Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • میجر (ر) عادل راجہ  نے گرفتاری کی تردید کر دی

    میجر (ر) عادل راجہ نے گرفتاری کی تردید کر دی

    لندن : پاکستانی اداروں کیخلاف مہم چلانے کے الزامات پر کورٹ مارشل ہونے والے سابق فوجی افسر اور یوٹیوبر عادل راجہ نے لندن میں اپنی گرفتاری کی تردید کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے جنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے الزام پر میجر (ر) عادل راجہ کو لندن میں گرفتار کر لیا گیاسفارتی ذرائع کے مطابق عادل راجہ کو گزشتہ روز لندن پولیس نے انکوائری کیلئے بلایا تھا برطانوی حکام نے میجر (ر) عادل راجہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق عادل راجہ کو پاک فوج کیخلاف عوام میں نفرت پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا،عائد الزامات کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد شیئر کر رہے تھے۔
    https://x.com/soldierspeaks/status/1731935453090087367?s=20
    تاہم اس گرفتاری کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی تھی،آفیشل ایکس ہینڈل پرعادل راجہ نے گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ برطانوی پولیس کی جانب سے میری گرفتاری/پوچھ گچھ کی ’جعلی خبر‘ جو چند گھنٹے قبل پاکستانی میڈیا یعنی بلیک میلنگ کے کاروبار کی جانب سے شائع کی گئی تھی، پاکستانی خبر رساں اداروں کی ساکھ کو بے نقاب کرتی ہے۔
    https://x.com/MurtazaViews/status/1731932084837417450?s=20
    دوسری جانب جنگ اور دی نیوز کے لندن میں رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے ایکس ہینڈل پر میٹروپولیٹن پولیس کے حوالے سے بتایا تھا کہ عادل راجہ کو گرفتار نہیں کیا گیا،مرتضیٰ علی شاہ نے کہا کہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عادل راجہ کو لندن پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن وہ میٹروپولیٹن پولیس کے علاقے سے باہر لندن میں رہائش پزیر ہیں، رپورٹ کیے گئے جرائم پولیس کارروائی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ برطانوی سفارتی ذرائع عادل راجہ کی گرفتاری سے لاعلم ہیں۔

    واضح رہے کہ پاک فوج اور آرمی چیف کے خلاف بیان بازی پر میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے خلاف لندن پولیس نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں پولیس کی جانب سے ان کو جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ آپ نے یوٹیوب اور ٹویٹر پر برطانوی قوانین کی خلاف وزری کی ہے ، فوری طور پر پیش ہو کر اپنا موقف واضح کریں۔

    علاوہ ازیں رواں برس جون میں اسلام آباد کے علاقے جی الیون کے رہائشی محمد اسلم کی درخواست پر بیرون ملک مقیم چار افراد کے خلاف غداری اور بغاوت پر اکسانے کی دفعات کے تحت تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں صحافی شاہین صہبائی ، وجاہت ایس خان ، سیدحیدر رضامہدی اور عادل فاروق راجہ کو نامزد کیا گیا، مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیاکہ ان 4 افراد نے بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے اندر عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے اور حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ،مقدمے میں دہشتگردی اور غداری کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔

  • جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر غزہ میں عارضی جنگ بندی کے حوالے سے کی گئی یونیسیف کی ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوال کرنے والے لوگوں کے تمام شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے بتادوں کہ میں واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی حامی ہوں۔ برطانوی فلمساز نے لکھا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ میں نے یونیسیف کے لیے 20 سال سے زیادہ عرصے کام کیا ہے اور اس پورے عرصے کے دوران میں نے پوری دنیا میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مہم کی حمایت کی ہے۔اُنہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔یاد رہے کہ اکتوبر میں جمائما گولڈ اسمتھ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی تھیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ تھا اور ایک اسرائیلی بچہ تھا اور تصویر میں دونوں ہی بچے جنگ سے متاثرہ نظر آ رہے تھے۔


    س سے قبل جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایک پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ ہے اور ایک اسرائیلی بچہ ہے اور دونوں ہی جنگ سے متاثرہ ہیں۔اُنہوں نے یہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔
    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک 6150 بچوں اور 4 ہزار خواتین سمیت کم از کم 15ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

  • برطانیہ :پہلی بار خنزیروں میں پھیلے خطرناک وائرس کی انسانوں میں موجودگی کا انکشاف

    برطانیہ :پہلی بار خنزیروں میں پھیلے خطرناک وائرس کی انسانوں میں موجودگی کا انکشاف

    لندن: برطانیہ میں پہلی بار خنزیروں میں پھیلے خطرناک وائرس کی انسانوں میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے اطلاع دی ہے کہ برطانیہ میں فلو اسٹرین ”H1N2“ کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہوا ہے، جوکہ سوائن فلو کی ایک ذیلی قسم ہے،سوائن فلو کی یہ قسم خنریز میں زیادہ عام ہوتی ہے اور یہ پہلی بار ہے جب برطانیہ میں کسی انسان میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔

    برطانوی ایجنسی اس وائرس کی خصوصیات کا تعین کرنے اور اس سے انسانی صحت کو لاحق خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اس کیس کا پتہ ”UKHSA“ اور رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز (RCGP) کے ذریعے کی جانے والی معمول کی نیشنل فلو سرویلنس (نگرانی) کے دوران چلا۔

    جج ہمایوں دلاور اسلام آباد میں بطور اسپیشل جج سینٹرل ٹو تعینات

    سانس کی شکایت کے بعد جب ڈاکٹرز نے ٹیسٹ کیے تو مریض کو وائرس سے متاثرہ پایاایجنسی کے مطابق متاثرہ فرد کو ہلکی سی بیماری کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا ہے تاہم، وہ شخص انفیکشن کا شکار کیسے ہوا اس کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا اور تفتیش جاری ہے۔

    انفلوئنزا A(H1) وائرس دنیا کے بیشتر خطوں میں خنزیروں کی آبادی میں پایا جاتا ہے اور انہیں متاثر کرتا رہتا ہے جب ایک انفلوئنزا وائرس جو عام طور پر خنزیروں میں پھیلتا کرتا ہے کسی شخص میں پایا جاتا ہے تو اسے ’ویرینٹ انفلوئنزا وائرس‘ کہا جاتا ہے۔ H1N1, H1N2 اور H3N2 خنزیروں میں سوائن انفلوئنزا اے وائرس کی بڑی ذیلی قسمیں ہیں اور کبھی کبھار انسانوں کو عام طور پر خنزیر یا آلودہ ماحول سے براہ راست یا بالواسطہ رابطے کے بعد متاثر کرتی ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں دفتری اوقات پر عملدرآمد کےلئے نگرانی شروع کردی گئی

    2005 سے عالمی سطح پر انفلوئنزا A(H1N2)v کے کل 50 انسانی کیس رپورٹ ہوئے ہیں، ابتدائی معلومات کی بنیاد پر، برطانیہ میں پایا جانے والا انفیکشن ایک الگ کلیڈ (1b.1.1) ہے، جو دنیا میں انفلوئنزا A(H1N2) کے حالیہ انسانی کیسز سے مختلف ہے لیکن یہ برطانیہ کے سوائن وائرس سے ملتا جلتا ہے۔

    H1N1 وائرس کی وہ قسم ہے جو 2009 میں وبا کی طرح پھیلی تھی اور اس کے لیے ہی سوائن فلو کی اصطلاح استعمال ہونا شروع ہوئی تھی اب یہ وائرس انسانوں میں سرد موسم میں عام گردش کرتا ہے اور اسے سوائن فلو نہیں کہا جاتا۔

    امریکی کرنسی کی قدر میں اضافہ

  • سویلا بریور مین کے برطانوی وزیر اعظم پر الزامات کی بوچھاڑ

    سویلا بریور مین کے برطانوی وزیر اعظم پر الزامات کی بوچھاڑ

    سابق برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریور مین نے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد برطانوی وزیر اعظم پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی-

    باغی ٹی وی : سابق برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریور مین نےرشی سونک کو ناکام، نااہل اور دھوکے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے کشتیوں کے ذریعے آنے والوں کو روکنے کا وعدہ کیا لیکن وعدہ پورا کرنے کے بجائے ان کے ساتھ دھوکا کیا رشی سونک اپنے وعدے پورے کرنے کے اہل ہی نہیں یا ان کا ارادہ ہی نہیں تھا، ضمنی انتخابات میں ہمیں مسلسل شکست ہو رہی ہے، منصوبے ناکام ہو رہے ہیں اور رشی سونک معاملات کو منظم کرنے میں ناکام رہے، اب زیادہ وقت نہیں ، ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    سویلا برویور مین کا کہناتھا کہ رشی سونک سڑکوں پر بڑھتی انتہا پسندی اور یہودیوں کی مخالفت کو چیلنج کرنے میں بھی ناکام رہے، میں ہَیٹ مارچوں پر پابندی لگانے، تعصب کی بڑھتی لہر کو روکنے کیلئے قانون سازی کرنے پر زور دیتی رہی،ایک برس غیرقانونی مائیگریشن ایکٹ بنانے پر ضائع کیا، مائیگریشن ایکٹ کا مقصد غیر قانونی تارکین کی آمد کو روکنا تھا، اب معاملہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں سے شروع کیا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم نے خاتون وزیر داخلہ کو عہدے سے ہٹا دیا

