Baaghi TV

Category: اسلام

  • سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد نعیم شہزاد

    جو پایہ علم سے پایا بشر نے
    فرشتوں نے بھی وہ پایہ نہ پایا

    آدمیت کی معراج علم سے ہے۔ علم وہ جوہر کامل ہے جو آدم خاکی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاتا ہے اور اسے مسجود ملائک کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر آدمی کو علم سیکھنے کے لیے شروع سے ہی کسی استاد کی حاجت رہی ہے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم دی اور انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ گویا ذات باری تعالیٰ اس کائنات کی سب سے پہلی استاد ٹھہری۔ اولین وحی الٰہی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم یَعْلَم
    انسان کو وہ سکھایا جو اسے معلوم نہ تھا۔
    آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اس کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا نزول ہوتا رہا۔
    اس الہامی مذہب اور اس کے پیغام کی اتباع کے بغیر انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہوا اور اس کی پیروی سے ہی ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔

    حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے انسانوں کا دائرہ کار محدود تھا اور ایک گھر اور ایک خاندان کی شکل میں الہامی علوم کی اشاعت و تبلیغ کا آغاز ہوا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا اپنے حجم میں کثیر اضافہ کر چکی تھی اور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار عظیم کو احسن طریقے سے سنبھالا اور چہار دانگ عالم اللہ تعالیٰ کی تکبیرات بلند کر دی۔

    تاریخ پر سرسری سی نگاہ بھی دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے معاشرے سے انسانیت معدوم ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، جوئے اور شراب کے رسیا تھے اور حلال و حرام کی تمیز بھلا بیٹھے تھے۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری تھا۔ الغرض معاشرہ ہر طرح کی خرابی کا مرقع تھا اور برائی پر تفاخر کیا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے معاشرے کی تطہیر کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور 23 برس کے مختصر عرصے میں ایک نئی دنیا بسا دی۔

    مخلوق کو مخلوق کے دام فریب سے نکالا، غلاموں کو آزادی اور محکموں کے حقوق متعین کیے۔ بیٹی کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور عملی طور پر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر رووپ میں عورت کی قدر منزلت واضح فرما دی۔ وحشیوں کو تہذیب و تمدن کا شاہکار بنایا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیا۔

    آدمیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور احسان کی کا یہ عالم ہے کہ خود رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کو مومنوں پر ایک احسان عظیم قرار دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی اخروی نجات کے لیے اس قدر فکر مند ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں فرمایا

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞

    ترجمہ:
    اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے
    القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 6

    آج عالمی یوم اساتذہ #WorldTeachersDay کے موقع پر ہم معلم انسانیت کے مشکور ہیں جن کے دم سے ہم شرف آدمیت کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم، معلم انسانیت پر ان گنت درود و سلام بھیجے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاشرے کی اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی اس کا احیاء کریں تاکہ نسل انسانی محرومی اور نا انصافی سے بچ سکے اور آدمیت کی رفعت کو چھو سکے۔ آئیے ہم کوشش کریں کہ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور ناانصافی پر کڑھنے کی بجائے اپنے حصے کی بھلائی پھیلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔

    محمد نعیم شہزاد
    @UstaadGe

  • سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے       عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین عمان کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے جبکہ ملک میں کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق سمندری طوفان "شاہین” آج اتوار کی صبح سلطنت عُمان کے ساحل سے ٹکرا گیا۔ سوشل میڈیا پر عمان میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز آندھی کی تصاویر اور وڈیو شئیر کی گئیں-

    عمانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہین طوفان کے سبب مسقط صوبے میں انتہائی تیز بارشیں ہو رہی ہیں شہری دفاع کے مطابق صوبے میں بارش کے دوران سواریوں میں پھنس جانے کے 9 واقعات کی اطلاع ملی اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔


    قدرتی آفات کے پیشگی انتباہی قومی مرکز کے مطابق شاہین طوفان کا مرکز مسقط صوبے سے تقریبا 130 کلو میٹر دور ہے۔ مرکز کے گرد ہوا کی رفتار کا اندازہ 116 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

