Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • افغانستان  سے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں،ہم اپنے مشن میں کامیاب رہے   جوبائیڈن

    افغانستان سے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں،ہم اپنے مشن میں کامیاب رہے جوبائیڈن

    امریکی صدرجوبائیڈن نے کابل پر طالبان کے حملے اور اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو میں افغانستان سے انخلا کے فیصلے کو درست قرار دے دیا.

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں کہا امریکی فوج کی واپسی کےفیصلےپرکوئی پچھتاوا نہیں۔ جانتا ہوں اس فیصلے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنوں گا افغانستان کو تبدیل کرنا ہمارا مشن نہیں تھا، ہمارا مقصد القاعدہ کا خاتمہ اور اسامہ کو پکڑنا تھا، ہم اس میں کامیاب رہے۔

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن…

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انخلا مکمل ہونے پرامریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اگر انخلا روکنے کی کوشش کی توسخت جواب دیں گے۔

    بائیڈن نے کہا کہ طالبان سے لڑے بغیر افغان حکومت ڈھیر ہو گئی جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پانچ سال مزید رہ کر بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے میرے سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹ صدور نے جنگ کی سرپرستی کی میں مزید جاری نہیں رکھ سکتا اور مجھے اپنے فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں۔

    طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے جوبائیڈن انتظامیہ پریشان

    امریکی صدر نے کہا کہ افغان حکومت کا تیزی سے خاتمہ حیرت کی بات تھی جس جنگ کولڑنے کیلئے افغان فوجی خود تیار نہیں اسکے لیے میں امریکیوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا افغان اپنے لیے لڑنے کو تیار نہیں تواس میں امریکا کچھ نہیں کرسکتا افغان فورسز کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے تھے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ طالبان سے معاہدہ سابق صدر ٹرمپ نے کیا تھا افغان جنگ میں مزید امریکی نسلیں نہیں جھونک سکتے۔ ہم نےاپنا سفارتخانہ بند کردیا اورعملے کو واپس بلالیا ہے۔ ضرورت پڑی تو افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف فوری ایکشن لیں گے۔

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    جوبائیڈن نے کہا کہ اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا طالبان سے مذاکرات کیے جائیں اشرف غنی نے ہماری تجویز کو مسترد کیا اور کہا افغان فورسز لڑیں گی افغان فوج کو سب کچھ دیا لیکن لڑنے کا جذبہ نہیں دے سکےچین اور روس کی خواہش ہو گی امریکا افغانستان میں مزید ڈالرخرچ کرتا رہے۔

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

  • طالبان کی خواتین ڈاکٹرز کو اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کی ہدایت

    طالبان کی خواتین ڈاکٹرز کو اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کی ہدایت

    طالبان کے ایک مقامی وفد نے خواتین ڈاکٹرز کے ساتھ ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق طالبان کے ایک مقامی وفد نے خواتین ڈاکٹرز کے ساتھ ملاقات کی اور خواتین ڈکٹرز اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کا حکم دیا ہے کہا کہ وہ اطمینان کے ساتھ اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہو نا چاہیئے-

    دوران ملاقات طالبان نے خواتین کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے-

    افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے ترجمان طالبان

    جس کے بعد خواتین کے تحفظ اور جاب کر نے کے بارے میں جو خدشات تھے طالبان کی اس ملاقات اور یقین دہانی نے ان خدشات کو ختم کر دیا ہے-

    دوسری جانب طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے پاکستانی چینل سے گفتگومیں بتایا کہ افغانستان میں کرکٹ اپنے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی تھی اور اب بھی اس نے اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

    بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے سہیل شاہین

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

  • افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے   ترجمان طالبان

    افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے ترجمان طالبان

    طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے پاکستانی چینل سے گفتگومیں بتایا کہ افغانستان میں کرکٹ اپنے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی تھی اور اب بھی اس نے اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل افغان کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں خدشات تھے کرکٹ پر سہیل شاہین کے ریمارکس نے خدشات کو ختم کر دیا ہے۔

    اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ہم تمام سفارت کاروں ، سفارتخانوں ، قونصل خانوں اور خیراتی کارکنوں کو یقین دلاتے ہیں ، چاہے وہ بین الاقوامی ہوں یا قومی کہ آئی ای اے کی جانب سے نہ صرف ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوگا بلکہ ان کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا ، انشاء اللہ۔

  • افغانستان کی حالیہ صورتحال پر سعودی عرب نے اپنا بیان جاری کر دیا

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر سعودی عرب نے اپنا بیان جاری کر دیا

    سعودی عرب نے طالبان سمیت تمام افغان فریقین پر زور دیا ہے کہ امن و استحکام کے لیے مل کر ‏کام کریں۔

    باغی ٹی وی : اشرف غنی کے ملک سے فرار اور کابل پر طالبان کے کنٹرول سے پیدا شدہ صورتحال اور رونما ہونے ‏والے واقعات پر سعودی عرب کا بیان سامنے آیا ہے-

    سعودی عرب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال پرنظرہے اور جلد بہتری کی امید ہے اللہ ‏کےفرمان کےمطابق تمام مومنین بھائی بھائی ہیں، امید ہے طالبان اور دیگر طبقات مل کر امن ‏کیلئےکام کریں گے۔

    ریاض حکومت نے افغان عوام کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ‏عرب افغان عوام کے کسی بیرونی مداخلت کے بغیر انتخاب کے ساتھ کھڑا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام جو راستہ کسی بھی مداخلت کے بغیر اپنے طور پر منتخب ‏کریں گے تو سعودی عرب کو اپنا حامی پائیں گے۔

  • طالبان کوافغان سرکاری بینک کےغیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دیں گے    امریکا

    طالبان کوافغان سرکاری بینک کےغیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دیں گے امریکا

    واشنگٹن:اعلیٰ امریکی حکام نے دعویٰ کیاہے کہ افغان طالبان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کے سرکاری بینک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک طالبان کو رسائی نہیں دی جائے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے کہ افغان سینٹرل بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 40 کروڑ ڈالرز کے ہیں۔

    اس حوالے سے امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سینٹرل بینک کے زیادہ تر ذخائر بیرون ملک موجود ہیں-

    واضح رہے کہ افغان حکومت کے خاتمے طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کی رفتار اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی افراتفری نے صدر جوبائیڈن کو بطور کمانڈر انچیف انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے محض چند روز قبل کیے جانے والے دعوے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ 30 روز کے اندر طالبان کابل کا دیگر شہروں سے رابطہ منقطع کرسکتے ہیں اور 90 روز میں کابل پر قابض ہوسکتے ہیں۔

    طالبان نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکی انٹیلی جنس کے بھی تمام دعوؤں کو یکسر غلط ثابت کردیا ہے جس کی وجہ سے جوبائیڈن کو ری پبلکن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے-

    رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی افواج کے محفوظ انخلا کا منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر اںخلا کا منصوبہ بن گیا ہے بائیڈں گزشتہ کئی ماہ سے دکھائی دینے والے واقعات کو نہ صرف دیکھنے میں ناکام رہے بلکہ حالات کو ان کی حقیقی شدت کے بجائے کم نوعیت کا بتاتے رہے۔

    موجودہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی برق رفتاری دیکھ کر قدرے محتاط ہو گئے تھے۔

  • خوشی ہےطالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے    انتونیو گوتریس

    خوشی ہےطالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے انتونیو گوتریس

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب کو متحد ہونا ہو گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ خوشی ہے کہ طالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

    رپورٹ کے مطابق کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب کو متحد ہونا ہو گا۔

    واضح رہے کہاپنے ایک بیان میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے یقین دہانی کرائی کہ ہم تمام سفارت کاروں ، سفارتخانوں ، قونصل خانوں اور خیراتی کارکنوں کو یقین دلاتے ہیں ، چاہے وہ بین الاقوامی ہوں یا قومی کہ آئی ای اے کی جانب سے نہ صرف ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوگا بلکہ ان کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا ، انشاء اللہ۔

    ان کا کہنا تھا کہ امارت اسلامیہ نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے اور ایک بار پھر انہیں ہدایت دی ہے کہ کسی کو بھی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کی جان ، مال اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن مجاہدین کے ذریعے اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

  • بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے  سہیل شاہین

    بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے سہیل شاہین

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے یونکہ وہ عوام کے لیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ہم نیوز کے پروگرام ’ہم مہر بخاری کے ساتھ‘ میں طالبان ترجمان نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے بغیر لڑائی کے اضلاع ہمارے کنٹرول میں آرہے تھے ہم پر امید تھے کہ کابل پر قبضہ کرلیں گے لیکن خلاف توقع یہ بہت جلدی ہوا-

    انہوں ںے کہا کہ افغان عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے تعجبٕ ہوا کہ لوگ جہازوں پر چڑھ رہے ہیں۔

    پروگرام میں طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ سابقہ کابل انتظامیہ کے جو لوگ پریشان ہیں وہ بھی پرسکون رہیں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کےحق سے محروم نہیں کریں گے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے کہ کسی گروپ کو افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے یہ صرف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہو گی۔

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ افغانوں پر مشتمل اسلامی حکومت چاہتے ہیں ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ افغانستان کا نیا سربراہ کون ہوگا؟-

