Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ آج کھیلا جائے گا-

    باغی ٹی وی : دونوں ٹیموں کے مابین میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق فیس ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آسکتے ہیں۔

    دوسری جانب پہلے میچ کی طرح آج کے میچ میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 4 میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا تھا جبکہ تیسرا اور چوتھا میچ یکم اور 3 اگست کو شیڈول ہے-

    واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹر اعظم ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں انہیں آج کے میچ اور تیسرے میچ میں نہیں کیھلایا جائے گا جبکہ ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ چوتھے میچ میں کھیلہں گے یا نہیں پیر کے روز زخم کا معائنہ دوبارہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا –

    کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی

  • امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی ملک کا بڑا اثاثہ اور فخر ہے   ڈاکٹر اسد مجید خان

    امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی ملک کا بڑا اثاثہ اور فخر ہے ڈاکٹر اسد مجید خان

    امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے کہا ہے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کا بڑا اثاثہ ہے۔

    باغی تی وی : پاکستان امریکن لیگیسی فاؤنڈیشن کی جانب سے ہیوسٹن میںایک تقریب میں مقامی کمیونٹی رہنماؤں سید جاوید انور اور طاہر جاوید جن کو حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز اور تمغہ امتیاز دیا گیا ہے یہ ایوارڈ سفیر پاکستان نے دیئے-

    تقریب میں ہیوسٹن میں متعین پاکستان کے قونصل جنرل ابرار حسین ہاشمی مقامی منتخب نمائندوں کمیونٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ خطبہ استقبالیہ پاکستان امریکن لیگیسی فاؤنڈیشن کے سیکریٹری سعید شیخ نے پیش کیا ۔

    تقریب میں دونوں کمیونٹی رہنماؤں کا تعارف ایونٹ کے چیئرمین ایم جے خان اور ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف قدیر نے کرایا اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے حالات زندگی اور خدمات پر مشتمل ڈاکومینٹری حاضرین کو دکھائی گئی جبکہ پاکستان امریکین لیگیسی فاؤنڈیشن کے صدر ہارون شیخ نے فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد پیش کیئے اور سفیر پاکستان کا تعارف کرایا۔

    ڈاکٹر اسد مجید کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر خوشی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی نژاد نوجوان جس تیزی سے امریکہ میں ترقی کر رہے ہیں اور شہر کی سیاست سے لے کر سٹی میں اہم عہدوں پر تعینات ہیں ،ان کو دیکھ کر مجھے نہ صرف خوشی محسوس ہوتی ہے بلکہ ان پر فخر بھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل امریکہ میں کافی ترقی کر رہی ہے اور زاہد قریشی، بلاول سید، علی زیدی، سلمان احمد، نعمان حسن اس کی بڑی مثال ہیں۔

    سفیر پاکستان نے کہا کہ ہماری کمیونٹی پاک و امریکہ تعلقات کے حوالے سے جو کردار ادا کر رہی ہے وہ قابل تحسین اور قابل فخر ہے کیونکہ وہ اس ملک میں رہتے ہوئے نہ صرف اپنے خاندان کے لئے بلکہ ملک کے لیے بھی گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    سفیر پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ سید جاوید انور طاہر جاوید کو حکومت پاکستان کی جانب سے جو اعزازات اور ایوارڈ دیے گئے ہیں، یہ ان کی والہانہ خدمت کا اعتراف ہے ، کشمیر کا معاملہ ہو یا دیگر معاملات پاکستان کو کسی بھی قسم کے مسائل درپیش ہوں یہ کمیونٹی ہر ایشوز میں پاکستان کی مدد کرنے میں پاکستان کا ہراول دستہ ثابت ہوئی ہے اور جو کام ہم سفارت کار بھی سرانجام نہیں دے سکتے وہ کام آپ کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک عام پاکستانی نژاد امریکی شہری بھی پاکستان سے متعلق اہم مسائل پر اپنے سینیٹرز اور کانگریس کے اراکین سے ای میل ،خط اور کال کے ذریعے ان کو اس ضمن میں حمایت کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور اس طرح عام پاکستانی بھی اپنے ملک کی خدمت کرسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو انتہائی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو سفارتخانہ ہرممکن سہولیات بہم پہنچانے کے لیے ہماں وقت کوشاں ہے،زیادہ تر قونصلر سروس آن لائن کر دی گئی ہیں اس طرح ہم آپ کی دہلیز تک سہولیات بہم پہنچانے میں ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

