Baaghi TV

Category: اسلام

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • جنگی قیدی اور اسلام  تحریر : اے ار کے

    جنگی قیدی اور اسلام تحریر : اے ار کے

    دو متحارب قوتوں کے درمیان جنگ
    ( عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت ) گرفتار ہونے والا شخص جنگی قیدی کہلاتا ہے۔
    تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے قدیم جاہلیت کے دور میں جنگی قیدیوں کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
    جنگی قیدیوں کے حقوق کاغذ پر بھی تسلیم نہیں کئے جاتے تھے۔
    جنگی قیدیوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا ایسا غلام بنا لیا جاتا تھا کہ مالک کو ان کے زندگی اور موت کا مختیار بنا دیا جاتا۔
    اسلام کا ابرِ رحمت برسا تو انسان کی احیثیت یک دم بدل گئی اور محسنِ انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نےانسانی سماج پر احسانِ عظیم فرمایا۔
    فتح مکہ کے موقع پر فوج میں اعلان کروایا کہ کسی مجروح پر حملہ نا کیا جائے کسی بھاگنے والے کا پیچھا نا کیا جائے کسی قیدی کو قتل نا کیا جائے۔
    بلکہ سب کیلیے عام معافی کا اعلان کیا۔
    بے شک ۔۔۔۔۔!!!
    اسلام سے زنگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔
    ظہور اسلام کے بعد جن مصائب و تکلیفات کا سامنا صحابہ کرام نے کیا اج بھی ان مصائب تکلیفوں کا سامنا صالحین کر رہے ہیں۔
    اج بھی میر صادق میر جعفر جیسے دین کے غدار لوگ مسلمانوں کے صفوں میں پائے جاتے ہیں۔
    نام نہاد مہذب مغربی اقوام کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مسلم اکثریتی ملکوں میں زمامِ اقتدار ان لوگوں کو سونپی جاتی ہے جو مغرب پرست ہو اور مسلمانوں کے خون سے مغرب کی پیاس بجھانے میں مغرب کی تقلید کرتی ہو۔امریکہ بہادر کوافغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد جیسے ہی افغانستان سے
    راہ فرار ملی اسٹوڈنٹس ( طالبان )یک بعد دیگرے ولایتوں (صوبوں) کو برق رفتاری سے فتح کرنے لگ گئے ہیں اور انکی پیش قدمی تاحال جاری ہے۔
    اسٹوڈنٹس نے جنگ کے پینتھرے یکسرتبدیل کئے ہیں اورشروعاتی لڑائی وہاں سے شروع کی(شمالی افغانستان قندوز شبرغان فاریاب وغیرہ) جہاں سن 2000 ء سے پہلے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی اتحاد کی ملیشیاء ("گلم جلم ملیشیا“ اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے)ان کا ہر حملہ پسپا کرتی۔ اج الحمد اللہ وہاں کی فضاء "اللہ اکبر ” کےفلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
    طالبان کے پیش قدمی کے ساتھ ہی ذہن میں دشت لیلی کی المناک داستان اور غدار جنرل رشید دوستم گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔
    دسمبر 2001 ﻗﻨﺪﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ محاصرہ طاﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺮﻝ ﺭﺷﯿﺪ ﺩﻭﺳﺘﻢ ﻧﮯ وعدہ کیا تها کہ تم لوگ ہتھیار ڈال دو ﻣﯿﮟ نے ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺳﮯ مذاکرات ﮐﺮلئیے
    ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ بحفاظت نکالونگا،
    کہیں دنوں سے محاصرہ ،بھوک پیاس سے نڈھال، اور اسلحہ کی شدید کمی کے باعث ،
    مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ لڑائی میں ان کا ہی زیادہ نقصان ہونا تھا اس صورتحال میں یہ انکا بہترین فیصلہ تھا۔کیونکہ اس معاہدے کا ضامن بہر حال ایک مسلمان تھا
    جنہوں نے قران پر ہاتھ رکھ کر انکو یقین دلایا تھا کہ میں بحفاظت سب کو قندوز سے شبرغان تک پہنچاہونگا۔ یوں مجاہدین نے
    ہتھیار ڈال دئیے۔
    دوستم نے گنجائش سے زیادہ طالبان کوکنٹینروں میں ڈال کے قندوز سے شبرغان روانہ کیا ۔
    جب ان بند کنٹینروں میں ان مظلوموں کا دم۔گھٹنے لگا تو زور زور سے کنٹینر پیٹناشروع
    کر دئیے۔
    عالمی امن کے مہذب اور نام نہاد ٹھیکداروں نے کنٹینر کھولنے کے بجائے ان چلتی کنٹینروں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔
    ایک جرمن رپورٹر کے مطابق کہ میری گاڑی اس کنٹینروں کے قافلے کے پیچھے جا رہی تھی اور اب پورے روڈ پر خون ہی خون بہہ رہا تھا۔
    طالبان کی بڑی تعداد کو کنٹینروں میں ہی
    شہید کر دیا گیا اور جو بچ گئے یا زخمی تھے انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر جنرل دوستم ( جو اجکل فیلڈ مارشل ہیں) نے دشت لیلی میں زندہ دفن کر دئیے ۔
    امریکی حکومت کی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کی دستاویزات اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینٹیلیجنس رپورٹ ،جو 2002 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی تھی، کے مطابق دشت لیلی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان تھی جبکہ طالبان کے مطابق اس سانحہ میں شہید ہونے والے مجاھدین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
    یاد رہےافغانستان کے سب سے بڑا فوجی
    اعزاز( مارشل جنرل ) پانے والا جنرل دوستم روسی اتحاد کے افغانستان پر قبضے کےبعد روس کی حمایت میں بھی جنگ لڑی اور
    بعد ازاں شمالی اتحاد کے پرچم تلے امریکہ کا ساتھ دے کر طالبان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ٹویٹر ہینڈل: @chalakiyan

  • ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے   تحریر : لاریب ناز

    ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تحریر : لاریب ناز

    ۔دنیا کی کسی بھی مخلوق سے موازنہ کر لیا جائے تو ہمیشہ انسان ہی بہترین نظر آئے گا۔
    عقل ، شعور، حس ،اعضاء، شکل و صورت نیز ہر خوبی میں بنی نوع انسان کو برتری حاصل ہے۔
    ہر اچھے برے کی تمیزاور فرق کی صلاحیت بھی صرف انسان کو عطا کی گئی۔
    خواہشات کرنے کا شرف بھی صرف حضرت انسان کو ہی حاصل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    "اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی۔”

    ان سب کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں ہم پر
    رزق ، ہوا ، پانی ، زمین سب اس رب کی عطا کی گئی نعمتیں ہیں۔ لیکن ہم ان سب احسانات اور نعمتوں کو بھول چکے ہیں ہم روز حشر کیسے سامنا کریں گے کیا منہ دکھائیں گے؟
    کہ جس نے ہمیں تخلیق کیا اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہم اسی کو بھول گئے۔
    اسی کے آگے سجدہ ریز ہونے میں غفلت برتی۔۔۔۔۔
    اسی کا شکر ادا نہ کیا۔
    اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو سکے
    اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی ہم صراط مستقیم پر نہ چل سکے۔
    ہم اپنے مقصد تخلیق کو بھول گئے اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا کھو گئے کہ ہم بھول گئے کہ یہ دنیا فانی ہے، لاحاصل ہے ، مٹ جانے والی ہے۔

    ہم بھول گئے کہ زندگی اللّٰہ کی عطا کی گئی امانت ہے، جسے ہم نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق گزارنا ہے ۔ ہماری احسان فراموشی کے باوجود بھی وہ رب ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔اس کے باوجود بھی ہم ایک دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب سے ملاقات کے مواقع بھی گنواتے ہیں صرف اس دنیا کے لیے جو کہ محض ایک فریب ہے۔

    یہ سب جانتے ہوئے بھی پھر ہم اپنے رب کے ساتھ ایسا کیونکر کر سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا؟ کیا ہمارے گناہ کرنے پر اس نے ہم سے رزق چھینا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!!
    پھر اپنے خالق کے ساتھ ایسا رویہ کیوں۔۔۔۔۔؟؟
    ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ایک روز ہمیں رب کے حضور حاضر ہونا ہے تب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔؟؟

    ابھی بھی وقت ہے اللّٰہ عزوجل کی معرفت کو پہچانو اور اپنے تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہو ۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہ کسی کی بھی ملکیت نہیں ہو سکتی۔تقویٰ اور پرہیز گاری ایسی چیزیں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کا ورثہ ہیں پس تم انبیاء کے وارث بنو نہ کہ اس فانی دنیا کے۔

    اللّٰہ عزوجل نے ہمیں آخری امت بنا کر ہم پر اپنا فضل کیا ہے اور ہم سے پہلی امتوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کر کے بتا دیا کہ ان پر عذاب کیوں نازل ہوئے؟

    اگر ہم نے اپنی عادات و اطوار کو نہ بدلا اور ان کے حالات سے عبرت حاصل نہ کی تو یقیناً ہمارا حشر بھی انہی اقوام جیسا ہو گا۔

    ‎@LaraibNaz2

  • اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون  تحریر: صائمہ ستار

    اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون تحریر: صائمہ ستار

    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضرو موجود سے بیزار کرے

    موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش دوسرے مسائل کے ساتھ ایک اہم مسلئہ مخلص اور اچھی لیڈرشپ کا فقدان ہے.قران وسنت کے رہنمائ میں اچھے رہنما میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے موجودہ مسلم حکمران ان سے بے نیاز ہیں.شاعرِ مشرق نے اسلامی قیادت کے لازمی اوصاف کو اپنی شاعری میں سمویا ہے جن سے موجودہ نوجوان نسل کا آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے.اگر موجودہ مسلم حکمران ان اوصاف کو اپنائیں تو عجب نہیں کہ امتِ مسلمہ ایک بار پھر عروج حاصل کرے. قوم کا امامِ برحق یعنی سچا راہنما/لیڈر وہی ہے جو حاضرو موجود یعنی موجودہ زمانے اور نظام میں پائ جانے والی غیر اسلامی اقدار سے بیزار کرے.اور دنیا کے عارضی ہونےکا احساس دل میں پختہ کر کے اس دنیا کی جھوٹی شان وشوکت اور عیش وآرام سےبیزارکر کےحقیقی منزل یعنی اللہ کی طرف رہنمائ کرے.(بیزاری کا مطلب یہ ہے دنیا کو مستقل منزل نہ سجھے.اس دنیا سے تعلق بس اتنا ہو جتنا مسافر کا سفر میں رستوں سے ہوتا ہے. )
    رخِ دوست(مراد اللہ/سیدنامحمد‏‎ﷺ)
    اور جب کبھی دین سے وفا کا وقت آئے جب برما,کشمیر, شام, فلسطین, عراق,افغانستان, میں تمہاری بہنوں کی عزتیں لٹ رہی ہوں معصوم بچوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام ہو تو سچا قائد/رہنما قوم کو بزدلی اور مصلحت کے سبق نہ پڑھائے.پھر وہ بتائے کہ جب مسلمان اسطرح کٹ رہے ہوں اسلام امن کا نہیں جہاد اور غیرت کا اور اپنے مسلم بہن/بھائ کا درد محسوس کرنے کا درس دیتا ہے.یعنی کہ موت(شہادت)کی صورت میں محبوبِ حقیقی (اللہ / سیدنامحمد‏‎ﷺ) سے ملنے کی شدید تڑپ اسطرح دل میں پیدا کرے کہ موت تمہیں زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی حققیقی منزل محسوس ہو.
    وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکـــَ الْمُنْتَھیٰ(القران)
    اور تمہاری آخری منزل اللہ ہے.
    جب زندگی کا اختتام موت ہی ہے تو دین سے وفا کرتے ہوئے شہادت اسکا بہترین انتخاب ہے.
    وہ احساسِ زیاں یعنی مغرب کی غلامی اور دین کے اصل راستے کو چھوڑ نےسےہونے والے دنیاوی و اخروی نقصان کے احساس
    سےتیرےخون کو گرما دے.  اورفقر یعنی تمام عالم سے منہ موڑ کر  دنیا کی تمام جھوٹی طاقتوں کا ڈر قوم کے دل سے نکال کر دنیاوی طاقتوں سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف نکتہِ توحید پر یقین پختہ کر کے کہ اللہ کے سوا کوئ معبود, کوئ مددگار نہیں جومسلمان ہونےکا پہلا تقاضا ہے تمہیں ایسی تلوار بنادے جو باطل /دین دشمنوں کو کاٹ کر رکھ دے. ایسا رہنما جو قوم کو حقیقی سلطانِ واحد یعنی اللہ تعالی کے در سے گمراہ کر کے دنیا کے جھوٹے/وقتی بادشاہوں(یورپی یونینIMF, FATF.اقومِ متحدہ, مغربی نظام) , کا ڈر دل میں بٹھائے اور انکا پرستار,انکے نظام کاپیروکار بنائے تو ایسے شخص کی امامت/لیڈر شپ قوم کے حق میں ایک خوبصورت/چمکدار فتنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے.
    نوجوان قوم کا مستقبل ہیں. اگر وہ شاعرِ مشرق کے بیان کیے گئے درج ذیل اوصاف کو اپنائیں اور آنے والی اسلامی قیادت اپنے قومی و نظریاتی تشخص کو پہچان کر میدانِ عمل میں آئے تو امید ہے کہ مسلمانوں کا دوبارہ سے دنیا میں بول بالا ہو.اور اپنی کھوئ ہوئ شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کریں.

