Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سکیورٹی رسک میں اضافہ: اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ  میں کمی

    سکیورٹی رسک میں اضافہ: اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی

    بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈز اینڈ پورز نے اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی۔

    باغی ٹی وی :ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈز اینڈ پورز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے جس کے باعث اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرات بڑھ گئے ہیں، ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ اور جنوبی سرحد پر زمینی کارروائیاں 2025 میں بھی جاری رہیں گی،ہم اسرائیلی معیشت کی بہتری کی توقع کر رہے تھے اور ہم نےدفاعی اخرا جات اور بجٹ خسارے کے خدشے کے پیش نظر 2024 میں اسرائیل کی جی ڈی پی صفر فیصد اور 2025 میں 2 اعشاریہ 2 فیصد کی توقع کی تھی، موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیل کی ریٹنگ اے پلس سے اےکر دی گئی ہے اور آؤٹ لک طویل مدت تک منفی نظر آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ اور دیگر علاقوں میں حملے جاری کر رکھے ہیں اور پورے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے باوجود اسرائیل اپنے یرغمالیوں کو رہا کروانے میں اب تک ناکام رہا ہے جبکہ اسرائیل نے لبنان میں پہلے پیجرز اور پھر واکی ٹاکی دھماکوں کے بعد حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حزب اللہ سربراہ حسن اللہ کو شہید کیا جس کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی لڑائی میں شدت آ چکی ہے اور اسرائیلی فضائیہ لبنان کے رہائشی علاقوں پر مسلسل بمباری کر رہی ہے جس میں اب تک سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ ایران نے بھی اسرائیل پر حملہ کر دیا ہے جس کے بعد اسرائیل کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے –

  • جس طرح ہٹلر کو روکا گیا تھا، نیتن یاہو کو بھی اسی طرح روکا جانا چاہیے۔رجب طیب اردوان

    جس طرح ہٹلر کو روکا گیا تھا، نیتن یاہو کو بھی اسی طرح روکا جانا چاہیے۔رجب طیب اردوان

    ترکیہ صدر رجب طیب اردوان نے لبنان میں اسرائیل کی حالیہ زمینی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ترک پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مزید وقت ضائع کیے بغیر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔طیب اردوان نے کہا، "اسرائیل نے غزہ میں جو دہشت گردی اور نسل کشی کی تھی، وہ اب لبنان تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اسے نہ روکا گیا تو اسرائیلی قیادت اپنی نگاہیں ترکیہ کی طرف پھیر لے گی۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ کسی بھی وقت ترکیہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
    اس کے ساتھ ہی، اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا موازنہ نازی جرمنی کے رہنما ایڈولف ہٹلر سے کرتے ہوئے کہا، "اسرائیلی قیادت جو وعدہ شدہ سرزمین کے فریب اور ہٹلر کی طرح خالص مذہبی جنون کے ساتھ کام کرتی ہے، وہ فلسطین اور لبنان کے بعد ہماری سرزمین پر بھی اپنی نگاہیں جمائے گی۔اردوان نے مزید کہا کہ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے اپنے دفاع اور جوابی کارروائی کے لیے فوجی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جبکہ ایران نے اپنے نیوکلئیر پروگرام کی تکمیل کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت اور ان کے خلاف اقدامات کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اردوان کا یہ موقف ترکیہ کے تاریخی حمایت فلسطینی عوام کے حقوق کی عکاسی کرتا ہے، اور ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات میں شامل ہے۔

  • اسرائیلی شہر میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    اسرائیلی شہر میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے قریب واقع اسرائیلی شہر جافا میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کو موصول غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ منگل کو حال ہی میں یروشلم اسٹریٹ پر تعمیر کیے جانے والے ایک لائٹ ریل اسٹیشن پیش آیا۔امریکی نیوز چینل کے مطابق مقامی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر دہشت گرد حملہ ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ لوگوں کے ایک ہجوم پر فائر کرنے والے کم از کم دو افراد کو پکڑا گیا ہے۔

    ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    واضح رہے کہ آج ہی ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل فائر کیے ہیں جن میں اسرائیل نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا اعلامیہ جاری کیا۔

  • اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار، نیتن یاہو نے ایران کو جنگ کے لیے مجبور کیا: الجزیرہ تجزیہ

    اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار، نیتن یاہو نے ایران کو جنگ کے لیے مجبور کیا: الجزیرہ تجزیہ

    الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کو حملے پر اکسانے کی کوشش کی ہے تاکہ اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم ہو۔ یہ بات الجزیرہ کی تجزیہ نگار دورسا جابری نے اپنی رپورٹ میں کہی، جس میں انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا جائزہ لیا۔الجزیرہ کی انگریزی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس تجزیے کے مطابق، جب 13 اپریل کو ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تھا، تو ایران نے پس پردہ چینلز کے ذریعے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو پہلے سے مطلع کر دیا تھا۔ تاہم، اس بار اسرائیل کو ایرانی حملے کی اطلاع صرف چند گھنٹے پہلے ملی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں تیزی آئی ہے۔تجزیہ میں بتایا گیا کہ اسرائیل اپنی دفاعی اور جوابی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسرائیلی فوج نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹا تو اسرائیل ایران کی چھ بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو اس کے جوہری منصوبوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دے گا۔

