Baaghi TV

Category: اسلام

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    بچے کسی بھی معاشرے کا روشن کل اور آنے والے مستقبل کے امین ہوتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں۔۔
    ننھی زینب کا کیس ہو یا قصور کے ان بدقسمت بچوں کا کیس ہو جو حیوانیت کا شکار ہوئے ، ان سے ہمارے پورے معاشرے کی وہ مسخ شکل سامنے آتی ہے جسے دیکھ کر انسان تو انسان جانور بھی شرما جائیں۔
    ان بڑھتے ہوئے واقعات کی اہم وجوہات میں والدین اور بچوں میں ہم آہنگی نہ ہونا، رشتہ داروں اور محلے داروں پہ اندھا یقین ہونا جو کہ ان واقعات کو جنم دینے اور بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے، زینب ریپ کیس اور قصور میں بچوں کے جنسی ہراسانی سکینڈل نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ۔۔
    یہ کیسز کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں ،اور بہت سے کیسز میں تو والدین پولیس میں رپورٹ بھی درج نہیں کرواتے کیونکہ پولیس کا رویہ متاثرہ افراد کے ساتھ غیر زمہ دارانہ ہوتا ہے ، اس لئیے درست اعدادوشمار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ،
    ایک این جی او ( ساحل ) کی رپورٹ کے مطابق 2007 میں 2,321 ، 2008 میں 1831، 2009 میں 2012، 2010 میں 2252، اور 2011 میں 2303 کیسز رپورٹ ہوئے،
    2017 میں 3445 اور 2018 میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،
    2018 میں یہ اعدادوشمار ایک دن میں 9 کیسز سے بڑھ کر انکی تعداد 12 کیسز فی دن تک پہنچ گئی تھی ۔۔
    پنجاب میں ان جرائم کی شرح 65٪ ، سندھ میں 25٪ ، خیبرپختونخوا میں 3٪، اور بلوچستان میں 2٪ ، ہے ۔۔
    ابھی یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو کیسز رپورٹ ہوئے، یا میڈیا کے ذریعے جن کے بارے میں پتا چلا ، ابھی ایسے بہت سے کیسز ہوں گے جو منظر عام پر نہیں آئے، لیکن یہ اعدادوشمار بھی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہیں،
    حال ہی میں قصور میں ہونے والے ایک اور گینگ ریپ جس میں ایک چھوٹی بچی کے ساتھ چار درندے جنسی زیادتی کرتے رہے،
    ایک اور کیس جس میں 11 سالہ بچے کو دو ملزم کچے کے علاقے میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے، اسی طرح ایک اور واقعے میں متاثرہ بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کو اور خاندان کو بلیک میل کرنے کے لئے ویڈیو بھی بنائی،
    اسی طرح ” بھلہ ” گاؤں میں 14 سالہ بچی کو اسکول جاتے ہوئے 3 اوباش نوجوانوں نے اغوا کیا اور کئی دن تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے،
    قصور میں یہ واقعات ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کا سدباب انتہائی نا گزیر ہو چکا ہے۔۔۔
    ان واقعات سے معاشرے اور بچوں پہ گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔
    متاثرہ بچے یا تو قتل کر دیئے جاتے ہیں اور اگر کچھ بچ بھی جائیں تو وہ تمام عمر کے لئیے نفسیاتی پیچدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں،
    زینب ریپ اور قتل کیس میں مجرم کو پھانسی دینے جیسی سزائیں اس طرح کے قبیح اور غیر انسانی فعل کے لئے ناکافی ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے حکومت کو آہنی ہاتھوں شکنجے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ پولیس ، سماجی کارکنوں اور این جی اوز کو بھی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان جرائم کا مکمل طور پہ سدباب کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے لئے سکول کی سطح پر جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی ٹریننگ دی جانی چاہیے، تاکہ اس عفریت سے چھٹکارہ پایا جا سکے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے

    دھوپ کتنی بھی تیز ہو
    سمندر کو سوکھا نہیں کرتے.

    اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

  • وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ  تحریر: سمعیہ رشید

    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ تحریر: سمعیہ رشید

    برصغیر پاک و ہند میں ایک عام تصور تھا کہ خواتین کی زمہ داری صرف گھر گر ہستی سنبھالنے تک محدود ہے، اور یہ تاثر 1947 سے سات دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی عوام الناس کے دل و دماغ سے نا نکل سکا
    یہ تصور صحیح ہے یا غلط، اس تحریر کا مقصد یہ باآور کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان ستر سالوں میں خواتین نے جو ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے اسکو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا ہے.

