Baaghi TV

Category: اسلام

  • ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
    ‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
    ‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

    @FLSARM

  • عید قرباں اور ہم  تحریر : احسن وقار خان

    عید قرباں اور ہم تحریر : احسن وقار خان

    کبھی سوچا ہے عید قرباں کیا ہے؟
    اس کو عید قرباں کیوں کہتے ہیں ؟
    کیا صرف جانور قربان کرنا ہی عید قرباں کا مقصد ہے ؟
    عید قربان صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں ۔عید قرباں کا مقصد تقویٰ اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے ۔

    عید قربان صرف جانور قربان کرنا نہیں بلکہ خدا کی راہ میں استقامت دیکھانا ہے
    اللہ کو نا قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نا ان کا خون ۔ کچھ پہنچتا ہے تو وہ تقوی پہنچتا ہے اور خدا صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے ۔
    سوچنے کی بات ہے کے ہم قربانی تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم سمجھتے ہیں کے عید قرباں کیا ہے ؟
    ہم بڑے بڑے جانور قربان تو ضرور کرتے ہیں لیکن کی کبھی کسی نے سوچا ہے کے ہم قربانی کا اصل مقصد پورا کر رہے ہیں یا نہیں ۔
    کہیں ایسا تو نہیں کے ہم کہیں ہم ریاکاری میں ا کر اپنا قربانی کا مقصد کھو تو نہیں دیتے ۔
    کہیں اتنا پیسہ خرچ کر کے بھی ریاکاری ہی وجہ سے ہماری نیکی کا اثر زایل تو نہیں ہو رہا ۔

    قربانی صرف جانور کی قربانی نہیں یہ ہر اس چیز کی قربانی ہے جو آپ کو خدا سے دور کر رہی ہے ۔قربانی سے مراد ہماری آنا کی قربانی ہے ۔
    ہمارے اندر چھپی نفرتوں کی قربانی ہے ۔
    ہماری نفسیاتی خواہشات کی قربانی ہے ۔
    اس عید قرباں کچھ کر سکتے ہیں تو اپنی آنا
    اپنے دلوں میں پوشیدہ نفرتیں اور اپنی نفسیاتی خواہشات قربان کر کے دیکھیں سکون ملے گا ۔
    کوشش کریں کے سب کام خدا کی رضا کے لیے کریں ۔
    ریاکاری ، نفرتیں اپنی میں کو ختم کریں

    آئیے قربان کریں اپنی ذات کے ایک بت کو اِس سال صرف اس رب کے لیے جس نے قربان کرنے کا حکم دیا کیوں کہ ہماری اپنی ذات کا خول ہی ہمارے لیے سب سے عزیز ترین ہوتا ہے اور اسی خول کو توڑنا ہی دَر حقیقت ایک عبادت ہے ۔
    معاف کریں ، اپنے دلوں کو صاف کریں ، اپنے اور اپنوں کے لیے زندگیوں میں گنجائش پیدا کریں ، خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

    Twitter account
    KhanKh23151672

  • اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے   تحریر: میمونہ سحر

    اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے تحریر: میمونہ سحر

    پچھلی قوموں کے واقعات پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم پر عذاب برے فعل کی وجہ سے آیا ، کسی پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ، کسی پر رب کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے ۔ کسی ایک برے کام کی وجہ سے پوری کی پوری قوم تباہ و برباد ہوجاتی تھی

    آج ہماری امت ، امت مسلمہ کس برائی میں ملوث نہیں ؟
    "قوم لوط کا عمل ہم میں موجود ہے”
    "قوم شعیب کی ناپ تول میں کمی والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم نوح کی اللہ کے احکامات کو نہ ماننے والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم موسیٰ کی ناشکری والی عادت ہم میں پائی جاتی ہے ”
    "قوم عیسی علیہ السلام والی بنا تحقیق کے دوسروں پر الزامات لگانے والی عادت ہم میں موجود ہے”

    کوئی ایسی برائی نہیں جو ہم نہ پائی جاتی ہو ۔ لیکن اس کے باوجود ہم ابھی تک تباہ کیوں نہیں ہوئے ؟ کیوں یک لخت اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پہ نازل نہیں ہوا