    سفیر پاکستان ڈاکٹر اسد مجید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ روشن سماجی خدمت سمیت دیگر اہم اقدامات اس کی بھرپور مثال ہیں۔

    پروگرام کے آخر میں محفل موسیقی کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف قوال ریاض اور ہمنوا نے صوفی کلام پیش کیے،مذکورہ پروگرام کی نظامت زینت خان مٹھانی نے کی اور آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم طاہر بھٹی نے کیا۔

  • واقعی ترکی کوجلانے کی سازش:کس نے تیارکی؟کون شامل ہے؟سب کوسزا دیں گے :ترک صدرغصے میں آگئے

    واقعی ترکی کوجلانے کی سازش:کس نے تیارکی؟کون شامل ہے؟سب کوسزا دیں گے :ترک صدرغصے میں آگئے

    انقرہ:واقعی ترکی کوجلانے کی سازش:کس نے تیارکی؟کون شامل ہے؟سب کوسزا دیں گے :ترک صدرغصے میں آگئے ،اطلاعات کے مطابق ترک حکام نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ترکی کوجلانے کی یہ سازش ہے اوراس سازش کے پیچھے چھپے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے سخت سزا دیں گے ،

    حکام نے سیاحتی مقام انطالیہ کے مشرقی حصے میں بدھ کے روز 4 مقامات پر لگنے والی مشتبہ آگ کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔آگ انطالیہ کے مشرق میں 75 کلومیٹر کے فاصلے پر کم آبادی والے علاقے میں ایک ریزورٹ سے پھیلی جو روسی اور مشرقی یورپ سیاحوں میں مقبول تھا۔

    ترک ماہرین اورسرکاری حکام کہتے ہیں کہ آگ ایسے وقت میں بھڑکی کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا اور ہوا کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

    دوسری طرف ترک میئر نے کہا کہ انہیں کسی شرانگیزی کا شبہ ہے کیونکہ آگ ایک ساتھ 4 مقامات پر لگی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ آتش زنی کا حملہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس مرحلے پر ہمارے پاس ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں ترک صدر طیب اردگان نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ترک صدر کے صدارتی مواصلاتی ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ فطرت اور جنگلات کے خلاف حملوں پر ذمہ داران کا محاسبہ کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے 4افراد جاں بحق اور 180 سے زائد زخمی ہو گئے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ترکی کے جنوبی علاقوں کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، متاثرہ علاقوں میں 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواں سے آگ پھیلتی جا رہی ہے

  • ترکی کودعائیں میں یاد رکھنا”#PrayForTurkey”ہردل کی آوازبن گیا،دیکھتے ہی دیکھتےٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    ترکی کودعائیں میں یاد رکھنا”#PrayForTurkey”ہردل کی آوازبن گیا،دیکھتے ہی دیکھتےٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور:ترکی کودعائیں میں یاد رکھنا”#PrayForTurkey”ہردل کی آوازبن گیا،دیکھتے ہی دیکھتےٹاپ ٹرینڈ بن گیا،اخوت اس کو کہتے ہیں کہ چُبھے جوکانٹا کابل میں توپاکستان کا ہرپیروجوان بے تاب ہوجائے،آج واقعی علامہ اقبال کے اس پُرامید گمان کواہل پاکستان سمیت دنیا بھرکے مسلمانوں نے عملی جامہ پہنا دیا ہے

    ترکی جہاں اس وقت 13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ استبول سمیت 21 بڑے شہروں میں پھیل گئی،جہاں املاک وجائیداد کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے وہاں انسانی جانوں کے ضیاع کوبھی رد نہیں کیا جاسکتا