    "شاہین”سمندری طوفان نے گوادرکے ساحل پرہلچل مچادی:کشتیاں الٹ گئیں،خطرے…

    عرب موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔


    عُمان کی شہری ہوابازی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ قومی قدرتی آفات پیشگی انتباہی مرکز کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر اور موسمی چارٹس کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ سمندری طوفان ’’شاہین‘‘ شدت اختیار کرچکا ہے اور اب وہ سمندری طوفان کی کیٹگری ایک میں شامل ہے۔

    عمان میں حکام نے سمندری طوفان شاہین کی وجہ سے خراب موسمی حالات کے پیش نظر اتوار اور پیر (3 اور 4 اکتوبر) کو ملک بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    عمان کی خبررساں ایجنسی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’3 اور 4 اکتوبر 2021 کو سلطنت میں نامساعد آب وہوا کے حالات کے پیش نظر ظفاراورالوسطیٰ کی گورنریوں کے سوا ریاستی انتظامی محکموں، دیگر قانونی اداروں اور نجی شعبے کے اداروں کے ملازمین کے لیے سرکاری تعطیل ہوگی۔‘‘


    موسمیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان عمان پراثرانداز ہونے کے بعد خلیج عرب کی طرف بڑھے گا اوراس سے قطر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

    سنہرے مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے والےجہلم کے نوجوانوں کا گروپ تاوان کےلیے اغواء

    اس سے قبل عمان کے شہری ہوا بازی کے ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اس طوفان کے سبب تیز ہوائیں چلیں گی اور200 سے 600 ملی میٹرتک موسلا دار بارش ہو گی۔ بارش کے نتیجے میں شمالی البطینہ، جنوبی البطینہ، مسقط، الظہیرہ، البریمی اورالداخلیہ میں شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔


    عمان میں ہفتے کے روز الخابورہ اور صحم میں ساحلی علاقوں سے شہریوں کو نکال کر پناہ کے مراکز منتقل کر دیا گیا تھا۔ ادھر عمانی وزارت صحت نے شاہین طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ 130 برسوں کے دوران میں 46 طوفان عُمان کے ساحلوں تک پہنچے ہیں-

    دوسری جانب سمندری طوفان سے گوادر کے ساحل سے بھی اونچی لہریں ٹکرا رہی ہیں اور سمندر میں طغیانی بھی ہے۔ حکام نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقام براہیم پر خانہ کعبہ کا عکس، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 4.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلہ کی گہرائی زیرزمین 23 کلومیٹر اورمرکز اٹک سے 28 کلومیٹر جنوب میں تھا۔

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    ابتدائی طور پر زلزلے سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی زلزلے کے وقت لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    پاکستان میں زلزلہ پروف 5 مرلے کا گھر صرف 40 دن میں تیار ہو گا ، خالد منصور کا…

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    جبکہ اس سے دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    کراچی میں آج سے 4 روزہ جزوی ہیٹ ویو شروع ہونے کا امکان محکمہ موسمیات

  • سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    پنجاب بھر کے میڑک اور انٹرمیڈیٹ کلاس کا رزلٹ کب جاری ہو گا؟ تاریخ سامنے آ گئی

    خیال رہے کہ دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قد یم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر میڈیا میں پابندی لگ جائے تو فیک نیوز کا خاتمہ ہو جائے گا رانا ثنا…

    اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

    اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر…

    ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

    اداکارہ ایمن سلیم نے اچانک شوبز چھوڑنے کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    زلزلے کی اقسام

    زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

    چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

    زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکی ریاست لوزیانا سے کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا ٹکرانے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    باغی ٹی وئ :رپورٹ کے مطابق کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا امریکی ریاست لوزیانا (Louisiana) سے ٹکرا گیا۔ جس کے بعد وہاں تیز بارشوں کے ساتھ 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جو گھروں اور مالز کی چھتے تک اڑا کر لے گئی۔

    رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، تاہم علاقے میں رہ جانے والے افراد کو طوفان کے گزر جانے تک محفوظ مقام پر رہنے اور احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہیں کرونا وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    امریکی پاور آوٹیج کے مطابق اس وقت امریکی ریاست میں 5 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ نیو اورلینز شہر کو بجلی پہنچانے والی تمام آٹھ ٹرانسمیشن لائنیں سروس سے باہر ہیں۔

