Baaghi TV

Category: اسلام

  • دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا اور آخرت مشرق اور مغرب کی مانند ہیں اور ہم سب یہاں کچھ پل کے چلنے والے مسافر ہیں یہاں اگر ایک انسان جتنا کسی کے نزدیک ہوگا اتنا ہی دوسرے سے دور ہوگا ۔
    دنیا راہ گزر ہے دنیا کی خوشی غم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے.
    ہزاروں خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو یہ کہنا برا نا ہوگا کہ انسان سیدھے راستوں سے بھٹک جاتا ہے. غلط راستوں پر چلنے والوں کو فقط رسوائی ہی ملتی ہے..
    ہر انسان کے اپنے پوشیدہ یعنی چھُپے ہوئے نا بتانے والے دکھ ہوتے ہیں جو دنیا نہیں جانتی
    اور اکثر اوقات ہم کسی انسان کو بے حس کہتے ہیں مگر وہ صرف غمگین رنجیدہ ہوتا ہے
    کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں
    کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں ہے جو تم وہ صرف تم خود ہی ہو بس تم خود پر توجہ دو…
    لوگوں کے بارے میں زیادہ سوچنا خود کو اپنی ذات سے دور کرنا ہے.
    غمگین نا ہوں اگر آپ کسی کو اچھے نہیں لگتے
    تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بس یہ سوچ لیں کہ ہرانسان کی پسند اچھی نہیں ہوتی.
    خاموش ہو جاؤلیکن گلے شکوے چھوڑ دو مت اپنا معیار گراو کسی کو کچھ بھی کہہ کر اور اس کو جواب دے کر اپنے عزت اور اپنے وقار کی خود حفاظت کرو.جہاں عزت نا ملے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو عزت اور وقت بھیک میں نہیں ملتا اس لیے مانگنا چھوڑ دو. بےشک کسی بھی رشتے کا وجود اس کے بغیر باقی نا رہےعزت وہ نہیں جو باتوں سےسنائی جاتی ہےعزت وہ ہے جوعمل سےدکھائی دیتی ہے
    شکریہ

  • پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ تحریر: ماہ رخ اعظم

    پاکستان کو گذشتہ ستر برسوں سے اپنی معاشرتی معاشی صورتحال میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، تمام مسائل پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ آج کے پاکستانی کے اہم مسائل میں ایک مسلہ پانی کی قلت ہے

    ملک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ، پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے، جو آبی بحران سے دوچار ہیں۔ پانی کے اس بحران سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
    جب سے 1960 کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے تھے تب سے پاکستان نے آبی ذخیرے کا کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا ہے۔ضروری ہے کہ کالا باغ اور دیامر باشا ڈیموں پر کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ڈیموں کی کمی کی وجہ سے 40 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی سمندر میں بہہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم میں 6.4 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ، دیامر-باشا ڈیم 5.8 ایم اے ایف ذخیرہ کرسکتے ہیں ، اور داسو ڈیم 6 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ تینوں ڈیم مکمل ہوجاتے ہیں تو بہت سارے پانی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے جو پانی کی قلت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں

    اگر یہ ڈیم تعمیر نہیں ہوئے تو پاکستان کو پینے کے پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا زراعت کا شعبہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں ، ٹیکسٹائل اور کیڑے مار دواؤں کی صنعتوں جیسی دیگر صنعتوں کے ساتھ زراعت کا گہرا تعلق ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔

    پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔ زرعی شعبہ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نظرانداز دونوں سے بھی متاثر ہے: جیسے کھادوں اور بیجوں پر معاون قیمتوں یا سبسڈی فراہم نہ کرنا۔

    ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی کو پانی کی قلت سے بچانے کےلیے اس مسئلے کا باقاعدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قومی تناظر میں واٹر مینجمنٹ اور پالیسی کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ایک مثال قاٸم کرنیا چاہئے جو مطالبہ پر مبنی اقدامات پر مرکوز ہے۔جو آبی وسائل کے تحفظ ، آبپاشی کے نظام کی تعمیر ، جھیلوں ، پن بجلی منصوبے کو فروغ دے گا اورساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جاٸیں تاکہ پاکستان کو پانی قلت سے بچایا جاسکے!

     >

  • اللہ ہماری سنتا کیوں نہیں  تحریر: حنا

    اللہ ہماری سنتا کیوں نہیں تحریر: حنا

    ایک عورت آئی یا رسول اللہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور طلاق تھی زمانہ جاہلیت کی "تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے” اور اس پر جو طلاق پڑتی تھی وہ ایسی طلاق پڑتی تھی کہ کسی بھی صورت رجوع ممکن نہیں ہوتا تھا۔ جب ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تو وہ پریشان ہو کر اللہ کے نبی کے پاس حاضر ہوئی۔ اللہ کے نبی گھر پر تھے اور حضرت عائشہ ان کو کنگھی کر رہی تھیں۔ یارسول اللہ میرے خاوند اوس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور کہ دیا ہے تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے۔ اللہ کے رسول اب کیا حکم ہے؟ تو اللہ کے نبی نے کہا خولہ اب تو اس کے لئے حرام ہو گئی۔ تو کہنے لگی کہ یا رسول اللہ آپ نظر ثانی کریں وہ میرے بچوں کا باپ ہے اور میرے ماں باپ مر چکے ہیں میں کس کے سارے جیوں اور میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں بچوں کو کہاں سے پالوں؟ تو اللہ کے نبی نے پھر کہا خولہ کام ختم ہو چکا ہے تو اس کے لئے حرام ہو چکی ہے اب۔ اس نے پھر کہا یا رسول اللہ آپ نظر ثانی کریں میرے بچے بھی چھوٹے ہیں، میرے ماں باپ بھی مر چکے ہیں میں اور میرے بچے کس کے سہارے جئیں گے۔ جب خولہ نے تیسری مرتبہ بھی فریاد کی تو اللہ کے نبی چپ کر کے بیٹھ گئے کہ اب مانتی تو ہے نہیں۔ جب اس نے دیکھا کہ اللہ کے نبی بھی نہیں سن رہے تو اس نے کہا اچھا آپ نہیں سنتے ہیں تو میں آپ کے رب کو سناتی ہوں اور خولہ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے رب میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میں اپنے پاس رکھوں تو روٹی کہاں سے کھلاؤں اور اگر اپنے شوہر کے پاس رکھو تو ان کی تربیت کون کرے گا تربیت تو ماں کرتی ہے اے میرے رب تو اپنے نبی کی زبان پر میرے حق میں فیصلہ اتار۔ یہ نہیں کہا کہ جو تیرے ہاں ہے وہ فیصلہ اتار، اللہ کو پابند کیا کہ یا اللہ فیصلہ میرے حق میں آنا چاہیے میرے خلاف نہیں آنا چاہیے۔ ابھی اس کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ اللہ کے نبی پر وحی طاری ہوئی تو وہ اور جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا پڑے اور کہا خولہ مبارک ہو اللہ نے تیرے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور اللہ نے اسے حدیث کا حصہ نہیں بنایا بلکہ قرآن کا حصہ بنایا تاکہ قیامت تک ہر لڑکی پڑھے اور دیکھے کہ اللہ سے تعلق رکھنے والی عورت کے لیے یوں اللہ فیصلے اتارتا ہے یہاں تک کہ اپنے قانون بھی بدل دیتا ہے۔

    پارہ نمبر 28، سورہ المجادلہ آیت نمبر 1

    قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ ﳓ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ(۱)

    بے شک اللہ نے عورت کی بات سنی جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے پر بحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔

    اللہ نے خولہ کو بڑی عزت دے قرآن میں اور صرف ایک آیت نہیں بلکہ پورے دو رکوع اتارے۔ اور اللہ نے کہا، ہاں ہاں میرے محبوب جب آپ اور خولہ آپس میں تکرار کر رہے تھے آپ انکار کر رہے تھے وہ ہاں کروا رہی تھی میں خود تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا آپ نے تو سنی نا پھر اس نے مجھے اپنا دکھ سنایا میں تم دونوں کے دلائل سن رہا تھا آپ انکار پہ تھے وہ اقرار پہ تھی میں تم دونوں کی عدالت میں موجود تھا اور میں نے خولہ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور اس طلاق کو باطل قرار دے دیا۔ اور اس کا جرما نہ رکھ دیا غلام آزاد کرو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو تو بیوی حلال ہوگی۔