    یہ پریشان صورت حال دیکھ کرترکی کےلیے دعاوں کا سلسلہ دنیا بھر میں شروع یوگیا ، اس سلسلے کی ابتدائی کڑی پاکستان سے جا ملتی ہے جہاں پاکستان کی بیٹی آمنہ امان نے سب سے پہلے اہل وطن سے ترکی کے لیے دعائے خیرکی درخواست کی ہے

    یہ انداز اس قدر مقبول ہوا کہ دنیا بھرکے مسلمانوں اورنرم دل انسانوں کے دل کی آواز بن گئی اورہرطرف سے آواز آرہی ہے کہ "ترکی کی حفاظت کےلیے دعاوں کی ضرورت ہے اوریوں پھریہ ہردل کی آواز بن گئی

    اس وقت یہی آواز ایک ٹرینڈ بن گیا ہے

    سمیرہ نامی ترک بیٹی یہ کہتی ہیں‌کہ وہ اپنے وطن کوایسے جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی وہ کہتی ہیں‌ کہ میرے ملک کی خیرکےلیے دعا کیجئے
    میرے ملک کو جلایا جارہا ہے،ہمارے لوگوں اور جانوروں کے رہائش گاہ تباہ ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں ، جانوروں ، رہائش گاہوں کو کھو رہے ہیں۔ ہم اپنے سانسوں ، اپنے درختوں کو کھو رہے ہیں ، سمیرہ کہتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ آگ بڑی ہوتی جارہی ہے ۔ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ اسے پھیلائیں ، دنیا کو بتائیں

     

    اس ٹرینڈ کو ، اس دعا کو ، اس التجا کو پاکستان سے سب سے پہلے اہل وطن کے حضور گوش گزارکیا گیا

     

    آمنہ امان جو کہ ایک مصنفہ ہیں اورترک ثقافت اورمعاشرت سے بہت زیادہ میلان رکھتی ہیں ان کی بھی یہ آواز تھی کہ :ترکی میں 13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ 21 شہروں بشمول استنبول تک پھیل چکی ہے۔ ترکی کو دعاٶں میں یاد رکھیے اور اللہ سے رحم کی دعا کیجیے۔

     

    https://twitter.com/AmanHarris/status/1421031177713065986

     

    ٹونا نامی ایک ترک صارف کہتے ہیں کہ یہ ایک سازش ہے جسے سمجھنا ضروری ہے

     

    وہ کہتے ہیں  کہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی نہیں جل رہا ، ترکی کو جلایا جارہا ہے! یہ سمجھنے کے لئے اعلٰی ذہانت کا ہونا ضروری نہیں ہے کہ یہ آگ لگ جاتی ہے۔ آگ لگ بھگ 17 مختلف شہروں میں 58 سے زیادہ مقامات پر جاری ہے اور ابھی تک کچھ نہیں کیا جاسکا۔

     

     

     

     

     

    زین اعجاز کہتے ہیں کہ ترکی کو دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک نے جان بوجھ کر نذر آتش کیا۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے ، جانور اور انسان اپنی جانیں گنوا رہے ہیں اور پورا ماحولیاتی نظام اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ ہمارے ترک بھائیوں کی مدد فرمائے۔

     

  • بھارت میں ٹوئٹر کے ساتھ حکومتی تنازعہ، ارکان نے ٹوئٹر کی حلیف ایپ استعمال کرنا شروع کردی

    بھارت میں تیار کردہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو حکومتی کی جانب سے تائید و حمایت کا ایک اور اہم اشارہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے بھی’کوو (KOO) پر اپنا اکانٹ شروع کر دیا ہے۔ اسی ماہ وزارت کا عہدہ سنبھالنے والے ویشنو کا ٹوئٹر پر بھی اکاونٹ ہے جہاں ان کے دو لاکھ اٹھاون ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بھارتی وزیر نے ‘کوو’ پر اپنے ایک پیغام میں بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں نئے سخت ضابطوں پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں؟

