Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکا کسی بھی ایڈونچر سے باز رہے، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کسی بھی ایڈونچر سے باز رہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارحیت میں علاقائی ممالک بھی شریک ہوئے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ رات فیلڈ مارشل عاصم منیر ، سعودی عرب اور ترک وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی،عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارحیت میں علاقائی ممالک بھی شریک ہوئے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہو گی، ایرانی انفراسٹرکچر پرحملے کیے گئے تو میدان جنگ سے باہر اثرات ہوں گے، مغربی طاقتوں کی جانب سے ڈھائی سو سال میں بنایا گیا گلوبل آرڈر تباہ کر دیا جائے گا، نظام کے ستون ٹوٹیں گے تو کمانڈ سینٹر بچے گا نہ لوٹ کیلئے مارکیٹ بچے گی۔

    ایرانی خبررساں ایجنسی وانا کے مطابق ایک سینیئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں،عہدیدار نے امریکی میڈیا میں ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹس کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے ہم نے صہیونی ریاست کے اہم انفراسٹرکچر اور خطے میں امریکی توانائی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے جامع ردعمل کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے اور ہم اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔

  • ایران پر حملہ فوری معاہدے سے مشروط قرار دے کر منسوخ کر دیا، صدر ٹرمپ

    ایران پر حملہ فوری معاہدے سے مشروط قرار دے کر منسوخ کر دیا، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے کئی ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت متعدد علاقائی رہنماؤں نے بھی کشیدگی کم کرنے اور جنگ سے گریز پر زور دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ان کے مطابق یہ اقدام دنیا کے مستقبل اور ایران کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اسرائیل نے بھی حملے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اور اس کے اتحادی تباہ کن کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاسعودی ولی عہد نے ایران پر امریکا کی جانب سے بڑے حملوں کے ممکنہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے اور فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

    دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے،قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

  • پیرو میں سیاحوں کا طیارہ گر کر تباہ، 13 افراد ہلاک

    پیرو میں سیاحوں کا طیارہ گر کر تباہ، 13 افراد ہلاک

    لاطینی امریکی ملک پیرو میں نازکا لائنز کی فضائی سیر کے لیے جانے والا ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ پرواز بھرنے کے چند لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 11 مسافر اور عملے کے 2 ارکان ہلاک ہوگئے۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ جنوبی پیرو کے شہر پسکو کے قریب پیش آیا، جہاں سے سیاحتی طیارے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے کے کچھ دیر بعد نازکا لائنز کی فضائی سیر کے لیے پرواز بھری تھی،طیارے میں 11 مسافر اور 2 پائلٹ سوار تھے، پرواز بھرنے کے فوراً بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی، حادثے میں تمام 13 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    پیرو کے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وہاں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں،حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک حادثے کی وجوہات سے متعلق کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    نازکا لائنز دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک مشہور تاریخی مقام ہے، جہاں ان پراسرار زمینی نقوش کو فضاء سے دیکھنے کے لیے روزانہ سیاحتی پروازیں چلائی جاتی ہیں۔

  • بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں تیزی، متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول

    بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں تیزی، متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول

    افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مختلف مزاحمتی گروپوں نے طالبان کے خلاف حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان میں طالبان حکومت کو مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گوریلا نوعیت کی کارروائیوں میں اضافے نے صوبے میں طالبان کی عملداری اور سکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔مزاحمتی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یفتل، زیبک، ارگو اور کشم کے علاقوں میں طالبان کی چیک پوسٹوں، عسکری ٹھکانوں اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 29 جولائی کو یفتل کے علاقے میں مزاحمتی فورسز نے طالبان کے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا، جہاں سے اسلحہ اور گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لینے کا کہا گیا۔

  • چائلڈ سیکس گرومنگ میں عاشق فردوسی فیملی کو جیل،بھائی قید رہا

    چائلڈ سیکس گرومنگ میں عاشق فردوسی فیملی کو جیل،بھائی قید رہا

    برطانیہ میں کشمیر کی یکجہتی کے نام پر ایک نام نہاد احتجاج ہوا۔ باوثوق زرائع اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے کنفرم کیا کہ اس احتجاج میں پاکستانی اور آزاد کشمیریوں کی تعداد بہت کم تھی، جبکہ بھارتی کمیونٹی زیادہ تھی۔
    اس احتجاج کے تمام تر اخراجات بھی را کے لندن ڈیسک نے اٹھائے۔

    جو سڑکیں ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کے لیے بھری جاتی تھیں، آج عاشق فردوسی جیسے ننگ دین ننگ قوم غداروں کی وجہ سے بھارتیوں کو خوش کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ چائلڈ سیکس گرومنگ میں عاشق فردوسی فیملی کو جیل، بھائی کو جیل بھیج دیا گیا،عاشق فردوسی کے بھائی نے دس سال جیل میں‌گزارے ہیں.

    دوسری جانب چیئرپرسن استحکام پاکستان اتحاد اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ساجدہ احمد کشمیری نے اوورسیز کشمیریوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ سے ایک ویڈیو میں عاشق فردوسی نامی بندہ ناچ ناچ کر، ٹپ ٹپ کر اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اور وہ پاکستانی اداروں اور پاکستانی عوام کے لیے بکواس کر رہا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مقبوضہ کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری ہو رہی تھی، اس وقت ان مردوں کی غیرت کہاں مر گئی تھی؟ساجدہ احمد کشمیری نے مزید کہا کہ برطانیہ میں یہ لوگ مجرے کر رہے ہیں اور یہ سب پہلے کیوں نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے سروں پر مردوں کو محافظ بنایا ہے، مگر تم جیسے بے غیرت مرد ہوتے ہیں جن کی عورتوں کی عزتیں لٹتی ہیں اور روزِ محشر تم کھڑے ہو کر جواب دو گے۔
    انہوں نے کہا کہ تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم حق کا ساتھ دینے کے بجائے الٹا بول رہے تھے۔ ساجدہ احمد کشمیری نے یاد دہانی کرائی کہ جب لٹے پٹے 25 لاکھ لوگ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے ہیں، تب تمہاری آوازیں کیوں نہیں نکلیں کہ ان لوگوں کو کیوں بے گھر کر دیا گیا اور جب زندگی ان لوگوں پر تنگ کر دی گئی تھی، تب ملکِ پاکستان نے انہیں پناہ دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تم وہاں کیوں ناچ رہے ہو، جبکہ تم بھی تو پاکستان سے ویزا لے کر وہاں پہنچے ہو۔ ساجدہ احمد کشمیری نے واضح کیا کہ تم کچھ بھی بول لو، مگر تمہارے پاس شناختی کارڈ ملکِ پاکستان کا ہی ہے

  • بھارت میں فوجی گاڑی حادثے کا شکار، حاضر سروس میجر ہلاک

    بھارت میں فوجی گاڑی حادثے کا شکار، حاضر سروس میجر ہلاک

    بھارت کی ریاست راجستھان میں فوجی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے میں ایک حاضر سروس میجر ہلاک جبکہ دو دیگر فوجی افسران شدید زخمی ہو گئے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ جیسلمیر شہر سے تقریباً 18 کلومیٹر دور ایک فوجی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب تین فوجی افسران آرمی اسٹیشن واپس جا رہے تھے۔رپورٹس کے مطابق 26 سالہ میجر حمزہ عارف کی زیرِ قیادت چلنے والی ایس یو وی اچانک سڑک پر آنے والے ایک اونٹ سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر کئی بار الٹتی ہوئی سڑک سے دور جا گری۔پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے زخمی افسران کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے میجر حمزہ عارف کے انتقال کی تصدیق کر دی، جبکہ دو دیگر افسران شدید زخمی حالت میں زیرِ علاج ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ زخمی افسران میں لیفٹیننٹ آیوشمان اور ابھینیو راٹھور شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق میجر حمزہ عارف کی شادی صرف ایک ماہ قبل ہی ہوئی تھی، جس کے باعث ان کی اچانک وفات پر اہل خانہ اور ساتھی فوجی افسروں میں گہرے دکھ کی لہر دوڑ گئی۔

  • امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایف-35 بی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایف-35 بی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں امریکا کا جدید ایف-35 بی (F-35B) لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ بروقت پیراشوٹ کے ذریعے طیارے سے نکلنے میں کامیاب رہا اور اس کی جان محفوظ رہی۔

    امریکی میرین ائیرکرافٹ گروپ 11 کے مطابق ایک نشست والا ایف-35 بی لڑاکا طیارہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے میرین کور ائیر اسٹیشن کے رن وے تک پہنچنے سے قبل حادثے کا شکار ہو گیا۔امریکی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ نے ہنگامی صورتحال کے دوران پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر خود کو محفوظ بنایا۔ اسے معمولی زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    حادثے کے فوراً بعد ائیرپورٹ کے فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر طیارے کے ملبے اور اس کے اطراف میں بھڑکنے والی گھاس کی آگ پر قابو پالیا، جس سے مزید نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ابتدائی طور پر طیارہ گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی فوج نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ ایف-35 بی لائٹننگ II دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مختصر فاصلے سے ٹیک آف اور عمودی (ورٹیکل) لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے جدید جنگی حکمت عملی میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔اس جدید لڑاکا طیارے کی مالیت تقریباً 102 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ اسے امریکی میرین کور کے علاوہ برطانیہ اور اٹلی کی فضائی افواج بھی استعمال کرتی ہیں۔