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    لوزیانا کے محکمہ ٹرانسپورٹیشن کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر درخت گرنے کے باعث حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک کا نظام بھی روک دیا گیا ہے۔

    ریاستی گورنر کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان آئیڈا لوزیانا میں آنے والے مضبوط ترین طوفانوں میں سے ایک ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئیڈا پچھلے سال آنے والے سمندری طوفان لورا اور 1856 کے سمندری طوفان کے ساتھ ریاست کا اب تک کا سب سے طاقتور طوفان ہے۔

    لوزیانا کے گورنر نے لوگوں سے گھروں میں رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق سمندری طوفان اڈا نے ہفتہ کو گرم خلیج میکسیکو کے پانیوں میں شدت اختیار کی ، جس سے دسیوں ہزار افراد ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ، جبکہ صدر جو بائیڈن نے طوفان کے گزرنے کے بعد ریاستوں کو جلد صحت یاب ہونے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔

    پیشن گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اڈا اتوار کی رات کو امریکا کے مقام پر پہنچ سکتا ہے جو کہ پانچ قدمی سیفیر سمپسن اسکیل پر "انتہائی خطرناک” زمرہ 4 کا طوفان ہے ، جس سے 140 میل فی گھنٹہ (225 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں ، شدید بارشیں اور سمندری طوفان۔ لوزیانا کے ساحل کا بیشتر حصہ کئی فٹ پانی کے نیچے ڈوب گیا۔

    قومی سمندری طوفان کے مرکز نے بتایا کہ ہفتہ کی شام اڈا مسیسیپی دریا کے تقریبا 200 میل (320 کلومیٹر) جنوب مشرق میں تھا ، 105 میل فی گھنٹہ (169 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی تیز ہواؤں کو پیک کر رہا تھا اور لوزیانا کے ساحل کا مقصد تھا۔

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رپورٹس کے مطابق حکام نے طوفان کو انتہائی خطرناک بھی قرار دے دیا ہے، طوفان سے لوزیانا اور مسیسپی کے ساحلی علاقے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق حکام نے علاقے میں رہائش پذیر افراد کو علاقہ چھوڑنے کا بھی کہہ دیا ہے گزشتہ روز ان علاقوں میں معمول سے زیادہ ٹریفک دیکھا گیا، کئی علاقوں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول بھی ختم ہوگیا جبکہ جن پمپس پر فیول دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    تیل اور ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کو موسمی مشورے فراہم کرنے والے ڈی ٹی این کے چیف موسمیاتی ماہر جم فوسٹر نے کہا ، "ہم دھماکا خیز ترقی کے بارے میں فکرمند ہیں۔”

    این ایچ سی نے کہا اڈا کے طوفان کی لہر سے سیلاب – طوفان کی ہواؤں سے چلنے والا اونچا پانی – دریائے مسیسیپی کے ارد گرد 10 سے 15 فٹ (3 اور 4.5 میٹر) تک پہنچ سکتا

     

  • تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    اس وقت ملک میں موجود مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال میں ایک سنگین حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جیسے کہ ہم سب باخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اسلام میں نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بہکائے، اس کی بری عادت بن جائے، جو اس کی جان کو ہلاکت میں ڈالے نشہ ہی تو ہے جو ہم سب مسلمانوں پر حرام یے۔

    اسی طرح تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اس طرح سے پھیل رہا ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی یے۔ اس نشے سے سب سے زیادہ ہماری نوجوان نسل متاثر ہورہی یے۔ نوجوان لڑکے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے شوق کے متبادل اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    بلکہ اب تو لڑکیاں بھی بہت حد تک اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ پر افسوس وہ جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنے شوق اور تفریح کے لیے استعمال کررہے ہیں درحقیقت وہ ان کے لیے کتنی جان لیوا ہے۔ تمباکو نوش یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہلاکت کے گڑھے میں جارہے ہیں تمباکو نوشی کا استعمال اور زور وشور سے کرتے ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے واضح حکم دیا ہے:
    "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بےشک اللّٰہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے”
    (البقرہ 195:2)