    سہیل شاہین نے واضح طور پر کہا کہ اگر امریکہ آئندہ 20 سال مزید بھی لڑتا تو وہ پھر بھی یہاں سے جانے پر مجبور ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرے کیونکہ وہ عوام کے لیے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ سابق حکومت بہت کرپٹ تھی اس لیے آفیشل نے سرنڈر کیا اشرف غنی کسی کو بتائے بغیر بھاگ گئے ان کے اس طرح جانے کی توقع نہیں تھی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا تھا کہ اشرف غنی عوام کو بتائے بغیر ملک چھوڑ گئے ان کے اس طرح جانے کی توقع نہیں تھی۔

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

    انہوں نے کہا تھا کہ ملا عبدالغنی برادر قطر میں موجود ہیں لیکن اب دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سابق نائب صدر امراللہ صالح اور دیگر کو افغان عوام نے مسترد کردیا ہے، امراللہ صالح پنج شیر جائیں یا کہیں اور، ان کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان اسلامی حکومت تشکیل دیں گے، وہ بین الاقوامی برادری سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    سہیل شاہین نے کہا تھا کہ انڈیا کا رونا دھونا اس لیے لگا ہوا ہے کہ افغانستان کی حکومت کیوں ختم ہوگئی۔ بھارت کو چاہیے کہ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے۔

  • ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا

    ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا

    ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا.

    باغی ٹی وی : خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغان طیارے غیرقانونی طور پر ازبکستان کی فضائی حدود استعمال کررہےتھے جس کے باعث انہیں اتار لیا گیا طیاروں میں سیکڑوں فوجی موجود تھے۔

    اس سے قبل ازبک وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فضائی حدودکی خلاف ورزی کرنے پرافغان طیارہ مارگرایا،طیارہ ازبکستان کی افغان سرحد کے قریب شہر میں گرا، حادثے کے بعد پائلٹ زخمی ہو گئے۔جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے

    ازبک وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ طیارے کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر نشانہ بنایا گیا، افغان حکومت کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا ہے-

    قبل ازیں یہ کہا گیا تھا کہ افغان فوج کے جہاز نے ازبکستان میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن اجازت نہیں ملی اور اس جہاز کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، تا ہم اب ازبک وزیر دفاع نے اس بات کی تائید کی ہے کہ فضائی حدود کی‌ خلاف ورزی پر طیارے کو گرایا گیا ہے-

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    دوسری طرف افغان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کابل کی فضائی حدود مسافرطیاروں کیلئےبند ہے،صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گے۔

    افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ائیر مین (نوٹم) کو ایک نوٹس جاری کیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ حامدکرزئی ایئرپورٹ کابل کو عام مسافروں کیلئےبندکردیاگیا جبکہ کابل کی فضائی حدودصرف فوجی پروازوں کیلئے کھلی رہےگی-

    نوٹس میں کہا گیا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سویلین حصہ اگلی اطلاع تک بند رہے ‏صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گےدونوں انتباہات 18 اگست تک رہیں گے-

    ازبکستان نے افغانستان کا طیارہ گرا دیا

  • کابل: سی این این کی کلاریسا وارڈ  کی برقع پہن کر رپورٹنگ کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    کابل: سی این این کی کلاریسا وارڈ کی برقع پہن کر رپورٹنگ کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    سی این این کی خاتون رپورٹر کلاریسا وارڈ کی برقع پہن کر کابل میں رپورٹنگ کرنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : طالبان کی افغانستان میں حکومت کے اثرات ایک ہی دن میں ہونا شروع ہو چکے ہیں اس کی تازہ مثال سی این این کی خاتون رپورٹر کلاریسا وارڈ کی ہے جو برقع پہن کر رپورٹنگ کر رہی ہیں اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہیں۔

    کلاریسا وارڈ سی این این کیلئے سڑکوں پر عوام اور طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں برقع میں ملبوس سی این این کی رپورٹر نے شہر کے مختلف علاقوں کا چکر لگایا اور اپنے چینل کے ذریعے شہر کے حالات سے آگاہ کیا-

    کلاریسا وارڈ نے سیاہ رنگ کا برقع پہن رکھا ہے اور مختلف مقامات سے رپورٹس بھیج رہی ہیں کہ افغان طالبان کے آنے کے بعد کابل کی کیا صورتحال ہے۔

    سی این این کی خاتون رپورٹر کے مطابق فتح پر خوشی سے سرشار طالبان شہر کی سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دیئے افغان صدارتی محل اور امریکی سفارتخانے کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھ میں ہے شہریوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ ہے اور عوام ان کے ساتھ تصویریں بھی بنوا رہے ہیں –

