Baaghi TV

Category: اسلام

  • اسلام میں عورت کے احکام  تحریر: منصور احمد قریشی

    اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی

    الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)

    عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔

    الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
    “ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)

    چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔

    کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔

    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

    جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )

    اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
    “عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )

    عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔

    نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )

    خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔

    ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
    “ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )

    اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔

    جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
    “ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    Twitter Handle : @MansurQr

  • تمباکو  نوشی کی وجوہات  ونقصانات   تحریر   سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@

  • خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں   تحریر: سیدہ بنت زینب

    خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    کیا آپ ایک منٹ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے سوچ سکتے ہیں کہ جب آپ اس صورتحال میں ہوں کہ آپ کو کسی ایسی چیز کا انتظار کرنا پڑے جو واقعی، واقعی آپ کے لئے اہم ہے؟ اس واحد چیز کا انتظار کرنا جو آپ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہو. ایک لمحے کے لیے سوچیں آپ یا آپ کے پیارے ایمرجنسی روم میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سرجری میں بہت خون بہہ رہا ہے اور آپکو فوراً خون کی ضرورت ہے لیکن خون کی فراہمی کافی نہیں ہے اور آپ کو خون کہیں سے نا مل رہا ہو….!
    ایسی صورتحال سے گزرنا تو دور کی بات ہم ایسا سوچنا میں نہیں چاہیں گے لیکن یہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ نے پہلے ہی اس صورتحال کا تجربہ کر لیا ہو.
    بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر لوگ خون عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کافی اموات ہوتی ہیں مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا معصوم بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ بوقت خون کا عطیہ نا ملنے کی صورت میں اپنی زندگی کی بازی ہارتے جا رہے ہیں. شاید اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں لوگ اس مسلئے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
    جب ہم اپنے ننھے بیٹوں اور بیٹیوں کے رخسار کا لمس محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب نہ جانے تھیلیسیمیا سینٹرز میں کتنی بے درد سوئیاں بچوں کی کلائیوں میں پیوست کی جا رہی ہوتی ہیں. کتنے ننھے پھول بہار سے پہلے ہی خزاں کی نذر ہو جاتے ہیں.
    اپنے بچپنے کو پیشِ نظر رکھ کے تصور کیجیے تھیلیسیمیا کا شکار ان لاکھوں بچوں کا کہ سانسوں کی ڈور سلامت رکھنے کے لیے جو ہر پندرہ دن بعد خون کے عطیات کی بھیک مانگتے ہیں.
    خون کا یہ عطیہ انکی معصوم آنکھوں کے بجھتے ہوئے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے. ان کو دیگر صحتمند ہم عمروں کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی توانائی فراہم کرتا ہے.
    ٹیم سرعام پاکستان سید اقرار الحسن کی سربراہی میں ان معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تین سال سے اپنی جدوجہد (میرا خون بھی حاضر پاکستان) کا آغاز کیے ہوئے ہے. تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کےچہروں پر زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے الحمدللہ ٹیم سرعام پاکستان کے جانباز پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں. ایمرجنسی میں خون کا عطیہ دے کر قیمتی جان بچانی ہو یاں تھیلیسیمیا سے لڑتے ننھے پھولوں کو مرجھانے سے بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز ہر جگہ اپنے خون کا عطیہ کرنے کے لیے صف اول میں ملتے ہیں. مجھے بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیم سرعام نے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بلڈ کیمپس کا انعقاد کیا تھا کہ کہیں بھی خون کی کمی کی وجہ سے کوئی زندگی نا مرجھائے.
    اقرار بھائی نے ہم جانبازوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ "خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا خون کسی زندگی کا وسیلہ بن جائے. ‏خون عطیہ کرنا وہ نیکی ہے، جس میں ہم کسی کی جان بچانے کے کام آتے ہیں.” ہماری ٹیم کا ہر جانباز انتہائی شوق اور جذبہ جنون کے ساتھ اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے.
    خون کا کوئی نعم البدل نہیں. ہر خون کا عطیہ دینے والا تین معصوم زندگیاں بچاتا ہے. تو آئیں آج ہی یہ عہد کریں انشاء اللہ ہم سب خون کا عطیہ ضرور دیں گے. آپکے خون عطیہ کرنے سے کسی معصوم بچے کے چہرے پر جینے کی جو امید ملے گی، یقین کیجئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت احساس نہیں ہو سکتا. یہ عہد کر لیں کہ
    "‏خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”

    @BinteZainab33

  • ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    السلام علیکم
    آج قائد جمعیت کی ایک پرانی تقریر حکمرانوں کی منافقت کے بارے میں سنی تو سوچا اس موضوع پر کچھ لکھ لوں
    امید ہے آپ دوستوں کو یہ پوسٹ اچھا لگے گا

    دوستوں آپ کو معلوم ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے افسوس کا اظھار کیا تھا
    اور فرمایا تھا میں چاہتا ہوں کہ مدارس سے بھی ڈاکٹر اور انجنیئر نکلیں
    انھوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے بھت دکھ ہوتا ہے کہ مدارس کے طلباء ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے؟؟؟
    تو میں کہنا چاہتا ہوں خان صاحب مدارس کو چھوڑو اور جو ادارے آپ کے ماتحت ہیں ان سے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا کرو
    خان صاحب آپ کے ماتحت چلنے والے اسکول کالجز اور یونیورسٹیز میں کونسے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کو بھی بیان کیا کریں
    ان بیچاروں کے لئے بھی دکھ کا اظھار کریں جو ڈاکٹر اور انجنیئر بننے کے لئے اپنے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بنتے
    اور جو بات ہے مدارس کے طلباء کی وہ الحمد للہ عالم اور حافظ بننے کے ارادے سے آتے ہیں عالم اور حافظ ہی بنتے ہیں
    ان کا خاص جو کام ہے بقول آپ لوگوں کے مردے نہلانا الحمد للہ انھوں نے اس میں بھی اتنی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ مدرسے کا ناکارہ ترین طالبعلم بھی مردے کو نہلا لیتا ہے
    اور عوام کو کوئی بھی مسئلا درپیش ہو وہ ان کے اس مسئلے کو شرعی طریقے سے بھترین طریقے سے بیان کرتے ہیں
    اور جب حافظ قرآن کی ضرورت ہو رمضان میں ہر مسجد میں قرآن سنانے والے مدارس کے ہی حفاظ ہوتے ہیں
    ہر مسجد کا امام و خطیب مدرسے کا فارغ ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ نا ممکن بات ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس مدرسے یا وفاق المدارس کا جعلی سند ہو
    اور جو اسکول کالج یونیورسٹیز کی بات ہے جو ہمیشہ حکمرانوں کے ماتحت رہے ہیں
    ان میں آپ نے آج تک کیا کیا ہے ذرا میں اس کی وضاحت کردوں
    ہمارے ملک میں جب کوئی منصوبہ بنانا ہو مثلا روڈ بن رہے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں وہاں کام کرنے والا اور اس کام کا ٹھیکہ لینے والے چین کے انجنیئرز ہیں اب یہاں پوچھنے کی بات یہ ہیکہ ہمارے انجنیئرز کہاں ہیں
    جو ہمیں چین کے انجنیئرز کی ضرورت پڑی
    اور جب خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے ہم اس کی تحقیقات کے لئے فرانس سے تحقیقاتی ٹیم بلاتے ہیں ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پڑہے لکھے کہاں گئے
    اور تو اور کچھ دن پہلے ایک خبر چلی یورپ نے پاکستانی جہازوں کی پرواز پر پابندی لگائی اس وجہ سے کہ ہمارے پائلیٹز کی ڈگریاں جعلی تھیں آپ کے سیاستدانوں کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں آپ کے اسکولوں میں پڑہانے والے ماسٹرز کو پڑہنا نہیں آتا میں آپ کو آپ کے اپنے ہی اداروں کی کتنی خامیاں بیان کروں جناب
    بس ہم آپ کو اتنا کہنا چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کر کے مدارس کے طلباء اور عام عوام کے ذھن میں مدارس کے بارے میں تشویش میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ اس ملک میں کس مقصد سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں
    الحمد للہ ہمارے اکابرین نے آپ جیسوں کی چالوں سے بچنے کے لئے ہماری خوب اصلاح کی ہے
    اور آپ وہی کام کریں جو آپ کے ماتحت ہیں آپ ہماری فکر نہ کریں کہ ہم کیوں ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے اور خدا کے واسطے ہماری اصلاح کرنے کی بھی کوشش نہ کریں
    انشاءاللہ جب میں عالم بن گیا میں خود آپ کی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا
    اور جیسا کہ قائد جمعیت نے فرمایا تھا مدارس بنتے ہی آپ جیسوں کی اصلاح کرنے کے لئے ہیں
    تو انشاءاللہ ہمارے مدارس آپ کو یہ ثابت بھی کر کے دکھائیں گے
    اور الحمد للہ ہمیشہ ثابت بھی کیا ہے
    #دینی_مدارس_زندہ_باد
    #پاکستان_پائندہ_باد
    آپ کی دعائوں کا طلبگار

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • صبر کامیابی کی کلید ہے  تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صبر کامیابی کی کلید ہے تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    آپ نے غالبا یہ کہاوت سنی ہے کہ "صبر کامیابی کی کلید ہے”جو معاشرتی ، مذہبی ، نسلی ، صنف یا کسی دوسرے عوامل سے غیر متعلق ہے جو لوگوں کو ممتاز کرتا ہے۔

    کیمبرج لغت کے مطابق ، صبر کی تعریف انتظار کرنے کی صلاحیت ، یا مشکلات کے باوجود کچھ کرنا جاری رکھنے ، یا شکایت کیے بغیر یا ناراض ہونے کے بغیر تکلیف برداشت کرنے” کے طور پر کی گئی ہے جہاں کسی بھی شخص کو ان جذبات کا سامنا کرنا پڑتا۔.
     
    لیکن ہائی اسکول میں اساتذہ نے زور دیا کہ صبر کرنا آپ کا وقت لے رہا ہے۔, مثال کے طور پر, امتحان کے دوران طے شدہ پورے وقت کا استعمال کریں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں کے بہترین جواب میں یا ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے وقت تمام سوالات کا پوری طرح سے جواب دے سکیں۔, اپنا وقت لگائیں تاکہ اس سے کسی قسم کی خلل یا حادثات نہ ہوں۔.
     
    لہذا ، ایک بار بار چلنے والا تھیم تھا جس کا تجربہ میں نے ہائی اسکول میں صبر کے ساتھ کیا تھا جس میں آپ کے عمل کرنے سے پہلے سوچنے میں وقت لگتا تھا۔. اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت کے ساتھ خود کو اس لمحے سے نکال دو اور میرے عمل کو دیکھیں چاہے وہ جائز ہوں یا نہیں۔. اس نے مجھے اپنے غصے کو ایک حد تک قابو کرنے کی اجازت دی لیکن صبر کی تعلیم کے بارے میں یہ صرف برفانی چوٹی تھی۔.شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔.

     صبر اور اس کے فوائد کے بارے میں بے شمار تحقیقی اور علمی مضامین موجود ہیں جو اس شخص کی ذہنی اور جسمانی حالت پر پڑتا ہے جو کم سے کم اس وقت ہائی اسکول میں مناسب طریقے سے نہیں پڑھایا جاتا جب میں نے زیادہ عرصہ پہلے شرکت نہیں کی تھی۔. شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔. 

    جب مجھے بچپن میں ہی کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، یا تو کسی کھیل میں یا حقیقی زندگی کی صورتحال میں ، میں عام طور پر حل کا آسان ترین راستہ تلاش کرتا تھا لیکن اگر میں ایسا نہیں کرسکتا تو میں ہار مان لوں گا۔. تاہم ، میرا رویہ برسوں کے دوران تبدیل ہوتا ہے ، ہار ماننے کے بجائے ، میں کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا سکون زون چھوڑنا ہے مثال کے طور پر جب کلاس کے سامنے ریاضی کی مساوات کرنے پر مجبور کیا گیا کہ مجھے پہلے ہی غلط ہو گیا ، میں نے برقرار رکھا کوشش کرنے پر.
     
    تاہم ، صبر کرنے اور اپنا وقت ضائع کرنے میں فرق ہے۔. اس کی طرف کام کرنے کے بجائے کسی موقع کا انتظار کرنا تاخیر ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے جو بہت سے لوگوں کو خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں شامل ہے کیونکہ انہیں آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنا وقت استعمال کریں۔. لہذا ، اسائنمنٹ کو مکمل کرنے کے بجائے یا۔
     
    لوگوں کے ساتھ صبر کرنا اب تک ایک سب سے مشکل کام ہے کیونکہ نہ صرف آپ ان میں قیمتی وقت خرچ کر رہے ہیں بلکہ حتمی نتیجہ آپ کو مایوس کرسکتا ہے۔. دوسری طرف ، ان کے ساتھ صبر کرنے سے دیرپا صحت مند تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو زہریلے تعلقات میں صبر کرنا چاہئے۔.
     
