Baaghi TV

Category: اسلام

  • دینِ اسلام اور جہاد   تحریر: محمد بلال

    دینِ اسلام اور جہاد تحریر: محمد بلال

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا،اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا۔(سورۃ المائدہ آیت# 3)

    اللّه پاک کا کروڑوں احسان ہے
    جس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا
    ہمیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا
    اپنے محبوب خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا امتی بنایا
    حق سچ کا راستہ بتایا
    اسلام کے زریعے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا
    وه دینِ اسلام جس نے زندگی گزارنے کے اصول قوانین،اور ضابطے بیان کرکے انسان کو دوسرے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔
    قرآنِ پاک نازل کرکے اعلان فرمایا کہ قرآن میں اصولِ دین کو کھول کر بیان کیاگیا ہے
    اور نبی اکرمﷺ کو مبعوث فرماکے اعلان کیا کہ تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
    ان سب کے ہوتے ہوۓ مسلمانوں کے نزدیک کسی دوسرے مذہب، اور کسی بھی دنیاوی قانون کی کوئی حثیت نہیں

    مسلمان صرف ایک اللّه کو مانتے ہیں اسی سے ڈرتے ہیں اور سواۓ اللّه کے اور کسی کے آگے نہیں جھکتے

    وه دنیاوی طاقتوں کو خاطر میں نہیں لاتے
    ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے خود ساختہ ڈرامہ کے بعد ایک طرف لاکھوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا
    تو دوسری طرف
    عالمی میڈیا کے زریعے جہاد کے بارے میں دنیا کی ذہن سازی کی گئی جہاد کو دہشت گردی اور جہاد کرنے والو کو دہشت گرد کہا گیا

    ڈالر اور طاقت کے بل پر مسلم حکمرانوں کی غیرت کو خریدا گیا

    افغانستان اور اسکے بعد پاکستان پر قبضے پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھے گئے

    لیکن ایک اللّه کے ماننے والو نے اللّه کی مانی

    دنیاوی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کیا
    اور اللّه کے فرمان

    وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾

    اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے ،

    Surat No 2 : سورة البقرة – Ayat No 244

    پر عمل کرتے ہوۓ اللّه کی راہ میں جہاد کیا

    بدلے میں اللّه پاک نے 36 ملکوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کو فتح یاب کیا

    افغانستان سپرپاور کا قبرستان بن گیا

    دنیا نے دیکھا کے امریکہ کھربوں ڈالر جھونک کر اور اپنے ہزاروں فوجی مروا کر
    ان ہی طالبان جن کو دہشت گرد کہتا تھا ان سے واپسی کی بھیک مانگتا رہا

    تاریخ گواہ ہے جب بھی مسلمانوں نے قرآن کے احکامات کو پس پشت ڈال کر دنیاوی طاقتوں کی کے آگے سر جھکایا ذلیل و رسوا ہی ہوۓ

    اور جب جب اللّه پاک اور پیارے آقا ﷺ کے بتاۓ ہوۓ پر رستے پر چلا دنیا ان کے قدموں میں آگری جس کی تازہ مثال افغانستان ہے

    جہاں تین سپر پاورز کا غرور خاک میں مل چکا ہے

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت  تحریر: صلاح الدین

    اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت تحریر: صلاح الدین

    بھیک مانگنے کی جس قدر مزمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کی اس قدر برائی کی گئی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو سائل کو سوال کرنے سے روکا جاۓ اور مانگنے کی برائی اور محنت و مشقت کی خوبی اس پر واضح کی جاۓ۔

    اس زمانے کے گداگروں کی ڈھٹائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی ممانعت کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ غیر مستحق سائلوں کی داد رسی ہر گز نہ کی جاۓ اور جہاں تک ہو سکے مستحقین کی مدد کی جاۓ جو باوجود مستحق ہونے کے کسی سے سوال نہیں کرتے یا جو سخت مجبوری اور ناداری کی حالت میں مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غیر مستحق مانگنے کے ساتھ کوئی سلوک اور کوئی بھلائی اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی کہ ان کو اس پیشے سے باز رکھا جاۓ۔

    ملک و قوم کے حق میں اس بڑا احسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ بھیک مانگنے کا پیشہ جو کہ ایک بیماری کی طرح افراد و قوم میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور روز بروز بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی روک تھام کی جاۓ-

