Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایران، فوجی اہلکار نے گولیاں چلا کر اپنے ہی پانچ ساتھیوں کو مار ڈالا

    ایران، فوجی اہلکار نے گولیاں چلا کر اپنے ہی پانچ ساتھیوں کو مار ڈالا

    ایران میں فوجی اہلکار نے گولیاں چلا کر اپنے ہی پانچ ساتھیوں کو مار ڈالا

    واقعہ ایران کے صوبے کرمان میں پیش آیا، فوجی اڈے پر ایران کے فوجی اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا ،فوجی اہلکار نے اسوقت فائرنگ کی جب اہلکار اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے، فوجی اہلکار نے فائرنگ کیوں کی وجہ سامنے نہیں‌آ سکی،واقعہ کے بعد فوجی اہلکار فرار ہو گیا ہے، جس کی تلاش جاری ہے،لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، علاقے بھر میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،

    واضح رہے کہ رواں ماہ کرمان میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 94 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، ان دھماکوں کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی،اس سے قبل 2022 میں ایک فوجی نے ملک کے جنوبی حصے میں واقع ایک پولیس اسٹیشن میں دوسرے فوجی اور تین پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا تھا

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

  • حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واشنگٹن: امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فضائی اور زمینی آپریشن اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اسرائیل حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے پاس اب بھی مہینوں تک لڑائی جاری رکھنےکے لیے گولہ بارود موجود ہےوہ اب بھی غزہ میں لڑائی کےساتھ اسرائیل میں راکٹ برسا سکتے ہیں، اسرائیلی حکام نے بھی یہ اعتراف کیا ہےکہ غزہ پر جنگ کے دوران حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا اور حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں اور اب ان کی حکمت عملی چھوٹے گروہوں میں لڑنا اور اسرائیلی فوجیوں کو گھات لگا کر غائب ہوجانا ہے-

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    اخبارکے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہےکہ حماس کے اہلکار ان علاقوں میں بھی واپس آگئے ہیں جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہےکہ اب وہ اس کے کنٹرول میں ہیں، حماس ان علاقوں میں سکیورٹی اور ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے والے اہلکاروں کی صورت میں موجود ہے ، سابق امریکی جنرل جوزف ووٹل نے اخبار کو بتایا کہ صورتحال ظاہرکرتی ہےکہ حماس نقصانات کے باوجود مزید لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہےکہ جنگ کے آغاز سے لےکر اب تک حماس نے اپنے 20 سے 30 فیصد جنگجوؤں کوکھو دیا ہے، اندازے کے مطابق حماس کے پاس جنگ سے قبل 25 ہزار سے 30 ہزار جنگجوؤں کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکار اور دیگر فورسز تھیں۔

    پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے ممکنہ تاریخ بتا دی

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری ایک سو سات روز سے مسلسل جاری ہے اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 62 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں،جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے-

  • سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے،تحقیق

    سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے،تحقیق

    جرمنی: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی :یہ انکشاف ماہرین نے جرمنی کی Ruhr University Bochum کی تحقیق میں کیا ہے،جس کے نتائج جرنل Telematics and Informatics Reports میں شائع ہوئے،اس تحقیق میں 1230 افراد کو ایک آن لائن سروے میں شامل کیا گیا تھا،یہ افراد ہر ہفتے کم از کم ایک بار کسی ایک سوشل میڈیا سائٹ کو استعمال کرتے تھے،ان افراد سے 6 مختلف سوالنامے بھروائے گئے اور یہ دیکھا گیا کہ وہ کس حد تک مادہ پرست رویوں کے حامل ہیں اور کس طرح دیگر سے اپنا موازنہ کرتے ہیں۔

