Baaghi TV

Category: اسلام

  • 142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ    ماہرین

    142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ ماہرین

    ماہرین کے مطابق 142 سال کی تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ تھا۔

    باغی ٹی وی : ماحولیاتی ادارے کی جاری رپورٹ کے مطابق تاریخ میں جولائی 2021 اب تک زمین کا گرم ترین مہینہ رہا ہے زمین اور سمندر کی سطح کا مشترکہ درجہ حرارت 20 ویں صدی کی اوسط سے 1.67 فیرن ہائٹ زیادہ تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مشترکہ درجہ حرارت پچھلے ریکارڈ سے 0.02 فیرن ہائٹ زیادہ تھا جو 2016 میں ریکارڈ کیا گیا تھا شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور اوشیانا سب کا جولائی کا درجہ حرارت اپنی اپنی ٹاپ 10 فہرستوں میں تھا۔

    رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ نیا ریکارڈ پریشان کن ہے اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    جولائی کے ریکارڈ درجہ حرارت کے بارے میں عالمی ادارے کا تجزیہ اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ پہلے ہی شدید موسم کا باعث بن رہی ہے اور دنیا 2040 تک 2.7F درجہ حرارت میں اضافہ دیکھے گی ۔

    اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی لہریں ، سیلاب اور خشک سالی شدید سے شدید ہو جائیں گی کوئلے ، تیل اور گیس کو توانائی کے لیے جلا کر انسان پہلے ہی سیارے کو تقریبا 2 ڈگری فارن ہائیٹ سے گرم کرچکا ہے یہ لنک غیر واضح اور ناقابل واپسی ہے لیکن اگر حکومتوں نے تیزی سے کام کیا تو اس کے بدتر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    حال ہی میں جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا –

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے-

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    جبکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں شدید گرمی اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ کا تازہ ترین ریکارڈ ہے۔درجہ حرارت کے ریکارڈ کینیڈا ، امریکہ کے مغرب ، فن لینڈ ، ایسٹونیا ، ترکی اور ماسکو میں توڑے گئے ہیں۔ جرمنی اور چین کے کچھ حصوں میں سیلاب آیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جنگل سائبیرین تائیگا میں ریکارڈ جنگل کی آگ بھڑک رہی ہے۔

    کوپرنیکس اتموسفیر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان مارک پیرنگٹن کے مطابق ، روس کے سخا ریپبلک جنگل میں آگ نے اس سال 208 میگا ٹن کاربن جاری کیا ہے جو کہ پچھلے سال کا ریکارڈ ہے۔

  • "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت اور شب و روز پر اردو میں کوئی مستند کتاب جس کو پڑھا جا سکے یا پھر ہم نے فقط شہداء کی شہادتوں کے دنوں پر قصے کہانیوں سے سے ہی عوام کو بےوقوف بنا کر لڑوانا ہے؟
    شہداء کی شہادتوں پر ماتم نہیں کیے جاتے ان کی سیرت کو اپنایا جاتا ہے، ان کے چنے ہوئے راستے پر چلا جاتا ہے.اسلام کے عظیم شہداء کے نام پر اسپیکرز پھاڑ کر دیہاڑی لگا انہی کے محبوب لوگوں پر طعنہ زنی کرکے لوگوں کو باہم دست و گریبان کروا کر آرام سے اپنے عشرت کدوں کی طرف چل دینا اسلام اور اہل بیت کی کوئی خدمت نہیں ہے.
    دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس اور شہادتوں کے مہینے میں کہ جس کی ابتداء ہی عمر ابن الخطاب کی شہادت سے ہوتی ہے اس مقدس مہینے میں اسپیکرز پر للکارے مارنے اور کتے و کافر کے نعرے مارنے سے بھی کوئی اسلام و صحابہ کرام کی خدمت نہیں ہوتی ہے.
    اگر اسلام اور اسکو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب کی سیرت پر کام کیجیئے. عوام کو بتائیے کہ ابوبکر و عمر کا اخلاق و کردار کیسا تھا. عثمان و علی کا سخاوت و انصاف کیسا تھا. نبی کے گھرانے سے صحابہ کرام کا تعلق کیسا تھا. حسن و حسین سرداران نوجوانان جنت کے شب و روز کیسے اور کہاں گزرتے تھے. ان کا بچپن و جوانی کیسی تھی، کردار کیسا تھا، لوگوں کے ساتھ معاملات کیسے تھے.
    کوئی ہے جو ان سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے سے باز آئے اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل کر اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کی سچے اور سچے واقعات لوگوں کو پڑھائے اور پھر ان پر عمل پیرا ہوا جائے…..
    "اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ ”
    Muhammad Abdullah