    علامہ مقری تاریخ اندلس میں لکھتے ہیں کہ اندلس میں جس سائل کو تندرست اور کام کے لائق دیکھتے ہیں اس کو شرم دلاتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں اپاہج اور معذور آدمی کے سوا کوئی سائل نظر نہیں آتا۔ افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں جس قدر مسلمان بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اس قدر کسی قوم میں نظر نہیں آتے۔

    بحیثیت پالستانی شہری ہمارا فرض ہیکہ ایسے لوگوں کی سخت مزمت کی جاۓ جو غیر مستحق ہیں اور پھر بھی بھیک مانگتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر گز مدد نہ کی جاۓ بلکہ ان کو برا بھلا کہا جاۓ تاکہ یہ لوگ اس پیشے کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرکے اپنے لیے روزی کما سکیں۔

    مستحقین کی مدد کی جاۓ تاکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوں ان کی مدد ان کی گھر کی دہلیز پر جا کے کی جاۓ کیونکہ ایسے لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو برا سمجھتے ہیں

    Twitter ID: @Salahuddin_T2

  • مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟  تحریر: نویداختربھٹی

    مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی

    قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟

    چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
    چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟

    دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
    یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
    ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
    بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
    اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
    حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
    موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
    گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
    وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
    ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!

  • امت مسلمہ کی حالت زار  تحریر: تماضر خنساء

    امت مسلمہ کی حالت زار تحریر: تماضر خنساء

    آج امت زبوحالی کا شکار ہے ۔نبی آخر الزمان ص جس
    امت کو ایک تسبیح کے دانے میں پروگئے وہ ٹوٹ چکی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ۔جہاں نظر اٹھاؤ تو مسلمان مشکل میں ہیں ،کہیں کفار کی درپردہ چال بازیاں ہیں تو کہیں کفار کھلم کھلا غاصب ہے ۔یہ جنگ تو ازل سے ابد تک جاری رہے گی بدی اور نیکی کی جنگ کفار اور مسلمان کی جنگ!
    اللہ کے نبی نے تو ہمیں واضح بتادیا کہ امت تو ایک جسد واحد ہے کہ ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا
    عضو بھی سکون نہیں لے پاتا ۔

    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    مگر یہ امت کیسی امت ہے کہ جسکا ایک عضو تکلیف میں ہے اور باقی سب خاموش تماشائ ہیں، ہر ایک مصلحت کے تحت خاموش ہے، مسلمان مسلمان کی تکلیف نہیں سمجھتا آخر یہ کیسی بے حسی ہے جو اس امت پہ طاری کردی گئ ہے ۔

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    لیکن آج یہ امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ،مسلمان اپنے مسلمان بھائ کا دشمن ہے، یہود و نصاری کو اپنا دوست سمجھتے ہیں
    ایک طرف امت کا دھڑکتا دل! فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین ،وہی سرزمین جو واقعہ معراج کی شاہد ہے لہو لہان ہے، غاصب مسلط ہیں، مگر باقی دنیا کے مسلمان پھر بھی مست ہیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئے پڑے ہیں ۔جانتے نہیں کہ یہ بے حسی اس امت کو اپاہج کرسکتی ہے اور اپاہج بھلا کسی سے اپنا حق بھی لے پایا ہے کبھی؟
    فلسطین سے نظر پھیر بھی لو توامت کا بازو کشمیرہے جہاں ،نہ جانے کتنے سالوں سے ظلم کا بازار گرم ہے کرفیو لگادیا جاتا ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کردی جاتی ہیں دن دھاڑے اس امت کے بیٹے چھین لیے جاتے ہیں، مگر ہم! ہم تو سکون سے ہیں تو ہمیں کیا غرض کہ فلسطین اور کشمیر کس کرب میں ہیں! ہمیں کیا غرض کہ ایغور کے مسلمانوں پہ کیا بیت رہی ہے! ہم تو بس اپنی زندگی میں مست ہیں فلسطین اور کشمیر کو منظر نامے سے ہٹا کر ہی دیکھ لیں تو مسلم ایٹمی قوت پاکستان ہے، جس سے ہر مسلم ملک کو امیدیں ہیں کہ کوئ محمد بن قاسم آئے گاکوئ عمر بن خطاب پیدا ہوگا مگر یہاں تو مراثی ہیں یا اداکار! جو اس زندگی کو فلم کی طرح جییے جارہے ہیں، طاقت ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں یہ کیسی بے بسی ہے جو ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے ہے اور زبانیں خاموش ہیں!
    مان لو پھر کہ ایٹمی قوت پاکستان سے زیادہ بہتر وہ لہو لہو سرزمین فلسطین ہے جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت ہے جہاں سچ اور حق کی آواز کڑے وقت میں بھی باطل کے سر پر تازیانہ بن کر پڑتی ہے ۔جہاں کم از کم لب تو بولنے کیلیے آزاد ہیں ۔۔۔ہم تو آزادی کے نام پر غلام بنالیے گئے ہیں ذات پات رنگ و نسل ماڈرنزم کے غلام! ہمیں آزادی کا بہلاوا دے کر قید کردیا گیا ہے ۔۔
    ایک ایٹمی قوت کے ہوتے بھی امت کسمپرسی کاشکار ہے ۔۔ آخر اس زبوحالی کی وجہ کیا ہے؟
    بس یہی کہ امت تفرقے میں بٹ گئ ہے، وہ رسی تو چھوٹ ہی گئ جس میں اس امت کی کامیابی کی ضمانت پوشیدہ تھی،