    مودی حکومت کے محکمہ رابطہ عامہ کے ایک افسر نے اپنا نام شائع نہیں کرنے کی شرط پر بتایاکہ کوشش یہ ہے کہ ٹوئٹر کا متبادل استعمال کیا جائے۔حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل سے وابستہ ایک اہلکارکے مطابق مودی حکومت میں ایسے متعدد وزرا ہیں جو ان کی ٹوئٹس پر ٹوئٹر کی جانب کیے جانے والے حالیہ اقدامات اور سختیوں کی وجہ سے کافی ناراض ہیں۔

    ہندو قوم پرست حکومت کے سربراہ نریندر موودی کے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ حالیہ چند ماہ کے دوران یکے بعد دیگر ایسے متعدد معاملات ہوئے جس کی وجہ سے دونو ں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوتی گئی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فروری میں بھارتی حکومت نے ٹوئٹر کو کسانوں کی تحریک کے دوران مودی حکومت کی سخت نکتہ چینی کرنے والے بعض اکاونٹس اور ٹوئٹس کو حذف کرنے کے لیے کہا تھا۔ٹوئٹر نے تاہم یہ ‘درخواست ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی حکومت کے بعض مطالبات بھارتی قانون کے خلاف ہیں۔ حکومت کو اس کی یہ کافی ناگوار گزرا۔ جس کے بعد اس نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے کا حکم دیا۔

    اب صورت حال یہ ہے کہ ٹوئٹر کے خلاف مختلف ریاستوں میں پانچ کیس درج کیے جا چکے ہیں جن کی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ ان کے علاوہ کئی ویڈیوز پوسٹ کیے جانے پربھی درج کیسز میں ٹوئٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔ٹوئٹر سے حکومت کے بگڑتے ہوئے رشتوں کا فائدہ بھارتی کمپنی ‘کوو کو’ ہوا۔ جو فی الوقت آٹھ بھارتی زبانوں میں دستیاب ہے۔ مودی حکومت اور ٹوئٹر کے درمیان تنازعہ شروع ہونے پر صرف دو دن میں ‘کوو ‘کو ڈاون لوڈ کرنے والوں کی تعداد دس گنا بڑھ کر تیس لاکھ ہوگئی۔ جبکہ اس وقت کوو استعمال کرنے والوں کی تعداد ستر لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمشن کا سائبر کرائمز کیخلاف متعلقہ اداروں سے مشاورت کا فیصلہ

    سائبر کرائم، حکومتی رکن نے درخواست دی تو کیا جواب ملا؟ کمیٹی میں انکشاف

    دوہرے معیارکب تک چلیں گے مسلمانوں کو خود ایسے پلیٹ فارمز بنانے کی ضرورت ہے علامہ ہشام الہی ظہیر

    پروپیگنڈے کرنیوالی مودی سرکار باغی ٹی وی کا "سچ” برداشت نہ کر سکی،باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی درخواست کر دی

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    بھارتی اقدام قابل مذمت، باغی ٹی وی کو دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے،خرم نواز گنڈا پور

    ٹوئٹر انتظامیہ کی بھارت نوازی شرمنا ک ہے ، حکومت کو آواز اٹھانا چاہیے، چوہدری ذولفقار علی بھنڈر

    سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کروانا آزادی صحافت پر حملہ ہے،لیاقت بلوچ

    ٹویٹر‌کو کسانوں کا حمایتی بننا چاہیے ، ان کے حق میں‌اٹھنے والی آواز بنیادی انسانی حقوق ہے ، احمد…

    مودی کی زراعت دشمن پالیسیوں‌کےخلاف احتجاج کرنے والے 500 کسانوں کے ٹویٹراکاونٹ بھی بند

    بھارت میں ٹوئٹر کے ایک کروڑ 75 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔ بھارتی وزیروں کی جانب سے ‘کوو کی بڑھتی ہوئی حمایت پر ٹوئٹر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ کئی وزیروں اور اعلی افسران کے ساتھ براہ راست کام کرتا ہے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں بھی اہم رول ادا کر رہا ہے۔حکومت کے متعدد وزرا اور محکمے ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ ‘کوو ‘کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا حکومت اور حکمراں جماعت بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ میں سے کسی نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دنیا میں سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے افراد میں سے ایک ہیں۔ ان کے تقریبا سات کروڑ فالوورز ہیں۔ لیکن انہوں نے ابھی تک ‘کوو پر اپنا اکاونٹ نہیں بنایا ہے۔

    ‘کوو ‘نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران کافی تیز چھلانگ لگائی ہے۔ گزشتہ ماہ نائیجریا کی حکومت نے اس پر اپنا آفیشیل اکاونٹ بنایا تھا۔ بھارت میں وزارت تجارت نے بھی کوو پر اپنا اکاونٹ کھول دیا ہے جس کے بارہ لاکھ فالوورز ہیں۔ ٹوئٹر پراس وزار ت کے فالوورز کی تعداد تیرہ لاکھ ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کئی ریاستی حکومتیں بھی ‘کوو ‘پر اپنا آفیشیل اکاونٹ بنارہی ہیں۔ اترپردیش میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے ٹوئٹر پر اپنے اکیس ہزار فالوورز کو کوو پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ جہاں اس کے فی الحال 962 فالوورز ہیں۔ کوو کے معاون بانی میئنک بڈواٹکا کا کہنا تھا،اب تک چند مہینوں کی بات ہے، آپ دیکھیں گے کہ تقریبا سبھی کوو پر ہوں گے۔ٹیکنالوجی سیکٹر کے ماہرین کا تاہم خیال ہے کہ ‘کوو سے لوگوں کی جلد محبت کی امید کم ہے البتہ مقامی زبانوں میں دستیاب ہونے کی وجہ سے لوگ دھیرے دھیرے اس کی کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔

  • طوفان کے باعث روہنگیا کیمپوں میں ہزاروں افراد بے گھر:کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی سننے والا نہیں‌

    طوفان کے باعث روہنگیا کیمپوں میں ہزاروں افراد بے گھر:کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی سننے والا نہیں‌

    ڈھاکہ : طوفان کے باعث روہنگیا کیمپوں میں ہزاروں افراد بے گھر:کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی سننے والا نہیں‌ ،اطلاعات کے مطابق جنوبی بنگلہ دیش میں کئی دنوں سے جاری بارش کے باعث روہنگیا مہاجر کیمپس تباہ ہوگئے اور ہزاروں متاثرین کو ان کے رشتہ داروں کی پناہ گاہوں یا مشترکہ شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی مہاجرین ایجنسی کا کہنا تھا کہ بدھ کی دوپہر تک چوبیس گھنٹے کے دوران ضلع کاکس بازار میں واقع کیمپس میں 11.8 انچ بارش ریکارڈ کی گئی جہاں 8 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں۔

    ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی بارش جولائی کی اوسط بارشوں کے نصف کے قریب ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں اس سے زیادہ بارشوں کی توقع کی جارہی ہے اور مون سون سیزن اگلے تین ماہ تک جاری رہے گا۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے نتیجے میں فی الحال سخت لاک ڈاون ہے۔

    انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کیمپ میں 6 ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے 5 افراد بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ اور ایک بچہ سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوا۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ابتدائی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسلادھار بارش سے 12 ہزار سے زائد مہاجرین متاثر ہوئے اور تقریباً ڈھائی ہزار کیمپس کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوئے۔

    ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ 5 ہزار سے زائد مہاجرین کو عارضی طور پر ان کے رشتہ داروں کی پناہ گاہوں یا مشترکہ شیلٹرز میں منتقل کیا گیا ہے۔

    یو این ایچ سی آر کی ترجمان حَنا میکڈونلڈ نے ای میل میں کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔

    مہاجرین کا کہنا تھا کہ انہیں کھانے اور پینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اگرکسی نے خیال نہ کیا توپھرہزاروں روہنگیا مسلمان بے بسی کی موت مرجائیں گے

