Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • تاریکی میں ڈوبا بگرام فضائی اڈہ   تحریر: محمد اسعد لعل

    تاریکی میں ڈوبا بگرام فضائی اڈہ تحریر: محمد اسعد لعل

    افغانستان میں بیس برس سے امریکہ کی زیرصدارت افواج کی افغان طالبان سے جنگ جاری تھی ، حال ہی میں طالبان نے افغانستان کے بیشتر سرحدی اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں طالبان کا پلڑا بھاری ہے ۔طالبان نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیس برس بعد امریکی فوجی بجلی بند کر کے رات کی تاریکی میں بگرام فضائی اڈے کو چھوڑ گئے اور ایسا بگرام فضائی اڈے کے نئے افغان کمانڈر کو بتائے بغیر کیا گیا۔’ایک رات میں انھوں نے افعان فوج کے ساتھ20 سالوں کا اچھا تعلق ختم کر دیا اور جو افغان فوجی اس عمارت کے باہر کھڑے اس کی حفاظت کر رہے تھے انھیں بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا۔
    امریکی افواج نے بگرام کے فوجی اڈے کو صبح تین بجے چھوڑا اور افغان فوج کو اس بارے میں کئی گھنٹوں بعد خبر ہوئی اور آخرکار صبح سات بجے تصدیق کر سکے کہ انھوں نے بگرام کو واقعی چھوڑ دیا ہے۔ اچانک ہونے والا اندھیرا مقامی لٹیروں کے لیے ایک اشارے کی مانند تھا۔ وہ اڈے کے شمال سے داخل ہوئے اور وہاں موجود رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے انھوں نے عمارتوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔افغان فوج کی جانب سے فضائی اڈے کا انتظام سنبھالنے سے قبل یہ اڈہ ڈاکؤوں کی چھوٹی سی فوج کے رحم و کرم پر تھا۔ جس کے بعد بالآخر انھیں یہاں سے بیدخل کیا گیا۔
    امریکی افواج کی زیر استعمال چیزیں اب بگرام کےقریبی بازاروںمیں فروخت ہو رہی ہیں۔پیر کو امریکی فوجیوں کے اڈہ چھوڑنے کے تین روز بعد بھی افغان فوجی ان کی جانب سے چھوڑا گیا کچرا صاف کرتےرہے ہیں جس میں پانی کی بوتلیں، کینز اور انرجی ڈرنکس کی خالی بوتلیں شامل تھیں۔
    بگرام امریکی فوج کا ہیڈکواٹر بھی مانا جاتا تھا جو کہ امریکہ کی طالبان کو شکست دینے کی جنگ اور 9/11 کے حملوں میں ملوث القاعدہ کے عہدیداروں کوپکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا اب مکمل طور پر سنسان اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کابل سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود یہ فضائی اڈہ دارالحکومت کی سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور یہ ملک کے شمالی علاقوں کے لیے بھی بہترین کور فراہم کرتا تھا جہاں طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائیاں کی گئی ہیں۔ یہ فوجی اڈہ ایک وسیع علاقے پر قائم ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں ایک چھوٹا سا شہر آباد تھا جو صرف امریکی اور نیٹو فورسز کے زیرِ انتظام تھا۔
    اس کی وسعت دیکھنے کے قابل ہے اور یہاں موجود سڑکیں بیرکس سے ہوتی ہوئی عمارتوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں دو رن وے موجود ہیں اور طیاروں کے لیے پارکنگ کی 100 جگہیں بھی موجود ہیں۔ یہاں ایک مسافروں کے بیٹھنے کے لیے لاؤنج بھی موجود ہے، ایک 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال اور ہینگرز کے حجم کے ٹینٹ بھی موجود ہیں جن میں فرنیچر بھی پڑا ہوا۔امریکہ کی جانب سے چھوٹا اسلحہ بھی چھوڑا گیا ہے اور اس کے ساتھ گولیاں بھی موجود ہیں لیکن جانے والے فوجی بھاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس اسلحے کی ایمیونیشن کو امریکی فوجیوں کی جانب سے آگ لگا دی گئی تھی۔
    اس فضائی اڈے میں پانچ ہزار قیدیوں کی ایک جیل بھی موجود ہے جس میں اکثر طالبان موجود ہیں۔امریکی فوجیوں کی جانب سے بغیر بتائے اڈہ چھوڑنے کے بعد افغان فوجیوں پر یہاں قید ہزاروں طالبان قیدیوں اور ممکنہ طور پر طالبان کی جانب سے ہونے والے حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہے۔ امریکہ افواج کے جانے کے بعد سکیورٹی میں آنے والا یہ خلا افغان فوجیوں کو پر کرنا ہے۔جبکہ میرا ماننا ہے کہ افغان فورسز اتنی ‘طاقتور’ نہیں ہیں جتنےامریکی ہیں،افعان افواج کا امیریکی افواج سے موازنہ کریں تو دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر طالبان اپنی کاروائیاں تیز کرتے ہیں تو افغان حکومت کا بھارت سے مدد طلب کر نے کا امکان ہے ۔
    امریکی افواج کا آخری د ستہ جو کہ ابھی بھی افغانستان میں موجود ہے امکان ہے اسے بھی بہت جلد واپس بلوا لیا جائے گا۔نیٹو فورسز اور دوسرے ممالک کی افواج بھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں۔ اس سب کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مکمل طور پرناکام ہو چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی کا سہرا کس کے سر باندھتا ہے۔