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے …

    ماہرین کا کہنا تھا کہ مادہ پرست سوچ رکھنے والے افراد سوشل میڈیا سائٹس پر دیگر افراد سے اپنا موازنہ کرتے ہیں جب لوگ اپنا موازنہ دیگر سے کرتے ہیں تو انہیں مختلف ذہنی مسائل جیسے تناؤ کا سامنا ہوتا ہے تناؤ سے متاثر افراد کا زندگی پر اطمینان کم ہوتا ہے، سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ان افراد کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے جب بہت زیادہ مادہ پرست سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔

    بٹر چکن اور دال مکھنی کس نے ایجاد کی؟

    ماہرین نے بتایا کہ یہ زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے نتیجے میں ان افراد کی مادہ پرست سوچ زیادہ بڑھ سکتی ہےتحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مادہ پرستی اور سوشل میڈیا کے بے مقصد استعمال انہیں سوشل میڈیا کی لت کا شکار بھی بناتا ہے، سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت کو بتدریج کم کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس سے بھی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے ممکنہ تاریخ بتا دی

  • ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    تل ابیب: تل ابیب میں ہزاروں افراد نےاحتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مرکزی تل ابیب اسکوائر میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں اکثریت گزشتہ برس احتجاج کرنے والوں کی تھی تاہم گزشتہ برس کے مظاہروں کے مقابلے میں لوگوں کی تعداد کم تھی،یرغمالیوں کی رہائی میں حکومتی ناکامی پر برہم مظاہرین نے نیتن یاہو کو شیطان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے الزامات عائد کردئیے مظاہرین نے اسرائیلی پرچم تھاما ہوا تھا اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور ڈھول بجاتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    حماس کے ساتھ جنگ میں مارے گئے ایک فوجی کے بھائی نوام ایلون نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں جس طرح 7 اکتوبر کو چھوڑا تھا وہ سلسلہ تاحال جاری ہے، تبدیلی اور معاملات ٹھیک کرنے کے لیے طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت غیرمقبول ہوگئی ہے اور غزہ کی 4 ماہ طویل جنگ کے دوران مارے جانے والے فوجیوں کے رشتہ داروں اور دیگر شہریوں کی جانب سے حکومتی اقدامات پر تنقید کی جارہی ہے اسرائیل میں 2023 میں حکومت کے خلاف آئے روز احتجاج اور پرتشدد مظاہرے ہو رہے تھے لیکن 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شہریوں میں اتحاد نظر آیا تھا جہاں وہ حکومت اور فوج کی حمایت میں کھڑے ہوگئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ گزشتہ 4 ماہ سے جاری ہے اور اسرائیل میں رائے عامہ نیتن یاہو کے خلاف ہوگئی ہے اور قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا لیکن ان کی پوزیشن کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا ہے۔

    دوسری جانب جنگی کابینہ میں بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں کیونکہ نیتن یاہو حکومت میں برقرار رہنا چاہتا ہے، اپوزیشن لیڈر نے ایک ایسی متحدہ حکومت تشکیل دینے کی پیش کش کی ہے، جس میں نیتن یاہو کا کوئی کردار نہ ہو لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔

    اسرائیل کی جانب سے حماس کے قبضے سے یرغمالیوں کو آزاد نہ کروانے پر اسرائیلی کابینہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے وزیراعظم آفس پر دھاوا بول دیا اور صورتحال تقریباً ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔

    اسرائیلی فوج میں غزہ جنگ کی حکمت عملی پر بھی شدید اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں 3 کمانڈروں نے کہا کہ حماس کو شکست بھی دیں اور یرغمالی زندہ بھی بچائیں،دونوں کام ایک ساتھ ممکن نہیں،یرغمالیوں کی تیز ترین واپسی کا راستہ سفارتی طریقہ کار ہے۔

    ادھر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑے گا حماس رہنما موسیٰ ابو مرزوق کا روسی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا اسرائیل معاہدے کے ذریعے اپنے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں وصول کرے گا۔

    واضح رہے 7 اکتوبر سے اب تک فلسطین شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں۔

