Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • افغانستان قندھار میں طالبان نے BLA کا ہیڈ کوارٹر بارود سے اڑا دیا

    افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان نے دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ہیڈ کوارٹر بارود کے دھماکے سے اڑا دیا ہے.

    یاد رہے بلوچستان لبریشن آرمی آزاد بلوچستان کے نعرے کے ساتھ پاکستان میں پاکستانی اور چینی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث ہے. اسی طرح یہ تنظیم غیر بلوچ اقوام کے بھی مزدوروں اور دیگر لوگوں پر بھی حملے کرتی رہی ہے. ایک ہفتہ قبل گوادر پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی زمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی.
    انکا ہیڈ کوارٹر جو کہ مبینہ طور پر افغانستان میں کام کر رہا تھا باغی ٹی وی کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے ایک زبردست حملے میں اسے اڑا دیا ہے. جس میں کئی ایجنٹس کی ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے.

  • کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر

    کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر

    (مانیٹرنگ سیل) انٹر نیشنل کرکٹ کونسل(ICC) نے انگلینڈ اینڈ ویلیز میں رواں ماہ کے آخر میں کھیلے شروع ہونے والے ورلڈ کپ2019ءکے لیے انعامی رقم کا اعلان کردیا ہے ۔ورلڈ کپ 2019 کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر(تقریبا 1.5ارب پاکستانی روپے) کی انعامی رقم رکھی گئی ہے جبکہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم 14جولائی کو 4ملین ڈالرز( تقریباً 57کروڑ57لاکھ20ہزار پاکستانی روپے) کی انعامی رقم جیتے گی،ایونٹ کی رنر اپ ٹیم2ملین ڈالرز(28کروڑ78لاکھ60ہزار پاکستانی روپے) کا چیک وصول کرے گی،سیمی فائنلز ہارنے والی دونوں ٹیموں کو 8لاکھ ڈالرز(11کروڑ51لاکھ44ہزار پاکستانی روپے) کی انعامی رقم ملے گی،لیگ مرحلے میں کامیاب ہونے والی تمام ٹیموں کو 1لاکھ ڈالرز(1کروڑ43لاکھ93ہزار پاکستانی روپے) دیئے جائیں گے جب کہ لیگ مرحلے میں میچ جیتنے والی ہر ٹیم کو 40ہزار ڈالرز(57لاکھ 57ہزار200پاکستانی روپے) کا چیک ملے گا ۔

  • صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدف۔۔۔۔۔۔۔۔

    صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدفصحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے، ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے لیکن آئے دن صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات نے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے سرمایہ کاروں اور انتظامیہ کی جانب سےتیار کردہ صحافی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ سچ لکھنے اور حقائق چھپانے کو مصلحت کا نام دے کر اپنا طرہ بلند رکھے ہوئے ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما سیاستدانوں، محکمہ صحت اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے دیکھے گئے ہیں تشویش ناک عمل تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری پولیس ملازم ہی کرتا ہے ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا مدعی صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مندرجہ بالا مذکورہ اقسام کے صحافی مصلحت قرار دے کر ظالم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کے ضرورت ہے

    پاکستان پریس فاونڈیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2002 سے 2019 تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ کیئے گئے ہیں ان 17 سالوں میں 42 صحافیوں کو پولیس نے ہراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا ان تمام واقعات میں 185 صحافی زخمی ہوئے اور 73 صحافی پیشہ ورانہ امور انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

    صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں ڈان اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتاہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لیہ میں نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا اور کوریج کے لیے میڈیا کو کال دی ہم پریس کلب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے تو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نے میڈیا نمائندگان کو اندر جانے سے منع کر دیا اور ہمیں گیٹ پر روک لیا گیا اندر طلبات کا شور تھا اس لیے ہم وہیں موجود رہے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں لگ بھگ دس منٹ گزرنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ لیہ ڈاکٹر مختار حسین شاہ ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور صحافیوں کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر طلبات کے پاس چلے گئے تاکہ مسئلہ سنا جائے اورمذاکرات کیے جا سکیں۔نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا کہ ہم معاملہ میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں ہی سنائیں گی ورنہ احتجاج جاری رہے گا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجبورا ای ڈی او نے میڈیا نمائندگان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ہماری موجودگی میں نرسنگ سکول کی طلبات نے بتایا کہ فیئرویل پارٹی کے موقع پر ہماری پرنسپل وکٹوریہ نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ کی بیگم( جو کہ اسی سکول میں لیکچرار تھیں) کو کچھ قیمتی تحفے دیئے اور پارٹی ختم ہونے پر وہ بھاری رقم ہمارے وظیفے سے کٹوتیاں کر کے پوری کی جا رہی ہے جو کہ ہمیں نا منظور ہے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم میڈیا نمائندگان نے نرسنگ سکول کی طلبات کے بیانات قلم بند کر لیے اور میں نے اگلے دن ڈان اخبار میں تمام سٹوری چھاپ دی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں کہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا اور کچھ دستوں سے پیغام ملا کہ ای ڈی او کی بیوی کا نام چھپنے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے اس لیے محتاط رہیں میں نے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ہمارے دوست عزیز عدیل علیل تھے تو ان کی تیمارداری کے لیے رات 8 بجکر 30 منٹ پر ہمراہ غلام مصطفی جونی ایڈووکیٹ اور عبدالستار علوی کے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا تیمار داری کے بعد خبر کے فالو اپ کے حوالے سے ڈان اخبار کے ڈیسک سے کال آئی تو میرے ساتھیوں نے مجھے فون پر مصروف چھوڑ کر آگے آگے چلنا شروع کر دیا بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ کا نام فرید اللہ ہے میں نے جواب دیا کہ ‘جی’ تو انہوں نے مجھے پر ہلہ بول دیا اور یہی کہتے رہے کہ آج تمہیں رپورٹنگ سیکھاتے ہیں ہم آج تمہیں رپورٹر بناتے ہیں ان افراد کی تعداد 6 تھی ایک نے مجھ پر چھری سے وار کیا لیکن کپڑے کھلے ہونے کے وجہ سے چھری قمیض کےدائیں جیب پر لگی اور وہاں پھنس گئی شور شرابہ ہونے اورموٹر سائیکل گرنے پر میرے ساتھیوں سمیت سب لوگ متوجہ ہوئے اور ہماری طرف لپکے لیکن اتنی دیر میں حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوچکے تھے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم نے پولیس کو کال کی اور سامان پورا کیا تو پتہ چلا کہ فرنٹ والی جیب پھٹنے کی وجہ سے جیب میں موجود 13 ہزار روپے اور موبائل غائب ہے تلاش کرنے پر موبائل تو مل گیا لیکن پیسے نہ مل سکے اس سارے واقعے کا اندراج پولیس تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر623/10 زیر دفعات 379/506 اور 147/148 درج کر لیا گیا ہمارے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہم حملہ آوروں کے نام تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محمد یعقوب مرزا نے ملزمان نامزد کروا دیئے چونکہ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ اس وقت کے ڈی سی او جاوید اقبال مرحوم کے قریبی دوست تھے اس لیے ڈی سی او کے توسط سے اس وقت کے ڈی پی او چوہدری محمد سلیم کو کہلوا کر بغیر انکوائری کےمیرا مقدمہ خارج کروا دیا گیا سارے معاملے کی سٹوری ڈان میں چھپی معاملہ گرم ہوا لیکن انتظامیہ کی ملی بھگت سے پردہ ڈال دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا لگ بھگ 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے میرے مقدمے کا نوٹس لیا اور اپنی عدالت میں ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے مجھے مدعو کر لیا پیش ہوکر میں نے بتایا کہ مقدمے کا اخراج میرے علم میں نہیں اور نہ ہی پولیس نے مجھے انکوائری کے لیے ایک سے زائد بار بلایا ہے اور یوں میرا مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا اور سماعت شروع ہوگئی

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ سکول کی طلبہ نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نوجوان طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہے ہمیں برے کام کی دعوت دی جاتی ہے ہمیں برائی سے بچایا جائے۔ یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے پورے پاکستان میں کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا اس احتجاج میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ایم پی اے افتخار بابر خان کھتران ، وزیر زراعت پنجاب ملک احمد علی اولکھ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے مہر محمد اعجاز اچلانہ سمیت بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے طلبات کا ساتھ دیا ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں سکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اس دوران محکمہ ہیلتھ نے نئے صحافیوں کا ایک گروپ لانچ کیااخراجات کر کے انہیں مختلف اخبارات اور چینلز کی نمائندگی لے کر دی تاکہ محکمہ صحت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف جو صحافی خبریں لگائے اس کی تردید بھی کی جاسکے اور متعلقہ صحافی کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا جا سکے۔ انہیں دنوں ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی سید گلزار حسین شاہ نے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیااور میرے گواہ وکیلوں کو ووٹ کے لالچ پر پیش ہونے سے قاصر کر دیا گیا مجھے معاشرتی دباو پر صلح کے لیے آمادہ کیا گیا۔ میرے گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا۔ معافی کے وقت علاقہ مجسٹریٹ مسلسل مجھے سوچنے کی مہلت لینے کا کہتے رہے اور بار بار کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنے دو لیکن گواہوں کی انحراف کی وجہ سے میں مجبور تھا اس لیے معاف کر دینا ہی واحد حل بچتا تھا

    سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے زیادہ تر واقعات انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہوتے ہیں اس وقت ہم گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے عدم پیروی کاشکار ہوگئے تھے نرسنگ سکول کی طلبات والا معاملہ قائمہ کمیٹی ویمن رائٹس کے پاس چلا گیا تھا سیکٹری کے طلب نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی کی انچارج اے این پی کی ایم این اے نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی تھی اور معاملہ وفاقی محتسب کو بھیج دیا گیا تھا کیونکہ کیس بیورو کریسی کے خلاف تھا اور پیروی طلبات نے کرنی تھی اس لیے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے صحافیوں پر تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق ہمیں علم ہوتا ہے کہ اچھے اور برے صحافی کون کون ہیں آئندہ میٹنگ میں ایماندارصحافیوں کے ساتھ اچھے رویے کو زیر بحث لایا جائے گا فریداللہ چوہدری تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما عدم برداشت کا نتیجہ ہیں

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ جن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فرید اللہ چوہدری کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں میں میڈیکل آفیسر تھا اس لیے وہ واقعہ مکمل طور پر یاد ہے عموما لیہ کے ہسپتالوں میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے یہ اس وقت اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر سب حیران تھے ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں بلکہ صحافیوں کے معاملات با احسن طریقے سنے جائیں اور ان سے متعلق شکایات متعلقہ پریس کلب کو بھیجی جائیں اگر وہاں مسائل حل نہ ہوں تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ عبدالرحمان فریدی نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کے پیش نظر ہم اپنے صحافی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ڈاکٹرز کی جانب سے ہمارے سینئر بزرگ صحافی عارف نعیم ہاشمی پر تشدد کے واقعے پر ڈپٹی کمیشنر اور محکمہ صحت کے آفیسران سمیت ڈاکٹرز نے بھی صحافیوں سے معافی مانگی تھی مختلف این جی اوز کے تحت صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرواتے رہتے ہیں انشااللہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشست کا اہتمام کریں گے

    اسی نوعیت کا ایک واقعہ 5 اپریل 2019 کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں نجی ٹی وی چینل کے نمائندے غضنفر ہاشمی کے ساتھ بھی پیش آیا غضنفر ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کیس پر ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹ کے لیے متاثرہ بچی کے لواحقین کو گزشتہ 14 گھنٹے سے ذلیل کر رہے تھے ہم متاثرین کی کال پر کوریج کرنے وہاں پہنچے تو ہمیں ڈاکٹرز کی جانب سے گالم گلوچ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ سارا معاملہ ڈپٹی کمیشنر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج تک کوئی پیش رفت نہیں کی اور معاملہ سرد خانے کی نظر ہے۔ آئے دن صحافیوں کے ساتھ تشدد اور ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جلد ازجلد قانون سازی کی ضرورت ہے پریس کلبز کے رہنماوں کو چاہیے کہ صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں اور صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن لاء) کو استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے تاکہ قانون کا اطلاق موثر ہوسکے ہر شہر کے پریس کلب کے صدر کو چاہیے کہ صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے پولیس سٹیشنز حکام کے ساتھ میٹنگز کریں اور پریس کلب ممبر شپ کے لیے سکیورٹی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی ہو سکے۔

  • مودی کی ریلی میں مودی پکوڑا بیچنے پر طلبا گرفتار

    مودی کی ریلی میں مودی پکوڑا بیچنے پر طلبا گرفتار

    بھارتی ریاست چندی گڑھ میں مودی کی ریلی میں انجینئرنگ، بی اے اور ایل ایل بی کے طلبا نے پکوڑے فروخت کرنے شروع کئے تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست چندی گڑھ میں بھارتی وزیر اعظم بی جے پی کے امیدوار کرن کھیر کی انتخابی مہم کے لئے ریلی میں پہنچے تو وہان طلباء نے ریلی کے مقام پر پکوڑے فروخت کرنا شروع کر دئے جس پر پولیس نے طلبا کو حراست میں لے لیا. طلباء کا کہنا تھا کہ ہم وزیر اعظم مودی کی ریلی میں پکوڑے فروخت کرنے آئے ہیں تا کہ وہ جان سکیں کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے پکوڑا فروخت کرنا کتنا بڑا کام ہے. طلبا کا کہنا تھا کہ پکوڑا منصوبہ کے تحت مودی نے روزگار دینے کا اعلان کیا تھا آج ہم پکوڑوں سے مودی کا استقبال کرنے آئے تھے.

    واضح رہے کہ گزشتہ برس جنوری میں بھارتی وزیر اعظم مودی سے بے روزگاری پر ایک سوال ہوا تو مودی نے کہا تھا کہ لوگ پکوڑے بیچ کر ایک دن میں دو سو روپے کما لیتے ہیں ایسے لوگوں کو بے روزگار نہیں کہا جا سکتا.

  • پاکستانی ٹرک آرٹ کے سپین میں چرچے

    پاکستانی ٹرک آرٹ فنکاروں کا "پھول پتی” نامی ایک گروپ محبتوں اور امن کا پیغام لے کر آج کل سپین کے شہر میڈرڈ میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔اس ثقافتی گروپ کے اعزازمیں سپین میں تعینات پاکستانی سفیر خیام اکبر نے اپنی رہائش گاہ "پاکستان ہائوس” پرایک تقریب کا بھی اہتمام کیا۔

    اس تقریب میں انڈیا،بنگلہ دیش، مصر ،پیرو، سویڈن، آسٹریا، آسٹریلیا، نائیجیریا، آزربائیجان ، قزاقستان سمیت قریبا 30 ممالک کے سفیروں ،سپینش فارن آفس کے عہدیداران اور اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔دنیا کو پاکستان ٹرک آرٹ کے سحر میں مبتلا کرنے کے لئے پاکستانی سفارت خانے کی جانب سےٹرک آرٹ کے خوبصورت نقش ونگار سے سجی ایک مرسیڈیز کار کو بھی تقریب کی زینت بنایاگیا ۔

    مختلف ممالک کے سفرا اور گورے تو ٹرک آرٹ کے اتنے دیوانے ہوئے کہ انہوں نے خاص طور پر اس مرسیڈیز کار کے ساتھ تصاویر بنوائیں ۔ٹرک آرٹ سے منسلک فن کاروں نے تقریب میں موجود مہمانوں کے نام خوبصورت انداز میں تحریر کرکے انہیں بطور تحفہ پیش کئے۔

  • پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    پاکستان کسی بھی وقت بھارت پر حملہ کر سکتا ہے، حملے سے بچاو کے لئے بھارت سرکار نے لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی ائیر فورس کے بیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان کسی بھی وقت بھارت پر حملہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے بھارت سرکار نے لائن آف کنٹرول پر فضائی یونٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے. بھارتی ایئر فورس کے بیس کیمپ لائن آف کنٹرول پر بنائے جائیں گے اور اگر پاکستان نے فضائی حملہ کی کوشش کی تو اسے ناکام بنایا جائے گا.

    واضح رہے کہ پلوامہ حملہ کے بعد بھارت نے بالا کوٹ پر رات کے اندھیرے میں پے رول گرانے کے بعد ہنگامہ کھڑا کیا تھا جس کے اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے گرائے اور بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کر لیا تھا، جسے وزیر اعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا تھا.

  • ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

    نہیں جانتے؟

    چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ

    "امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

    اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

    لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ

    "بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”

    حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔

    جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔

    میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔

    لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

    ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔

    کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

    ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔

    جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔

    اور ایران؟

    ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

    ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

    کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔

    جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

    اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

    ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔

    اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

    سی پیک۔ ۔ ۔

    جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔

    اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

    اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔

    مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

    اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔

    اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

    درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔

    یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

    اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔

    لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

    آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔

    اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
    امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

    اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

    سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔

    یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

    میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

    وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

    مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ

    "بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

    مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔

    باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

    بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔

  • بھارتی فوج کو مل رہا ہے ناقص اسلحہ، فوج نے مودی سرکار کو کروایا احتجاج ریکارڈ

    بھارتی فوج کو مل رہا ہے ناقص اسلحہ، فوج نے مودی سرکار کو کروایا احتجاج ریکارڈ

    بھارتی فوج نے مودی سرکار کو کہا ہے کہ حکومت فوج کو گھٹیا اور ناقص اسلحہ دے رہی ہے جس کا فوج کو نقصان ہو رہا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کو اسلحہ آرڈیننس فیکٹری بورڈ کے ذریعے دیا جاتا ہے ، فوج نے وزارت دفاع سے بات کی ہے جس میں کہا کہ بھارتی فوج کا اپنے دفاعی سازو سامان اسلحہ و گولہ و بارور پر بھروسہ کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انہیں ناقص اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے. بھارتی فوج نے سیکرٹری اجئے کمار کو 15 صفحوں پر مشتمل ایک رپورٹ ناقص اور گھٹیا اسلحہ کے حوالہ سے بنا کر دی ہے.بھارت میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ کے پاس اسلحہ بنانے کی 41 فیکٹریز ہیں جو 19 ہزار کروڑ روپے کا سالانہ اسلضحہ 12 لاکھ فوج کو فراہم کرتی ہیں. بھارتی فوج نے حکومت کو کہا کہ 105 ایم ایم کی انڈین فیلڈ گن، 105 ایم ایم لائٹ فیلڈ گن، 130 ایم ایم ایم اے1 میڈیم گن، 40 ایم ایم ایل-70 ایئر ڈیفنس گن اور ٹی-72، ٹی-90 اور ارجن ٹینک کی توپوں کے ساتھ مستقل حادثات ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ گھٹیا کوالٹی کے گولہ بارود کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں. پچھلے پانچ برسوں میں میں ٹینکوں کے ذریعے داغے گئے 125 ایم ایم ہائی دھماکہ خیز گولہ بارود کے 40 سے زیادہ حادثات ہوئے ہیں۔ اسی طرح،بھارتی فوج نے فروری میں ٹریننگ کے دوران فائرنگ رینج میں ایک افسر اور چار بھارتی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد اسلحہ لینا بند کر دیا تھا.

  • امریکی جارحیت پر ایران کا نشانہ اسرائیل ہو گا،صیہونی وزیر کا انتباہ

    امریکی جارحیت پر ایران کا نشانہ اسرائیل ہو گا،صیہونی وزیر کا انتباہ

    تل ابیب (باغی مانیٹرنگ ڈیسک ) اسرائیلی کابینہ کے وزیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو ایران براہ راست یا پراکسی کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی اور عسکری دبائو بڑھاتے ہوئے ایران کی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے لیے بات چیت کریں۔اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ان کی جانب سے فوجی کارروائی کو بھی خارج از امکان قرار دیا تھا۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کی حامی ہے، حالیہ کشیدگی کے حوالے سے فکر مند دیکھائی دیتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے توانائی کے وزیر یووال استاینیتز نے حالیہ ایران-امریکا کشیدگی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ‘کشیدگی بڑھ رہی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر ایران اور امریکا کے درمیان تنازع بڑھا تو ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے حوالے سے خدشہ ہے کہ وہ حزب اللہ اور دیگر اسلامی جہادی تنظیموں کو غزہ سے استعمال کریں گے’۔اسرائیلی وزیراعظم کی سیکیورٹی کابینہ کے اہم رکن نے اسرائیل کے وائی نیٹ ٹی وی کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ ‘اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایران براہ راست اسرائیل پر میزائل حملے کی کوشش کرے.

  • بھارت کی تقسیم کا "ان چیف مودی” ،، ٹائم میگزین کی تازہ رپورٹ

    بھارت کی تقسیم کا "ان چیف مودی” ،، ٹائم میگزین کی تازہ رپورٹ

    سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)معروف امریکی جریدے”ٹائم میگزین“ نے اپنے تازہ شمارے کے سرروق پر بھارتی وزیر اعظم کی تصویر چھاپ کر انہیں ” بھارت کی تقسیم کا ان چیف “ کے لقب سے نوازا ہے۔ جریدے میں نریندر مودی کے حوالے سے شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا کہ نریندر مودی کا دوبارہ حکومت میں آنا عوام کیلئے ایک سانحہ ہوگا۔ مضمون میں لکھا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پانچ برس قبل اقتدار میں آئی اور اس نے ہندﺅں اور مسلمانوںکے درمیان تناﺅ اور تفریق کو بڑھایا ۔ نریندر مودی کی معاشی پالیسی کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت میں بے روزگاری عروج پر ہے ۔ مسلمانوں پر مشتعل انتہا پسندوں کے حملے روز کی بات ہے جبکہ دلتوں کیلئے بھی اپنے ہی ملک کی زمین تنگ کر دی گئی ہے ۔ جریدے نے مزیدلکھتے ہوئے کہاہے ا کہ بھارت میں اس وقت اقلیتوں کے حوالے سے تعصب اور ان پر مظالم عروج پر ہیں اور سچ یہ ہے کہ اگر مودی دوبارہ اقتدار میں آئے تو اقلیتوں کیلئے اپنے ہی ملک کی زمین مزید تنگ ہو جائےگی۔