انڈونیشیا میں ایک مسافر بردار فیری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کی قومی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی باسارناس (Basarnas) کے مطابق فیری میں آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے 7 بجے کے درمیان بھڑکی۔ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آگ لگتے ہی فیری میں موجود مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی افراد نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگا دی، جبکہ امدادی ٹیموں نے متعدد مسافروں کو بحفاظت نکال لیا۔
ریسکیو اداروں کی کشتیوں، بحری اہلکاروں اور دیگر امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ سرچ آپریشن میں سمندری اور فضائی وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر پانی میں بہہ جانے والے افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں مسافروں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ لاپتا افراد کی تلاش کا عمل مسلسل جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
مقامی انتظامیہ نے متاثرہ مسافروں کے اہل خانہ کے لیے امدادی مراکز قائم کر دیے ہیں، جہاں انہیں تازہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب متعلقہ حکام فیری میں آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تکنیکی اور فرانزک تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔
Category: بین الاقوامی
-

انڈونیشیا میں مسافر فیری میں خوفناک آتشزدگی، 5 افراد ہلاک
-

یوکرین کے روسی فوجی اڈوں اور آئل تنصیبات پر طویل فاصلے تک میزائل حملے
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں یوکرین نے روس کے فوجی اور توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت اور فوجی رسد کو متاثر کرنا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ یوکرینی افواج نے روس کے علاقے سراتوف میں دو اہم اسٹریٹجک مقامات پر کامیاب حملے کیے۔ یہ مقامات محاذ جنگ سے تقریباً 600 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں، جس سے یوکرین کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق حملوں میں سراتوف آئل ریفائنری اور اینگلز ملٹری ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ اینگلز ایئر بیس کو روسی فضائیہ کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے بھی آپریٹ کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ یوکرینی افواج نے کالوگا کے علاقے میں لیوڈینوسکایا آئل ڈپو پر بھی حملہ کیا، جہاں ایندھن ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے روسی فوج کو ایندھن اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق روس کے برائنسک علاقے میں بھی ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جہاں حملہ آور ڈرونز کو ذخیرہ، تیار اور لانچ کیا جاتا تھا۔ یوکرینی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مقام روسی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
صدر زیلنسکی نے اپنی دفاعی افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور روس کی ان تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا جو جنگی کارروائیوں اور مالی وسائل کی فراہمی میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب روس کی جانب سے فوری طور پر حملوں کے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم فوجی اور توانائی کے مراکز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ -

گردن پر پرفیوم لگانا کتنا محفوظ؟ ماہرین نے اہم احتیاطی مشورے دے دیے
کینسر پر تحقیق کرنے والی ایک محقق نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے دوران پرفیوم براہِ راست گردن پر چھڑکنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں، کیونکہ بعض خوشبو دار کیمیائی اجزا سے طویل عرصے تک مسلسل رابطہ صحت کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کے شعبۂ پیتھالوجی سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق اینا کینیڈاس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بتایا کہ پرفیوم میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں کیمیائی مرکبات شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی اجزا کی الگ الگ تفصیل درج کرنے کے بجائے انہیں صرف "Fragrance” یا خوشبو کے عمومی نام سے ظاہر کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کو اصل کیمیائی ساخت کا مکمل علم نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے فرنٹیئرز اِن ٹاکسیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کاسمیٹکس اور پرفیوم میں استعمال ہونے والے بعض اجزا، جن میں فتھیلیٹس، فارمل ڈی ہائیڈ اور وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (VOCs) شامل ہیں، اینڈوکرائن ڈسرپٹنگ کیمیکلز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ مادے جسم کے ہارمونز کے قدرتی نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں یا ہارمونز جیسا اثر پیدا کر سکتے ہیں، جس سے اینڈوکرائن نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس بات کے حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں کہ گردن پر پرفیوم لگانے سے براہِ راست کینسر ہوتا ہے۔ اصل تشویش ان کیمیائی مادوں سے مسلسل اور طویل مدتی رابطے کے ممکنہ اثرات سے متعلق ہے، جو وقت کے ساتھ صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق ان کا مقصد لوگوں کو پرفیوم کے استعمال سے خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں غیر ضروری کیمیائی اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معمولی مقدار میں بھی بعض کیمیائی مادے کئی دہائیوں تک روزانہ استعمال کیے جائیں تو ان کے جسم میں جمع ہونے کے امکانات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرینِ جلد کے مطابق گردن کی جلد جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے، اس لیے وہاں بعض اجزا نسبتاً زیادہ جذب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح گرم شاور لینے کے فوراً بعد پرفیوم لگانے سے بھی جلد کے مسام کھلے ہونے کی وجہ سے جذب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین احتیاطی تدابیر کے طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ پرفیوم کو براہِ راست گردن کے بجائے کپڑوں پر اسپرے کیا جائے یا اگر جلد پر لگانا ضروری ہو تو کلائی جیسے کم حساس حصے کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے علاوہ قدرتی یا آرگینک اجزا پر مشتمل پرفیوم استعمال کرنے اور نہانے کے فوراً بعد پرفیوم لگانے سے گریز کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ -

ایران کی بحری ناکہ بندی سے اسرائیل کا دفاع مشکل، امریکی جنرل کا پینٹاگون کو انتباہ
امریکا کی یورپی فوجی کمان کے سربراہ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار بحری وسائل پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے امریکی دفاعی حکمت عملی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یورپیئن کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گریگوری گرینکیوچ نے ذاتی حیثیت میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ اگر انہیں مزید ایک امریکی ڈسٹرائر فراہم نہ کیا گیا تو انہیں امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تقاضوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے احکامات کے بعد امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کو ممکنہ بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر موجود ہیں۔
امریکی فوج کی یورپیئن کمان اسرائیل کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ وہ بحیرۂ روم میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی کمانڈ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے دفاع اور یورپ میں ممکنہ روسی خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں کی بھی ذمہ دار ہے، جس کے باعث اس پر بیک وقت متعدد محاذوں کا دباؤ موجود ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس وقت دو امریکی ڈسٹرائر بحیرۂ روم میں تعینات ہیں، جبکہ تین ڈسٹرائر اسپین کے شہر روٹا میں موجود ہیں، جہاں سے وہ ضرورت پڑنے پر مختلف آپریشنز کے لیے روانہ کیے جا سکتے ہیں۔
تاحال امریکی محکمہ دفاع نے اس رپورٹ یا جنرل گرینکیوچ کے مبینہ انتباہ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی بحری اور دفاعی وسائل کی تقسیم ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔ -

غزہ: ریسکیو آپریشن میں ایک ہی خاندان کی 112 لاشیں ملبے سے برآمد
اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں 136 گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے ایک ہی خاندان کے 112 افراد کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کر لی گئیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید درجنوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے صبرہ میں جاری طویل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران الحساینۃ خاندان کے رہائشی بلاک کے ملبے سے بڑی تعداد میں لاشیں نکالی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن مسلسل 136 گھنٹے جاری رہا، جس کے دوران 112 افراد کی لاشیں اور باقیات برآمد ہوئیں، جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے۔
شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں الحساینۃ خاندان کا پورا رہائشی بلاک مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ اس مقام پر دو ہفتے قبل ریسکیو کارروائیاں شروع کی گئی تھیں، تاہم شدید تباہی اور محدود وسائل کے باعث آپریشن انتہائی دشوار ثابت ہوا۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے کرنل محمد ابو دان نے بتایا کہ کئی لاشیں کنکریٹ اور لوہے کے سریے کے نیچے بری طرح دبی ہوئی تھیں، جبکہ متعدد انسانی باقیات اس قدر متاثر ہو چکی تھیں کہ ان کی فوری شناخت ممکن نہیں رہی۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں 150 سے زائد مزید لاشیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن بھاری مشینری اور جدید ریسکیو آلات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
کرنل محمد ابو دان نے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں سے اپیل کی کہ غزہ میں فوری طور پر بھاری مشینری، ریسکیو آلات اور انسانی امداد فراہم کی جائے تاکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کا عمل تیز کیا جا سکے۔ -

