Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی: سیکیورٹی چیلنجز اور تنازعات معیشت پر بھاری

    اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی: سیکیورٹی چیلنجز اور تنازعات معیشت پر بھاری

    اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (S&P) نے اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کو اے پلس سے کم کر کے اے کر دیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے فیوچر آؤٹ لک کو بھی تبدیل کر کے منفی کر دیا گیا ہے۔ اس کمی کا براہ راست تعلق اسرائیل کی حالیہ علاقائی سیکیورٹی مسائل اور حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع سے جوڑا جا رہا ہے، جو نہ صرف اسرائیل کی معیشت پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ اس کے مستقبل کے اقتصادی امکانات پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ایس اینڈ پی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کو نہ صرف حزب اللہ کے ساتھ تنازع کا سامنا ہے بلکہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور اس کے ساتھ اسرائیل کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں حماس اور حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی ہیں، جس کے دوران غزہ اور جنوبی لبنان میں مخالفین کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے بھاری اخراجات کیے گئے ہیں۔اسرائیل کو اس تنازع کے دوران نہ صرف اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑا ہے بلکہ داخلی طور پر بھی سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، جو پہلے ہی عالمی اقتصادی سست روی کے سبب متاثر ہو رہی تھی۔

    ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے خدشات نے اسرائیلی معیشت کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایس اینڈ پی کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی بڑے تنازع میں بدلتی ہے تو اسرائیل کی معیشت کو غیر معمولی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کاری کا رخ بدل سکتا ہے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جائیں گے اور ملک میں جاری منصوبے یا تو تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں یا پھر بند ہو سکتے ہیں۔حزب اللہ اور حماس کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ تنازع کے خطرے نے اسرائیل میں مہنگائی اور اشیاء کی قلت جیسے مسائل کو جنم دیا ہے۔ ملک میں کئی اشیاء کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور ان کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ بڑے پیمانے پر دفاعی اخراجات اور سیکیورٹی کی ضروریات کے باعث بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔ان حالات میں بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے کاروبار ان تنازعات کے باعث اپنا کام درست طریقے سے جاری نہیں رکھ پا رہے، جس کا اثر اسرائیلی عوام پر بھی پڑا ہے۔ خوف و ہراس کے سبب عمومی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو مجموعی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس اور ماہرین اسرائیل کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا نے اسرائیل کی حزب اللہ اور حماس کے ساتھ جاری کشیدگی اور ایران کو سبق سکھانے کی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آنے والے اخراجات پر بھی تجزیے پیش کیے ہیں۔ ان تجزیات میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا معاشی قیمت پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔ اسرائیلی معیشت کو گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس نے نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔اسرائیل کے مالیاتی ادارے اور معاشی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوتی اور داخلی معاملات میں بہتری نہیں آتی تو اسرائیل کی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کو نہ صرف موجودہ تنازعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کس طرح معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

    ایس اینڈ پی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے بعد اسرائیل کو اپنی اقتصادی پالیسیاں بہتر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو دفاعی اخراجات اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات میں توازن پیدا کرنا ہوگا تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اسرائیلی معیشت کی بحالی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو اور اندرونی سیاسی و معاشی استحکام حاصل کیا جائے۔اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی اور معیشت کے فیوچر آؤٹ لک کو منفی کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حالیہ تنازعات اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات اسرائیلی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ اسرائیل کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اندرونی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہوگا، تاکہ وہ مستقبل میں اقتصادی مشکلات سے بچ سکے۔

  • امریکا نے 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد  کر دیں

    امریکا نے 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے روس کو جنگی سازوسامان فراہم کرنے والی 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے دنیا بھر کی تقریباً 400 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنےکا اعلان کیا گیا ہے امریکی وزارت خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں روسی فوج کو جدید ٹیکنالوجی اور سامان فراہم کرنے پر عائد کی گئی ہیں، روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنگ لڑنے میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادی ایسے اقدامات کرتے رہیں گے۔