  • ترکی کودعاوں میں‌ یاد رکھنا:13 مقامات سےاچانک اٹھنے والی آگ استبول سمیت 21 بڑے شہروں میں پھیل گئی

    ترکی کودعاوں میں‌ یاد رکھنا:13 مقامات سےاچانک اٹھنے والی آگ استبول سمیت 21 بڑے شہروں میں پھیل گئی

    ترکی:ترکی کودعاوں میں‌ یاد رکھنا:13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ استبول سمیت 21 بڑے شہروں میں پھیل گئی،اطلاعات کے مطابق ترکی کواس وقت قوم اورامت مسلمہ کی دعاوں کی سخت ضرورت ہے ، ادھر اطلاعات کے مطابق ترکی میں‌ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آئے 63 مقامات آچکے ہیں‌

    جہاں اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ اس بہت بڑے سانحے پراپنے انداز سے رپورٹنگ کررہےہیں ،پاکستان کی بیٹی آمنہ امان نے نہ صرف اس تکلیف دہ منظرکوپیش کیا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایسی بات کہہ دی ہے کہ جو کہ کروڑوں انسانوں اورمسلمانوں کے دل کی آواز بھی ہے

    آمنہ امان جو کہ ایک بہت بڑی مصنفہ ہیں اورہمیشہ خیر کے پہلوسے لکھتی ہیں آج بھی ترکی کے لیے خیر کی دعا کی ہے وہ کہتی ہیں کہ
    ترکی میں 13 مقامات سے اچانک اٹھنے والی آگ 21 شہروں بشمول استنبول تک پھیل چکی ہے۔ ترکی کو دعاٶں میں یاد رکھیے اور اللہ سے رحم کی دعا کیجیے۔

     

     

    https://twitter.com/AmanHarris/status/1421031177713065986

     

    آمنہ امان کی یہ دعائیں اس وقت نہ صرف سوشل میڈیا کی زینت بن گئی ہیں بلکہ ان دعاوں کی گونج استنبول تک محسوس کی جارہی ہے

    ادھرترک حکام نے بھی تازہ ترین صورت حال دوسرے زاوے سے بیان کی ہے ، ترک حکام کہتے ہیں کہ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آئے 63 مقامات میں سے 43 مقامات پر حالات قابو میںترکی: جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آئے 63 مقامات میں سے 43 مقامات پر حالات قابو میں ہیں

    ترکی بھر میں دو روز سے جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آئے 63 مقامات میں سے 43 پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    وزیر مواصلات فخر الدین آلتن نے سوشل میڈیا پیج سے "ہماری حکومت جنگلات کو بچانے کے لئے کمر بستہ ہے” کے عنوان سے ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے جنگلات کی آگ کو بجھانے کے لئے مصروف عمل گاڑیوں، طیاروں اور عملے کی تعداد کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

    پیغام میں آلتن نے کہا ہے کہ "متعلقہ ادارے اور تنظیمیں تقریباً 4 ہزار افراد کے عملے، سینکڑوں گاڑیوں اور متعلقہ سامان کے ساتھ 21 اضلاع میں لگی جنگلاتی آگ کو بجھانے کے لئے زمین اور فضاء سے مصروفِ عمل ہیں”۔

    انہوں نے کہا ہے کہ دو دن سے آگ سے جھلستے 63 مقامات میں سے 43 مقامات پر حالات قابو میں ہیں اور آگ بجھانے کا کام نہایت احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔

  • اسرائیلی جہاز پر حملہ ہوگیا

    اسرائیلی جہاز پر حملہ ہوگیا

    اسرائیلی جہاز پر حملہ ہوگیا

    باغی ٹی وی : ایک اسرائیلی بزنس مین کے زیر انتظام کمپنی نے کہا ہے کہ بحری قزاقی کے ایک واقعے میں اس کے جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ برطانوی حکام نے کہا تھا کہ وہ عمان کے ساحل پر حملے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی ارب پتی ایئل کی لندن میں قائم زودک انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ جہاز لائبیریا کے جھنڈے والا آئل ٹینکر میرسر اسٹریٹ ہے اور یہ جاپانی ملکیت تھا۔
    اس واقعے کے وقت یہ جہاز شمالی بحر ہند میں تھا ، جو دارالسلام سے فوجیرہ جا رہا تھا جس میں کوئی سامان نہیں تھا۔

