Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور بحیرہ احمر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات بھی زیرِ بحث آئےصدر رجب طیب اردوان نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور تعاون کا اظہار کیا۔

    ترک صدر نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیے گئے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد عالمی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوگا،دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

  • یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد  تین مقامات پر حملےکی،کارووائی   آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد تین مقامات پر حملےکی،کارووائی آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی ۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا،یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

    محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا،دوسری جانب یوکرین نے ان الزامات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ محسن رضائی کے تازہ دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز پرنامعلوم میزائل کا نشانہ

    آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز پرنامعلوم میزائل کا نشانہ

    آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ جہاز نے اطلاع دی کہ اسے ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ آ کر لگا، واقعہ عمان کے شہر الخصب سے تقریباً 20 ناٹیکل میل (تقریباً 37 کلومیٹر) شمال مشرق میں پیش آیا۔

    برطانوی بحری ادارے نے متاثرہ جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی فوری طور پر یہ بتایا کہ حملے سے جہاز کو کتنا نقصان پہنچا یا کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں،متعلقہ حکام واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت، استعمال ہونے والے پروجیکٹائل اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر سمندری راستوں میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے، حالیہ ہفتوں کے دوران خطے میں کئی بحری واقعات اور فوجی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی جہاز رانی پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ کاامریکی آئل کمپنیوں سے قیمتیں فوری کم کرنے کا مطالبہ

    ٹرمپ کاامریکی آئل کمپنیوں سے قیمتیں فوری کم کرنے کا مطالبہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی دو سب سے بڑی آئل کمپنیوں ایگزون موبل اور شیورون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث حد سے زیادہ منافع کما رہی ہیں-

    صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیں، شیورون اور ایگزون موبل بہت زیادہ پیسہ کما رہی ہیں جو کہ حد سے زیادہ ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ کے ایک ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بات بھول گئے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ذہانت، بصیرت اور طاقت کے بغیر یہ تیل کی صنعت اور ہمارا ملک تباہ ہو چکے ہوتے۔

    انہوں نے وینزویلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سے شیورون کو نکال دیا گیا تھا لیکن اب وہ واپس آ کر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور بھاری منافع کمانے کی توقع رکھ رہی ہےٹرمپ نے تیل کمپنیوں کو واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے لیے پیٹرول کی ریٹیل قیمتوں میں فوری طور پر کمی کریں، ایران کے ساتھ تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں زمین پر آ جائیں گی۔

    دوسری جانب امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی ترجمان نے کمپنیوں کا دفاع کرتے ہوئے بیان دیا کہ آج ایندھن کی بلند قیمتیں عالمی رسد، طلب اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہیں، اس میں کسی ایک کمپنی کا کوئی قصور نہیں ہے۔

    تاہم اس تنازع اور صدارتی تنقید کے باوجود شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے اپنے ملازمین کو ایک ای میل کے زریعے بتایا کہ وہ اس سال کی غیر معمولی آپریشنل کامیابیوں اور ریکارڈ منافع پر تمام ملازمین کو نصف ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر خصوصی بونس دے رہے ہیں، اس جیسے غیر معمولی سال میں اس قسم کے نتائج عام نہیں ہیں، یہ غیر معمولی حالات میں کی جانے والی غیر معمولی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

    امریکا میں رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے پیش نظر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ بن چکی ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے وہاں پیٹرول کی قیمتوں میں تیس فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہےاگرچہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے لیکن پیٹرول پمپس پر عام صارفین کو اس کا فوری فائدہ نہیں پہنچ پا رہا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کے باوجود ایگزون موبل اور شیورون کی جانب سے اس صدارتی بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے-

  • روس کے مقامی طور پر تیار کردہ جدید مسافر طیارے کی کامیاب پرواز

    روس کے مقامی طور پر تیار کردہ جدید مسافر طیارے کی کامیاب پرواز

    روسی طیارہ ساز کمپنی یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن نےاعلان،کیاہےکہ،روس کے جدید مسافر بردار طیارے ایم سی-21 کے بڑے پیمانے پر تیار کیے گئے پہلے ماڈل نے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کر لی ہے۔

