Baaghi TV

Category: اسلام

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق  تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • بزرگ

    بزرگ

    بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

    ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

    ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

    ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
    کہتے
    ” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

    بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
    جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

    اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
    زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

    شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
    چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
    کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
    شعر ہے کہ
    اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
    ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

    @Talha0fficial1

  • دین اسلام کیا ہے    تحریر:    ارشاد حسین

    دین اسلام کیا ہے تحریر: ارشاد حسین

    اسلام کا مطلب اطاعت ہے کسی اور کے آگے جھکنے کی بجائے نفس سے بالاتر ہو کے اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر زندگی گزارنا ہے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما تسلیم کرنا ہے اسلام وہ واحد دین ہے جو دیگر تمام ادیان کا احاطہ کرتا ہے رب کریم کا قرآن میں ارشاد ہے دین تو صرف اسلام ہے سورہ المائدہ آیت نمبر (3)میں رب کریم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے دین کو ہم نے مکمل کر لیا ہے نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے تمام ادیان دین اسلام کو منتخب کیا ہے جس رب نے ہم سب کو اس دین کا پیروکار بنایا اس رب کریم کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے ایک اچھا مسلمان بننے کے لئے ہم سب کو صاحب اعتبار بننا ہوگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان پہ امین ہونے کا یقین ہو لوگوں کو۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال قائم کی وہ مبارک ہستی اس قدر لائق اعتبار تھی کہ مشرکین بھی اپنی امانتیں ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ ہجرت پر نکلے تو لوگوں کی بیش قیمت امانتیں ان کے پاس تھی وہ بیش قیمتی امانتیں کس کی تھی جانتے ہو ان کی جان کے دشمن مشرکین کی ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت پر روانہ ہونے سے پہلے وہ امانتیں باحفاظت لوگوں تک پہنچانے کے لئے حضرت علی کے سپرد کر دیں سوچو اس معاشرے کے بارے میں جو ان کی جان کے دشمن تھے لیکن وہ اپنی قیمتی چیزیں امانتن ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھوایا کرتے تھے اب یہ بات تو طے ہے کہ صاحب اعتبار ہونا ضروری ہے عظیم حکمت پوشیدہ ہے اس میں ہمیں ہمیشہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے اپنی بساط کے مطابق اپنے پیغمبر کی طرح عمل کرنا چاہیے ہمارے پیغمبر کی زندگی انسانیت کے لئے مثال ہے اگر ہم نے نیک نیتی سے اس عمل کو انجام دینے کی کوشش کریں تو اللہ بھی ہماری مدد کرتا ہے ہم مسلمان بہت خوش قسمت ہیں اس مبارک ہستی کی امت میں شامل ہوئے اللہ پاک ہم سب کو کوشش کرنے والوں میں قرار دے آمین

    @ir_Pti
    twitter.com/ir_Pti

  • جنات اور جادو  تحریر : جواد خان یوسفزئی

    جنات اور جادو تحریر : جواد خان یوسفزئی

    دنیا کے ہر معاشرے میں غیر مرئی مخلوقات کے بارے میں عقیدے ملتے ہیں۔ہر معاشرہ اپنے کلچر اور زبان کے مطابق ان کا نام رکھتا ہے اور ان کی تفصیلات طے کرتا ہے۔ابراہیمی مذاہب میں ان چیزوں کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں لیکن دیگر مذاہب میں یہ مذہب کے بنیادی اعتقادات کا لازمی حصہ ہیں۔ ان مذاہب، مثلاً ہندومت میں یہ سب دیوی دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کائینات بالخصوص انسانی زندگی میں یہ بنیادی رول ادا کرتے ہیں۔ لوگ ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں۔
    ابراہیمی مذاہب میں اگرچہ غیر مرئی باشعور مخلوقات کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے تاہم ان کو دیوی دیوتا کی حیثیت حاصل نہیں۔ اس لیے یہ زیادہ سے زیادہ انسان کی طرح باشعور اور ذمہ دار مخلوق ہوسکتے ہیں، بس۔ بلکہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے یہ انسان کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ ان مذاہب میں ان مخلوقات کی رضامندی حاصل کرنے یا ان کو خوش کرنے کی کوشش کرنامستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ خصوصآً اسلام کے کڑے موحدانہ اصولوں کی وجہ سے ایسے مخلوقات کو برتر سمجھنا، ان کی اطاعت کرنا اور ان سے مدد مانگنا شرک کے زمرے میں آسکتا ہے۔
    اسلام میں صرف دو قسم کی غیر مرئی مخلوقات کا تصور پایا جاتا ہے۔اول فرشتے ہیں جو خدائی نظام کے کارکن اور اس کے حکم کے تابع ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ با اختیار مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالےٰ کے احکام کو بجا لانے والے ہیں۔اس لیے انسان کے لیے ان کی اطاعت یا ان کو خوش رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری مخلوق جن ہے۔ جن کے معنی عربی میں "پوشیدہ” کے ہیں۔ یعنی غیر مادی، غیر مرئی با اختیار مخلوق۔ اس کے بارے میں دینی مأخذ زیادہ تفصیلات بیان نہیں کرتے کیونکہ انسان کو ان کے بارے میں جاننے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ ان کے بارے میں ایک اہم اطلاع یہ ہے کہ شیطان بنیادی طور پر انہی میں سے تھا۔ نیز یہ کہ شیطان کے کچھ ایجنٹ جنات میں سے بھی ہیں (جیسے انسانوں میں سے ہیں)۔شیطان اپنے ان دو قسم کے ایجنٹوں کے ذریعے انسانوں (اور غالباً جنات کو بھی) گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالےٰ ٰ کا حکم ہمیں یہ ہے کہ ہم ان شیاطین کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔شیطان اور اس کے دونوں قسم کے ایجنٹ ایک نیٹورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔جنی شیاطین انسانی شیاطین کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کو غلط کاموں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس عمل کو جادو کہتے ہیں۔ جادو (جسے کوئی بھی نام دے دیں) مذہب کا متضاد عمل ہے۔مذہب خود کو ایک برتر ہستی کی مرضی کے تابع کردینے کا نام ہے، جب کہ جادو کا مقصد کسی ان دیکھی طاقت کو قابو میں کرکے اس سے فایدہ اٹھانا ہوتا ہے۔پس جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی ان دیکھی طاقت ہے جس کی مدد سے وہ کوئی کام طبعی ذرائع کے بغیر کر سکتا ہے، وہ جادو کرتا ہے۔
    قران مجید میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ جادو کفر ہے (کیونکہ جادو کرنے والا اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتا ہے)۔ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں کچھ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت ہے۔ ان میں جھاڑ پھونک کرنے والے (نفاسات فی العقد) نیز جنی اور انسی شیطان شامل ہیں، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ ان کو ملا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنی شیطان انسی شیطانوں کی مدد کرتے ہیں اور انسی شیطان لوگوں کو توحید کی راہ سے بھٹکانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان حربوں میں ایک جھاڑ پھونک بھی ہے۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • حضرت محمدﷺ   کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس جہاں میں بہت سے رسول اور نبی بھیجے۔ حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی ہیں جبکہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کا شجرہ نسب کچھ اس طرح ہے۔
    (محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن مناف بن قُصی بن کلاب بن مُرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمسیع بن سلامان بن عوض بن یوز بن قموال بن اُبی بن عُوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلجن بن ارعوے بن عیضی بن دیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسمعیل بن ابراہیم بن آزر بن نحور بن سروج بن رعو بن فلج بن ہود بن سلح بن ارفکسد بن سام بن نوح بن لمک بن متوسلح بن ادریس بن یارو بن محل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدمؑ)
    بنی اسرائیل میں نسل در نسل نبوت کا سلسلہ جاری رہا، پیغمبروں کی اولاد (بیٹے) بھی پیغمبر ہوئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور جوان بیٹوں کے باپ بھی ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام خود نبی ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والد بھی ہیں۔ اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام آپ کے بیٹے ہیں۔
    تو پھر حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں”۔ آخر اس میں کیا حکمت ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پہ اس لیے زور دیا کہ حضرت محمدﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں کیوں کہ آپؐ خاتم النبین ہے۔ اگر حضرت محمدﷺ کا کوئی بیٹا ہوتا اور وہ جوان ہوتا تو دو صورتیں ممکن ہوتیں۔
    ایک یہ کہ بیٹا بھی اللہ کانبی ہوتا جیسا کہ پہلے انبیاء کے بیٹے نبی یا رسول تھے، اور دوسری صورت یہ کہ بیٹا نبی نہ ہوتا۔ یعنی دو ہی امکانات ممکن تھے۔ پہلی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی نہ ہوتے بیٹا بھی جوان ہو کر نبی بنتا اور سلسلہ نبوت حضرت محمدﷺ پر ختم نہ ہوتا۔ دوسری صورت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوان ہوتا اور نبی نہ بنتا تو دوسرے انبیاء کی امتیں طعنہ دیتیں کہ ہمارے نبی کا تو بیٹا بھی نبی تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہو اور نبوت کی سعادت سے محروم رہے۔
    جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اگر ہوتا تو وہ بھی خدا ہوتا اور یہ شرک ہوتا پھر توحید ،توحید نہ رہتی۔ جس طرح توحید الوہیت نے رب کو بیٹے سے پاک رکھا اسی طرح شانِ ختم نبوت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوان بیٹے سے علیحدہ رکھا۔
    حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم وفات پاگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھاتے ہوئے فرمایا ان کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی ہے اور اگر زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔
    اس لئے اللہ رب العزت نے انہیں بچپن ہی میں اپنے پاس بلالیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کو نہیں آنا تھا۔ حضرت محمدﷺ کو آخری نبی مانے بغیر ایمان معتبر نہیں۔
    تحریر کے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر خاتمہ کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • امیرالمومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ کی زندگی پر مختصر نظر تحریر: عثمان بشیر گجر

    آپؓ کانام عثمان کنیت ابوعبداللہ لقب ذوالنورین تھا آپ کاشمار سابقین اسلام میں ہوتا ہیں
    آپؓ نے 34سال کی عمر میں اسلام قبول کیا
    آپؓ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے
    آپؓ کو نبی اکرمؐ کا دوہرا داماد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا
    آپؓ کے دور خلافت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا
    اس لئے آپؓ کو جامع قرآن بھی کہا جاتا ہیں
    آپؓ نے سب سے پہلے اسلام کی خاطر سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی
    اور بعدازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف فرمائی
    آپؓ کے نکاح میں سرکار دوعالمؐ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ رہی ہیں جس کی وجہ سے آپؓ کالقب ذوالنورین ہیں
    آپؓ کاشمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہیں
    آپؓ کے دور خلافت میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی
    آپؓ کے دور خلافت میں ہی پہلا بحری جہاز بنایا گیا

    نبی اکرمؐ نے فرمایا
    جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق( ساتھی) ہو گا میرا رفیق عثمان بن عفان ہو گا

    آپؓ کو متعدد مرتبہ نبی اکرمؐ نے جنت کی بشارت دی
    سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓ فرماتے ہیں
    جس وقت نبی کریم ﷺ جیش العسرة کی تیاری کر رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور انہیں آپ ﷺ کی جھولی میں ڈال دیا

    ❞فرأيت النبي ﷺ يقلبها في حجره ويقول ماضر عثمان ما عمل بعد اليوم.❝
    ترجمہ:
    میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ان دیناروں کو اپنی جھولی میں الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمارہے تھے:
    "آج کے بعد عثمانؓ کا کوئی عمل انہیں کچھ بھی نقصان نہیں دے سکے گا۔”
    📚 سنن الترمذی:3701:وسندہ حسن لذاته

    آپؓ شرم وحیا کا پیکر تھے

    ایک واقعہ اماں عائشہؓ بیان فرماتی ہیں
    رسول الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کی دونوں رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا اتنے میں باری باری سیدنا ابو بکرصدیقؓ اور سیدنا فاروق اعظمؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور ایسے ہی لیٹے لیٹے ان سے گفتگو کرتے رہے
    پھر جب سیدنا عثمان بن عفانؓ نےاندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنا کپڑا درست کرلیا
    سیدہ اماں عائشہؓ فرماتی ہیں
    ان تینوں کے جانے کے بعد جب میں نے آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا

    ❞ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة.❝
    ترجمہ: "میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں!”
    📚 «صحیح مسلم: ٢٤٠١
    آپؓ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے
    جس وقت باغیوں نے آپؓ کو گھر میں محصور کر دیا اور 40دن تک کھانا اور پانی تک اندر نہ جانے دیا
    تو اس وقت سیدنا علی المرتضیؓ نے اپنے دونوں شہزادوں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو سیدنا عثمان بن عفانؓ کی حفاظت پر مامور فرمایا تھا
    اس طرح 40 دن بھوکے اور پیاسے رہنے کیبعد مسلمانوں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ مظلوم مدینہ امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ کو سنہ 35 ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعتہ المبارک
    82 سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے

  • ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر:  طلحہ محفوظ خورشیدی

    ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر: طلحہ محفوظ خورشیدی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات
    ہے یہ جملہ ہم نے درسی کتب میں پڑھا اور بہت سے واعظ خطبوں میں سنا یعنی ہمارا دین ہمیں زندگی ہے ہر شعبے میں رہنمائی دیتا ہے لیکن جب ہم معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو بات سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہمارا عدالتی نظام انگریزوں کا سیاسی نظام بھی مغرب سے درآمد شدہ اور معاشی نظام سرمایہ دارانہ ہے یعنی کوئی چیز بھی اسلامی نہیں اس بات کو مثال سے سمجھیں ہم ٹی وی پر مختلف پروگرام دیکھتے ہیں جس میں علماء کرام سے رائے لی جاتی ہے کہ فلاں معاملہ پر دین ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے لیکن کبھی کسی عیسائی پادری پنڈت الغرض اسلام کے علاوہ کسی بھی مہذب کے پیشوا کو اپنے مذاہب کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا ہمارا مذہب کی دنیاوی معاملات میں یہ تعلیمات بیان کرتے ہوئے کیونکہ تمام مذاہب نے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صرف اسلام ہی نبرد آزما ہیں یہی وجہ ہے اسلام سے جڑیں شعائر کو ہر جگہ پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسے عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی، مغرب یقیناً ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں لیکن اس کے علاوہ اسلام کا سیاسی نظام معاشی نظام الغرض تمام امور میں اسلام ہمیں واضح تعلیمات دیتا ہے اور اس پر محققین اور علماء کرام نے بہت کام کیا ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ مغربی ممالک معاشی طور پر مستحکم اور سائنس ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں اس لیے ہم ذہنی طور پرمرعوب ہوجاتے ہیں ، ان کی طرف سےآئی ہوئی ہر شئے کو قبول کرلیتے ہیں، جیسے ان جیسا لباس ان کا کلچر وغیرہ، معاشی طور پر مستحکم ہونا ترقی کی علامت ہے لیکن یہ مکمل حقیقت نہیں ، علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کا اصل چہرہ دیکھایا اور بتایا ہے کہ یہ چمک دمک ظاہری طور پر ہے
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
    بہرحال جدید علوم حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے لیکن اسلام اصل برکات اسی وقت ملیں گی جب ہم اسکو عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں یہی ایک صورت ہے کہ اسلام کے مکمل ثمرات سمیٹ سیکھیں گے، جزاک اللّہ

