Baaghi TV

Category: اسلام

  • فلسفۂ خداوندی تحریر: محمدعادل حسین

    فلسفۂ خداوندی تحریر: محمدعادل حسین

    اللہ رب العزت نے تخلیق کائنات کانظام مرتب کیا زمین ، آسمان ، حجر ، شجر ، چرند ، پرند ،الغرض بہت مخلوقات پیدا کی ان میں ایک مخلوق انسان بھی پیدا کی جس کی ابتداء آدم علیہ اسلام سے کی اس مخلوق تمام مخلوقوں سے افضل کہا اور ساری چیزیں اس کے تابع کردیں اس کی ضرویات کو پورا کرنے کی خاطر زمین سے فصل آسمان سے بارش جانوروں سے گوشت یا سواری کاکام البتہ ہر کوئی چیز کسی نا کسی لحاظ سے اس کی ضرورت کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔

    پھر انسانوں میں بعض اقتدار بعض کورعایا بنایا کچھ کو امیر کچھ کوغریب پیدا کیا لیکن سب کا آپس میں ایک ربط بھی قائم کیا۔

    اگر سب حکمران صاحب اقتدار ہی ہوتے
    یا سب عام انسان رعایا ہی ہوتی تو نظام کاچلنا مشکل تھا۔

    ان میں کچھ کو سمجھ بوجھ اور علم عطاء کیا تاکہ وہ انسانوں کو ایک منظم طریقے سے زندگی بسر کرنے کاشعور دیں سکیں۔

    اسی سلسلہ کی ایک کڑی انبیاء علیہ السلام ہیں اللہ رب العزت نے ان کو وحی کے ذریعے علم دیا اور انسانیت کی رہمنائی کیلۓ ان کی زندگی کامقصد سمجھانے یہ سلسلہ جاری کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انسانوں اور جانوروں میں تمیز کرنا مشکل تھا ۔

    ان میں فرق اور امتیاز قائم کرنے کی برادری اور قبیلوں کا نظام بنایا اگرچہ سب انسان آدمؑ کی اولاد ہی مگر پھر بھی ایک پہچان کیلۓ اس کی تشکیل کی۔

    اب جوامیر اور غریب ہیں یہ بھی دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ہر سب غریب ہی ہوتے یاسب امیر ہی ہوتے تو نظام کا چلنا مشکل تھا۔

    امیر کو اپنی طاقت دولت پہ ناز ہوتا اور کبھی کسی دوسرے کاکام نہ کرتا مثلا زندگی گزارنے گھرکھانے پینے کی ضروریات ہیں اور جو نظام کھتی باڑی کا وہ بھی نہ کرتا یہی کہتا میرے پاس پیسا ہے دولت ہے میں یہ سب کیوں کروں۔

    اب غریب کوغریب اس لیۓ رکھا تاکہ وہ دوسروں کی اور اپنی ضروریات پوری کرنے کا کام کر سکے جب وہ کام کرتا ہے تو امیر سے معاوضہ لیتا ہے اور امیرپر جوذمہ داریاں ہیں وہ انہیں ادا کرتا ہے ناتو ہر انسان ہمیشہ امیر رہتا اور نی ہی ہر انسان ہمیشہ غریب رہتا ہے

    اللہ رب العزت دن پھیرتے رہتے ہیں اور سب کو ہردور میں غربت اور امیری میں گزاز کر یہ بتلاتے کہ سب ایک دوسرے کی مدد کیلۓ ہیں دونوں ہی ایک دوسرے کے محتاج ہیں آج وسائل ہے تو کل ہو نہ ہو ایک دوسرے کادست بازو بن کے تعاون کامعاملہ اپنایا کریں ۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم ہر مرحلے کو رب کی رضاء سمجھ شکر ادا کریں کسی غریب حقیر نہ جانے کیا پتا کل یم اس کی جگہ پہ ہوم اور وہ ہماری جگہ پر ۔

    اب قربانی کا موقع ہی دیکھ لیں اس موقع پہ غریبوں سے تعاون چارہ کی مد میں جانوروں کی دیکھ بال کء مد میں اور اسی طرح ذبح کرنے والے بھی اکثر ان میں ہوتے ہیں ۔
    کتنے جانور ذبح کرتے کیا سب اس گوشت سٹور کرتے شاید کئ لوگوں کا سٹور کرنا نامکن ہو سب ہی غرباء میں تقسیم کرتے ہیں کوئی تھوڑا کوئی زیادہ ۔

    اپنی خوشیوں میں غریبوں کا شامل کرنے کی کوشش کریں اپنے اردگر نظر دھرائیں رشتہ دار ہمساۓ یا ایسے دوست جو جن مالی حالت کمزور ہے عید پہ جہاں گوشت ان کے ہاں بھیجتے وہاں ان کے بچوں کی ضروریات پہ بھی توجہ دیں۔

    کسی چہرے پہ مسکراہٹ لانے اس کے دل سے جو دعائیں نکلیں ان دعاؤں کے حقدار بنے۔
    یقینااس سے مال میں کمی نہیں بلکہ ان کی دعاؤں اللہ کی خوشنودی اور برکت حاصل ہو گی ۔

    امیر ہونا کامیابی نہیں کسی مسکراہٹ کاذریعہ بننا اصل کامیابی ہے۔

  • عقیدہ ختم نبوتﷺ    تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوتﷺ تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے عقیدہ ختم نبوت دین متین دین اسلام دین حق کا بنیادی عقیدہ ہےاسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔
    اس عقیدہ پر ذرا برابر شک مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

    عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے
    قرآن پاک میں ہے کہ

    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)

    ترجمہ:

    محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔

    حضور ﷺ نے خود اپنے آخری نبی ہونے کی گواہی دی

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    وإنہ لا نبي بعدي

    اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، دارالسلام: ۴۷۷۳)

    عقیدہ ختم نبوت پر دور رسالت ﷺ سے ہی حملےہونا شروع ہو گئے تھے۔

    حدیث مبارکہ ہے کہ

    ’’میری امت میں تیس (30) جھوٹے کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب دعوه کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

     ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219.

    حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے لہو سے ختم نبوت پر پہرا دیا۔

    سن گیارہ ہجری میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نامی لعنتی نے نبوت کا دعوہ کردیا۔اس فتنہ کو کچلنے کیلئے اپ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمایا جو اس فتنہ کو کچلنے میں کامیاب ہوا۔

    اس جنگ میں صحابہ نے 36 ہزار منکرین ختم نبوت کو واصل جہنم کیا اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر پہرا دیتے ہوئے 600 سے زائد صحابہ نے جام شہادت نوش کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہی کر سکتا.

    کیونکہ

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر

    خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا۔۔!!

    @Chem_786

  • اسلام کیسے پھیلا ؟  تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام کیسے پھیلا ؟ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسلام کی شروعات کئی جنگوں سے ہوئی جن میں سب سے مشہور جنگ ہے جنگ بدر یا غزوہ بدر ۔
    بدر کی اس لڑائی میں 313 مسلمانوں کا مقابلہ ایک 1000 کی فوج سے تھا ۔ اور اس لڑائی میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ۔ ابو جہل کی قیادت میں ایک 1000 کی فوج کا مقابلہ 313 مسلمانوں سے تھا ۔ اور پھر بھی مسلمانوں کی جیت ہوئی کیونکہ اللّه نے اپنے نبی کے لئے اس جنگ میں آسمان سے 1000 فرشتوں کی فوج اتار دی تھی ۔ کیا سچ میں اللّه نے بدر کی جنگ میں اپنے نبی اور امّت کا ساتھ دیا تھا ؟ کیا بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے واقعی 1000 فرشتے بھی کفار کے ساتھ لڑے تھے ۔ اس پوسٹ میں ہم اسی بات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    تاریخ میں ایسی بوہت سی جنگیں ہو چکیں ہیں جن میں کم تعداد والی فوج نے اپنی بہادری سے اپنے سے بڑی تعداد والی فوج کو ہرایا ہو ۔ چمکور کی جنگ کو ہی دیکھ لیں محض چالیس بہادر سکھوں نے لاکھوں کی مغل فوج کو دھول چٹا دی تھی جن لوگوں کو اس جنگ بارے نہیں پتا وہ گوگل کی مدد حاصل کر لیں ۔پتا بھی کیسے ہو کیوں کہ ہمارے ہاں تو صرف مسلمان فاتحین کے ہی قصے سنائے جاتے ہیں ۔ مٹھی بھر انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے کروڑوں ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا یا آج کے دور کو ہی دیکھ لیں لاکھوں یہودی کروڑوں مسلمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں ۔ کوئی بھی فوج جیت کے لئے اپنی تعداد پے کم اور بہتر قیادت بہتر حکمت عملی بہتر ہتھیار اور اپنے حریف فوج کی جنگی چالوں کے بارے پہلے سے معلومات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے ۔ جو کہ اپنے جاسوس بھیج کر حاصل کیں جاتیں تھیں ۔ بدر کی جنگ بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ 313 مسلمانوں کا مقابلہ مکہ کی بڑی فوج سے تھا اور آخر مسلمانوں کی جیت بھی ہوئی ۔ اس جیت کو اللّه کی طرف سے بھیجے گئے 1000 فرشتوں کی مدد سے جوڑ کر میدان جنگ میں لڑنے والے بہادر 313 مسلمانوں کی بہادی کی دھجیاں اڑا دی گیں ہیں ۔ کیا سچ میں غزوہ بدر میں اللّه نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی مدد کے لئے 1000 فرشتوں کی فوج اتاری تھی ؟ اس کہانی کو اگر زمینی حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ کہانی بلکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک من گھڑت کہانی ہے ۔ ایک فرضی کہانی ہے ۔ کیسے ؟ آیئں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر غزوہ بدر میں اللّه کی طرف سے بھیجی گئی 1000 فرشتوں کی فوج والی بات کو سچ مان لیا جاۓ تو پھر مسلمان فوج کی تعداد محض 313 نہیں بلکہ بڑھ کر 1313 ہو جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف 1000 کی فوج ۔ یعنی 1000 کی فوج کا مقابلہ 1313 کی فوج سے تھا ۔ مسلمانوں کی طرف سے 313 عام انسان اور 1000 فرشتے ۔ اور دوسری طرف صرف 1000 عام انسان ۔ اگر یہ بات سچ ہے تو جنگ یقیناً یک طرفہ ہی ہونی چاہیے تھی ۔ کیوں کہ ایک طرف عام انسان اور دوسری طرف اللّه کے فرشتے تھے جنھیں لڑنے کا طریقہ بھی اللّه نے بتایا تھا کہ تمہاری تلوار کا وار ان کی گردن پر ہونا چاہیے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فرشتوں کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی ۔ اور وہ ایک ہی پل میں دشمن فوج کی دھجیاں اڑا دیتے ۔ دشمن فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچتا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں ۔
    گھنٹوں چلنے والی اس جنگ میں دشمن فوج کے صرف 70 سپاہی مارے گئے ۔ اور میدان جنگ میں اللّه کے فرشتے موجود ہونے کے باوجود 14 مسلمان بھی مارے گئے ۔ وہ فرشتے جنھیں اللّه نے خود لڑنے کا طریقہ بھی سمجھایا تھا کہ دشمن کو کیسے مارنا ہے ۔ پھر بھی فرشتے اس جنگ میں بلکل خاموش رہے ۔ یہاں ایک بات اور سمجھ سے باہر ہے ۔ کہ قرآن میں ایک طرف تو اللّه خود کو سب سے بڑا کہتا ہے اور جو وہ صرف کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو بیچارے فرشتوں کو کیوں پریشان کیا ۔ آسمان سے اتر کر انھیں عرب کے تپتے ریگستانوں کی خاک چھاننا پڑی ۔ اللّه صرف کہہ دیتے اے دشمن برباد ہو جا وہ ویسے ہی برباد ہو جاتے ۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ نہ اللّه نے دکھایا اور نہ ہی اس کے فرشتوں نے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر دیکھیں تو بدر کی جنگ دوسری جنگوں کی طرح ایک عام جنگ تھی ۔ اس جنگ میں اللّه کے فرشتوں کی شمولیت والی بات ایک من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسی سبھی کہانیاں جنھیں معجزات سے جوڑا گیا ہے ۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف ضرورت ہے تو ہمیں انھیں اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر پڑھنے کی ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

