Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گرد و نواح میں آج علی الصبح 5.6 شدت کا زلزلہ آیا-

    مصری قومی ادارہ برائے فلکیاتی و جیو فزیکل تحقیق کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر ایک منٹ پر آیا، جبکہ اس کا مرکز سوئز شہر سے تقریباً 38 کلومیٹر دور واقع تھا۔ ادارے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں،زلزلے کے اثرات فلسطین، اردن، لبنان اور قبرص تک محسوس کیے گئے۔

    یورپی بحیرہ روم زلزلہ نگرانی مرکز (ای ایم ایس سی) کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی،جبکہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں کے دوران آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    دوسری جانب جرمن سینٹر فار جیو سائنسز نے زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی اور بتایا کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، ماہرین کے مطابق مختلف سائنسی اداروں کی جانب سے شدت میں معمولی فرق سامنے آنا معمول کی بات ہے کیونکہ ہر ادارہ اپنے الگ مشاہداتی نظام اور تجزیاتی طریقہ کار کے مطابق اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔

    مرکز طقس القدس نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 5.5 شدت کا زلزلہ مصر اور جنوبی فلسطین میں محسوس کیا گیا، جس کا مرکز سوئز کا علاقہ تھا ادارے نے مزید آفٹر شاکس کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے،مصری ہلال احمر نے ان تمام شہروں میں ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے امدادی ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی، کمزور یا دراڑوں والی عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ،کاکہناہےکہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ عمان کے ساتھ صرف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ رابطے صرف عمان کے ساتھ ہیں، عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے-

    انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں اور تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، اسی لیے اس سے متعلق معاملات پر علاقائی سطح پر مشاورت جاری رہنا ضروری ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔

  • طالبان رجیم کی زیرِسرپرستی القاعدہ، فتنۃ الخوارج سمیت دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم

    طالبان رجیم کی زیرِسرپرستی القاعدہ، فتنۃ الخوارج سمیت دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم

    افغانستان میں طالبان رجیم کی سرپرستی میں القاعدہ،فتنۃ الخوارج سمیت عالمی دہشت گردتنظیمیں سرگرم ہیں۔

    قابض طالبان رجیم افغانستان کوعالمی اورعلاقائی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا کرخطے کی سلامتی کو داؤ پرلگا رہی ہے، اقوام متحدہ کے سابق عہدیدارایڈمنڈ فٹن براؤن نےافغان طالبان،القاعدہ اورفتنۃ الخوارج کاسہ فریقہ اتحاد آشکارکردیا،افغان میڈیاآموٹی وی سے گفتگومیں اقوام متحدہ کی دہشتگردی سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنےوالی ٹیم کےسابق عہدیدارایڈمنڈ فٹن براؤن نےکہاکہ طالبان رجیم القاعدہ کوافغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں،تربیت اور بھرتی کے مواقع فراہم کررہی ہے۔

    ایڈمنڈ فٹن براؤن کے مطابق افغان طالبان القاعدہ اور فتنۃ الخوارج(ٹی ٹی پی) کو پاکستان میں سرحد پار حملوں کی اجازت دیتے ہیں ، فتنۃ الخوارج،افغان طالبان اورالقاعدہ کےدرمیان اتحاد قائم ہے، جوپاکستان کےاندر سرحد پار حملےکررہا ہے افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ اورجماعت انصار اللہ جیسے شدت پسند گروہ بھی موجود ہیں،افغان طالبان رجیم ان دہشتگردگروہوں کوپڑوسی ممالک پر دباؤ بڑھانے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کیخلاف مغربی ممالک کا قابل اعتماد شراکت دار نہیں سمجھنا چاہیے۔

  • سابق رکن پارلیمنٹ کی افغان طالبان،رجیم کے خاتمے کی پیشگوئی

    سابق رکن پارلیمنٹ کی افغان طالبان،رجیم کے خاتمے کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت میں تیزی شروع ہو چکی ہے، دنیا بھر میں مقیم افغان رہنما جابررجیم کے خلاف میدان میں آگئے ہیں،سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے رجیم کے خاتمے کی پیش گوئی کی ہے-

    افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان رجیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف اسلام کو بدنام کررہےہیں،افغان طالبان کا مقصد اسلام کو خواتین، جدید تعلیم، فن اور انسانیت کیخلاف جابر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے ایک مخصوص اور طے شدہ مدت تک طالبان رجیم کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ پس پردہ محرکین اپنے مذموم اہداف مکمل کر سکیں، جب دین اسلام کے خلاف یہ منفی مقصد پورا ہو جائے گا تو افغان طالبان رجیم کا وجود بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے ان کی اصلیت دنیا پر واضح کر دی ہے، افغان معاشرہ اب مزید اس جبر کو تسلیم نہیں کرے گا ۔ افغانستان میں جاری مسلح مزاحمتی تحریکیں اور ان کی بڑھتی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ افغان عوام اس جھوٹے اور جابر رجیم کو مسترد کر چکے ہیں۔