    اس کی وجہ صرف اور صرف میرے پیارے نبی ﷺ کی دعائے مبارکہ ہے جو انہوں نے اپنی امت کیلئے کی

    کہ یارب! میری امت کو ایک ہی دفع عذاب سے تباہ نہ کرنا
    صرف اپنے نبی محمد ﷺ کی دعائے مبارکہ کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں ۔ ورنہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ہم پر تو خدا کا غضب نازل ہوتا

    تو جس نبی کو اتنی فکر تھی ہماری آج ہم انکی سنت پر چلنے سے گریزاں کیوں ہیں ؟
    اللہ ہم سب کو حقیقی معنوں میں امت محمدیہ کا پیروکار بنائے تاکہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں
    آمین

  • عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عید الاضحٰی ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں اور یادیں لے کر آتا ہے۔ اور اس خاص دن کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہ تہوار ایک ایسی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اس خواب میں حکم ملتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اےابراہیم اپنی سب سے زیادہ پیاری چیز میری راہ میں قربان کرو۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کےحکم کے مطابق اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زوجہ حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ اسماعیل علیہ السلام کو تیار کر دیں کسی دوست کے ہاں دعوت پر میں اس کو ساتھ لے جاناچاہتا ہوں۔
    اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دعاؤں کے بعد عمر کے پچھلے حصے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں اولاد عطا فرمائی اور اللہ کے حکم کی تکمیل کیلئےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے گھر سے اس مقام (منی) کی طرف نکلے جہاں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا تھا۔
    منزل کی طرف جاتے ہوئے شیطان نے راستہ روکا اور ورغلانے کی کوشش کی کہ ایک خواب کیلئے تم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھر اٹھا کر شیطان کو مارا اور فرمایا ہٹ جاؤ میرے پاس ایک اسماعیل ہے اگر ہزار بھی ہوتے تواللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔سبحان اللہ
    اپنے تیرہ سالہ بیٹے حضرت اسماعیل کو ساتھ لیااور راستے میں اپنے خواب کا تذکرہ کیا اپنے بیٹے سے اس کی رائے پوچھی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا۔
    ابو ذبح کیا کرناہے جو کرنا ہے کیجیے اور ایسا تو ممکن نہیں کہ گلے پر چھری چلے اور میں تڑپوں نہیں لیکن میں آپ کو صبر بھی کر کے دکھاوں گا۔

    باپ نے بیٹے کو لٹایا اور رسیوں سے بدن جکڑ لیا۔ ہاتھ میں چھری پکڑ لی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ یہ رسیاں کھول دیجیے مورخ لکھے گا کہ باپ ذبح کرنا چاہتا تھا بیٹا ہونا نہیں چاہتا تھا۔ سبحان اللہ۔
    باپ نے بیٹے کی ریشم جیسی گردن پر چھری رکھ دی اور پورے زور سے دبائی لیکن ایک بال بھی نہ کٹا چھری کو پتھر پر تیز کیا اور واپس گردن پر رکھ کر زور سے دبائی اور گردن کٹ گئی خون بہنے لگا خوش ہو گئے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل کر دی۔بارگاہ رب ذوالجلال میں سرخرو ہو گیا جلدی جلدی آنکھوں سے پٹی اتاری اور دیکھتے ہیں کہ ذبح ہونے والا ان کا گوشہ جگر اسماعیل نہیں بلکہ ایک دنبہ تھا اور حضرت اسماعیل پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔

    اللہ پاک نے چھری کو اپنے حکم سے روک دیا کہ ایک بال بھی نہ کاٹے اور ساتھ ہی دنبہ حضرت اسماعیل کی جگہ رکھ دیا اور پچھلوں کیلئے سنت کر دیا۔
    عید الضحی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جو ہر سال ذوالحج کے مہینے میں تازہ کی جاتی ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور کئی ایسی عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔
    آمین۔
    شکریہ۔


