے مشروب کو تیز کرنے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائٹس برج روڈ کے 61 سالہ وکاس ناتھ 17 جنوری کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہوئےاس کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق، کمپنی کے پورٹ فولیو میں برطانیہ اور اسپین میں سات ریستوراں شامل ہیں، جن میں سے دو میکلین اسٹارز رکھتے ہیں۔

    پولیس افسران کو 15 جنوری کو مے فیئر میں ایک پرائیویٹ ممبرز کلب بلایا گیا تھا جب ایک خاتون مہمان کو اسپائک کرنے کی کوشش کی اطلاع کے بعد متعلقہ مقام کے عملے نے اطلاع دی تھی ناتھ کو کلب میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر جنسی جرائم ایکٹ کی دفعہ 61 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    چین میں آتشزدگی کے دو واقعات میں 21 افراد ہلاک

    اسے منگل کے اوائل میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب خاتون نے عملے کو منشیات کی مبینہ کوشش کے بارے میں بتایا مسٹر ناتھ نے باضابطہ طور پر درخواست داخل نہیں کی لیکن اشارہ کیا کہ انہوں نے الزام سے انکار کیا ہے۔

    ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کی عدالت نے سنا کہ مسٹر ناتھ نے جنسی سرگرمی کی اجازت دینے کے لیے عورت کے مشروب میں GBL – gamma-butyrolactone نامی دوا ڈالی-

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    اسے 14 فروری کو ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں اگلی پیشی کے لیے تحویل میں دے دیا گیا ہےجاسوسی انسپکٹر کیرون وان، جو تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ جس کسی کو بھی شبہ ہے کہ شاید ان پر حملہ کیا گیا ہے، اس سے جلد از جلد پولیس کو رپورٹ کرنے کی تاکید کی جاتی ہے تاکہ ہم تحقیقات میں مدد کرنے کے لیے کسی بھی وقت حساس شواہد حاصل کر سکیں۔

    مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    "اگر آپ کسی بار یا کلب میں ہیں تو آپ عملے کے کسی رکن کو اس کی اطلاع دے سکتے ہیں جو آپ کی مدد کرے گا۔ اگر آپ کو کوئی مشتبہ چیز نظر آئے تو بار کے عملے یا پولیس کو اس کی اطلاع دیں اگر آپ کسی جرم کا مشاہدہ کرتے ہیں تو براہ کرم 999 پر کال کریں اگر آپ کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد کے بارے میں کوئی معلومات ہیں تو براہ کرم 101 پر مقامی پولیس سے رابطہ کریں۔

  • چین میں آتشزدگی کے دو واقعات میں 21 افراد ہلاک

    چین میں آتشزدگی کے دو واقعات میں 21 افراد ہلاک

    بیجنگ: چین کے صوبے جیانگ سو میں ایک کاروں کے پرزے بنانے والی فیکٹری ورکشاپ میں ہونے والے دھماکے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خبررساں ادارے کے مطابق مقامی پولیس ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ ہفتہ کی صبح 3:38 بجے چانگ زو شینرونگ میٹل سائنس ٹیک کمپنی لمیٹڈ کی پیداواری سہولت میں ہوا جس سے 8افراد کی ہلاکت ہوئی ہے ریسکیو اہلکاروں نے ہلاک ہونے والو ں کو قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا ہے اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں فی الحال تحقیقات کے ساتھ ساتھ فالو اپ کام جاری ہے۔

    واضح رہے کہ شینرونگ میٹل سائنس ٹیک کمپنی لمیٹڈ کاروں کے پرزے تیار کرتی ہے اور اس کا شمار اپنے صارفین، جنرل موٹرز اور دیگر بڑے مغربی کار ساز اداروں میں ہوتا ہے۔

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

    دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی چین کے صوبے ہنان میں ایک اسکول کی ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ہنان کے علاقے یشاپو کے اسکول میں جمعے کی شب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 13 افراد ہلاک جبکہ ایک شخص جھلس کر زخمی ہوگیا ہے۔

    ثانیہ مرزا سے قبل شعیب ملک کی عائشہ صدیقی سے شادی کی کہانی

    چینی حکام کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ آتشزدگی کے بعد اسکول سے منسلک ایک شخص کو حراست میں لے کر واقعے سے متعلق تفتیش شروع کردی گئی ہے چینی حکام کی جانب سے تاحال یہ وضاحت نہیں دی گئی ہے کہ ہلاک شدہ افراد میں بچوں کی کتنی تعداد شامل ہیں۔

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

  • دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف  شکایت درج

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    غزہ: اقوام متحدہ کی ویمن ایجنسی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں خواتین کی شہادتوں پر نسلی خاتمے سے خبردار کردیا،جبکہ فلسطین میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر کے خلاف دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران شکایت درج کی گئی-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سوئس پراسیکیوشن نے جمعہ کو کہا کہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے دورے کےموقع پر شکایت جمع کروائی گئی ہےفیڈرل پراسیکیوٹر آفس (بی اے) نےتصدیق کی ہےکہ اسے اسرائیلی صدر کے خلاف مجرمانہ شکایت موصول ہوئی ہے جو جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں غزہ جنگ پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔

    بی اے نے ایک بیان میں کہا کہ مجرمانہ شکایات کی جانچ اب معمول کے طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی، "متعلقہ شخص کے استثنیٰ کے سوال کا جائزہ لینے کے لیے” وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا تاہم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ مخصوص شکایات کیا تھیں یا انہیں کس نے درج کروایا تھا۔

    اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    لیکن مبینہ طور پر شکایت کنندگان کی طرف سے جاری کردہ اور اے ایف پی کے حاصل کردہ ایک بیان جس کا عنوان ہے "انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف قانونی کارروائی” میں کہا گیا ہے کہ متعدد نامعلوم افراد نے باسل، برن اور زیورخ میں وفاقی استغاثہ اور کینٹونل حکام کے ساتھ الزامات کا مقدمہ دائر کیا ہے مدعیان اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے جنوبی افریقہ کے پیش کردہ مقدمے کے متوازی طور پر فوج داری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے تھے جس میں اسرائیل پر غزہ جنگ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے بیان میں تجویز کیا گیا کہ اسے "کچھ خاص حالات میں” بشمول انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے مقدمات میں اٹھایا جا سکتا ہے اور مزید کہا، یہ شرائط اس معاملے میں پوری ہو جاتی ہیں۔”

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک تقریباً 25 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے غزہ میں اسرائیلی بربریت پر اقوام متحدہ کی ویمن ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ غزہ میں ہر ایک گھنٹے میں دو ماؤں کو قتل کیا جارہا ہے، غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں میں 70 فیصد عورتیں اور لڑکیاں شامل ہیں۔

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    واضح رہے کہ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جن میں 18 فلسطینی شہید ہوگئے اسرائیلی فوج کے زیادہ تر حملے الشفاء اسپتال کے آس پاس کیے گئے ہیں جس میں شیلنگ اور بمباری کی گئی۔

    ادھر امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے میکسیکو اور چلی کے عالمی عدالت انصاف سے اسرائیلی حملوں پر تحقیقات کے مطالبے پر کہا ہےکہ اسرائیل کے جان بوجھ کر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

  • اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    اسرائیل کا دمشق میں ایرانی حکام کے زیر استعمال عمارت پر حملہ

    اسرائیل نے دمشق میں حملہ کیا ہے جس میں‌پانچ افراد کی موت ہوئی ہے

    شامی دارالحکومت دمشق میں اسرائیل نے ایرانی حکام کے زیر استعمال ایک عمارت کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملے میں پانچ افراد کی موت ہوئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کی بھی موت ہوئی ہے،ذرائع کا بتانا ہے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت ایرانی ایڈوائزرز کے زیر استعمال تھی،شام کے سرکاری میڈیا نے دمشق میں عمارت پر ممکنہ اسرائیلی حملہ رپورٹ کیا تھا

    دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے پبلک پراسیکیوشن نے اسرائیلی صدر کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا، سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی صدر کو عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی،اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہے ، اسرائیلی حکام کو سوئٹزرلینڈ کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    ن لیگ بلاول بھٹو زرداری کے لاہور این اے 127 سے خوف زدہ ہے

  • پاک ایران کشیدگی، امریکی صدر کا ردعمل

    پاک ایران کشیدگی، امریکی صدر کا ردعمل

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران خطے میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن نے پاک ایران کشیدگی کے حوالہ سے کہا کہ صورتحال کی پیشرفت سمجھنے کیلئے کام کر رہے ہیں،

    قبل ازیں امریکی قومی سلامتی امور کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ” امریکا نہیں چاہتا ہے کہ پاک ایران کشیدگی میں اضافہ ہو،جنوبی اور وسطی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے,صورتِحال کا بہت قریب سے جائزہ لے رہے ہیں،پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،ایران کا حملہ خطے میں عدم استحکام کے ایرانی رویے کا ایک اور مظاہرہ تھا، امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتا،

    تحمل کا مظاہرہ کریں تا کہ کشیدگی میں مزیداضافہ نہ ہو،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
    اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل نے بھی ایران اورپاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سلامتی کے تمام خدشات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، دونوں ممالک پر زور دیتے ہیں کہ تحمل کا مظاہرہ کریں تا کہ کشیدگی میں مزیداضافہ نہ ہو،دونوں ممالک خودمختاری، علاقائی سلامتی اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے مطابق مسائل حل کریں۔

    یورپی یونین نے بھی پاکستان ایران کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا،ترجمان یورپی یونین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر بڑھتے پُرتشدد واقعات پر گہری تشویش ہے،پاکستان، عراق اور ایران میں ہوئے حملے یورپی یونین کیلئے باعث تشویش ہیں، حملوں سے ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے، حملوں سے خطے میں عدم استحکام کے اثرات پیدا ہوئے ہیں

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • مسافر نے خاتون فلائٹ اٹینڈنٹ کو کاٹ لیا ، طیارے کو واپس  ائیر پورٹ جانا پڑا

    مسافر نے خاتون فلائٹ اٹینڈنٹ کو کاٹ لیا ، طیارے کو واپس ائیر پورٹ جانا پڑا

    ٹوکیو: جاپان سے ریاستہائے متحدہ جانے والی پرواز کو منگل کے روز ایک نشے میں دھت مسافر نے فلائٹاٹینڈینٹ کو کاٹ لیا جس کے بعد طیارے کو واپس ائیر پورٹ جانا پڑا-

    باغی ٹی وی : "نیو یارک پوسٹ ” نے جاپان ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ اے این اے کے ترجمان، آل نپون ایئرویز (اے این اے) کی فلائٹ 118 پر ایک "نشے میں دھت” 55 سالہ شخص نے عملے کے ایک رکن کے بازو کو کاٹ لیا فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارہ، جس میں 159 مسافر سوار تھے، رات 9:47 پر ٹیک آف کیا مقامی وقت کے مطابق 16 جنوری کو سیئٹل، واشنگٹن جانے والی پرواز کے لیے ،لیکن پرواز کی تھوڑی دیر بعد ہی اسے واپس ٹوکیو کے ہنیدا ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔

    اے این اے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ خاتون فلائٹ اٹینڈنٹ کو معمولی چوٹیں آئیں اور ٹوکیو میٹروپولیٹن پولیس نے طیارے کے ٹوکیو میں اترنے کے بعد نامعلوم امریکی شخص کو حراست میں لے لیا۔

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

    جاپانی نشریاتی ادارے ٹی بی ایس نے اطلاع دی ہے کہ کاٹنے والے مسافر نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ اسے جہاز میں موجود اپنا رویہ یاد نہیں-

    ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ منگل کے روز ایک امریکی ایئرلائن کے مسافر نے پرواز کے دوران کیبن کریو کی خاتون رکن کو مبینہ طور پر کاٹا، جس سے سیئٹل جانے والی آل نپون ایئرویز (ANA) کی پرواز کو ٹوکیو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    قبل ازیں 2 جنوری کو، ایک جاپان ایئر لائن کا طیارہ ہنیدا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نیچے اترنے کے بعد اس وقت آگ کی لپیٹ میں آگیا جب وہ کوسٹ گارڈ کے جیٹ سے ٹکرا گیا مسافر طیارے میں سوار تمام 379 افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تاہم کم از کم 17 مسافر زخمی ہو گئے اور کوسٹ گارڈ کے طیارے میں موجود عملے کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ان کا کپتان شدید زخمی ہو گیا۔

    گزشتہ ہفتے، ANA کی ایک اور پرواز کو جاپان میں ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور کیا گیا جب عملے کو بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ کی کھڑکی میں شگاف ملا۔

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

  • انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر  چاند پر جانے والا مشن ناکام

    انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر چاند پر جانے والا مشن ناکام

    چاند کے لیے روانہ ہونے والا خلائی جہاز پریریگرن لینڈر ناکام ہوگیا ہے اور کسی بھی وقت زمین پر گرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیریگرین خلائی جہاز جو 50 سال سے زائد عرصے میں چاند پر اترنے کے مقصد کے لیے پہلے امریکی مشن پر گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا – واپس زمین کی طرف گامزن ہے چاند پر اترنے کی ناکام کوشش ناسا کے کمرشل لونر پے لوڈ سروسز، یا CLPS، پروگرام کے لیے ایک دھچکا ہے، جو خلائی ایجنسی کو چاند کی سطح کی تحقیقات میں مدد کے لیے بھرتی کرتی ہے کیونکہ اس کا مقصد اس دہائی کے آخر میں انسانوں کو چاند پر واپس لانا ہے۔

    ایسٹروبولک ٹیکنالوجی کمپنی جس نے ناسا کے ساتھ 108 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت پیریگرین لینڈر تیار کیا تھا، نے اتوار کو انکشاف کیا کہ اس نے خلائی جہاز کو زمین کی طرف واپس آتے ہوئےدرمیانی ہوا کو اسے ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیاہے-

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

    اس خلائی جہاز کو چاند کے مشن پر روانہ کرنے والے ادارے ایسٹروبوٹک نے بتایا کہ وہ جہاز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے کمپنی نے خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا سے بھی رابطہ رکھا ہے مشن ناکام ہو جانے کے بعد یہ خلائی جہاز جمعہ کو کسی وقت زمین پر گر سکتا ہے ایسٹرو بوٹک نے پیریگرن کی زمین پر واپسی کو عمدگی سے کنٹرول کیا ہے اور اسے جنوبی بحرالکاہل میں کہیں گرالیا جائے گا۔

    عراق نے بھی ایران سے اپنا سفیر واپس بلالیا

    انسانوں کی باقیات، بٹ کوئن اور چند دوسری غیر روایتی اشیا لے کر چاند کے لئے روانہ ہوا تھا،یہ خلائی جہاز 20 پے لوڈز لے کر چاند کی سمت روانہ کیا گیا تھا پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلو گرام تھا ان میں دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ایک ٹکڑے کے علاوہ وکی پیڈیا کی ایک کاپی بھی شامل تھی سائنس فکشن ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک کے خالق جینی راڈنبیری کی باقیات بھی اس جہاز کے پے لوڈز کا حصہ ہیں۔

    برطانیہ میں خالصتان کے حامیوں کی جان کو خطرات،برطانوی پولیس نے وارننگ جاری …

  • مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    عائشہ ایوب

    پیدائش:18 جنوری 1983
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عائشہ ایوب نئی نسل کی شاعرات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ 18 جنوری 1983ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں ۔ ابتدائی تعلیم ممبئی اور سعودی عرب میں حاصل کی۔ وہ گزشتہ کئی سال سے لکھنؤ میں مقیم ہیں اورمختلف ادبی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اردو شاعری سے شغف ان کو بچپن ہی سے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مخاطب فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی اور اس کے ذریعے اردو کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔

    جہاں تک عائشہ کی شاعری کا تعلق ہے انہوں نے اپنے تجربات اور احساسات کو خوبصورت انداز میں شعری پیراہن میں ڈھال کر اظہار کے وسیلے کو احساس کی گرمی سے مالامال کیا اور اپنی آزاد و پابند شاعری میں احتجاج کے لہجے کے ساتھ نسائی احساسات و جذبات کو بھی خوبصورتی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عجلت میں وہ دیکھو کیا کیا چھوڑ گیا
    اپنی باتیں اپنا چہرہ چھوڑ گیا

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا

    خواب زدہ تھا باتیں کرتا رہتا تھا
    رونے والوں کو بھی ہنستا چھوڑ گیا

    دل کے اک کونے میں آہیں رکھی ہیں
    جانے والا اپنا حصہ چھوڑ گیا

    جتنی یادیں لے کے ہم کو مرنا تھا
    اتنی سانسیں دے کے زندہ چھوڑ گیا

    دیواروں سے لگ کے رو لیتے ہوں گے
    جن کو ان کا سایا تنہا چھوڑ گیا

    کمرے سے جس دن اس کی تصویر ہٹی
    آئینے نے دیکھ کے پوچھا چھوڑ گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا
    تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا
    سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا
    مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا
    ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو
    جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا
    اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے
    اگر یہ زخم ہے مالک اسے ہرا کرے گا
    میں جانتی ہوں کہ جتنا خفا بھی ہو جائے
    وہ میرے شہر میں آیا تو رابطہ کرے گا
    میں اس سے اور محبت سے پیش آؤں گی
    جو میرے حق میں کوئی عائشہؔ برا کرے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم سے آتا نہیں جدا ہونا
    تم مری آخری سزا ہونا
    جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو
    اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا
    اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے
    ان درختوں کا یوں ہرا ہونا
    کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو
    کتنا آسان تھا بڑا ہونا
    میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا
    مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
    بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
    ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
    سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
    مری تنہائی کا عالم تو دیکھو
    زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
    تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے
    ترے حصے کا شکوہ کر لیا ہے
    نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں
    خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ہے
    ترستے ہیں جسے ملنے کی خاطر
    اسی کو اپنی دنیا کر لیا ہے
    وہ کیا ہے عشق ہم نے اب کی جاناں
    تکلف میں زیادہ کر لیا ہے
    اندھیروں میں تو رکھتے ہی تھے خود کو
    اجالوں میں بھی تنہا کر لیا ہے
    کھلے پنجرے میں بھی جس کو ہے وحشت
    یہ دل ایسا پرندہ کر لیا ہے

  • تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے،  ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    چل دیئے سوئے حرم ، کوئے بتاں سے
    جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

    مومن خان مومن

    پیدائش:18جنوری 1801
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو غزل کے عظیم شاعر محمد مومن المعروف حکیم مومن خان مومن 18 جنوری 1801میں دہلی کے کوچہ چیلان کے ایک کشمری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مدار خان کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی ۔یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔ مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر دہلوی سے حاصل کی۔فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔دنیوی علوم کی تعلیم انہوں نے مکتب میں حاصل کی۔علوم متداولہ کے علاوہ ان کو طب،رمل،نجوم ریاضی،شطرنج اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی، جوا نی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے شاعری شروع کردی اور شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے لیکن جلد ہی انہوں نے مشق اور جذبات کے راست بیاں کے طفیل دہلی کے شاعروں میں اپنی خاص جگہ بنا لی۔

    مالی لحاظ سے وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔خاندانی پنشن ایک ہزار روپے سالانہ ضرور تھی لیکن وہ پوری نہیں ملتی تھی جس کا شکوہ ان کے فارسی خطوط میں ملتا ہے۔مومن خاں کی زندگی اور شاعری پر دو چیزوں نے بہت گہرا اثر ڈالا ۔ایک ان کی رنگین مزاجی تھی اور دوسری ان کی مذہبیت۔لیکن ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ حصہ ان کے معاشقے ہی ہیں۔محبت زندگی کا تقاضہ بن کر بار بار ان کے دل و دماغ پر چھاتی رہی۔ان کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔دہلی کا حسن پرور شہر اس پر مومن کی رنگین مزاجی،خود خوبصورت اور خوش لباس،نتیجہ یہ تھا انہوں نے بہت سے شکار پکڑےاور خود کم شکار ہوئے۔

    ” اے غزال چشم سدا میرے دام میں
    *صیاد ہی رہا میں،گرفتار کم ہوا“

    ان کے کلیات میں چھ مثنویاں شامل ہیں اور ہر مثنوی کسی معاشقہ کا بیان ہے۔نہ جانے اور کتنے معاشقے ہوں گے جن کو مثنوی کی شکل دینے کا موقع نہ ملا ہو گا۔مومن کی محبوباؤں میں سے صرف ایک کا نام معلوم ہو سکا۔یہ تھیں امتہ الفاطمہ جن کا تخلص "صاحب جی” تھا۔موصوفہ پورب کی پیشہ ور طوائف تھیں جو علاج کے لئے دہلی آئی تھیں۔مومن حکیم تھے لیکن ان کی نبض دیکھتے ہی خود ان کے بیمار ہو گئے۔متعدد معاشقے مومن کے مزاج کے تلون کا بھی پتہ دیتے ہیں۔اس تلوّن کی جھلک ان کی شاعری میں بھی ہےکبھی تو وہ کہتے ہیں۔

    اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

    اور پھر یہ بھی کہتے ہیں۔

    معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری
    واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

    مومن کے یہاں اک خاص قسم کی شانِ استغناء تھی۔ مال و زر کی طلب میں انہوں نے کسی کا قصیدہ نہیں لکھا۔ ان کے نو قصیدوں میں سے سات مذہبی نوعیت کے ہیں۔ایک قصیدہ انہوں نے راجہ پٹیالہ کی شان میں لکھا ۔اس کا قصہ یوں ہے کہ راجہ صاحب کو ان سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ ایک روز جب مومن ان کی رہائش گاہ کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ،انہوں نے آدمی بھیج کر انہیں بلا لیا،بڑی عزت سے بٹھایا اور باتیں کیں اور چلتے وقت ان کو ایک ہتھنی پر سوار کر کے رخصت کیا اور وہ ہتھنی انہیں کو دے دی ۔مومن نے قصیدے کے ذریعہ ان کا شکریہ ادا کیا۔دوسرا قصیدہ نواب ٹونک کی خدمت میں نہ پہنچ پانے کا معذرت نامہ ہے۔ کئی ریاستوں کے نوابین ان کو اپنے یہاں بلانا چاہتے تھے لیکن وہ کہیں نہیں گئے۔دہلی کالج کی پروفیسری بھی نہیں قبول کی۔
    یہ استغناء شاید اس مذہبی ماحول کا اثر ہو جس میں ان کی پرورش ہوئی تھی۔شاہ عبدالعزیز کے خاندان سے ان کے خاندان کے گہرے مراسم تھے۔مومن عقیدتاً کٹّر مسلمان تھے۔ 1818ء میں انہوں نے سید احمد بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی جہاد کی تحریک میں خود شریک نہیں ہوئے۔البتہ جہاد کی حمایت میں ان کے کچھ شعر ملتے ہیں۔ مومن نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی سے ان کی نہیں بنی پھر دوسری شادی خواجہ میر درد کے خاندان میں خواجہ محمد نصیر کی بیٹی سے ہوئی۔موت سے کچھ عرصہ پہلے وہ عشق بازی سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔1851ء میں وہ کوٹھے سے گر کر بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور پانچ ماہ بعد 14 مٸی 1852 میں ان کا انتقال ہوا ۔

    مومن کے شاعرانہ مرتبہ کے متعلّق اکثر نقّاد متفق ہیں کہ انہیں قصیدہ ،مثنوی اور غزل پر یکساں قدرت حاصل تھی۔قصیدے میں وہ سودا اور ذوق کے مرتبہ کو نہیں پہنچتے تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ اردو کے چند اچھے قصیدہ گو شعراء میں شامل ضرور ہیں۔مثنوی میں وہ دیا شنکر نسیم اور مرزا شوق کے ہم پلہ ہیں لیکن مومن کی شاعرانہ عظمت کا انحصار ان کی غزل پر ہے۔ایک غزل گو کی حیثیت سے مومن نے اردو غزل کو ان خصوصیات کا حامل بنایا جو غزل اور دوسری اصناف میں امتیاز پیدا کرتی ہیں۔ مومن کی غزل تغزّل کی شوخی،شگفتگی ،طنز اور رمزیت کی بہتریں ترجمان کہی جا سکتی ہے۔ان کی محبت جنسی محبت ہے جس پر وہ پردہ نہیں ڈالتے۔پردہ نشین تو ان کی محبوبہ ہے۔عشق کی وادی میں مومن جن جن حالات و کیفیات سے گزرے ان کو خلوص و صداقت کے ساتھ شعروں میں بیان کر دیا۔حسن و عشق کے خدّوخال میں انہوں نے تخیل کے جو رنگ بھرے وہ ان کی اپنی ذہنی اپچ ہے۔ان کے اچھوتے تخیل اور نرالے انداز بیان نےپرانے اور فرسودہ مضامین کو از سر نو زندہ اور شگفتہ بنایا۔مومن اپنے عشق کے بیاں میں ابتذال نہیں پیدا ہونے دیتے۔انہوں نے لکھنوی شاعری کا رنگ اختیار کرتے ہوئے دکھا دیا کہ خارجی مضامین بھی تہذیب و متانت کے ساتھ بیان کئے جا سکتے ہیں اور یہی وہ طرۂ امتیاز ہے جو ان کو دوسرے غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
    اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
    آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میں
    بنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح
    تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرے
    سب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح
    مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائے
    کہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح
    نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں
    کم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
    لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی
    قربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح
    پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے
    آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
    نے جائے واں بنے ہے نہ بن جائے چین ہے
    کیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
    معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میں
    کرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح
    ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے
    کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
    رنج راحت فزا نہیں ہوتا
    بے وفا کہنے کی شکایت ہے
    تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
    ذکر اغیار سے ہوا معلوم
    حرف ناصح برا نہیں ہوتا
    کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک
    جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
    ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
    اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
    دل کسی کام کا نہیں ہوتا
    امتحاں کیجیے مرا جب تک
    شوق زور آزما نہیں ہوتا
    ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے
    تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
    آہ طول امل ہے روز فزوں
    گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
    تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
    حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
    ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
    رحم کر خصم جان غیر نہ ہو
    سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
    دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو
    دست عاشق رسا نہیں ہوتا
    چارۂ دل سوائے صبر نہیں
    سو تمہارے سوا نہیں ہوتا
    کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ
    صنم آخر خدا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
    فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
    ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
    نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
    تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
    اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
    تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
    ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے
    ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
    لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
    کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
    گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے
    ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
    ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے
    ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا
    اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
    صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
    چارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے
    منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
    زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے
    تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
    گل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے
    غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
    کیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے
    داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
    یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے
    چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
    ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے
    پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
    پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
    سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنون
    وہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے
    عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
    آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
    آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

    تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
    ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں
    قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

    میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے
    تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

    کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کا
    نہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کا

    آپ کی کون سی بڑھی عزت
    میں اگر بزم میں ذلیل ہوا

    تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
    وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

    شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ
    رات کاٹی خدا خدا کر کے

    رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
    اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

    چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ
    جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

    ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کی
    آپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا

    ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی
    کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو

    مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی
    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

    ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
    پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

    وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
    تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

    کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں
    مجھ کو فکر جواب نے مارا

    اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

    نہ کرو اب نباہ کی باتیں
    تم کو اے مہربان دیکھ لیا

    حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
    ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

    ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں
    اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے

    اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
    شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

    الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

    مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
    بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

    بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ
    دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

    مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
    دوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

    اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوں
    دریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں

    چارۂ دل سوائے صبر نہیں
    سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

    غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
    میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

    معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری
    واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

    ہو گیا راز عشق بے پردہ
    اس نے پردہ سے جو نکالا منہ

    ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی
    ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

    کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی
    آشیاں اپنا ہوا برباد کیا

    راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
    کیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

    رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا
    رات کاٹی خدا خدا کر کے

    ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
    عذر کچھ چاہیے ستانے کو

    تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
    ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

    لے شب وصل غیر بھی کاٹی
    تو مجھے آزمائے گا کب تک

    ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے
    صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

    گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے
    مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

    بے خود تھے غش تھے محو تھے دنیا کا غم نہ تھا
    جینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھا

    محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
    رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا

    تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
    اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

    نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتا
    کہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھا

    ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار
    ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

    صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا
    لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم

    کل تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
    کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے

    اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
    زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

    دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
    دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

    نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے
    کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

    دھو دیا اشک ندامت نے گناہوں کو مرے
    تر ہوا دامن تو بارے پاک دامن ہو گیا

    سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا
    آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا

    مومن میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیں
    اس کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب

    ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
    لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

    میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ
    تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے

    پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع
    مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں

    گو کہ ہم صفحۂ ہستی پہ تھے ایک حرف غلط
    لیکن اٹھے بھی تو اک نقش بٹھا کر اٹھے

    اب شور ہے مثال جودی اس خرام کو
    یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

    دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
    اے ہم نشیں نزاکت آواز دیکھنا

    ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
    نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی