Baaghi TV

Category: اسلام

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370

  • امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ کی ریاست الاسکا میں 8.2 کے زوردار زلزلے کے جھٹکوں نے ساحلی علاقے کے مکینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی جیولوجیکل سروے کی جانب سے جاری کر دہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ شدید نوعیت کے زلزلے کا مرکز الاسکا کے شہر ” پیری ویل “ کے جنوب مشرق میں 91 کلومیٹر دوری پر واقع ہے جس کی گہرائی 46.7 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے ۔

    زلزلے کے بعد شدید نوعیت کے دو آفٹر شاکس ریکارڈ کئے گئے جن کی شدت 6.2 اور 5.6 رہی ۔

    تاہم بعد ازاں ریاست کے متعدد علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے امریکی اداروں کی جانب سے ہوائی میں بھی سونامی کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    سونامی کے انتباہ کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے مکین اونچی جگہوں کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں لوگوں کی لمبی قطاروں کو اونچی جگہوں پر منتقل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک جزیرے میں مقامی ہائی سکول اور کیتھولک گرجا گھر نے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے۔

  • عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    اصل حقیقت یہ ہے کہ اللّٰه نے جس عبادت کے لیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا حکم آپ کو دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے ۔ وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جا ئیں جو قانون الہی کے خلاف ہو ۔ آپ کی جنبش اس حد کے اندر ہو جو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مقر کی ہے ۔ آپ کا ہر فعل اس طریقے کے مطابق ہو جو اللّٰه تعالیٰ نے بتادیا ہے ۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ۔ ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جاگنا بھی، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی ، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی حتی کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنے بچے کو پیار کرنا بھی عبادت ہے ۔ جن کاموں کو آپ بالکل دنیاداری کہتے ہیں وہ سب دین داری اور عبادت میں اگر آپ ان کو انجام دینے میں اللّٰه کی مقررکی ہوئی حدوں کا لحاظ کر لیا کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر یہ دیکھ کر چلیں کہ اللّٰه کے نزدیک جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ؟ فرض کیا چیز کی گئی ہے اور منع کس چیز سے کیا گیا ہے ؟ کس چیز سے اللّٰه خوش ہوتا ہے اور کس سے ناراض ہوتا ہے مثلا آپ روزی کمانے کے لیے نکلتے ہیں ۔ اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال کافی آسانی کے ساتھ آپ کو مل سکتا ہے ۔ اگر آپ نے اللّٰه سے ڈرکر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو جتنا وقت آپ نے روٹی کمانے پر صَرف کیا یہ سب عبادت تھا اور یہ روٹی گھر لاکر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کے مقرر کیے ہوئے دوسرے حق داروں کو کھلائی ، اس سب پر آپ اجروثواب کے مستحق ہو گئے ۔ آپ نے اگر راستہ چلتے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹادیا ، اس خیال سے کہ اللّٰه کے بندوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی ، یا کسی اندھے کو راستہ چلایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی ، تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر بات چیت کرنے میں جھوٹ سے غیبت سے بدگوئی اور دل آزاری سے پرہیز کیا ، اور اللّٰه سے ڈر کر صرف حق بات کی تو جتنا وقت آپ نے بات چیت میں صَرف کیا وہ سب عبادت میں صَرف ہوا ۔
    پس اللّٰه کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ اللّٰه کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اس عبادت کے لیے کوئی وقت مقر نہیں ہے ، یہ عبادت ہر وقت ہونی چاہیے ۔ اس عبادت کی کوئی ایک شکل نہیں ہے ، ہر کام اور ہرشکل میں اسی کی عبادت ہونی چاہیے ۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں وقت اس کا بندہ نہیں ہوں ، تو آپ یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ فلاں وقت اللّٰه کی بندگی عبادت کے لیے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔ بھائیو ! آپ کوعبادت کا مطلب معلوم ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں اللّٰه کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز ، روزہ اور حج وغیرہ کیا چیز ہیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہ عبادتیں جو اللّٰه نے آپ پر فرض کی ہیں ، ان کا مقصد آپ کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے ۔ نماز آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہے کہ تم اللّٰه کے بندے ہو ، اس کی بندگی تمھیں کرنی چاہیے ۔ روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک آپ کو اس کی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے ۔ زکوۃ آپ کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے کہ اللّٰه کا عطیہ ہے ، اس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صَرف نہ کرو ، بلکہ اپنے مالک کا ادا کرو ۔ حج دل پر اللّٰه کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بڑھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہوسکتا ۔ ان سب عبادتوں کو ادا کرنے کے بعد اگر آپ اس قابل ہو گئے کہ آپ کی ساری زندگی اللّٰه کی عبادت بن جائے تو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہے اور روزہ روزہ ہے ، زکوۃ زکوة ہے اور جج ہے لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہو تو رکوع اور سجدہ کرنے اور بھوک پیاس کے ساتھ دن گزارنے اور حج کی رسمیں ادا کر دینے اور زکوۃ کی رقم نکال دینے سے کچھ حاصل نہیں ۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم ، کہ اگر اس میں جان ہے اور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے ۔ لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہے ۔ مردے کے ہاتھ پاؤں ، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں مگر اس میں بس جان نہیں ہوتی ، اس لیے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو ۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں ، یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں مگر خدا کا خوف ، اس کی محبت اور اس کی وفاداری و اطاعت نہ ہو جس کے لیے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہوگی ۔
    اللّٰه تعالیٰ ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری سے زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    (آمین یارب العالمین)

    @muhammadmoawaz_

  • امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ   تحریر : محمد بلال

    امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تحریر : محمد بلال

    شرم و حیا کے پیکر ذُوالنُّورین خلیفہ ثالث( تیسرے خلیفہ)امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ

    آپ عامُ الفِیل(اَبْرَہَہ بادشاہ کے مکّۂ مکرّمہ پر ہاتھیوں کے ساتھ حملے) کےچھ سال بعدمکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔

    آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں (پیارے آقا ﷺ کے وه صحابہ جنہیں زندگی میں ہی جنت  کی بشارت دے دی گئی تھی)

    آپ کا شمار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب شوریٰ میں ہوتا ہے
    آپ کو کاتب وحی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے
    آپ رضی اللّه تعالی عنہ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ نے خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر رضی اللّه تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’نورِایمان‘‘ سے منور کیا، آپ  ’’السابقون الاوّلون‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہیں

    پیکر حیا:

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بڑے باحیا تھے حتی کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا:
    أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

    اے عائشہ رضی اللّه تعالی عنہ کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

    (صحیح مسلم 6209)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ”

    میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں سب سے سچے حیادار عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں

    ( الترمذی3790)

    ذُوالنُّورین:

    خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دو بیٹیوں حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کے ساتھ یکے بعد دیگرے نکاح کی وجہ سے حضرت عثمان عنی رضی اللّه تعالی عنہ کو ’’ذوالنورین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    حضرسیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد پیارے آقا محمد مصطفی ﷺ
    نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ امّ کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ سے کر دیا
    دوسری بیٹی سیدہ حضرت ام کلثوم
    رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں اور ایک روایت کے مطابق حضور اقدس ﷺ
    نے فرمایا کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کردیتا کیونکہ میں تم سے راضی ہوں
    (معجم اوسط،ج4،ص322،حدیث:6116

    عشرہ مبشرہ:
    حضرت ابوموسی’
    اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللّه کے پیارے نبی
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے اس کے دروازے پر رہنے کا حکم دیا،چنانچہ ایک شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت بھی سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” ائذَنْ له و بشِّرْه بالجنةِ معها بلاءٌ يٌصيبُه

    اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی سنادو”اور انہیں آگاہ کرو کہ ان پر ایک مصیبت نازل ہوگی،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔

    (صحیح بخاری 7097)

    ہجرتِ مدینہ کے بعدمسلمانوں کومیٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔ شہرمدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا جس کا مالک ایک یہودی شخص تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے یہودی مالک کو منہ مانگی قیمت دے کر یہ کنواں خریدلیا اور تمام انسانوں کے لئے وقف کردیاجس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوجنت کی بشارت دی۔

    ( الترمذی 3703)

    حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
    (سنن ابن ماجہ 109)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : "صَعِدَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أُحُدًا ومعهُ أبو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وعُثْمانُ، فَرَجَفَ، وقالَ: اسْكُنْ أُحُدُ – أظُنُّهُ ضَرَبَهُ برِجْلِهِ -، فليسَ عَلَيْكَ إلَّا نَبِيٌّ، وصِدِّيقٌ، وشَهِيدانِ.

    ایک روز نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے،آپ کے ساتھ
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے،تو پہاڑ کانپنے لگا،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احد تھم جاؤ تمہارے اوپر نبی،صدیق اور دو شہید ہیں

    (صحیح بخاری 3699)

    دورِ خلافت: 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ یَکُم محرّم الحرام 24 ہجری کو مَسندِ خِلافت پر فائز ہوئے۔آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں اَفریقہ، ملکِ روم کا بڑا عَلاقہ اور کئی بڑے شہر اسلامی سلطنت کا  حصہ بنے۔ 26 ہجری میں مسجدِ حرام کی توسیع جبکہ 29 ہجری میں مسجدِ نَبَوی شریف  کی توسیع  کرتے ہوئے پتھر کے ستون اور ساگوان کی لکڑی کی چھت بنوائی

    جامع القرآن:

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ
    کی حیات مبارکہ کا اہم ترین کارنامہ خدمتِ قرآن کے حوالے سے ہے۔ عرب قرآن کو مختلف لہجوں اور قرأتوں سے تلاوت کرتے تھے۔ فتوحات کی وسعت کی وجہ سے یہ سہولت غلط فہمیوں کا باعث ہوسکتی تھی، آپ نے اپنی ’’فراست باطنی‘‘ سے پوری امت کو قرأتِ قریش پر جمع کردیا اور یوں آپ ’’جامع القرآن‘‘کہلائے۔

    وصال مبارک (شہادت): 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نےبارہ سال خلافت پر فائز رہ کر  18 ذُوالحجۃ الحرام سن 35 ہجری میں بروزِ جمعہ روزے کی حالت میں تقریباً 82 سال کی طویل عمر پاکر نہایت مظلومِیَّت کے ساتھ جامِ شہادت نَوش فرمایا۔

    اللّه پاک ہمیں حضرت عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
    ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