    تو جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہماری سنتا نہیں ہے ان کو پہلے خود کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کا اللہ کے ساتھ تعلق کیسا ہے کیونکہ جنکا کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے پھر اللہ ان کے لئے ایسے قرآن اتارتا ہے، ایسے اپنے قانون توڑتا ہے اور ایسے مدد کرتا ہے۔

    ۔

  • تعمیر بیت اللہ ،زم زم،  ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    تعمیر بیت اللہ ،زم زم، ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    جیسے ہی حج کا دن ختم ہوا عمرہ کی ادائیگی کیلئے اجازت نامہ حاصل کیا تو بے ساختہ اس ماں کا خیال آگیا جس کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کیلئے بے صبری سے صفا اور مروہ کے چکر لگانے کی ادا اس رب کریم کو ایسی پسند آئی کہ اس گھر (بیت اللہ )کو آنے والوں یعنی عمرہ ادا کرنے والوں کیلئے عمرہ کا حصہ بنا دیا جو تا قیامت جاری رہے گا عمرہ مکمل ہی سعی کرنے سے ہوتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر مکمل کرنے کا نام سعی ہے
    بیت اللہ کی تعمیر آب زم زم کی روانی اور ام اسماعیل ؑ حضرت حاجرہؑ کی محبت کے حوالے سے حدیث مبارکہ ہے کہ عبداللہ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیمؑ اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہوگئی تو اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسماعیل ؑکی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسماعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیلؑ کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماعیلؑ کی والدہ نے کہا میں اللہ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کر دیکھا تو اسماعیلؑ کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں۔ ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسماعیلؑ) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیمؑ آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسماعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گئے ہیں ۔ ابراہیمؑ نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسماعیلؑ نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم ؑکے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ آئے اور پوچھا کہ اسماعیل ؑکہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیمؑ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم ؑکے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسماعیلؑ کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیمؑ نے کہا کہ اے اسمعیلؑ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسماعیلؑ نے کہا پھر اللہ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم ؑنے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسماعیل ؑنے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل ؑانہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسماعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 623
    اے رب کریم سب مسلمانوں کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھول دے اس وبا سے نجات دے ۔ آمین یارب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟  تحریر:  محمد معوّذ

    کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟ تحریر: محمد معوّذ

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ ہو یا کوئی مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں ہو تو مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجائے گا۔
    آج صرف ایک مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ نہیں صرف ایک مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں نہیں بلکہ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں ان کی حراست میں ہیں۔ ہزاروں باحیا باپردہ عورتوں کی عزت لوٹی گئی شیر خوار بچوں کو ماؤں کی گود میں شہید کردیا گیا نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انہیں انٹروڈکشن سینٹروں کے اندر ٹارچر کیا گھروں کو مسمار کر دیا گیا مساجد شہید کر دی گئیں ہزاروں بہنوں کو بے ردا کیا گیا اسلام کی باحیاء اور باپردہ بیٹیوں کو سرعام چوکوں اور چوراہوں پر بےعزت و بے آبرو کیا گیا اور بندوق کینال پر رکھ کر سر عام بازاروں میں نچایا گیا اور اس کے علاوہ بچوں کو یتیم کیا گیا عورتوں کو بیوہ کیا گیا فصلیں اور باغات اجاڑ دیے گئے کتاب حق قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کفار نے اپنے ہر دور میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں اور تاریخ اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کفار نے جب مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسلام کے ہر جیالے نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان و صحراوں جنگلوں اور پہاڑوں میں اور دنیا کے کونے کونے میں نکل گئے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جب اسلام پر کفار نے چڑھائی کا فیصلہ کیا تو دین حق کے جیالوں نے کفار کے خلاف جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنے دین کی اور اس کے ہر جزو کی حفاظت کی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا۔ محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر ہندوستان کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اسپین فرانس اور بہت سے علاقوں کو کفار کے پنجے سے چھڑایا سید سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاد کو فرض عین سمجھ قبلہ اول اور پورے فلسطین کو آزاد کرایا ہر دور کے مسلم حکمرانوں نے ظلم کے خلاف جہاد کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فرض عین سمجھا۔
    اللّٰہ تعالی آج کے مسلمان حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ جہاد کو فرض عین سمجھ اس فریضہ کو سرانجام دیں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو جہاد تم پر فرض کر دیا گیا ہے خواہ تم ناگوار گزرے۔
    اس وقت قرآن و حدیث کی روشنی سے جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوچکا ہے اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس فرض کو فرضِ عین سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