    محترمہ فاطمہ جناح

    انیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھابھی کی وفات کے بعد سب چھوڑ کے نا صرف بھائی کا گھر سنبھالنے لگیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی ہر جگہ انکے شانہ بشانہ رہیں. آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس نے بعد ازاں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی شکل دھار لی.
    سیاست کے علاوہ سماجی طور پہ بھی بیگم لیاقت علی خان کے ساتھ خواتین کے حقوق کیلیے ایک قد آور شخصیت ثابت ہوئیں، پاکستانی نوجوان نسل کیلیے وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی

    بیگم شائستہ اکرام اللہ


    بیگم صاحبہ لندن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر تھیں، پاکستان قانون ساز اسمبلی سے سب سے پہلی خاتون ممبر منتخب ہو کے عورتوں کیلیے سیاست میں آنے کی راہ ہموار کی، نا صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی کی بلکہ مراکو میں سفیر بھی رہیں
    محترمہ سیاست کے علاوہ بہت اردو اور انگلش اخباروں میں مصنفہ بھی رہیں
    حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز لینے والی بلاشبہ پاکستانی بچیوں کیلئے ایک عملہ نمونہ ہیں

    عائشہ فاروق

    ہمت و جواں مردی، بہادری اور دیدہ دلیری کی بات ہو تو ہمیشہ مردوں کی طرف دھیان جاتا ہے پر یہ ریت بھی عائشہ فارق صاحبہ نے توڑ ڈالی جب چھبیس برس کی عمر میں پہلی فایٹر پائیلٹ بنی.
    اب خواتین صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور کارپوریٹس سیکٹر تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ شاہینوں کے ساتھ پرواز کے سفر میں گامزن ہیں

    ارفع کریم

    جس عمر میں عموماً بچیاں کھلونوں اور گڑیاؤں سے کھیلتی ہیں اس عمر میں ایک نو سالہ غیر معمولی ذہین ننھی پری، مائکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی ، جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پہ نمایندگی بھی کرتی رہی،
    اور صرف سولہ سال کی عمر میں سب آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کے ابدی نیند جا سوئیں..

    شمیم اختر

    جہاں بہت کم خواتین ٹرک کی سواری ہی کر پاتی ہیں وہاں ایک با ہمت عورت ٹرک چلانے لگتی ہے
    بے تحاشا تنقید اور مخالفت کے باوجود بھی محترمہ نا صرف اپنے فیصلے پہ ثابت قدم رہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا
    بلاشبہ شمیم بیگم کا ایسے شعبے میں آنا قابلِ تحسین ہے.
    جہاں ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہو اور عورت کو فیصلے کرنے کا بھی اختیار نا ہو وہاں ایک عورت کا باقی خواتین کے حقوق کیلیے اواز بلند کرنا اور ایک جرگے کی نمایندگی کرنا قابلِ تحسین ہے.

    تبسم عدنان

    تیرہ برس کی عمر میں دلہن بننے والی، شوہر کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑی ہونے والی سماجی کارکن تبسم کو کم ہی لوگ جانتے ہونگے جو "خویندہ و جرگہ” کے نام سے ہفتہ وارانہ عورتوں کے مسائل حل کرتی ہیں..
    ان سب خواتین کو ملک و قوم کا نام روشن کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پہ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں…

  • ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا –  تحریر : خالد اقبال عطاری

    ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا – تحریر : خالد اقبال عطاری