    پھر ایک جگہ اور ارشاد ہوا ہے:
    "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بےشک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”
    (النساء 29:4)
    اگر غور کیا جائے تو اس بات میں کوئی دورائے ہے ہی نہیں کہ ہر وہ انسان جو تمباکو نوشی کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے کیونکہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یعنی خود سگریٹ بنانے اور بیچنے والے آپ کو چیخ چیخ کر بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پھر بھی اگر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خود ہی اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ اگر میں ایسا کیوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے جب کوئی تمباکو نوش کسی دوسرے فرد کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ نوش کررہا ہوتا ہے تو اس سے خود سگریٹ پینے والے کو کم نقصان ہوتا ہے اور جو شخص اس کے آس پاس موجود ہوتا ہے وہ سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اور کروڑوں افراد اس کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں مثلاً دل، پھیپھڑوں، کینسر اور زیابطیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ تر اس کے سبب پھیل رہی ہیں۔ اب یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر کو تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی قسم کے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر کب تک ہزاروں قیمتی جانیں یوں ہی ضائع ہوتی رہیں گی؟ ہماری نوجوان نسلیں کب تک اپنی زندگیاں اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتی رہیں گی؟

    @SeharSulehri

  • مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی  کو حرام قرار دیا

    مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو حرام قرار دیا

    مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو دینِ اسلام میں رائج شادی کے نظریات کے برخلاف اور حرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مصر میں سوشل میڈیا پر جز وقتی یا پارٹ ٹائم شادی سے متعلق ہونے والی بحث پر ملک کی اسلامی افتاء کونسل نے بیان جاری کیا ہے “پارٹ ٹائم” شادی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک کی افتاء کونسل نے خبردار کیا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

    مصری دارالافتاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ہمیں شادی کے لیے جدید اصطلاحات کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے .حالیہ دنوں میں شادی کے عمل کو جدید اصطلاحات سے منسوب کرنا، نمود ونمائش، شہرت ، دینی اقدار کو عدم استحکام اور منفی تاثر سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا سبب ہے لہٰذا اسلام ایسے قوانین کی اجازت نہیں دیتا۔

    دارالافتاء کونسل کا کہنا ہےکہ کچھ لوگ نکاح نامے کو نئے نام دے کر یا مخصوص وقت کے لیے مختص کرکے جو کچھ بھی کرتے ہیں ایسی کوششیں اس معاہدے کو باطل کرنے کا باعث بنتی ہیں، قانونی شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو مستقل اور تسلسل پر مبنی ہو ناکہ کسی مخصوص وقت تک محدود ہو، بصورت دیگر یہ شادی حرام ہے۔

    دارالافتاء کونسل کے اس بیان کے بعد جامعہ الازہر کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ کی جانب سے جز وقتی (پارٹ ٹائم) شادی کو جائز قرار دینے کے بعد مصر میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی اور اس نئے رحجان کی حمایت اور مخالفت میں آرا سامنے آنے لگیں۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے فقہ کے پروفیسر کریمہ نے کہا کہ باہمی رضامندی، گواہ اور جہیز کی بنیادی شرائط مکمل ہونے پر جز وقتی شادی میں کوئی حرج نہیں ایک بار جب یہ شرائط پوری ہوجائیں تو شادی جائز ہو جاتی ہے اور اس میں مشترکہ وراثت، رہائش اور قانونی طریقے سے لطف اندوز ہونے کے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

    پروفیسر کریمہ نے زور دے کر کہا جب تک شادی کا معاہدہ شرائط کو پورا کرتا ہے جزوقتی شادی میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “عارضی شادی” کے برعکس جو ایک یا دو ماہ تک محدود ہوتی ہے کو اسلام میں باطل ہے جبکہ پارٹ ٹائم شادی جائز ہے۔

  • خاتمے کی ابتدا تحریر:محمد وقاص شریف

    )