    یہ خبر برطانیہ میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے ایک مختصر بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں ، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمانی جزیرے ماسیرہ کے شمال مشرق میں جمعرات کے روز دیر سے پیش آیا۔

    علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا کہ اس پر شبہ ہے کہ اس حملے میں بحری قزاقی شامل نہیں تھی۔

    میرین ٹرافی ڈاٹ کام کے سیٹلائٹ سے باخبر رہنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ جہاز قریب ہی تھا جہاں برطانوی حکام نے بتایا کہ حملہ ہوا ہے۔

    جمعہ کے روز بعد ازاں الجزیرہ کو ایک بیان میں ، برطانیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا: "ہم عمان کے ساحل سے دور ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاعات سے آگاہ ہیں۔ اس علاقے میں برطانیہ کے فوجی صدر دفاتر کی تحقیقات جاری ہیں۔

    عمان نے فوری طور پر حملے کا اعتراف نہیں کیا ، جبکہ اسرائیلی حکام کی طرف سے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا

  • سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ  نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے حوالے سےاہم بات کردی

    سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے حوالے سےاہم بات کردی

    سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے حوالے سے اہم بات کردی

    باغی ٹی وی : سابق سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملا عمر سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔

    یہ بات سابق سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے سعودی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ تسابق سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاہے کہ انہوں نے ملا عمر سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔ ملا عمر نے اسامہ بن لادن کو سعودی عرب کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا،

    اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے شاہ عبداللہ سے طالبان اور افغان حکومت میں ثالثی کرانے کو کہا تھا، شاہ عبداللہ نے طالبان کے القاعدہ سے تعلقات منقطع کرنے تک ثالثی سے انکار کیا تھا،کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا سے کہانی ختم نہیں ہوئی، افغانستان کے پڑوسی ممالک کے اپنے مفاد ہیں، وہ اپنے فائدے کی تلاش میں ہیں۔

  • زینیکا ویکسین امریکا کے لیے ٹھیک نہیں‌، دوسرے ممالک کو دیں گے ، بائیڈن کا اعلان

    زینیکا ویکسین امریکا کے لیے ٹھیک نہیں‌، دوسرے ممالک کو دیں گے ، بائیڈن کا اعلان

    زینیکا ویکسین امریکا کے لیے ٹھیک نہیں‌، دوسرے ممالک کو دیں گے ، بائیڈن کا اعلان

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جو بائیڈن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں امریکی صدر یہ کہہ رہے ہیں‌ ہماری زینیکا ویکسین کے لیے ہمارا ملک امریکا آتھورائزڈ نہیں ہے . ہم اس ویکسین کو دوسرے ممالک کے لیے بھیج رہے ہیں.

    اس وقت یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ امریکہ جن ویکیسن کو اپنے کے لیے نا مناسب سمجھ رہا ہے اسے دوسرے ممالک میں کیوں برآمد کر رہاہے . کرونا ویکسین کے حوالے سے دنیا بھر میں کافی سارے تحفظات اور افواہیں پائی جاتی ہیں‌.


    امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ وبائی امراض سے نپٹنے والے ممالک کی مدد کے لئے کم سے کم 60 ملین اضافی خوراکیں بھیج کر ، پوری دنیا کے ساتھ ویکسین کی زیادہ مقداریں شیئر کرے گا۔

    دوسروں کے برعکس ایسٹرا زینیکا ابھی تک ریاستہائے متحدہ میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔بائیڈن نے کہا ، جس طرح دوسری جنگ عظیم میں امریکہ جمہوریت کا ہتھیار تھا اسی طرح کوویڈ 19 وبائی بیماری کے خلاف جنگ میں ہماری قوم ویکسینوں کا ہتھیار بنانے جا رہی ہے۔