    واضح رہے کہ برطانوی وزیر داخلہ کو رشی سونک نے برطرف کیا تھا سویلا کو ملک میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تنقید کا سامنا تھا، وزیراعظم رشی سونک نے سویلا کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا کہا جسے انہوں نے قبول کرلیا۔

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

  • برطانوی وزیراعظم نے خاتون وزیر داخلہ کو عہدے سے ہٹا دیا

    برطانوی وزیراعظم نے خاتون وزیر داخلہ کو عہدے سے ہٹا دیا

    سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون وزیر خارجہ تعینات

    برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کابینہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے سویلا بریورمین کی جگہ جیمز کلیوری کو وزیر داخلہ جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو وزیر خارجہ تعینات کر دیا ہے

    دفتر برطانوی وزیراعظم 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جیمز کلیوری کو وزیر داخلہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے،ڈیوڈ کیمرون کو سیکرٹری آف اسٹیٹ تعینات کرنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے وزیر داخلہ کو برطرف کردیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے خاتون وزیر داخلہ سویلا بریورمین کوبرطرف کر دیا ہے،انہوں نے اپنی کابینہ میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں،برطانوی وزیر داخلہ کو برطانیہ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کی حکمت عملی میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا،برطانوی وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو عہدہ چھوڑنے کا کہا جس پر خاتون وزیر داخلہ نے عہدہ چھوڑ دیا

    واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے فلسطین کی حمایت میں نکالی گئی ریلیوں میں میں تشدد کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فوری قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے پرتشدد واقعات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے آخر میں ملک میں یہودی برادری میں خوف کی جو فضا دیکھی گئی وہ قابل مذمت ہے۔میں نے پولیس کمشنر کو بتایا کہ وہ اس کے لیے جوابدہ ہیں اور مجھے بھی یہی امید ہے میں پولیس کمشنر سے دوبارہ ملاقات کروں گا۔

    اس سے قبل بھی سنک نے برطانیہ میں فلسطین کے حامی مظاہروں کے بعد یہود دشمنی کی مذمت کی تھی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں ہم نے اپنی سڑکوں پر نفرت دیکھی جہاد کی دعوتیں نہ صرف یہودی برادری کے لیے بلکہ ہماری جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں،ہم اپنے ملک میں یہود دشمنی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ پولیس انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری کارروائی کرے گی

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • برطانیہ:  احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر  غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    لندن: غزہ کے اسپتالوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کیلئے ہونے والے احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں ہسپتالوں کے اطراف لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے 36 روز مکمل ہوگئے ہیں اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیراؤ کرلیا ہے، الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں، ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں،تاہم اب صیہونی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، یہ صورت حال زخمیوں کو بچانے میں ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے، الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی ٹینک الشفاکمپلیکس کے ارد گرد کے علاقے کے شمالی حصے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہیں ہسپتال کے ارد گرد حملے کئے جارہے ہیں، انڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بھی صہیونی فوج موجود ہے۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    فلسطینی خاتون وزیر صحت ’’می الکیلہ‘‘ کے مطابق الشفا ہسپتال میں ایندھن کی کمی اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث کم از کم 39 شیر خوار بچوں کی موت کا خطرہ ہے، انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود 39 نوزائیدہ بچے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں، ایک نومولود ہفتہ کی صبح جاں بحق بھی ہوگیا۔

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد آج آپریشن روک دیا گیا۔

    دوسری جانب ہسپتالوں پر بمباری روکنے کیلئے برطانیہ کے ڈاکٹرز بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بمباری رکوانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    https://x.com/IrnaEnglish/status/1723396453853192559?s=20
    احتجاج میں موجود ایک خاتون ڈاکٹر نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کا میسج پڑھ کر سنانا چاہا لیکن دل خراش میسج پڑھ کر وہ سب کے سامنے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اسرائیلی بربریت پر ان کی آنکھیں بھر آئیں،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، خاتون ڈاکٹر سمیت احتجاج میں موجود دیگر ڈاکٹرز کو بھی روتے دیکھا جا سکتا ہے،احتجاج میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز کی جانب سے بھرپور نعرے لگائے گئے-

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمت کرکے خاتون ڈاکٹر نے پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ہم میڈیکل اسٹاف زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں رہ سکتے اور ہو سکتا ہے صبح تک ہم سب مارے جائیں، ہم یہاں قتل نہیں ہونا چاہتے ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی آپ لوگ ہمارے لیے کچھ کریں، جو ہوسکتا ہے اپنی حکومت سے بات کریں، عالمی اداروں سے کہیں کہ مدد کیلئے سامنے آئیں۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

  • اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

    اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

    برطانیہ: اسپیس ایکس اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے دنیا کی پہلی اے آئی سیفٹی کانفرنس کے دوران انتباہ جاری کیا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایلون مسک کے مطابق ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انسانوں کا سامنا خود سے زیادہ ذہین حریف سے ہوگا،میرے خیال میں اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کو لاحق چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر مخلوقات سے زیادہ طاقتور یا تیزرفتار نہیں، مگر ہم ان سے زیادہ ذہین ہیں، تاہم اب انسانی تاریخ میں پہلی بار ہمیں خود سے زیادہ ذہین چیز کا سامنا ہے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ہم اس پر کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں تاہم میرے خیال میں ہمیں اس کی راہ کا تعین کرنا چاہیے جو انسانیت کے لیے مفید ہوگا میرا خیال ہے کہ یہ انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے اور اگر ہم اے آئی ٹیکنالوجی کی پیشرفت دیکھیں تو یہ ممکنہ طور پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    یکم نومبر کو برطانیہ میں شروع ہونے والی 2 روزہ کانفرنس میں امریکا، چین، بھارت، فرانس، جرمنی اور بھارت سمیت 28 ممالک کے حکومتی وفود شریک ہیں،ان سب ممالک نے کانفرنس کے پہلے دن ایک اعلامیے پر بھی دستخط کیے جس میں اے آئی ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے ایک ممکنہ بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

    موبائل قسطوں پر دیئے جائیں گے یا نہیں،وزارت آئی ٹی کا وضاحتی بیان جاری

  • برطانیہ میں کمسن لڑکیوں کی جنسی زیادتی کے الزام میں  5 ملزمان کو 70 برس قید کی سزا

    برطانیہ میں کمسن لڑکیوں کی جنسی زیادتی کے الزام میں 5 ملزمان کو 70 برس قید کی سزا

    روچڈیل سے تعلق رکھنے والے پانچ مردوں کو 2004 اور 2006 کے درمیان دو لڑکیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ بدسلوکی کا مجرم پائے جانے کے بعد آٹھ سے 20 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : دی گارڈین کے مطابق گینگ لیڈر شاہد غنی کو 20 سال اور محمد غنی کو 14 سال قیدکی سزا سنائی گئی ہے جب کہ انصار، علی اور مارٹن راڈ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہیں،گینگ کے افراد پر 12 اور 13 سال کی لڑکیوں کو نشہ آور مشروبات پلا کر جنسی استحصال کا الزام ثابت ہوا تھا یہ 2012 کے بعد اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جو منطقی انجام کوپہنچا ہے۔
    crime
    سب سے طویل سزا سب سے معمر مدعا علیہ جان شاہد غنی کو سنائی گئی جو 50 سالہ کیئر ورکر تھے وہ کم از کم 30 سال کا تھا جب وہ لڑکیوں سے فائدہ اٹھاتا تھا جب وہ 14 یا 15 سال کی تھیں جب وہ یونیفارم میں ہوتیں تو وہ انہیں اسکول سے لے جاتا اور ان کا استحصال کرنے سے پہلے انہیں شراب اور منشیات پلاتا تھا۔

    فضائی آلودگی سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    اس نے ان میں سے ایک لڑکی اے کو جب وہ 14 سال کی تھی تو گروپ سیکس کرنے پر مجبور کیا ایک بار کام کے مرد ساتھی کے ساتھ اور اپنی بالغ گرل فرینڈ کے ساتھ بھی، مانچسٹر میں منشول اسٹریٹ کراؤن کورٹ نے سماعت کی۔

    لڑکی اےنے کہا کہ اس نے سوچا تھا کہ وہ غنی کے ساتھ "محبت میں” ہے، اور وہ "اس کے بہترین دوستوں میں سے ایک” ہے۔ اس نے بدلے میں جیوری کو بتایا کہ اسے یقین ہے کہ وہ اور اس کی دوست، دوسری شکایت کنندہ، لڑکی بی، 16 سال کی ہیں۔ وہ الگ الگ متفقہ "فائدے کے ساتھ دوست” تھے اس کے ساتھ جنسی تعلقات تھے-

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

  • امریکی صدر کے بعد برطانوی وزیراعظم اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر کے بعد برطانوی وزیراعظم اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر کے بعد برطانوی وزیراعظم اسرائیل پہنچ گئے

    حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، ہزاروں لوگوں کی موت، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ، دنیا بھر کی جانب سےاسرائیل کے حملے کی مذمت جاری ہے، ایسے میں امریکی صدر نے اسرائیل کا دورہ کیا تو اب برطانوی وزیراعظم رشی سنک بھی اسرائیل پہنچ گئے جہاں انکی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات ہوئی ہے

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس مصر میں موجود ہیں، جب کہ جرمنی کے اعلیٰ سفارت کار ہفتے کے آخر سے قبل اردن، اسرائیل اور لبنان کا دورہ کریں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے مصری ہم منصب سے بات کرنے کے بعد کہا کہ انسانی امداد کے 20 ٹرک مصر کے راستے غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ روز حماس کے سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ،اسرائیلی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں مزید مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں سرنگوں کی شافٹ، ٹینک شکن میزائل لانچ کرنے کے مقامات اور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ حماس کے متعدد کارندوں کو نشانہ بنایا گیا اور 10 سے زیادہ افراد کو ایک "فضائی فضائی حملے” میں ہلاک کیا گیا۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق رفعت حرب حسین ابو ہلال بھی مارے گئے۔

    برطانوی وزیر اعظم کا اسرائیل کے دورے سے قبل کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں کئی بے گناہ لوگ مارے گئے، ہر شخص کی موت کسی سانحے سے کم نہیں، دنیا بھر کے لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے اور اس خطرناک صورتحال سے نکلنے کے لیے سوچنا چاہیے،وہ برطانوی شہریوں کو بحفاظت اسرائیل سے نکالنے کے لیے بھی بات کریں گے

    حماس کے حملوں میں سات برطانوی شہریوں کی موت ہوئی ہے،جبکہ نو افراد لاپتہ ہیں، برطانوی سیکرٹری خارجہ بھی آنیوالے دنوں میں مصر، ترکی اور قطر کا دورہ کریں گے

    دوسری جانب ہسپتال پر اسرائیلی بمباری کے بعد فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لئے ہزاروں افراد نے برطانوی وزیراعظم کے گھر کے باہر احتجاج کیا،شدید بارش کے دوران مظاہرین اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے، مظاہرین نے ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر نماز مغرب بھی ادا کی،10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرف جانے والے دروازوں کے باہر مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطین کی آزادی کے نعرے درج تھے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    لندن: برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی –

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کی سڑکوں پر فلسطین کے جھنڈے کو لہرانا جرم کے زمرے میں شامل کر لیا گیا اور برطانوی وزیر داخلہ نے فلسطینی پرچم لہرانے کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دے دیا،برطانوی وزارت داخلہ نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے پیش نظر مختلف اقدامات کر لیے اور پولیس کو اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو زبردستی روکنے کا حکم دے دیا گیا اس حوالے سے برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے پولیس چیف کو خط لکھ دیا۔

    گزشتہ روز شیفلڈ ٹاؤن ہال کی عمارت پر اسرائیلی جھنڈا اتار کر فلسطینی جھنڈا لہرانے کا برطانوی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور پولیس نے اسرائیلی پرچم اتارنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے کہا کہ حماس کے حق میں نعرے لگانے والوں پر پابندی پر غور کر رہے ہیں جب کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعروں کو بھی جرم تصور کرنے کی تجویز ہے۔

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    کینیڈین حکومت نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ سفارتی صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کر …

    حیدرآباد،دکن:بابر اعظم نے گراؤنڈ سٹاف کو اپنی شرٹ تحفے میں دیدی

    واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے 2021 میں حماس کو دہشت گرد گروپ تسلیم کر کے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم اب فلسطینی پرچم لہرانے کو بھی حماس کی حمایت کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