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ

    اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)

    محمد مصطفی تو سکھا گئے کہ تفرقے میں نہ پڑنا ورنہ جھاگ کی طرح کی حیثیت میں رہ جاؤگے سمندر ہو کر بھی طوفان نہیں بن سکوگے .
    مگر ہم تفرقے میں بٹ گئے، امت بکھر گئ آج مسلمان تو ہیں مگر انکا وہ دبدہ نہیں رہا، کوئ شیعہ ہے تو کوئ سنی ،کوئ وہابی تو کوئ اہل حدیث ہے ،
    کہیں نسلی و علاقائ تعصب کی آگ ہے جس میں
    اپنا ہی اپنے کو دھکیل رہا ہے، ہر ایک خود کو دوسرے سے افضل سمجھتا ہے اور اس جنگ میں اپنوں کا ہی خون کیے جاتے ہیں.،جانتے نہیں کہ چاہے شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا دیوبندی کفار کیلیے سب مسلمان ہیں سب انکے دشمن ہیں۔جو چیز آج ہمیں اپنانی تھی وہ کفار آزماتے ہیں اور ہم ماڈرنزم اور مغرب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ذہنی غلام ہیں۔
    ۔کسی کو انگریزی بولتا دیکھ کر مرعوب ہوجانے والے یہاں ایک عالم سے زیادہ عزت ایک مراثی کو دی جاتی ہے جہاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے والا تو بے روزگار ہے مگر رشوت خور مزے میں ہے، جہاں ایماندار کو پاگل کہا جاتا ہے اور بے ایمان کو بولڈ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بے حیائ کی مانگ ہے اور حیادار کیلیے زندگی مشکل، ایسی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ہم!

    مگر یہ غلامی ہماری چنی ہوئ ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام ہیں تسلط آج بھی مغربی ذہنیت کو حاصل ہے! بٹی ہوئ امت آخر زوال کا شکار کیونکر نہ ہوگی ؟ ذرا سوچیے کہ آخر کب تک اس بے حسی کی چادر کو تھامے ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے محض ایسی دنیا کیلیے جو فانی ہے!
    آخر روز آخرت ہم اپنے ہادی ص سے نظریں کیسے ملا پائیں گے ہمیں تو وہ امتی بننا تھا کہ جس امت کیلیے وہ ہستی روز محشر بھی شفاعت کی طلبگار ہوگی کہ یا ربی میری امت یا اللہ مری امت! اور ہم اس قابل بھی نہ ہونگے؟ آخر تفرقے کی اور مغربی غلامی کی اس جنگ سے ہم کب باہر آئیں گے؟
    ہمیں بے حسی کی اس چادر کو اتار پھینکنا ہوگا اور ایک امت بننا ہوگا جس پہ نبی آخر الزمان فخر کرسکیں
    وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!

    Twitter Handle:
    @timazer_K

  • بیٹی  ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    بیٹی ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    جب کوئ عورت ماں بننے والی ہوتی تو انے والے نئے مہمان کے لئے تجسّس میں ہوتی کہ خدا کس نعمت سے نوازیں گےاور دل ہی دل میں خداسے دعا کرتے کہ جو بھی ہو بس مکمل صحت مند ہواور ساتھ خیریت کے ہو
    خاص کر جب وہ پہلی بار ماں بنتی۔اس پر سب کی نظر ہوتی اسکے ارام اور خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا
    اور جوں جوں وقت قریب اتا جاتا وہ تجسس بڑھتا چلا جاتا اور بالآخر وہ دن اتا جب ایک نومولود دنیا میں وارد ہوتا اور عورت ایک تکلیف دہ عمل سے گزر کر ماں کے عظیم رتبے پر فائز ہوتی ۔بہت سے لوگوں کی اولاد کے لئے الگ الگ خواہش پوتی
    کہ بیٹا ہو ۔بیٹی ہو
    اور زیادہ تر لوگ بیٹے کی خواہش رکھتے
    لیکن بیٹی کی پیدائش پر بھی لوگ اتنے ہی خوش ہوتے
    اور اسکو خدا کی رحمت سمجھتے اور خوشی خوشی اسکا استقبال کرتے۔بیٹی اپنے وجود سے سب کو پیاری پوتی
    اور اج کل کے دور میں بیٹی بھی بیٹے کے جیسی اہم ہوتی ہے ۔بیٹی سے ماں لے ساتھ ساتھ باپ کو بھی پیاری ہوتی ہے اور دونوں کی نگاہ کا مرکز بن جاتی
    بیٹی اپنی خوبصورت باتوں سے سب کا دل موہ لیتی۔ماں بھی بیٹی کے لیے رنگ برنگے کپڑے بناتی اسکو سنوارتی
    اسلام سے قبل جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں مست و غرق تھی اور عورت کو جانوروں کی سی حیثیت دی جاتی تھی
    کوئ بھی حق نہیں دیا جاتا تھا ہر طرح کا ظلم ڈھایا جاتا تھا
    بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا
    اور جب اسلام کا سورج دنیا پر ابھرا تو گویا انسانیت کی فلاح کا راستہ کھل گیا
    اور عورت کے حقوق کے حوالے سے زور دیا گیا اور انہیں برابری کا درجہ دیا
    بیٹی کی پیدائش کو رحمت کہا گیا اور انکی سچھی پرورش پر زور دیا گیا
    بیٹی ایک خوبصورت احساس کانام
    بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی جاتی گھر کے امور میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور باپ کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتیں
    اور پھر جب بیٹی کی تعلیم وتربیت کا وقت اتا تو وہ ماں باپ کو مایوس نہیں کرتیں اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرتیں۔شعبہ ہائے زندگی میں مرد کے شانہ بشانہ ہوتیں
    بیٹی کے وجود کا احساس تب زیادہ ہوتا جب اپ اسکی شادی کا سوچتے اور انے والے اچھے نصیب کی دعا کرتے اور انکو ہر طرح سے آسودہ رکھنے کی کوشش کرتے
    بیٹی کی پرورش ایک اہم جز ہے کسی بھی معاشرے اور گھرانے میں
    اور اج کل کے دور میں جسطرح سے نفسا نفسی ہے تو وہ بیٹی ہی ہوتی جو اپنے والدین کا سہارا بنتی اور انکو سنبھالتی سسرال سے اکر بھی اپنے ماں باپ کی دکھ درد کو بانٹتی
    بھت سی بیٹیاں گھروں سے باہر نکل کر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا فرض انجام دیتیں۔اور معاشرتی مسائل کو حل کرنےمیں بھی مدد گار ثابت ہوتیں
    بیٹی کی قدر کریں اور اسکی اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ اسکی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دیں اور جدید دور کی اہمیت سے روشناس کروائیں

    @simsimsim1930

  • ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے  تحریر: علی رضا بخاری

    ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے تحریر: علی رضا بخاری

    شوہر کا انتقال ہونے کی صورت میں بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے ہوتے ہیں۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں”
    (سورۃ البقرۃ : 234)

    شوہر کے انتقال سے پہلے عورت حاملہ ہو يا کچھ دن بعد علم ہو تو عدت ڈیلیوری تک ہوگی خواہ یہ مدت 9 ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور حمل والیوں کی عدت ان کا حمل ہے”
    (سورۃ الطلاق : 4)

    اگر عورت کو طلاق یا خلع ہوئی ہے تو اس صورت میں عدت تین ماہواری ہوگی۔

    عدت کے مسائل:
    عدت کی شروعات اس دن سے ہوگی جب شوہر کی وفات ہوئی ہے، اگر کسی بیوہ کو کچھ دن تاخیر سے شوہر کی وفات کی خبر ملتی ہے تو بھی عدت کی شروعات اسی دن سے مانی جائے گی جب وفات ہوئی ہو یعنی انجانے میں گزرے ایام بھی عدت میں شمار کیے جائیں گے۔

    بیوہ کیلئے نبی پاکﷺ کا فرمان ہے:
    "تم اپنے اس گھر میں عدت بسر کرو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی موت کی خبر ملی تھی حتٰی کہ کتاب اللّٰہ کی بیان کی ہوئی مدت پوری ہو جائے”

    دورانِ عدت سفر کرنا منع ہے اس لیے حج و عمرہ کا سفر ہو یا سیر و تفریح کا یہ سب بیوہ کیلئے دورانِ عدت ممنوع ہیں، بیوہ ضرورت کے تحت سفر کر سکتی ہے مثلاً شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو یا دوسرے کا گھر ہو تو مناسب جگہ منتقل ہو کر عدت گزار سکتی ہے، اسی طرح کوئی ضرورت کی چیز لا دینے والا نہ ہو تو خود باہر جا کر اشیاء خرید سکتی ہے اور اگر بیمار پڑ جائے تو علاج کی غرض سے بھی گھر سے باہر نکل سکتی ہے یعنی بیوہ کیلئے دورانِ عدت ضرورت کے تحت باہر جانا جائز ہے۔

    بیوہ کو دورانِ عدت زینت کی چیزیں مثلاً میک اپ، کان کی بالیاں، پازیب، کنگن، ہار، انگوٹھی، چوڑیاں، کریم، پاؤڈر اور مہندی وغیرہ استعمال کرنا منع ہے۔

    عورت عدت کے دوران گھر کی معمول کی زندگی گزارے گی اور آنے والے محرم رشتہ داروں سے ملاقات اور میل جول کر سکتی ہے۔

    جب عورت کی عدت مکمل ہو جائے تو جہاں چاہے دوسرے دین دار مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • ماں باپ ایک نعمت  ۔تحریر :  فجر علی