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • برِصغیر پاک و ہند  کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    برِصغیر پاک و ہند کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    پنجابی (دیسی) کیلنڈر:

    (چیت، وساکھ، جیٹھ، ہاڑ، سَون، بھادروں، اسو، کَتا، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن)

    بارہ دیسی مہینے۔۔۔ بارہ موسم

    1- چیت/چیتر (بہار کا موسم) ،
    2- بیساکھ/ویساکھ (گرم سرد، ملا جلا) ،
    3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ) ،
    4-ہاڑ/اساڑھ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز) ،
    5- ساون/ساؤن (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون) ،
    6۔ بھادوں/بھادروں (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں) ،
    7- اسُو/اسوج (معتدل) ،
    8- کاتک/کَتا (ہلکی سردی) ،
    9۔ مگھر (سرد) ،
    10۔ پوہ (سخت سردی) ،
    11- ماگھ/مانہہ (سخت سردی، دھند) ،
    12- پھاگن/پھگن (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

    برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا اغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے، جبکہ پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر، اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

    بکرمی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ہندوستان کے ایک بادشاہ "راجہ بِکرَم اجیت” کے دور میں ہوا۔ راجہ بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ اس شمسی تقویم میں سال "چیت” کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

    تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

    1: 14 جنوری۔۔۔ یکم ماگھ
    2: 13 فروری۔۔۔ یکم پھاگن
    3: 14 مارچ۔۔۔ یکم چیت
    4: 14 اپریل۔۔۔ یکم بیساکھ
    5: 14 مئی۔۔۔ یکم جیٹھ
    6: 15 جون۔۔۔ یکم ہاڑ
    7: 17 جولائی۔۔۔ یکم ساون
    8: 16 اگست۔۔۔ یکم بھادروں
    9 : 16 ستمبر۔۔۔ یکم اسوج
    10: 17 اکتوبر۔۔۔ یکم کاتک
    11: 16 نومبر۔۔۔ یکم مگھر
    12: 16 دسمبر۔۔۔ یکم پوہ

    بکرمی کیلنڈر (پنجابی دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے.

    ان پہروں کے نام یہ ہیں۔۔۔

    1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
    صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

    2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
    صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

    3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

    4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
    سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

    5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
    شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

    6۔ کفتاں ویلا:
    رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

    7۔ ادھ رات ویلا:
    رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

    8۔ سرگی/اسور ویلا:
    صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت

    لفظ "ویلا” وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے

  • آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم  تحریر :  ندرت حامد

    آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم تحریر : ندرت حامد

    تعلیم کے معنی شعور اور آگاہی کے ہیں اور اسی شعور اور آگاہی کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون نے تعلیم کو انسان کے فطری غذ ا قرار دیا ۔جس طرح جسم کو تندرست و توانا رکھنے کے لیے غذا بہت ضروری ہے اسی طرح دماغ کو ترو تازہ رکھنے کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔ لیکن وہ تعلیم جو انسان کو تروتازہ رکھے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے اسلامی تعلیمات لازم و ملزوم ہے ۔ اسلامی تعلیم سے معاشرے میں برائیاں ختم ہوتی ہیں اور معاشرہ ایک طرح کے توازن میں رہتا ہے ۔ امام غزالی نے اسلامی تعلیم کی تعریف کچھ یوں کی ہے نفس انسانی کو مہلت عادت اور بری خصلتوں سے بچانا اور اسے عمدہ اخلاق سے مزین کر کے سعادت کی راہ میں ڈال دینے کا نام اس تعلیم ہے ۔پوری دنیا اور عالمی اسلام میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ تعلیم محض معلومات کی ترسیل کا نام نہیں ۔بلکہ معلومات حقائق اور افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ تہذیب اخلاقیات اور نفس کی تربیت کرنا بھی شامل ہے۔
    مگر آج چند کتب کو رٹنے کا نام تعلیم ہے۔ موجودہ دور میں تہذیب و اخلاقیات صفر ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر عریانی اور فنکشنز کے نام پر اچھی بھلی معصوم عزت دار لڑکیوں کو پرفارمرز یعنی ٹھمکے لگانے والی طوائفیں بنایا جا رہا ہے۔
    گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ
    آج کی نوجوان نسل اسلامی تعلیم سے کوسوں دور ہے مغرب کا ایجنڈا ان کا ایجنڈا ہے تھوڑی سی محنت کے بعد موساد نے ہمارے نوجوانوں کو اس قدر زلیل ورسوا کیا جس کی انتہا نہیں۔ ماں باپ کو بس نوکریاں چاہیے اور بچوں کو وقت گزاری کیلئے مشاغل ہر بندہ اپنی اساس بھول چکا ہے ۔ فیشن کے پیچھے لاکھوں لگا دینے والےپھٹے جوتوں سے ملک فتح کرنے والوں کے سکون سے نا آشنا ہیں ۔ قارئین ہمارا فرض ہے اپنی نسلوں کو سدھارنا ہے اور یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔
    @N_Hkhan

