Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکی خفیہ ایجنسی نے  چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں  کی بھرتیاں تیز کر دیں

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں تیز کر دیں

    واشنگٹن:امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی تعداد بڑھانے کیلئے آن لائن بھرتیوں کا عمل تیز کردیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سی آئی اے نے مینڈرن، فارسی اور کورین زبانوں میں اپنے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، ٹیلی گرام اور لنکڈ ان اکاؤنٹس سمیت ڈارک ویب پر جاسوسوں کی بھرتیوں سے متعلق پوسٹ شیئر کیں گئیں۔

    سی آئی اے کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹس میں امریکی خفیہ ایجنسی کیلئے جاسوسی کے خواہشمند افراد کو سی آئی اے سے رابطہ کیلئے محفوظ طریقہ کار سے متعلق آگاہی دی گئی،ایک بیان میں سی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ جاسوسی کے اس محاذ پر روس میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد چاہتے ہیں کہ دیگر اتھاریٹیرین رجیمز میں ہمارے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند افراد کو بھی ہماری دستیابی سے متعلق معلوم ہو سکے-

    حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    خبر ایجنسی کے مطابق چین کے روس اور ایران سے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کے بعد سی آئی اے کی خفیہ معلومات کے حصول کی بھوک میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہےامریکی انٹیلیجنس کمیونٹی میں روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کو ’ہارڈ ٹارگٹ‘ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان حکومتوں میں گھس پانا امریکہ اور اس کی اتحادی خفیہ ایجنسیوں کیلئے مشکل ہوتا ہے۔

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    امریکی خفیہ ایجنسی کے اقدام پر چینی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی عوام اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے درمیان خلیج پیدا کرنے کیلئے امریکا جھوٹ پھیلا رہا ہے لیکن وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر پائے گا،تاہم روس، ایران اور شمالی کوریا کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    قبل ازیں سی آئی اے کی جانب سے روس میں جاسوسوں کی بھرتیاں 2022 میں شروع کی گئی تھیں، اس کیلئے روسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اعلان کیا جاری کیا گیا تھا۔

    بجلی کے بلوں میں کمی نہ لائی گئی تو تحریک منظم کی جائے گی …

  • امریکا کا  ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار

    امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی حمایت نہیں کرتے،اسرائیلی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد جو بائیڈن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، میزائل حملوں کے جواب میں ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اتحادی ممالک کے سربراہان سے تبادلہ خیال کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور برطانیہ سمیت جی سیون ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کی حمایت نہیں کی جائے گی تاہم اسرائیل کی جوابی کارروائی متناسب ہونی چاہیے پورا مشرق وسطیٰ کا خطہ اس وقت خطرے میں ہیں، جی سیون ممالک نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ لبنان میں شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے،امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے کہاہے کہ لبنان میں شہریوں پر حملے بند کیے جائیں-

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکا لبنان میں شہریوں یا انفرااسٹرکچر پر حملے نہیں دیکھنا چاہتا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوششیں کررہے ہیں، حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے سے انکار کیا،جی سیون ممالک جلد ایران پر پابندیاں عائد کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں میتھو ملر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں امریکی امداد میں بدعنوانی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، امریکی امداد کے استعمال کی نگرانی کا سخت نظام ہے، پاکستان سمیت کسی بھی ملک کو دی گئی امداد پر نگرانی رکھتے ہیں، امداد کے غلط استعمال پر فراہمی روک دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملوں میں شہادت کا بدلہ لینے کیلئے ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست 200 سے زائد میزائل فائر کیے گئے تھے۔

    ایران کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، کسی بھی عوامی مرکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، ایران نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل جوابی کارروائی کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا،ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو ان حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔

  • حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے۔

    باغٰ ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام کی جانب سے اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ القسام نے جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے مشرق میں متعدد اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ القسام نے راکٹ لانچرز سے مختلف مقامات پر اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ٹینکوں کو تباہ ہوتے بھی دکھایا گیا ہے۔دوسری جانب غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,689 افراد شہید اور 96,625 زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملوں میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

  • حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر "بڑی تعداد میں” راکٹ داغے ہیں۔حزب اللّٰہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے جدید ترین مرکاوا ٹینکس تباہ کرنے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر شیلنگ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کی اسرائیلی فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے جھڑپوں میں ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد شہید ہوگئے، اب تک 1800 سے زیادہ جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی بے گھر ہوگئے، اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا.غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی فضائی حملہ کیا، جس میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل

  • لبنان کی سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کو لگام ڈالنے کی عالمی اپیل

    لبنان کی سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کو لگام ڈالنے کی عالمی اپیل

    بیروت: لبنان کے وزیرِاعظم نجیب میکاتی نے عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسرائیل کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے عوام کے درمیان اتحاد و یگانگت ملک کو اس مشکل وقت میں بچانے کی بنیادی شرط ہے، اور موجودہ صورتحال میں ہر شہری کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔وزیرِاعظم نجیب میکاتی نے ایک سرکاری بریفنگ میں واضح کیا کہ ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور لوگوں کو باہمی تعاون اور اتحاد کے ذریعے اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے میں لبنان کی اخلاقی مدد کرے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر لڑائی کو طول دے رہا ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
    نجیب میکاتی کا یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکا، فرانس، یورپی یونین، جاپان، سعودی عرب، قطر، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور اٹلی کے اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزیرِاعظم نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبی بیری اور پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی کے سابق لیڈر ولید جنبلات سے ملاقات کے بعد عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو کنٹرول کرے۔
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کے نمائندے السید ہادی ہاشم نے کہا کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ لبنان میں محدود پیمانے پر زمینی کارروائی کرے گا، لیکن حقیقت میں اسرائیلی فوج زیادہ وسیع کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ ہادی ہاشم نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اسرائیل کے ارادے خطرناک ہیں اور فوری طور پر عالمی طاقتوں کو اس پر قابو پانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔لبنان میں سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک اسرائیلی فوج اور لبنانی فوج کے درمیان براہ راست کوئی جھڑپ نہیں ہوئی، اور اسرائیلی فورسز نے لبنانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں بھی لبنانی سفارتی مشن اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کیے جا سکیں۔

  • امریکی صدر جو بائیڈن کی ایران کو مزید پابندیوں کی دھمکی، اسرائیل کے دفاع میں سخت اقدامات کا عندیہ

    امریکی صدر جو بائیڈن کی ایران کو مزید پابندیوں کی دھمکی، اسرائیل کے دفاع میں سخت اقدامات کا عندیہ

    واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر ایرانی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری بڑھتے ہوئے تنازعے کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ایران پر جلد ہی مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی حمایت نہیں کرتا، لیکن خطے میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا ہر ممکن اقدام کرے گا۔ صدر بائیڈن نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کریں گے تاکہ خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی سیون کے رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں خطے کے اہم معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔
    یہ صورتحال اُس وقت شدید ہوگئی جب گزشتہ رات ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن کے جواب میں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اسرائیلی حکام نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر بھرپور حملہ کریں گے اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل کی جانب سے جاری کی جانے والی دھمکی کے بعد ایران نے اپنے دفاع کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے کوئی فوجی کارروائی کی، تو ایران اس کے انفراسٹرکچر کو جوابی حملے میں نشانہ بنائے گا۔ ایران نے اپنے بیانات میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اسرائیل کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔
    یہ بات اہم ہے کہ اس خطے میں تنازعے کی جڑ گزشتہ برس 7 اکتوبر کو ہونے والے ایک آپریشن سے جڑی ہے، جب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ اس جنگ نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو جنم دیا ہے، اور اب یہ کشمکش ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے علاوہ، اسرائیل نے غزہ کے بعد اب لڑائی کا رخ لبنان کی طرف موڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے لبنان میں متعدد حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے ساتھ بھی تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حزب اللہ، جو ایران کی حمایت یافتہ ایک مسلح تنظیم ہے، اسرائیل کی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے تیار نظر آتی ہے، جس سے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل

    پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو خطے میں جاری حالیہ پیش رفت پر شدید تشویش ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کو ترجیح دیتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان نے اسرائیل کے مسلسل بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں خطے میں سنگین انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملے نے کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے اور اس سے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے بے گناہ شہریوں کی جانوں کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں، اور لبنان کی خودمختاری کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خطے کے عوام، بشمول فلسطین اور لبنان کے شہری، خوف اور تشدد سے آزاد زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ممتاز زہرہ بلوچ نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے اور خطے میں قیام امن کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی خودمختاری کے تحفظ اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    پاکستان نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جو نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کا ضامن ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق دیا جا سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے عوام کے حقوق کا علمبردار رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر فلسطین کے موقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین اور لبنان کے عوام کے حق میں آواز اٹھائیں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کریں۔دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی نے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی فوری مداخلت ضروری ہے تاکہ اس بحران کو ختم کیا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں 8 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی

    اسرائیل نے لبنان میں 8 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی

    اسرائیلی فوج نے حال ہی میں لبنان میں ایک زمینی کارروائی کے نتیجے میں اپنے آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی دراندازی کی تھی، جو کہ ایک بڑی عسکری مہم کا حصہ ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا یہ اعتراف زمینی کارروائی کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے، اس کی وجوہات اور اس کے اثرات پر مزید معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
    بدھ کے روز، لبنان میں حزب اللّٰہ کی جانب سے بھی اس واقعے پر اپنا بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوج کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کا عزم کیا ہے، اور ان کے رہنماؤں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔اسرائیلی حکام نے ایرانی میزائل حملے کے بعد ملک کے شمالی حصے میں عوامی اجتماعات پر عائد پابندی میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے گولان کی پہاڑیوں میں رہائشی افراد کو کھلے مقامات پر 50 افراد کے جمع ہونے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ بند جگہوں پر 250 افراد تک اجتماع کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اس کے باوجود، لبنانی سرحد کے قریب رہنے والے اسرائیلی شہریوں کے انخلا کے احکامات پر عمل درآمد جاری ہے، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنی سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے ہونے والی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ لبنان میں حزب اللّٰہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور یہ حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
    اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ حالیہ کشیدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کس حد تک نازک ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ تاہم، فی الحال دونوں جانب سے سخت بیانات اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

  • ایرانی صدر کا دورہ قطر: اہم معاہدوں اور ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں شرکت کی توقع

    ایرانی صدر کا دورہ قطر: اہم معاہدوں اور ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں شرکت کی توقع

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان قطر کے دورے پر دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق، صدر پزشکیان نے اس دورے کے موقع پر کہا کہ ان کی قطر کے حکام سے ملاقات میں دو طرفہ امور پر مفصل بات چیت کی جائے گی۔ایرانی صدر نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ایران اور قطر کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس بات پر توجہ دے گی کہ کس طرح ایشیائی ممالک کو اسرائیلی جرائم سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، جو کہ حالیہ دنوں میں ایک بڑا موضوع بن چکا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، صدر پزشکیان اس دورے کے دوران ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ متعدد اہم مسائل پر بات چیت کریں گے۔ یہ اجلاس ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
    قطر اور ایران کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مستحکم رہے ہیں، اور یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس موقع پر بین الاقوامی مسائل، اقتصادی تعاون، اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جو کہ نہ صرف ایران اور قطر بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہیں۔

  • ایرانی سپریم لیڈر کا اسرائیل کو دھمکی: "اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا

    ایرانی سپریم لیڈر کا اسرائیل کو دھمکی: "اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی طاقت کا دوسرا نام ہے اور انہوں نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ اسے ایران کے ساتھ تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے عبرانی زبان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے جارحیت سے باز نہ آیا تو اس کا اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی حملہ اسرائیلی جارحیت کا فیصلہ کن جواب ہے اور یہ ایران کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کو یہ سمجھ جانا چاہئے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا گیا، جس میں انہوں نے عبرانی زبان میں کہا کہ ایران کی طاقت کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ پوسٹ ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغنے کے چند لمحے بعد کی گئی۔
    ایرانی سپریم لیڈر کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے آفیشل اکاؤنٹ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی میزائلوں کی تصویر بھی شیئر کی گئی، جس پر عربی میں ’نصر من اللہ و فتح قریب‘ کا جملہ درج تھا۔ اس ٹوئٹ کو چند منٹ میں سیکڑوں بار ری ٹوئٹ کیا گیا، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پیغام عوام میں کس قدر مقبول ہوا ہے۔
    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی ایک پیغام میں کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے بھی عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میزائلوں کی بوچھاڑ بڑی شدت کے ساتھ دہرائی جائے گی اور یہودی حکومت کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
    یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے اسرائیل پر 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، جو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے، اور اسرائیلی شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے بنکرز میں پناہ لی۔ایرانی حکام کے اس عزم اور بیانات کے پس پردہ یہ خدشات موجود ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ سکتا ہے۔