    ماں باپ ایک نعمت ۔تحریر : فجر علی

    زندگی بہت تکلیف دہ چیز ہے یہ موت سے بڑھ کر اذیت دیتی ہے ۔کیونکہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں کب بیچ راستے میں چھوڑ جائے نہیں معلوم ۔ہمارے ماں باپ ہمیں جنم دیتے ۔ہماری پیدائش سے ہمارے لئے سپنے دیکھنا شروع ہوتے ہیں۔ہمیں دنیا جہاں کی خوشیاں عطا کرتے ہیں ۔انکی ہر طرح سے کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے کی زندگی میں کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے ۔اپنی تمام تر پونجی ہم پر نچھاور کردیتے ہیں ۔بچے ماں باپ کو دیکھتے ہوئے بٹے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔کیونکہ ماں باپ ہر چیز سیکھاتے ہیں سوائے اس کے کہ بیٹا ہم ایک دن نہیں رہینگے تو تم ابھی سے ہمارے بغیر زندگی جینا سیکھ لو
    ۔اولاد کے لیے سب سے تکلیف دہ مقام یہ ہوتا ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے ماں باپ کو بوڑھا اور کمزور ہوتا دیکھتی ہے ۔پھر ایک دن ان میں کوئی ایک ہمیشہ کے لیے چلے جاتا اور وہ اولاد جس نے اپنی سانس بھی والدین کے بغیر لینے کا تصور تک نہیں کیا ہوتا وہ بڑے بڑے پہاڑ اکیلے برداشت کرنا سیکھ جاتی ۔
    اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں ۔تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا کوئی ایک ماں اپنے بچے کو یوں بلکتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ حضرت اسماعیل کی پیاس بی بی حاجرہ سے برداشت نہ ہوئی وہ کس قدر تڑپی تھی کہ نگے پاوں پانی کی تلاش میں دوڑتی گئیں ۔یہ تھی ماں کی تڑپ ۔یہاں ہم ہر روز تڑپتے بلکتے رہتے کوئی دلاسہ دینے والی ذات نہیں آتی ۔ایک ماں جو بچے کو جنم دینے کے دوران فوت ہوجاتی ہے اس میں رب کی کیا مصلحت ہے ۔جو بچے کو تو جنم دے گئی اور جود اس جہاں سے کوچ کرگئی ۔اور وہ بچہ جس نے اپنی ماں کا لمس تک محسوس نہیں کیا اس کے مسکین ہونے میں کیا بہتری تھی؟ دونوں کو ملی تو ہمیشہ کے واسطے کی جدائی ،تڑپ ۔اللہ تو ہر چیز سے پاک ہے اور بے پراوہ بھی ۔وہ خود کو کبھی بھی کسی چیز پر ذمہ دار نہیں ٹھہراتا ۔۔
    جیسے جب کسی کا وصال ہوتا ہے تو عزرائیل پر الزام لگتا کہ انہوں نے جان نکالی؟ لیکن کس کے کہنے پر؟ یہ کسی نے نہیں بولا ۔
    یہ بات آج تک سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ماں باپ کو اولاد سے محبت اور اولاد کو ماں باپ سے محبت کی تاکید کی گئی لیکن دوسری طرف ان کو جدا کرکے جو ہمیشہ کا غم دیا جاتا ہے اللہ کی طرف سے اس پر بھی صبر کا حکم ۔
    کسی کی ساری دنیا لے جاتی ہے اور اسے صبر کی تلقین کرنا کیا دانائی کی بات ہے؟یقینا نہیں ۔ ہم اللہ کے ہیں اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں لیکن یہ اذیت بھرا سفر کبھی تمام نہیں ہوتا چاہے اس پر صبر کربھی لیں تو ۔۔یہ سفر یونہی ٹوٹی پھوٹی لہروں کی مانند جاری وساری رہتا ہے

    @FA_aLLi_

  • اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم  تحریر: فرح بیگم

    اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تحریر: فرح بیگم

    اخلاق کا سب مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرت ثانیہ بن جاۓ

    حضرت علی رضی اللہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ، حضرت انس رضی اللہ جو مدتوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم مزاج، نیک سیرت اور اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتا تو آپ اس کی بات کو غور سے سنتے تھے جب تک اس شخص کی بات ختم نہ ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب تک اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ چھڑاتا

    مجالس میں لوگوں کی ناگوار باتوں کو بھی برداشت کر لیتے تھے اور اظہار نہ کرتے تھے کسی شخص کی کوئی بات پسند نہ آۓ تو اس کے سامنے اس کا تزکرہ نہیں کرتے تھے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہمیشہ جگہ کی کمی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ صحابہ کرام زیادہ تعداد میں شرکت کرتے تھے تو ایسے میں اگر کوئی شخص آ جاۓ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے تھے۔

    اگر کسی شخص کی کوئی بات ناگوار گزرے تو اس کا نام صیغہ راز میں رکھ کر فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے اس سے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی اور اس شخص تک بھی پیغام پہنچ جاتا تھا۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہیں ہمیں بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوۓ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے  تحریر : سیف اللہ عمران

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے تحریر : سیف اللہ عمران

    ایک مسلمان کے لیے مطالعہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت ظہور سورج سی ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو قانون و شریعت کا مآخذ سمجھتا ہے اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا عملی تقاضا

    اور اس کے ساتھ یہ بات بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت ہی میں نجات ہے۔ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعت ِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایمان والا نہیں جو مجھے اپنے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ رکھے۔

    اگر کسی کے لئے خوبصورتی کا کوئی معیار ہے ، تو یہ صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    ” تم کو رسول خدا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے اللہ تعالی سے ملنے اور روز آخرت کے آنےکی آس ہو اور وہ کثرت سے زکر الہی کرتا ہو "(سورۃ الا حزاب:آیت 21)

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا پہلا تقاضا یہ ہے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں آپ کی صفات اور اخلاق کو آپ کی نبوت کے ثبوتوں اور خصوصیات کے ذریعہ حاصل کیا جائے۔ کیونکہ جو شخص آپ کے اخلاق اور اوصاف کو جانے گا وہ یقینا آپ سے محبت کرے گا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ سعادتِ دارین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے۔