  • پرائیویٹ اسکولز مافیا  تحریر:  فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز مافیا تحریر: فرقان اسلم

    ‏”علم ایک لازوال دولت ہے”
    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب بات آجاتی ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ ہمارے ملک پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔
    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ:
    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان :
    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے
    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    ‎@Rumi_PK

  • بچوں کا جنسی استحصال   تحریر : علی حیدر

    بچوں کا جنسی استحصال تحریر : علی حیدر

    حیات انسانی کے اہم ترین ادوار میں اک دور بچپن کا ہے جو ایک انسان کی باقی ماندہ ذندگی پر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ بچپن کا وقت انسان کی جسمانی, ذہنی اور نفسیاتی نشوونما کے لئیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انسان کا ذہن بچپن میں بڑھوتوی کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے چناچہ اس دورانیے میں ہونے والا کوئی خوش گوار یا ناخوشگوار واقعہ نہ صرف بچے کے ذہن پر ہمیشہ کے لئیے نقش ہو جاتا ہے بلکہ اس کی آنے والی ذندگی پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
    بچوں کا جنسی استحصال بچے کی ذہنی , جسمانی اور نفسیاتی ذندگی پر بری طرح اثر ڈالتا ہے ۔ بچے کا حافظہ بچپن میں بہت تیز ہوتا ہے اس لئیے وہ بات بچے کو یاد رہتی ہے۔
    بچوں کی بچوں سے ذیادتی یا بڑی عمر کے افراد کا بچوں کا جنسی و جسمانی استحصال ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں ۔ ہر آئے روز نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بچوں پہ تشدد کرنے کے بعد ان کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ کچھ کیسز میں جنسی استحصال کے بعد ان کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔
    اگرچہ حکومت نے ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن جب تک ان مسائل کی وجوہات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے سدباب کے لئیے مئوثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے یہ مسائل سماج میں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
    سب سے پہلے ہمیں بچوں سے ذیادتی کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ہم وجوہات کو سمجھنے کے بعد کوئی مؤثر اقدامات اٹھا سکیں۔
    بچوں سے ذیادتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو بہلانا اور پھسلانا آسان ہے ۔ کمزور ٹارگٹ ہونے کی وجہ سے مجرم کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    اس لئیے والدین اور اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ میل جول کی ممانعت کریں ۔ ان کو سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی اجنبی آپ کو کسی بہانے ورغلا رہا ہو یا اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہا ہو تو اس کے ساتھ ہر گز نہ جائیں بلکہ اپنے والدین کو اس شخص کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جسمانی و جنسی استحصال کے واقعات اکثر و بیشتر ملک کے ان حصوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔ چناچہ اس بات کو کبھی بھی بنیادی وجہ نہیں بنایا جا سکتا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی مرد و عورت کے اختلاط یا عورتوں کی بے پردگی یا سوشیل میڈیا کے استعمال سے جنم لے رہی ہے۔
    کالجز اور یونیورسٹیز میں اگرچہ مرد و عورت کا اختلاط عام ہے لیکن وہاں ایسے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ وہ افراد دراصل باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک بات یہ بھی قابل غور ہونی چاہئیے کہ شہروں کی عورتیں تعلیم یافتہ اور جدت پسند ہوتی ہیں ۔ وہاں بچوں کے ساتھ ذیادتی کے کیسز بہت کم رونما ہوتے ہیں ۔
    جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو گاؤں اور دیہاتوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ مرد و عورت کا اختلاط بھی کم ہوتا ہے۔ سوشیل میڈیا کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن وہاں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    چناچہ جدت پسندی اور مرد و ذن کا اختلاط بچوں کے جنسی استحصال ایک وجہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ تعلیم کا فقدان اور شعور کی کمی ہے۔