    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • کون کیا چاہتا ہے ؟  تحریر : فرید خان

    کون کیا چاہتا ہے ؟ تحریر : فرید خان

    افغان مسلے پر بار بار لکھ چکا لیکن پھر بھی لکھنے کا سلسلہ نہیں رکتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی پشرفت اجاتی۔ وسطی ایشیا میں اس وقت افغانستان کی جنگ اور مسلہ زور پکڑ رہا۔ امریکہ نے مسلے سے تقریبا جان چھڑانا شروع کیا لیکن سرزمین کے ہمسایوں میں بڑی حد تک تشویش پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان بطور مرکزی کردار اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا گزشتہ دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی وزیر اعظم عمران خان سے فون پر رابطہ بھی ہوا اور افغان مسلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماوں نے مسلے پر پاکستان کے دارلحکومت میں کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔ کانفرنس عید سے پہلے ہونا تھا لیکن تاشقند میں وزیراعظم اور افغان صدر کی ملاقات میں اشرف غنی نے وقت مانگ لیا اس لیے اب یہ کانفرنس عید کے بعد منعقد کی جائے گی۔ دوسری طرف افغان حکومت مسلے پر مسلسل کشمکش کا شکار ہے۔ کبھی مزاکراتی عمل میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے اس سنگین صورت حال میں بجائے معاملات کو سنجیدہ لے افغان حکومت غیر ذمہ دارانہ طور پر کبھی ایک الزام پاکستان پر لگاتا کبھی دوسرا۔ گزشتہ روز افغان نائب صدر نے پاکستان فضائیہ پر بے بنیاد الزام لگایا گیا جس کی تردید اور وضاحت دفتر خارجہ نے کی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام کیوں غیر ضروری ہے یہ الزام اس لیے غیر ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان مسلسل علاقوں پر قبضہ کررہے اور افغان حکومت اور فورسسز بے بسی کا شکار ہے تو پاکستان کو اس طرح کے معاملوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے عین اس وقت جب پاکستان اس وقت مرکزی کردار ہے اور افغان مسلے کی سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششوں میں ہیں۔ گزشتہ روز تاشقند میں کانفرنس کے دوران مسلے پر مثبت گفتگو کے بجائے افغان صدر نے پاکستان پر الزامات لگائے اور اسی دوران پھر وزیر اعظم پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کیا چاہتی ؟ کیوں مسلے پر غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ؟ اگر وہ واقعی وطن میں امن چاہتا تو کیوں بجائے مسلے پر بات کرنے وہ غیر ضروری الزامات لگا رہے؟ اگر وہ ملک میں امن چاہتے تو کیوں پاکستان کی کردار کی تائید نہیں کرتے ؟ کیوں مسلے کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا نہیں کررہے ۔ اس وقت طالبان علاقے قبضہ کررہے پوری دنیا دیکھ رہی کہ طالبان فتوحات کررہی ، امریکہ اور افغان حکومت بے بسی کا شکار ہے پھر بھی پاکستان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کررہا اور مسلے کے سیاسی حل کے لیے کوششوں میں ہیں . بار بار پاکستان وضاحت کررہا کہ پاکستان کا اس جنگ میں کوئی فیورٹ نہیں ، پاکستان امن چاہتا کیونکہ پاکستان کی امن بھی افغانستان کی امن سے جڑی ہے ۔افغانستان حکومت کو اس پر سنجیدگی سگ غور کرنا پڑے گا یہ مسلہ سنگین ہوتا جارہا۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت چاہے جتنے بھی الزامات لگائے جس وقت تک لگاتا ہے انہیں اخر میں پاکستان کی تائید کرناپڑے گا کیونکہ اس مسلے کا حل ایسا نہیں ہے جو اشرف غنی چاہتا۔ اس سے پہلے کہ طالبان بزور طاقت حکومت قائم کرے اشرف غنی کو ابھی سے اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مسلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس مسلے کا حل طالبان بھی چاہتا پاکستان بھی چاہتا ہمسایہ ممالک بھی چاہتا اور خود افغانستان کی عوام بھی دہائیوں کی جنگ سے بے زار ہیں اور جنگ کا سیاسی حل چاہتے لیکن اس مسلے کا حل اگر نہیں چاہتا تو وہ ایک اشرف غنی ہی اور دوسرا ہندوستان ۔ دہائیوں کی خان ریزی اب بند ہونا پڑے گا ، اشرف غنی اپنی دوستیاں نبائے یا اپنی سیاسی مفاد کو سامنے رکھیں بلاخر ان کو بھی جنگ سے بے زار ہوکر ان کرداروں کا ساتھ دینا پڑے گا جو مسلے کی سیاسی حل چاہتی وہ حل جس میں افغانی عوام ، طالبان اور حکومت مطمئن ہو ۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد اگر امن چاہیے تو سب کو اپنی مفاد بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر انا پڑے گا ۔ اللہ دب العزت سے دعا ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور اسی کی بدولت پاکستان میں امن اجائے۔ امین