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • امید پہ دنیا قائم ہے  تحریر:  محمد وقاص عمر

    امید پہ دنیا قائم ہے تحریر: محمد وقاص عمر

    امید ایک شے ہے جس کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔ہر ذی روح امید کے سہارے زندہ ہے۔امید ایک خوشی ہے بلکہ یوں کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ امید ایک نئی زندگی ہے۔اس دنیا کی زندگی سے الگ ایک زندگی جہاں انسان دنیا کی زندگی میں ہار مان جاتا ہے تب یہ امید اسے ایک نئی زندگی دیتی ہے۔جب انسان بالکل ناامید ہو جاتا ہے تو یہ امید ہی ہوتی ہے جو انسان کو خوشی اور سکون دیتی ہے۔یوں کہہ لیں امید برے حال کی دوا ہے جس سے انسان کو راحت نصیب ہوتی ہے جب اس کو مشکلوں اور غموں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔شاید امید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دیا گیا سب سے الگ اور ایک انوکھا تحفہ ہے۔

    یہ کائنات امید پر ہی قائم ہے۔ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ہم رہ رہے ہیں اگر امید نہ ہوتی تو انسان کبھی یہاں تک نہ پہنچ سکتا۔ اگر امید نہ ہوتی تو انسان آج بہت ساری ایجادات سے محروم ہوتا۔اس کی جیتی جاگتی مثال انیسوی صدی کا موجد تھامسن ایڈیسن کی ایجاد ات ہیں۔سب سے بڑھ کر جو تحفہ اس نے مصنو عی روشنی یعنی بلب کی شکل میں دنیا کو دیا اس احسان کے نیچے دنیا کے تمام حسین و دلکش شہر آج بھی دبے ہوئے ہیں۔

    بلب کی ایجاد کے سلسلے میں ایڈیسن نے ایک ہزار کے قریب تجربات کیے جن میں نو سو ننانوے بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن جب بھی اس کا کوئی تجربہ ناکام ہوتا وہ امید کے سہارے اس ناکامی کو برداشت کر لیتا۔اسے امید تھی کہ ایک دن یہ بلب جل کر رہے گا اور امید نے اس کے اندر کی لگن کو مزید بڑھایا اور آخرکار تھامسن ایڈیسن نے بلب روشن کر کے دکھایا۔

    اس کی ایک اور مثال جب انسان کسی پرندے کو قید کرتا ہے تو پرندے کو اس قیدی تنہائی میں جو چیز زندہ رکھتی ہے وہ امید ہی ہوتی ہے۔اس ایک امید کا ہی سہارا ہوتا ہے کہ شاید وہ اس قید سے چھٹکارا پا لے گا اور ان بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں اور اس نیلے آسمان کو چیرتے ہوئے اپنی زندگی گزارے گا۔یہ امید ہی ہے جس کی وجہ سے وہ قید تنہائی کی اندر بھی زندگی بڑی خوشی سے گزار رہا ہے۔

    دوستو امید ایک مشکل وقت کی ساتھی ہے۔امید کے سہارے انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔انسان کی زندگی میں ہر طرح کے اونچ نیچ آتے رہتے ہیں لیکن اگر انسان نا امید ہو جائے تو زندگی بیکار ہو جاتی ہے۔لیکن اگر انسان امید کا دامن نے چھوڑے تو امید انسان کو کھٹن سے کھٹن مشکلات طے کروا کر ہی دم لیتی ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کا امید کا دامن نہ چھوڑیں۔

    Twitter id @ waqasumerpk

  • منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    تاریخ گواہ ہے کہ فلاح و کامرانی اور نفع مندی کے تمام اعمال انبیا کا شیوہ رہے اور انہی اعمال کا بدلہ جنت ہے۔ انبیا ہمیشہ لوگوں کے لئے منارۂ نور (روشنی کا مینار) بنے۔ انبیا نے دنیا کے تمام معزز اور عظیم کام سر انجام دئیے۔ انبیا نے انسانوں کو جنت کا راستہ دکھایا انہیں رب کی طرف بلایا اور معصیت میں پڑنے سے ڈرایا اور آج یہ ہی امت مسلمہ کا مقصد حیات ہے۔
    الله رب العزت کا فرمان ہے:
    کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ ﴿۱۱۰﴾
    تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو،اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو۔
    (سورہ آل عمران:110)
    آپ غور کریں کہ رب العزت کی ساری مخلوقات کتنے کام سر انجام دے رہی ہیں۔ فرشتے الله کے حکم سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح سورج، چاند، ستارے سب الله کے حکم سے کائنات میں روشنی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ساری روشنیاں انسان کی مادی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور جیسے اقبال نے کہا:
    "ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
    اپنے افکار کی دنیا کا سفر کر نہ سکا-
    وہ جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
    زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا-”
    یعنی آج کا انسان ستاروں کے راستے تلاش کرتا ہے سورج کی شعاؤں پر کام کر رہا ہے یقیناً یہ نفع مندی کے کام ہیں لیکن اس سے بھی نفع مند اور عظیم کام لوگوں کو رب کی معرفت کرانا، انہیں رب کی طرف بلانا اور جنت کے راستے پہ چلانا ہے اور یہ ہی زندگی کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کا کام ہے جو آج نہیں ہو پا رہا۔ آج ہم بے چینی اور انتشار کا شکار ہیں۔ آج ہم دن رات مادی ضروریات کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور اس مادی جدوجہد میں جنت کا راستہ ہم سے کہیں کھو گیا ہے۔ آج ہمیں ہماری ذات کا پتہ نہیں چلتا ہمیں اپنے رب کا کھوج نہیں ملتا جس نے ہمیں پیدا کیا، آج ہم نے جنت کے راستے کو چھوڑ دیا ہے:
    "آئے تھے کیا کرنے اور کیا کر چلے؟”
    انسان ہمیشہ یہ ہی سوچتا ہے کہ اپنی ذات اور روزی کے حصول کے لئے جو کام کئے جائیں وہ ہی اصل کام ہیں۔ اسطرح اسکے مادی وجود کے لئے روزی کا اہتمام ہوجاتا ہے۔ زندگی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اسے جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے پھر اسے سمجھ نہیں آتی کہ اب تمام قوتیں مل گئیں جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو گیا اب کیا کروں؟
    اب ذہنی دباؤ کیوں؟
    کیونکہ وہ سب سے افضل کام نہیں کرتا وہ سب سے عظیم کام جو حقیقی نفع مندی کا راستہ ہے وہ کام "دعوت الی الله” ہے۔ داعی الی الله (الله کی طرف بلانے والا) کائنات کا خوش نصیب ترین انسان ہے کیونکہ وہ منارۂ نور (روشنی کا مینار) ہوتاہے وہ خود روشن ہوتا ہے اور اسکی روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔ وہ لوگوں کو رب سے جوڑتا ہے انہیں جنت کے راستے کیطرف بلاتا ہے۔ داعی الی الله جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اسکے توسط سے ایمان کی روشنی ارد گرد پھیلتی ہے۔
    اگر آج دیکھیں تو ہر طرف دشمنان اسلام غالب ہیں۔ مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اسکی ایک اہم وجہ مسلمانوں کا دعوت الی الله کا کام نہ کرنا ہے۔
    تو اپنا مقصدِ حیات پہچانئیے اور منارۂ نور بن جائیے لوگوں کو رب سے جوڑ دیں دعوت الی الله ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔دعوت شہد ہے یہ پہلے داعی کے اندر تیار ہوتا ہے۔ پھر لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جب داعی دعوت دیتا ہے تب اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ یہ بشیر و نذیر کا کردار ہے دوسروں پر واضح کرنا کہ الله تعالیٰ نیکیوں پر کیا اجر دینے والا ہے اور گناہوں پر کیسی پکڑ کرنے والا ہے۔
    الله سے دعا ہے کہ ہمیں بہترین منارۂ نور بنائیں اور ہم یہ نورپھیلانے کا کام تاحیات جاری رکھ سکیں۔ آمین
    @Nusrat_186

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر:   محمد کامران

    پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر: محمد کامران

    ،معدنیات ، بجلی ، پانی اور جنگلات جیسے وسائل کا کسی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی پر بہت اثر ہوتا ہے ۔ کسی بھی ملک میں قدرتی وسائل ہونا ضروری ہے لیکن یہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت نہیں۔ کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو اور ان وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو معاشی اور معاشرتی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ماہرین، قدرتی وسائل اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے در میان اہم تعلقات قرار دیتے ہیں۔

     

    پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کان کنی کی صنعت کی ترقی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ قیمتی پتھروں کے لیے کارپوریشن آف پاکستان لمیٹڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

    یہ کارپوریشن پتھر کی کان کنی اور پالش کرنے میں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو بطور سرکاری ادارہ دیکھتی ہے۔ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہے۔ جب کہ حال ہی میں سندھ کے تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ جواہرات کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے زیادہ تر معدنی جواہرات یہاں پائے جاتے ہیں ۔
    جوہری توانائی کے مقاصد میں استعمال ہونے والے تیل ، گیس اور باقی معدنیات کے لیے یہ صوبہ اہم ہے ۔ملک کے باقی صوبوں میں بھی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں

     چند ایک اہم معدنیات اور انکے وسائل درجہ زیل ہیں

    1. کوئلہ:
    کوئلہ جس کو بلیک گولڈ کا نام بھی دیا جاتا ہے ،

    تھر ، چمانگ ، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھاری مقدار میں پائی جاتا ہے۔
    تھر میں اسکے ذخائر کا تخمینہ 850 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا یے ۔ جسے اگلے 100 سال تک بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یعنی دوسرے ہائیڈرو / تیل وسائل پر انحصار کیے بغیر صرف کوٰئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
    ۔ پاکستان نے حال ہی میں پنجاب میں ایک کم درجے کا چار درمیانے درجے کے کوئلے کے کوئلے کے سیل تلاش کیے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان اور اس کے قریب اسلام آباد میں سلفر کوئلے کے پائے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پاکستان میں بٹومینس، سب بٹومینس اور لگنائٹ کوئلہ پایا گیا ہے۔ کوئلے کا تقریب 80٪ حکومت اور 20٪ نجی شعبے کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ اسکی صنعت قدیم صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ لوہے، اسٹیل اور اینٹوں کی صنعتیں ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اس کی قیمت تقریباً618 بلین بیرل خام تیل کے برابر ہوگی۔ جب تیل کے ذخائر کے مقابلے میں یہ بڑے چار ممالک کی مقدار سے دوگنا ہے۔
    2.قدرتی گیس:

    قدرتی گیس پاکستان کا اہم قدرتی وسائل ہے جس کا زیادہ تر حصہ سوئی کے مقام سے نکالا جاتا ہے

    اسکے تخمینہ شدہ ذخائر 885.3 بلین مکعب میٹر ہیں۔ جن کے مزید 20 سال تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس کے اعتبار سے سوئی گیس فیلڈ سب سے بڑا ہے ، جو پاکستان کی گیس کی 26 فیصد پیداوار کرتا ہے۔سوئی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے۔ وہاں روزانہ کی پیداوار 19 ملین مکعب میٹر ہے۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں اور سندھ کے ریتوں کے نیچے تیل اور گیس کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی گیس کے زیادہ تر صارفین کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں۔

     3. خام تیل:

    پاکستان کا پہلا تیل کا کنواں 1952 کے آخر میں ایک بڑا سوئی گیس فیلڈ کے قریب بلوچستان می لگایا گیا ۔
    ٹوٹل ائل ریفائنری 122.67 مربع کیلومیٹر (47.36 مربع میل) پر محیط ہے۔
    پاکستان پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز نے 1961 میں سوویت یونین کی مدد سے زخائر کی کھوج کی اور اس کی کھدائی شروع کی اور عملی کا 1964 کے دوران توت میں شروع کیا گیا
    ۔ پاکستان میں 326 ملین بیرل سے زیادہ موجود ہے

     

     

    4. یورینیم کی پیداوار:

    پاکستان کی مغرب میں اسکی وافر مقدر موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب میں تمن لغاری کان ، ضلع میانوالی میں بگالچور کان ، ڈیرہ غازی خان مائن اور عیسیٰ خیل کی کانیں مشہور ہیں
    پاکستان نے حال ہی میں اپنے جوہری طاقت اور ہتھیاروں کے پروگراموں میں یورینیم کا کچھ استعمال کیا ہے۔ 2006 میں پاکستان نے تقریبا 45 45 ٹن یورینیم کو تیار کیا تھا

     5. معدنی نمک:

    خطے میں 320 قبل مسیح سے نمک کی کھدائی کی جا رہی ہے ۔ کھیوڑا نمک کی کان کانوں میں دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی نمک کی کان ہے ۔ تقریبا 110 مربع کلومیٹر کے زیرزمین علاقے میں 320 قبل مسیح سے کھیوڑا میں نمک کی پہلی بار کھدائی کی گئی ۔کھیوڑا نمک کی کان کے بارے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس میں 220 ملین ٹن راک نمک کے ذخائر ہیں۔ مائن سے موجودہ پیداوار 325،000 ٹن سالانہ ہے۔

     6. کاپر اور سونا:

    ریکو دیق بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اینٹوفاگستا کمپنی،جو ریکو ڈیک فیلڈ کے ساتھ کام کر رہی تھی ، ایک سال میں 170،000 میٹرک ٹن تانبے اور 300،000 اونس سونے کی ابتدائی پیداوار کو ہدف کے ساتھ کام کر رہی تھی۔اس منصوبے سے ایک سال میں 350،000 ٹن سے زیادہ تانبے اور 900،000 اونس سونا پیدا ہوسکتا تھا ۔
    چاغی ضلع میں واقع دشت کوہن ، نوک کنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں

    7. آئرن اور :آئرن اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے جن میں نوکندی ، چنوٹ اور کالاباغ (42 فیصد سے کم معیار) ، ہری پور اور دیگر شمالی علاقوں بھی شامل ہیں۔

     8. جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر:

    پاکستان میں مقامی اور برآمدی مقاصد کے لئے متعدد قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پالش کی جاتی ہے۔ اسکا مرکزی مقام خیبر پختونخوا ہے۔

    ان پٹھروں میں ایکٹینولائٹ ، ، آڈروکسی ، روٹائل ، ایکوامارین روبی ، ایمیزونائٹ ، کنزائٹ ، سرپینٹائن ، ایجورائٹ ، کیانیائٹ ، اسپیسارٹائن (گارینایٹ) ، بیرل ، ، اسپنیل ، زمرد شامل ہیں
    ان جوہروں سے برآمد 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    TWITTER ID @KamranRMKS

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    قرآنی تمثیلات پر اپنے انداز میں ایک عالمانہ تبصرہ ہے جو تفہیمی افادیت کا حامل ہے آج کی تحریر کا انتساب بڑا اچھوتا اور ایمان افروز ہے درحقیقت یہ تحریر اُن لوگوں کے نام ہے جو حق و صداقت کا ادراک کرکے اسے منافقت اور مصلحت کے پردے میں نہیں چھپاتے بلکہ بلا خوف و خطر اعلان کرکے اصحاب عزیمت کی قیادت کرتے ہیں

    بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

    اب میں اپنے دعوے پر قرآن کی ایک تمثیل بیان کر کے موضوع کو واضح کرتا ہوں

    وَکُنْتُمْ اَزْوَاجاً ثَلثَۃً
    اور تم ہوجاؤ تین گروہ

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ستائیسویں پارے کے سورہ واقعہ کی آیت نمبر 7 سے لیکر آیت نمبر 46 تک قیامت کے دن نوعِ انسانی کے تین گروہوں میں تقسیم کرنے کا ذکر فرمایا اور
    ان تینوں گروہوں کو انکے اعمال کی نسبت سے تقسیم کیا گیا ہے
    اور اس تقسیم کی نسبت سے انکے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ طے ہونا بتلایا گیا ہے

    اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے
    نوعِ انسانی قیامت کے دن تین گروہوں میں بٹ جائے گی ایک دائیں بازو والے ۔ دوسرے بائیں بازو والے ۔ اور تیسرے سب سے آگے آگے

    سبقت لے جانے والا گروہ……….

    اور یہی تیسرا گروہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء صدیقین شہداء صالحین اور مقرّبین کا ہوگا
    جن کو انعام کے طور پر نعمت کے باغ عطا ہوں گے ۔ یہ سونے سے بنے پلنگوں پر گاؤ تکیے لگائے ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے
    انکے ارد گرد ستھری شراب کے آب خورے اور جام لئے ہوئے خوبصورت لڑکے پھر رہے ہوں گے ۔ یہ شراب ایسی ہوگی جس سے نہ طبیعت میں گرانی ہوگی اور نہ نشہ ۔ اُن کیلئے پھل ہوں گے جو وہ منتخب کریں گے ۔
    اور اُڑتے پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے اور بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزائیں ہوں گی جو لڑی میں پروئے ہوئے موتی کی طرح ہوں گی ۔ ایسے ماحول میں وہاں گفتگو جھوٹ سے پاک اور سلامتی والی ہوگی اور یہ سب بدلہ ہوگا اُن کے اعمال کا .
    دائیں بازو والا گروہ…………

    یہ وہ گروہ ہے جو بیری کے کانٹوں سے پاک درختوں میں رہتے ہوں گے ۔ اُن کے لئے کیلے تہہ در تہہ ہوں گے ۔ گھنی چھاؤں ہوگی ۔ بہتا ہوا پانی پینے کو ہوگا ۔ اور میوے کثرت سے ہوں گے ۔ جو نہ گھٹیں گے اور نہ ہی اُن کے میووں کے کھانے میں کوئی رکاوٹ ہوگی اور اونچی باعزت بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی ۔ بچھونے لگے ہوں گے ۔ دوشیزائیں جن کو جسمانی اور روحانی لحاظ سے ایک خاص معیار پر بنایا گیا ہے اور وہ دوشیزائیں ایسی کہ جو دل کو لبھاتی ہیں ایک ہی عمر کی اور کنواریاں ہوں گی اور یہ سب انعام دائیں بازو والوں کیلئے ہے نیز اس گروہ میں اگلوں اور پچھلوں سے بھی لوگ کثرت سے شامل ہوں گے .
    بائیں بازو والا گروہ……….

    اس گروہ کا حال یہ ہے کہ وہ آنچ کی بھاپ اور جلتے پانی میں ہوں گے ۔ اور ان کے سروں پر دھوئیں کی چھاؤں ہوگی جو نہ ٹھنڈی ہو گی اور نہ ہی عزت کی ہوگی .
    ہاں البتہ اس مقام سے پہلے وہ بڑے آسودہ حال لوگ تھے اور گناہوں کی لذت میں ڈوبے ہوئے تھے اور گناہوں پر ضد کے مصر رہے
    اس گروہ کی بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی آسودہ حالی کو حصولِ رحمتِ خداوندی کیلئے استعمال نہیں کیا ۔ یہ بائیں بازو والے اپنے نظریات ایمانیات اور اعمال کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا شکر ہوئے ۔ اپنی انانیت تکبر و غرور میں بھرے خود کی موت سے انجان اور دوسروں کی زندگی میں تاک جھانک اپنا کام سمجھنے والے
    زندگی کے اصل مقصد کو بھلا کر رب تعالیٰ کو راضی کرنے کے بجائے اپنے خالقِ حقیقی کی نافرمانیوں میں اپنے رات دن بسر کرنے والے یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بائیں بازو والے نام سے مخاطب فرمایا ہے جبکہ اپنے پاک کلام میں اللہ عزوجل نے حیاتِ دنیاوی کو کھیل کود تماشہ اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنے کا محض سامان قرار دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ دنیاوی ساز و سامان کے چکر میں اپنا ایمان اخلاقیات کردار گفتار اور رشتے تک پسِ پشت ڈال دیتے ہیں

    خلاصہ سبق…………
    ایک انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت بھرپور یہ کوشش کرتا رہے کہ وہ اپنے امورِ خانہ دار کے ساتھ ساتھ اپنے مہربان رب العالمین کو جانی مالی بدنی عبادات کرنے سے راضی کرتا رہے اور حتَّی المقدور حقوق العباد کے معاملے میں بھی محتاط زندگی گزارے

    بارگاہِ ایزدی میں التجاء

    اللہ جل شانہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں دعا گو ہوں کہ وہ اس تحریر کو ہم سب کیلئے ذریعہ نجات بنائے آمین ثم آمین