    وطن عزیر میں قانون سازی کی حد تک حکومتوں نے محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رکھی ہیں تاہم محنت کشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج تک ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
    ہمارے ملک میں کارخانوں ، فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کش لوگ جن کے خون پسینے سے قومی ادارے اور صنعتیں چل رہی ہیں کے حالات دگر گوں ہیں۔ متعدد محنت کش گھرانوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان جسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات تو ان کی پہنچ سے دور ہیں ہی پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔
    دنیا میں کون سا ایسا ذی روح ہوگا جس کو زندگی سے پیار نہیں ہوگا یا اس کے دل میں بہتر انداز میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں ہوگی۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام پر نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ ہر انسان کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اللّٰہ کی تمام نعمتیں اور دنیا کی ساری آسائشیں اس کی اولاد کو میسر ہوں اور اس کی اولاد کا مستقبل روشن ہو۔ ایسی ہی خواہشات محنت کش اور مزدور طبقہ کے افراد بھی رکھتے ہیں۔ مزدور و محنت کش کبھی نہیں چاہتے کی جن مسائل و آفات کا سامنا وہ کر رہے ہیں کل کو ان ہی حالات سے ان کی اولاد دوچار ہو۔
    لیکن بد قسمتی میں پاکستان میں طبقاتی نظام اور انصاف و مساوات کی عدم فراہمی کے باعث غریب و متوسط طبقہ دن بدن غربت و مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور طبقہ اشرافیہ دن بدن پھل پھول رہا ہے۔ یہاں کسی کی محنت کا پھل کوئی غاصب کھا رہا ہے اور محکوموں کے سروں پر حکمرانی بھی کی جارہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں کے باعث محنت کش و مزدور آئے روز بیروزگاری کا شکار ہوکر بھوک و افلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو دریائوں میں پھینکنے جیسے غیر انسانی افعال پر مجبور ہیں۔خوراک کی کمی اور علاج سے محرومی کے باعث اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
    جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن یہاں غرباء سے غیر انسانی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاشرہ میں غربت اور تنگ دستی کے باعث مزدوروں اور محنت کشوں کی خود کشیاں باعث شرم و حزیمت ہیں۔ غربت ، بیروزگاری اور تنگ دستی دنیا کے تمام ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن وہاں قوانین پر عملدرآمد اور مخلصانہ حکومتی کوششوں کے باعث ناامیدی اور مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور طبقاتی نظام کے باعث مایوسی اور ناامیدی جیسے حالات ہیں جو پوری قوم کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ ناامیدی اور مایوسی ہمارے مستقبل کا گلا دبوچے ہوے ہے۔
    حالیہ بجٹ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کا اصولی و قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور نچلے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنا ہوگا۔ مافیاز اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

    اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
    کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
    جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

    @FA_aLLi_

  • سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    دولت عثمانیہ 1299 میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سلطنت جس کے حکمران "ترک” تھے،
    سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلطنت دنیا کے تین براعظموں میں پھیل چکی تھے،
    سلطان سلیمان 15 سال کی عمر میں گھوڑے پر بیٹھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنگوں میں گزارا انہوں نے ایشیا اور یورپ کے کئی علاقوں کو فتح کیا اور تمام فتح کیے علاقوں کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا،
    سلطان سلیمان 1494 کو ترابزون (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے,
    وہ 1520 کو عثمانی سلطنت کے دسویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے 89 خلیفہ بھی منتخب ہوئے,
    جس دور میں آپ تخت نشین ہوئے اس دور میں مسیحی مغربی طاقتیں متحد ہو رہی تھیں یورپ کی سلطنتیں قرون وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لئے تیار ہو رہی تھی، وہ سب آپس کے مذہبی اختلافات بھلا کر عثمانی سلطنت کے خلاف اگٹھے ہو رہے ہیں،
    کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے سلطنت عثمانیہ اور مغربی طاقتوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی سلطان سلیمان کے والد سلیم اول کی زیادہ تر توجہ تمام اسلامی ریاستوں کی طرف مبذول رہی، اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی کر لی تھی،

    اسپین سے مورس کا اخراج ہو چکا تھا وہاں کی چھوٹی چھوٹی مسیحی ریاستیں متحد ہو کر ایک فرمانروا کے زیر حکومت آ چکی تھیں، فرانس بھی اپنے اندر کی مذہبی انتہا پسندی اور خانہ جنگی پر قابو پا کر دوسرے ملکوں کی فتوحات کی طرف نکل چکا تھا،
    آسٹریا اور انگلستان میں بھی قوت و استحکام کی علامتیں موجود تھیں،
    اور چارلس پنجم جس کی سلطنت یورپ کے نصب حصے پر پھیلی ہوئی تھی اس مسیحی اتحاد میں پیش پیش تھا،
    اور دوسری طرف ایشیا میں ایران کی وسیع سلطنت سے بھی عثمانی سلطنت کو خطرات لاحق تھے، اور اس کے علاوہ شام اور مصر میں ہر وقت بغاوت کا خدشہ رہتا،
    ایسے میں سلطنت عثمانیہ کو چارلس پنجم اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا، چناچہ سلیمان حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46 سالہ دور اقتدار میں کسی نہ کسی جنگی مہم میں مصروف رہے، جہاد کا جذبہ سلطان سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس جذبے نے انہیں آخری وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا،
    سلطان سلیمان تخت نشین ہونے کے اگلے سال ہی بلغراد فتح کرنے نکل گئے سلطان نے وہاں سب سے بڑے گرجا گھر میں نماز ادا کی اور اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا،
    بلغراد کی سرحدوں کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا اور اس طرح ہنگری بھی فتح کیلئے عثمانیوں کے سامنے کھلا پڑا تھا،
    سلطان سلیمان کی بلغراد فتح کا اثر یہ ہوا جمہوریہ وینس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تسلیم کر لیا اور یوں انہوں نے عثمانیوں کو سلانہ خراج دینے پر اکتفا کر لیا،
    بلغراد اور رودوش یہی وہ دو معرکے تھے جن میں سلطان محمد فاتح کو شکست ملی تھی،
    اس کے علاوہ رودوش کے جہاز بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں مجمع الجزائر اور اناطولیہ کے ساحلوں پر لوٹ مار مچاتے رہتے تھے، اور مصر اور شام کے درمیان جو تعلقات قائم ہوگئے تھے ان میں مبارزین رودوش اپنے جہازوں کے ذریعے رخنہ ڈالتے رہتے تھے،
    بلغراد تو فتح ہوچکا تھا چنانچہ سلطان سلیمان نے ردوش فتح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عثمانیوں پر لگے اس داغ کو بھی صاف کرنا چاہتا تھا،
    سلیمان عالی شان ایک لاکھ فوج لے کر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف بڑھا۔ سلطان 28 جولائی 1522 رودوش کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرہ رودوش کا محاصرہ شروع کر لیا،
    پانچ ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور محاصرین کی قوت سے مجبور ہوکر بلآخر انہوں نے 6 دسمبر 1522 ینچروں کے اگئے ہتھیار ڈال دیئے سلطان نے مبارزین کو اجازت دے دی کہ وہ بارہ روز کے اندر اپنے تمام اسلحہ اور ساز و سامان کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر رودوش سے چلیں جائیں، اگر ان کے جہاز کم پڑتے ہیں تو ہمارے جہازوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں،
    لیکن اکثریت میں رودوش کے باشندوں نے سلطان کی رعایا بننا پسند کیا اس کے بعد انہیں مکمل طور پر مذہبی آزادی دے دی گئی،پانچ سال کے لیے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا اور ان کے کلیساؤں سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلغراد اور روش کی فتح کے بعد ہنگری سسلی اور اٹلی کے راستے سلیمان کے لیے کھل گئے،
    لیکن مصر کی بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا، لیکن سلطان سلیمان نے اس پر بھی قابو پا لیا اور وہ ہنگری کی طرف سفر کے لیے تیاریاں شروع کرنے لگے،
    سلطان سلیمان نے ایک لاکھ فوج اور تین سو توپوں کے ساتھ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے پانچ ماہ بعد 28 اگست 1526 کو موباکز کے میدان میں ہنگری کے شہنشاہ شاہ لوی اور اس کی فوج سے مقابلہ کیا،
    دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں سلطان سلیمان کو فتح حاصل ہوئی اور ساتھ ہی ہنگری کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا اور ہنگری کا شہنشاہ اور اس کے کچھ وزیر مشیر اور سپاہی بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کے مر گئے،
    چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کا اقتدار زاپولیا کو سونپا اور خود پایہ تخت واپس آگئے،
    لیکن ہنگری میں خانہ جنگی شروع ہو گئی،
    آرک بوک فرڈیننڈ جو شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا، ایک صلح نامہ کی رو سے جو چارلس پنجم اور سابق شہنشاہ ہنگری شاہ لوئی کے درمیان ہو چکا تھا ہنگری کے تخت کا دعویدار ہو گیا،
    ایسے حالات میں زاپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہنگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہنگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے امرا نے فرڈیننڈ کو منتخب کر لیا،
    چنانچہ جنگ ناگزیر ہوگئی لیکن فرڈیننڈ کے ساتھ آسٹریا کی مدد تھی اس نے زاپولیا کو شکست دے کر ملک سے بھگا دیا،
    زاپولیا نے پولینڈ میں پناہ لینے کے بعد سلطان سلیمان کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، اور دوسری فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے پاس بھیجا،اور اس نے سلطان سے ہنگری پر اپنا اقتدار تسلیم کرنے اور اس کے علاوہ بلغراد اور رودوش لینے کا مطالبہ کر دیا،
    ایسے میں سلطان سلیمان 1529 کو ڈھائی لاکھ کا لشکر لے کر ہنگری پر چڑھ دوڑا اس نے ہنگری کو دوبارہ فتح کرلیا اور پھر اقتدار زاپولیا کے حوالے کیا اس نے ہنگری سے سفر جاری رکھتے ہوئے ویانا کا محاصرہ کر لیا سلطان اس فتنے کی جڑ کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا لیکن تین ماہ کے عرصے تک ایک قلعہ فتح ہو سکا موسم کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو محاصرہ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا تھا،
    ہنگری کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا چناچہ سلطان آسٹریا کے علاقے ویانا سے محاصرہ اٹھا کر واپس آ گیا لیکن یورپ کے قلب تک سلطان سلیمان اپنی سلطنت کو پھیلا چکا تھا،
    اس کے بعد اس نے ایران کا سفر کیا اور اس نے ایران کے بہت سے علاقوں اور آذربائیجان تک اپنی سلطنت کے رقبے کو وسیع کر دیا،
    سلطان سلیمان نے جب تخت نشین ہوئے تھے تو اس وقت سلطنت کا کل رقبہ 68 لاکھ کلومیٹر تھا لیکن جب اس کے 46 سالہ عظیم الشان دور کا اختتام ہوا تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا کل رقبہ لگ بگ 1 کروڑ 48 لاکھ کلومیٹر تھا،
    عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت انہوں نے دولت عثمانیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس وجہ سے ترک قوم نے انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے نوازا اور یورپ کے مفسرین نے انہیں سلیمان ذیشان، سلیمان علیشان اور سلیمان اعظم جیسے ناموں سے مخاطب کیا،
    1565 میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں مسیحیوں نے کچھ کامیابی حاصل کر لیں، سلطان اس وقت کافی بیمار ہو چکے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی فوج کی قیادت کرنے کیلئے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا،
    2 اگست 1566 کو ایک قلعہ کا محاصرہ کیا جو 8 ستمبر تک جاری رہا اور آخر کار قلعہ فتح ہوگیا،
    اس وقت جب لشکرِ اسلام خوشی سے جھوم رہا تھا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اللہ کی رحمت میں جا چکا ہے،
    سلطان 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اس فانی جہان سے رخصت ہو چکے تھے،
    سلطان کی میت کو واپس قسطنطنیہ لایا گیا وہاں ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں ان کو سپرد خاک کیا گیا،
    اللہ سلطان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے،
    آمین

    @zsh_ali

  • عمرہ کا سفر تحریر:  دانش علی

    عمرہ کا سفر تحریر: دانش علی

    اسلام وعلیکم۔
    وہ کہتے ہیں کہ اگر صبر کریں یقین رکھیں اور دل سے دعا کریں تو وہ دعا قبول ہونے میں دو پل بھی نہیں لگتے کیونکہ رب سے مانگ کر دیکھو تو سہی
    ایک وہی تو ہے جو حقیقت میں آپ کا منتظر ہے ۔
    ایسا ہی میں اپنے عمرہ کا سفر آپ سب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کہتے ہیں جب اللّٰہ کے گھر سے بلاوا آتا ہے جیب میں کچھ ہو یا نہ ہو حاضری لگ ہی جاتی ہے بس اللّٰہ پر ایمان پختہ دل صاف اور نیت پاک ہونی چاہیئے اگر کسی چیز کی تمنا ہو تو اسے اپنا جنون بنا لینا چاہیئے کیونکہ جب کوئی امید نہ ہو تب زیادہ یقین سے مانگو کیوں کہ معجزے خدا کی شان ہیں ایسی ہی حسرت میری تھی جب بھی کوئی احباب عمرہ یا حج کے لئے تشریف لے جاتے تھے ایک تمنا دل میں گھر کر لیتی تھی جب سرکار بلائے گے کب عمرہ کے لئے جائے گے الحمدللہ اللّٰہ نے جب بلایا تو خبر ایک گھنٹہ پہلے ملی کہ عمرہ کے لئے تیاری کرو میں عمرہ کا دلچسپ سفر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
    یہ بات دو سال پہلے چھبیس رمضان کی ہے میں تراویح پڑھ کر آیا تو میرے کفیل نے کہا کہ تیاری کرو عمرہ کرنے جاؤ جب یہ بات سنی اپنے رب کا لاکھ شکر ادا کیا کہ حاضری لگ گئی ہے آنکھیں نم ہو گئیں اور جمعرات کا دن تھا رات آٹھ بجے سعودیہ عرب کے شہر طریف سے روانہ ہوئے عمرہ کے لئے اور یہ سفر طریف سے مکہ سولا گھنٹے کا ہے جو سولا سو کلو میٹر بنتا ہے یہ میری زندگی کا بہترین وقت اور خوبصورت سفر تھا اللّٰہ سب کو اس یسا سفر نصیب فرمائے سفر کی جب شروعات ہوئی تو میں نے محسوس کیا اپنے دل کے جذبات کو کس قدر بے چین تھا کعبہ کا دیدار کرنے کے لئے کچھ باتیں محسوس کی جاتی ہیں لکھ کر بیان نہیں کی جا سکتی ایسے ہی سفر جاری تھا صحری کے لئے ایک ہوٹل پر صحری کی اور وہ ہوٹل کے آس پاس پہاڑ تھے جو مجھے اس قدر لطف اندوز کر رہے تھے زبان س ایک ہی بات جاری تھی سبحان اللہ سبحان اللہ سفر جاری رہا جیسے جیسے مدینہ منورہ پاس آ رہا تھا دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جا رہی تھی مغرب کے وقت مدینہ منورہ پہنچے افطار کی نماز کی ادائیگی کے بعد سب تیاری مکمل کرنے کے بعد مکہ کا سفر شروع کیا دنیاوی باتوں سے دور دل ذکر الٰہی کرتے ہوئے سحری کے وقت مکہ پہنچے بزرگوں سے سنا تھا جب کعبہ پر پہلی نظر پڑتی ہے تو ہر دعا قبول ہوتی ہے فجر مسجد اقصیٰ میں ادا کی پھر عمرہ ادا کیا الحمدللہ لکھنے کو تو بہت ساری باتیں ہیں لیکن کچھ باتیں صرف محسوس کی جا سکتی ہیں۔۔
    ‏اللہ پاک آپ سب کو ہمیشہ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں رکھے آنے والا ہر دن رحمتوں اور برکتوں والا ہو ۔

  • غسل میت کا طریقہ  تحریر: فرزانہ شریف

    غسل میت کا طریقہ تحریر: فرزانہ شریف

    ہر موضوع پر آرٹیکل لکھ رہی ہوں سوچا جو معلومات ہر مسلمان کو ہونی چاہئیے اس پر لکھتے ہوئے ہم ہچکچاتے ہیں یا پھر ہلکا سا خوف اور ڈر بھی ہوتا ہے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیا اس نے آخر ایک دن واپس لوٹنا بھی ہے چاہے ہم سو سال بھی ذندہ رہیں
    خود بھی سیکھئے ، گھر والوں کو بھی سکھائیے
    کون جانے ہم میں سے کون پہلے رخصت ہو
    موت اور موت کے بعد کی حقیقی زندگی کے تذکرے روزانہ کی بنیاد پر گھروں میں ہونے چاہیں
    یہی تذکرے ہیں جو ہماری باطنی صفائی کرتے ہیں ، گناہ سے روکتے ہیں
    آج سے سو برس بعد ہم سب اس دنیا کے لئے ایک کہانی ہوں گے
    یہاں نئے چہرے ہوں گے ، اسی تکبر ، اسی "میں” کے زعم کے ساتھ ۔۔۔۔
    اور وہاں اس ہمیشہ کی زندگی میں صرف ہم ہوں گے اور ہمارے ساتھ صرف ہمارے اعمال۔
    ۔۔۔جن دو بہنوں کی وجہ سے یہ معلومات مجھ تک پہنچی اللہ ان دونوں کو اجر عظیم عطا فرمائے دونوں جہاں میں ان کا بھلا ہو آمین ثمہ آمین
    غسل میت کا طریقہ

    بہت تفصیل سے ایک ایک سٹیپ لکھ رہی ہوں ،

    عورت کا کفن پانچ چیزوں پر مشتمل ہوتا یے

    1) چادر
    2) آزار (قدرے چھوٹی چادر)
    3) کرتا (گلے سے پاوں تک)
    4) سربند
    5) سینہ بند

    دیگر ضرورت کی چیزیں جو اہل خانہ سے لیں گے
    تین گہرے رنگ کی بڑی چادریں
    (جو پرانی بستر وغیرہ کی چادریں گھر کے استعمال میں ہوتی ہیں )
    گہرے رنگ کی اس لئے تا کہ دوران غسل گیلی ہونے پر جسم نہ چھلکے ۔۔۔۔
    2 ڈسٹ بن
    قینچی
    گلوز
    کاٹن
    ٹب / دو تین مگ
    (اگر غسل واش روم کے ساتھ کسی کمرے میں دیا جا رہا اور استنجا کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت محسوس ہو تو نل کے ساتھ ٹیوب اٹیچ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا یے ، یہ صورتحال پر منحصر ہے )

