Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستان ترقی پذیر ممالک کے  موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    دبئی: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

    باغی ٹی وی : منعقدہ کوپ28 کے موقع پر اسکائی نیوز عربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے لئے موسمیاتی مالیات کے لئے ایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے اور ترقی یافتہ دنیا کی طرف سے اقوام متحدہ کے کوپ 28 اجلاس میں پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کیا گیا ہے پاکستان کی طرف سے کوپ27 میں لاس اور ڈیمیج فنڈ کی وکالت کی گئی تھی تاکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی چیلنجز کے سامنا کرنے میں تخفیف اور خطرے میں کمی کے حوالے سے مدد کی جا سکے۔

    نگران وزیر اعظم نے کہا کہ لاس اور ڈیمیج فنڈ کی آپریشنلائزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اخلاقی طور پر اس دلیل کو قبول کیا ہے کہ دنیا کو ان ممالک کی حمایت کرنی چاہیے جو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے-

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے 30 بلین امریکی ڈالر کے اعلان کے ذریعے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال کرنا درست سمت میں ایک اچھا آغاز ہے ابتدائی طور پر فنڈنگ ​​کو عالمی بینک جیسی کثیر الجہتی تنظیم کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ عملدرآمد کے عمل کا تیزی سے آغازکیا جا سکے۔

    اسرائیلی اور غزہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم پر سب سے پیش پیش رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف بے پناہ تشدد اور جارحیت کو فوری بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا ہےپائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7 دہائیوں سے حل طلب ہے کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    دبئی: بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، مختلف بین الاقوامی عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے موجود ملکی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بنگلہ دیش کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ پلیٹ فارم (BCDP) کا آغاز کر رہا ہے۔

    اس تعاون میں ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن، کثیر الجہتی سرمایہ کاری کی گارنٹی ایجنسی، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی ”Française de Développement“، یورپی یونین، گرین کلائمیٹ فنڈ، حکومت جنوبی کوریا، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، اور برطانیہ شامل ہیں، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے کی قوم کی صلاحیت کو بڑھانا ہے یہ باہمی تعاون کمزور کمیونٹیز پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

    سفارتی سطح پر پاکستان کی بھارت کو بڑی شکست

    ایشیا میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی شراکت داری جنوری 2023 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی طرف سےمنظور شدہ 1.4 بلین ڈالر کی لچک اور پائیداری کی سہولت کےساتھ،عالمی بینک کیجانب سے گرین اینڈ کلائمیٹ ریسیلینٹ ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری موسمیاتی منصوبے کی فنڈنگ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

    اس شراکت داری کا مقصد ماحولیاتی تحفظات کو عوامی منصوبہ بندی، مقامی ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینا، تباہی کے خطرات کی مالی امداد کو بڑھانا، فضائی آلودگی سے نمٹنا اور گرین بانڈ کی مالی اعانت کے لیے پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہےاس تعاون کے کلیدی اجزاء میں بنگلہ دیش کے موسمیاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے بی سی ڈی پی کی تشکیل، پراجیکٹ کی تیاری کیلئے فیسلیٹی کا قیام، اور پالیسی پر مبنی قرض دینا شامل ہیں۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: شاداب خان انجری کا شکار

    عالمی بینک سبز اور موسمیاتی لچکدار ترقی کے لیے 1 بلین ڈالر کا تعاون کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے بنگلہ دیش کو قابل تجدید توانائی کی سہولت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں ادارے 381.5 ملین ڈالر کے قرض کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    دیگر تنظیمیں جیسے Agence Française de Développement، JICA، UNDP، اور نجی شعبے بھی اس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اس تعاون کو مالیاتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، موسمیاتی خطرے کے انتظام کو بڑھانے اور بنگلہ دیش کی طرف اضافی موسمیاتی مالیات کو راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے-

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی …

    بین وزارتی اور انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن۔ بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں سے ایک ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی موافقت اور آفات کے خطرے سے متعلق تیاری میں پیش پیش رہا ہے۔ حکومتی تال میل کو بڑھانے کے لیے، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (MoEFCC) نے وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک بین وزارتی پلیٹ فارم کے طور پر قومی کمیٹی برائے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی (NCECC) تشکیل دی ہے۔ این سی ای سی سی قومی آب و ہوا کی حکمت عملیوں کے نفاذ کی پیشرفت کی نگرانی کرے گا، حکمت عملیوں پر عمل درآمد کے لیے مسائل کے بارے میں رہنمائی اور حل فراہم کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی کانفرنسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد پر غور کرے گا۔