  • 
2020 دہلی فسادات کیس: طاہر حسین کو عمر قید کی سزا

    
2020 دہلی فسادات کیس: طاہر حسین کو عمر قید کی سزا

    ‎بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سابق رہنما اور سابق کونسلر طاہر حسین کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے اسی مقدمے میں دیگر چار مجرموں کو بھی عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔
    ‎ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے جمعہ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر طاہر حسین اور دیگر ملزمان جرم کے مرتکب پائے گئے، جس کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
    ‎یہ مقدمہ 2020 میں دہلی میں ہونے والے پرتشدد فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل سے متعلق تھا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ انکت شرما فسادات کے دوران ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنے تھے، جبکہ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو قصوروار قرار دیا۔
    ‎طاہر حسین 2017 میں شمال مشرقی دہلی سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم 2020 کے دہلی فسادات کے بعد ان پر متعدد مقدمات درج ہوئے اور گرفتاری کے بعد عام آدمی پارٹی نے انہیں معطل کر دیا تھا۔
    ‎2020 کے دہلی فسادات میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد کئی مقدمات درج کیے گئے جن میں مختلف افراد کے خلاف قتل، تشدد، فساد اور دیگر سنگین الزامات کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔
    ‎عدالتی فیصلے کے بعد اس مقدمے نے ایک بار پھر 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق قانونی کارروائیوں کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم طاہر حسین یا ان کے وکلا کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • 
انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن ہلاک

    
انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن ہلاک

    ‎برطانیہ پہنچنے کے لیے انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کے دوران چار غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ہی روز میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے 752 افراد کی آمد نے رواں سال کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے اپنی نئی حکمت عملی پر زور دے رہی ہے۔
    ‎برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم اینڈی برنہم نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کا چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی آمد کو روکنے کا منصوبہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی ریکارڈ تعداد میں تارکین وطن انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچ گئے۔
    ‎برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز مجموعی طور پر 752 افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے، جو جون میں ریکارڈ ہونے والے 710 افراد کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
    ‎اسی دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انگلش چینل کو دنیا کے خطرناک سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں خراب موسم، تیز لہریں اور غیر محفوظ کشتیاں انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی ہیں۔
    ‎اپوزیشن کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی چینل کراسنگ انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ ہی مزید قیمتی جانیں بچانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کو یہ یقین ہو کہ انہیں رہائش، سہولیات اور پناہ کی درخواست کا موقع ملے گا تو وہ خطرناک سفر اختیار کرنے کا خطرہ مول لیتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ایسی حوصلہ شکنی ضروری ہے جس سے لوگ سمندر کے ذریعے غیر قانونی سفر سے باز رہیں۔
    ‎ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بحران کے انسانی پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ، غربت اور عدم استحکام سے فرار ہونے والے افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں، اس لیے مسئلے کا مستقل حل بین الاقوامی تعاون اور محفوظ قانونی ہجرت کے راستوں میں مضمر ہے۔

  • 
حماس کا غزہ میں مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے مجوزہ منصوبے پر اصولی اتفاق

    
حماس کا غزہ میں مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے مجوزہ منصوبے پر اصولی اتفاق

    ‎حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں مسلح گروپوں کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک مجوزہ روڈ میپ پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی صرف ایک مسودہ ہے اور اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    ‎یہ پیش رفت قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جہاں حماس کے رہنماؤں نے مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر "بورڈ آف پیس” کر رہا ہے۔
    ‎بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو ایک "تاریخی معاہدہ” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کار غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے مکمل غیر مسلح ہونے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب حماس کے حکام نے ٹرمپ کے بیان سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال صرف ایک مجوزہ مسودے پر اصولی اتفاق ہوا ہے اور اسے حتمی معاہدہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حماس کے ایک ذریعے کے مطابق منصوبے میں یہ تجویز شامل ہے کہ بھاری ہتھیار مستقبل کی فلسطینی سول انتظامیہ کی نگرانی میں رکھے جائیں گے، نہ کہ اسرائیل کے حوالے کیے جائیں۔
    ‎حماس کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ تنظیم اس وقت تک غیر مسلح ہونے کے عمل کو آگے نہیں بڑھائے گی جب تک اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا شروع نہیں کرتی۔ ان کے مطابق اسرائیلی انخلا اور معاہدے کی دیگر بنیادی شرائط پر عمل درآمد اس عمل کے لیے لازمی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے میں سرنگوں، اسلحے کے ذخائر اور عسکری پیداوار کی تنصیبات کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں تاکہ مرحلہ وار غزہ میں مسلح ڈھانچے کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی امداد میں اضافے، ایک سول فلسطینی انتظامیہ کے قیام، اسرائیلی افواج کے انخلا اور ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو غزہ میں نئی فلسطینی سول انتظامیہ قائم ہوگی، جو "بورڈ آف پیس” کے ساتھ مل کر کام کرے گی، جبکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے لیے طویل المدتی سیکیورٹی اور خطے میں استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