    یہ بات لازمی نہیں ہے کہ جو جنسی استحصال کی وجہ ہو وہی جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنے ۔ مجرم ایسا جرم کرنے پہ آمادہ تب ہوتا ہے جب وہ انٹرنیٹ پہ فحش مواد دیکھتا ہے , یا فلموں اور ڈراموں کی بدولت اس کی ذہنی سازی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی جنسی حوس کی تسکین کے لئیے کمزور اور اور کم مزاحمت والے ایسے افراد کو نشانہ بناتا ہے جو اسے فی الوقت میسر ہوتے ہیں چناچہ وجہ انٹرنیٹ پہ موجود مواد یا فلمیں اور ڈرامے ہو سکتے ہیں لیکن نتائج کوئی اور بھگت رہا ہوتا ہے۔
    معاشرے سے ایسے ناسور کو مکمل طور پہ ختم کرنے کے لئیے حکومت وقت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کے طبقے کو تعلیم تک آسانی سے رسائی ہونی چاہئیے تاکہ ایک با شعور معاشرہ کا قیام عمل میں آ سکے۔
    بچوں کی ذہن سازی کے لئیے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذرئیعے موثر آگاہی کے لئیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بچے اس مجرم کے بہلانے اور پھسلانے کے طریقہ سے پہلے ہی آگاہ ہوں اور اس کے بہکاوے میں آنے سے پہلے ہی اس کے عزائم کو بھانپتے ہوئے وہاں سے فرار ہو کر والدین کو مجرم کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کو روکنے کے لئیے مؤثر اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہونا چاہئیے کہ ایسے مقدمات کے فیصلے فوراً ہنگامی بنیادوں پہ کرتے ہوئے مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئیے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور دوبارہ کوئی مجرم ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے منطقی انجام سے پہلے ہی آگاہ ہو ۔

    @alihaiderrr5

  • عقلمند طبیب اور بادشاہ    تحریر: مدثر حسین

    عقلمند طبیب اور بادشاہ تحریر: مدثر حسین

    پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ سے بہت پریشان تھا. اسکا موٹاپا اسے ایک انکھ نہ بھاتا تھا. اس نے ایک دن اپنے وزیروں اور طبیبوں کو بلا کر اس کے حل پہ بحث کی. مگر کوئی نسخہ یا دوا اثر نہ دکھا سکی. پھر اس ملک کے ایک بہت ہی قابل اور ذہین طبیب کو بلایا گیا. اس نے ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ اگر بادشاہ سلامت مجھے اجازت دیں تو میں علم نجوم کے زریعے سے بتا سکتا ہوں کہ بادشاہ کے لئے کون سی دوا فائدہ مند ثابت ہو سکے گی. اگلے دن طبیب بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت گستاخی معاف پر جو بات میں اپکو بتانے جا رہا ہوں وہ اپ کے لئے بہت تکلیف دہ ہے. بادشاہ نے بڑے انہماک سے اس کی طرف دیکھا اور بات کہنے کی اجازت دی.
    طبیب بولا، بادشاہ سلامت علم نجوم یعنی ستاروں کے مطابق اپکی زندگی صرف ایک ماہ باقی رہ گئی ہے. بادشاہ یہ سنتے ہی ششدر رہ گیا اور اس نے خلوت میں دن گزارنے شروع کر دیے، اپنی گدی اپنے بیٹے کو دے دی اور اپنی گزری ہوئی زندگی پر پشیمان رہنے لگا، جب پچیس دن گزر گئے تو بادشاہ کو پریشانی اور فکر مندی سے کافی کمزوری لاحق ہو چکی تھی، طبیب کو بلوایا گیا. بادشاہ نے اس سے باقی کے دنوں کا حساب لگانے کا پوچھا تو طبیب بولا کہ حضور مجھے تو اپنی زندگی کا پتہ نہیں میں بھلا کیسے آپکی زندگی کے معتلق جان سکتا ہوں؟؟ وہ تو میں فکر و پریشانی کو آپ پہ مسلط کرنا چاہتا تھا تا کہ اس فکر سے اپکی چربی پگھل جائے اور آپ کھانا پینا بھی کم کر دیں. آج دیکھیں آپ پہلے سے کافی دبلے ہو گئے ہیں.
    بادشاہ طبیب کے اس طریقہ علاج سے بڑا متاثر ہوا اور اسے بہت سارے ہیرے جواہرات سے نوازا.