    سیرت نبوی ؐ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کے جذبہ ایمان و یقین کے واقعات سے لبریز ہے
    خدا کے اعلی کلام کی شان کے ان کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو پڑھنے اور سننے سے مومنین کے عزائم و قوت کو تقویت ملتی ہے اور حقیقی دین کے دفاع کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے اور دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے چاہے حاکم ہو یا محکوم ، طالب علم ہو یا استاد گویا آپ ؐ کی سیرت ِ طیبہ ایک انسان ِ کامل کے لیے ہر اعتبار سے اعلیٰ درجے کی نادر مثال ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ سے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا تعلق سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت گہرا ہے۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور امتیازات کا صحیح علم صرف سیرت سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے طے ہوتا ہے۔

    رب کائنات کی سوانح حیات کا مطالعہ کرکے عقیدہ اور اعتقاد ، شریعت ، اخلاقیات ، تفسیر ، حدیث ، سچائی ، سیاست ، انصاف ، دعوت اور تربیت اور معاشرے اور مختلف کے بارے میں درست اور مستند اور کارآمد معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث مبارکہ میں گہرا تعلق ہے سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے صحیح احادیث کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ دعوتِ اسلام کے مراحل کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ اور ان مشکلات و تکالیف کا پتہ چلتا ہے جن سے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے گزرنا پڑا ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ ؐ نے پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس لیے کہ سعادت دارین، رسولؐ اللہ کی لائی ہوئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • گناہ سے توبہ تحریر:  ذیشان علی

    گناہ سے توبہ تحریر: ذیشان علی

    اللہ تعالی کے تمام انبیاء معصوم ہیں، باقی ہر انسان میں عیب ہیں وہ خطا کار بھی ہیں وہ گناہ گار بھی،
    لیکن جو اللہ تعالی کے دوست بن کر رہتے ہیں، اور جو اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں،
    اللہ ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اللہ تعالی بڑا غفور الرحیم ہے ،
    اور ہمیں ہر وقت گناہوں سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے،
    لیکن انسان تو انسان ہے خطا کا پتلا ہے اور اس کے اندر ایک نفس ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک شیطان ہے جو اسے دنیاوی لذتوں کا جھانسہ دے کر اسے سے خطائیں اور گناہ سرزد کرواتا ہے،
    ایسے میں اللہ تعالی نے انسان کے سامنے دو راستے رکھ دیئے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جس راستے پر تم چلنا چاہتے ہو چلو لیکن دونوں راستوں کے انجام سے باخبر بھی کر دیا،
    شیطان کے راستے پر چلو گے تو وہ تمہیں ہر وقت گناہوں اور سرکشی میں مبتلا کرتا رہے گا،
    لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے گناہوں سے بچتے رہو گے سیدھے راستے پر رہوگے اللہ تم پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے گا،
    لیکن اگر گناہ ہو جائے تمہارا ضمیر تمہیں ملامت کرے اور تم اپنی اصل کی طرف پلٹنا چاہو تو اللہ نے ایسے میں پچھلے تمام گناہ معاف کرنے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ گناہوں سے سچی توبہ کی جائے،
    اگر گناہ ہو جائے تو پھر بندہ/ بندی کیا کہے اور اسے کیا کرنا چائیے،
    وہ اچھی طرح وضو کرے پھر وہ دو رکعت نماز ادا کرے اور نماز کے بعد وہ اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی بخشش مانگے۔ شک وہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے،
    اور شیطان سے اللہ کی پناہ کیسے حاصل کی جائے ؟
    جب کوئی کام شروع کرو تو اس سے پہلے اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو اور پھر بسم اللہ،
    جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللّٰہ شیطان سے تمہاری پناہ میں آتے ہیں اور تمہارے نام سے شروع کرتے ہیں بے شک تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے،
    ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پہلے تو کسی گناہ کے نزدیک بھی نہ جائے لیکن کسی غفلت اور نفس کی خواہش میں آکر گناہ کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ گناہ سے توبہ کرے اور توبہ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ گناہ پھر کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتے اور گناہگار کے مقدر میں رسوائی ہے،
    دعا ہے رب ذوالجلال سے کہ وہ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے،
    آمین

    @zsh_ali