    @talha_mehfooz

  • اسلام اور پاکستان کا تعلق؟  تحریر: فرح بیگم

    اسلام اور پاکستان کا تعلق؟ تحریر: فرح بیگم

    ہم صدیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا. لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک پاکستان میں کوئ قانون اسلام کے مطابق نہیں چل رہا .یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستی کی طرف جا رہے ہیں.ہم پاکستان کے حق میں بولتے وقت ایک بہت اچھا منطق سامنے لے کے آتے ہیں.کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے محبت کرتے ہیں.یہ میں گواہی کیساتھ کہ سکتا ہوں جب یہ ماں اپنے بچوں کے لئے پانی پیدا کرنا چھوڑ دے گی اور جانوروں کے لئے گھاس پیدا کرنا چھوڑ دے گی تو سب یہ لوگ اپنے ماں کا بھی ساتھ چھوڑ دیں گے.دنیا میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ خوب صورت ممالک موجود ہیں جہاں انسان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسئر ہیں اور وہاں پر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی حقوق ملتے ہیں. تو کیوں نہ میں وہاں جا کر رہائش اختیار کر لوں جہاں پر میری زندگی اچھی طرح سے گزرے.
    پاکستان سے محبت اور عشق کرنے کی وجہ کچھ اور ہے.پاکستان سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے.
    جب دنیا کے نقشے میں نئے ممالک وجود میں آرہے تھے تو کوئ اس وقت کہ رہا تھا کہ ہم مصری ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اس لئے ہمیں یہاں رہنے دو.اُس وقت کوئ یہ کہتا ہوا نظر آرہا تھا کہ ہمارے پاس سے دریائے فرات گزرتا ہے اس لئے ہمیں علیحدہ ملک دے دو.پاکستان کو حاصل کرنے وقت صرف ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا اللہ الا اللہ.
    اس وقت 189گھر ہیں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو مسجد کی حیثیت حاصل ہے.پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں. لیکن آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں اس کی چند وجوہات ہیں.آپ پاکستان کی شاہراؤں پر نکل کر دیکھیں تو آپ کو مذہبی نعرے لکھے ہوئے نظر آئیں گے اور ان پر لکھا ہو گا حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے.رسول اکرم کی عزت ہم سب پر فرض ہے.لیکن افسوس کیساتھ ہم اُن کے کہے ہوئے باتوں پر عمل نہیں کر رہے.حضرت محمد کی زندگی ہمارے لئے ایک عملی نمونہ ہیں.
    دوسری بات ہم نے آج کل قرآن پاک کو صرف گھروں میں سجانے کے لئے رکھا ہوا ہے اس کو سمجھنے کی کوئ کوشش نہیں کرتا. دنیا بھر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل ضرور آپ کو قرآن مجید میں ملے گا.آج کل ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں.نماز پڑھنے کے بعد دودھ میں ملاوٹ کرنے کو کوئ بُرا کام نہیں سمجھتا. جھوٹ بولنا اور دوسروں کا حق مارنا ہمارا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے. ہم اپنی ناکامیوں کا قصوروار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں.ان ناکامیوں کے ذمے دار ہم خود ہیں. چند سالوں پہلے امریکہ کا کوئ وجود نہیں تھا پوری دنیا میں لوگ برطانیہ کو سپرپاور سمجھتے تھے.لیکن اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی دنیا پر راج کیا تھا. ہمارا اکثر خدا سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ اللہ تعالی کافروں پر بہت مہربان ہے. یہی باتیں علامہ اقبال نے بھی شاعرانہ انداز میں یوں بیان کہیں تھیں.
    رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
    برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر
    اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے. کوئ مسلم امہ میں ایسی طاقت نہیں ہے جو یہودیوں کا مقابلہ کرے. کیا اللہ پاک عاجز ہیں کہ ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا.دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں. ہم ایس ایچ او سے ڈرتے ہیں,ہم وزیراعلی سے ڈرتے ہیں اور ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں.لیکن اللہ کے سوا کسی سے اور سے ڈرنا شرک کہلاتا ہے.جو اللہ کا بندا اللہ کے دین کے آگے سر جھکاتا ہے.وہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے. اور وہ بندا جو اس نیک راہ سے ہٹ جائے تو وہ کافر سے بھی بد تر ہو جاتاہے.ہم دودھ میں ملاوٹ کرتے وقت فوڈ اتھارٹی سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے .حالانکہ اللہ تعالی سارے جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے.
    انشااللہ ایک دن پھر مسلمان عروج پر ہو نگے اور ملک پاکستان جس کی بنیادیں اسلام کے نام پر کھڑی کی گئیں .ایک دن ضرور یہاں سورج نئ افق کے ساتھ طلوع ہو گا.اس وقت ہم مسلمان سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں.کوئ بھی نئ چیز تعمیر کروانی ہو تو بیرونی ممالک سے انجینئر منگواتے ہیں.
    اللہ کو پا مردی مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    ہم اس وقت دنیا کا صرف جنگی حوالے سے مقابلے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں.لیکن ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہورہا کہ ہم تعلیمی حوالے سے اپنے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں.ہمارے ملک کا تعلیمی سلیبس انگریزوں کے مشورے سے تیار ہوتا ہے.اور اس سے بڑی افسوسناک بات ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.پوری دنیا کی پانچ ہزاز سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں .کسی ممالک نے دوسروں کی زبان اختیار کرنے کے بعد کوئ ترقی نہیں کی. دنیا میں کئ ممالک ایسے ہیں جہاں پی ایچ ڈی اپنی زبان میں کروایا جاتا ہے.
    تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا چاہیے.پاکستان کا تب تک ترقی کرنا مشکل لگ رہا ہے جب تک یہاں اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے.یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس ملک کو چلانے کا بھی سب سے بہتر حل یہاں پر اسلامی قانون کا نفاز ہے.

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail