Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایران جنگ چاہتا ہے تو اسکا خاتمہ ہو گا، ٹرمپ کی دھمکی

    ایران جنگ چاہتا ہے تو اسکا خاتمہ ہو گا، ٹرمپ کی دھمکی

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایران کو دھمکی دی اور کہا کہ اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ اس کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گا.

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. ایران کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں. رواں مہینے کے آغاز میں امریکا نے ایران کے تیل کی درآمدات پر رعایت ختم کر دی تھی اور ایرا ن سے تیل لینے والے ممالک پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی تھی.

  • بھارت میں بابری مسجد کی طرح سینکڑوں سال پرانی تاریخی جامع مسجد شہید کئے جانے کا خطرہ‘ اہم ترین رپورٹ منظر عام پر

    بھارت میں بابری مسجد کی طرح سینکڑوں سال پرانی تاریخی جامع مسجد شہید کئے جانے کا خطرہ‘ اہم ترین رپورٹ منظر عام پر

    بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے بابری مسجد کی طرح سینکڑوں سال پرانی تاریخی گیان واپی مسجد شہید کئے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور مقامی مسلمانوں میں اس سلسلہ میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقہ وارانسی میں مشہور کاشی وشواناتھ مندر کو ارڈیڈار مندر سے جوڑنے کیلئے بڑا آپریشن کیا جارہا ہے اور پچھلے چند ماہ میں بڑی تعداد میں راستہ میں آنے والے مکانات اور دوکانوں کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ کہا جارہاہے کہ کاشی وشواناتھ مندر تنگ گلیوں میں چھپا ہوا تھا اسے گنگا کے ہلیا بائی گھاٹ سے جوڑنے پر ہندو بھگتوں کو یہاں آنے میں آسانی ہو گی۔ اس علاقہ میں تقریبا تین سو گھروں کے لوگ یہاں سے دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہو ئے ہیں۔

    گھروں کو منہدم کرنے کی اس مہم کے دوران سینکڑوں سال پرانی تاریخی گیان واپی مسجد بھی خطرات سے دوچار ہو گئی ہے جسے ہندوانتہاپسند اپنے منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد او رمندر کے راستہ میں کھڑے ہو جائیں تو ہندوانتہاپسنداشارے کرکے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ دیکھو یہاں ایک مسجد بھی ہے۔ اس صورتحال پر مقامی مسلمانوں میں سخت خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اس علاقہ میں بابری مسجد کی تاریخ کسی وقت بھی دہرائی جاسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوانتہاپسندیہ ہرزہ سرائی کرتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ جیوتر لنگا کے ساتھ جو حقیقی مندر تھا اسے منہدم کر کے یہ مسجد بنائی گئی ہے اور مذکورہ جیوتر لنگا اب بھی اسی تاریخی مسجد کے اندر موجود ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ ہندوﺅں کی یہ باتیں سن کر سخت پریشانی کے عالم میں ہیں۔ مسلمانوں کے کانوں میں ہندوﺅں کا یہ نعرہ بھی گونج رہا ہے کہ ”ایودھیاتو ایک جھانکی ہے‘ کاشی‘ متھرا بھی باقی ہے“۔ یہ نعرے اور ہندوانتہاپسندوں کے عزائم مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

    وارانسی کا یہ علاقہ جہاں کاشی ناتھ مندر کے قرب و جوار کو وسیع کیا جارہا ہے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقہ میں ہے اس لئے یہاں سینکڑوں سال پرانی تاریخی گیان واپی مسجد شہید کئے جانے کا اور زیادہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ انہی کی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور ہندوانتہاپسندوں کو بی جے پی اور اس کے لیڈروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے بابری مسجد کے اطراف و اکناف کے علاقے کوایودھیا کو ”خوبصورت“ بنانے کے نام پر صاف کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تاریخی گیان واپی مسجد مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔

    اگرچہ بی جے پی کے مقامی لیڈر مسلمانوں کو دلاسا دے رہے ہیں کہ یہ نریندر مودی کا حلقہ ہے اور یہاں 1992والی بابری مسجد شہید کرنے والی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی مگر مسلمان ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیر اعظم کے کردار سے بخوبی آگاہ ہیں اس لئے وہ ان کی کسی بات پر مطمئن نہیں ہیں۔

    مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جنھیں یہاں سے جبری طور پر ہٹانے اور دوکانوں سے نکالنے کاکام کیاجارہا ہے وہ الگ کہانی ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی نسلوں سے رہنے والے تین سو گھر وں کے لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کردیاگیاہے۔

    وارانسی میں ایک سول سوسائٹی گروپ سانجھا سنسکرتی منچ نے کہاہے کہ شہری انتظامیہ کے پاس ناتو کوئی بلیوپرنٹ ہے اور نہ ہی وہ منصوبہ شیئر کرنے کی درخواست پر کوئی وضاحت پیش کر رہی ہے۔ اسی طرح ایک اور سماجی ورکر ولبھ چاری پانڈے نے کہاہے کہ ”ہم نے آرٹی ائی کے تحت تفصیلات مانگی تھیں مگراس پر بھی کوئی ردعمل نہیں آیا۔

  • بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مراقبے میں‌ کیوں‌ گئے؟

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مراقبے میں‌ کیوں‌ گئے؟

    ہندوستانی وزیر اعظم لوک سبھا الیکشن کے آخری مرحلہ میں زیادہ ووٹ‌ حاصل کرنے کیلئے مراقبے میں چلے گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق نریندر مودی نے شمالی اتراکھنڈ کے ایک غار میں مراقبہ کیا. بین الاقوامی خبر رساں‌ادارے نے اس سلسلہ میں ہندوستانی وزیر اعظم کی چند تصاویر بھی شائع کی ہیں جس پر وہ بیڈ پر مراقبے میں دیکھے جاسکتے ہیں.

    بھارتی وزیر اعظم نے یہ تصاویر اپنے ٹویٹر ہینڈل پر بھی شیئر کی ہیں. کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس روحانی سلسلہ کیلئے الیکشن کمیشن کیلئے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی.

  • شاہ محمود قریشی کی کویتی نائب وزیر اعظم سے ملاقات، ویزہ پابندیوں‌ کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا

    شاہ محمود قریشی کی کویتی نائب وزیر اعظم سے ملاقات، ویزہ پابندیوں‌ کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اہم ملاقات کی ہے جس میں دونوں ملکوں‌کے مابین تعلقات، ویزہ پابندیوں اور دیگر اہم امور سے متعلق گفتگو کی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی ویزہ پابندیوں سے متعلق بے چینی اور تذبذب کاشکارہے. چار سال قبل تک 2015 میں ایک لاکھ 15 ہزارپاکستانی کویت میں مقیم تھے تاہم ویزہ پالیسیوں‌کی وجہ سے یہ تعداد مسلسل کم ہوئی اور اس وقت یہ صورتحال ہے کہ ایک لاکھ پانچ ہزار پاکستانی کویت میں‌مقیم ہیں. وزیر خارجہ نے ملاقاتوں‌کے دوران کویت سے درخواست کی کہ وہ 2011 میں‌ لگائی جانے والی ویزہ پابندیوں سے پاکستان کو مستثنی قرار دے اور اپنی ویزہ پالیسیوں‌ پر نظر ثانی کرے.

    شاہ محمود قریشی کے مطالبہ پر کویتی نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ خالدالجراج الصباح نے پاکستانیوں‌ کے مسائل حل کرنے کیلئے سجنیدہ کوششوں کی یقینی دہانی کروائی ہے.

    یاد رہے کہ پچھلے چند برسوں‌ میں‌ کویت میں‌ پاکستانیوں‌ کی تعداد کم ہوئی ہے اور اسی کے پیش نظر شاہ محمود قریشی نے کویتی نائب وزیر اعظم سے ملاقات کر کے انہیں‌ ویزہ پابندیوں‌ کے حوالہ سے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے.

  • سعودی عرب پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور طاقت سے جواب دیں‌ گے. عادل الجبیر

    سعودی عرب پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور طاقت سے جواب دیں‌ گے. عادل الجبیر

    سعودی وزیر مملکت عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں‌چاہتے لیکن اگر دوسرے فریق نے اس کی راہ اختیار کی تو سعودی عرب اس جارحیت کا بھرپور طاقت سے جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق عادل الجبیر نے تہران سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں‌رونما ہونے والے انقلاب کو دوسرے ملکوں‌ تک برآمد کرنے کی کوشش نہ کرے. اس کی پالیسیوں‌ سے خطہ کو خطرات ہیں. بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ایران کی پالیسیوں کے تناظر میں اپنا کردار ادا کریں اور تہران کی خلاف ورزیوں سے متعلق فیصلہ کن موقف اختیار کریں۔ پالیسیوں کے تناظر میں اپنا کردار ادا کریں اور تہران کی خلاف ورزیوں سے متعلق فیصلہ کن موقف اختیار کریں۔

    سعودی وزیر مملکت نے اتوار کے دن ریاض‌میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایران کو خطے کے دوسرے ملکوں‌کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے اور اچھی ہمسائیگی اختیار کرنے پیش نظر تخریبی پالیسیاں اختیار نہیں‌کرنی چاہئیں.

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی بڑھتی نظر آرہی ہے اور سعود ی عرب نے 30 مئی کو عرب سربراہ اور خلیج تعاون کونسل کا اجلاس بھی طلب کیا ہے.

  • ایران نے حزب اللہ کو امریکی فوجیوں‌ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سونپ دی، امریکی سینیٹر کا دعویٰ

    ایران نے حزب اللہ کو امریکی فوجیوں‌ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سونپ دی، امریکی سینیٹر کا دعویٰ

    امریکی ری پبلیکن کے عہدیدار اور سینیٹر مائیکال ماکول نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ ایران نے حزب اللہ کو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں‌ اور اس کے شہریوں‌ کے اغوا کی ذمہ داری سونپی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مذکورہ امریکی سینیٹر ریاست ٹیکساس کے رکن منتخب ہوئے ہیں. مائیکل ماکول نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ واشنگٹن کو جاسوسی ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایران اپنے وفادار گروپوں‌کو امریکی فوجیوں‌ پر حملوں‌اور انہیں‌ نشانہ بنانے کیلئے منصوبہ بندی کر رہا ہے.

    امریکی سینیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے قائم کئے گئے آپریشنل یونٹ ‘فیلق القدس’ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے حزب اللہ کو ایک مکتوب بھیجا ہے جس میں اس سے امریکی فوجیوں‌کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری دی گئی ہے.
    کہا گیا ہےکہ وہ امریکیوں کے اغواء یا ان کے قتل کی ذمہ داری سنھبالے۔

  • سعودی عرب نے 30 مئی کو عرب سربراہ کانفرنس اور خلیج تعاون کونسل کے اجلاس طلب کر لئے

    سعودی عرب نے 30 مئی کو عرب سربراہ کانفرنس اور خلیج تعاون کونسل کے اجلاس طلب کر لئے

    خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 30 مئی کو خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ کانفرنسیں‌ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق سعودی فرمانروا نے اجلاس بلانے کا یہ مطالبہ سعودی عرب اور امارات پر ہونے والے حملوں کے واقعات، خطہ کی تازہ ترین صورتحال اور آئندہ کے لیے خلیجی ملکوں پر جارحیت کی روک تھام کے لیے کیا ہے.

    شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خلیجی ممالک کی قیادت اور عرب ملکوں کے سربراہان کو 30 مئی کو ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے مکتوب بھجوائے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کے اس مطالبہ پر 30 مئی کو عرب لیگ اور خلیجی ممالک کی سربراہ کانفرنس کے بعد 31 مئی کو اسلامی سربراہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مکہ معظمہ میں‌ہونے والے ان تینوں‌ اجلاسوں‌کی میزبانی برادر اسلامی ملک سعودی عرے کرے گا.

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں‌ کے بعد برادر ملک نے سفارت کاری تیز کر دی ہے اور سربراہ اجلاس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں. ادھر ناروے کی انشورنس کمپنیوں نے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ کے قریب بحری جہازوں‌ پر حملوں‌ کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے.

  • امریکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسے ایک ہی وار سے منہدم ہو جائے گا، کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب

    امریکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسے ایک ہی وار سے منہدم ہو جائے گا، کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ہماری ایران کے دشمنوں اور امریکہ کے ساتھ ایک ہی وقت میں‌ نفسیاتی جنگ ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ امریکہ تو ورلڈ ٹریڈ‌ سنٹر جیسے ایک ہی حملہ کی مار ہے اور وہ اسی سے دھڑام سے زمین کی پستیوں‌ میں‌ آ گرے گا.

    ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہاکہ ایران امریکہ جاری سراغرسانی کی جنگ میں‌ فوجی کاروائیوں کی طرف سائبر جنگ بھی شامل ہے.
    امریکہ اس وقت اپنی طاقت کھو چکا اور شدید خطرات سے دوچار ہے.

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں‌ ایران اور امریکہ کی طرف سے تندوتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے.

  • مودی نے بھارتی الیکشن کمیشن کا وقار خاک میں‌ ملا دیا ہے، کانگریس

    مودی نے بھارتی الیکشن کمیشن کا وقار خاک میں‌ ملا دیا ہے، کانگریس

    بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کا وقار خاک میں‌ملا دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق کانگریس میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ہے کہ کمیشن کی میٹنگوں میں مسٹرلواسا کو شامل نہیں‌کیا جاتا رہا اور اس کی وجہ اب ظاہر ہونے الیکشن کمیشن کا وقار خاک میں‌مل گیا ہے. یہ کمیشن کی تاریخ‌ کا یقینی طور پر سیاہ دن ہے.

    انہوں نے کہاکہ بھارتی الیکشن کمیشن مودی کے ہاتھوں‌کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے.

    یاد رہے کہ ایک دن قبل بھارتی الیکشن کمیشن میں اختلافات کی خبریں‌ میڈیا کی زینت بنی تھیں.

  • بھارتی انتخابات، ہر پانچویں‌ امیدوا رکے مجرمانہ سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث‌ ہونے کا انکشاف

    بھارتی انتخابات، ہر پانچویں‌ امیدوا رکے مجرمانہ سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث‌ ہونے کا انکشاف

    بھارت میں لوک سبھا انتخابات کے حوالہ سے اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی نے ایسے امیدوار کھڑے کئے ہیں‌جن پر سنگین نوعیت کے مجرمانہ سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث ہونے کے الزامات ہیں جبکہ دوسری جانب نیشنل کانگریس بھی اس معاملہ میں‌ایک قدم ہی فاصلے پر ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق ایسوسی ایشن برائے جمہوری اصلاحات نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بھارت میں عام انتخابات اور امیدواروں‌کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ‌ مرتب کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے چالیس فیصد امیدواروں‌پر مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں. بعض‌ امیدوار ایسے بھی ہیں‌جو قتل اور خواتین کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم سے متعلق الزاما ت کا سامنا کر رہے ہیں.

    رپورٹ‌ میں‌ کانگریس سے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ اس کے بھی 39 فیصد امیدواروں‌پر اسی نوعیت کے الزامات ہیں‌. یوں‌ دونوں‌ جماعتوں‌کے کردار میں محض انیس بیس کا ہی فرق محسوس ہوتا ہے.

    رپورٹ‌ میں‌ کہا گیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں‌حصہ لینے والا ہر پانچواں‌ امیدوار سنگین قسم کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے اور یہ امیدوار مجرمانہ سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث پائے گئے ہیں. انڈیا کی کمیونسٹ‌ پارٹی اور دیگر تنظیموں‌ کے امیدواروں‌ کو بھی اسی طرح‌کے الزامات کا سامنا ہے.

    رپورٹ مرتب کرنے والی تنظیم نے تمام تنظیموں‌ کے امیدواروں‌ کا ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد یہ رپورٹ‌ تیا رکی ہے.