بنگلادیش نے جلاوطن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی نئی دہلی سے متوقع ورچوئل خطاب کے معاملے پر بھارت سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک مفرور شخصیت کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بنگلادیش کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جو شیخ حسینہ کے 5 اگست کو نئی دہلی میں جنوبی ایشیا کے فارن کورسپانڈنٹس کلب کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب میں متوقع آن لائن خطاب کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تقریب بنگلادیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک کی دوسری برسی کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
ڈھاکا حکومت مسلسل بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ ان کے خلاف بنگلادیش میں متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، تاہم انہوں نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
بنگلادیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مستقبل پر مبنی مثبت تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس پیش رفت پر کوئی منفی اثر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کو اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کی متوقع ورچوئل تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی حوالگی کا معاملہ بھی سفارتی سطح پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اگر بھارت انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے تو یہ معاملہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
Category: بین الاقوامی
-

شیخ حسینہ کی مجوزہ ورچوئل تقریر پر بنگلادیش نے بھارت سے مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کر دیا
-

متحدہ عرب امارات میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس کی منفرد شادی
متحدہ عرب امارات میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک منفرد اور دلچسپ واقعہ پیش آیا، جہاں اپنی نوعیت کی پہلی تقریب میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس نے شادی کے بندھن میں بندھ کر سب کی توجہ حاصل کرلی۔ اس غیر معمولی تقریب نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی لوگوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہو رہا ہے۔
اماراتی میڈیا کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہیومنائیڈ روبوٹ ‘بو سنیدہ’ اور ‘موزہ’ کی شادی یکم اگست کو ایک خصوصی تقریب میں انجام پائی۔ یہ تقریب علامتی نوعیت کی تھی جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کو منفرد انداز میں پیش کرنا تھا۔
’بو سنیدہ’ ایک ایسا ہیومنائیڈ روبوٹ ہے جو سوشل میڈیا پر پہلے ہی اپنی منفرد شخصیت اور روایتی اماراتی لباس کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ یہ روبوٹ مختلف تقریبات، نمائشوں اور عوامی پروگراموں میں لوگوں سے گفتگو اور تعامل کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے عوام کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی ہے۔
روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی کے مطابق ‘بو سنیدہ’ دراصل Unitree G1 پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ایک تحقیقی ہیومنائیڈ روبوٹ ہے، جسے مصنوعی ذہانت، انسانی رویوں کی نقل، اور روبوٹکس کے جدید تجربات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘موزہ’ بھی اسی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی روبوٹ ہے، جسے انسانی انداز میں گفتگو اور حرکات کے قابل بنایا گیا ہے۔
اگرچہ یہ شادی حقیقی قانونی یا سماجی شادی نہیں بلکہ ایک علامتی اور نمائشی تقریب تھی، تاہم اس نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار اور مستقبل میں انسان اور مشین کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی سرگرمیوں کا مقصد عوام کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا اور روبوٹکس میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دلچسپ انداز میں پیش کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل روس میں بھی دو روبوٹس کی علامتی شادی کی تقریب منعقد کی گئی تھی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اب متحدہ عرب امارات نے بھی اس منفرد روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور دلچسپ مثال قائم کر دی ہے۔ -

مراکشی خاتون فٹبالر اسپین پہنچنے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر جاں بحق
مراکش کی خاتون فٹبالر فاتن بن عمر العزیزی اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں۔ ان کی المناک موت نے مراکش، خصوصاً شمالی علاقوں اور فٹبال حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاتن بن عمر العزیزی ماضی میں مراکش کے معروف فٹبال کلب موغریب ایتلیٹک تطوان کی نمائندگی کر چکی تھیں اور انہیں ایک باصلاحیت اور محنتی کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی اچانک وفات پر ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور مداحوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق فاتن العزیزی شمالی مراکش سے اسپین کے علاقے سیوٹا پہنچنے کے لیے خطرناک سمندری راستہ اختیار کر رہی تھیں۔ دوران سفر پیش آنے والے حادثے کے باعث وہ سمندر میں ڈوب گئیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔
حالیہ ہفتوں میں شمالی مراکش سے سیوٹا کی جانب غیر قانونی طور پر ہجرت کی کوششوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بہتر معاشی مواقع اور یورپ پہنچنے کی خواہش میں بہت سے افراد خطرناک سمندری راستے اختیار کرتے ہیں، جہاں خراب موسم، تیز لہریں اور ناکافی حفاظتی انتظامات متعدد جانیں لے چکے ہیں۔
فاتن بن عمر العزیزی کی موت نے ایک بار پھر غیر قانونی ہجرت کے دوران پیش آنے والے انسانی المیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ محفوظ اور قانونی ذرائع کے بجائے خطرناک راستے اختیار کرنے سے قیمتی جانوں کا ضیاع بڑھ رہا ہے۔
فٹبال برادری نے فاتن العزیزی کو ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور پرعزم کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات کھیل کے میدان کے لیے بھی بڑا نقصان ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں صارفین نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خطرناک راستے ہر سال بے شمار خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ محفوظ اور قانونی نقل و حرکت کے مواقع کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ -

آبنائے ہرمز پر ایران سے جلد معاہدہ ہوسکتا ہے، امریکی وزیر خزانہ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان پیش رفت جاری ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھے تو معاہدہ آئندہ ایک یا دو روز میں طے پا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر جلد اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات یا شرائط بیان نہیں کیں۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت کل بھی سامنے آ سکتی ہے اور اگر مزید وقت درکار ہوا تو معاہدہ پرسوں تک بھی طے پا سکتا ہے۔ ان کے بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں کی صورتحال کے تناظر میں نئی توقعات کو جنم دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ ایسے میں کسی ممکنہ معاہدے کی خبر کو خطے میں استحکام اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اب تک ایرانی حکام کی جانب سے امریکی وزیر خزانہ کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز اس معاملے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔ -

خلا سے زمین کے گرد قطبی روشنیوں کا دلکش منظر، ناسا نے حیرت انگیز تصاویر جاری کردیں
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلا بازوں نے زمین کے گرد پھیلی دلکش قطبی روشنیاں، جنہیں ارورا (Auroras) کہا جاتا ہے، کا شاندار منظر دیکھا تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ان قدرتی مناظر کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جنہیں دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔
ناسا کے مطابق یہ تصاویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود بھارتی نژاد امریکی خلا باز انیل مینن نے اپنے پہلے خلائی مشن کے دوران کھینچیں۔ تصاویر میں زمین کے افق پر سبز، نیلے اور ہلکے رنگوں کی روشن لہریں نمایاں ہیں، جو خلا سے ایک نہایت خوبصورت اور منفرد منظر پیش کر رہی ہیں۔
انیل مینن 14 جولائی کو قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے روسی خلائی جہاز Soyuz MS-29 کے ذریعے اپنے پہلے خلائی سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ہمراہ روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا بھی موجود ہیں۔ تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ساتھ منسلک ہوگیا، جہاں عملہ مختلف سائنسی تجربات اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ ارورا اس وقت بنتی ہیں جب سورج سے خارج ہونے والے برقی ذرات زمین کے طاقتور مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ذرات بالائی فضائی تہوں میں موجود آکسیجن اور نائٹروجن گیسوں کے ایٹمز سے تعامل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سبز، نیلے، سرخ اور جامنی رنگ کی روشنیاں آسمان پر بکھر جاتی ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں انہیں ارورا بوریلس جبکہ جنوبی نصف کرہ میں ارورا آسٹرالسکہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان نہ صرف انسانوں اور دیگر جانداروں کو سورج سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ یہی قدرتی حفاظتی ڈھال ان حسین قطبی روشنیوں کے وجود کا بھی سبب بنتی ہے۔
ناسا نے بتایا کہ انیل مینن اپنے قیام کے دوران مصنوعی ذہانت کی مدد سے الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی، خلا میں انسانی جسم میں خون کی گردش اور بایو پرنٹنگ سمیت کئی جدید سائنسی منصوبوں پر تحقیق کریں گے۔ ان تحقیقات سے مستقبل میں طویل المدتی خلائی مشنز اور انسانی صحت سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
خلا سے لی گئی یہ نئی تصاویر نہ صرف قدرت کے حیرت انگیز حسن کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ جدید خلائی تحقیق کے ذریعے انسان کائنات کے بارے میں مسلسل نئی معلومات حاصل کر رہا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ ایسے مشنز مستقبل میں چاند، مریخ اور دیگر خلائی مقامات تک انسانی سفر کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ -

انگلش چینل میں تارکین وطن کی کشتی میں آگ، 157 افراد بحفاظت ریسکیو
انگلش چینل میں فرانس کے ساحلی شہر بولون سور میر کے قریب تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد فرانسیسی کوسٹ گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کشتی میں سوار تمام 157 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب تارکین وطن سے بھری کشتی انگلش چینل کے راستے سفر کر رہی تھی۔ آگ لگنے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی گئی اور فرانسیسی کوسٹ گارڈز نے دیگر امدادی اداروں کے تعاون سے تمام مسافروں کو محفوظ طریقے سے نکال کر قریبی بندرگاہ منتقل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران تمام افراد کو طبی معائنہ اور ابتدائی امداد بھی فراہم کی گئی۔ حکام نے فوری طور پر کسی جانی نقصان یا شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ متعلقہ حکام واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
انگلش چینل دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں تارکین وطن چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خراب موسم، گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی اور غیر محفوظ کشتیوں کے استعمال کے باعث ایسے سفر اکثر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں برطانیہ اور فرانس نے غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور سمندری راستوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم اس کے باوجود انگلش چینل کے ذریعے غیر قانونی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ -

افغانستان میں طالبان مخالف نئے مسلح گروپ کے قیام کی اطلاعات
افغانستان کے شمالی صوبے فاریاب میں طالبان مخالف ایک نئے مسلح گروپ کے قیام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے بعض ذرائع نے طالبان حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گروپ کا نام جبۂ راہِ بخش (لبریشن فرنٹ) رکھا گیا ہے اور اس کی قیادت گل محمد پہلوان کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ نیا گروپ آئندہ چند روز میں اپنے تنظیمی ڈھانچے، مقاصد اور حکمت عملی سے متعلق باضابطہ بیان جاری کرے گا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گروپ سے وابستہ جنگجوؤں نے پیر کے روز فاریاب میں طالبان فورسز کو نشانہ بنایا، جبکہ ضلع غورماچ میں بھی طالبان اہلکاروں پر ایک اور حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
طالبان مخالف ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعلیم، روزگار اور انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کے باعث مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ذرائع نے نسلی امتیاز، بدعنوانی اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ بعض دعوؤں کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران 186 سابق افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس نئے گروپ کا قیام طالبان مخالف تنظیموں کے دائرہ کار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے قبل جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور جنرل یاسین ضیا کی سربراہی میں افغانستان فریڈم فرنٹ بھی طالبان کے خلاف مسلح مہمات کا اعلان کر چکے ہیں۔
طالبان مخالف گروپوں نے حالیہ مہینوں میں بدخشاں اور بغلان صوبوں میں طالبان کے ٹھکانوں اور قافلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس سے مختلف مزاحمتی دھڑوں کے درمیان ممکنہ تعاون اور رابطوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ -

آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف مزید سخت ،عمان کے ساتھ مذاکرات
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ ایک ایسے عارضی انتظام پر مذاکرات جاری ہیں جس کے تحت آئندہ ایک سے تین ماہ تک بحری آمدورفت ایران کے طے کردہ نظام کے مطابق ہوگی۔
ایرانی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سعید اجورلو کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر بحری خدمات ایران کی نگرانی میں انجام دی جائیں گی، اسی لیے مذاکرات صرف عمان کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، امریکہ اس عمل کا فریق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے پہلے کا بحری گزرگاہ کا نظام دوبارہ بحال نہیں ہونا چاہیے اور موجودہ حالات کے مطابق نیا انتظام ضروری ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ ایک عارضی درمیانی بحری راہداری پر بات چیت جاری ہے، جو مستقل معاہدہ طے ہونے تک استعمال کی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل، جو عالمی یومیہ پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے، دنیا کی مختلف منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس (LNG) کی بھی تقریباً 20 فیصد تجارت ہوتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈی پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز نامعلوم میزائل نما شے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کا مکمل برقی نظام ناکارہ ہوگیا اور اسے فوری امداد طلب کرنا پڑی۔ میری ٹائم سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں تجارتی جہازوں کو متعدد سیکیورٹی خطرات، دھماکوں اور انتباہی فائرنگ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی برقرار رکھی یا ایران کی منظوری کے بغیر کسی متبادل بحری راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ایرانی مسلح افواج امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ پہلے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے، جنگی اقدامات بند کرے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ختم کرے، اس کے بعد ہی آئندہ پیش رفت ممکن ہوگی۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر محفوظ اور معمول کے مطابق بحال نہیں ہوتی، عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل برآمدی راستوں کی گنجائش بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
-

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور روم میں شروع
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کا ساتواں دور اٹلی کے دارالحکومت روم میں شروع ہو گیا ہے-
لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق مذاکرات میں سرحدی اور سکیورٹی معاملات سمیت فریم ورک معاہدے سے متعلق زیر التوا نکات پر غور کیا جا رہا ہے ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ان مذاکرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات لبنان کے لیے ذلت، رسوائی اور مسلسل سمجھوتوں کے سوا کچھ نہیں لائیں گے۔
ایک ٹیلی وژن خطاب میں نعیم قاسم نے لبنانی صدر جوزف عون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو تمام فریقوں کے درمیان غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ اس کے بجائے ایک جانب جھکاؤ رکھنے والے اور تقسیم پیدا کرنے والے کردار میں نظر آ رہے ہیں، جو ان کے منصب اور لبنان کے قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا، لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بجائے مضبوط قومی مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
-

بھارت:جنسی زیادتی کا شکار خاتون کوہی،پنچایت نے تھوک چاٹنے پر مجبورکردیا
بھارت کی ریاست بہار کے ضلع بیگو سرائے میں پنچایت نے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کو قصور وار قرار دے کر سرِعام تذلیل کا نشانہ بنایا۔
بھارت کی ریاست بہار کے ضلع بیگوسرائے کی ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی ایک خاتون کو گاؤں کی پنچایت نے سرِعام ذلیل و رسوا کیا اس غیر قانونی پنچایت نے خاتون کو اُس وقت اٹھک بیٹھک کرنے اور زمین سے تھوک چاٹنے پر مجبور کیا جب اُس نے اپنے پڑوسی پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 30 سالہ خاتون جو کہ 3 بچوں کی ماں بھی ہے، اسے 2 اور 4 جون کے درمیان پڑوسی نے مبینہ طور پر 2 بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایاجب یہ معاملہ پنچایت تک پہنچا تو انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا اسے ہی قصوروار قرار دے کر تھوک چاٹنے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہےمقدمے میں خاتون نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنسی زیادتی اور پھر پنچایت میں تذلیل اس کے شوہر کی غیر موجودگی میں ہوئی جو کہ گاؤں سے دور مزدوری کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سبودھ کمار اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا جبکہ فرار ہونے والے ملزم کی تلاش جاری ہے۔