    @muhammadmoawaz_

  • علم دین سے دوری کا نتیجہ    تحریر: فیصل اسلم

    علم دین سے دوری کا نتیجہ تحریر: فیصل اسلم

    حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کے
    ،علم حاصل کرنا ہر مسلمان و عورت پر فرض ہے ،
    لیکن افسوس آج ہم دنیاوی علم کو حاصل کرنے میں مصروف ہیں علم دین سے دور ہو رہے ہیں
    اس علم دین سے دوری کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے بیٹا بیٹی اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتے کیوں کے انکو معلوم ہی نہیں ہوتا کے ماں باپ کی کیا اہمیت ہے بدقسمتی سے والدین ہی اپنے بچوں کو علم دین سے دور رکھ کر دنیاوی تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں وہ شاید اسلئے کے بچے اچھی دنیاوی تعلیم حاصل کر کے اچھا پیسہ کما سکیں لیکن پھر بڑے ہو کر وہ بچے اپنے ماں باپ کو بوجھ سمجھتے ہیں ماں باپ کا ادب و عزت کا بہترین حل یہی ہے کے علم دین حاصل کریں
    علم دین میں ہر پریشانی و مصیبت کا حل موجود ہے علم دین میں مسلمان اپنی اہمیت کو پہچانتا ہے علم دین حاصل کر کے ہی ایک مسلمان اپنے اطراف میں پھیلے فتنوں سے بچ سکتا ہے
    اور آج کل کے پرفتن دور میں علم دین حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کیوں کے جس طرح کے لبرل لوگ ہم مسلمانوں کے رسومات کو داغ دار بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اس سے ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو اسلام کے خلاف بھٹکایا جاسکتا ہے آج ہم یہود و نصاریٰ کے ہاتوں کا کھلونا بن چکے ہیں اسکی یہی وجہ ہے کے ہم علم دین سے دور ہو رہے ہیں
    ایک نام نہاد مسلمان ہمارے اسلامی تہواروں تہواروں پر الٹی باتیں کر رہے ہیں اور کو اسکی کوئی پرواہ بھی نہیں کیوں کے ہم صرف اپنی دنیاوی تعلیم میں مصروف ہیں
    ایسے بہت سے لوگ جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں وہ ہی لوگ آے دن ہم مسلمانوں کے مقدس ہستیوں کی گستاخیاں کرنے میں مصروف عمل ہیں ہمیں جاگنا ہوگا علم دین کی روشنی کو اپنے دل و دماغ پر لانا ہوگا تا کے ہم ہر اس فتنوں کا مقابلہ کرسکیں جو ہمارے اسلام کے خلاف اٹھ رہے ہیں
    ہم مسلمان پیچھے اسلئے ہی ہیں کے اپنے فلسفے کو چھوڑ کر دوسروں کے فلسفوں کو اپنے اوپر حاوی کرلیا ہے ہماری نسلیں اسلامی کتابیں چھوڑ کر اسلامی پروگرامز چھوڑ کر میڈیا پر بیہودہ اور ناچ گانے دیکھ دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کے یہی ہمارا کلچر ہے کیوں کے انکو بچپن سے ہی گھر کا ماحول اسلامی نہیں ملا اور نہ ہی علم دین حاصل کروایا
    علم۔ دین حاصل کریں تا کے ہم اللّه کی واحدنیت اور اللّه کی ربوبیت کو اچھی طرح پہچان سکیں
    کچھ دن پہلے میں نے ٹویٹر پر ایک بہن کا ٹویٹ دیکھا اس میں اس بہن نے اللّه کو آسمان پر رہنے والا لکھا ہوا تھا جب کے ہمارا رب اللّه کی ذات کسی جگہ کی محتاج نہیں
    یہ سب فلم و ڈراموں میں بولے جانے والے ڈائلوگ کا نتیجہ ہے ور علم دین کی دوری کا نتیجہ ہے
    علم دین کی دوری کے سبب ایک مسلمان اپنے کچھ لفظوں کی وجہ سے اسلام سے خارج بھی ہوسکتا ہے ہم اور ہماری نسلیں فلموں ڈراموں کو دیکھ کر دین اسلام کی نزاکت کو کھو رہی ہیں ہم اتنا بے حس ہو چکے کے ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا ہے کے ہماری نماز قضا ہو یا نہیں ہم علم دین سے دور رہ کر اپنا ایمان اور آخرت دونوں تباہ کر رہے ہیں
    خدارا اس وقت کو سمجھیں ان فتنوں سے لڑنے کا جذبہ اپنے اندر بیدار کریں اور یہ جب ہی ممکن ہے کے ہم خود بھی علم دین حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی علم دین حاصل کرنے کی تلقین کریں نہیں تو ہم اپنی آخرت برباد کر لینگے نہ رہینگے دنیا کے نہ رہینگے دین کے
    تو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی علم دین لازمی دلوایں

    اللّه پاک ہمیں علم دین کی روشنی سے ملا مال کر دے امین

    @F23552

  • خدمت خلق اور ہم!   تحریر: ناصرہ فیصل

    خدمت خلق اور ہم! تحریر: ناصرہ فیصل

    "ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے”

    خدمت خلق ، جہاں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک احسن اور مہذب طریقہ ہے ، وہاں یہ ہم مسلمانوں کے لیے ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔۔اللہ تعالٰی نےقرآن مجید فرقان حمید میں مخلوق کی خدمت کو بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ اسلام میں انسانوں کی بھلائی کے کام بہت اہمیت کے حامل ہیں۔۔ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں لوگوں کو ایک دوسرے سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
    قرآن کریم میں خدمت خلق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
    "لیس البر ان تولو وجوه‍كم قبل الشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتاب والنبيین وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتمي والمسكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب الخ۔ (البقرہ۔ ١٧٧)”
    (ترجمہ)”سارا کمال اسی میں نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب لیکن اصلی کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب سماویہ پر اور پیغمبروں پر اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کو اور نادار یتیموں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بے خرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو”

    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی خدمت خلق کا نمونہ تھی آپ بے سہاروں کا سہارا ، یتیموں کے والی اور کمزوروں کی طاقت تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صحابہ نے آپ کی پیروی کرتےہوئے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔۔ اپنے کردار سے سماجی فلاح و بہبود اور خدمت خلق کا بہترین نمونہ پیش کیا جو کے ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو بھی انہی اصولوں پر استوار کریں جسکا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ فرمایا ہے۔۔ جسکی تعلیم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناصرف قرآن مجید کے ذریعے کی بلکہ اپنی پوری زندگی ہی ایک مشعل راہ بنا دی، آنے والی تمام اُمتوں کے لیے۔۔
    آپ نے فرمایا:
    "بہترین انسان وہ ہے جودوسرے انسانوں کے لئے منافع بخش ہو”

    زندگی وہی خوبصورت ہے جو دوسروں کے کام آنے میں گزر جائے۔۔ اپنے لیے جینا بھی کوئی جینا ہوتا ہے۔۔ صرف اپنے لیے تو حیوان بھی جیتے ہیں۔۔ پھر اُن میں اور ہم میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہمیں خود کو اُس درجے تک پہنچانے والی چیزوں میں سب سے اہم انسانیت کی خدمت ہے ۔

    نماز ، روزہ ،حج اور زکوٰۃ بہت ضروری ہیں ہم پر مسلمان ہونے کے ناطے سے ۔۔ لیکن اللہ کو ان سب سے بھی زیادہ عزیز و لوگ ہیں جو ان سب کے ساتھ اپنے گھر والوں کا ، اپنے آس پاس کے لوگوں کا، اپنے عزیز رشتہِ داروں کا خیال رکھتا ہے ۔
    علامہ اقبال نے ایک شعر میں بہت خوبصورتی سے اسکا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔۔

    "دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کم نا تھے کرو بیاں”

    یعنی اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے اللہ کے پاس فرشتوں کی کوئی کمی نہیں تھی ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے لیے پیار محبت اور خلوص نیت سے مدد کرنے کے لئے پیدا کیا۔۔۔ ہم دنیا میں آنے کے اصل مقصد کو بھول کر خود کو ایک پیسہ بنانے والی مشین بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں کے ہم کسی اور کے دکھ درد کو محسوس کر سکیں، مدد کرنا توبہت دور کی بات ہے۔۔آئے ہم خود کو بدلیں، اپنے اندر کے خوبصورت انسان کو باہر انے کا موقع دیجئے ۔۔ خود بھی خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اوروں کو بھی اسکی ترغیب دیں۔ اور ایک خوبصورت معاشرہ بنائیں۔۔
    ” تمنا درد دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی
    نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں”

    @NiniYmz

  • اللہ کی آواز تحریر:  محمد احمد

    اللہ کی آواز تحریر: محمد احمد

    ایک فرانسیسی ڈاکٹر سمندری جہاز میں سفر کررہا تھا۔۔۔اچانک مصر کے قریب وہ اپنا سفر ختم کرکے ایک عالم محمود مصری کے پاس پہنچا اور مسلمان ہوگیا۔۔ محمود مصری نے کچھ عرصہ بعد ان سے سن کے مکان پر جاکر اسلام قبول کرنے کی وجہ دریافت کی۔۔؟؟
    قرآن کی ایک آیت۔” ڈاکٹر نے جواب دیا
    محمود مصری نے ان فرانسیسی ڈاکٹر سے پوچھا کیا آپ نے کبھی کسی مسلمان یا عالم سے قرآن پڑھا ہے؟
    جس پر فرانسیسی ڈاکٹر نے کہا نہیں ابھی تک میری کسی مسلمان یا عالم سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
    پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔۔ محمود مصری کے استفسار پر فرانسیسی ڈاکٹر نے جواب دیا:
    "مجھے اکثر سمندری سفروں میں رہنے کا اتفاق ہوا میری زندگی کا آدھا حصہ پانی اور آسمان کے درمیان بسر ہوا اسی طرح کے ایک سفر میں ایک بار میں قرآن کا فرانسیسی ترجمہ لے کر نکلا جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو سورۃ نور کی ایک آیت میرے سامنے سے گزری جس میں ایک سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی جسکا ترجمہ ہے
    "جیسے اندھیرا ہو گہرے سمندر میں، اسکو ڈھانپ لیا ہو موج نے،لہر کے اوپر لہر،اسکے اوپر بادل،اندھیرے پر اندھیرا،اس حالت میں ایک شخص اپنا ہاتھ نکالے تو توقع نہیں کہ وہ اسکو دیکھ سکے اور جسکو خدا نور نہ دے اسکے لیئے کوئی روشنی نہیں”
    (سورۃ النور،آہت نمبر 40)
    میں نے اس آیت کو کافی دلچسپی سے پڑھا اس میں سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی تھی جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میرا دل انداز بیان کی عمدگی اور واقفیت سے بیحد متاثر ہوا تب میں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کے رسول اللہﷺ ایسی شخصیت ہوںگے جنکے رات دن میری طرح سمندری سفروں میں گزرے ہوںگے۔۔۔ پھر بھی مجھے حیرت تھی کہ انہوں نے سمندر کی گہرائیوں کو کیسے مختصر الفاظ میں بیان کیا ہے گویا کہ خود رات کی سیاہی بادلوں کی تاریکی اور موجوں کے طوفان میں ایک جہاز پر کھڑے ہیںاور ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بدحواسی دیکھ رہے ہیں۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ سمندری خطرات کا کوئی بڑا سا بڑا ماہر اتنے کم الفاظ میں اتنے کامیاب طور پر اسکی تصویر کشی نہیں کرسکتا۔۔
    لیکن اسکے تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ محمد عربی ﷺ نے زندگی بھر کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ ہی انہوں نے زندگی بھر کبھی سمندر کا سفر کیا تھا۔۔یہ بات ظاہر ہونے کے بعد میرا دل روشن ہوگیا تب میں نے جانا کہ یہ محمدﷺ کی آواز نہیں بلکہ اس خدا کی آواز ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے اسکے بعد میرے لیئے کوئی چارہ نہیں تھا سوائے اسکے کہ میں مسلمان ہو جاؤں”
    @MohhammadAhmad

  • ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد  تحریر: ذوہا علی

    ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد تحریر: ذوہا علی

    ‏دین اخلاقی قدروں کی سر بلندی کا نام ہے اور مادی ترقی اور مادی عروج بالکل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل کیں ان آسمانی کتب میں بھی خیر کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور شَر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نبیوں اور مصلحین امت ہمیں بتایاہے کہ اچھی قوموں میں اخلاقی قدروں کی پزیرائی کی جاتی ہے اور بُرے اخلاق پر مذمت ہوتی ہے۔
    لیکن اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہو تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانی فطرت کے اندر یہ چیز رکھی ہے کہ خَیر کیا ہے اور شَر کیا ہے۔ یہ بات انسان کو خود بھی پتہ ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔ اگر ہم کسی انسان کو اذّیت پہنچائیں، کسی کمزور کا حق غضب کریں، کسی کے حقوق پامال کریں تو ہمارا دل و دماغ ہمیں خود بتاتا ہے کہ یہ کام غلط ہے۔ ہمارا ضمیر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔
    حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری بُرائی تمہیں پریشان کر دے تو جان لو کہ تم مومن ہو ”
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔ پھر انسان گناہ کرنے کے باوجود بھی کچھ محسوس نہیں کرتا۔ اسے پتا نہیں چلتا کہ وہ اچھائی کے راستے پر ہے یا بُرائی کے۔ وہ کمزور لوگوں سے فریب کرنے کے باوجود اپنے ساتھیوں سے داد وصول کر رہا ہوتا ہے اور یوں وہ انسان اپنے مکر و فریب کو اپنی فنکاری تصوّر کرتا ہے اور یہ اس انسان کی بدترین کیفیت ہوتی ہے۔
    ایک انسان کا انسانِ کامل بننا اور انسانیت کے مرتبۂ کمال تک پہنچنا آ سان نہیں ہے اور شاید منٹ بھی نہیں ہے۔ لیکن انسانیت اور اخلاقیات کے معیار پر پورا اترنا بھی اوّلین شرط ہے۔ جیسے کسی پھول میں خوشبو نہ ہو تو اس پھول اور داغ میں کوئی فرق باقی نہیں بالکل اسی طرح جس مسلمان میں انسانیت اور حُسن اخلاق نہ ہو تو اسے مسلمان تو کیا انسان کہنا بھی جائز نہیں ہے۔
    انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو اچھائی کی طرف راغب کرے۔ اگر سب افرادِ خانہ بیٹھ کر لوگوں کی برائیوں کا ذکر کریں گے تو دِلوں میں نفرتوں کے بیج لگ جائیں گے جو کبھی تن آور درخت بن کر زندگی کی رونقوں کو چھین لیں گے۔ اسی لیے انسان کو اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لےکر اپنے اچھے اخلاق و کردار کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اس سے ایک اچھا خاندان اور اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا۔ کیونکہ فرد سے خاندان بنتا ہے، خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور اچھے معاشرے اپنے دین اور اپنے ملک کی سربلندی کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتے ہیں۔
    دورِ حاضر میں انسان اپنے عزیز و اقارب سے غلط رویّے اور تلخ جملے استعمال کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا دین تو کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم حُسنِ اخلاق اور حُسنِ کردار کو اپنا شعارِ زندگی بنائیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو عدم برداشت کرنے کی بجائے معاف کر دیں اور ایک خوبصورت ماحول پیدا کریں تا کہ ہمارے قول و فعل سے ہم اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خوبصورت احکامات کی تعمیل کر کے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو یہ بات ثابت کر دیں کہ ہمارا دینِ اسلام واقعی ایک مکمل دین ہے جس میں زندگی گزارنے کے تمام تر طریقے موجود ہیں۔
    انسان مجبورِ محض ہے۔ اللّٰہ کی طاقت اور توفیق کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللّٰہ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے تا کہ اسکی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ اگر کوئی انسان اپنے نفس کا قیدی ہے ، اپنی آنا میں مگن ہے اور پھر بھی خود کو مسلمان تصوّر کرتا ہے تو ایسا انسان خود پر زیادتی کر رھا ہے۔ ایک مسلمان کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار سے غیر مسلموں کو متاثر کر کے دین کی طرف راغب کرے لیکن اگر یہی مسلمان اس کے برعکس کام کر رہا ہے اور اپنے نفس کی پیروی کر رہا ہے تو یہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ بیشک تمام مخلوق اللّٰہ تعالٰی کا کنبہ ہے اور وہی شخص اللّٰہ کا دوست ہو سکتا ہے جو اسکی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
    Name : Zoha Ali
    Twitter handle : @ZoHaAli_15

  • جذبہ ایمانِ کی طاقت   تحریر: محمد بلال

    جذبہ ایمانِ کی طاقت تحریر: محمد بلال

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

    اے ایمان والو ! اگر تم ﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا

    جب مسلمانوں کا قبلہ مغرب کے بجاۓ کعبہ ہو
    نظریں دنیاوی سپر پاور کے بجاۓ گنبد خضریٰ پر ہوں اور بھروسہ صرف اللّه پر ہو تو 1965 اور 27 فروری جیسی فتح مسلمانوں کے قدم چومتی ہیں

    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    اللّه کے رازوں میں سے ایک راز اسلام کا قلعہ
    واحد ملک جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھی گئی
    اپنے قیام سے لے کر آج تک اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں کانٹے کی مانند کھٹک رہا ہے 

    اور دشمن مسلمانوں کے قلعہ کو فاتح کرنے کے خواب پچھلے 73 سالوں سے دیکھتا ہوا آرہا ہے
    پوری دنیا کے یہود و نصاریٰ اور ہندو پاکستان کو ختم کرنے کے لیے ہر وقت
    کوئی نا کوئی سازشیں کرتے رہتے ہیں

    کبھی کلبھوشن جادھو جیسے جاسوسوں کے زریعے کالعدم تحریکوں
    (تحریک طالبان پاکستان،بی ایل اے) کو فنڈنگ کرکے پاکستان میں دہشت گردی و بدامنی پھیلاتے ہیں

    تو کبھی فیک نیوز ویب سائٹس سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں

    لیکن اللّه کے شیر ان سب فتنوں اور سازشوں کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں

    اللّه کے یہ شیر بری فوج کے روپ میں سرحدوں کی نگرانی
    ایئر فورس کے روپ میں فضاوں اور
    پاک بحریہ کے صورت میں سمندری حدود کی ہر وقت حفاظت کر رہے ہوتے ہیں

    جس کی سب سے بڑی مثال 26 فروری کی رات ہے جب انڈیا کا اسرائیل کے ساتھ ملکر امریکہ کی آشیر باد سے رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا

    لیکن اللّه کے سپاہی مملکت خداداد کی حفاظت کے لیے ہر وقت جاگ رہے ہوتے ہیں

    رات کی تاریکی میں اس مشترکہ حملہ کو نا صرف ناکام بنایا بلکہ دوسرے دن اللّه کے شیروں نے اپنی سر زمین پر رہتے ہوۓ دنیا کی تمام شیطانی قوتوں کو پیغام دیا کے ہم خاتم النبین کے امتی ہیں
    ہم حضرت علی شیر خدا رضی اللّه تعالی عنہ کے غلام ہیں
    جس طرح
    حضرت علی رضی اللّه تعالی عنہ نے خیبر کا قلعہ فتح کیا تھا اسی طرح ان کے غلام اسلام کے قلعہ پاکستان کی نا صرف حفاظت کریں گے بلکہ اس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑ دیں گے.

    اس سب کے علاوہ دوسری جانب یہ ہم سب کی بطورمسلمان مجموعی ذمہ داری ہے کہ عالمِ اسلام کی ترقی اور حفاظت کیلیے لایعنی قسم کے اختلافات بھلا کر اتحاد و یگانگت کی ایسی مثال قائم کریں کہ دشمنانِ پاکستان اور اسلام ہمارے خلاف سازشوں کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اِسلام کی اِن تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جو موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ ہمیں چاہۓ کہ کسی بھی معاملے پراشتعال کی کے بجائے اس پر مناسب قانونی چارہ جوئی کی راہ تلاش کریں۔

    قرآنِ کریم میں حقِ باری تعالی کا ارشاد ہے،
    وَ  لَا  تَهِنُوْا  وَ  لَا  تَحْزَنُوْا  وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)

    ترجمہ
    اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے ۔
    سورہ آل عمران 139

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947