  • روس اور یوکرین میں  حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین میں حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین کے درمیان تازہ میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے تبادلے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں،جن میں روس میں 9 اور یوکرین میں 5 افراد شامل ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں حالیہ دنوں کے دوران حملوں کی شدت اور دائرہ کار میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے-

    روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقے بیلگوروڈ پر کیے گئے حملوں میں 4 افراد جان سے گئے، جن میں کھیل کے میدان کے قریب موجود 13 سالہ بچی بھی شامل تھی،بچی شدید زخمی ہوئی تھی، تاہم اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی،اسی طرح روس کے ساراتوف ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اُدمرتیا کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں مزید 3 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی حملوں میں دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں 2 افراد، جبکہ زاپوریزژیا اور خیرسون میں ایک، ایک شہری ہلاک ہوا،یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں ایک ڈاک ٹرمینل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جہاں موجود ایک ڈاک ملازم بھی ہلاک ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،روس اور یوکرین دونوں کا مؤقف ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے تاہم دونوں جانب ہونے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو ’حادثہ‘، کمپنی کا  بیان جاری

    آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو ’حادثہ‘، کمپنی کا بیان جاری

    یونان کی شپنگ کمپنی گیس لاگ نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے اس کے مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو پیش آنے والے واقعے کے بعد صورتحال قابو میں ہے اور جہاز پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ گیس لاگ شنگھائی نامی ایل این جی ٹینکر کو 31 جولائی کو آبنائے ہرمز سے روانگی کے دوران ایک ’واقعہ‘ پیش آیا،کمپنی نے واقعے کی نوعیت یا اس کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز یا اس پر موجود مائع قدرتی گیس کے کارگو کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

    گیس لاگ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد کمپنی نے اپنا ہنگامی ردعمل کا منصوبہ فعال کر دیا، متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی اور جہاز کی حالت کا مکمل جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا گیااس کی اولین ترجیح جہاز پر موجود عملے کی حفاظت ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام افراد محفوظ ہیں اور ان کا مکمل حساب موجود ہے،ماہرین جہاز کی تکنیکی حالت اور ممکنہ نقصان کا تفصیلی معائنہ کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے  ہوں گے،ٹرمپ

    ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے ہوں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہو رہا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ایک خاص مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہےسعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی درخواست پر حملے کو روکا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بھی اس وقت حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، ہماری ترجیح ایک جامع معاہدہ کرنا ہے کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں اور ہم ایسا نہیں چاہتے،حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی جس میں دو بنیادی شرائط شامل ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولا جائے اور دوسری شرط کے طور پر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگرچہ وہ سفارت کاری کو موقع دے رہے ہیں لیکن امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار موجود ہے اور اس وقت امریکا کی خطے میں عسکری تیاری ایسی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔

    دوسری طرف بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیصلے میں خطے کے ممالک کا اہم کردار رہا، جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان، قطر، یو اے ای اور ترکیہ نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھایا۔

    سفارتی محاذ پر پیش رفت کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، عمانی حکام، اور سعودی و ترک وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یورپ میں امریکا کے ٹاپ جنرل الیکسز گرینکیوچ نے پینٹاگون کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو مکمل محفوظ رکھنا ناممکن ہے اور خطے میں امریکی بحری فورس کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ اسرائیل کا مکمل دفاع کر سکے۔

  • یونان: آگ بجھانے والے دو ہیلی کاپٹرز آپس میں ٹکرا گئے

    یونان: آگ بجھانے والے دو ہیلی کاپٹرز آپس میں ٹکرا گئے

    یونان میں جنگلات میں لگی آگ بُجھانے کے دوران دو فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر فضا میں آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ڈنمارک کا ایک پائلٹ اور یونانی فائر سروس کے رابطہ افسر ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک برطانوی پائلٹ اور ایک یونانی رابطہ افسر معمولی زخمی ہوئے-

    بی بی سی کے مطابق یہ حادثہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز سے تقریباً 65 کلومیٹر مغرب میں اس وقت پیش آیا جب دونوں ہیلی کاپٹر اٹیکا اور بوئوٹیا کی سرحد پر لگی بڑی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کارروائی میں مصروف تھے،حادثے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر دوسرے ہیلی کاپٹر کے پروں (روٹر) سے ٹکرایا، جس کے بعد ایک ہیلی کاپٹر میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ گہری کھائی میں جا گرا، جبکہ دوسرا ہیلی کاپٹر ہنگامی لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

    یونانی فائر سروس کے مطابق دونوں ہیلی کاپٹر آسٹریلوی کمپنی میک ڈرموٹ ایوی ایشن سے کرائے پر حاصل کیے گئے تھےایک ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں افراد بے ہوش حالت میں ملے اور بعد ازاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

    یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونانی رابطہ افسر اور ڈنمارک کے پائلٹ کی جان کا ضیاع ہم سب کو غمزدہ کر گیا ہے۔ میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

    بی بی سی کے مطابق یونان کی وزارت شہری تحفظ کے ایک ذرائع نے بتایا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر ملک بھر میں تمام بیل ہیلی کاپٹروں کی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں دوسرے ہیلی کاپٹر میں موجود برطانوی پائلٹ اور یونانی فائر سروس کے رابطہ افسر معمولی زخمی ہوئے دونوں حادثے کے بعد ہوش میں تھے اور انہیں طبی معائنے اور احتیاطی نگرانی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں 24 گھنٹے زیرِ نگرانی رکھا جائے گا۔

    حکام نے بتایا کہ زخمی برطانوی پائلٹ نجی شعبے سے تعلق رکھتا ہے اور جنگلاتی آگ کے موسم کے لیے خدمات انجام دینے کی غرض سے یونان میں تعینات کیا گیا تھا،وہ برطانیہ اور یونان کے درمیان کسی سرکاری تبادلے یا امدادی مشن کا حصہ نہیں تھاحادثے میں محفوظ رہنے والے دونوں افراد نے فوری طور پر حکام کو تصادم کی اطلاع دی تھی، جس کی مدد سے امدادی ٹیمیں جلد حادثے کی جگہ تک پہنچ گئیں حادثے میں شامل چاروں افراد کے نام تاحال جاری نہیں کیے گئے۔

    میک ڈرموٹ ایوی ایشن کے بانی اور صدر جان میک ڈرموٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس افسوسناک حادثے سے متاثر ہونے والے افراد کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ ہماری گہری ہمدردیاں ہیں،ہم متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

    ادھر یونان میں جنگلاتی آگ بجھانے کا کام بدستور جاری ہے۔ ایرکسن ایئر کرین، چنوک ہیلی کاپٹرز اور کینیڈائر واٹر بمبار طیارے مختلف علاقوں میں آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران پورٹو جیرمینو، پساتا، فوکیدا، میگارا اور کیفالونیا سمیت کئی علاقوں میں 500 سے زائد فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

  • ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کر دیا، ایرانی میڈیا کا شدید طنز

    ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کر دیا، ایرانی میڈیا کا شدید طنز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد ایرانی میڈیا اور سیاسی حلقوں نے سخت طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ سخت فوجی کارروائی کے اشارے دیے جا رہے تھے، تاہم اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ منصوبہ بند حملہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
    ‎ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات کو جنم دیا، تاہم ایران میں اس اعلان کو مختلف انداز میں لیا گیا۔ ایرانی میڈیا نے اس فیصلے کو امریکی پسپائی قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو شدید تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا۔
    ‎ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ "احمق ٹرمپ کی ہمت جواب دے گئی۔” اس کے ساتھ ہی تہران کے ایک سیاسی مبصر کے حوالے سے کہا گیا کہ "امریکیوں کا پہاڑ آخرکار چوہا ہی نکلا۔” اس بیان کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ امریکا کی سخت دھمکیاں عملی کارروائی میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔
    ‎دوسری جانب نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے بھی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے اور اپنی پسپائی کو دنیا کے سامنے احسان کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ‎ابھی تک امریکی حکام کی جانب سے حملہ منسوخ کرنے کی مزید تفصیلات یا اس فیصلے کی وجوہات سے متعلق کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ایران کی حکومت نے بھی سرکاری سطح پر اس معاملے پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، جبکہ میڈیا میں آنے والے تبصرے زیادہ تر نیم سرکاری ذرائع اور سیاسی مبصرین کے ردعمل پر مبنی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت نے ایک بار پھر خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی بیانات اور نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔

  • ‎ایرانی حملے میں ہلاک امریکی فوجی کی یاد میں ٹیکساس میں تعزیتی تقریب

    ‎ایرانی حملے میں ہلاک امریکی فوجی کی یاد میں ٹیکساس میں تعزیتی تقریب

    ‎امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والی 19 سالہ امریکی فوجی ازابیلا گونزالیز کی یاد میں ایک پروقار تعزیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
    ‎امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق پرائیویٹ ازابیلا گونزالیز گزشتہ ماہ اردن میں واقع موافق السلطي ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں میں شامل تھیں۔ اس حملے میں متعدد امریکی اہلکار متاثر ہوئے تھے۔
    ‎ٹیکساس میں واقع پریسٹن وُڈ بیپٹسٹ چرچ میں منعقدہ تقریب میں فوجی حکام، مقامی رہنماؤں، اہل خانہ، دوستوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران ازابیلا گونزالیز کی زندگی، خدمات اور وطن کے لیے قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
    ‎تقریب کا آغاز فوجی اعزازی دستے کی جانب سے قومی پرچم پیش کرنے کی رسم سے ہوا، جس کے بعد بیگ پائپس پر مشہور دھن "ایمیزنگ گریس” بجائی گئی۔ اس موقع پر شرکا نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والی فوجی کو یاد کیا اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔
    ‎پینٹاگون کے مطابق 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی تصادم کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ‎امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