  • عید اور ہماری قربانی  تحریر: حسیب احمد

    عید اور ہماری قربانی تحریر: حسیب احمد

    عید قربان ابھی چند روز پہلے ہی گزری اس سے پہلے شہر میں اتنا رش۔ عید کے پہلے دن عمومی طور پر سب قربانی کرلیتے ہیں اور قربانی کے جانوروں کی غیر ضروری چیزیں باہر کچرے میں یا سڑکوں پر پھینک دیا کرتے ہیں اور پھر اس عمل کے سبب مختلف بیماریاں اور بدبو جنم لیتی ہیں۔ اور پھر آپ کا شہر کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے اور پھر عوام اپنا غصہ سیاستدانوں یا حکمرانوں پر نکلتی ہے۔ لیکن کبھی سوچا ہے اس کے ذمہ دار زیادہ تر ہم لوگ ہی ہیں نا ہم پھینکتے نا یہ ہوتا نا ہم بیمار ہوتے۔ اور ان سارے عمل سے دنیا میں پاکستان کا منفی اثر جاتا اور دنیا پھر پاکستان کو علمی گندگی والے شہروں میں ڈال دیتی ہے کسی ایک انسان کی غلطی پاکستان کو دنیا بھر میں شرمندہ کراسکتی ہے۔ اس لیے آپ شہر کو ان چیزوں سے پاک رکھیں، دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور اچھے شہری اور مسلمان ہونے کا فرض ادا کریں اور آنے والی نسلوں کو سکھائیں کے "صفائی نصف ایمان ہے” اور مسلمان ہونے کا فرض اس لحاظ سے بھی ادا کریں کہ کسی مستحق کو وہ قربانی والا گوشت دیں اور اللہ کی راہ میں سرخرو ہوجائیں اس سے بڑی نیکی اور ثواب کا موقع شاید ہی کوئی ہو۔ اس سے آپ اللہ کو بھی راضی کریں گے اور اپنی آخرت کو بھی اس نیکی سے روشن کریں گے۔
    قربانی کا ہرگز مقصد یہ نہیں کے دوسروں کو کچھ نا دیں اور سارا گوشت خود رکھ لیں اللہ پاک نے ہر مستحق کا حصہ ہماری قربانی میں رکھا ہے اس سے ہمیں اللہ پاک مل کر رہنے کا درس دیتے ہیں۔ قربانی اللہ نے صرف اس پر واجب کی ہے جو اس کے اخراجات برداشت کرسکتا ہے اگر کوئی نہیں کرسکتا قربانی تو اس کو اس کا اجر اللہ دے دے گا کیوں کہ اللہ دلوں کے حال جنتا ہے اور اپنے بندے کی مجبوری سے آگاہ ہے۔ عید قربان پر اللہ نے حکم دیا ہے کہ اپنی کسی قیمتی چیز میری راہ میں قربان کرو اور بندہ بکرے، گائے، بھینس کو قربان کرتا ہے کیوں وہ اس کو اتنی پیار اور لاڈ سے پالتا ہے کیوں وہ جانور اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس اور یہ درس ہمیں اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے واقعہ سے دیا گیا ہے۔ قربانی کریں ضرور کریں ہم پر فرض ہے جو صاحب حیثیت ہیں ان پر لیکن دوسرے لوگوں کا بھی خیال کریں کہ دوسرے کو تکلیف نا ہو اس سے اور جو لوگ پورا سال اس عید پر گوشت کا انتظار کرتے ہیں براہ مہربانی پلیز ان کو مایوس نا کیا کریں ان کو دیا کریں اس سے نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوگا۔
    اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہماری قربانی اور نیکی دونوں قبول فرمائے اور انجانے میں کسی کو تکلیف ہوئی ہماری اور سے تو قبول فرمائے آمین۔

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • حسنِ اخلاق اور ہم لوگ  تحریر: عامر سہیل

    حسنِ اخلاق اور ہم لوگ تحریر: عامر سہیل

    جب ہم یہ لفظ اخلاق سنتے ہیں تو ایک چیز ذہن میں آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اخلاق مطلب ہے میٹھا بولنا مسکرانا۔ حسنِ اخلاق میں محض میٹھا بولنا ہی نہیں حسن اخلاق سچ بولنا بھی ہے۔ اچھا گمان رکھنا بھی حسن اخلاق ہے۔ لیکن ہم لوگ میٹھا بول رہے ہوتے ہیں اور دل میں نقصان پہنچانے کے ارادے کر رہے ہوتے ہیں۔
    حسنِ اخلاق کسی کو نفع دینا ہے۔ اخلاق وفادار رہنا ہے جس دوست، ہم منصب کے ساتھ آپ ساتھ چل رہے ہوں آپ کو اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے یہ بھی حسن اخلاق میں ہے۔ اخلاق کردار کے سنوارنے کو کہتے ہیں جب ہمارا کردار پاک ہو ہم کسی کو دھوکا نہ دیں مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہم کسی کو دھوکہ دے کر اچھے اخلاق کے مالک بن سکتے ہیں بلکل بھی نہیں ہمارا دین ہمیں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ کو دھوکہ دے کر تکلیف ہوتی ہے کسی کو آسانی دے کر آپ کو سکون ملتا ہے آپ مطمئن ہوتے ہیں تو آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اس کو اپنے اندر ڈھونڈ کر اپنی زندگی کو آسان بنانے۔
    غصے کو دبا لینا اور ضبط کر جانا بھی بہت اعلٰی صفت ہے جو آسانی سے نہیں آتی۔ غصے کے بارے تنبیہ کرنا اس کے فضائل بیان کرنا آسان ہے لیکن اس پر قابو اتنا ہی مشکل ہوتا۔ اگر آپ غصے کے وقت خود پر کنٹرول رکھیں تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے۔
    غلط بات کو غلط رویہ کو برداشت کرنا اخلاق ہے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ صحیح بات کو برداشت نہیں قبول کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلام نے اس چیز ہر بہت زور دیا ہے کہ آپس میں حسنِ سلوک رکھو بھلے وہ تم سے کم طاقت میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ امیر کے سامنے تو جھک جاتے ہیں اور غریب کو دباتے ہیں.
    نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
    أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
    الحدیث۔
    سنن الترمذي:1162 ابواب البر والصلة
    ترجمہ:
    سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
    حسنِ اخلاق کو عملی طور پر نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عمل کر کے دیکھایا ہے۔معاشرے میں اس چیز کی بہت کمی ہے انسان ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے آئی ہے ہماری نجات ہماری ترقی اسی راہ میں ہے جو راہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھایا ہے۔ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں خود احتسابی کریں۔
    کیا آپ نے لوگوں کی قدر کی؟
    کیا آپ اپنے والدین، اپنی بیوی کے ساتھ خوش اخلاق ہیں۔ کیا وہ آپ کو اپنی زندگی میں پا کر خوش ہیں اگر نہیں خوش تو آپ خود پر توجہ دینی چاہیئے آپ کہاں ہیں۔آپ خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کسی کے سامنے اس چیز کا جوابدہ صرف اللہ کو ہیں
    اس دنیا سے ہزاروں لوگ چلے جا چکے ہیں کیا اُن کے جانے سے دنیا کو فرق پڑا؟
    بلکل بھی نہیں تو آپ کے جانے سے بھی نہیں فرق نہیں پڑے گا اللہ پاک نے اگر آپ کو موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں توبہ کریں.اور اپنے حقیقی خالق و مالک کو پہچانیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر لوٹ آئیں۔ اور حقیقی مقصد کے لئے کوشش کریں.