    دورسا جابری کے مطابق، ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ ایران اس حملے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہ حملہ ایران کی طاقت کے اظہار کی کوشش تھی یا پھر وہ اسرائیل کے سامنے ایک "سرخ لکیر” کھینچنا چاہتا تھا؟ تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے اقدامات عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔تجزیہ نگار کے مطابق، نیتن یاہو ایران کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ اپنی جوابی کارروائی کے لیے عالمی برادری سے حمایت حاصل کر سکیں۔ حالیہ واقعات، بشمول حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل، سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اس موقعے کی تلاش میں تھے۔ ان واقعات کے بعد اسرائیل کو وہ جواز مل گیا ہے جس کی اسے ضرورت تھی یعنی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا۔
    الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے اپنے مقصد کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروہوں کے نام پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ ایران کی حمایت یافتہ ہیں اور انہیں نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ تازہ ترین پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک اسرائیل اور ایران دونوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تنازعے کے ممکنہ اثرات سے خوفزدہ ہیں۔یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر سکتی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • حسن نصر اللّٰہ کی شہادت: اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر تدفینی مقام خفیہ رکھا گیا

    حسن نصر اللّٰہ کی شہادت: اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر تدفینی مقام خفیہ رکھا گیا

    لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے شہید رہنما حسن نصر اللّٰہ کی نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ حسن نصر اللّٰہ، جو 27 ستمبر کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، کی نماز جنازہ انتہائی مختصر رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ اسرائیلی حملے سے بچا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے لیے مختلف مقامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں عراق کے مقدس شہر نجف اشرف اور کربلا، یا ایران میں کوئی خاص مقام شامل ہے۔ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ ان کی تدفین کہاں کی جائے گی، لیکن حزب اللّٰہ کے قریبی رفقاء نے سیکیورٹی خدشات کے باعث مقام کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے اسرائیلی حملے سے بچا جا سکے۔
    حسن نصر اللّٰہ کے قریبی رفقاء نے اسرائیل کے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی نماز جنازہ کو مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی بدامنی سے بچا جا سکے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے مسلسل حملوں کے خدشات کے باعث اس موقع پر زیادہ ہجوم جمع کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، حزب اللّٰہ کے شہید رہنما حسن نصر اللّٰہ کے ساتھ شہادت پانے والے علی کرکی اور دیگر شہداء کی تدفین پہلے ہی ہو چکی ہے۔ تاہم، حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے معاملے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ حزب اللّٰہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے مقام کا اعلان عین وقت پر کیا جائے گا تاکہ اسرائیلی حملے کا خدشہ کم ہو سکے۔
    یہ بات یاد رہے کہ حسن نصر اللّٰہ 27 ستمبر کو اپنے ساتھیوں سمیت لبنانی دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد حزب اللّٰہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حزب اللّٰہ کے حامیوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ اس واقعے نے خطے میں موجود سیاسی اور فوجی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ حزب اللّٰہ کی جانب سے اس حملے کا جواب دینے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیل نے اپنی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ حزب اللّٰہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اس واقعے کا حساب اسرائیل سے لیا جائے گا۔
    حسن نصر اللّٰہ کی شہادت پر عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ خطے کے مختلف ممالک اور تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اسرائیل کے اس اقدام کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ایران اور عراق سمیت کئی ممالک نے حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کو مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کی قربانی کو سراہا ہے۔اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں حزب اللّٰہ اور اسرائیل کے درمیان مزید کشیدگی کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ حسن نصر اللّٰہ کی تدفین اور جنازے کے حوالے سے صورتحال پر بھی دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

  • امریکی صدر جو بائیڈن نے ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج کو اسرائیل کے دفاع کا حکم دے دیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج کو اسرائیل کے دفاع کا حکم دے دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد امریکی فوج کو اسرائیل کے دفاع کے لیے فوری طور پر متحرک ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر اور نائب صدر کملا ہیرس وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق صدر بائیڈن نے امریکی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف آنے والے میزائلوں کو مار گرائیں اور اسرائیل کا مکمل دفاع کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکا اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ہم خطے میں موجود اپنے اہلکاروں اور مفادات کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں گے۔”
    ایران کی جانب سے یہ حملہ اس وقت ہوا جب پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر 400 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے فوری طور پر جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور ہنگامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ امریکی صدر نے بھی قومی سلامتی ٹیم کی میٹنگ بلالی ہے تاکہ خطے کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کا بدلہ ہے۔ پاسداران انقلاب نے مزید دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی کی تو ایران ایک بار پھر اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
    اسرائیلی وزیردفاع نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران کو اس حملے پر پچھتانا پڑے گا، اور اسرائیل کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اس کارروائی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب امریکی میڈیا نے خبردار کیا تھا کہ ایران اگلے 12 گھنٹوں میں اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل میں موجود امریکی سفارتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بم شیلٹرز کے قریب رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا باعث بن رہی ہے، جہاں پہلے ہی مختلف ممالک کے درمیان تنازعات جاری ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر، یہ بحران عالمی سطح پر شدید سیاسی اور عسکری ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔

  • ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہاگاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حالیہ میزائل حملے میں کوئی اسرائیلی زخمی نہیں ہوا، لیکن اسرائیل نے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہاگاری نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے کیا گیا حملہ سنگین تھا، اور اسرائیل اس کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی میزائلوں نے وسطی اور جنوبی اسرائیل میں متعدد مقامات پر براہ راست ہدف بنایا، تاہم اسرائیلی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل کو ایران کی جانب سے اس طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ایرانی پاسداران انقلاب نے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کو ایک اور بڑی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے کوئی ردعمل دیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
    اسرائیلی فوج کے ترجمان، ڈینیئل ہگاری، نے ایرانی حملے کے بعد شہریوں کو شیلٹرز سے باہر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہگاری نے ٹیلی ویژن پر ایک اہم خطاب میں ایرانی حملے کی شدت کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ اسرائیلی فوج دفاعی اور جوابی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔منگل کی رات، ایران نے اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے درجنوں مختلف اسرائیلی علاقوں میں گرنے کی اطلاع ملی۔ خاص طور پر نگیو کے نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے قریب بھی کئی میزائل گرنے کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہوئے۔ یہ حملہ ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا فوجی اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ملی ہیں۔ہگاری نے اس موقع پر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کسی بھی قسم کی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور جوابی کارروائی کا وقت مناسب اور موثر انداز میں طے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، "جواب صحیح وقت پر دیا جائے گا، جس کا مقصد اسرائیل کے قومی مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔”
    اسرائیلی فوج کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کا نیوکلئیر پروگرام اب خطرے کے نشان پر ہے اور اس کی خاتمے کے آثار نمایاں ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے، جہاں ایران کے عسکری اقدامات کے خلاف دیگر ممالک کی بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔حملے کے دوران، اسرائیلی شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گاہوں میں پناہ لی۔ اسرائیل کی حکومت نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا، اور شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت ہدایت کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ اس تمام صورتحال کے درمیان، شہریوں میں خوف و ہراس اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے مزید حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر، بین الاقوامی برادری نے بھی ایران کے اقدامات کی مذمت کی ہے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسرائیل میں یہ ایرانی حملہ ایک نئی کشیدگی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

  • ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز

    ایران نے اسرائیل پر ایک بڑی میزائل حملہ کیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج نے کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب کو ہدف بنا کر 400 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس کے بعد پورے اسرائیل میں سائرن بجنے لگے ہیں۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال میں ایک نئی شدت کا باعث بن سکتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا نشانہ تل ابیب تھا، جہاں مختلف مقامات پر سائرن کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے فوری طور پر ایک جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس نازک صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ اسی دوران، امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ میٹنگ بلالی ہے تاکہ اس حملے کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گئیں کہ ایران آئندہ 12 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں، نیو یارک ٹائمز نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بم شیلٹر کے قریب رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
    اس حملے کے پس منظر میں، یہ بات اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت، عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورتحال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد قومی سلامتی کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کا بھرپور دفاع کرے گا، میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھی اپنی جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ایران کی طرف سے داغے جانے والے اردن کی فضا سے گزر کر اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں جب دوسری جانب لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پرراکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے اس حملے کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت کا بدلہ قرار دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس واقعے کے جواب میں شدید کارروائی کر رہا ہے۔
    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی حکومت اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ایران آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خدشات اس وقت بڑھ گئے تھے جب اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو ہدف بنایا تھا، جس کے بعد ایران کے سخت ردعمل کا امکان تھا۔
    اسرائیل کے دفاع کے لیے، رواں برس اپریل میں شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد، امریکہ اور مغربی اتحاد اس وقت سامنے آئے تھے جب ایران نے اسرائیل پر بیک وقت میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک نئی مثال ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورت حال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

  • ایران اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے: امریکہ کا دعویٰ

    ایران اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے: امریکہ کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف ایک بڑے بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ ایران اسرائیل کے خلاف فوری طور پر بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے پیش نظر اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ نے فعال تیاریاں شروع کر دی ہیں۔منگل کو جاری کردہ اس بیان میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل پر ایران کی طرف سے براہ راست فوجی حملہ ایران کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر کسی بھی حملے کے ردعمل میں امریکہ فوری طور پر اسرائیل کی مدد کو پہنچے گا، جیسے کہ اپریل میں جب ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرون اور میزائل حملے کیے تھے تو امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی پیشکش کی تھی۔امریکی نیوز چینل "سی این این” نے بھی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے اور ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ایران کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے آئندہ حملے کا دائرہ کار اور پیمانہ اپریل کے حملے سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ اپریل میں ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی ایک لہر چلا دی تھی، جس کے دوران امریکہ نے فوری مدد کی پیشکش کی تھی اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔

    اسرائیلی ردعمل اور صورتحال کی نگرانی
    ایران کے ممکنہ میزائل حملے کے حوالے سے امریکی انتباہات کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اسے ابھی تک ایران کی طرف سے کوئی فوری فضائی خطرہ نظر نہیں آیا۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہا کہ فی الحال ایران کی طرف سے کوئی ایسا خطرہ محسوس نہیں کیا گیا ہے جو اسرائیل کے لیے فوری خطرے کا باعث ہو۔ہگاری نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت ایران کی طرف سے کسی بھی ممکنہ خطرے کے حوالے سے آسمان کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور اسرائیل جارحانہ اور دفاعی دونوں محاذوں پر چوکس ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر کسی بھی قسم کے حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
    حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور پیر کو اعلان کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے، تاہم حزب اللہ نے اسرائیل کی اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق، اسرائیلی دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے، تاہم اسرائیلی ذرائع نے جنوبی لبنان میں ان کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔لبنان کے بعد، اسرائیل نے شام میں بھی کارروائی کی جس میں ایک خاتون صحافی سمیت تین شہری جاں بحق ہو گئے۔ یہ کارروائیاں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو ظاہر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی حمایت میں مزید سرگرم ہو۔
    اس صورت حال کے پیش نظر، امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے تمام واقعات کو بہت قریب سے ٹریک کر رہا ہے اور اسرائیل کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ نہ صرف اسرائیل کے دفاع کے لیے بلکہ خطے کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی متحرک ہے۔موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی مزید مضبوطی کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے خلاف ایران کی طرف سے کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب میں امریکہ کے شدید ردعمل کا امکان ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔خطے میں اسرائیل کے لبنان اور شام پر حالیہ حملوں اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ دفاعی حکمت عملی خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔

  • حزب اللہ کا اسرائیل پر پہلا بڑا حملہ: تل ابیب کے قریب فوجی انٹیلی جنس بیس نشانہ بنا

    حزب اللہ کا اسرائیل پر پہلا بڑا حملہ: تل ابیب کے قریب فوجی انٹیلی جنس بیس نشانہ بنا

    حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد، ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک اہم فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جس میں تل ابیب کے قریب واقع اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کا مقصد نصراللہ کے مقام و مرتبے کو برقرار رکھنا اور اسرائیل کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے "فوجی انٹیلی جنس یونٹ 8200 کے گلیلوٹ بیس” اور تل ابیب کے مضافات میں واقع "موساد کے ہیڈ کوارٹر” پر فادی 4 راکٹوں کا ایک سالوو لانچ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اس آپریشن کا نام "آپ کی خدمت میں نصراللہ” رکھا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ یہ حملہ ان کے سابق سربراہ کے نام سے منسوب ہے۔یہ حملہ حسن نصراللہ کی اگست کے آخر میں کی گئی اس دھمکی کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا گروپ اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس میں "گلیلوٹ اڈے اور اہم اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس بیس” کو نشانہ بنایا جائے گا۔ادھر، اسرائیلی فوج نے اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اس وقت تنصیب پر حملہ کرنے میں ناکام رہی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس عسکری گروپ کے آپریشن کی تفصیلات اور ان کی منصوبہ بندی میں کچھ ناکامیاں بھی موجود ہیں۔

    اس کارروائی کے بعد، اسرائیلی فضائیہ نے شام میں بھی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خاتون صحافی سمیت تین شہری جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایک نئی جنگ کا امکان موجود ہے۔حزب اللہ کے اس تازہ ترین حملے نے نہ صرف اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ لبنانی تنظیم اپنی قوت اور عزم میں کمیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس نئی صورت حال کو بغور دیکھ رہی ہیں، جبکہ اسرائیل کی حکومت اور فوجی حکام اس حملے کا مؤثر جواب دینے کے لیے متحرک ہیں۔اس واقعے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں متوقع ہیں۔ یہ حملہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں جاری سیاسی اور فوجی مسائل کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات عالمی امن و امان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس کارروائی کے نتیجے میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا یا اس سے بات چیت کی راہ ہموار ہوگی۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے کا اثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو اس خطے میں استحکام کی کوششیں کر رہے ہیں۔