  • واٹس ایپ کا ایک منفرد فیچرمتعارف کرانے کا اعلان

    سلیکان ویلی: واٹس ایپ ایک بالکل منفرد فیچرمتعارف کرائے گا-

    باغی ٹی وی : WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کے ذریعے قریب موجود افراد سے فائلز شیئر کرنا بہت آسان ہو جائے گا، یہ نیا فائل شیئرنگ فیچر اس وقت اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں دستیاب ہے یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب دیگر افراد کی جانب سے شیئر کی درخواست کو منظوری دی جائے گی۔

    اس فیچر کے تحت صرف ان افراد سے فائلز شیئر کرنا ممکن ہوگی جو صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود ہوں گے اسی طرح واٹس ایپ میسجز اور کالز کی طرح فائل شیئرنگ کے فیچر کو بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہوگا جس سے آپ کا فون ان افراد کو نظر نہیں آئے گا جو آپ کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود نہیں ہوں گے۔

    یہ نیا فیچر عوامی مقامات پر کسی فرد کے ساتھ فوٹوز یا ویڈیوز شیئرنگ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا ابھی اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے تو ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک اسے تمام افراد کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی  کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    کنڑ : افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی کی تقریب میں شرکت کی، یہ تقریب کنڑ میں موجود مدرسہ دارا لحجراو الجہاد اور جامعہ منبہ الاسلام میں ہوئی تقریب میں دہشت گرد عظمت لالا اور مولوی فقیر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے تقریب میں متعدد افغان رہنماؤں نے بھی شرکت کی جس سے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    ایک جانب ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں لیکن دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی میں شرکت کی۔

    8 فروری کے الیکشن ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے،حمزہ شہباز

    کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے جسکا افغان حکومت کو بخوبی علم ہے کالعدم ٹی ٹی پی کی پاکستان کےخلاف دہشتگرد کارروائیوں کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا انہیں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنا ہے۔

    عمران خان کی فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، یہ ایک غلط فہمی …

    پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا

  • بٹر چکن اور دال مکھنی کس نے ایجاد کی؟

    بٹر چکن اور دال مکھنی کس نے ایجاد کی؟

    دہلی ہائی کورٹ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ اس نے دہلی کے موتی محل ریستوران کے مالکان کی طرف سے دائر درخواست منظور کر دیا ہے جس میں دریاگنج ریستوران پر موجد ہونے کا دعویٰ کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ درخواست گزار روپا گجرال نے کہا کہ دو ترکیبیں ان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ دونوں برانڈز جو اکثر ذرائع ابلاغ میں پکوانوں کی اصلیت پر چھائے رہتے ہیں، انکی بنیاد دریا گنج میں رکھی گئی تھی، جو مغلیہ اور نوآبادیاتی تاریخ سے مالا مال ہے۔درخواست گزار کے مطابق ان کے سسر مرحوم کندن لال گجرال نے یہ ڈش 1920 میں پشاور میں بنانا شروع کی تھی جو اب پاکستان میں بنائی جاتی ہے۔ مسٹر گجرال دہلی چلے گئے اور اسی نام کے علاقے میں دریا گنج کے نام سے پہلا ریستوراں کھولا۔