  • محافظِ ناموسِ رسالت نورالدین زنگی اور موجودہ اسلامی حکمران   تحریر : صائمہ ستارہ

    محافظِ ناموسِ رسالت نورالدین زنگی اور موجودہ اسلامی حکمران تحریر : صائمہ ستارہ

    557ء میں شام کے سلطان نورالدین زنگی کے دورِ حکومت میں رسول اللہ‏‎ﷺ کے جسدِ مبارک کو مدینہ منورہ سے نکالنے کی ناپاک کوشش کی گئی ایک رات سلطان سو رہےتھے کہ مسلسل 3 بار ایک ہی خواب دیکھا کہ رسول اللہ ‏‎ﷺخواب میں تشریف لاتے اور دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ نور الدین مجھے ان آدمیوں کی شرارت سے بچاؤ. اب سلطان کو چین کہاں تھا فوراً مدینہ کی طرف کوچ کیا اوردنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے مدینہ منورہ پہنچے. وہاں تحائف دینے کے بہانے مدینہ منورہ کے ہر فردسے ملے لیکن وہ دوچہرے نظر نہ آئےجو 3 بار انہیں خواب میں دکھائے گئےتھے.سلطان نے پوچھا کیا آپکو یقین ہے کہ مدینہ کا ایک ایک فرد مجھ سے مل چکا ہے؟ جواب ملا کہ جی ہاں سوائے دو افراد کہ جو مراکش کے نماز, روزہ کے نہایت پابند متقی باشندے ہیں اور دن رات صرف روضہ رسول‏‎ﷺ پہ حاضر درودو وسلام بھیجتے رہتے ہیں.(منافقت کا درجہ دیکھیے ذرا) آپکا انہیں بتایا گیا لیکن انہوں نے کہا ہمیں کسی تحفے کی ضروت نہیں. سلطان نے فوراً انہیں بلوایا. باز پرس کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں عیسائ باشندے ہیں اور مال وزر کی لالچ میں اپنے عیسائ حکمران کے کہنے پر منافقت کا اعلی ڈرامہ رچا کر روضہ رسول کے قریب مکان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئےوہاں سے روضہ رسول تک سرنگ کی کھدائ کامنصوبہ تقریباً تکمیل کے مراحل میں تھا.سلطان نورالدین زنگی سنتے رہے روتےرہے.انکے قتل پر فوری عمل درآمد کرو کر سلطان نے روضہ رسول‏‎ﷺ کے گرد خندق کُھدوائ اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے بھروا دیا تاکہ قیامت تک دوبارہ ایسی ناپاک سازش نہ ہو سکے.رسول اللہ ‏‎ﷺکی عزت پر کامیاب پہرا دے کر اپنا فرض ادا کر کے سلطان اپنا دامن پکڑ کر فقیروں کی طرح مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیوانہ وار روتے ہوئے پھرے آپ روتے جاتے اور ایک ہی بات فرماتے.. میرا نصیب کہ پوری دنیا سے اور بھی مسلم حکمرانوں کہ ہوتے ہوئے یا رسول اللہ‏‎ﷺ
    اس غلام کو ہی آپ نے اس خدمت کے لیے چنا؟
    حال ہی میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخی ہوئ یہ ایک فرد کا ذاتی فعل نہیں تھا ریاستی سطح پر یہ اقدام کیا گیا جسے ساری یورپی یونین مطلب سب مغربی ممالک نے مکمل سپورٹ کیا..سرکاری عمارتوں پر بڑی سکرینز پر انکے خاکے دکھائے گئےجنکا سایہ ہی نہیں تھا.💔لیکن 57 مسلم ممالک میں سے ایک ایک نے رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پر مُردوں والا کردار ادا کیاسوچنے کی بات یہ ہے کہ آج ان 57 مسلم حکمرانوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں تھا؟کہ رسول اللہ‎ﷺسوتے میں آجگاتے کہ اٹھو میری عزت پہ پہرہ دو. کسی ایک سے انہوں یہ کام لینا گوارا نہ کیا؟ انہیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے کہ کس لیے انہیں ناموسِ رسالت ‏‎ﷺکے تحفظ کے عظیم کام کی سعادت حاصل نہ ہوسکی..؟نماز,روزہ,تسبیحوں کا نام ہی دین ہے تو وہ تو اللہ منافق سے بھی نہیں چھینتا.. نہ ہی یہ کہ چند تقاریر اور مذمت سے ذمہ داری سے فارغ ہوا جائے. اصل بات تو ہے میدانِ عمل میں آکر رسول اللہ‎ﷺسے وفا کر جانا..اور جہاں تک اولیاء, محدثین کی تحقیق ہے کہ سلطان نورالدین کو اس سعادت کہ حاصل ہونے کی بڑی وجہ انکا علماء اور دین کے تحفظ کے اقدامات تھے آپ نے اپنے دورِ حکومت میں سب سے عالیشان عمارتیں دین پڑھانے کے لیے بنوائیں. علماءِ حق کو سب سے بلند مقام, عہدے اور عزت دی جب کہ آج کےدور میں علماءِ حق کی وہ عزت نہیں.نہ ہی دینی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے بلکہ اسے تعلیم سمجھا ہی نہیں جاتا. عمومی سوچ ہے کہ عالم کو بس مسجد تک محدود ہونا چاہیے جبکہ اسلام میں علماء کو انبیاء کے وارث کہا گیا ہے.قصہ مختصر کہ مسلمانوں میں اگر کبھی تبدیلی آئے گی ترقی ہو گی تو اسلام کو عملی طور پر اپنانے سے ہو گی.اور اسلام میں اگر سیدنا محمد‏‎ﷺ سے محبت, وفا ہر چیز سے بڑھ کر نہ ہو تو اسلام میں کچھ نہیں بچتا.آخری
    با اختیار عثمانی حکمران سلطان عبدالحمید کے دور میں فرانس نے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا تو آپ نے باوجود اس کے کہ سلطنتِ عثمانیہ آخری سانسیں لے رہی تھی ملک میں خانہ جنگی کی صورتِ حال تھی پھر بھی آپ نے سنتے ہی فوراً فرانس کے
    سفیر کو بلا کر خاکے منسوخ کرنے کا کہا بصورتِ دیگر جہاد کا اعلان کرنے کا کا عندیہ دیا.سلطان کےالفاظ میں عزم کی اسقدر پختگی جھلک رہی تھی کہ فرانس کو خاکے منسوخ کرنا پڑے.یہ تھی نبی آخر الزماں‏‎ﷺ سے عملی وفا. شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے دنیاوی واُخروی کامیابی کا راز چند الفاظ میں سمو دیا کہ محمد‏‎ﷺ سے کوئ وفا کرے جیسے وفا کرنے کا حق ہے تو لوح و قلم (قسمت لکھنے کا اختیار) بھی اسکے ہوتے ہیں.مختصر یہ کہ امتِ مسلمہ اگر عروج چاہتی ہے تو پہلے رسول اللہ‏‎ﷺ سے وفاکرنی ہو گی.اس وفا کے بغیر,رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پہ سمجھوتہ کر کے کسی قسم کی ترقی/ عروج کی خواہش فضول ہے.ساری دنیا آج کرونا, مہنگائ , معاشرتی بے سکونی اور ایک سے بڑھ کر ایک مسلئے سے دوچار ہے لیکن شائد آسمان سے پتھر گریں تو کوئ مانے گا کہ ہاں اللہ واقعی ناراض ہے.

  • چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    اگر ہم آج سے ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو جو آج چین اور روس کا ہمسایہ ملک منگولیا ہے اس وقت یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے قبیلے آباد تھے یہ لوگ خانہ بدوش تھے اپنے لئے کسی مناسب جگہ کا انتخاب کرتے اور پھر وہاں زندگی گزر بسر کرنے چلے جاتے اور جب وہاں کی آب و ہوا اور ان کے مویشیوں کے لئے چارہ کافی نہ ہوتا تو یہ لوگ وہاں سے کسی سرسبز اور بہتر جگہ پر ہجرت کر جاتے ان قبیلوں کے اپنے اپنے سردار تھے اور تمام قبیلہ سردار کے ماتحت ہوتا تھا اور تمام قبیلے والے اپنے سردار کی عزت کرتے اور ہر بات مانتے تھے،
    ان قبیلوں میں سے ایک قبیلہ جس کا سردار یسوخئی نام کا جو ایک بہادر جنگجو بھی تھا اور اس کا تعلق بورجگین خاندان سے تھا اس کا ایک بیٹا جسکا نام تموجن جسے آج دنیا ”چنگیز خان” کے نام سے جانتی ہے پانچ سال کی عمر کا تھا اس کے باپ نے اپنے دوست کے قبیلے میں اس کی منگنی کروا دی ان خانہ بدوشوں کے تمام قبیلے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے گویا جانی دشمن بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ہر قبیلہ کے لوگ جنگی مہارت رکھتے تھے، یسوخئی کو ایک دعوت میں بلا کر زہر دے دیا گیا اور جس سے اس کی موت واقع ہوگئی،
    اب اس کے بیٹے کے خلاف قبیلے والوں نے بغاوت کردی کہ اس پانچ سال کے بچے کو ہم اپنا سردار نہیں مانتے انہوں نے تموجن اور اس کے گھر والوں کو قبیلے سے الگ ہونے کا کہہ دیا،
    لیکن سردار کے قبیلے سے بغاوت کرنے والوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ تموجن بڑا ہو کر کہیں ہم سے اس بغاوت کا بدلہ نا لے، انہوں نے اسے قتل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے، کئی مہینوں تک یہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور وہ مسلسل اس کی تلاش میں پھرتے رہے۔وقت گزرتا گیا تموجن بڑا ہو چکا تھا، لیکن آخر کار جو اس کی جان کے درپے تھے انہوں نے اسے پکڑ لیا اور زنجیروں میں جکڑکر اپنے ساتھ لے گئے،لیکن اسے مارا نہیں بلکہ قید میں ڈال دیا،
    تموجن کسی طرح ان کی قید سے نکلا اور گھر والوں کو ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، اس نے اپنی منگیتر کو واپس لانے کا فیصلہ کیا، چند عرصہ گزرنے کے بعد کچھ دشمنوں نے اسے آ لیا اس کے گھر والوں پر یلغار ہونے والی تھی جس کا اسے پہلے ہی علم ہو چکا تھا، اس نے اپنی بیوی کو ایک چھکڑے میں چھپایا اسے دوسری طرف روانہ کرتے ہوئے خود پاس بہتے پانی کی طرف روانہ ہو گیا،
    سیانے کہتے ہیں کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی”
    اس کا باپ یعنی یسوخئی ایک عورت کو کسی دوسرے قبیلے سے اغوا کر کے لایا تھا، سو آج یہ سب اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے جارہا تھا، تموجن تو جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جس طرف اس نے اپنی بیوی کو روانہ کیا تھا وہ چھکڑا پکڑا گیا اور وہ تموجن کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے، کہا جاتا ہے کہ یہ وہی قبیلے والے تھے جن کی عورت کو اس کے باپ نے اغوا کیا تھا، سو آج یہ قدرتی انصاف مکافات عمل پورا ہوا،
    مگر اس قسم کی باتیں وہ نہیں سوچتے تھے،
    خیر آگے بڑھتے ہیں اور اس تموجن کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں،
    لیکن ابھی تو اس کہانی کی شروعات ہے۔ آپ اسے توجہ سے پڑھتے رہیں، شاید آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ ہو سکے۔
    تموجن کافی عرصے کے بعد اپنے گھر والوں کا پیچھا کرتے واپس لوٹا تو دیکھا اس کی بیوی گھر میں نہیں تھی، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کو واپس لائے گا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ایسے میں اس نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا جس کا نام جموکا تھا اس نے پہلے تو اسے خبردار کیا کہ تم ایک عورت کی خاطر جنگ کرو گے بعد میں تموجن کے اصرار پر اس کے دوست جموکا نے اسے اپنے قبیلے کے سپاہیوں کا ایک لشکر اس کی کمان میں سونپ دیا۔ یہ اپنی بیوی کو لینے چل دیا،
    اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کے قبیلے پر یلغار کر دی اور اونچی اونچی آواز میں بورتچینا بورتچینا پکارنے لگا بورتچینا اس کی بیوی کا نام تھا، اس نے اور اس کے ساتھ آنے والے سپاہیوں نے قبیلے والوں کے سر دھڑ سےالگ کر کے رکھ دیئے،
    تموجن خیموں کی تلاشی کرتے کرتے اپنی بیوی تک جا پہنچا لیکن پھر کیا ہوا بیوی کو اغوا ہوئے 6/7 ماہ گزر چکے تھے اور اس کی بیوی اس عرصے میں امید سے ہو گئی تھی لیکن اس نے اپنی بیوی کو لیا اور وہاں سے گھر لوٹ آیا،
    تموجن جسے اس کے قبیلے والوں نے تکلیفوں سے دوچار کیا اور خود سے الگ کر دیا اب وہ ان سے ان سب زیادتیوں کا بدلا لینا چاہتا تھا،
    یہ اس قدر ضدی تھا کہ جس چیز کا دل کرتا وہ حاصل کرنے کسی بھی حد تک چلا جاتا۔ بچپن میں اپنے سگے بھائی کو تیر مار کے مار دیا، محض اس وجہ سے کہ وہ اس کی دریا سے پکڑی ہوئی مچھلی کھا جاتا تھا،
    آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ خانہ بدوش قبیلے ایک تو اپنی دشمنیوں کی وجہ سے بہترین جنگجو تھے دوسرا یہ کہ ان کا پیشہ بھی تھا وہ تیز دوڑتے گھوڑوں سے نشانہ لیتے اور تیر چلاتے تھے،
    تموجن اب اپنے باپ کی سرداری چھیننے والوں کے درپے ہو گیا اس نے قبیلے کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور اپنی سرداری میں انہیں امان دینے کا وعدہ کیا، کچھ تو اس کی بات مان گئے اور کچھ نے مزاحمت کی لیکن جنہوں نے مزاحمت کی اس نے ان کا تیاپانچا کر کے رکھ دیا،
    وہ کسی غدار کو زندہ نہیں چھوڑتا تھا،
    اس نے ارادہ کیا کہ وہ اب تمام قبائل کو متحد کرے گا چنانچہ اس نے مختلف قبائل کے سرداروں کو اپنے قبیلے میں ایک دعوت پر مدعو کیا جنہوں نے اس سے اتفاق کیا اور جنہوں نے نہیں بھی کیا ان کو بھی اپنی باتوں سے قائل کرلیا لیکن جنہوں نے اس کی ایک نہ مانی اس نے انکا برا حشر کیا جس ظلم اور سفاکیت سے آج وہ پہچاناجاتا ہے،
    ان کارستانیوں کو دیکھ کر اور اس کی باتیں سن کر مختلف قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے اس نے ان سے کہا کہ میں تم لوگوں کو یہ پوری دنیا دوں گا جیسے چاہو اور جہاں چاہو رہو اور جو چیز تمہیں اچھی لگے اسے حاصل کرو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا اور مسئلہ اس کے بچپن کا دوست جموکا تھا۔منگول اپنے سردار کو خان کا خطاب دیتے تھے اور اب کیونکہ تموجن نے تمام قبائل کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دی تھی لیکن وہیں پہ دوسری طرف اس کا دوست بھی منگولوں کا خاقان بننا چاہتا تھا۔
    خاقان منگولوں میں سارے سرداروں سے بڑے سردار کو کہتے تھے لیکن اس وقت تک انہیں کوئی خاقان نہیں مل سکا تھا جو تمام قبیلوں کی نمائندگی کرتا،اب تمام قبیلوں میں اتحاد قائم ہو رہا تھا اور دونوں دوست اپنی اپنی فوج تیار کر رہے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن فیصلہ کن جنگ کرنا ضروری تھا۔ تموجن نے اپنے دوست جموکا کو اپنی سرداری تسلیم کرنے اور اس کےتابع ہوکر لڑنےکیلئے پیغام بھیجا اس نےلکھا کہ اس قوم کا مقدر میں ہوں اور میری کمان میں تم لڑو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا ورنہ دو سورج ایک ساتھ نہیں چمک سکتے،
    اس کی اس بات پر جموکا نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جس کی مدد سے آج تم اس مقام پر ہو اور یاد کرو وہ دن جب تمہاری بیوی کی واپسی کیلئے میں نے تمہاری مدد کی تمہاری سرداری واپس دلوانے کے لیے بھی میں تمہارے ساتھ کھڑا رہا لیکن آج تم مجھے دھمکی دے رہے ہو۔ اگر تم میرے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہو تو یہ تم کر گزرو،
    چنانچہ تموجن نے اپنی فوج کو جموکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار کیا،
    اور بچپن کے دونوں دوست آج ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے بچپن میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر خون بہایا اور پھر دونوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے سے کہا کہ آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے خونی بھائی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تھالی میں کھاتے تھے اور ایک ہی بستر پر سوتے۔