    بےصبرا ہونے کا سب سے مشکل پہلو اپنے آپ سے ہے۔. کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے آپ سے صبر کرنا کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، آپ کو کامیابی کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔.

    تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‎@HamxaSiddiqi

  • شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    ہر انسان اپنا موازنہ اپنے اردگرد لوگوں سے کرتا ہے تاکہ وہ جان سکے کہ اس میں کون سی خوبیاں اور کونسی خامیاں ہیں ،اسے کن چیزوں کو مزید بہتر کرنا ہے اور کن چیزوں میں وہ اچھا ہے لیکن اکثر اوقات جب انسان یہ کرتا ہے تو وہ بہت زیادہ گہرائی میں جا کر موازنہ کرتا ہے حسد اور جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ ناخوش رہنے لگ جاتا ہے اسلئے انسان کو چاہیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پہ کام ضرور کرے- اپنی چیزوں صلاحیتوں یا نعمتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا بنتا ہی نہیں کیونکہ ایسا کرنے والا انسان بہت زیادہ پریشان اور غم زدہ رہتا ہے
    اکثر لوگ اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چیز یا نعمت کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں جو کہ انکے پاس موجود ہوتی ہے ایسے وہ خواہ مخواہ اپنے پریشانی خرید لیتے ہیں

    جیسے کسی کے پاس موبائل فون ہے اور کسی دوسرے انسان نے اسکے سال بعد لیا لیکن کمپنی تھوڑی سی اچھی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس نے کتنے عرصے بعد لیا وہ صرف یہ موازنہ کرکے دکھی ہوگا کہ اسکے پاس میرے سے زیادہ اچھی کمپنی کا فون ہے- کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے انکے پاس جو کار ہے اسکا موازنہ دوسرے کی کار سے ،اپنے
    بیگ کا موازنہ دوسرے کے بیگ سے،اپنی گھڑی کا موازنہ دوسرے کی گھڑی سے اور یہاں تک کہ لوگ دوسروں کے پاکٹ میں لگے قلم تک کی قیمت کا موازنہ اپنے پاکٹ میں لگے قلم کی قیمت سے کرتے ہیں اور اپنی آل اولاد تک کا موازنہ بھی دوسروں کی آل اولاد سے کر رہے ہوتے ہیں
    اپنی شے کا موازنہ کسی دوسری شے سے کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہےاس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی ۔ہم کسی بھی عہدے پر ہوں کسی بھی سطح پر ہوں کچھ لوگ ہم سے کم تر ہوتے ہیں اور کچھ برتر (یہاں کمتر اور برتر کے الفاظ صرف فرق سمجھانے کی خاطر ہیں ) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک فرد ایک معاملہ میں ہم سے بہتر ہو تو دوسرے میں ہم سے کمتر ایسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خوبی ہم میں ہو اور وہ خوبی دوسرے انسان میں نہ ہو
    موازنہ کرنے کی عادت بہت خطرناک ہے یہ جن لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ عموماً ان چیزوں ک لے کر پریشان ہوتے ہیں جو ان میں نہیں وہ کبھی اپنے پاس موجود نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے

    یہ رویہ انہیں اس قدر پریشان رکھتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ہر انسان سے حسد کرتے ہیں دنیا کا تو دستور ہی بدلنا ہے تو پھر کیسی پریشانی ہر انسان پہ اچھے برے حالات آتے ہیں اسلیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ لا حاصل پہ جلنے کڑھنے کے بجائے موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور موازنہ کے نقصانات جن میں ناامیدی،حسد ،بلڈپریشر اسکے علاؤہ کئی ذہنی و جسمانی بیماریاں شامل ہوتی ہیں
    ان سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ ہمیں اس عادت کو ترک کر دینا چاہیئے،خود سے بہتر لوگوں کے بجائے اپنے سے کم تر سے موازنہ ہو تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب باری تعالیٰ کی کتنی لاتعداد نعمتوں سے ہم فائدہ ہیں جو کروڑوں دیگر افراد کو میسر نہیں ہیں

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

     

    Follow @IamYasif

  • ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ ہی سپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے ۔کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کومحسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہو چکا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچا نک کایا پلٹ گئی اور اسلام پر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ عالم اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافت عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کومحسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز سے اسلامی علوم وفنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہو گیا تھا لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستاره اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو سفر کر رہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنالیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا، تا کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
    اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافت عثمانی کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعار کا تسلط ہوا، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقیناً شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی، لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوت تسخیر نے شکست تسلی نہیں کیا اور اس نے اہل یوروپ وان مریکہ کے قلوب کومسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان بھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیاز کے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے، بلکہ مساجد و ن مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنامدعو بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہے امریکی مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ اور یورپ میں تقریبا پانچ کروڑ ہورہی ہے ۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔
    اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ ۃشا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ”آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ، بلکہ پورے یورپ پرحکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت ونمو کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ج ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، جو اس کو ہر زمانہ میں قابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابل قبول ہو گا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابل قبول ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فرانس کے طالع آزماسکندر مانیپولین بوناپارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اورتعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا۔ قرآن کے یہی اصول ہی میں صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
    آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئیندہ ۳۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی وغیرہ۔
    اہل یورپ پر ان کی خوف چھایا ہوا ہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہل مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ اسلاموفوبیا کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیات اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔ غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔ اسلام کا بھی روحانیت کا سرچشمہ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بناسکتا ہے۔
    Twitter | ‎@IhsanMarwat_786

  • اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق

    اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق

    ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برس سے جہاں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی اور ثبوت مٹانے کے لیے قتل وغارت کے واقعات ہو رہے ہیں وہیں درس و تدریس سے وابستہ معزز اور محترم سمجھے جانیوالے شعبہ سے منسلک چند افراد کی گھناؤنی اور مکروہ فعل انجام دیتے ہوئے وڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں،
    بطور اسلامی معاشرہ ہم شدید ترین زوال کا شکار ہیں نا ہمیں مذھبی و تدریسی افراد تحفظ کا مکمل احساس دلانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں نا ہی قانون مکمل تحفظ فراہم کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے،
    شیطانیت کا لبادہ اوڑھے چند درندے اپنے مکروہ فعل کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات اور اپنی وڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوام اور متاثرہ فرد کی آواز دبانے میں کامیاب ہیں،
    وہیں قانون اور وزارتِ انسانی حقوق کے سربراہان سرعام پھانسی جیسی اسلامی سزا کے عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،
    قرآن میں اللہ نے امن و امان کو ملحوظ رکھتے ہوئے سخت سزائیں اسی لیے بتائیں کہ معاشرہ میں امن قائم ہو سکے،
    مگر حیراننگی ایوانوں میں بیٹھے اُن عوامی نمائندوں پر ہے جو اسلامی قوانین کے نافض العمل ہونے میں رکاوٹ ہیں،
    انکو ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی قتل و غارت کا علم بھی ہے مگر وہ جان بوجھ کر ایسے سخت قوانین کے خلاف ہیں کہ جن سے ظالم کو قرار واقعی سزا ہو سکے،
    اور وہ دیگر افراد کے نشانِ عبرت بنے،
    سُننے اور پڑھنے میں تو یہی آیا تھا کہ یہ مُلک اسلام کے نام بنا تھا،
    اور بانیِ پاکستان جناب محمد علی جناح اسکو مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے،
    مگر اس ُملک کی جڑوں کو اشرافیہ،سرداروں،وڈیروں،چوہدریوں،ملاؤں نے دیمک کیطرح ایسے کھوکھلا کیا ہے اور مزید بھی کر رہے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش شائد اگلے کئی سال مزید بھی بامراد نا ہو پائے،
    موجودہ حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ جس کو کشمیر،پنجاب،بلوچستان،خیبر پختونخواہ(سرحد)اور گلگت بلتستان میں عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہوا ہے کہ وہ بیک وقت تمام جگہ پر بھاری اکثریت سے الیکٹ ہوئی ہے،
    اس حکومت کے پاس یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ سرعام پھانسی سمیت کالا باغ ڈیم جیسے اہم عوامی مفاد کے معاملات میں مؤثر قانون سازی کرے،
    تاکہ ہماری آنیوالی نسلیں امن و سکون سے بھرپور خوشحال پاکستان میں زندگی بسر کرسکیں۔

    ‎@iamMutahir4

  • نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
    انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
    روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
    قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
    لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
    ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
    ،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
    ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
    حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
    ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
    بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
    نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
    حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
    اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
    الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
    لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
    اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
    کر سکیں۔

    DrAkAliOfficial