    ماسکو ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ آزمائشی پرواز ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سائبیریا میں واقع اس طیارے کی اسمبلنگ فیکٹری کا اچانک دورہ کیا تھا، جہاں انہیں طیارے کی تیاری اور آزمائشی پرواز کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی تھی۔

    کمپنی کے مطابق ایم سی-21-310 طیارہ ارکتسک ایوی ایشن پلانٹ کے رن وے سے اڑا اور ایک گھنٹہ 23 منٹ تک فضا میں رہااس دوران طیارے نے 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی جبکہ 6 ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز کی،طیارہ اڑانے والے پائلٹ رومان تاسکایف نے پرواز کے بعد کہا کہ اسمبلی لائن سے تیار ہونے والے پہلے طیارے نے بہترین کارکردگی دکھائی اور پرواز کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔

    یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو افسر وادیم بادیکھا نے بتایا کہ ارکتسک کی فیکٹری اس وقت ابتدائی مرحلے میں 18 مسافر طیارے تیار کرنے کی تیاری کر رہی ہے، صدر ولادیمیر پیوٹن کے 24 جولائی کے دورے کے بعد حکومت نے مزید طیاروں کی تیاری کے احکامات بھی منظور کر لیے ہیں۔

    ایم سی-21 منصوبے کا آغاز 2009 میں کیا گیا تھا اور ابتدا میں اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2016 میں شروع ہونا تھی، تاہم مختلف پابندیوں اور بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے پرزوں کے متبادل تیار کرنے میں تاخیر کے باعث منصوبہ کئی برس پیچھے چلا گیا طیارہ تیار کرنے والے انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اب ایم سی-21 مکمل طور پر روس میں تیار کیے گئے پرزوں سے بنایا جا رہا ہے۔

    روسی سرکاری دفاعی ادارے روس ٹیک، جو یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن کی نگرانی کرتا ہے، کا ہدف ہے کہ ایم سی-21 کو 2026 کے اختتام تک تمام ضروری سرٹیفکیٹس حاصل ہو جائیں، جس کے چند ماہ بعد اس کی تجارتی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق طیارے کے چیف ڈیزائنر ویتالی ناریشکن نے کہا، کہ پیداوار اور آزمائشی مراحل کو ایک ساتھ جاری رکھنے سے سرٹیفکیشن مکمل ہونے اور طیاروں کی فراہمی شروع ہونے کے درمیان وقت کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔

  • ٹرمپ کا ایران کو "آخری موقع”، معاہدہ نہ ہونے پر سخت کارروائی کی دھمکی

    ٹرمپ کا ایران کو "آخری موقع”، معاہدہ نہ ہونے پر سخت کارروائی کی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو امریکہ کے ساتھ "اچھا معاہدہ” کرنے کے لیے "آخری موقع” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بات چیت صرف عمان کے ذریعے محفوظ سمندری راستے کے قیام سے متعلق ہے۔

    اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ متعدد خلیجی ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا اور ایران کو ایک آخری موقع دینے کی درخواست کی۔ ان کے مطابق، "بہت سے ممالک نے فون کیا، سب چاہتے تھے کہ ایران کو ایک آخری موقع دیا جائے، اور یہی اس کا آخری موقع ہے۔”صحافیوں کے سوال پر کہ ماضی میں بھی حملے مؤخر کیے جا چکے ہیں تو اس بار کیا فرق ہے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو "ہر ممکن آخری موقع” دینا چاہتے ہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو سخت کارروائی خارج از امکان نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر کام ہوگا، جس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    یہ دونوں نکات جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا بھی حصہ تھے۔

    تاہم اس سے قبل پیر کی صبح صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت "ناقابلِ یقین حد تک دوغلی” ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایران ایک طرف ملاقاتوں کی درخواست کرتا ہے اور مزید مذاکرات کا عندیہ دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور وہ صرف عمان سے رابطے میں ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ان کے بقول یہ آبی گزرگاہ پہلے ہی امریکی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی معاہدہ یا "مکمل ہتھیار ڈالنے” کی صورتحال سامنے نہیں آتی۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔”

    ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی بات چیت صرف عمان کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے ایک محفوظ اور عارضی راستہ قائم کرنا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے مشرقِ وسطیٰ پروگرام کے سینئر ایسوسی ایٹ پال سیلم نے کہا کہ ایرانی نظام طویل مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے عوامی مشکلات کی زیادہ پروا نہیں ہوتی۔ان کے مطابق، اس کے برعکس امریکہ جیسے جمہوری ملک میں عوام پر پڑنے والے معاشی اثرات حکومت کے لیے سیاسی قیمت کا باعث بنتے ہیں، اور صدر ٹرمپ کو بھی اس جنگ کے سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.09 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً 34 فیصد زیادہ ہے۔اسی دوران ایک حالیہ سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے فیصلے سے امریکہ کو نقصان پہنچا، جبکہ 65 فیصد نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملکی معاشی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔

    ادھر ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ملک کی قدرتی گیس کی پیداوار میں روزانہ تقریباً 230 ملین مکعب میٹر کی کمی آئی ہے۔ ایرانی حکام نے عوام سے توانائی کے کم استعمال کی اپیل کی ہے اور ممکنہ بجلی کی بندش سے بھی خبردار کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم مذاکرات کے مستقبل اور خطے میں امن و استحکام کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

  • اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا

    اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا

    اسرائیل کی ایک عدالت نے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب (نیگیو) میں واقع کیتزیوت جیل کے اطراف کھودی گئی خندقوں میں مگرمچھ چھوڑنے منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان فلسطینیوں کے لیے مختص جیل کے حصے کے گرد خندقیں کھودنا شروع کر دی تھیں، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بن گویر کے منصوبے کے مطابق ان خندقوں میں مگرمچھ رکھے جانے تھے تاکہ انہیں حفاظتی اقدام اور باز رکھنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اتوار کی شام جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’لیٹ دی اینیملز لِو‘ کی درخواست پر عارضی حکمِ امتناع جاری کیا اس منصوبے کی حمایت اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی اور اسرائیلی جیل سروس کر رہی تھی۔

    عدالت کے جج ابراہم روبن نے حکام کو ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدیت سلمن کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے روک دیا، جس میں مگرمچھوں کو قانونی طور پر نگہداشت میں رکھے جانے والے جنگلی جانورقرار دیا گیا تھا اس قانونی درجہ بندی کے بعد انہیں جیل منتقل کرکے وہاں رکھا جا سکتا تھا۔

    عدالت کا یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب مذکورہ تنظیم نے تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک کے تعاون سے وزیر ایدیت سلمن، ایتامار بن گویر اور اسرائیلی جیل سروس کے خلاف انتظامی درخواست دائر کی۔

    عدالت کی جانب سے جاری عارضی حکم اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیلی حکام عدالت میں اپنا جواب جمع نہیں کرا دیتے، جس کی توقع اگست کے وسط تک کی جا رہی ہے تنازع کی بنیاد 15 جولائی کو وزیر ایدیت سلمن کا وہ فیصلہ ہے، جس کا مقصد مگرمچھوں کو جیلوں میں حفاظتی اور باز رکھنے کے ذریعےکے طور پر استعمال کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

    درخواست گزار تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے مگرمچھوں کی قانونی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور ان پر بطور محفوظ جنگلی جانور لاگو نگرانی اور لائسنسنگ کے ضوابط ختم ہو جائیں گےاسرائیلی جیل سروس جیل کے گرد نہر نما خندق کی تعمیر سمیت بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کر چکی ہے، جبکہ وزارتِ قومی سلامتی نے اس آزمائشی منصوبے کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ شیکل (تقریباً 69 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں یہ فیصلہ مناسب قانونی اختیار کے بغیر کیا گیا اور ماہرین کی ان آراء کو نظر انداز کیا گیا جن میں جانوروں، عوام اور ماحولیات کے لیے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔

    لیٹ دی اینیملز لِواور تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم سے فی الحال ایسے ناقابلِ واپسی اقدامات رک گئے ہیں جو منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھا سکتے تھے، جبکہ تنظیم اس منصوبے کو مستقل طور پر منسوخ کرانے کی کوشش جاری رکھے گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایتامار بن گویر نے 2022 کے اواخر میں منصب سنبھالنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کی حراستی شرائط مزید سخت کر دی ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان پالیسیوں میں خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات سے محرومی، تشدد اور طویل تنہائی جیسی اقدامات شامل ہیں،فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9 ہزار 500 فلسطینی قیدی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سخت حالات میں قید ہیں۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ بھوک، تشدد اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث درجنوں فلسطینی قیدی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • برطانیہ میں یومیہ 2 لاکھ پاؤنڈ کا  پیٹرول چوری ہونے کا انکشاف

    برطانیہ میں یومیہ 2 لاکھ پاؤنڈ کا پیٹرول چوری ہونے کا انکشاف

    لندن: برطانیہ میں یومیہ تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈ کا پیٹرول چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ایران کی جنگ کے ساتھ شروع ہونے والے پیٹرول کے بحران کے بعد برطانیہ بھر کے پیٹرول پمپس سے ڈرائیور روزانہ تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا پیٹرول بغیر ادائیگی کے چوری کرکے لے جا رہے ہیں،پیٹرول چوری کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی کمپنی فور کورٹ آئی کے تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد کے 5 ماہ کے دوران، اس سے پہلے کے 5 ماہ کے مقابلے میں پیٹرول چوری کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے-

    فور کورٹ آئی کے مطابق،جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں چوری ہونے والے پیٹرول کی مجموعی مالیت میں 48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو ملک کے 8,359 پیٹرول پمپس پر روزانہ اوسطاً 194,000 پاؤنڈ تک پہنچ گیا ہے، پہلی بار بغیر ادائیگی کے پیٹرول لے جانے والوں کی تعداد میں 23 فیصد اضافہ جب کہ بار بار ایسا کرنے والوں کی تعداد 17 سے 20 فیصد رہی، اس کے علاوہ، چوری کیے گئے پیٹرول کی مقدار میں 26 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا، یہ اعداد و شمار ملک بھر کے 550 نمائندہ پیٹرول پمپس سے موصول ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔

    ایران جنگ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 27 پنس اور ڈیزل کی قیمت میں 37 پنس فی لیٹر اضافہ ہوا،پیٹرول ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے پمپ عملے سے بدسلوکی کے واقعات بھی بڑھ گئے۔

    فور کورٹ آئی نے اپنے صارفین کو پیٹرول چوری کی روک تھام کے لیے مفت ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے فیس واچ سسٹم کے ذریعے شناخت کیے گئے ملزمان کے بارے میں فوری اطلاع موصول ہو سکے گی۔

  • مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گرد و نواح میں آج علی الصبح 5.6 شدت کا زلزلہ آیا-

    مصری قومی ادارہ برائے فلکیاتی و جیو فزیکل تحقیق کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر ایک منٹ پر آیا، جبکہ اس کا مرکز سوئز شہر سے تقریباً 38 کلومیٹر دور واقع تھا۔ ادارے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں،زلزلے کے اثرات فلسطین، اردن، لبنان اور قبرص تک محسوس کیے گئے۔

    یورپی بحیرہ روم زلزلہ نگرانی مرکز (ای ایم ایس سی) کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی،جبکہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں کے دوران آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    دوسری جانب جرمن سینٹر فار جیو سائنسز نے زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی اور بتایا کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، ماہرین کے مطابق مختلف سائنسی اداروں کی جانب سے شدت میں معمولی فرق سامنے آنا معمول کی بات ہے کیونکہ ہر ادارہ اپنے الگ مشاہداتی نظام اور تجزیاتی طریقہ کار کے مطابق اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔

    مرکز طقس القدس نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 5.5 شدت کا زلزلہ مصر اور جنوبی فلسطین میں محسوس کیا گیا، جس کا مرکز سوئز کا علاقہ تھا ادارے نے مزید آفٹر شاکس کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے،مصری ہلال احمر نے ان تمام شہروں میں ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے امدادی ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی، کمزور یا دراڑوں والی عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ،کاکہناہےکہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ عمان کے ساتھ صرف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ رابطے صرف عمان کے ساتھ ہیں، عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے-

    انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں اور تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، اسی لیے اس سے متعلق معاملات پر علاقائی سطح پر مشاورت جاری رہنا ضروری ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