    کلاریسا وارڈ نے رپورٹ دی کہ طالبان جنگجووں کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تاہم طالبان جنگجوؤں نے امریکہ کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔

    کلاریسا کے مطابق انہیں دیکھ کر طالبان جنگجو تھوڑا پریشان دکھائی دیئے تاہم انہیں کوریج سے نہیں روکا ۔

  • ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں     افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    طالبان کے افغان دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد ایئرلائنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کابل کی فضائی حدود سے گریز کریں جس کی فلائٹ انفارمیشن ریجن پورے افغانستان پر محیط ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 21 اگست 2021 کو ائیر مین (نوٹم) کو ایک نوٹس جاری کیا ، جس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ حامدکرزئی ایئرپورٹ کابل کو عام مسافروں کیلئےبندکردیاگیا جبکہ کابل کی فضائی حدودصرف فوجی پروازوں کیلئے کھلی رہےگی-

    نوٹم کے مطابق ‏کابل کی فضائی حدود مسافرطیاروں کیلئےبند کر دی گئی ہے ٹرانزٹ ہوائی جہاز کو دوبارہ راستے کا مشورہ دیں کابل فضائی حدود کے ذریعے کوئی بھی نقل و حمل بے قابو ہو جائے گی-

    نوٹس میں کہا گیا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سویلین حصہ اگلی اطلاع تک بند رہے ‏صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گےدونوں انتباہات 18 اگست تک رہیں گے-

    آخری شیڈول مسافر پروازوں میں سے ایک ، ترکش ایئرلائن کی پرواز TK707 ، ایک بوئنگ 777-300 بالآخر مقامی وقت کے مطابق 13:14 بجے ، اپنے مقررہ روانگی کے وقت کے پانچ گھنٹوں کے بعد کابل سے روانہ ہوئی۔

    ایمریٹس ای کے 640 سمیت دیگر پروازوں نے 15 اگست 2021 کو کابل لینڈ کرنے کے بجائے دبئی واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کابل کی فضائی حدود سے دور رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایئرلائنز کو بعض مقامات تک پہنچنے کے لیے لمبے لمبے راستے اختیار کرنے پڑیں گے ، ان پر وقت اور ایندھن کا اضافی بوجھ پڑے گا-

    لوفتھانسا (LHAB) (LHA) نے کہا کہ اس کی تمام گروپ ایئر لائنز – بشمول Lufthansa (LHAB) (LHA) ، آسٹریا ، برسلز ، سوئس اور یوروونگس برانڈز ، اگلے نوٹس تک افغانستان سے زیادہ پرواز سے گریز کریں گی۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان میں پروازوں کے سفر کے اوقات میں ایک اضافی گھنٹہ شامل کیا گیا ہے۔

    لوفتھانسا (ایل ایچ اے بی) (ایل ایچ اے) نے مزید کہا کہ وہ جرمن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ جرمن شہریوں کو وطن واپس لانے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔

    فرانس کی وزارت مسلح افواج نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اپنے سفارتی اہلکاروں کے باقی ماندہ افراد کو بھی نکال رہا ہے ، اور ساتھ ہی "افغانی جنہوں نے اپنی فوج کی مدد کی ہے”۔

    اب جب کہ طالبان نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے اور ملک پر اپنا اقتدار قائم کر لیا ہے ، ہزاروں لوگ انتقام کے خوف سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

    اب تک ، باقی امریکی افواج نے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے (KBL) کو محفوظ رکھا جبکہ غیر ملکی شہریوں کو باہر نکالا۔ لیکن مقامی لوگوں کا رن وے پر رش مچ گیا ہے یہاں تک کہ فوج کو ہوائی فائر کرنے پڑے اطلاعات کے مطابق بھگدڑ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔


    ایسی کوئی صورت حال نہیں ہوگی جہاں آپ لوگوں کو سفارت خانے کی چھت پر سے فرار ہوتا ہوا دیکھیں، "امریکی صدر جو بائیڈن نے 8 جولائی 2021 کو وعدہ کیا تھا ، کیونکہ لوگوں نے کابل کی صورتحال کا موازنہ اپریل 1975 میں ویتنام کے شہر سیگون سے نکالنے سے کیا تھا۔


    اس کے باوجود صورتحال توقع سے زیادہ تیزی سے بگڑ گئی ، جس سے امریکہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ 2،000 فوجیوں کو تعینات کرے جو پہلے ہی شہر کے انخلا کی نگرانی کرنے والے تین ہزار کی مدد کرے۔ اور 15 اگست 2021 کو تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا کیونکہ ایک چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر بقیہ اہلکاروں کو ہوائی اڈے تک پہنچانے کے لیے امریکی سفارت خانے کی چھت پر اترا۔