    بنی اسرائیل کا ایک شخص جو بہت گناہگار تھا ایک مرتبہ بہت بڑے عابد یعنی (عبادت گزار) کے پاس سے گزرا جس کے سر پر بادل سایہ کرتے تھے گناہگار شض یہ سوچ کر اس عابد کے پاس بیٹھ گیا کہ میں گناہگار اور یہ بہت بڑے عبادت گزار ہیں اگر میں ان کے پاس بیٹھوں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرما دے. عابد کو اس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا کہ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں پر یہ پرلے درجے کا گناہگار! یہ میرے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ چنانچہ اس نے بڑی حقارت سے اس شخص کو کہا اٹھو یہاں سے! اس پر اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ ان دونوں سے کہو کہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں میں نے اس گناہگار کو بخش دیا اور عبادت گزار کے عمل ضائع کر دیے.
    جس طرح انسان کا ظاہر بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اسی طرح انسان کا باطن بھی اچھائیوں اور برائیوں کا مرکب (compound) ہوتا ہے. مسکراہٹ، جسمانی حرکات و سکنات کا با وقار ہونا، نرم انداز گفتگو، صاف ستھرے کپڑے، سلیقے سے سنوارے ہوئے بال، ناخن اور دانتوں کا صاف ہونا، جسم پر میل کچیل کا نہ ہونا چہرے پر مسکراہٹ ہونا اور دیگر بہت سی چیزیں انسان کے ظاہر کو اچھا بناتی ہیں. جبکہ گالم گلوچ فحش کلامی، جھوٹ، غیبت، تہمت لگانے، چغلی کھانے چوری کرنے اور ظلم کرنے جیسے اوصاف ہمارے ظاہری کردار (Character) کو داغدار کر دیتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں سے ہمدردی و خیر خواہی کا جزبہ، ان سے محبت رکھنا، عاجزی، اخلاص جیسے بہت سی برائیاں ہمارے باطن کو آلودہ کر دیتی ہیں، باطن کی اچھائیاں اور برائیاں ظاہر پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً دل میں نرمی ہوگی تو اس کی مٹھاس زبان پر بھی آئے گی.
    ہمارے باطن کو گندہ کرنے والی صفات میں سے ایک صفت تکبر ہے. ہم اپنے آپ کو تو اعلی سمجھیں اور باقی لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھیں. اب ایک سوال ہے کہ ہم اپنے کو کمتر سمجھیں یا برتر یا برابر؟؟؟
    تو گزارش ہے کہ خود کو کسی کے برابر سمجھنے میں بظاہر کوئی حرج نہیں. اور اگر ہم خود کو حقیر سمجھیں تو یہ عاجزی ہے جوکہ باعثِ ثواب ہے. لیکن کسی کو اپنے سے گھٹیا حقیر اور کمتر نہ سمجھیں.
    تکبر کی کچھ وجوہات ہیں جن کی بناء پر ہم دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں
    1: علم : علم کی وجہ سے خواہشات نفس میں گرفتار انسان کا دماغ آسمان پر پہنچ جاتا ہے وہ دوسروں کو جاہل اور گنوار سمجھنے لگتا ہے.
    2،عبادت : فرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل، تلاوتِ، نفلی روزے، ذکرِ و اذکار کی کثرت بہترین عادت ہے. لیکن جو نفلی عبادت نہ کرنے والوں کو گھٹیا اور حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    3، دولت : حلال و جائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بری چیز نہیں لیکن معاملات جب خراب ہوتے ہیں جب غریب لوگ ہمیں کیڑے مکوڑے نظر آنے لگیں. یاد رکھیے دولت میں وفا نہیں آج اسکے پاس تو کل اسکے پاس. تو ایسی بے وفا کی وجہ سے کیوں ہم مسلمان کو حقیر جانیں؟
    4،صحت و طاقت : صحت و طاقت رب عزوجل کی ایک نعمت ہے. تو اسکی وجہ سے کمزوروں، بیماروں اور چھوٹے قد والوں کو حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    5، شہرت :کچھ لوگوں کو جب شہرت ملتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں سر پر رکھ لیتے ہیں اسکی وجہ سے لوگ انہیں حقیر لگنے لگتے ہیں. یاد رکھیے ہر عروج کو زوال ہے. لہذا شہرت کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجنا چھوڑ دیجئے.
    6، حسن و جمال: بعض اوقات انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے متکبر ہو جاتا ہے.گورے رنگ والا کالے رنگ والے کو، بڑے قد والا چھوٹے قد والا کو، بڑی آنکھوں والا چھوٹی آنکھوں والے کو کو حقیر سمجھتا ہے. عموماً ی بیماری مردوں کے مقابل عورتوں میں ذیادہ پائی جاتی ہے. یاد رکھیے عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے. تو سوچیے کیا ہمیں اس حسن پر ناز کرنا چاہیے.
    7، حسب و نسب : ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو حسب و نسب پر غرور کرتے ہیں. اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں. کیا یہ جہالت نہیں؟
    ذرا سوچیے اس تکبر کا کیا حاصل؟ جوکہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ناراضی کا سبب بنے، مخلوق کی بیزاری اور میدان محشر میں ذلت و رسوائی کا سبب بنے؟
    اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہمیں چند لمحوں کی عزت چاہیے یا ہمیشہ کیلئے جنت.

  • عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے  ‏تحریر : عائشہ شاہد

    عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے ‏تحریر : عائشہ شاہد

    ماہ ذوالحجہ آپ سب مسلمانوں کو مبارک ہو.
    اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں کی ﷲ تعالٰی نے قسم کهائی ہے کہ ان دس راتوں میں بہت بڑی طاقت ہے

    بلکہ یوں کہیئے کہ ﷲ تعالٰی کی بہت حکمت چھپی ہوئی ہے
    ان راتوں میں ﷲ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے
    ان راتوں میں ﷲ تعالٰی کی قسم گردش کر رہی ہے
    ان راتوں میں برکت و عافیت کے خزانے پوشیدہ ہیں
    ان راتوں میں ایک پوشیدہ نور ہے
    ان ہی راتوں میں مدد ہی مدد ہے ﷲ تعالی کی طرف سے
    ذوالحج کی 10 راتوں میں اولاد ہے
    ان ہی راتوں میں بندشوں کا خاتمہ ہے
    ان راتوں میں مال و دولت میں برکت بھی ہے
    ان ہی راتوں میں پریشانیوں کا خاتمہ بھی ہے..
    ان ہی راتوں میں خوش بختی ہے
    ان راتوں میں دین و دنیا پوشیدہ ہے
    ان راتوں میں سچی توبہ کریں معافی مانگیں خلوت جلوت کے گناہوں کی رو رو کر معافی مانگیں . بعض اوقات بہت کچھ عطاء ہونے والا ہوتا ہے مگر ہمارے گناہ سامنے آجاتے ہیں.

    ذوالحجہ کے پہلے دس دن دنیا کے افضل دن ہے اللّٰہ پاک نے ان دس دنوں کی قسم قرآن پاک میں اٹھائی ہے سورہ فجر کی پہلی آیات میں ( والفجر . ولیال عشر۔ ترجمہ فجر کی قسم ۔اور دس راتوں کی قسم )
    حضرت جابر بن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ یارسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں افضل ترین دن ذوالحجہ کے دس دن ہیں

    حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں جس میں عمل صالح ﷲ کے ہاں (ذو الحجہ کے) دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی’’ یا رسول ﷲ ﷺ کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟
    آپ ﷺ کافرمان: ہاں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کے لیے نکلے اور پھر ان میں کوئی بھی واپس نا آئے یعنی اپنا سب جان و مال قربان کردے
    نبی کریم ﷺ کی سنت احکامات پر علم پیرا ہو جائیں.دعا میں ﷲ تعالٰی سے اس مہینے میں پوشیدہ برکت و عافیت کے خزانے مانگیں پوری امت اپنے مسلمان جو تکلیف میں جو ظلم کا شکار ہیں ان کے لیے مانگیں انسان ذات اور پرند چرند کے لیئے خیر کی دعا مانگیں

    ﷲ تعالی سے رزق میں برکت اور خیر و عافیت مانگیں
    @BinteChinte

  • آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    ہم جتنا سوچتے ہیں اتنا کم حقیقتاً کرتے ہیں زندگی کی کہانی ” كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ” ہے۔ ہر ایک کو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی پڑی ہے کہ مجھے شاہانہ زندگی ملے مہنگی گاڑیاں اور بنگلے ہوں کبھی سوچا ہے، کہ ہم کتنے پل کے مہمان ہیں اور کتنا جینا ہے کچھ معلوم نہیں تو کس چیز کی حوس ہے، جو جینے نہیں دے رہی؟

    جو ہمیشہ رہنے والی ہے وہ ہے ہماری آخرت اور آخرت میں دو اعمال کی جزا اور سزا ہیں جنکی کی بنا پر جنت یا جہنم ملے گی ۔
    اللہ تعالی جب ناراض ہوتا ہے تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے اپنے بندے /بندی سے۔

    آخرت کی تیاری وہی کرتا ہے جسے خوف خدا ہوتا ہے جس شخص میں اللہ کا خوف نہیں اللہ اس شخص کو اسکے حال پر چھوڑ دیتاہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے:

    موت کو کثرت سے یاد کرنا اپنے اندر فکر آخرت پیدا کرنے کے لئے بڑا معاون ذریعہ ہے ، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے ،

    پھر اس کے بعد آخرت کی منزل شروع ہوجاتی ہےاس لئےنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے موت کو بکثرت یاد کرنے کا حکم دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے :
    لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔

    (صحيح الترمذي:2307)

    اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

    اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے، اور اصل زندگی عالم آخرت کی ہے کاش وہ سمجھتے۔

    (سورۃ العنکبوت:64)

    آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ قرآن مجید میں اسکی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں متقین کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد ہوا :
    اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

    اگر آخرت پر ایمان نہ ہو تو انسان خود غرضی اور نفس پرستی میں ڈوب کر تہذیب و شرافت اور عدل و انصاف کے تقاضے کو یکسر بھول جائے ۔