    مگر اب فیصلہ کن جنگ شروع ہو گئی پہلے تو دونوں طرف کے سپاہی دیدہ دلیری کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے رہے لیکن نتیجہ جموکا کی گرفتاری کی صورت میں نکلا چناچہ تموجن جموکا کو اپنے خیمے میں لے گیا اور وہاں اس کو کھانا کھلایا اور اپنے دوست سے پوچھنے لگا اگر میں ایسے تمہارے پاس گرفتار ہو جاتا تو بتاؤ تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے،
    جموکا نے جواب دیا کہ وہ اسے مار دیتا کبھی زندہ نا چھوڑتا،
    تموجن نے کہا تم اب خود ہی بتاؤ میں تمارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اس نے کہا مجھے مار دو مجھے مار دو اگر میں زندہ رہا تو تم سے اس کا حساب لوں گا۔
    تموجن نے اسے کمان کی تار سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔
    تموجن چاہتا تھا کہ وہ اس کے خونی بھائی کا خون نہیں بہانا چاہتا، لیکن بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ تموجن نے جموکا کی لاش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کروائے اور پھر اسے جنگل میں پھینک دیا۔
    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے مشہور تھا۔
    اب اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے دیگر قبائل کو پھر مدعو کیا اور اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا۔
    آپ کو بتاتے چلیں کہ چین کے سرحدی علاقوں پر تموجن نے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا یہ لوگ چینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے اور منگولوں کے قبیلوں میں لوٹ مار بھی کیا کرتے تھے،
    تموجن کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے چینی بادشاہ نے اس پر نوازشات کیں اور اسے چینی سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے سرحدی کمانڈر بننے کی پیشکش کی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جسے وہ معمولی سرحدی کمانڈر بنا رہا ہے وہ عنقریب ان کی سلطنت تباہ کر دے گا۔ وقت گزرتا گیا اور تموجن کے لشکروں میں اضافہ ہوتا گیا،
    لیکن ایک دن وہ اچانک غائب ہو گیا اور سب لوگ حیرت زدہ ہو گئے کہ ان کا سردار اچانک گیا تو کہاں گیا ؟
    کہا جاتا ہے کہ دو / تین دن بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹا اور بہت خوش تھا تمام لوگوں کو جمع کیا گیا اور اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خدا نے اسے بشارت دی ہے کہ وہ پوری دنیاپر حکومت کرے گا۔ تم لوگ تیار ہو جاؤ یہ دنیا تمہاری ہے اور تم اس کے حکمران ہو،
    یہ سن کر تمام لوگ ہش ہش کر اٹھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہی ہے وہ جو ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا،
    تموجن اب چنگیز خان کا روپ دھار چکا تھا۔ اور سب سے پہلے اس نے اپنے ہنسائے ملک چین پر یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کی،
    لیکن چینیوں کے پاس اسلحہ تھا اونچی اونچی عمارتیں تھیں لمبی چوڑی دیواریں تھیں یہ سب کیسے ممکن تھا؟ اور اس نے ایسا کیوں سوچا تھا کہ وہ یہ سب کر سکتا ہے؟
    ان کے پاس گھوڑے تلواروں تیروں کے سوا کسی قسم کا کوئی اور ہتھیار نہ تھا جو چینی سلطنت سے مقابلہ کرسکتا اور ان سے ان کا ملک چھین سکتا،
    چنانچہ یہ سب کرنے کے لئے بھی اس کے پاس منصوبہ تھا، وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا اور یلغار کر دیتا۔ اس نے طرح طرح کے منصوبے بنائے اور منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے اس نے چینی شہروں کے محاصرے کئے بھوک پیاس سے تڑپتے چینی شہری آخرکار شہر سے باہر نکلتے تو منگول شہر میں داخل ہو جاتے اور شہر تہس نہس کر دیتے ۔یہ منگول اپنا خوف اور دہشت پھیلانے کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرتے شہر میں موجود کیڑے مکوڑوں تک کو مار دیتے مردوں کے سر اڑا دیتے۔ عورتوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے اور شہر کی خوب لوٹ مار کرتے اور جب شہر کو لوٹ لیتے اور تمام جانداروں کو قتل کر دیتےتو شہر کو آگ لگا دیتے ،
    ان کی اس سفاکیت اور بربریت نے دنیا کی باقی اقوام کو خوف میں مبتلا کر دیا۔
    سن 1300ء کے لگ‌بھگ منگولوں کی سلطنت میں شگاف پڑنے لگے۔‏
    ایشیا اور یورپ پر منگول ایک آندھی کی طرح آئے،‏ تھوڑے ہی عرصے کے لئے زوروں پر رہے اور پھر آندھی کی طرح جلد ہی تھم گئے۔‏
    مشہور ہے نا کہ، "ظلم جب حد بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے”

    @Imran1Khaan

  • بیٹے کی قربانی تحریر: محمد زمان

    آٹھویں ذی الحجہ کی رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ اللہ کا حکم سنا رہا ہے کہ ابراہیم قربانی دو آپ نے صبع کو اٹھ کر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی مگر دوسری رات بھی یہی خواب نظر آیا تو آپ نے علی الصباح دو سو اونٹوں کی قربانی دیں مگر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں کیا چیز تیری راہ میں قربان کروں اس وقت خداوند کریم نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم تم میری راہ میں اس چیز کو قربان کرو جو دنیا میں تم کو سب سے زیادہ پیاری ہے آپ سمجھ گئے یہ میرے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا حکم ہے پھر آپ نہ گھبرائے نہ فکرمند ہوئے بلکہ میدان تسلیم و رضا کے شہسوار بن کر بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات برس یا تیرہ برس کی تھی
    اور آپ بہت ہونہار اور صاحب حسن و جمال تھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ سے فرمایا کہ ایک نیک بخت بیوی آج تمہارے نور نظر کی ایک بہت بڑے بادشاہ کے دربار میں دعوت ہے یہ سن کر پیکر محبت ماں فرط مسرت سے جھوم اٹھیں اور اپنے لخت جگر کو نہلایا بھلا کر آنا اور نفیس پوشاک پہنا کر آنکھوں میں سرما بالوں میں کنگھی کر کے اپنے لال کو دولہا بنا کر باپ کے ساتھ میں بیٹے کی انگلی پکڑا دی حضرت خلیل اللہ اپنی آستین میں رسی اور چوری چھپے ہوئے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیے اور جب وادی منی میں پہنچے تو اپنے فرزند سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم کو اس کی راہ میں ذبح کر دوں تو اے بیٹا تمہاری کیا رائے ہے مہربان باپ کی تقریر سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے مقدس باپ ضرور خدا کے حکم پر عمل کریں ابا جان آپ اطمینان رکھیں کہ میں نہ روں گا نہ چلاوں گا اور نہ فریاد کروں گا بلکہ ان شاء اللہ تعالی میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر خدا کی راہ میں قربان ہو جاؤں گا اور خدا بندے سبحان کے رضوان و زعفران کی سربلندیوں سے سرفراز ہو جاؤں گا ابا جان اس سے بڑھ کر بھلا میری خواہش نصیبی اور کیا ہوگی کہ میرے سر کی قربانی خدا کی راہ میں قبول ہو جائے

    پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام عرض کرنے لگے کہ ابا جان میری تین وصیتوں پر دھیان رکھیے گا سب سے پہلے وصیت تو یہ ہے کہ آپ قربانی کے وقت میرے ہاتھ پاؤں کو خوب جکڑ کر کر رسی سے باندھ دیں تاکہ بوقت ذبح میرا تڑپنا دیکھ کر آپ کو کہیں رحم نہ آ جائے

    دوسری وصیت یہ ہے کہ آپ مجھ کو منہ کے بل لٹائیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سینے میں دل دھڑک جائے اور آپ کا ہاتھ جنبیش کر کے رک جائے تیسری وصیت یہ ہے کہ میرے ذبع ہونے کی خبر میری ماں کو نہ دیجیے گا ورنہ ممتا کے ماری میری دکھیاری ماں میرے غم کو برداشت نہ کر سکیں گی
    اور شدت غم سے اس کے سینے میں شیشہ دل پاش پاش ہو جائے گا اس گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ کر انہوں نے ایک پتھر کی چٹان پر لٹایا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے نورِ نظر کو حلقوم پر چھری چلا دی لیکن شان خداوندی کا کرشمہ دیکھئے کہ چھری تیز حضرت اسماعیل کی گردن کو نہیں کاٹ سکیں

    اس مرحلہ پر باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امنڈ پڑا اور روتے ہوئے بارگاہ کبریا میں عرض کرنے لگے کہ اے الہی تیرے خلیل سے کون سی ایسی تقصیر ہوئی جو قربانی قبول نہیں ہو رہی ہے اور چھری کے نیچے لیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رو رو کر کہنے لگے کہ کہ خداوند مجھ سے کون سا ایسا قصور ہو گیا جو میرے سر کی قربانی بارگاہ کرم میں قبولیت سے سرفراز نہیں ہو رہی ہے

    پھر حضرت خلیل خوف خداوندی سے لرزتے ہوے چھری کو پتھر پر تیز کرنے لگے اور دوبارہ پوری قوت سے زبع کرنا چاہا مگر پھر بھی چھری نے کام نہیں کیا تو آپ نے جوش و غضب میں چھری کو زمین پر پٹک دیا اس وقت چھری زبان حال سے عرض کرنے لگی کہ اے ابراھیم آپ مجھ پہخفا ہو رہے ہیں میں کیا کروں ایک مرتبہ مجھ سے خدا کا خلیل کہتا ہے کہ کاٹ اور ستر مرتبہ رب جلیل فرماتا ہے کہ مت کاٹ
    تو اے خلیل اللہ اللہ آپ ہی بتا دیجئے کہ میں خلیل کا کہنا مانو یا رب جلیل کی فرمانبرداری کروں

    مسلمانوں یہ وہ منظر تھا کہ اللہ کے فرشتے بھی حضرت خلیل اللہ کے جذبہ وفاداری اور جوش فدا کاری پہ تسکین اور آفرین کا نعرہ بلند کرنے لگے اور رب العالمین نے فرمایا کہ اے فرشتو دیکھ لو بلاشبہ ابراہیم میرا خلیل ہے دیکھ لو کس طرح میرا خلیل میری راہ میں اپنے محبوب فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے اعلان کر رہا ہے کہ ابراہیم کے قلب میں خدا کے سوا کسی کی محبت کی گنجائش نہیں ہے

    بالآخر حضرت خلیل اللہ کے اس فدا کارانہ جذبہ خلوص اور ایثار پر رحمت پروردگار کو ایسا پیارا گیا کہ جناب جبرائیل امین کو یہ حکم دیا کہ اے جبرائیل جنت سے ایک دونبہ کر حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دو چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بہشتی دونبہ لا کر لٹا دیا اور خداوندے کریم میں حکم دیا کہ اے ابراہیم اب چھری چلاؤ چنانچہ اب کی مرتبہ جو حضرت خلیل نے ذبح کیا تو چھری چل گئی
    اور قربانی ہوگی مگر جب آنکھ کی پٹی کھول کر دیکھا تو یہ منظر نظر آیا کہ ایک دونبہ زبع ہوا پڑا ہے اور حضرت اسماعیل ایک طرف کھڑے مسکرا رہے ہیں

    اس وقت حضرت جبرائیل نے اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا
    اور حضرت اسماعیل نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر وللہ الحمد کا کلمہ جاری ہوگیا

  • بلبیر سنگھ  تحریر: علیہ ملک

    بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک

    تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
    اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
    جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
    اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
    اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
    پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
    اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
    پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
    مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
    یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
    مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
    مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
    جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
    معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
    کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
    یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
    مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
    اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
    وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
    اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
    دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
    یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
    مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
    یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
    اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
    لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
    اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
    کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
    مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
    مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
    ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
    اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
    مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
    وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
    مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
    اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
    یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    @KHT_786