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ …

  • زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    علینا عترت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف ادیبہ اور شاعرہ علینا عترت صاحبہ کا تعلق اترپردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ سے انہوں نے انگریزی ادب اور تاریخ میں ایم اے کیا ہے اور بی ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے وہ اس وقت درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” سورج تم جائو” 2014 میں شائع ہوا جسے اردو اکادمی دہلی اور اردو اکادمی بہار کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا ہے۔ ان کی پہلی تخلیق عالمی سہارا میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی تخلیقات ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔علینا عترت مینا نقوی اور نصرت مہدی کی بہن ہیں اور وہ اس وقت دہلی میں مقیم ہیں۔

    علینا عترت کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھی
    تم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی کھبر سب سے چھپا لی میں نے

    تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملے
    ایسے سناٹوں سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے

    جب بھی فرصت ملی ہنگامۂ دنیا سے مجھے
    میری تنہائی کو بس تیرا پتہ یاد آیا

    ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
    ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

    ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
    یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

    جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی
    منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

    ہجر کی رات اور پورا چاند
    کس قدر ہے یہ اہتمام غلط

    اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی
    مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

    ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں
    ان چراغوں سے جل گئے شاید

    مرے وجود میں شامل تھا وہ ہوا کی طرح
    سو ہر طرف تھا مرے بس مری نظر میں نہ تھا

    بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
    خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے

    پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب
    میں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے

    جانے کب کیسے گرفتار محبت ہوئے ہم
    جانے کب ڈھل گئے اقرار میں انکار کے رنگ

    بن آواز پکاریں ہر دم نام ترا
    شاید ہم بھی پاگل ہونے والے ہیں

    بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں صدا
    گردش وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی

    عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی
    رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

    شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
    بس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا

    دل کے گلشن میں ترے پیار کی خوشبو پا کر
    رنگ رخسار پہ پھولوں سے کھلا کرتے ہیں

    اب بھی اکثر شب تنہائی میں کچھ تحریریں
    چاند کے عکس سے ہو جاتی ہیں روشن روشن

    کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم
    وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

    عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
    کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کے تھے حجاب میں ہم

    وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیے
    اسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود

    کوئی ملا ہی نہیں جس سے حال دل کہتے
    ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

    موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں
    ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

    بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی
    سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

    اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے
    یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

    گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس
    بیٹھے ہوئے ہے ایک کنارے ہمارے خواب

    خواہشیں خواب دکھاتی ہیں ترے ملنے کا
    خواب سے کہہ دے کہ تعبیر کی صورت آئے

    کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی
    جوں چمک اٹھتی ہے کوئی برق تلواروں کے بیچ

    کوزہ گر نے جب میری مٹی سے کی تخلیق نو
    ہو گئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی ہوا

    ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانند
    فکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی

  • ہماری زمین سے 13 گنا بڑا  سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،ویسے تو سیارے کا حجم حیران کن نہیں مگر بہت ٹھنڈے بونے ستارے کے گرد اس کا گھومنا سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے-

    پین اسٹیٹ کے ماہر فلکیات سوراتھ مہادیون نے کہا،کہ "ہم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو اپنے ستارے کے مقابلے بہت بڑا ہے، ایل ایچ ایس 3154 نامی یہ ستارہ زمین سے تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر ہمارے نسبتاً قریب ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)،یہ ستارہ کائنات کے چند سب سے چھوٹے اور ٹھنڈے ستاروں میں سے ایک ہے،سورج اس ستارے سے ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔

    اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات گومنڈور اسٹیفانسن نے کہا کہ یہ بمشکل ایک ستارہ ہے،اس میں ستارہ مانے جانے والے ہائیڈروجن فیوژن کو سپورٹ کرنے کے کٹ آف کے بالکل اوپر ایک ماس ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں، کیونکہ ہم نے کبھی اتنے بڑے سیارے کے اتنے چھوٹے ستارے کے گرد گھومنے کی توقع نہیں کی تھی ستارے گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے تشکیل پاتے ہیں اور یہ بادل اپنی کشش ثقل کے باعث ٹھنڈے اور ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بننے والے ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے گیس اور گرد کے ٹکڑے بتدریج سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مگر اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ سیارے بننے کے لیے اس مادے کی مقدار میزبان ستارے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کسی چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے، مگر ایسا سیارہ اب دریافت ہو چکا ہے تو اب ہمیں سیاروں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اس سیارے کو ایل ایچ ایس 3154 بی کا نام دیا گیا ہے اور اسے Habitable Zone Planet Finder کے ذریعے دریافت کیا گیا ، یہ سسٹم ایسے سیاروں کو دریافت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ٹھنڈے ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    ایسے سیاروں میں سیال پانی کی موجودگی کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے جسے زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے ایل ایچ ایس 3154 بی کا مشاہدہ کرنے سے دریافت ہوا کہ وہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب ہے اور وہ محض 3.7 دنوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سیارے کے ایک سال کا دورانیہ 4 دن سے بھی کم ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے اندرونی سیارے عطارد کے سورج سے بھی زیادہ قریب ہے۔
    science
    فوٹو:روئٹرز
    یہ سیارہ سائز اور ساخت میں نیپچون جیسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے چار گیسی سیاروں میں سب سے چھوٹا ہے۔ نیپچون کا قطر زمین سے تقریباً چار گنا ہے۔ سیارے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار نے محققین کو اس کے قطر کی پیمائش کرنے کے قابل نہیں بنایا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ یہ زمین سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

    محققین کے مطابق اگر کوئی ستارہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پھر سیارے کو خود کو گرم رکھنے کے لیے اس کے قریب آنا پڑتا ہے تاکہ سیال پانی برقرار رہ سکے ابھی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ آخر اتنے چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ کیسے بن گیا جس کے بعد ہم کائنات تشکیل پانے کے عمل کے بارے میں زیادہ سمجھ سکیں گے۔

  • غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈ روس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال ‘ناقابل تصور’ ہے۔
    سربراہ ڈبلیو ایچ او ٹیڈ روس ایڈہانوم نے صیہونی بمباری سے تباہ حال غزہ کے ایک اسپتال کا دورہ کیا جس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی غزہ میں انصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں اور اسپتال میں گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے اب تک فلسطین کے طبی مراکز پر 335 حملے کیے، غزہ میں 164 طبی مراکز اور مغربی کنارے میں 171 طبی مراکز کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ٹیڈ روس ایڈہانوم نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کا علاج زمین پر کیا جا رہا ہے، مریض درد سے چیخ رہے ہیں اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے کیلئے الفاظ تک نہیں مل رہے۔ دوسری جانب عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ غزہ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں پر ترک ڈاکٹروں اور طلبا نے غزہ سے اظہاریکجہتی کیلئے استنبول میں خاموشی مارچ کیا۔ ڈاکٹروں نے لال رنگ کے ہینڈ پرنٹ کے نشانات والے سفید کوٹ پہنے ہوئے تھے جن پر ‘ڈاکٹر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں’ کا پیغام بھی درج تھا۔ واضح رہے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ 2 روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور 7 اکتوبر سے جاری بمباری میں اب تک 15 ہزار 200 سے زائد افراز شہید اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • آج معذور افراد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    آج معذور افراد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    ہر سال 3 دسمبر کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو اقوام متحدہ نے معذور افراد کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ان کے حقوق، شمولیت اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے نامزد کیا ہے، معذور افراد کے عالمی دن کا اعلان پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 میں کیا تھا۔ اس کا مقصد معذوری کے مسائل کی بہتر تفہیم کی حوصلہ افزائی کرنا اور معذور افراد کے وقار، حقوق اور بہبود کے لیے تعاون کو متحرک کرنا ہے۔
    IDPD کا مقصد معذور افراد کو درپیش منفرد چیلنجوں کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے، جس سے ایک زیادہ جامع اور سمجھنے والے معاشرے کو فروغ دیا جائے۔ یہ دن سماجی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں معذور افراد کی مکمل اور موثر شرکت کی وکالت کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ جو معذور افراد کی کامیابیوں اور شراکت کو منانے کا ایک موقع ہے، ان کی لچک، قابلیت اور متنوع صلاحیتوں کو تسلیم کرنا ہے، یہ دن معذور افراد کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ایک کال ٹو ایکشن ہے، مساوی مواقع، رسائی اور عدم امتیاز پر زور دیتا ہے۔ ہر سالIDPD معذوری کے حقوق کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک مخصوص تھیم اپناتا ہے ، جن میں رسائی، روزگار، تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات شامل ہیں، دنیا بھر میں حکومتیں، تنظیمیں اور کمیونٹیز مختلف سرگرمیوں کے ساتھ معذور افراد کا عالمی دن مناتی ہیں۔ ان میں سیمینار، ورکشاپس، آرٹ کی نمائشیں، ثقافتی تقریبات، اور مباحثے شامل ہو سکتے ہیں جن کا مقصد تفہیم اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
    اس دن، لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ معذور افراد کو درپیش چیلنجوں پر غور کریں اور ایک زیادہ قابل رسائی اور جامع دنیا بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ چاہے وہ پالیسی میں تبدیلیوں کی وکالت کر رہا ہو، کمیونٹیز میں رسائی کو فروغ دینا ہو، یا محض ایک زیادہ جامع ذہنیت کو فروغ دینا ہو، ہر کوئی مثبت اثر ڈالنے میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ معذور افراد کا عالمی دن ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ تنوع اور شمولیت ہر ایک کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ معذور افراد کی منفرد شراکت کو تسلیم کرنے اور ان کی قدر کرتے ہوئے، ہم اجتماعی طور پر ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کر سکتے ہیں جہاں ہر کسی کو یکساں مواقع میسر ہوں اور وہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں مکمل طور پر حصہ لے سکیں۔

  • جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر غزہ میں عارضی جنگ بندی کے حوالے سے کی گئی یونیسیف کی ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوال کرنے والے لوگوں کے تمام شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے بتادوں کہ میں واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی حامی ہوں۔ برطانوی فلمساز نے لکھا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ میں نے یونیسیف کے لیے 20 سال سے زیادہ عرصے کام کیا ہے اور اس پورے عرصے کے دوران میں نے پوری دنیا میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مہم کی حمایت کی ہے۔اُنہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔یاد رہے کہ اکتوبر میں جمائما گولڈ اسمتھ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی تھیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ تھا اور ایک اسرائیلی بچہ تھا اور تصویر میں دونوں ہی بچے جنگ سے متاثرہ نظر آ رہے تھے۔


    س سے قبل جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایک پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ ہے اور ایک اسرائیلی بچہ ہے اور دونوں ہی جنگ سے متاثرہ ہیں۔اُنہوں نے یہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔
    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک 6150 بچوں اور 4 ہزار خواتین سمیت کم از کم 15ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

  • غزہ: اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر حملوں کا آغاز

    غزہ: اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر حملوں کا آغاز

    اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر انسانیت سوز مظالم کا آغاز کر دیا ہیں۔ جبالیہ کیمپ اور خان یونس میں رہائشی عمارتوں پربمباری کر دی۔غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 60 فیصد مکانات اور رہائشی یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دو روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیاہے۔7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 15 ہزار 207 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اب تک زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار 650 سے متجاوز ہو چکی ہے، اسرائیلی حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین کی ہے۔غزہ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے انسانیت سوز مظالم پھر شروع کر دیے، جبالیہ کیمپ اور خان یونس میں دو رہائشی عمارتوں پراسرائیلی طیاروں کی بمباری سے 250 جبکہ دیگر واقعات میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
    اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں محصور متاثرین کیلئے رفاح کراسنگ سے عالمی انسانی امداد کی ترسیل پر ایک روز کی بندش کے بعد عالمی دباؤ کے بعد امدادی سامان کے 50 ٹرک غزہ میں داخل ہو گئے۔دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں ڈیڈ لاک آ گیا ہے، اسرائیل نے قطر سے اپنے مذاکرات کار بھی واپس بلا لیے ہیں۔ اسرائیل نے الزام لگایا کہ حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور تمام یرغمالی خواتین اور بچوں کو رہا نہیں کیا۔اسرائیلی وزیردفاع نےحماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس کے پاس اب بھی 15 خواتین اور 2 بچے ہیں۔جواب میں حماس نے اسرائیلی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام خواتین اور بچوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

  • امریکا نے  ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو جیل میں قید بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات سے روک دیا

    امریکا نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو جیل میں قید بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات سے روک دیا

    واشنگٹن: امریکا نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو جیل میں قید بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات سے روک دیا۔

    باغی غی وی : میڈیا ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ان دنوں امریکا میں ہیں اور انہوں نے اپنی بہن سے ملنے کیلئے واشنگٹن میں حکومتی عہدیداروں سے باضابطہ اجازت بھی لے رکھی تھی لیکن اس کے باوجود انھیں عافیہ صدیقی سے ملاقات سے روک دیا گیا امریکی جیل میں قید عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، سینیٹر طلحہ محمود کے ہمراہ امریکا گئیں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ان کی بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات کرانے سے امریکی جیل حکام نے انکار کیا۔

    اٹلی کے تاریخی مینار کا گرنے کا خطرہ،علاقے کو سیل کردیا گیا

    واضح رہے کہ رواں سال جون میں ڈاکٹر فوزیہ نے امریکا میں اسیر اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے 20 سال بعد ملاقات کی تھی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد بھی تھےملاقات کے بعد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ دونوں بہنوں کی ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی لیکن اس دوران ڈاکٹر فوزیہ کو عافیہ سے گلے ملنے، ہاتھ ملانے تک اجازت نہیں تھی ڈاکٹرفوزیہ کواس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹرعافیہ کوان کے بچوں کی تصاویردکھا سکیں-

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

  • اٹلی کے تاریخی مینار کا گرنے کا خطرہ،علاقے کو سیل کردیا گیا

    اٹلی کے تاریخی مینار کا گرنے کا خطرہ،علاقے کو سیل کردیا گیا

    روم: اٹلی کا تاریخی ’جھکا ہوا مینار‘ کسی بھی وقت گرنے کے خطرے کی وجہ سے علاقے کو سیل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق اٹلی کے دارالحکومت روم سے 375 کلومیٹر دور واقع اطالوی شہر بولوگنا میں قرون وسطیٰ دور کے ایک ہزار سال سے زائد قدیم گیریزنڈا ٹاور کو ضرورت سے زیادہ جھکاؤ کے بعد اچانک گرنے کے خطرے کی وجہ سے سیل کردیا گیا۔

    ٹاور گرنے کا انتباہ ایک سائنسی کمیٹی نے جاری کیا ہے جو 2019 سے اس کی نگرانی کررہی ہے ٹاور میں نصب سینسر اُس کی نقل و حرکت کی پیمائش کرتے ہیں اکتوبر 2023 میں ریڈنگ نے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی،‘ہائی الرٹ’ وارننگ میں کہا گیا ہے کہ لیننگ ٹاور کی بنیاد میں استعمال ہونے والے پتھروں میں دراڑیں اوپر کی اینٹوں تک پھیل سکتی ہیں-

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 4 دسمبر کو نقول …

    جس کے بعد انتظامیہ نے ٹاور کے آس پاس کا علاقہ سیل کرکے وہاں جانے والے راستے بند کردئیے ہیں شہری حکام کا کہنا ہے کہ ٹاور کے گرد ایک حصار بنایا جارہا ہے تاکہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے جبکہ 16 فٹ اونچی رکاوٹ کی تعمیر بھی شروع کردی ہے تاکہ اس کے گرنے کی صورت میں ملبہ کو روکا جا سکے۔

    گزشتہ کئی برسوں کے دوران اطالوی حکومت نے اسکو برقرار رکھنے کے لیے وسیع کام کیا ہے لیکن اب ٹاور ضرورت سے زیادہ جُھک گیا ہے جس سے اس کے اچانک کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، دستیاب معلومات کے مطابق گیریزنڈا ٹاور کی تعمیر 1173 میں شروع ہوئی تھی جو 14 ویں صدی سے 4 ڈگری کے زاویے پر جھکا ہوا ہے، واضح رہے کہ اسی نوعیت کا ایک اور ٹاور پیسا شہر میں بھی واقع ہے تاہم وہاں سیاحوں کو جانے کی اجازت ہے،دونوں ٹاورز کو مضبوط بنانے کا کام 1990 کی دہائی سے جاری ہے-

    بھارت میں افغان سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا گیا

    میئر میٹیو لیپور نے اس ماہ کے شروع میں ایک مباحثے میں نوٹ کیا تھا کہ گاریزنڈا ٹاور جب سے بنایا گیا ہے جھک گیا ہے "اور تب سے ہی ایک تشویش ہے” اسے قرون وسطیٰ کے دور میں اضافی نقصان پہنچا جب اس کے اندر لوہے کا کام اور بیکری کے تندور بنائے گئے تھے میئر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ٹاورز کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کے لیے درخواست کرے۔