Baaghi TV

Category: اسلام

  • اسلام دین انسانیت  تحریر : زوہا علی

    اسلام دین انسانیت تحریر : زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    Twitter handle: @ZoHaAli_15

  • میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    محترم قارئین عید کی مبارکباد کے ساتھ ماضی کے جھروکوں میں کھلکھلاتی بکرا عیدوں کے سفر کو چلتے ہیں.
    ذوالحج کے چاند کے ساتھ ہی بکرے کے گلے میں رنگ برنگ پٹے پہنا لینا
    اگر بکرے کا رنگ سفید ہے تو اس پہ مہندی لگانا.
    اسے صاف ستھرا کر کے گلیوں میں گھمانا اور دوستوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرنا.
    پی ٹی وی پہ حج ٹیلی کاسٹ دیکھنے کے لیے چونکہ سکول سے چھٹی ہوا کرتی تھی تو
    مؤدب ہو کر
    لبیک الھم لبیک ان الحمدونعمت لک ولالملک لا شریک لک
    کی صدا دینا.
    سر شام کپڑے جوتے چوڑیاں پھیلا کر رکھ لینا اور مہندی لگوانا.
    صبح تیار ہونا ویسی طلب کرنا اور قربانی کے بکرے کو بار بار گلے لگانا اس کے ناز اٹھانا اور زارو قطار رونا.
    ایسے ہزاروں لمحے جو اب ہم سے کوسوں دور نکل گئے
    عیدوں پہ ناراضیاں ختم کرنے کے لیے عید سے ایک دن پہلے ایک دوسرے کے گھر منانے جانا
    کسی فوت شدہ کی پہلی عید پہ اہل خانہ سے اظہار غم و یکجہتی کے لیے لازمی جانا
    یہ رویات ٹکنالوجی چرا لے گئی
    اب ہم میلوں دور بیٹھے دوستوں ڈالرز اور فینز سے تو رابطے میں ہیں مگر پاس بیٹھے بڑے بوڑھوں سے بہت دور چلے گئے.
    معلوم نہیں کسی نے اپنے گھر کے تمام افراد کو عید مبارک کہا کہ نہیں.
    یہ تبدیلی نہیں تنزلی ہے اعلی اقدار سے اخلاقی پستی کی جانب
    اب ہماری عیدیں اداس ویران ہیں .اب ہم عید مناتے نہیں گزارتے ہیں.
    سو کر یا تکیے بھگو کر
    ہم بکرا عید سے دو دن پہلے لاتے ہیں کاٹتے کھاتے ہیں سٹیٹس لگاتے ہیں اور کھو جاتے ہیں اپنے ہی اندر کی دنیا میں.

    جہاں عید تہوار ہوا کرتا تھا اب خرافات کا لائسنس بن گئی

    نا جانے کب سے عید کے سارے لمحے اور ذائقے ہماری زندگی کی ہتھیلیوں سے ریت کی مانند پھسل رہے تھے معلوم تب ہوا جب عیدیں سو کر گزرنے لگیں

    آپکی عیدوں کا حال تو آپ جانیں
    میرے دیس کی تو عیدیں بدل گئیں
    بیتی ہوئی عیدوں کی یادیں باقی ہیں.

    @hsbuddy18

    Hspurwa198@gmail.com

  • "لمحہ فکریہ”  تحریر : فرزانہ شریف

    "لمحہ فکریہ” تحریر : فرزانہ شریف

    *چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔*
    میں ایک جنرل بات کررہی ہوں کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔!!
    کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.