    بھارت، چین، سوئٹزر لینڈ، تھائی لینڈ اور ترکی کے کاروباری اداروں نے روس کی وار مشین کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل اشیا اور ٹیکنالوجیز فراہم کی ہیں ،امریکی محکمہ خزانہ نے روسی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام اور روس کی مستقبل کی انرجی پروڈکشن اور برآمدات سے متعلق اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    امریکا کے نائب وزیرِخزانہ ویلی ایڈییمو نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی دنیا بھر میں اُن ممالک اور اداروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو روس کو جنگ میں قدم جمانے کے لیے درکار ٹیکنالوجیز، ہتھیار اور مشینری فراہم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں 19 بھارتی کمپنیاں اور 2 بھارتی شخصیات آئی ہیں بھارتی کمپنیاں روس کو الیکٹرانک، کمپیوٹر اور ایوی ایشن سے متعلق آلات فراہم کر رہی تھیں۔

    امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نےکہا ہےکہ ان کمپنیوں نے بھارتی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ مسئلہ حل کیا جاسکے۔

    مغربی میڈیا کے مطابق چین، قازقستان، ترکی اور متحدہ عرب امارات دُہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز اور اشیا کی سپلائی کے حوالے سے اہم ممالک گردانے جارہے ہیں،ان ملکوں کی مدد سے روس اپنی جنگی استعداد کو برقرار رکھنے میں بہت حد تک کامیاب ہے۔ امریکا اور یورپ یوکرین جنگ کو ختم کرنے اور اُسے یورپ کے کسی ملک تک پھیلنے سے روکنے کے لیے دو سال سے کوشاں رہے ہیں۔ یورپ اس معاملے میں نیم دلانہ کوششیں کرتا رہا ہے جبکہ امریکا نے زیادہ جوش و خروش دکھایا ہے۔

  • بھارتی کمپنی نے بنگلہ دیش کی بجلی   کی رسد میں نمایاں کمی کردی

    بھارتی کمپنی نے بنگلہ دیش کی بجلی کی رسد میں نمایاں کمی کردی

    بھارتی کمپنی اڈانی گروپ کے ذیلی ادارے اڈانی پاور جھاڑ کھنڈ لمٹیڈ نے بنگلا دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی میں 50 فیصد کٹوتی کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : بنگلا دیش کے اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق اڈانی گروپ کے ذیلی ادارے اڈانی پاور جھاڑ کھنڈ لمٹیڈ نے بنگلا دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی میں 50 فیصد کٹوتی کردی ہے،اڈانی گروپ کی طرف سے بجلی کی رسد میں کمی کے بعد اب بنگلا دیش کو 1600 میگا واٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے گروپ نے اپنے 1496 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ادارے کا ایک یونٹ بند کردیا ہے،اڈانی گروپ نے بنگلا دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی میں جو کٹوتی کی ہے اُس کے بعد اب بنگلا دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی 700 میگا واٹ ہے۔

    اڈانی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بنگلا دیش کو بجلی کی رسد میں کمی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ واجبات زیادہ ہوچکے ہیں اور بنگلا دیش کی طرف سے ادائیگی میں اضافہ نہیں کیا جارہا ہے، بنگلا دیش کو اڈانی گروپ کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں-

    اڈانی پاور نے بنگلا دیش پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ کو 27 اکتوبر کو ایک خط بھیجا تھا جس میں واجبات ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ واجبات ادا نہ کیے جانے کی صورت میں 30 اکتوبر سے بجلی کی رسد گھٹادی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اڈانی پاور کی جانب سے بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں موجود کوئلے سے چلنے والے 1600 میگاواٹ کے پاور پلانٹ سے بنگلادیش کو بجلی فراہم کی جارہی ہے اس حوالے سے فوری طور پر بنگلادیشی حکام کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم بنگلادیش ان دنوں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شدید متاثر ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جھارکھنڈ کے اڈانی پاور پلانٹ کو واجب الادا رقم میں اضافے کے باعث کوئلے کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں جس سے کوئلے سے چلنے والے پلانٹ میں بجلی کی روزانہ کی پیداوار بھی 500 میگاواٹ کم ہوئی ہے۔

  • ایرانی حملے کی مذمت کیوں نہیں کی،اسرائیل نے   اقوام متحدہ کے سربراہ ملک میں کا داخلہ بند کر دیا

    ایرانی حملے کی مذمت کیوں نہیں کی،اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سربراہ ملک میں کا داخلہ بند کر دیا

    تل ابیب: اسرائیل نے ایرانی حملے کی مذمت نہ کرنے کا الزام عائد کرکے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کو ‘پرسونا نان گراٹا’ قرار دے دیا جبکہ انتونیو گوتریس کے ملک میں داخل ہونے پر بھی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ جو کوئی بھی اسرائیل پر ایران کے گھناؤنے حملے کی غیر واضح طور پر مذمت نہیں کر سکتا، وہ اسرائیلی سرزمین پر قدم رکھنے کا مستحق نہیں ہے۔