    ملکی حالات سے عوام الناس کی امیدوں پر تو پانی پھرا ہی ہے خود عمران خان کا دل بھی سوگوار ہے 22 سالہ کاوشوں کے بعد اقتدار ملا بھی تو کیا ملا سب سے پہلے تو صرف ایک صوبے میں واضح برتری ملی اور حکومت بھی بنی۔ سندھ بلوچستان بس حاضری لگی۔ پنجاب اور وفاق میں جس طرح حکومتیں بنائی گئی ہیں ان کے بارے میں سوچا بھی جائے تو چیخ نکل جاتی ہے۔ اگر مقتدر حلقے خاموش حمایت نہ کرتے جہانگیر کا جہاز نہ اڑتا تو خان صاحب کے پی کے میں کسی سنسان جگہ پر بیٹھ کر اللہ اللہ کر رہے ہوتے حالت یہ ہے کہ اگر ڈاکو اپنا ہاتھ کھینچ لے چپڑاسی ذرا پیچھے ہٹ جائے۔ سند ھ کے غدار آ نکھیں ماتھے پہ رکھ لیں تو پنجاب اور وفاق واپس نااہلوں چوروں۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کے پاس چلا جائے گا اور یہی نیب خوردبینیں لگا کے پی ٹی آئی کے لوگوں کی ایسی کی تیسی کرنے پر تل جائے گی یہی وجہ ہے کہ۔ ary۔ کے صابر شاکر کو یہ کہنا پڑا کہ عمران خان دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر جانے سے پہلے ناکامی کی آخری سٹیج دیکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس حکومت نے چارج سنبھالتے ہی سیاسی دشمنوں سے نمٹنے پر زیادہ توجہ دی۔ الیکشن سے پہلے کی گئی تقاریر میں عمران خان نے جن جن لوگوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی بات کی۔ ان کو پہلے ہی سال جیل میں پہنچایا۔ سیاست میں اپنے آپ کو منوانے کا وقت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس تھوڑے سے وقت کو فضولیات میں برباد کر دیا جائے تو پیچھے پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ اپنا قیمتی ترین وقت سیاسی دشمنوں پر برباد کرنے کے بعد جب یہ لوگ عوام کی طرف لپکے تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی گھی۔ آ ٹا۔ چینی۔ دال۔ گیس۔ بجلی کی قیمتیں آ سمان سے باتیں کر رہی ہیں معاملات ہاتھ سے نکل چکے ہیں اتحادی اس واضح بربادی کو دیکھ کر پتلی گلی سے نکل رہے ہیں۔ حالات اتنی تیزی سے بدلیں گے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ایک عوامی حکومت عوام کی نظروں سے گر چکی ہے اگر عمران خان برباد کنندگان کو ڈھونڈنا چاہیں تو اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں آسانی سے مل جائیں گے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ تین سال میں ایک نئی اینٹ بھی نہیں لگ سکی۔ حالانکہ ان کو ایک رواں دواں اورورکنگ ملک ملا تھا۔ اس حکومت نے قیمتی ترین تین سال کرپشن کے رونے دھونے میں گنوا دیے۔ کرپشن صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں یہ تو انٹرنیشنل معاملہ ہے۔ جس چائنا کی مثالیں دیتے دیتے عمران خان تھکتے نہیں وہاں حال ہی میں کرپشن کی بنیاد پر متعدد لوگوں کو سرعام پھانسی دی گئی ہے۔ معاشروں میں موجود برائیاں بدتریج کم ہوتی ہیں انہیں بیک جنبشِ قلم ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر موجودہ حکومت پہلے دن سے ہی عوامی مشکلات پر کام کرتی تو آج منگائی پچھلے پچاس سال کا ریکارڈ نہ توڑتی۔ ساری توانائی کرپشن پر صرف کرنے اور خزانے پر سانپ بن کر بیٹھنے کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہوا۔ جسے ہوش ربا مہنگائی نے پر کر دیا اب یہ لوگ جتنا مرضی دیواروں سے سر ٹکرائیں نہ مہنگائی کم ہو گی اور نہ عوام ان کو خاطر میں لائیں گے یہ عوامی اعتماد کھو چکے ہیں ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والے خود خان صاحب کی گود میں بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف وہ جا نہیں سکتے۔ اتحادی آہستہ آہستہ سرک رہے ہیں۔ ان کو واپس لانے کے دروازے بھی بند ہورہے ہیں۔ تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے۔ کہ خاتمے کی ابتدا ہو چکی۔ انتہا بہت قریب ہے.
    @joinwsharif7