    اے اللہ کے بندے اور بندیوں بڑھ چڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لو تاکہ تمہاری آخرت سنور سکے، قرآن پاک کی تلاوت کرو اور اسے سمجھو کہ قرآن پاک ہمیں کن چیزوں کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے ۔

    قبرستان کی زیارت کیا کرو اور جنازوں میں شرکت کیا کرو تاکہ تمہیں موت یاد آتی رہے، اپنے آپ کو حقیر سمجھو دوسروں کی بدولت تکبر صرف میرے اللہ کی ذات کو جچتا ہے۔ سادگی کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا اسی میں بھلائی ہے کہ سادہ زندگی گزاری جائے ۔

    ارشاد باری تعالی ہے کہ:

    اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔
    (سورۃ الزمر، آیت: 54)

    @khubaibmkf

  • دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر:  ملک منیب محمود

    دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر: ملک منیب محمود

    ‏پورے عالم میں اس وقت امت مسلمہ کے افراد ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پوری آبادی کا ایک بٹہ چھ حصہ ہے اس طرح مسلمان دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کے مقابلے میں ایک عظیم قوم شمار کیے جاتے ہیں اور برابر اس میں اضافہ ہو رہا ہے صرف امریکہ میں تقریبا ایک کروڑ مسلمان موجود ہیں اور ان کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اس طرح یورپ کے تمام ممالک اور دنیا کے مشرقی حصے میں بھی اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ماضی تہذیبوں کے سائے میں جن لوگوں نے وقت گزارے اور عیش و عشرت سے پوری طرح فائدہ اٹھایا وہ سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود جوہر نایاب سے محروم رہے اور اس کو دور کرنے کے لئے انہوں نے تمام فارمولوں کو آزما کر دیکھ لیا لیکن ان کو وہ سکون نہیں مل سکا جس کے بغیر زندگی میں کوئی لذت یا اس کی کوئی قیمت باقی رہے آخرکار ان کو اسلام کا مطالعہ کرنے اور اس کے بنائے ہوئے نظام زندگی کو بہ نظر غائر دیکھنے کی توفیق ہوئی اور ان کو وہ متاع گمشدہ مل گئی جس سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور ان کو خالق کائنات کا یقین حاصل ہوا اور اس کے بنائے ہوئے ہوئے اصول زندگی کو انہوں نے آزمایا تو اچانک ان کے اندر انقلاب برپا ہوا یہ اسلام کے دین فطرت ہونے اور انسانی مزاج سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونے کی دلیل ہے اللہ تعالی اس حقیقت کی وضاحت فرماتے ہیں کہ "پس سیدھا رکھو اپنا رخ دین کے لیے یکسو ہو کر۔ وہی اللہ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔یہی سیدھا دین ہے۔لیکن اکثر لوگ اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔” (سورہ روم:30) البتہ جن لوگوں پر یہ حقیقت منکشف ہو گی وہ اس کو اپنانے اور اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنانے پر متفق ہوگئے اور دنیا کی عظیم سے عظیم تر متاع کی نظروں میں بے قیمت بن کر رہے گی وہ اس دریافت پر نہ صرف یہ کہ بے حد مسرور اور مطمئن ہیں بلکہ اس کو اللہ تعالی کا خاص فضل و انعام سمجھ کر اس پر نازاں ہیں اور اسے اپنی زندگی کا اصل سرمایہ سمجھتے ہیں ۔ ایک نو مسلم نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب انتہائی مسرت کا اظہار کیا تو مسلمان رہنما نے اس کو مبارک باد دی ۔ اس نے جواب دیا کہ مبارکباد کس بات کی؟ میں نے اللہ تعالی کے فضل سے فطرت کو پا لیا جس پر اللہ تعالی نے اولاد آدم کو پیدا کیا اور وہ فطرت اسلام ہی ہے۔ لہذا میں نے گویا اپنے آپ کو دریافت کیا ہے اور اس کے قبل میں گمراہی میں مبتلا تھا اور اپنی ذات سے نا آشنا تھا