    وزیر خارجہ کاٹز نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو اسرائیل مخالف قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتونیو گوتریس دہشت گردوں، عصمت دری کرنے والوں اور قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں، انتونیو گوتریس نے حماس، حزب اللہ، حوثیوں اور اب ایران کے قاتلوں کی حمایت کی جو عالمی دہشت گردی کی ماں ہے، آنے والی نسلیں انتونیو گوتریس کے کردار کو اقوام متحدہ کی تاریخ پر ایک داغ کے طور پر یاد رکھے گی۔

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    یاد رہے کہ گزشتہ شب ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں تشدد میں اضافے کو روکنے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا،جبکہ اسرائیل ہمیشہ سے اقوام متحدہ کا سخت ناقد رہا ہے اور 7 اکتوبر کے حماس کے حملوں کے بعد سے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • پی آئی اے کا ترکیہ کیلئے فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل

    پی آئی اے کا ترکیہ کیلئے فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل

    کراچی: قومی ائیر لائن پی آئی اے نے ترکیہ کیلئے فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے ترکیہ کے لیے فلائٹ آپریشن معطل کیے جانے کے بعد 13اکتوبر تک پی آئی اے کی کوئی بھی پرواز ترکیہ کیلئے آپریٹ نہیں ہوگی، پی آئی اے اسلام آباد اور لاہور سے ہفتہ وار 4 پروازیں ترکیہ کیلئے آپریٹ کرتا ہے، استنبول ائیرپورٹ پرپی آئی اے نے انوینٹری اور سلاٹ کی مد میں عدم ادائیگی پر 28 اکتوبر سے آپریشن بند کیا ہے۔

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا کا احتجاج،چیف جسٹس کیخلاف شدید نعرے

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    بیروت: اسرائیل کی بری فوج حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے جنوبی لبنان کے اندر داخل ہوگئیں جہاں حزب اللہ جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے قصبے عودیسیہ میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا،حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو پسپا ہونے سے قبل جھڑپ میں شدید نقصان اُٹھانا پڑا ہے، مالی اور جانی نقصان پر اسرائیلی فوجی بھاگ کھڑے ہوئے۔

    لبنانی خبر ایجنسی المیادین کا کہنا ہےکہ بدھ کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 2 اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسرائیلی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے حزب اللہ کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم صیہونی میڈیا نے لبنان کے قصبے میں ایک سنگین سیکیورٹی واقعے کی اطلاع دی ہے جس میں شمال میں اسپتالوں کو الرٹ رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنانی قصبے میں فوجی ہیلی کاپٹرز زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں، ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے اپنی فوج کی ڈویژن 98 جوکہ 10 سے 20 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے اسے لبنان کی سرحد پر تعینات کر رکھا ہے اور اسرائیل نے لبنان میں زمینی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل بھی ایران پر میزائل حملے کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ چند روز میں اسرائیل حملہ کرے گا اور ایران کی تیل تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حسن اللہ کو شہید کر دیا تھا اور اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم نے حسن اللہ کو مار کر بہت سے اسرائیلیوں کے قتل کا بدلہ لے لیا۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • ایرانی میزائل  موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گرے

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گرے

    واشنگٹن:یران کی جانب سے گزشتہ روز کیے جانے والے میزائل حملوں میں سے کچھ میزائل اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گرے۔

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے ایرانی میزائل حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں کچھ میزائلوں کو تل ابیب میں واقع اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈکوارٹر سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گرتے دیکھا جاسکتا ہے،سی این این نے دعویٰ کیا کہ میزائل گرنے کی ویڈیو ایک اونچی عمارت سے بنائی گئی ہے جو موساد ہیڈکواٹر سے محض 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی تہران ٹائمز نے کل دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے میزائل حملوں میں اسرائیل کے ایف 35 جہازوں کے اڈے نیواٹم ائیر بیس کو نشانہ بنایا پاسداران انقلاب نے نیواٹم ائیر بیس سمیت دو اہداف پر ہائپر سونک فتح بیلسٹک میزائل داغے اور اپنے اہداف کو نقصان پہنچایا۔

    جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے

    ادھر تل ابیب سے رپورٹنگ کرتے ہوئے امریکی صحافی نے بھی انکشاف کیا کہ ایک میزائل اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر کے باہر گرا، پی بی ایس نیوز ہار کے نامہ نگار نک شیفرن پاکستان افغانستان سمیت کئی ممالک سے رپورٹنگ کر چکے ہیں۔

    منگل کی شب ایرانی حملے کے کچھ دیر بعد انہوں نے موساد کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے رپورٹ دی اور ایک گڑھا اپنے ناظرین کو دکھایا امریکی صحافی کا کہنا تھا کہ یہ گڑھا تقریبا 30 فٹ 11 اور 50 فٹ چوڑا ہے اور یہ میرے عقب میں دکھائی دینے والے موساد کے ہیڈ کوارٹر سے صرف 1500 میٹر کے فاصلے پر بنا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ روز اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل داغے جو اسرائیل کے متعدد شہروں میں جاکر گرے تھے۔

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

  • ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانے  کے قریب دھماکے،عملہ خوفزدہ

    ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکے،عملہ خوفزدہ

    کوپن ہیگن: ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکے، عملہ خوفزدہ ہوکر بنکر میں چھپ گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد ہی پولیس نے اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دو دھماکوں کی تحقیقات شروع کردی، اسرائیلی سفارتخانہ ڈنمارک کے شمالی مضافات میں واقع ہے مذکورہ واقعہ کے بعد دنیا بھر کے اسرائیلی سفارتخانوں کو محتاط ہونے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے ادھر کوپن ہیگن پولیس نے سوشل میڈی پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ دھماکوں میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ہے اور وقوعہ سے شواہد اکٹھے کررہے ہیں۔

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری سفارتخانے کے اطراف میں موجود ہے اور علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن بھی جاری ہے، دوسری جانب اسرائیلی سفارتخانہ نے معاملے پر فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ روز اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ پر حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل داغے جو اسرائیل کے متعدد شہروں میں جاکر گرے تھے،جس کے بعد سے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے-

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے

  • فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    ممبئی: پاکستان کی بلاک بسٹر فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستانی فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ آج 2 اکتوبر بدھ کے روز بھارتی ریاست پنجاب کے سینما گھروں میں ریلیز ہونی تھی لیکن ہندو انتہا پسند پارٹی نے فلم کی ریلیز روک دی،اس حوالے سے فلم کے ڈسٹری بیوٹر ندیم منڈی والا نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی ریلیز کے خلاف بھارتی عدالت میں درخواست دائر ہے جس کی وجہ سے بھارت میں فلم کی ریلیز روک دی گئی ہے۔

    ندیم منڈی والا نےکہا کہ بدقسمتی سےفلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی ریلیز ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی ہے اور جب تک عدالت اپنا فیصلہ نہیں دیتی، کوئی کچھ نہیں کر سکتا، جب بھی فلم کی بھارت میں ریلیز ممکن ہوگی تو یہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

    آرٹیکل 63 اے: نظرثانی اپیلوں پر تیسری سماعت آج ہو گی

    یاد رہے کہ اُڑی حملے کے بعد 2016 میں پاکستانی فنکاروں کو بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم …

  • ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ  ہوگا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم لیڈر

    تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا ،ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل پر جوابی حملے میں صرف ایک فیصد میزائل استعمال کیے،جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار جوبائیدن کو قراردیا،جبکہ مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل پر حملے کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اسرائیل کو وارننگ دی،آیت اللّٰہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کی مدد سے مزاحمت محاذ جو ضرب صیہونی ریاست کو لگائے گا وہ اس سے کہیں زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہوگی۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ عبرانی زبان میں کی ہے اور یہ پوسٹ ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل برسانے کے چند ہی لمحے بعد کی گئی۔

    اس سے قبل سپریم لیڈر کے ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے بنی میزائلوں کی تصویر پوسٹ کی گئی اور اس پر ’نصر من اللہ و فتح قریب‘ درج ہے،اس ٹوئٹ کو چند منٹ میں سیکڑوں بار ری ٹوئٹ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر ایران کے بڑے حملے کی تیاری کی اطلاع دئے جانے کے بعد ایران نے مبینہ طور پر اسرائیل پر 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے گئے جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے، میزائل حملوں کے بعد اسرائیلیوں نے بنکرز میں پناہ لی۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور شیرون میں راکٹ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی،اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے بتایاکہ میزائل حملوں کے دوران شیلٹرز میں جانے کیلئے بھگدڑ میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، اسرائیل کی فضائی حدود بند کردی گئیں اور ہوائی اڈوں پر موجود تمام مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے-