شاہد آفریدی کا نرمل پرجا اور براڈ پیک حادثے کے جاں بحق کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت
پاکستان کے میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر گرنے والے برفانی تودے کے نتیجے میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (نمزدائی) سمیت 10 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔
نرمل پرجا کی کمپنی ’’ایلیٹ ایکسپیڈیشنز‘‘ نے بیان میں کہا کہ انتہائی دکھ اور بھاری دل کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ 43 سالہ نرمل پرجا جمعرات کو براڈ پیک پر گرنے والے برفانی تودے میں جان کی بازی ہار گئے۔
بعد ازاں ان کے بڑے بھائی کمل پرجا نے بھی اس افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نرمل کی یاد ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی اور ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
پاکستان کے قراقرم سلسلے میں واقع 8 ہزار 47 میٹر بلند براڈ پیک پر حادثے کے وقت نرمل پرجا ایک بین الاقوامی مہم کی قیادت کر رہے تھے، پاکستانی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں امریکا کی میلوری گیس، عمان کی نذیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم نے بھی نرمل پرجا سمیت چھ نیپالی اور چار غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کوہ پیماؤں کی بہادری، عزم اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
برطانیہ کے شہزادہ ولیم نے نرمل پرجا کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برطانوی فوج میں نمایاں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں دنیا کے عظیم ترین کوہ پیماؤں میں اپنا نام بنایا،جو کام ناممکن دکھائی دیتے تھے، انہیں ممکن بنانے کی ان کی انتھک جدوجہد، عاجزی اور بے لوث خدمت نے انہیں ایک منفرد شخصیت بنا دیا۔ میری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے اہلِ خانہ اور اس حادثے میں جان گنوانے والے تمام افراد کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
برطانوی وزیر دفاع نے بھی انہیں ایک غیر معمولی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیاں ہمیشہ دنیا کو متاثر کرتی رہیں گی۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے نرمل پرجا (نمز دائی) اور دیگر جاں بحق کوہ پیماؤں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس،پر اپنے پیغام میں کہا کہ کچھ ہیرو کھیل کے میدانوں یا اسٹیڈیمز میں نہیں کھیلتے بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر کے اپنی جرات اور عزم کی نئی مثالیں قائم کرتے ہیں، نرمل پرجا نے اپنی غیر معمولی ہمت، نظم و ضبط اور غیر متزلزل عزم سے ثابت کیا کہ اگر انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے،ان کی کامیابیاں صرف کوہ پیمائی تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے پوری دنیا میں لاکھوں افراد کو اپنے خوابوں کے حصول کے لیے حوصلہ اور امید فراہم کی۔
سابق کپتان نے اپنے پیغام میں براڈ پیک پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نرمل پرجا اور ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیماؤں کی المناک موت انتہائی افسوسناک ہے یہ حادثہ نہ صرف کوہ پیمائی کی دنیا بلکہ کھیل اور مہم جوئی سے وابستہ ہر فرد کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ نرمل پرجا اور ان کے ساتھیوں کی جرات، بہادری اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور آنے والی نسلیں ان کے عزم اور حوصلے سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔ ان کے مطابق ایسے افراد اپنی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اپنے بعد بھی دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیماؤں کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر عطا کرے۔
پاکستان کی معروف کوہ پیما اور الپائن کلب آف پاکستان کی نمائندہ نائلہ کیانی نے بتایا کہ نرمل پرجا نہایت تجربہ کار، بے خوف اور بہترین قائد تھے ان کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے کچھ لاشیں دیکھ لی ہیں، تاہم دشوار گزار علاقے اور خراب موسم کے باعث ان تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے الپائن کلب کا کہنا ہے کہ تمام لاشیں ملنے کے بعد ہی حتمی اعلان کیا جائے گا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز نے نرمل پرجا کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایڈیٹر اِن چیف کریگ گلینڈے نے کہا کہ نمز نے مسلسل انسانی جسم کی صلاحیتوں کی حدوں کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کوہ پیمائی کا ایسا منفرد انداز متعارف کرایا جس نے نہ صرف خود انہیں بلکہ پوری عالمی کوہ پیمائی برادری کو نئے چیلنجز سے روشناس کرایا شیرپا گائیڈز اور پورٹرز کی غیر معمولی خدمات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نمز کی انتھک کوششیں ان کا ایسا ورثہ ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
نرمل پرجا 2019 میں اس وقت عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچے جب انہوں نے دنیا کی 14 بلند ترین، آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلند چوٹیوں کو صرف 189 دن میں سر کر کے سات برس سے زائد پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا تھا ان کی غیر معمولی کامیابی پر مبنی نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم”14 Peaks: Nothing Is Impossible” نے بھی انہیں دنیا بھر میں مزید مقبول بنایانرمل پرجا نے برطانوی فوج میں 16 برس خدمات انجام دیں، جن میں 10 برس اسپیشل فورسز میں شامل تھے انہیں 2018 میں انتہائی بلند پہاڑوں پر غیر معمولی کارکردگی کے اعتراف میں ایم بی ای (MBE) سے بھی نوازا گیا تھا۔
حادثے سے چند روز قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ براڈ پیک ان کے اصل منصوبے کا حصہ نہیں تھا، تاہم اگر وہ یہ چوٹی بھی سر کر لیتے تو بغیر اضافی آکسیجن کے تمام 14 آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو دوسری مرتبہ سر کرنے والے دنیا کے پہلے انسان بن جاتے ان کی یہ خواہش ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ گئی، مگر ان کی جرات، عزم اور کارنامے تاریخ کا مستقل حصہ بن گئے۔
-

غزہ میں اسرائیلی فوج،کاتازہ حملہ، 9 فلسطینی شہید، 18 گرفتار
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قابض فوج کے تازہ حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں چھاپہ مارا اور 18 فلسطینی گرفتار کرلیے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے اطلاع دی کہ غزہ شہر کے شمال مغرب میں شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی ڈرون نے لوگوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئےوسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں ایک الگ ڈرون حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
خان یونس کے شمال مغرب میں القارا کے علاقے المواسی میں اسرائیلی حملے میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کے بعد ایک بچے سمیت تین فلسطینی ہلاک ہو گئے،غزہ شہر کے الصابرہ محلے میں، اسرائیلی حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ شہر کے جنوب مغرب میں تل الحوا محلے میں ایک مکان کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے میں مزید دو فلسطینی مارے گئے۔
وفا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی گولہ باری نے دیر البلاح میں الاقصی شہداء ہسپتال میں ادویات اور طبی سامان پر مشتمل ایک گودام کو بھی تباہ کر دیا، جس سے اس سہولت اور قریبی خیموں کو بہت نقصان پہنچا۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے متعدد علاقوں میں چھاپوں کے دوران 18 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق صوبہ ہیبرون کے علاقے مسافر یتہ کے گاؤں خشم الدراج سے 11 فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی فورسز نے تعاقب اور ان پر حملہ کرنے کے بعد حراست میں لیا،اسرائیلی فورسز نے صوبہ نابلس میں عینابس، برقعہ اور اسیرا الشمالیہ کے قصبوں اور دیہاتوں میں بھی چھاپے مارے، متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا اور ایک مکان کو عارضی فیلڈ تفتیشی مرکز میں تبدیل کر دیابیت لحم کے مغرب میں وادی فوکن، کنٹینر فوجی چوکی اور طوباس کے جنوب مشرق میں تممون قصبے سے مزید تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
-

امریکا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں فائرنگ، 3 ہلاک، متعدد زخمی
امریکا میں ایک فاسٹ فوڈ چین میں فائرنگ کے واقعے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست آئیڈاہو کے شہر ٹوئن فالز میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹرنٹ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں تازہ اطلاعات کے مطابق 3 افراد ہلاک اور 7 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،فائرنگ ہفتے کی ایک مصروف شاپنگ ایریا میں ہوئی مشتبہ حملہ آور واقعے کے بعد مردہ پایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے فوری خطرہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ حملے کا محرک تاحال معلوم نہیں ہو سکا،وفاقی ادارے بھی مقامی پولیس کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔
-

امریکا کسی بھی ایڈونچر سے باز رہے، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارحیت میں علاقائی ممالک بھی شریک ہوئے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ رات فیلڈ مارشل عاصم منیر ، سعودی عرب اور ترک وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی،عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارحیت میں علاقائی ممالک بھی شریک ہوئے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہو گی، ایرانی انفراسٹرکچر پرحملے کیے گئے تو میدان جنگ سے باہر اثرات ہوں گے، مغربی طاقتوں کی جانب سے ڈھائی سو سال میں بنایا گیا گلوبل آرڈر تباہ کر دیا جائے گا، نظام کے ستون ٹوٹیں گے تو کمانڈ سینٹر بچے گا نہ لوٹ کیلئے مارکیٹ بچے گی۔
ایرانی خبررساں ایجنسی وانا کے مطابق ایک سینیئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں،عہدیدار نے امریکی میڈیا میں ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹس کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے ہم نے صہیونی ریاست کے اہم انفراسٹرکچر اور خطے میں امریکی توانائی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے جامع ردعمل کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے اور ہم اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔
-

ایران پر حملہ فوری معاہدے سے مشروط قرار دے کر منسوخ کر دیا، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے کئی ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت متعدد علاقائی رہنماؤں نے بھی کشیدگی کم کرنے اور جنگ سے گریز پر زور دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ان کے مطابق یہ اقدام دنیا کے مستقبل اور ایران کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اسرائیل نے بھی حملے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اور اس کے اتحادی تباہ کن کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاسعودی ولی عہد نے ایران پر امریکا کی جانب سے بڑے حملوں کے ممکنہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے اور فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے،قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