    . کونسی ؟
    اچھا وہ جو گنجی ہے اب اس نے سر پر نقلی وگ لگائی ہوئی ہے؟ ہاں اچھا وہ جو چھوٹے سے قد کی ہے چلتی ہوئی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی گینڈی جارہی ہے ؟؟
    اچھا وہ بڑے سے منہ والی ؟
    جو یوں چلتی تھی ؟
    نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے
    اچھا وہ جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے ؟؟

    کونسا ؟

    اچھا وہ موٹی گردن والا ؟
    وہ جس کی طوطے کی چونچ جیسی ناک ہے۔؟
    اچھا وہ جو لنگڑا کر چلتا ہے ؟
    اچھا وہ جو بیٹھا مٹھ کھڑا گٹھ ۔؟
    وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے ؟ پہلوئے حور میں لنگور۔۔؟

    ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

    *قسم ہے انجیر*
    *اور زیتون کی*
    *اور طورِ سینا کی*
    *اور امن والے اس شہر کی*
    *بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔*

    کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ دراصل ہم انجانے میں اپنےنامہ اعمال میں مسلسل گناہ لکھوا رہے ہیں ۔
    کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں،

    کسی کو چھوٹا ہونے پر،
    کسی کا رنگ کالا،
    کسی کی ناک موٹی،
    کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں،
    کسی کے چہرے پر بال ہوں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں
    کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو اس کو بھی معاف نہیں کرتے ۔۔!!!

    حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔

    یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا ہےتو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو ہم دراصل اس بندے کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے بلکہ خالق کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں ۔ہم خود جو مکھی کا ایک پر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اس خالق کی بنائی چیزوں میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں استغفراللہ ۔۔!!
    وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔

    *اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي*

    اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں باہرخوبصورت بنایا ہے، ہمارا اندرکردار بھی خوبصورت بنا دے۔

    روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے :

    *” Great Minds Discuss ideas;*
    *Average Minds Discuss Events;*
    *Small Minds Discuss People.”*
    .

  • ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟   تحریر: ملک منیب محمود

    ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟ تحریر: ملک منیب محمود

    آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 73 سال ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے قیام پاکستان کے لیے جیسا مقدمہ لڑا ویسا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی نے نہ لڑا۔ 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’آپ کا تعلق کسی مذہب سے ہوسکتا ہے۔کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدہ کے ساتھ ہوسکتا ہے،یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاستِ پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
    یقین جانیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفریقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں عقیدے ،رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوچکے ہوتے۔ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔
    آپ آزاد ہیں ،آپ آزاد ہیں ، آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں۔کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘
    قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوںگے ۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔‘‘ان تقاریر کا ایک ایک لفظ پڑھ یا سن لیں اور سوچیں کہ ہم کس قدر ’’بے وفا ‘‘نکلے، ہم تو اس متن کے ایک جملے پر بھی پورا نہ اُتر سکے۔ خیر ہمیں کم از کم یہ تو علم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔لیکن ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی مذکورہ بالاتقریر(11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر )کو متنازع بنا دیا گیا۔
    بہت سی سازشیں ہوئیں، ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔ انھیں شہید کرنا والا افغان باشندہ تھا۔یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی جنھیں آمر نے پیدا کیا ہوا۔
    خیر یہ تو سیاسی باتیں تھیں، پاکستان میں سیاست اور کرکٹ دونوںکے مستقبل کے بارے میں بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی غلط ثابت ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے اپنے قومی پرچم جس میں سفید سبز رنگ ہے کی بے حرمتی کر دی!بلکہ کر رہے ہیں، قائد اعظم نے 11اگست والی تقریر کے بعد ہونے والے اجلاس ہی میں جس قومی پرچم کی منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ سفید رنگ اقلیتوں کی آزادی کی علامت ہے۔ لگتا ہے آج ہم نے اس خیال کو ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
    الغرض قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آپ ؒ پاکستان کے قیام کے بعد محض 13ماہ زندہ رہے۔ ان کی زندگی میں تو ’’پاکستان‘‘ تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا، مگر آج ہم کیا کررہے ہیں، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگا۔ مگر دھڑلے سے لگایا گیا اور آج بھی ویسے ہی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔
    الغرض قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں، آج ہم سب Look Busy Do Nothing کے محاورے پر چل رہے ہیں ، ہم مذہبی طور پر خود کو سب سے زیادہ مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں، ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک دکھاوا ہے۔ ہم ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کو اُس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نہ کرو، اس حوالے سے قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔
    سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھااور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔
    ‎@MMuneebPTI

  • نکاح میں برکت تحریر:  فریال نیازی

    نکاح میں برکت تحریر: فریال نیازی

    مغرب میں اوپن relationships، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ وغیرہ انتہائی عام ہونے کے باوجود وہاں کی عورت آج بھی شادی کے بندھن سے کس قدر جذباتی لگاؤ رکھتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے آپ marriage proposal reaction پر بننے والی لاتعداد ویڈیوز دیکھ لیں

    مغربی عورت کے لیے، آج بھی کسی لڑکے کی گرل فرینڈ بننے سے کہیں زیادہ خوبصورت احساس اسکی بیوی بننے میں ہے

    ایسے ری ایکشنز متعدد ہالی وڈ موویز میں بھی فلمائے جاتے ہیں جو یقیناً اپنی سوسائٹی سے انسپائر ہوکر ڈائریکٹ کیے جاتے ہیں

    افسوس کے ہم مشرق میں اب اس خوبصورت اور باوقار بندھن سے بیزاری کے اظہار کو ماڈرنزم سمجھنے لگیں ہیں

    ہمارے احساس کمتری کے مارے کچھ لوگ جب پہلی بار مغرب کی چکاچوند دیکھتے ہیں تو وہ الٹا اپنے کلچر پر شرمسار ہوکر اسے بوجھ گردانتے ہیں

    حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں…

    @Missfaryalniazi

  • ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ناظرین ہر سال زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک شرح سے بڑھتا ہوا اضافہ دیکھا جا رہا ہے. کرہ ارض پہ انسانی سرگرمیوں بالخصوص کاربن گیسوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے. کاربن اور میتھین گیسیں ماحول میں درجہ حرارت کے بڑھنے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں. کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فیکٹریوں اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھوییں سے پیدا ہوتی ہے جبکہ میتھین گیس کا اخراج انسانی سرگرمیوں اور جانوروں سے بتایا جاتا ہے. ایک سائینسی رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑے جانوروں کی موجودگی بھی میتھین گیس میں اضافے کا سبب بن رہی ہے.
    سائنسدانوں کے مطابق میتھین گیس 9 سال کے عرصے میں زمین کے گرد لپٹے غلاف (کرہ ہوائی) کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے لیکن کاربن ڈایی آکسائیڈ تقریباً ایک صدی جتنا وقت لگاتی ہے کرہ ہوائی سے باہر نکلنے میں، اور وہ اتنے وقت تک کرہ ہوائی کے اندر رہ کر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی رہتی ہے. ان گیسوں کو گرین ہاوس گیسین کہا جاتا ہے یہ گیسین جب اتنے لمبے وقت کرہ ہوائی مین ٹھہر جاتی ہین تو یہ ہماری زمین کے کرہ ہوائی میں ایک ایسا غلاف پیدا کرتی ہین جس سے سورج کی تپش ان سے گزر کر سطح زمین پہ ٹکراتی ہے لیکن وہ اس غلاف سے باہر نہیں نکل پاتی اور نتیجتاً فضا کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے. اور درجہ حرارت کے مسلسل اضافے سے زمین کے ماحول پہ فطرتی نطام کے برعکس اثر پڑنے لگتا ہے، ماحول میں گرمی سے برف پگھلنے لگتی ہے اور دریاؤں میں سیلاب کی سی روانی آ جاتی ہے، گرمی کی تپش خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے. جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے.
    ‎@MudassirAdlaka

  • حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ   تحریر : ایم ابراہیم

    حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ تحریر : ایم ابراہیم

    اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا یہی وجہ تھی کہ دشمنان اسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرویدہ ہوگئے اور آپ کو صادق و امین کے القابات سے پکارنے لگے. بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کی تبلیغ کی. آدابِ گفتگو، لوگوں سے اچھا رویہ، عہد وفا کرنے اور سچ بولنے کی تربیت فرمائی. اور اسی اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو لوگوں نے دعوت حق کو تسلیم کرنا شروع کیا. آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں. حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے”.
    لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں حسن اخلاق کا بحران نظر آتا ہے. ہم اپنی اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو بھول گئے. ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، جھوٹ، وعدہ خلافی، گالم گلوچ اور بہتان بازی جیسے عناصر سرایت کر گئے ہیں. نوجوان نسل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے راہ روی کا شکار ہے. خواتین کی عزت و عصمت غیر محفوظ اور بے حیائی کا بازار گرم ہے. ہم نے اپنے خود احتسابی کے بجائے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں گالم گلوچ کا کلچر اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا معمول بن گیا. مذہبی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر پر ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اپنی بات صبر و تحمل اور منطق و دلیل سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے. جمہوریت میں بے شک آپ کو تنقید کا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید برائے اصلاح کریں نا کہ اگر آپ کو کوئی حکومتی پالیسی یا فیصلہ اچھا نہیں لگتا تو گالم گلوچ شروع کر دیں.
    زندگی گزارنا سب کا آئینی و اسلامی حق ہے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی مکتب فکر سے منسلک ہوں. ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا کیا پہنتے ہیں، یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں اور انہوں نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے. بغیر حقائق جانے ہم نے دوسروں کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کرنے شروع کر دئے جو کہ نا صرف ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے. یہ سب چیزیں کبھی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتیں.
    ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی اقدار کو واپس لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اُس عصرِ مصطفیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کیا کرتے تھے. ایک سچا مسلمان، اسلامی ریاست کا زمہ دار شہری اور اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہم پہ فرض ہے کہ ہم حُسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں. منظم، با ادب اور تہذیب و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ہم اخلاق کو اپنانا ہو گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائے ہیں.

  • علماء اور علم کا مقام   تحریر : محمد بلال اسلم ۔

    علماء اور علم کا مقام تحریر : محمد بلال اسلم ۔

    علماء کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہوتا ہے اگر ہمارے معاشرے کے علماء اللہ سے ڈریں اور اپنے علم کے مطابق عمل کریں تو معاشرہ ایک بہترین سمت پر چل سکتا ہے اور اگر علماء اپنے علم سے ہٹ جائیں اور دل کی خواہش کے مطابق عمل شروع کردیں تو یہ ہی علماء معاشرے کو غلط راستے پر لیجانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔حقیقی علماء کا مقام بہت بلند ہے ۔قران ,احادیث اور صحابہ کے اقوال کی روشنی میں علماء کا مقام آپکے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں

    *قرآن کریم کی روشنی میں* ( 1 ) اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا۔۔ترجمہ ۔بے شک ﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔( 2 ) قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۔۔ترجمہ ۔فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں ( مطلب یہ ہے علم رکھنے والے اور علم نا رکھنے والے ہرگز برابر نھیں ہو سکتے
    ( 3)قُلْ اٰمِنُواْ بِهِ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ اِذَا يُتْلٰی عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِـلْاَذْقَانِ سُجَّدًاo ترجمہ ۔فرما دیجئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ، بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔( یعنی کے جنکو علم دیا جاتا ہے وہ آسانی کے ساتھ اللہ تعالی کی کتاب اور احکام کو سمجھ سکتے ہیں

    *احادیث کی روشنی میں*
    ( 1 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وَمَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ. ۔ترجمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔( مسلم شریف )
    ( 2 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، کَانَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَتّٰی يَرْجِعَ.۔ترجمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصولِ علم کے لئے نکلا وہ اس وقت تک ﷲ کی راہ میں ہے جب تک کہ واپس نہیں لوٹ آتا۔ ترمذی

    *صحابہ کے اقوال روشنی میں* ۔عرب کے معروف عالم دین صالح احمد شامی نے ملفوظاتِ صحابہ کرامؓ کا ایک مجموعہ ’’مواعظ الصحابۃؓ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس مجموعے میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے منتخب ملفوظات ترجمہ وتشریح کے ساتھ پیش خدمت ہیں، جن کا براہِ راست تعلق طلباء اور علماء کرام سے ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب نوجوانوں کو طلبِ علم میں مشغول دیکھتے تو خوش ہو کر فرماتے:
    ’’مرحباً بینابیع الحکمۃ، ومصابیح الظلم، خلقان الثیاب، جدد القلوب، حبس البیوت، ریحان کل قبیلۃ۔‘‘’اے حکمت ودانش کے چشمو! جہالت کے اندھیروں میں علم کے روشن چراغو! حصولِ علم کی کوششیں تمہیں مبارک ہوں۔ تمہارا لباس بوسیدہ، لیکن دل تروتازہ رہتا ہے۔ بے مقصد گھومنے پھرنے کے بجائے اپنی اقامت گاہوں تک محدود رہتے ہو، تم ہر قبیلے کے پھول ہو۔۔۔مزید فرماتے ہیں کہ علیکم بالعلم قبل أن یرفع، ورفعہ موت رواتہ، فو الذي نفسي بیدہٖ! لیؤدن رجال قتلوا في سبیل اللّٰہ شھداء أن یبعثھم اللّٰہ علماء لما یرون من کرامتھم، فإن أحدا لم یولد عالما، وإنما العلم بالتعلم۔‘‘
    ’’علم کو اس کے اُٹھ جانے سے قبل ہی حاصل کر لو، اہلِ علم کا فوت ہو جانا ہی علم کا اُٹھ جانا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے شہید ہوجانے والے لوگ جب اپنی آنکھوں سے علماء کی قدرومنزلت کا مشاہدہ کریں گے تو حسرت کریں گے کہ کاش! اللہ تعالیٰ انہیں بھی علماء کی صف میں اُٹھاتا، کوئی شخص بھی عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا اور علم‘ علم حاصل کرنے سے آتا ہے
    مزید فرمایا لا یزال الفقیہ یصلي‘‘ ۔۔۔ ’’فقیہ ہمیشہ نماز میں ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیسے؟ آپ نے فرمایا: ’’ذکر اللّٰہ تعالٰی علٰی قلبہٖ ولسانہٖ‘‘ ۔۔۔’’ اس کا دل اور اس کی زبان ذکرِ الٰہی سے معطر رہتے ہیں۔ ‘

    @BilalAslam_2

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    1* اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
    *صحیح بخاری، ۸*
    2* ‏ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

    ”ہاں ، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔

    *جامع ترمذی، ۹۲۹*
    3* جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔

    *مسند احمد،۸۷۱۷*
    4* اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔

    *جامع ترمذی، ۲۱۶۹*
    5* دو کلمے جو اللہ کومحبوب ہیں،زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں –

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

    *بخاری،٧٥٦٣*
    6* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔

    *سنن ابی داؤد، ۴۸۳۳*
    7* جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔

    *ابوداؤد ،۱۵۳۱*
    8* جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور
    روشن کر دیا جاتا ہے ۔

    *مستدرک حاکم، حدیث 3392*
    9* جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

    *صحیح مسلم،۱۷۳*
    10* جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا

    *صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ١٣٦*

  • اسلام میں عورت کا مقام۔۔  ‏تحریر : انوشہ امتیاز

    اسلام میں عورت کا مقام۔۔ ‏تحریر : انوشہ امتیاز


    الحمدللہ بفضلہ تعالیٰ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی بچیاں ہیں اور ہمارا مذہب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو پوری انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ وہ الہامی مذہب ہے جس نے عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی حثیت سے شرف بخشا ہے۔۔
    ہمارے مذہب سے پہلے عورتوں کو کم تر مخلوق تصور کیا جاتا تھا اور ان کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا اور انکے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک روا رکھا گیا۔۔
    تاریخ شاہد ہے کہ عورتوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ رکھا گیا، ظلم و شقاوت کے پہاڑ ان پہ ڈھائے گئے۔ قبل از اسلام عورت کو پلید اور نجس سمجھنے کے ساتھ ساتھ خاندان بھر کے لیئے رسوائی سمجھا جاتا رہا،اور اگر کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو جاتی تو اس کو زندہ درگور کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔۔ باپ اس کی پیدائش ہے لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا اور ماں لوگوں کے طعنوں اور خاوند کے خوف سے سہمی رہتی۔۔
    صد افسوس کہ اکثر آج بھی بیٹی کی پیدائش پہ سسرال والوں کے منہ لٹک جاتے ہیں اور اگر کسی عورت کے گھر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔
    جبکہ بیٹے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔۔
    حالانکہ اسلام نے تو لڑکی/بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ
    ” جس گھر میں بیٹی نہ ہو وہ گھر خدا کی رحمت و برکت سے خالی ہوتا ہے۔”
    جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اس نے مروجہ نظریات کے بر عکس عورت جو بلند مقام عطا کیا۔ اسلام نے اگر عورت کو مرد کے برابر رتبہ نہ دیا تو وہ مرد سے کم بھی نہیں ۔۔
    اس کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے ، خاندان میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
    عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو جنت اسکے پیروں کے نیچے رکھی گئی ہے،
    اگر شریک حیات ہے تو اسکی رضا اور حق مہر کی نے اس کی برتری پر مہر لگا دی ہے، اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اس جو معاشرتی اور قانونی طور پر تحفظ دیا ہے ۔۔اسلام نے یونان اور مغرب کے ان نظریات کو رد کر دیا ہے جس میں عورت کی حیثیت ایک باندی اور تسکین حاصل کرنے کے ذریعے سے زیادہ نہیں تھی۔۔
    یہ فخر صرف اور صرف مذہب اسلام کو ہے اس نے عورت کو اس کے اصل مقام سے نوازا ہے اور ہمارے سامنے کئی عظیم عورتوں کی زندہ مثالیں ہیں جن میں خاتون جنت فاطمتہ الزہرا ہیں جو خواتین عالم کے لئیے عملی نمونہ ہیں۔ جو بہترین بیٹی، بہترین بیوی ، اور بہترین ماں ہیں ۔۔۔
    ہمارے سامنے حضرت زینب کی روشن مثال ہے ، جنہوں نے یزید جیسے ظالم کے آگے کلمہ حق بلند کیا، باطل کو جھٹلایا اور حق کو زندہ رکھا۔۔
    اسلام میں اگر عورت پیغمبر نہیں ہیں تو پیغمبروں کو جنم دیتی رہی ہیں ، عورتوں کو نسل انسانی کے فروغ کا ذریعہ بنا کے ہمیشہ کے لئیے عزت وتکریم بخش دی گئی۔۔
    انسانی معاشرے کی تکمیل میں عورت کا اہم رول ہے اس لئے تو نپولین نے کہا تھا ،
    تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھا معاشرہ دوں گا ۔۔
    آج ہم عورتوں کو مل کر اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ ہم اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں یا کھوکھلے ماڈرن ازم کا شکار ہیں، اگر ہیں تو کیوں۔۔؟؟
    سلامت رہے تو سے مادر پاکباز
    تیرا عزم محکم ترا سوز و ساز
    تو ہی مشکلوں میں رہی کارساز
    بجا تم پہ ہے اہل ملت کو ناز۔۔۔

    Twitter account
    @e_m_ee_