    Twitter @Faridkhhn

  • دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    نئی دہلی: شادی کے ’منڈپ‘سے دولہا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کے بعد فرار ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی : یہ نہایت ہی حیران کن واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جارہی ہے جس میں دولہا اور دلہن اپنے نئے سفر کے آغاز کیلئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے –

    رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا جب اپنی نشست سے کھڑا ہوا تو ساتھ دلہن بھی اٹھنے لگی لیکن وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی –

    لڑکی کے نیچے گرنے سے اس کے چہرے سے گھونگھٹ بھی ہٹ گیا ۔ دولہے نے جب لڑکی کو دیکھا تو فوری طور پر گلے سے پھولوں کو اتار کر پھینکتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا ۔

    میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق دولہے اور دلہن نے شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملاقات ہوئی تھی ۔تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے یا اصلی اور یہ کس بھارتی علاقے سے وائرل ہوئی ہے ۔
    https://youtu.be/iUiZuRiu1f0

  • سلمان خان کے محبت سے متعلق خیالات بدترین ہیں    ارباز خان

    سلمان خان کے محبت سے متعلق خیالات بدترین ہیں ارباز خان

    بالی ووڈ سُپراسٹار سلمان خان کے بھائی اور اداکار اربان خان نے انکشاف کیا ہے کہ سلمان خان محبت سے متعلق بدترین مشورہ دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بالی ووڈ اداکار سلمان خان اکونڈسٹری میں شاہ رخ خان سمیت سب ہی بھائی کے نام سے پکارتے ہیں اور بھائی گیری ان کی فلموں میں نظر بھی آتی ہے لیکن محبت کےمعاملے میں سلمان خان نہ صرف بڑے پردے پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی اس معاملے میں کمزور دکھائی دیتے ہیں اور اس بات کا اعتراف ان کے اپنے بھائی نے بھی کیا ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹریو میں ارباز خان نے انکشاف کیا کہ سلمان خان کے محبت سے متعلق خیالات بدترین ہیں اگر میں یہ کہوں کہ سلمان خان محبت سے متعلق بدترین مشورہ دیتے ہیں تو غلط نہ ہوگا اور میرا نہیں خیال کسی کو اس کی وجہ جاننے کی ضرورت ہے۔

    ارباز خان نے سلمان خان کی زندگی میں محبت میں ناکامیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سلمان خان سے محبت سے متعلق مشورہ لینا ایسا ہی ہے جیسے مجھ سے کوئی اداکاری سے متعلق مشورہ لے یا پھر میں کسی کو ہیرو بننے کا مشورہ دوں۔

    واضح رہے سلمان خان بالی ووڈ کی نامور اداکاراؤں کے ساتھ عشق لڑاچکے ہیں سومی علی ، سنگیتا بجلانی، ایشوریا رائے اور کترینا کیف تک کسی کے ساتھ بھی وہ اپنی محبت کو انجام تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں-

    سلمان خان کے قریبی دوست کا کترینہ کیف کی جلد شادی کا عندیہ

  • اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔

    آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

    ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔

    اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔

    این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-

    اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    اس سپائی ویئر کا نام افسانوی پنکھوں والے گھوڑے پیگاسس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ٹروجن گھوڑا ہے جسے فون کو متاثر کے لئے "ہوا کے ذریعے” بھیجا جاسکتا ہے۔

    23 اگست ، 2020 کو ، اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے ذریعہ حاصل کردہ انٹلیجنس کے مطابق ، این ایس او گروپ نے مخالف حکومت کی نگرانی کے لئے سیکڑوں لاکھوں امریکی ڈالر میں پیگاسس اسپائی ویئر سافٹ ویئر ، عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں بیچا تھا بعدازاں ، دسمبر 2020 کو ، الجزیرہ کی تحقیقات میں دی ٹپ آف دی آئسبرگ ، جاسوس کے پارٹنروں نے ، پیگاسس اور میڈیا پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے فونوں میں اس کے دخول کے بارے میں خصوصی فوٹیج دکھائی ، جسے اسرائیل اپنے مخالفین اور حتی اس کے اتحادیوں کے بارے میں چھپاتا ہے۔

    جولائی 2021 میں ، پراجیکٹ پیگاسس انکشافات کے وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے گہرائی سے تجزیے کے ساتھ ہی پتا چلا کہ ہائی پروفائل اہداف کے خلاف پیگاسس کا اب بھی وسیع پیمانے پر استحصال کیا جارہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیگاسس آئی او ایس کے استحصال کے ایک صفر پر کلک کرکے تازہ ترین ریلیز ، iOS 14.6 تک کے iOS کے تمام جدید ورژن کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

  • آسام میں مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی ’پاپولیشن آرمی‘ کے ذریعے کم کریں گے، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا اعلان

    آسام میں مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی ’پاپولیشن آرمی‘ کے ذریعے کم کریں گے، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا اعلان

    آسام میں آبادی کو قابو میں کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی میں بیان دیا کہ ریاست میں ایک ’پاپولیشن آرمی‘ (آبادی فوج) ہوگی جو مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی کو قابو میں کرنے کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاپولیشن آرمی مسلم اکثریتی علاقوں میں مانع حمل ذرائع تقسیم کرے گی اور آبادی کو کم کرنے کے لئے بیداری بھی پیدا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار افراد پر مشتمل اس فوج کو آسام کے ذیلی علاقوں میں بھیجا جائے گا۔

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ آسام ہیمنت بسوا سرما کے متنازعہ پاپولیشن کنٹرول کی تجویزات پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اتر پردیش سمیت دیگر بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستیں بھی اسی طرح کے اقدام اٹھا رہی ہیں۔ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ ریاست کے مغربی اور وسطی حصوں میں آبادی کی صورت حال دھماکہ خیز ہو چکی ہے۔

    انہوں نے کہا، ’’آبادی کو قابو میں کرنے کے اقدامات کے تئیں بیداری پیدا کرنے اور مانع حمل ذرائع کی فراہمی کے لئے چار چاپوری کے تقریباً ایک ہزار نوجوانوں کو مامور کیا جائے گا۔ ہم آشا ورکرز (خاتون طبی کارکنان‘ کی ایک علیحدہ ٹیم بھی تشکیل دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جنہیں خاندانی منصوبہ بندی کے تئیں بیداری پیدا کرنے اور مانع حمل ذرائع تقسیم کرنے کا کام سونپا جائے گا۔‘‘

    دریں اثنا، ہیمنت بسوا سرما نے ایک مرتبہ پھر آبادی کے بے تحاشہ اضافہ کے لئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’2001 سے 2011 تک آسام میں ہندؤوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح 10 فیصد تھی تو مسلمانوں میں یہ شرح 29 فیصد تھی۔‘’کم آبادی ہونے کے سبب ہندؤوں کی رہائشیں عالیشان ہوئی ہیں اور انہیں گاڑیاں بھی میسر ہو رہی ہیں۔ نیز ان کے بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن رہے ہیں۔‘‘

  • لبنان کی جانب سے اسرائیل پر دوراکٹ فائر ،اسرائیلی فورس کی جوابی گولہ باری

    لبنان کی جانب سے اسرائیل پر دوراکٹ فائر ،اسرائیلی فورس کی جوابی گولہ باری

    تل ابیب : اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی جانب سے اسرائیل پر دو راکٹ داغے گئے ، راکٹوں کے باعث شمالی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے ۔

    باغی ٹی وی :"ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی دفاعی فورسز نے بتایا کہ منگل کی صبح لبنان سے شمالی اسرائیل پر دو راکٹ فائر کیے گئے ، جس سے مغربی گیلیل خطے میں انتباہی سائرن بج اٹھے۔ جواب میں اسرائیلی فوج نے لانچوں پر گولے پھینکے-

    آئی ڈی ایف نے بتایا کہ ایک راکٹ اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے روکا تھا ، جبکہ دوسرا پروجیکٹائل ساحل کے قریب کھلے علاقے میں گر گیا تھا۔

    کسی کے زخمی ہونے یا نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ، اور فوج نے بتایا کہ فی الحال اس علاقے کے رہائشیوں کے لئے کوئی خاص ہدایت نہیں ہے۔

    وزیر دفاع بینی گینٹز نے منگل کو کہا کہ لبنان راتوں رات ہونے والے راکٹ حملے کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کو اس کے علاقے میں کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    گینٹز نے کہا کہ اسرائیل اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے لئے کسی بھی خطرے کے خلاف کارروائی کرے گا ، اور اس کے مفادات کے مطابق – اس کا مناسب وقت اور جگہ پر جواب دے گا –

    گینٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل "لبنان میں سماجی ، سیاسی اور معاشی بحران کی اجازت نہیں دے گا۔ تاکہ اسرائیل کی سلامتی کا خطرہ بن جائے۔

    گانٹز نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں استحکام کی بحالی کے لئے اقدامات کرے ، اس کے درمیان ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ 1850 کی دہائی کے بعد سے دنیا کا بدترین مالی بحران ہے۔

    یہ حملہ شام کے سرکاری میڈیا کے چار گھنٹے بعد ہوا جب اسرائیلی طیاروں نے شام کے شہر حلب کے قریب اہداف پرعیدالاضحی کی مسلم تعطیل کے موقع پر اسرائیل پولیس اور مسلم مظاہرین کے مابین ٹیمپل پہاڑ پر جھڑپوں کے بعد متعدد میزائل داغے گئے-

    اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ یہ راکٹ جنوبی لبنان میں ایک فلسطینی گروپ نے فائر کیے تھے ، نہ کہ ملک کے طاقتور حزب اللہ دہشت گرد گروہ نے۔ تاہم ، حزب اللہ جنوبی لبنان پر سخت کنٹرول برقرار رکھتا ہے ، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس علاقے سے اس طرح کا حملہ کم از کم اس کی منظوری کے بغیر کیا جائے۔

  • امریکا کا افغان مترجموں کو پناہ دینے کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    امریکا کا افغان مترجموں کو پناہ دینے کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    واشنگٹن : امریکا نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں افواج کے ساتھ مترجم کا کام کرنے والے افغانیوں کو ورجینیا کے فوجی اڈے پر پناہ دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے بتایا کہ مترجموں اور ان کے اہل خانہ سمیت2500 افغانوں کو پناہ دی جائے گی جن مترجموں اور ان کے اہل خانہ کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے انہیں پناہ ملے گی تمام اہل افراد کو آئندہ 10 روز میں منتقل کیا جائے گا۔

    ترجمان محکمہ خارجہ نے 19 جولائی کو واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پہلے مرحلے میں تقریبا25سو افغانی مترجم اور ان کے کنبے کو قلیل مدتی رہائش کے لئے امریکہ منتقل کیا جائے گا ۔

    افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہو سکا

    امریکہ کے محکمۂ خارجہ اور پینٹاگون کے عہدیداروں نے پیر کو بتایا فورٹ لی، افغانستان سے اسپیشل امیگرنٹ ویزا پر آنے والوں کی پہلی منزل ہو گی۔ یہ اڈہ ملک کے اندر امریکی فوج کا تیسرا سب سے بڑا تربیتی مرکز ہے اور یہ 27 ہزار کے قریب فوجیوں کا گھر ہے۔

    پینٹاگون کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ افغانستان کے شہری مرحلہ وار امریکہ پہنچیں گے جس سے عہدیداروں کو ان کے ویزے کا عمل مکمل کرنے اور انہیں آگے روانہ کرنے کا وقت ملے گا۔

    امریکہ داخل ہونے کے بعد ویزہ رکھنے والے افغان شہری 90 دن تک آباد کاری سے متعلق سہولیات کے حصول کے اہل ہوں گے جن میں کھانے پینے، لباس اور گھر کے فرنیچر وغیرہ کی سہولت شامل ہے۔

    پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ افغان شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کا ویزہ حتمی مراحل میں ہے اور انہیں زیادہ وقت فوجی تنصیب پر رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ جنہوں نےافغان جنگ میں امریکا کی مدد کی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے جو بائیڈن کا کم از کم 18،000 افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو امریکہ میں تارکین وطن کے طور پر قبول کرنے کا کہا تھا جو گذشتہ دو دہائیوں سے امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں اس عمل کو ‘آپریشن الائیز ریفیوج’ یعنی اتحادیوں کو پناہ دینے کا آپریشن کا نام دیا گیا ہے۔

    کہا جارہا ہے کہ ان مترجموں کو امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان سے انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہے۔

  • افغانستان : نماز عید کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے

    افغانستان : نماز عید کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے

    کابل: نمازعید کے دوران افغانستان کے صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے ہوئے-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق تین راکٹ صدارتی محل کے قریب گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا افغان وزارت داخلہ نے بتایا کہ حملے کے وقت محل میں نمازعید ادا کی جارہی تھی۔


    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان سیاسی گروپوں اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور افغانستان میں جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

    مذاکرات کے بعد جاری مختصراعلامیہ میں افغانستان میں جاری لڑائی اور تشدد کے واقعات روکنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تاہم فریقین نے امن کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    چند روز قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا جس کو رد کردیا گیا افغان صدر نے کہا تھا کہ افغانستان میں امن کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری طالبان پر ہو گی۔

    زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان گروہ آپس میں لڑنے کے بجائے کورونا وائرس سے لڑیں اور طالبان کورونا وائرس پر قابو پانے تک اپنی کارروائیاں روک دیں۔

    طالبان کے ترجمان نے اتوار کے روز قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ انہوں نے بات چیت کے دوران جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی ہے ترجمان کا کہنا تھا، ”ہم نے دوحہ بات چیت کے دوران تین ماہ کے لیے جنگ بندی جیسی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔”

    دوسری جانب طالبان کا مطالبہ ہے کہ ملک کی جیلوں میں قید ان کے سارے ساتھی رہا کیے جائیں، جس کے بعد تین ماہ کی جنگ بندی پر غور کیا جاسکتا ہے ‎افغان حکومت نے اب تک 18 صوبوں سے 550 طالبان قیدیوں کو رہا کیا۔ موجودہ صورت حال میں کورونا وائرس سے ہزاروں قیدیوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہو سکا

  • فحش فلم بنانے کا الزام ،شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا گرفتار

    فحش فلم بنانے کا الزام ،شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا گرفتار

    اداکارہ شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا کو فحش فلم بنانے کے الزام میں ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے پراپرٹی سیل نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی :انڈیا ٹوڈے کے مطابق ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت نگرلے نے راج کندرا کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رواں سال فروری میں کرائم برانچ ممبئی نے فحش فلمیں بنانے اور انہیں موبائل ایپس پر نشر کرنے کے الزام میں راج کندرا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔


    اور اسی کیس کی بنیاد پر تمام تر شواہد کے ساتھ راج کندرا کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ممبئی کرائم برانچ کے پاس راج کندرا کے خلاف کا فی شواہد موجود ہیں۔ جب کہ تحقیقات ابھی بھی جاری ہے۔

    دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق راج کندرا آج کی رات جیل میں ہی گزاریں گے جہاں انہیں پراپرٹی سیل میں رکھا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے گزشتہ ہفتے 2 مختلف ایف آئی آرز میں 9 افراد کو حراست میں لیا تھا جو کہ مبینہ طور پر اکاراؤں کو فحش فلموں میں برہنہ مناظر فلم بند کرانے کے لیے زبردستی کرتے تھے اور ان فلموں کو پیڈ موبائل ایپلی کیشن پر اسٹریم کیا جاتا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق فحش اداکارہ پونم پانڈے نے راج کندرا اور ان کے ساتھی کے خلاف بمبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اداکارہ کا الزام ہے کہ راج کندرا ان کے مواد کو معاہدہ ختم ہوجانے کے بعد غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب راج کندرا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا پرغیر اخلاقی فلمیں بنانے والا گروہ چلانے کا الزام