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنی فطرت کے خلاف زندگی کی گاڑی چلا رکھی ہے یہی سبب ہے کہ ہم کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم کو مٹانے کی کوشش کی زرداری کے ساتھ جاری ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اس رحمت کا نمونہ آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم اس سے بڑی حد تک مستغنی ہو گئے ہیں اور ہم تہذیبوں کی بے رحمانہ بندشوں میں اپنے آپ کو مقید کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ مشرق و مغرب میں ہر جگہ ہم یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب اسلامی نظام عدل و مساوات اور عالمی قوت کا تصور ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور مادہ پرست نظامی زندگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عورتوں کو اس میں ایک طویل غلامی اور بے رحمانہ زندگی سے نجات دلاکر عزت و عظمت کا بلند مقام و مرتبہ عطا کیا اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں ان کے کرداروں کو دنیاوی اہمیت دی آج ہم اپنے صراط مستقیم سے ہٹ کر دیگر اقوام کی طرح بے سمت مادہ پرستی کے علمبردار بن کر رہ گئے ہیں اور یہود ونصاریٰ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے یہ ایسا سنگین خطرہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ سنجیدگی کے ساتھ اس وقت کر سکتے ہیں جب ہم مکمل طور پر اسلامی تہذیب کی نمائندگی کر سکیں یہی تہذیب زندہ و جاوید ہے اور زمان و مکان میں اس کی قیادت انسان کی عظمت کو تسلیم کرانے میں مشعل راہ ہے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آج دوراہے پر کھڑی ہے اور اپنے کردار کو رحمت کے آئینے میں پیش کرنے سے دور ہے

    Written by Malik Muneeb Mehmood

    ‎@MMuneebPTI

  • عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہوں’

    حسن اخلاق ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی میں خوشیاں بڑھاتا اور دوریاں کم کرتا ہے۔

    ایک حدیث کا مفہوم بیان کرنا چاہتا ہوں۔

    دنیامیں ہر چیز فنا ہونے والی ہے بے شک چیزیں ختم ہو جائیں گی صرف انسان کا حسن اخلاق ہی ہے جو ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ یہ باکردار اور اخلاق کا بہت بہترین شخص تھا یہ گواہی اس کے گناہوں کو دھوتی ہے اور نیکیوں کو بڑھاتی ہے بات صرف اخلاق اور اچھے سے ایک دوسرے کے خلوص کے ساتھ رشتے نبھانے کی ہےکہ کچھ نہیں دکھتا سوائے انسان کے حسن اخلاق کے.

    حسن اخلاق کے متعلق حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
    جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑ لو جو تمہیں محروم کرے اس کو عطاء کرو جو تم پر ظلم کرےاسے معاف کرو..

    زندگی آئینے کی طرح ہے.
    آپ اِس کو بیزار ہو کر گزاریں گے تو بیزار ہو جائیں گے.
    مسکرا کر گزاریں گے تو مسکراتے چلے جائیں گے.
    اخلاق آپ کا آئینہ ہے زندگی آپ کا حسن.
    شکریہ

  • معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر  : محمد اویس

    معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر : محمد اویس

    بس اتنی کوشش کیا کریں کہ کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے نہ رو پڑے
    یقین کیجیے اگر کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں رو پڑا اور جو رو رہا ہے وہ سچا اور مظلوم بھی ہے، تو آپ کی آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے ۔
    کوشش کیجئے کہ کسی کا دل توڑنے کا بائث نہ بنیں ۔
    اگر کسی کا دل توڑا ہے ، ظلم کیا ہے ، دل آزاری کی ہے ، کسی کو اپنے رعب و دبدبے سے ڈرایا ہے تو فورا اُس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیجئے اِس سے پہلے کہ وہ اپنا فیصلہ اللّه پر چھوڑ دے
    اور
    اگر آپ کو کسی نے رلایا ہے، دل آزاری کی ہے ، ظلم کیا ہے، دھوکہ دیا ہے تو آپ کو میرا مشوره ہے کہ بڑے دل کا مظاہرہ کیجئے اور اللّه کی رضا کی خاطر اُس شخص کو معاف فرما کر درگزر سے کام لیجئے..
    ان شاءاللہ ! اس معاف کرنے کا اللّه آپ کو بہترین صلہ عطا فرماۓ گا ۔
    کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ” جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اُس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ”
    (مسند امام احمد ج۷ص۷۱ حدیث ،۱۹۲۶۴ )
    اور معاف کرنے سے تو عزت بھی بڑھتی ہے،
    جی ہاں !
    حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے ربّ  تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزّت والا ہے؟ فرمایا: ” وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوُجود مُعاف کردے۔”
    (شعب الایمان ج۶ص۳۱۹حدیث۸۳۲۷ )
    آج کل دیکھا گیا ہے ہر دوسرا گھر لڑائی جھگڑوں اور ناراضگیوں کی آفت میں مبتلا ہے ، کہیں بھائی بھائی کی آپس میں نہیں بنتی تو کہیں والدین اولاد سے ناراض ہیں ، کہیں بہنیں بھائیوں سے بات کرنے کو تیار نہیں تو کہیں ساس بہو کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے الغرض ہر جگہ نااتفاقی اور ناراضگیوں نے اپنے جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔
    اس لئے آپ سے عرض ہے کہ کوئی شرعی عزر نہ ہو تو معافی مانگنے ، معاف کرنے اور رجوع میں پہل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ایک ہمارا "رب” بھی تو ہے جو دن رات ہماری ہزارہاں غلطیاں و گناہ دیکھنے کہ باوجود ہم پر فوراً عذاب مسلط نہیں فرماتا بلکہ ہمیں توبہ و معافی مانگنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔
    بے شک اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور ہم اُس کے بندے ہیں۔

    تو آخر میں خلاصہ کلام یہی ہے کہ معافی مانگئیے اور
    معافی دیجئے اور اپنے روٹھے ہوئے منا لیجئے ۔
    اور
    مجھ گناہ گار کو بھی اپنی دعاوں میں یاد رکھیے۔
    جزاک اللہ خیرا !

    @Awsk75

  • صبر کی انتہا  تحریر: حنا

    صبر کی انتہا تحریر: حنا

    پوچھا گیا۔۔۔۔
    صبر جمیل کیا ھے؟
    جواب آیا۔۔۔۔۔
    جب تم آزمائے جا رھے ھو اور تمھارے لب پر ھو۔
    “شکر الحمد للہ”
    اس لیے تنقید نہیں۔۔۔ بس
    “شکر الحمد للہ”

    صبر ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ صبر کرنا اور صبر آنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اسی لئے تو اللہ بھی قرآن میں فرماتا ہے۔
    اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ °
    بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

    اللّـٰهُ يَجْتَبِىٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ°
    اللہ جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہےـ

    سورۃ الشوریٰ (13)

    “فَسُبحٰن الَذِِّی بِیٰدِہِ مَلَکُوتُ کُلِِّ شَئّیِِ وَّ اِلَیْہِ تُرجَعُون.”
    “پاک ھے وہ ذات جس کے قبضے میں ہر شے کی قدرت ھے اور اُسی کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ھے
    ‎‏

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْـمَعَ عِظَامَهٝ° بَلٰى قَادِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٝ°
    کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے۔ ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کر دیں۔
    (سورۃ القیامہ )

    وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا °
    اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔

    سورۃ مریم (64

    کسی بھی معاشرے میں کامیابی کے ذرائع ویسے توبے شمار ہیں لیکن موجودہ دور اور حالا ت کو دیکھتے ہوئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ’’ صبر ‘‘ ہے، جس کے لغوی معنیٰ ہیں روکنا ، برداشت کرنا ، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا، صبرکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیاکہ ’’ اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں‘‘ سورۃ البقرہ، آیت45،بلاشبہ صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے، مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

    صبر کا پھل میٹھا کیسے ہوتا ہے سنیے تاریخ کے اوراق سے ایک خوبصورت واقعہ

    مولانا رومی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک شخص جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کی زیارت کا بےحد شوق تها،لیکن راستے کی دوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی،
    خیر آخر ایک دن شوق زیارت نے اس کو بےتاب کردیا ،رخ زیبا کی زیارت کے لئے سامان سفر باندھ لیا ،راستہ کٹهن و دشوار گزار تها،لیکن وہ ہمت کا پکا تها کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزل مقصود تک پہنچ گیا،
    شہر خرقان میں آکر اسنے شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کے گهر کا پتا دریافت کیا ،وہاں جاکر نہایت ادب سے دروازے کی زنجیر ہلائی…تهوڑی دیر بعد ایک عورت نے گهر کی کهڑکی سے جانک کر پوچها کون ہے ؟؟
    اس نے جواب دیا میں …..حضرت شیخ ابوالحسن رحمتہ الله علیہ کی قدم بوسی کے لئے شہر طالقان سے حاضر خدمت ہوا ہوں،
    اس عورت نے کہا واہ میاں درویش بهلا یہ بهی کوئی مقصد تها کہ جس کے لئے تو نے اتنا طویل و کٹهن سفر طے کیا ہے ،معلوم ہوتا ہے تونے دهوپ میں اپنی داڑھی سفید کی ہے،تمہاری عقل و دانش پر رونے کو جی چاہتا ہے ،کیا تجهے اپنے وطن میں کام دهندہ نہ تها؟؟

    عقیدت مند یہ ماجرا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور اسکی آنکهوں سے آنسو بہنے لگ گئے،تاہم اس نے ہمت کرکے پوچها حقیقت حال کچھ بهی ہو ،یہ بتائیے کہ شیخ صاحب ہیں کہاں ؟
    چونکہ وہ عقیدت کا ہاتھ تهام کر آیا تها اسلیے اس عورت کی باتوں پر خاموش رہا،
    عورت نے جواب دیا :ارے وہ کہاں کا شیخ و شاہ بن گیا اس نے تو دهوکے کا جال بچها رکها ہے،تجھ جیسے احمقوں کو اپنی ولایت کے جال میں پهنساتا ہے، اب بهی وقت ہے جہاں سے آیا ہے الٹے پاوں واپس چلا جا،ورنہ اس دغاباز کے چکر میں پهنس کر تباہ و برباد ہوجائے گا ،نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا،وہ بڑا حضرت ہے اس کی زبان و آنکهوں میں ایسا جادو ہے کہ اچها خاصا عقل مند بهی اس کے فریب میں آجاتا ہے

    اب تو شیخ کے معتقد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کہنے لگا “چراغ تلے اندهیرا بی بی شیخ کے انوار فیوض سے ایک دنیا جگمگا رہی ہے اور ان کی عظمت نے افلاک کی رفعتوں کو چهولیا ہے”،
    “چاند پر تهوکنے والا اپنے منہ پر ہی تهوکتا ہے”کتا دریا میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ،آفتا ب عالم تاب لاکھ پهونکیں ماریں وہ کبهی نہیں بجھ سکتا،چمگادڑ رات کے اندهیرے میں اڑنے والی سورج کو نکلنے سے کیسے روک سکتی ہے،غرض درویش نے شیخ کی اہلیہ کو ایسی کهری کهری سنائیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،
    وہ آدمی وہاں سے نکل کر شہر کے لوگوں سے شیخ کا پوچهنے لگا کسی نے بتایا کہ وہ جنگل کی طرف گئے ہوئے ہیں یہ سنتے ہی وہ راہ حق کا مسافر دیوانہ وار شیخ کی تلاش میں جنگل کی طرف روانہ ہوگیا ،راستے میں ……..شیطان نے اس کے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کردئیے،سمجھ میں نہیں آتا تها کہ آخر شیخ نے ایسی بےہودہ بدتمیز و زبان دراز عورت کو اپنے گهر میں کیوں رکها ہے ،
    عجیب معاملہ ہے! یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزارتے ہونگئے
    “ایک آگ ہے اور دوسرا پانی” ان مجوعہ اضراد میں محبت کیسے ہوسکتی ہے،ایسے وسوسے آتے بےچارہ گهبرا کر لاحول پڑهتا اور کانوں کو ہاته لگاتا ،
    شیخ کے بارے میں ایسے خیالات کو دل میں جاگزیں کرنا نادانی ہے انہی سوچوں کا تانا بانا بنتا چلا جارہا تها کہ آخر دل نے کہا کہ اس میں کوئی بهید ہوگا وہ انہیں خیالات کی دنیا میں گم تها کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو شیر کی پیٹھ پر اس شان سے سوار تها کہ پیچهے لکڑیوں کا گٹها لدا ہوا ہے اور ہاتھ میں سیاہ سانپ کا کوڑا ہے،
    عقیدت مند سمجھ گیا کہ یہی شیخ ابو الحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ ہیں اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کرتا ،شیخ صاحب نے دور سے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا :
    عزیزم ! اپنے فریبی نفس کی باتوں میں نہ آ،اور ان پر دهیان نہ دے،ہمارا اکیلا پن اور جوڑا ہونا نفس کی خواہش کے لئے نہیں ہے، الله عزوجل کے حکم کی تعمیل کے لئے ہے،ہم اس جیسے سینکڑوں بےوقوفوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں،
    یہ گفتگو میں نے تمہاری خاطر کی ہے تاکہ تو بهی بدخو ساتهی سے بنائے رکهے،تنگی کا بار ہنسی خوشی برداشت کر ،کیونکہ صبر کشادگی کی کنجی ہے،
    الله تعالی نے مجهے یہ بلند مقام اپنی بیوی کی بدزبانی پر صبر کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے اگر میں اسکی ہرزہ سرائی برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا مطیع کیسے ہوتا،
    گر نہ صبر میکشیدے بار زن
    کے کشیدے شیر نر بیگار من
    “اگر میرا صبر اس عورت کا بوجھ نہ اٹها سکتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹهاتا”!!.
    *مولانا رومی رحمتہ الله علیہ اس واقعہ سے یہ درس دے رہے ہیں کہ انسان کو ہر حال میں راضی بہ رضائے الہی رہنا چاہیئے اور صبر و شکر سے کام لینا چاہیئے ،یقینا صبر کرنے سے ہی اعلی مقامات عرفان حاصل ہوتے ہیں،