    تندوری کی خصوصیات
    1948 میں اور اس کے آس پاس، مسٹر گجرال نے دریا گنج میں موتی محل ہوٹل کے نام سے ایک ہوٹل بھی کھولا۔ اس وقت تک، اس ریستوراں کی تندوری خصوصیات – جو مسٹر گجرال نے پاکستان میں سیکھی تھیں – وزیر اعظم نہرو کی ضیافتوں، عشائیوں اور سیاسی ملاقاتوں کے لیے ضروری بن چکی تھیں،” دہلی ہائی کورٹ میں دائر 2,700 صفحات پر مشتمل مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا۔یہ 1975 میں تھا جب مسٹر گجرال نے اپنے کاروبار کو دہلی کے کئی دوسرے حصوں میں پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کے سسر تھے جنہوں نے مکنی کی چٹنی ایجاد کی تھی جو کھانے میں پانی کی کمی کو روکتی ہے۔ابتدائی دنوں میں چکن کے بغیر فروخت ہونے والے بچ جانے والے بچے کچے کو ریفریجریشن میں محفوظ نہیں کیا جا سکتا تھا، مسٹر گجرال اپنے پکے ہوئے چکن کے خشک ہونے کی فکر کرنے لگے، اور اس طرح انہوں نے ایک چٹنی ایجاد کی جس سے وہ انہیں دوبارہ ہائیڈریٹ کر سکتے تھے۔ اس کی ایجاد ‘مکھانی بٹر ساس’ تھی جس میں چکن کو ٹماٹر، مکھن، کریم اور کچھ مصالحوں کے ساتھ ایک لذیذ گریوی میں ابال کر نمی برقرار رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ اس طرح بٹر چکن تیار کیا گیا جس نے بعد میں پوری دنیا کا رخ کیا،” سوٹ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ پھر اس نے وہی نسخہ کالی دال پر لگایا، جس نے دال مکھنی کو جنم دیا۔

    دعووں کی تردید
    گجرال خاندان کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے، دریا گنج کے مالکان کا کہنا ہے کہ یہ آنجہانی کندن لال جگی تھے جنہوں نے دو ترکیبوں کا خیال پیش کیا۔ جواب دہندگان کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے، سینئر ایڈوکیٹ امیت سبل نے برقرار رکھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف الزامات "بے بنیاد اور کارروائی کی وجہ سے فقدان” ہیں۔
    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلا موتی محل ریستوراں پشاور میں کندن لال گجرال اور کندن لال جگی نے مشترکہ طور پر قائم کیا تھا۔ دریا گنج کے وکیل نے عدالت میں جمع کرایا "…. اس لیے مدعا علیہان اس تصویر کو استعمال کرنے کے برابر کے حقدار ہیں (کندن لال گجرال کے ساتھ نہرو کی ایک)”۔ عدالت میں کئی تصاویر پیش کی گئی ہیں، جنہیں گجرال خاندان کا دعویٰ ہے کہ جگی خاندان استعمال نہیں کر سکتا۔اس معاملے کی سماعت جسٹس سنجیو نرولا کی سنگل بنچ نے 16 جنوری کو کی تھی۔ عدالت نے دریا گنج ریستوران کے مالکان کو سمن جاری کرتے ہوئے ایک ماہ میں اپنا تحریری جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ عدالت نے موتی محل کی عبوری حکم امتناعی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 29 مئی کو ہوگی۔
    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کھانے کے بارے میں قانونی لڑائی لڑی گئی ہو۔ 2018 میں، جسٹس جینت ناتھ نے اپنے حکم میں کہا کہ ٹنڈے کبابی کا نام خاص طور پر محمد عثمان کا ہے، جو لکھنؤ، اتر پردیش میں حاجی مراد علی ‘ٹنڈے’ کے پوتے ہیں۔ عدالت نے ایم یو کے درمیان کیس کی سماعت کی۔ ایٹنگ پوائنٹ، مسٹر عثمان کی ملکیت ہے اور ایک مسابقتی فوڈ چین، لکھنؤ والے ٹنڈے کبابی، جس کی ملکیت محمد مسلم ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ وہ مسٹر علی کا پوتا ہے۔2018 میں، ایک ٹریڈ مارک سوٹ میں، دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع کاکے-دا-ہوٹل نے ناسک میں واقع کاکا-کا ہوٹل کے خلاف عدالت میں درخواست کی تھی، اور مؤخر الذکر سے کاکا-کا یا کاکے-دا کے استعمال سے باز رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے ناسک آؤٹ لیٹ کو بھی استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی۔

  • بھارت سے کابل جانے والا طیارہ گر کر تباہ

    بھارت سے کابل جانے والا طیارہ گر کر تباہ

    بھارت نئی دہلی سے کابل جانے والا طیارہ اتوار کی صبح افغانستان کے صوبے بدخشاں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں 71 افراد سوار تھے جن میں عملے کے 6 افراد بھی شامل تھے۔ جس میں کسی کے بچنے کی امید نہیں۔یہ حادثہ اس وقت رونما ہوا جب طیارہ شدید خراب موسم میں کنٹرول ٹاور سے رابطہ کھو بیٹھا اور پھر راڈار سے بھی غائب ہوگیا۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق جس علاقے میں یہ حادثہ رونما ہوا وہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ ایک بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ ان کا اس حادثے سے کوئی تعلق نہیں اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔


    بھارت کی وزارتِ ہوابازی نے سوشل میڈیا پورٹل X پر ایک پوسٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ یہ طیارہ بھارت کا نہیں ہے اور نہ ہی یہاں رجسٹرڈ ہے۔ پوسٹ کے مطابق یہ طیارہ مراکش سے تعلق رکھتا ہے۔افغانستان کے میڈیا آؤٹ لیڈ طلوع نیوز کے مطابق صوبہ بدخشاں کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری نے کہا ہے کہ یہ حادثہ ضلع کرنجان منجان میں رونما ہوا۔زیبام ضلع کی پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا کہ طیارہ توپ خانہ کے علاقے میں پہاڑ سے ٹکرا گیا تھا۔

  • اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگا۔

    باغی ٹی وی: روسی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے سینیئر حماس رہنما موسیٰ ابومرزوق نےکہا کہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگااسرائیل معاہدے کے ذریعے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں لےگا، اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہےحوثی فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور مؤثر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہےہیں، تمام قوتیں غزہ میں نسل کشی بند کرانے کے لیےجرأت مندانہ اقدامات کریں۔

    میکسیکو اور چلی نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر …

    دوسری جانب شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک میٹنگ پر مہلک اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک کار کو نشانہ بنایا ہے جس میں حماس کے دو اہم رہنما شہید ہوگئے،” روئٹرز "کے مطابق لبنان میں تین سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں حماس تحریک کے دو ارکان آج ہفتے کو شہید ہو گئے انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار میں سفر کررہے تھے تاہم حماس کے شہید رہنماؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی حماس یا حزب اللہ کی طرف سےان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    تاہم یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں ایک گھرکو نشانہ بنایا جس میں اس نے قدس فورس کے انٹیلی جنس اہلکار اور اس کے نائب کو ہلاک کر دیا اسرائیل نے یہ حملہ 3 جنگی طیاروں سے کیا جن کی مدد سے ایک عمارت پر کئی میزائل داغے اور اسے ملبے کاڈھیر بنا دیا گیاایرانی پاسداران انقلاب نے شام میں ہلاک ہونے والے 4 ایرانی فوجی مشیروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا جن کی شناخت امید وار، علی آقازادہ، حسین محمدی اور سعید کریمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے،چینی نائب وزیر خارجہ

    دوسری جانب غزہ کے رہائشی علاقوں اور اسپتالوں کے اطراف اسرائیلی فوج کی شدید بمباری جاری ہے7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں خان یونس میں نصر اور الامل اسپتال کے قریب فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کاسلسلہ جاری ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے بھی 22 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • برطانوی ممبران پارلیمنٹ کا  سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    برطانوی ممبران پارلیمنٹ کا سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    لندن: برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ نے برطانوی سکیورٹی کے وزیر کو خط لکھا جس میں برطانوی سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹ کے مطابق سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں زیر بحث آچکا ہے، اب برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے خط میں سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے خط میں سکھ کمیونٹی کو لاحق خطرات اور حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرنے کے ساتھ وزیر سکیورٹی ٹام ٹگینڈہاٹ سے فوری ملاقات کی درخواست بھی کی ہے لیبر پارٹی کے اراکین کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ کیا گیا ہے کہ اس ہفتے برطانیہ میں رہنے والے سکھ افراد کو برطانوی پولیس نے ان کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں سکھ کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برمنگھم میں اچانک موت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