    تہران ٹائمز کے مطابق ایران نے میزائل حملوں میں اسرائیل کے ایف 35 جہازوں کے اڈے نیو اٹم ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے فاتح 2 ہائپر سونک میزائلوں سے اسرائیلی ریڈار میزائل ڈیفنس یرو 2 اور 3 کو تباہ کردیا ہے۔ اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے فاتح دوم کے نام سے ہائپرسونک میزائل استعمال کیے جو 16 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ ان میزائلوں کو ایران سے اسرائیل پہنچنے کے لیے صرف 3 منٹ لگےاپریل میں اسرائیل پر پہلے حملے کے وقت ایران سپر سونک میزائلوں کا استعمال کیا تھا لیکن اس مرتبہ ہائپرسونک میزائلوں کے استعمال کے سبب اسرائیل کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

    ادھر ایرانی میڈیا نے ایران کی پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ پہلی مرتبہ فاتح 2 ہائپر سونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا اور دشمن کے دفاعی نظام ریڈار میزائل ڈیفنس یرو 2 اور 3 کو تباہ کردیا۔

    پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کو اسماعیل ہنیہ اورحسن نصر اللہ کے قتل کا بدلہ قرار دے دیا۔

    ایرانی فوج کے مطابق میزائلوں سے اسرائیل کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو مزید حملے کئے جائیں گےایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بیان میں کہا حملے صیہونی حکومت کی جارحیت کا جواب تھا، یہ اقدامات ایرانی مفادات اور شہریوں کے دفاع میں کیے گئے، نیتن یاہو ایران کے مؤقف کو تسلیم کریں،ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حملہ حسن نصر اللہ اور اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا بدلہ ہے، اگر صیہونی ریاست نے ایران پر حملہ کیا تو تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔

    جس کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اب اسرائیل ان حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔

    ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد صدر جو بائیڈن سمیت دیگر امریکی عہدیداروں کی جانب سے ایران کو دھمکیاں دی جانے لگیں،امریکا نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے اور مکمل دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں، صدر بائیڈن نے امریکی فوج کو صہیونی ریاست کا دفاع کرنے کا حکم دے دیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ایران کا حملہ بظاہر ناکام رہا ہے، ایران کو حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گےاسرائیل کو امریکا کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے فعال کردار ادا کیا، آگے بھی اسرائیل کے دفاع میں مدد کے لیے تیار ہیں،ایران کے اسرائیل پرحملوں کےاثرات مرتب ہوں گے، ایرانی حملے پر اسرائیلی وزیراعظم سے بات کروں گا، امریکی نیشنل سکیورٹی ٹیم اسرائیلی حکام سے مستقل رابطے میں ہیں،امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، اجلاس میں ایران کے اسرائیل پر حملےکی صورت میں تیاریوں پر غور کیا گیا، اجلاس میں نائب صدر کاملا ہیرس بھی موجود تھیں۔

    اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ ناقابل قبول ہے، پوری دنیا کو ایران کے حملے کی مذمت کرنی چاہیئے ایران نے تقریباً 200 بیلسٹک میزائل فائر کیے، اسرائیلی نے موثر طریقے سے حملے کو ناکام بنایا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے خطے میں کشیدگی بڑھائی ہے، ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو بچانے کے لیے امریکی نیوی نے اسرائیل کی مدد کی ایران نے اسرائیل پر 200 میزائل فائر کیے، امریکی نیوی کے جہازوں نے اٹیک روکنے میں حصہ لیا، امریکا نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر دفاع کیا۔

    اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل
    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے، آج کا حملہ اسٹیٹ کی طرف سے اسٹیٹ پر حملہ ہے، اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

    واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے سے آگاہ ہیں، ایران نے اسرائیل پر تقریباً 200 میزائل فائر کیے، حملوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران کے میزائل حملوں کو روکنے کے لیے امریکا نے اسرائیل کی مدد کی، ایرانی حملے میں امریکی تنصیبات محفوظ ہیں۔

    میتھو ملر کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر حملے کا پہلے نہیں بتایا، ایران کا حملہ ریاست کی طرف سے ریاست پر حملہ ہے، ایران نے براہ راست حملہ کیا ہےاسرائیل پر ایرانی میزائل حملے دہشت گردی ہے، اسرائیل پر ایرانی حملہ قابل مذمت ہے، دنیا ایران کی مذمت میں ہمارا ساتھ دے، ہم ایرانی حملوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ایران کو حملے کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    امریکی محکہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں شراکت داروں سے رابطہ ہے، ایران دہشت گردوں کی جماعت ہے، ایران برسوں سے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے، ایران مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروپوں کو فنڈنگ بھی کر رہا ہے لبنان کچھ عرصہ سےعدم استحکام کا شکار ہے، ہمارے مفاد میں جو بہتر ہو گا، وہ کریں گے، ہوسکتا ہے امریکی صدرجنگ بندی کی نئی تجاویز دیں، حماس کے حملے پر کہا تھا کشیدگی پورے خطے میں بڑھے گی، حماس مذاکرات کی میز پر نہیں آرہا تھا، حماس کے مذاکرات پر راضی نہ ہونے سے سیز فائرنہیں ہو سکا۔

    سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکی صدر جوبائیدن کو قرار دے دیا۔

    اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن نے دنیا کو آگ میں دھکیل دیا ہے، دنیا آگ کی لپیٹ میں ہے اور یہ قابو سے باہر ہو رہی ہے،مشرق وسطیٰ کی جنگ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے، صدر منتخب ہوا تو خطے سے جنگ کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ میں امن بحال کراؤں گا،ہمارے پاس جوبائیڈن کی صورت میں ایک غیر ذمہ دار صدر ہے، اس وقت امریکا کے پاس کوئی قیادت نہیں، ملک بغیر قیادت کے چل رہا ہے۔

    جرمنی نے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھانے سے باز رہے۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے بھی ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،ایران کی خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش قابل مذمت ہے، ایران کو ایسے حملے اور حزب اللّٰہ جیسی پراکسیز کو بند کرنا چاہیئے۔

    اسرائیل کو ایرانی میزائل گرانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔

    دی گارڈین کے مطابق ایرو دوم اور سوم کی ایک میزائل کی قیمت 25 لاکھ ڈالر ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے 180 میزائل داغے اس اعتبار سے اسرائیل کو ایرانی میزائل گرانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنا پڑے، ایران کے پاس تقریبا تین ہزار ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہیں لیکن یہ تخمینہ امریکہ نے ڈھائی برس پہلے لگایا تھا اور ان کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران کو ایک ہائپرسونک میزائل صرف 80 ہزار ڈالر کا پڑتا ہےایران کی جانب سے ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کی نتیجے میں اسرائیل کو ایک اور مشکل یہ درپیش آئی کہ ان میزائلوں کو مار گرانا بھی آسان نہیں تھا۔ سینکڑوں میزائل فائر کیے جانے کی وجہ سے اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام بیٹھتا دکھائی دیا، ہائپرسونک بیلسٹک میزائل پہلے خلا میں جاتے ہیں اور وہاں سے ان کے وار ہیڈ نیچے گرتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ،سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی پر آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی مذمت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

    ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے تہران پر کوئی بھی میزائل فائر کیا تو اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں ان کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل محمد حسین باقری نے اسرائیل کے خلاف ایران کے جوابی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں اسرائیلی حکومت کے مسلسل جرائم اور تہران میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کا ردعمل تھا،گزشتہ دو ماہ ایرانی قوم اور مزاحمتی تنظیم کے لیے دو انتہائی مشکل مہینے تھے۔

    اسرائیل پر جوابی حملے میں صرف ایک فیصد میزائل استعمال کیےایرانی وزیر دفاع

    ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے کہا ہے کہ تہران نے اسرائیل پر جوابی حملے میں اپنی میزائل صلاحیت کا صرف ایک حصہ استعمال کیا ایران کے وزیر دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت نے تل ابیب کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف تہران کی حالیہ انتقامی کارروائیوں کا جواب دینے کا سوچا تو اسرائیلی حکومت کو ”بہت زیادہ سخت“ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ رات کا آپریشن ایران کی میزائل صلاحیت کا صرف ایک حصے کی نمائندگی کرتا ہے، ایک بڑا حصہ پوشیدہ ہے جو انتہائی جدید ٹیکنالوجی اور بہت زیادہ مضبوط تباہ کن میزائلوں پر مشتمل ہے۔