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے  تحریر: یاسمین راشد

    گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے تحریر: یاسمین راشد

    • اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے پاکستانیو جس طرح ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کی جاتی ہے آج اس پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں میرے بھائیو اور بہنو سوشل میڈیا پر مجھے اگست میں ایک سال مکمل ہو جائے گا میں نے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھا بہت سے لوگوں سے میری دعا سلام ہوئی اس معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ویسے ہی سب انسان برابر نہیں ہوتے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اللہ پاک نے الحمدللہ ایمان جیسی نعمت سے ہم کو نوازا ہم اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ابھی میں بات کرتی ہوں ایسے لوگوں کی جس میں میل اور فیمیل بھی شامل ہیں اسلام میں گالیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اسلام بالکل اجازت نہیں دیتا کسی کو گالیاں دینے کی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات سوشل میڈیا پر بے ہودہ گالیاں بکتے ہیں ان میں مرد بھی شامل ہے اور عورتیں بھی شامل ہیں ایسی گالیاں دیتے ہیں کے پڑھنے والے کو بھی شرم آتی ہے ہم جن سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کی خاطر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایسی بیہودہ گالیاں ہوتی ہیں نہ کسی کی ماں کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بہن کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بیوی کا احترام ہوتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں میرے بھائیو میری بہنوں کچھ اللہ کا خوف کرو جن سیاستدانوں کے لئے آپ گالیاں دیتے ہو میں گرنٹی سے کہتی ہوں آج آپ لوگ ان کے پاس چلے جائیں آپ لوگوں کو سلام بھی نہیں کریں گے تو پھر ایک دوسرے کو گالیاں دے کے کیوں اپنے لئے بہت دردناک عذاب تیار کرتے ہو آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہوتا جس کو گالیاں دیتے ہو کیا پتا اس کی ماں زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بہن زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بیوی زندہ نہ ہو تو سوچو جو انسان اس دنیا میں نہیں ہے ان کو آپ گالیاں دے رہے ہو تو کتنا بڑا گناہ ہوگا قرآن مجید میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں کو اور ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں غستاخی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108) میرے بھائیو بہنوں سوچو جب اللہ پاک نے قرآن مجید میں نے منع کر دیا گالی دینے سے پھر اپنی جانوں کے ساتھ کیوں ظلم کرتے ہو ایک اور حدیث میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے یہی چار نشانیاں آج منافق لوگوں میں پائی جاتی ہے جب ان کے ساتھ دلیل سے بات کرو تو وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں گالی دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں کسی کی خاطر کسی کو گالی نہ دو آپ لوگ اپنے سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہو ان کو سپورٹ کریں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں دلیل کے ساتھ بات کریں اگر دوسرا دلیل کے ساتھ آپ سے بات نہیں کرتا تو سوشل میڈیا نے ہم کو بہت سی آسانیاں فراہم کی اگر آپ کو کوئی ہراسمنٹ کر رہا ہے تو سائبر کرائم کو رپورٹ کریں اگر سائبر کرائم کو رپورٹ بھی نہیں کرتے تو آپ کے پاس بلاک کرنے کا آپشن موجود ہے ایسے لوگوں کو سیدھا بلاک کردیں گالی کا جواب گالی دینا ایک مسلمان کا کام نہیں ہمیں تعلیمات محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئےاور گالی گلوچ سے بچنا چاہیئے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    • @IamYasminArshad

  • وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    اے شیخ کیا ڈھونڈے ہےشب قدر کا نِشاں
    ہر شب ہے شب قدر ،اگر تو ہو قدرداں!
    زندگی کا ہر لمحہ وقت ہے ۔ایک لمحہ اس وقت قیمتی ہوتاہے جب اسے قمیتی سمجھا جائے لیکن اگر اسکی قدر نہ کی جائے تو سال مہینے بھی بےکار اور بے معنی ہوجاتےہیں
    لوگ وقت کی قدروقیمت نہیں پہچانتے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصل دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا اس نے سب کچھ ضائع کر دیا ۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا دریا ہے ۔اسکا بہاؤ تیز اور زبر دست ہے ۔ یہ زد میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے ۔ یہ ایسا تیز رفتار گھوڑا ہے جسے روکا جاسکتا ہے اور نہ واپس لایا جا سکتا ہے.
    کسی کام کو تعین وقت پر انجام دینا’ پابندی وقت’ کہلاتا ہے ۔وقت کی پابندی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں ۔جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ناکام و نامراد رہتی ہیں ۔
    اگر کائنات کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ کیسے کائنات کا نظام بھی وقت کی پابندی میں جکڑا ہوا ہے ۔
    کائنات کے اس منظم نظام میں انسان کے لئے یہ سبق پو شیدہ ہے کہ وقت کی قدر کرے اور خود کو نظام کائنات سے ہم آہنگ کر کے فطرت کے مقاصد کی تکمیل کرے۔
    تاریخ ،وقت کا نا قابل تردید ریکارڈ ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں سر بلند قوموں نے کن اصولوں پر عمل کیا ۔دیگر ا صولوں سے قطع نظر وقت کی پابندی ترقی یا فتہ قوموں کی عظمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قوموں نے وقت کو اپنی جانوں سے بھی عزیز رکھا۔اُن کے اس طرز عمل کا نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا پر حکومت کرنے لگیں ۔
    وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ جو اسکی قدر کرتا هے ۔یہ اُسے فتح و کامرانی عطا کرتا ہے اور جو سرسری لیتا ہے،اُسے ناکامی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے ۔ جو شخص وقت کا دامن تھام لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے ،وہ ناکام و نامراد ہو جاتا ہے ۔
    یوں وقت کی پابندی تمام تر افراد پر لازم ہے لیکن
    طلبہ کو بطور خاص اس کی قدر کرنی چاہیے ۔طلباء قوم کا قمیتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔قوم کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم سب پر ضروری ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا ایک ایک لمحہ درست طریقے سے بسر کریں

    @M_Ashraf26

  • ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    وہ شخصیت جسے ہم محسن پاکستان کہتے ہیں اس کا نام ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    جی ہاں یہ وہ آدمی تھا جس نے ہالینڈ کی امریکی ڈالروں والی نوکری چھوڑی اور پاکستان میں کم پیسوں والی نوکری کی تاکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جا سکے جب ڈاکٹر صاحب پاکستان آنے لگے تو انھیں کچھ نقشے اور ایٹمی سینٹری فیوجز کی معلومات تصاویر درکار تھیں اس کو حاصل کر نے کے لئے ہالینڈ سے وہ معلومات اکٹھی کرنا بے حد ضروری تھا اس زمانے میں ہالینڈ جسے نیدرلینڈ بھی کہا جاتا ہے وہاں ایٹمی معلومات موجود تھیں اب باری تھی کہ ان کو حاصل کیسے کیا جائے اس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے زمے کام لگایا وہ وہیں کی شہریت رکھتی تھیں انھوں نے بغیر کسی انکار کے وہ سب معلومات حاصل کیں اور جب ہالینڈ سے پاکستان جانے کا وقت آیا تو ڈاکٹر صاحب نے اہلیہ سے پوچھا کیا تم میرے ساتھ چلو گی یا یہیں رہو گی ان کی اہلیہ نے کہا نہیں میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اب مرحلہ آتا ہے کہ یہ معلومات رکھی کہاں جائیں اس کے لئے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے وہ معلومات بجائے سوٹ کیس یا بیگ میں رکھنے کے خاص جگاہوں پر چھپائیں جہاں کوئی نا محرم چیکنگ نہیں کرسکتا تھا اس زمانے میں اتنی ٹیکنالوجی نہیں آئی تھی کہ اتنی گہرائی میں اسکیننگ ہوسکے اس کے بعد ان کی اہلیہ نے وہ معلومات رکھیں اور دونوں پاکستان روانہ ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب تک جہاز پاکستانی سر زمین پر لینڈ نہیں کر گیا سارے راستے ٹینشن میں رہے کچھ معلومات یہ بھی آئیں تھیں کہ ہالینڈ کی حکومت کو علم ہو چکا تھا کہ کچھ معلومات یہاں سے حاصل کی گئیں ہیں لیکن جب تک دونوں پاکستان بخیریت پہنچ چکے تھے یہ ہے ان دونوں کا احسان ہمارے اوپر

    اب مرحلہ آیا کہ پاکستان میں سینٹری فیوجز اور ایٹمی معاملے سے متعلق چیزیں کس طرح پاکستان امپورٹ کی جائیں کیونکہ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا اس کے لئے اس وقت کے مشہور تاجر سیٹھ عابد کو ایپروچ کیا گیا جن کا تعلق بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں سے بزنس تھا
    سیٹھ عابد سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود ملے اور یہ معاملہ پھر باقاعدہ ریاستی اور حکومتی ہو چکا تھا ڈاکٹر صاحب نے سیٹھ عابد سے کہا کہ مجھے کچھ مال چاہیے کیا آپ منگوا سکیں گے جس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ حکم کریں پاکستان کے لئے جان بھی حاضر جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز چاہیے اب یہ آپ کیسے لائیں گے منگوائیں گے مجھے پریشانی ہے اس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ پریشان نا ہوں بس یہ حکم کریں کہ کیا چیز کس وقت اور کہاں چاہیے پہنچ جائے گی اور پھر کچھ مال اسکریپ کے زریعے کراچی امپورٹ ہؤا اور وہاں اس کو جان بوجھ کر اسکریپ میں ہی پڑا رہنے دیا گیا تاکہ اس وقت کی بین الاقوامی طاقتوں خاص کر امریکہ کو علم نا ہو اسی طرح آہستہ آہستہ یہ سب معاملات حل ہوتے چلے گئے ایٹمی سرنگیں تو کافی پہلے ہی کھودنا شروع کی چکی تھیں لیکن امریکہ ہمیشہ جاسوسی کرنے میں لگا رہتا تھا اور اسے شک بھی ہؤا تھا جس پر مختلف دور حکومت میں ایسے کمال کے اور گھما پھرا دینے والے بیانات آئے کہ امریکہ کو بہت دیر سے جا کے علم ہؤا کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار پر کام مکل کرلیا ہے بس اب تو صرف ٹیسٹ کرنے کی دیر ہے ایک دور میں امریکہ کو شک ہؤا لیکن پاکستان نے بڑی ہی خوبصورت لہجے میں یہ کہا کہ جناب ہمارے پاس ایٹمی طاقت کہاں ہے ہم تو غریب سے ملک کے لوگ ہیں لیکن جب ﷲ کومنظور ہوتا ہے تو سب کچھ ہو جاتا ہے اور پاکستان ایٹمی طاقت کی صلاحیت سے ہمکنار ہؤا

    یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر اس پر لکھا جائے تو کتابوں کے اوراق ہاتھ اور قلم سب ختم ہو جائیں مگر اس سے متعلق باتیں ختم نا ہوں
    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے آمین پاکستان آج ایٹمی طاقت ہے اور اس نے یہ ہتھیار کم سے کم ڈیٹرینس کے لئے بنا کررکھے ہیں ورنہ یقین کریں آج اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوتا (ﷲ نا کرے)
    تو صورتحال بلکل مختلف ہوتی جس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے

    آخری اور اہم نوٹ
    اس کالم میں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو مجھے اپنے آباؤ اجداد سے ملی ہیں اگر کوئی اعتراض کرنا چاہے تو بلکل کرسکتا ہے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو میں نے سنا ہو وہ من و عن درست ہو

    اسی کے ساتھ یہ کالم اب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

    @M1Pak Twitter id

  • مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت  تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم المرتبت قائد، جنگ آزادی کے سپہ سالار، ، صاحب طرز انشاء پرداز، مقرر بے باک، قلم و قرطاس کے بادشاہ اور ایک عہد آفریں انسان تھے ۸ ذی الحجہ ۱۳۰۵ ھ (17 اگست 1888ع ) کو مکۃ المکرمہ (زادہ اللہ شرفا و عظمۃ ) میں پیدا ہوئے، والد کا نام خیر الدین تھا جو ایک جید عالم اور صوفی باعمل تھے، کلکتہ میں نشو نما پائ اور تعلیم کا مکمل سفر گھر پر ہی طے کیا۔
    مولانا ابوالکلام آزاد مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے علوم و فنون پر گہری نظر تھی، اسی کے ساتھ ساتھ مقرر بے باک اور خطابت کے اعلی معیار پر فائز تھے۔
    آپ نے زبان و قلم کے جادو سے ہزاروں، لاکھوں سینوں میں آزادی وطن کی آگ لگادی تھی۔
    آپ کے اخبار ،،الہلال،، نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کا بگل بجادیا تھا ،1915 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا تھا اس کے بعد بھی لیلائے آزادی کے حصول میں بار بار قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، تقریباً سولہ سال جیل کی سلاخوں میں رہے۔
    ابتداہی سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے، اجلاس عام لاہور میں 1921ع اور اجلاس عام کراچی 1931ع کے صدر رہے ۔
    آزادی سے پہلے سات سال کانگریس کے صدر رہے ل، آزادی کی مشہور تحریک” کوئٹ انڈیا” 1942 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں چلائ گئ، آزادی کے بعد کانگریس وزارت میں وزیر تعلیم رہے ۔
    آپ کی علمی، ادبی، سیاسی و صفاحتی خدمات پر اس قدر لکھا گیا کہ صرف ان کا اشاریہ تیار کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے 22/فروری/1985 کو یہ آفتاب علم و سیاست غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • اسلامی معاشیات کا فروغ  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی معاشیات کا فروغ تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی طرز معاشرت کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر حلال کی کمائی میسر ہو ، تو کوئی شخص اس کے ساتھ انتہائی پاکیزہ زندگی گزار سکتا ہے۔ پاکستان میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اہم جدوجہد جاری ہے۔ اگرچہ بہت ساری رائے ہیں کہ یہ اقدامات مکمل طور پر ناکافی ہیں۔ لیکن کچھ نہ رکھنے سے کچھ حاصل کرنا بہتر ہے۔

    اسلامی بینکوں کا آغاز 2002 میں ہوا تھا اور آج بینکنگ میں 12 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ ریاست پاکستان 1973 کے آئین (آرٹیکل 38) کے مطابق سود ختم کرنے کے حق میں تھی۔ لیکن آج تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس کے لئے عملی کام 1980 کی دہائی میں کیا گیا تھا۔ بعد میں ، اسلامی بینک 2002 میں معرض وجود میں آئے ، جس نے باقاعدہ کام شروع کیا اور اب یہ کام مسلسل بڑھ رہا ہے۔
    جب سے اسٹیٹ بینک نے اپنے اسٹریٹجک پلان کی نقاب کشائی کی ہے تب سے پاکستان میں حقیقی اسلامی بینکاری پر یقین بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس کا سہرا اسلامی یونیورسٹیوں ، اسلامی اداروں ، اسلامی بینکروں اور اسلامی تحریکوں کو جاتا ہے۔ منصوبے کے مطابق ، اسلامی بینکوں کی شرکت کے لئے ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے گا اور اس پر کام کرنے کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ اب تک بینک زیادہ تر مرابہ پر کام کر رہے تھے۔ یہ ایک طرح کی خرید و فروخت ہے جس میں بینک منافع کماتا ہے جبکہ بینک تجارتی نوعیت کا کم اور مالی نوعیت کا زیادہ ہوتا ہے۔ اسے تجارتی طریقوں کے استعمال کو کم کرنا چاہئے اور مزید مالی طریقوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ اگرچہ علمائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ لیکن بہت سے اسلامی مالیاتی اداروں اور اسکالرز نے مرابہ کے بینکنگ میں استعمال پر اعتراض کیا۔ اسٹیٹ بینک نے اس مسئلے کو حل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بہت بڑی پیشرفت کی ہے۔ شراکت کے طریقوں (مداربہ اور مشارکا) کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے شقوں اور طریقہ کار کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ مشہور ہے کہ پاکستان کے مرکزی بینک کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری میں انقلاب لانا چاہتا ہے۔ اگرچہ عملی طور پر اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے تاہم آغاز خوش آئند ہے۔
    پاکستانی فیصلہ سازوں کے اس اسٹریٹجک منصوبے کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ اسلامی بینکاری کی ستمبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق ، مضاربہ کا تناسب تقریبا 25٪ سے کم ہوکر 17٪ ہوچکا ہے۔ لیز اور اخراج بھی بالترتیب آٹھ اور سات فیصد ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی مالیات کی تمام اقسام پاکستان میں موثر ہیں۔ اس کے علاوہ ، مضاربہ کی تعداد بھی کم ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی معاشی طریقوں کے نفاذ میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ شراکت اور غالب (بتدریج) پارٹنرشپ کو نفع و نقصان میں حص کی ضرورت ہے ، جو اسلامی مالی عمل کا ایک بنیادی اصول ہے ، لہذا پاکستان نے یہ مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اسلامی بینکاری پر یہ اعتراض آہستہ آہستہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی بینک اپنے فرائض کی انجام دہی میں پیشہ ورانہ ہونے کے ساتھ اسلامی اصولوں کو اپنارہے ہیں۔ جس سے کہ منافع بہتر ہوتا ہے ، اسی طرح اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت اور قابلیت کا امتزاج ہے جہاں سے ایک اسلامی معاشرہ فلاح و خوشحالی کے دینی اور دنیاوی تصور پر عمل کرکے حتمی نجات حاصل کرتا ہے۔
    پوری دنیا میں ، جہاں اسلامی مالیاتی ادارے ، بینکوں اور انشورنس کمپنیاں ڈھائی کھرب سے زیادہ کا کاروبار کررہی ہیں ، اس میں تخمینہ لگا کر بڑھایا جاسکتا ہے۔ تاہم ، اسلامی اصولوں اور اداروں کے محض وجود کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایسی صورتحال میں ، اسلامی بینکاری دنیا میں ایک نئی قسم کے کاروبار کے طور پر ابھر رہی ہے۔ لوگ حلال کے لفظ کے نئے پہلوؤں سے بھی واقف ہو رہے ہیں۔ اسلامی بینک دنیا کے تمام بڑے ممالک میں کام کرتے ہیں۔ یہ شعبہ بھی 15 سے 20 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
    معاشرے سے زیادہ معاشرے اور قانون پر اسلام کی توجہ ہے۔ مسلمانوں نے کرنسی پر بہت کم توجہ دی۔ پہلا اسلامی سکہ اموی سلطان عبد الملک بن مروان نے جاری کیا۔ یعنی دولت اسلامیہ مدینہ کے قیام کے تقریبا 75 سال بعد۔، اس قدر تاخیر کی قانونی اور عملی وجوہات ہوں گی۔ اسلام ایک عملی مذہب بھی ہے ، لہذا وہ عملی حقائق کی روشنی میں مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے۔ دیر سے سکے جاری کرنا کیوں ضروری تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن مجید میں سکے جاری کرنے کے احکامات ہوتے۔ لیکن اس سے پہلے ہی سماجی اور سیاسی قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ جب دولت اسلامیہ قائم ہوئی اور ایک بہت بڑا علاقہ محکوم ہوگیا تو اسلامی سکے کو جاری کیا گیا۔ پاکستان میں کوئی بھی جماعت اسلامی سیاست کی بنیاد پر وفاقی حکومت تشکیل نہیں دے سکی ہے۔ معاشرتی طور پر ذاتوں ، قبائل اور بڑے خاندانوں کا اثر و رسوخ کہیں زیادہ اہم ہے۔ مسجد کا عملی کردار بہت ہی محدود ہے۔ ایسی صورتحال میں ، صرف اسلامی بینکاری اور اسلامی معیشت کے لئے 100٪ اسلام کی پیروی کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ خاص طور پر جب عدالتی قوانین اسلام کی خصوصیت نہیں رکھتے اور ملزموں کو عدالت میں لانا اور انھیں سزا سنانا بہت مشکل ہوگیا ہے ، لہذا مالی مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ لہذا ، اسلامی مالیاتی نظام کی پیروی اور اس پر عمل درآمد ناممکن ہے۔

    پاکستان میں 22 اسلامی مالیاتی ادارے اور بینک کام کر رہے ہیں۔ مالیاتی ادارے تکافل (انشورنس) کمپنیاں ہیں۔

    1980 کی دہائی میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسلامی مالیاتی ادارہ تھا ، لیکن اب یہ نویں نمبر پر سکڑ گیا ہے۔ 2013 میں ، ایران ، ملائشیا اور سعودی عرب بالترتیب پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے اسلامی بینکوں کو ان کی مارکیٹ میں کہیں زیادہ عملی مشکلات درپیش ہیں۔ پاکستان بہت سی جنگوں کا میدان جنگ بن گیا یا اس کے قریب ہی ایک انتہائی شدید عالمی سیاسی محاذ آرائی ہوئی۔ جس کی وجہ سے پاکستان ترقیاتی عمل میں بہت پیچھے رہا۔ اس کا لازمی اثر مالیاتی شعبے پر پڑا۔ ظاہر ہے ، جب مالی ترقی متاثر ہوتی ہے ، تو اسی طرح اسلامی مالیاتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان نے اسلامی مالیات کے کچھ شعبوں میں ترقی ضرور کی۔
    اسلامی بینکوں کے آگے بڑھنے کے بہت سارے مواقع موجود ہیں کیونکہ فیلڈ خالی ہے۔ لیکن دوسرے اسلامی ممالک نے بہت طویل سفر طے کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اسلامی بینکاری 20٪ اور ملائشیا میں 30٪ ہے۔ لہذا ، ہمارے اسلامی بینکوں کو بھی اس میدان میں ترقی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لیکن یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اسلامی سیاسی اور سماجی تنظیمیں ، مساجد اور مدارس باقاعدگی سے اس کے لئے مہم نہیں چلاتے ہیں۔ اس طرح کا تاثر ہے کہ اسلامی بینکوں کے نام پر اسلامی ہیں۔ ہمیں اس تاثر کو دور کرنے کے لئے مداربہ اور مشارکا پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ پیسے ڈوبنے کی صورت میں ، پاکستان کا عدالتی نظام کارگر نہیں ہوگا۔ ایسے معاملات میں ، شراکت میں کام کرنے کے لئے خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد اسلامی بینکوں کی مصنوعات موجود ہیں۔

    اگر پاکستان میں اسلامی مالی عدالتیں الگ سے شروع کی جائیں تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، مالیاتی معاملات کا فیصلہ مالیاتی جج کے ذریعہ خالص اسلامی بنیادوں پر کیا جائے گا اور پاکستان اس میدان میں سبقت لے گا۔

  • قربانی کی روح   تحریر ؛صالح ساحل

    قربانی کی روح تحریر ؛صالح ساحل

    ہمارے ہاں قربانی کا موقعہ جب بھی آتا ہے یہ بحثیں جنم لیتی ہیں کے جانور ذبح کرنے کے بجائے فلاحی کاموں پر پیسے لگا دو واٹر کولر لگاوا دو تو ایسے لوگوں کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا کے یہ لوگ قربانی کی اصل روح سے واقف نہیں کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان زندہ تعلق قائم نہیں رہا اس لیے وہ قربانی کو ایک رسم کے طور پر لیتے ہیں حالانکہ یہ خالص بندے اور خدا کے درمیان تعلق کی آخری حد ہے قربانی کی روح بنیادی اپنے رب کے حضور اپنی جان قربان کر دینے کا جذبہ ہے اس جان کے قربانی کے فدیہ کے طور پر ہم جانور ذبح کرتے ہیں اور اس عہد کو دوبارہ سے زندہ کرتے ہیں کے اے ہمارے رب اگر تیری راہ میں جان بھی دینی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹے گے اور یہی وہ قربانی تھی جو ابرہیم علیہ السلام نے دی مجھے حیرت ہوتی ہے کے ہمارے ملک میں جنگ ستمبر کے نام پر جشن منایا جاتا ہے یوم آزادی اور مارچ کی پریڈ پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں وہاں ہم یہ کہتے ہیں اس سے جذبہ پیدا ہوتا وطن کے لیے محبت بڑھتی تو میرا رشتہ میرے رب سے ماں باپ وطن جان سب سے بڑا ہے تو وہاں یہ جذبہ پیدا نہیں ہو گا اس لیے ایسے لوگوں سے التماس ہے کے قربانی صرف ایک رسم نے اپنے رب کے ساتھ زندہ تعلق کا اظہار ہے اور سب کچھ قربان کر دینے کا حتی کہ جان دے دینے کا جذبہ ہے برائے کرام اپنی خیالات پر نظر ثانی کریں
    @painandsmile334