    ‎@MudassirAdlaka

  • بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے  تحریر: ذیشان علی

    بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے تحریر: ذیشان علی

    گردش ایام یا اشاعت اعمال نے آج مسلمانوں کو ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کونسی آنکھ ہوگی جو ہمارے زبوں حالی اور ذلت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو،
    کبھی وہ دور بھی تھا کہ ایک مسلمان عورت کے سر کے بالوں پر کسی غیر محرم کی نظر بھی نہ پڑھ سکتی تھی،
    لیکن آج ان رسم و روایات کو صرف سنا اور سنایا جاتا ہے،
    ماڈرنزم اور فیشن کے نام پر خود کو برہنہ کرنے کا جو ٹرینڈ ہمارے ہاں چل پڑا ہے ڈرامہ انڈسٹری بڑی تیزی کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہے، اور عین ممکن ہے کہ حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اور وہ تہذیب و ثقافت ہمارے سامنے ہو جو نا تو قبول کی جا سکے اور نا دیکھی جا سکے،
    مگر یہ سب کہنا کہ ایسا ہوگا،!!؟ ایسا تو پہلے سے ہو رہا ہے کوشش کرنی ہے کہ ایسا مزید ہونے سے روکا جائے،
    لہذا اپنی روایات کو نظر انداز نہ کریں اس کا ضرور خیال رکھنا ہو گا وہ قومیں جو دوسروں کی اقدار و روایات کو اپناتی ہیں اپنا آپ کھو دیتی ہیں اپنی پہچان اپنی ثقافت نہ رہی تو بھلا وہ قوم کیا کہلائے گی؟
    عورت کی زینت اور عزت اس میں ہے کہ وہ چھپا کر رکھی جائے کیا ہم سبھی ایسا سوچتے ہیں؟
    ہمیں ایسا سوچنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری روایت ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات بھں،
    جب تک مسلمان اسلامی آداب و اطوار سے سختی کے ساتھ بندھے ہوئے رہتے تھے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا تھے اسلامی قوانین کے آگے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھے تو کامیابی اور فتح ان کا مقدر ہوا کرتی تھی اور جب سے مسلمانوں نے اپنے طریقے اسلامی کو ترک کر دیا اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام کی تہذیب کو اپنانا شروع ہو گئے تو دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، شروعات ہو چکی ہے اور کافی وقت گزر گیا اور بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بدلنا والا ہے،
    لیکن ہمیں اپنی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا اور وہ چیزیں وہ فیشن کرنے سے بریز کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے اور جس سے ہماری تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے،

    کیونکہ بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے،

    یہ کہنا کہ یہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بالکل غلط ہے ایسی باتیں اس لئے کی جاتی ہیں اور وہ بھی بس یورپ کی تہذیب اور ثقافت اور ان کے رہن سہن سے متاثرہ لوگ ہی کرتے ہیں،
    ترقی اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو مضبوطی سے پکڑ کر بھی کی جا سکتی ہے
    جب مسلمان تمام عالم میں عزت و برتری کے واحد مالک تھے وہ ترقیات کی تمام منازل میں بڑی بڑی قوموں سے آگے تھے تو اس وقت اپنی اسلامی اقدار اور روایات تہذیب کو مضبوطی کے ساتھ اپنائے ہوئے تھے،
    مسلم خواتین تعلیم یافتہ تھیں واعظ و تقریر کہا کرتی تھی تلقین و ہدایت کے بھی فرائض انجام دیتی تھیں اور یہ سب امور پسے پردہ انجام پاتے تھے،
    یہ معیار اور پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا جو آج ہم نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا ہے کہ دوسری اقوام کی طرح آج بھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم ان کی ثقافت، تہذیب اور روایات کو اپنا لیں،
    یہ سب ہم اقوام مغرب پہ فریفتہ ہو کر کہتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ہمارے اصول و قوانین اسلامی اقدار ضابطہ اخلاق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہرگز نہیں ہو سکتے،
    لہذا کوشش کیجئے اپنی روایات کو زندہ کریں اور اپنی تہذیب کے ساتھ مضبوطی سے جڑ کر ترقی کی طرف قدم بڑھائیں،
    برعکس اس کے کہ ہم ترقی کرنے کی غرض سے اپنی روایات کو مسلسل روندتے چلے جائیں اور پھر ہمارے اس سفر کے اختتام پر جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہوں گے اور اپنی منزل پانا،
    درحقیقت ہم نا تو اپنی منزل پا سکیں گے اور شاید سفر کے بجائے ہمارا اختتام ہو جائے،
    اور پھر ہمیں دیکھ کر یا سوچ کر یا پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ،
    ”تم تو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے”

    @zsh_ali

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder