Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • کیا پاکستان برطانیہ سے اسحاق ڈار کی برطانیہ بدری اور حوالگی کا مطالبہ کر پائے گا؟

    کیا پاکستان برطانیہ سے اسحاق ڈار کی برطانیہ بدری اور حوالگی کا مطالبہ کر پائے گا؟

    کیا پاکستان برطانیہ سے اسحاق ڈار کی برطانیہ بدری اور حوالگی کا مطالبہ کر پائے گا؟ برطانوی وزیرخارجہ جیرمی ہنٹ اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مشتر کہ پر یس کانفرنس میں ملزمان کی پاکستان حوالگی کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے۔جیری ہنٹ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ حوالگی ملزمان سے متعلق ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جسے سیاسی طور پر استعمال کیا جاسکے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان حوالگی ملزمان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو پاکستان کے سزائے موت قانون پر اعتراض ہے اور اسلام آباد حکومت تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے لیے سنجیدہ ہے لیکن حوالگی ملزمان کا معاملہ طے ہونا بھی ضروری ہے۔

  • عراق:تمباکو نوشی سے ہر بیس منٹ بعد ایک شہری ہلاک ہونے لگا. صورت حال کا مزید بگڑنے کا اندیشہ

    عراق:تمباکو نوشی سے ہر بیس منٹ بعد ایک شہری ہلاک ہونے لگا. صورت حال کا مزید بگڑنے کا اندیشہ

    بغداد:تمباکو نوشی سے ہر بیس منٹ بعد ایک شہری ہلاک ہونے لگا. صورت حال کا مزید بگڑنے کا اندیشہ عراق میں وزارت صحت کے زیر انتظام انسداد تمباکو نوشی پروگرام کے رکن وسیم کیلان نے کہا ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہر 20 منٹ میں ایک شخص کی موت واقع ہو رہی ہے۔ عراق بیرون ملک سے تمباکو مصنوعات کی خریداری پر یومیہ دو ارب دینار یعنی 16 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی رقم صرف کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ طبی معائنے کے عمل سے گزارے جانے والےافراد میں بچے بھی شامل ہیں جو سانس کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں بعض پانچ سال کے بچے ہیں۔

    عراقی سیکرٹری صحت جاسم الفلاحی کا کہنا ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمارکے مطابق بچوں‌ کے تمباکو نوشی میں‌ ملوث ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔الفلاحی کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں تمباکو نوشی کی کاشت روکنے کی سفارش کریں‌ گے۔ تمباکو کے بجائے کھیتوں میں متبادل فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو کی تیاری، اس کی خریدو فروخت اور ترویج کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال 60 لاکھ سے زاید افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج نشے میں لت پت،نشئی فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

    اسرائیلی فوج نشے میں لت پت،نشئی فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

    مقبوضہ بیت القدس:اسرائیلی فوج نشے میں لت پت،نشئی فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ .اسرائیلی حکومت پریشان .اسرائیل میں عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج میں نشے کی عادت کے شکار افراد کی تعداد میں مسلسل اور غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

    عبرانی ٹی وی چینل 24 کے مطابق فوج میں‌ نشے کے بڑھتے رحجان کے بعد آرمی چیف جنرل آویف کوحاوی نے نشے کی لت کی روک تھام کے لیے ایک کمیشن قائم کیا ہے جو فوج میں نشے کے بڑھتے رحجان کے اسباب کے تعین کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام کے لیے بھی لائحہ عمل طے کرے گی۔

    ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے فوج میں منشیات کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے تادیبی کارروائی کی سفارش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت اور دفاعی حکام یہودی فوجیوں کے بڑی تعداد میں نشئی ہونے پر بہت پریشان ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوجیوں کو منشیات کے استعمال سے نہ روکا گیا تو اس سے اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو بہت نقصان ہو سکتا ہے .

  • امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس  کالونی قائم کردی.

    امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس کالونی قائم کردی.

    مقبوضہ بیت المقدس :امریکہ اور اسرائیل کی فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد ڈونلڈ کو نیتن یاہو کا خراج عقیدت .ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کی کالونی قائم کردی .اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے ایک نئی بستی کی تعمیر کا افتتاح کر دیا ہے۔ اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے اس علاقے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر یہ ’سیٹلمنٹ‘ تعمیر کی جارہی ہے اس کا نام ان ہی کے نام پر ٹرمپ ہائٹس ( ٹرمپ رامات) رکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو "ٹرمپ ہائٹس” کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سے متعلق ایک حکم پر دستخط کیے تھے ۔اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دوسرے اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی عہدے دار بھی موجود تھے۔اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ "گولان پر اسرائیلی خود مختاری کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔” نیتن یاہو گذشتہ کئی ماہ سے امریکی صدر پر گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے لیے زور دے رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے باون سال سے کنٹرول کے بعد اب امریکا کو کوئی اقدام کرنا چاہیے اوراس کی اس علاقے پر خود مختاری تسلیم کر لینی چاہیے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر 1967ء کی مشرقِ اوسط کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کیا تھا اور 1980ء کے اوائل میں اس کو غاصبانہ طور پر صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور امریکا کے سوا دنیا کے تمام ممالک گولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔

  • پربھاس اور انوشکا شادی کی خبریں افواہیں

    پربھاس اور انوشکا شادی کی خبریں افواہیں

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ پربھاس ان کے بہترین دوست ہیں، تاہم ان دونوں نے شادی کے حوالے سے ابھی کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ اداکارہ نے میڈیا میں اپنی شادی کی خبروں کو جھوٹا قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پربھاس کی صرف بہترین دوست ہیں.
    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کی جانب سے باہو بلی 2 میں کام کرنے کے دوران تعلقات استوار ہوئے اور پھر یہ تعلقات رومانس تک پہنچے اور گذشتہ کچھ عرصے سے خبریں ہیں کہ وہ جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے تاہم اپنی شادی اور منگنی کی خبروں پر کچھ دن قبل ہی انوشکا شیٹھی نے خاموشی توڑتے ہوئے پربھاس کو اپنا بہترین دوست قرار دیا تھا۔
    باغی ٹی وی کے مطابق اداکار نے بھی شادی کی خبروں کو جھوٹا قرار دیا، تاہم بھارتی میڈیا میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ دونوں ممکنہ طور پر رواں برس کے آخر تک رشتے میں بندھ جائیں گے۔

  • اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ،تعداد 90 ہوگئی .خصوصی رپورٹ

    اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ،تعداد 90 ہوگئی .خصوصی رپورٹ

    اسرائیلی ایٹم بموں‌کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی ہے.ایک عالمی ادارے ‘اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ’ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں‌ کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی ہے۔

    عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ذریعے داغا جا سکتا ہے۔ صہیونی ریاست کے ‘جریکو’ دیسی ساختہ میزائل خاص طور پر جوہری وار ہیڈ لے جانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں جو بین البراعظمی سطح پر مار کر سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں‌ بتایا گیا ہے کہ رواں سال ایٹم بموں کی تعداد 13 ہزار 865 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں امریکا اور روس جوہری بموں کی تعداد کے اعتبار سے سر فہرست ہیں۔ ان دونوں‌ ملکوں کے ایٹم بموں کی تعداد تین تین سو ہے۔ اس کے بعد برطانیہ کے پاس 215، چین کے پاس 280، بھارت کے پاس 140، پاکستان کے پاس 150، اسرائیل کے پاس 90 اور شمالی کوریا کے پاس 30 جوہری بم ہیں۔

  • سرحدوں‌ پر پاکستان کے مقابلہ کیلئے بھارت کا وار گروپس بنانے کا اعلان، ہر گروپ میں 5 ہزار اہلکار ہوں‌ گے

    سرحدوں‌ پر پاکستان کے مقابلہ کیلئے بھارت کا وار گروپس بنانے کا اعلان، ہر گروپ میں 5 ہزار اہلکار ہوں‌ گے

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی فوج پاک بھارت سرحد پر جلد نئے انٹیگریٹیڈ بیٹل گروپس یعنی وار گروپس قائم کرے گی جن کا مقصد جنگ کے دوران ہندوستانی فوج کی صلاحیت کومزید مضبوط کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ہندوستانی میڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ عمل اکتوبرتک مکمل ہوجائے گا جبکہ پاکستان کے بعد چین کی سرحد پربھی وارگروپس بنائے جائیں گے۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں‌ کہا ہے کہ ایک بریگیڈ میں تین چاریونٹ ہوتی ہیں‌ اور ہریونٹ میں تقریباً 800 اہلکار ہوتے ہیں۔ ہرآئی بی جی یعنی وار گروپ میں پانچ ہزار اہلکار شامل ہوں گے، جسےمیجرجنرل رینک کا افسر لیڈ کرے گا۔

    بھارتی میڈیا نے ہندوستانی فوجی ذرائع کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ مغربی کمانڈ میں انٹیگریٹیڈ بیٹل گروپ کی صلاحیت جانچنے کے لئےایک ٹریننگ بھی کی گئی تھی، جس کے متعلق اعلیٰ افسران کا فیڈ بیک مثبت رہا اورجلد ہی دوسے تین آئی بی جی یعنی وار گروپس کی تعمیرکی جائے گی۔

    واضح‌ رہے کہ ہندوستانی وزیردفاع راجناتھ سنگھ کی جانب سے ہندوستانی فوج کی جدید کاری کی باتیں کی جارہی ہیں.

  • ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی میڈیانےروس کے نیشنل ڈیفنس مینیجمنٹ سینٹر کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ سمندروں کی جانب سے ہماری سرحدوں کی طرف محو پرواز تھا، امریکی طیاروں کو دو مرتبہ روسی طیاروں کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔جوہری میزائل و دیگر اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے حامل امریکی ایئرفورس کے بمبار طیارے کی روسی سرحد کے قریب پرواز نے روس کی فضائیہ اور وزارت دفاع کو چوکنا کردیا۔ روس کی فضائیہ کے زیر استعمال ایس یو-57 طیارے نے امریکی فضائیہ کے طیارے کے راستے میں مداخلت کرکے اس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حیرت انگیز طور پر تاحال عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ موضوع حل طلب تصور کیا جارہا ہے کہ امریکی طیارے نے ایک مرتبہ روسی سرحد کے قریب جانے کی کوشش کی یا دو مرتبہ؟ یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل گردانا جارہا ہے کہ کیا یہ ایک محض اتفاقی واقعہ تھا اور یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے؟۔ خبررساں ایجنسی تاس نے روسی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی ساختہ ایس یو-57 طیارہ کومبیٹ ڈیوٹی پر تھا کہ اس نے امریکی فضائیہ کے طیارے کو اپنی سرحد کے قریب آتے دیکھا توراستے میں مداخلت کرکے اسے بین الاقوامی سرحد سے دور کردیا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے روسی طیاروں نے حصہ لیا؟ لیکن اس بات کا اعتراف کیا کہ روسی طیاروں کو دو مرتبہ امریکی طیاروں کے راستے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کئی مرتبہ تناؤ پیدا ہوا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی طیاروں کی روسی سرحد کے قریب پروازوں نے پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ضرور کیا ہے۔

  • مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    قاہرہ:مصر کے سابق صدر مرحوم محمد مرسی 68 سال کی عمر میں وفات پا گئے .مصر کی عدالت میں اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے کے دوران 20 منٹ تک جج کیساتھ گفتگو کرنے کے بعد وفات پا جانیوالے محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ محمد مرسی 1951ء میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ مرحوم نے 1980ء میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔ محمد مرسی 1985ء میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا.مصر واپسی پر وہ زقازیق یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ تعینات ہوئے۔ اور 2000ء سے 2005ء کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔اس دوران وہ اخوان المسلمین کے نظم کے اندر بھی ترقی کرتے رہے اور جماعت کے اس شعبے میں شامل ہو گئے جس کا کام کارکنوں کو رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

    2005ء کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔ اسلام پسندوں کی جماعت سمجھی جانے والے تنظیم اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ سنہ 2000 سے لے کر سنہ 2005 کے درمیانی عرصے میں وہ آزاد رکن کی حیثیت سے اس پارلیمانی اتحاد میں بھی شامل رہے جس میں اخوان المسلمین بھی شامل تھی۔لیکن اس کے بعد وہ اپنے آبائی حلقے سے انتخابات ہار گئے۔ محمد مرسی کا دعویٰ رہا ہے کہ انھیں دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔

    محمد مرسی نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے لوگوں کو اپنے انداز خطابت سے متاثر کیا، خاص پر ان کی وہ تقریر خاصی مشہور ہوئی تھی جب سنہ 2002 میں ریل کے بڑے حادثے کے بعد انھوں نے سرکاری نااہلی کے لتے لیے تھے۔ پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے 2011ء میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی کہ ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے، (اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔

    مئی 2012ءکے وسط میں مصر صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا، جس میں محمد مرسی اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ جون 2012ء میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسی نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیراعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسی نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔ انہوں نے 20 جون 2012ء کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

    جون 2013ء میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ مصری فوج نے یکم جولائی 2013ء کو مرسی کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں، بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کر دیا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نے تین جولائی کو محمد مرسی کو معزول کرکے جیل میں ڈال دیا۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسی اور 132 دوسرے افراد پر 2011ء میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔

    اپریل 2014ء میں عدالت نے مرسی کو 2012ء میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔ مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015ء میں مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011ء میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔ عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسی نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔

    مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔ تین سال قبل 15 نومبر 2016ء کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا، لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔ جیل میں چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔ محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔

    محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی فوج نے 30 جون 2013ء کو محمد مرسی کو برطرف کرکے انہیں جیل میں بند کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے ایماء پر ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا، جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ محمد مرسی اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  • مارلن منرو کا مجسمہ ہوا چوری

    مارلن منرو کا مجسمہ ہوا چوری

    ہر اداکارہ کے لیے آئیڈل تصور کی جانے والی خوبرو اور پرکشش مارلن منرو کا یہ مجسمہ لاس اینجلز میں ہالی وڈ میوزیم میں لگا تھا ۔جسے اب اڑا لیا گیا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے اس واقع کی تحقیقات شروع کر دیں ہیں۔
    شہرہ آفاق ہالی وڈ اداکارہ مارلن منرو کا مجسمہ ہوگیا چوریہالی ووڈ: (18 جون 2019) ہالی وڈ کی لیجنڈری اداکارہ آنجہانی مارلن منرو کا مجسمہ لاس ایجنلز کے فلمی میوزیم سے کسی نے چرا کر ہلچل مچا دی۔
    انہوں نے اپنی فلم کمپنی ”مارلن منرو پروڈکشنز“ کی بنیاد رکھی اور اس کے زیر اہتمام ”سم لائک اٹ ہاٹ“ اور ”پرنس اینڈ دی شوگرل“ جیسی شہرہ آفاق فلمیں تیار کیں۔ انہوں نے دو شایاں کیں۔ پہلی شادی بیس بال کے مشہور کھلاڑی جوڈی ماجیو سے کی اور دوسری شادی مشہور ڈرامہ نگار آرتھر ملر سے۔ دونوں شادیاں ناکام رہیں اور طلاق پر منتج ہوئیں۔ ڈپریشن سے نجات پانے اور جسمانی تکالیف سے سکون پانے کے لئے وہ منشیات کا استعمال کرنے لگیں۔
    ہالی وڈ میں اپنی بے باک اداکاری اور خوبصورتی سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ مارلن منرو یکم جون 1926ء کو پیدا ہوئیں اور 1946ء میں اپنے کریئر کا آغاز بطور ماڈل کیا۔ مارلن کے اس دور کی مشہور فلموں میں نیا گرا، جنٹل مین پریفر بلونڈز اور ٹومیری اے ملنیئر شامل ہیں۔اس کے علاوہ پلے بوائے میگزین نے ان کی ایسی تصاویر شائع کیں جو 1948 میں لی گئی تھیں لیکن ان کی باری مارلن کے شہرت حاصل کرنے بعد آئی۔ ان واقعات نے مارلن کی شہرت کو آسمان پر پہنچا دیا۔
    پانچ اگست 1962 کی رات وہ اپنے عالیشان گھر میں مردہ پائی گئی۔ خواب آور گولیوں کی بھاری مقدار کو اس کی موت کا سبب قرار دیا گیا۔انتقال کے وقت ان کی عمرصرف 36سال تھی۔