    جو کفن کے پیکٹ میں سامان ہوتا یے ، اس میں کافور، اگربتی، صابن ، کاٹن اور بیری کے پتے موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    استنجا کے لئے کپڑے کے گلوز بھی اس میں موجود ہوتے ہیں لیکن بہتر یے کہ پلاسٹک کے گلوز کا استعمال کیا جائے

    بیری کے پتے ملا کر ایک بڑے برتن میں پانی ابال لیا جائے اور پھر موسم کی مناسبت سے اس میں دوسرا پانی ملا کر ٹب میں ملا لیا جائے
    (باقی بیری ملا پانی برتن میں رہنے دیا جائے اور بوقت ضرورت دوبارہ ملا لیا جائے )
    پانی ایسا ہو جیسے ہم اس موسم میں خود غسل کے لئے استعمال کرتے ہیں

    سب سے پہلے غسل کے پھٹے کو دھو کر صاف کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔
    پھر اس کے گرد تین بار ، پانچ یا سات بار اگربتی جلا کر دھونی دیں گے ، اس کے بعد اگر بتی کو سائڈ پر کہیں رکھ دیں گے ۔۔۔۔
    باڈی کو چادر سمیت پھٹے پر لٹا دیں گے
    ( جسم بھاری ہو یا اٹھانا مشکل ہو تو گھر کے مرد آ کر لٹا سکتے ہیں )
    اب بہت نرمی سے باڈی کے نیچے سے چادر نکالنی یے بلکہ غسل کے ہر سٹیپ میں باڈی کو بہت نرمی سے ہاتھ لگانا یے کہ تکلیف نہ ہو
    چادر نکالنے کے لئے جسم کو دائیں کروٹ پر لٹائیں گے اور نرمی سے نیچے سے چادر رول کر کے دوسری طرف لے جائیں گے اور پھر آہستگی سے بائیں کروٹ پر لٹا کر آرام سے چادر نکال لیں گے
    اب سب سے پہلے ایک ڈارک بیڈ شیٹ میت کے اوپر پھیلا دیں گے اور نرمی سے قینچی کے ساتھ لیفٹ بازو کو کندھے تک کاٹ لیں گے ،اسی طرح دایاں بازو کاٹ لیں گے
    اور قمیض کو دونوں طرف سے چاک سے کندھے تک کاٹ لیں گے ، جب سب حصے کٹ کر الگ ہو جائیں گے تو نرمی سے ایک طرف کروٹ بدل کر لباس علیحدہ کر دیں گے اور اسی طرح دوسری طرف سے
    اس پروسیجر کے دوران اور مکمل غسل کے دوران اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے اور میت کے ستر کا احترام برقرار رہے ،
    اسی طرح شلوار کا بایاں حصہ پائینچے سے نیفے تک کاٹا اور پھر دایاں حصہ کاٹا اور نرمی سے ان حصوں کو کروٹ کے بل لٹا کر الگ کر لیں گے
    کٹا ہوا لباس موجود ڈسٹ بن میں سے ایک میں ڈال دیں گے ۔۔۔
    استنجا کے لئے گلوز پہن لیں گے اور نرمی سے پیٹ ملیں گے اور کاٹن پکڑ کر نجاست صاف کریں گے
    اس موقع پر کچھ دیر انتظار کریں گے ، کھانے کے چند گھنٹوں کے بعد وفات ہو جائے تو نجاست کچھ دیر نکلتی رہتی یے اور خالی پیٹ ہو تو پھر زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں
    نجاست نکلنے کا انتظار کر کے اچھی طرح کاٹن سے صاف کرتے جائیں گے اور ساتھ ساتھ اچھی طرح پانی بہاتے جائیں گے اور پھٹا بھی صاف کرتے جائیں گے
    یہ کاٹن دوسری ڈسٹ بن میں پھینکتے جائیں گے ، اس بن میں پہلے بیگ لگوا لیں گے

    اور اگر پھٹا واش روم کے قریب ہو تو ایک خاتون مستقل واش روم کی طرف وائپر کے ساتھ پانی کو دھکیلنی جائیں اور اگر واش روم نہ بھی ہو تو جس طرف پانی کا بہاؤ ہو ، اسی طرف پانی کو وائپر سے ساتھ ساتھ صاف کیا جائے تا کہ پانی اکٹھا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب سب سے پہلے میت کو وضو کروانا ہے ، وضو میں چاروں اعضاء دھونے ہیں جو فرائض وضو میں شامل ہیں
    منہ ، دونوں بازو کہنی سمیت، سر کا مسح اور دونوں پاوں اچھی طرح دھوئیں گے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے

    کاٹن پیس لے کر گیلا کر کے دانتوں، مسوڑھوں پر اور دوسرا ناک کے دونوں نتھنوں میں پھیر دیا جائے تو بھی جائز ہے
    (یہ عمل ضروری نہیں لیکن اگر میت کا حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں انتقال ہوا ہو تو یہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے )
    اب نتھنوں اور کانوں میں الگ الگ خشک روئی ڈال دیں گے تا کہ دوران غسل پانی ناک اور کانوں میں نہ جائے ۔۔۔
    پھر سب سے پہلے سر دھونا ہے
    شیمپو میسر ہو یا صابن جو چیز موجود ہو اسے پانی میں مکس کر لیں گے ، سر اٹھا کر بازو پر رکھیں گے اور دوسری خاتون دھو دیں گی
    اب جسم کے لئے دوبارہ پانی میں صابن یا باڈی واش پانی میں مکس کریں گے ، براہ راست باڈی پر رگڑنے کی بجائے ۔۔۔۔۔
    نرمی سے ہینڈل کرنے کے پوائنٹ آف ویو سے

    میت کو بائیں کروٹ کر کے دائیں طرف پہلے اچھی طرح اس لیکوئڈ سے دھو کر پھر پانی بہائیں گے ، تمام سائڈ کو اچھی طرح دھو کر اور پھر دائیں کروٹ پر لٹا کر بائیں سائڈ کو اسی طرج اچھے طریقے سے تسلی سے دھونا ہے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے
    اس سارے عمل کے دوران دھیان رہے کہ اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے
    پھر سیدھا لٹا کر ہاتھ کے سہارے ذرا اوپر اٹھا کر پیٹ کو ہلکا ہلکا ملیں گے
    اگر دوبارہ نجاست نکلے تو صاف کریں گے ،غسل یا وضو پر اس سے فرق نہیں پڑے گا
    آخر میں بائیں کروٹ لٹا کر دوبارہ دائیں طرف دھوئیں گے
    ممکن ہو تو پانی میں کافور ڈال کر دائیں طرف تین بار کندھے سے پاوں تک وہ پانی ڈالنا یے اور کافور ڈالنا بھول جائے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں
    اب غسل مکمل۔ہوگیا

    کوئی عام چادر ایک چارپائی پر ڈالیں گے
    تینوں جگہ پٹیاں رکھیں گے
    سر کی طرف
    کمر کی جگہ (لمبی پٹی درمیان میں ہو گی)
    اور پاوں کی طرف
    اور اس کے اوپر پہلے کفن کی چادر اور پھر آزار بند بچھا لیں گے
    اور پھر کرتہ کی نیچے رہنے والی سائڈ بچھا دیں گے اور جو سائڈ باڈی کے اوپر آنی ہے اس چارپائی کے سر کی طرف پیچھے ڈال دیں گے ۔۔۔۔
    اب واپس باڈی کی طرف آئیں گے
    ناک اور کان سے گیلی روئی نکال لیں گے
    اگر کسی کے ناک یا کان سے خون یا کوئی لیکوئڈ نکل رہا تو تو خشک روئی رکھ دیں گے ، عام صورتحال۔میں ضرورت نہیں
    اب گیلی چادر باڈی کے اوپر سے اس طرح ہٹائیں گے کہ پہلے دوسری گہرے رنگ کی خشک چادر اوپر ڈالیں گے اور نیچے سے گیلی چادر نکال کہیں گے کہ ستر کا احترام قائم رہے ، گہرے رنگوں کی چادر استعمال کرنے کی بھی یہی وجہ ہے ۔۔۔۔
    اب تیسری چادر آہستگی اور نرمی سے باڈی کے نیچے بچھائیں گے ، اسی طرح دونوں طرف کروٹ چینج کروا کے
    اب اسی چادر سمیت اٹھا کر چارپائی پر ڈالیں گے
    چارپائی پر ڈال کر نیچے والی چادر آرام سے نکال لیں گے
    کرتے کی چارپائی کے سر کی طرف رکھی سائڈ کو گلے سے ڈال کر سامنے ڈالیں گے اور پاوں تک لے جائیں گے ۔۔۔۔

    اب کرتا پہنانے کے بعد وہ گہرے رنگ کی اوپر دی گئی چادر ہٹا دیں گے ۔۔۔۔
    کافور کو ذرا سا ہاتھ پر مل کر ان سات جگہوں پر ملیں گے جو سجدہ کرتے ہوئے زمین سے لگتی ہیں
    ماتھا ، ناک
    دونوں ہتھیلیاں
    دونوں گھٹنے اور دونوں پاوں کی اوپر کی طرف جو دوران سجدہ زمین پر لگتی ہے
    اب سینہ بند کو سینہ پر ڈال دیں گے ، پہلے ایک بازو کے نیچے سے گزار کر اور پھر دوسرے بازو کے نیچے سے گزار کر نیچے کی طرف دبا دیں گے ، سینہ کور ہو جائے گا ، اگر بڑا ہو تو فولڈ کر کے استعمال کرہں گے
    بال دونوں طرف سے آگے لا کر سینے پر ڈال دیں گے
    سربند کو سر کے نیچے کی طرف رکھا ، آگے سے سکارف کی طرح آگے لا کر سائڈوں پر دبا دیں گے
    اب آزار کی بائیں طرف پہلے سامنے ڈالیں گے اور دائیں طرف بعد میں اوپر کریں گے
    اسی طرح بڑی چادر کو پہلے بائیں طرف سے اوپر ڈالیں گے اور پھر دائیں سائڈ اس کے اوپر کریں گے
    اب تینوں پٹیاں باندھ دیں گے
    پھر چہرے کی طرف سے چادر اور آزار کو تھوڑا سا کھول دیں گے
    پھر اوپر ایک کوئی بھی علیحدہ چادر ڈال دیں گے ۔۔۔۔

    ہم سب کو یہ طریقہ سیکھنا چایئے ، اپنے اطراف میں خود کو پیش کرنا چاہیئے غسل میت کے لیے
    بہت اجر و ثواب کا باعث ہے ____

    https://twitter.com/Farzana99587398?s=09

  • O man, be patient   Article Writen by Bobswiffey

    O man, be patient Article Writen by Bobswiffey

    "اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”

    اے انسان صبرکر !

    "لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”

    "اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”

    کتنی خوبصورت آیت ہے دل کو سکون دینے والی۔ تکلیف میں دکھ میں تسلی دینے والی ۔واقعی اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اور اس بات کی مثال آپکے سامنے ہے چونٹی کو اللہ نے کبھی لکڑی اٹھانے کی تکلیف سے نہیں گزارا ۔جتنی طاقت چونٹی میں ہے اللہ ہمیشہ اسے اتنی ہی تکلیف میں ڈالتے ہیں ۔

    اب ہم اپنی بات کرتے ہیں کبھی درد کی شدت ہماری روح کو چھلنی کر دے کبھی ہمارے آنسو ہمارے جگر کو چھلنی کر رہے ہوں ۔کبھی لگے کہ آزمائش بہت زیادہ بڑی ہے ہماری طاقت سے زیادہ ہے کبھی خیال آئے یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ۔کبھی لگے کے ہمت ختم ہو گئی مگر آزمائش ختم نہیں ہو رہی ۔تو بس یہ آیت یاد کر لیجے گا ۔
    "اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”
    اگر آپ بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں تو یاد رکھئے آپ میں زیادہ طاقت ہے باقی لوگوں کی نسبت ۔آپ زیادہ طاقت ور ہیں ۔اگر تکلیف جسمانی ہے تو آپ کے جسم میں زیادہ طاقت ہے باقی لوگوں سے۔اور اگر تکلیف روحانی ہے تو بھی آپ زیادہ مضبوط ہو ۔

    یہ آیت مجھے اکثر حوصلہ دیتی ہے اور اب تو مجھے جسے دل وجان سے اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اللہ مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے ۔

    آپ بھی آج سے اس آیت کو یاد کر لیں جب بھی لگے آزمائش زیادہ ہے تھک گیا ہوں تو بس یہ آیت حوصلہ دے گی آپکو ۔آپ کے اندر نئی انرجی پیدا ہونے لگ جاۓ گی یہ سوچتے ہی کہ آپ میں باقی لوگوں سے زیادہ طاقت ہے اور اللہ تو کبھی بھی اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتے ۔اور پتہ ہے بڑی آزمائش کے بعد زیادہ تکلیف کے بعد اجر بھی زیادہ ہی ملتا ہے اگر آپکی آزمائش زیادہ ہے تو خوش ہو جائیں اس آزمائش کے بعد آپکو درجات ملیں گے اجر ملے گا اور تب تک آپ بہت مضبوط بن چکے ہوں گے ۔جیسے فوج کی ٹرینگ کتنی مشکل ہوتی ہے مگر وہ آپکو مضبوط کرتی ہے آپکے درجات بڑھتے ہیں بس ایسے ہی جتنی بڑی آزمائش اتنا بڑا درجہ ۔

    اب اپنی آزمائش کو کھلے دل سے قبول کرنا ہے اور یہ سوچنا ہے کہ اللہ نے آپکو باقی لوگوں کی نسبت زیادہ طاقت دی ہے۔

    اے میرے پروردگار! ہم تیرے کمزور بندے ہمیں معاف فرما، درگزر فرما ہم پر ایسے بوجھ نہ ڈال جو ہم میں اٹھانے کی سکت نہیں تجھے تیرے رحیم کریم ہونے کا واسطہ ستر ماوں زیادہ سے زیادہ پیار کرنے والے میرے خالق ہم پر رحم فرما۔
    آمیـــن یارب العالمیــــن!!!
    ائے۔

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • قدرتی آفات اور پاکستان  تحریر : حنا

    قدرتی آفات اور پاکستان تحریر : حنا

    آپ سب جانتے ہیں ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ کئ روز سے جاری ہے ۔۔جس سے بلوچستان کراچی اسلام آباد کے کچھ علاقے شدید متاثر ہورہے ہیں.قدرتی آفات خاص کر بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جب بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔پھر وہ ملک امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ جاپان.طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان تقریبا ہر سال جاپان میں ہوتا شاید ہی کسی اور ملک ہو ۔۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظر میں جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے ۔۔کہنے کا مقصد ہے کہ قدرتی آفات سے اتنا ترقی یافتہ ملک بھی نہی بچ پاتا ۔۔وہ بھی اپنے مرتے لوگوں کو بہتے پانی سے زندہ نکال نہیں سکتا ۔۔کیونکہ موت کے آگے اس کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی بھی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہمارے پاکستان میں یہ معمول بن چکا ہے۔۔حکومت آج کی ہو یا پچھلی ۔۔ہم قدرتی آفات پر بھی انسانوں کو زمہ دار ٹھہرانے لگ جاتے ہیں ۔کہ فلاں کی وجہ سے عذاب ہے فلاں برا تھا اس وجہ سے عذاب آگیا ۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم قدرتی آفات کے متاثرین کو ان کے گناہوں کے نتیجے میں عذاب قرار دینے کی بجائے عملی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، میری نظر میں یہ درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں، انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرتی آفات کے آگے بے بس ہے ۔۔پاکستان عوام قیام ِ پاکستان کے بعد سے ہی آفات کا حادثات کا شکار ہوتا آرہا ہے 2010ء کا سیلاب اپنی نوعیت کا خطرناک ترین تھا جس کے نقصانات کا تخمینہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 43ارب ڈالرز کا لگایا گیا تھا ایسے ہی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، میکسیکو، سوڈان، افغانستان اور امریکہ وغیرہ شامل ہیں،لیکن ہم بطور پاکستانی یا ہماری حکومت ان آفات سے بچنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ انسان قدرت کے کاموں میں مداخلت کے قابل تو نہیں لیکن قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کی شدت کم ضرور کرسکتا ہے۔قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہئے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں
    دوسری اہم بات ایک دوسرے کو پارسا ثابت کرنے کے لیے قدرتی آفات پر ایک دوسرے کو گنہگار کے طعنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم قرآن پاک کھول کر پڑھیں کہ قدرتی آفات آزمائش ہے۔آزمائش اور سزا میں فرق ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کی برداشت کی انتہا دیکھیں اور بندوں کی اپنے رب سے محبت کو دیکھیں ۔سورہ بقرہ کی آیت 155، 156 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور البتہ یقینا ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مالی وجانی اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے اور بشارت دو صبر کرنے والوں کو ، کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
    تو ثابت ہوا ۔آزمائش میں صبر کرنے والے ہی جیت جاتے ہیں ۔صبر کرنے والے ہی صبر کا صلہ پاتے ہیں اور صبر کرنے والے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں ۔۔برداشت کرنا سیکھیے ۔۔کیونکہ رب اپنے بندوں کو اس کی طاقت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا..