Baaghi TV

Category: اسلام

  • وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سینگ والی وہیل کی ایک قسم ناروہیل کا سینگ اپنے اندر بہت سے ماحولیاتی راز رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی :کسی درخت کے دائروں کی مانند، نار وہیل کے سینگ پر ہر سال ایک دائرہ نموپذیر ہوتا ہے اور اس کے جائزے سے نہ صرف اس کی غذا، عادات اور دیگر عوامل کا پتا ملتا ہے بلکہ اطراف کے ماحول کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

    اس ضمن میں ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی نے دس جانوروں کے سینگ دیکھے ہیں جو شکاریوں کےہاتھوں پہلے ہی مارے جاچکے تھے۔

    وہیل کے سینگوں کی لمبائی 150 سے 240 سینٹی میٹر تھی اور تمام سینگوں کو لمبائی کے لحاظ سے درمیان سے چیرا گیا اور اس کے اندر خدوخال یا دائروں کا جائزہ لیا گیا اس میں ایک جانب پارہ موجود تھا تو دوسری جانب ہردائرے میں کاربن اور نائٹروجن کے اسٹیبل آئسوٹوپس موجود تھے ان سے معلوم ہوا کہ آیا وہیل کھلے سمندر میں تھیں یا برفانی ساحلوں کے قریب ہی کہیں رہ رہی تھیں۔

    سینگوں کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ 1990 سے 2000 تک وہیل کو برف کی کمی کا سامنا تھا اور اس تناظر میں اس نے غذائی عادات بھی تبدیل کی تھیں ان تفصیلات پر ماہرین نے کہا ہے کہ وہیل پر اس انوکھی تحقیق سے ان کی خوراک، بقا اور دیگر عادات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسے ہم سینگ قرار دیتے ہیں وہ نر وہیل کا لمبا دانت ہوتا ہے جو سینگ کی صورت میں چہرے سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • خودی کو کر بلند اتنا   از قلم:  ام شاہد

    خودی کو کر بلند اتنا از قلم: ام شاہد

    خودی کو کر بلند اتنا…
    ✍️از قلم: ام شاہد
    اپنے اخلاق و کردار سے دوسروں کو اتنا متاثر کریں کہ وہ تمہارے نقش قدم پر چلنا باعث فخر سمجھیں محبت کے قابل وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیکی کر کے فراموش کر دیتے ہیں وہ انسان خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے بلند کردار کی وجہ سے دوسروں کے لئے آئیڈیل یا ہیرو بن جاتے ہیــــــــں-

    لوگ جب آپ سے محبت کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف آپ کی شخصیت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس پردہ آپ کا وہ کردار ہوتا ہے
    جو آپ کو چاہے جانے کے قابل بنا دیتا ھے یہ کردار آپکی طبعی موت کے بعد بھی آپ کو زندہ رکھتا ھے لوگ آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے بارے مَیــــں جو رائے قائم کر تے ہیں-

    وہ آپ کے کردار کی عظمت و پستی کی بدولت وجود میں آئی ہیں لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ باوجود اس کے کہ اس جہاں سے گزر جائیں گے-

    مگر اپنی عظمت و کردار کی بدولت ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں
    یا پھر آپ کے کردار کی پستی آپ کو اس حد تک گرا دے کہ آپ موت سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں میں مر جائیں
    یا پھر آپ اپنے کردار کو اتنا بلند کریں کہ آسمان آپ پر فخر کرے
    زمین آپ پر فخر کرے
    زندگی آپ پر فخر کرے
    موت بھی آپ پر فخر کرے
    سب سے بڑھ کر اللّٰــــــہ تعالیٰ آپ پر فخر کرے کیونکہ اللّٰــــــہ رب العزت نے تجھے پسند کیا اور اشراف المخلوقات کا لقب بلند کردار کی وجہ سے عطا فرمایا
    اسی لئے تو شاعر مشرق نے کہا کہ
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے……
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے؟

  • اچھی اور بری صحبت کے اثرات   بقلم: عمران محمدی

    اچھی اور بری صحبت کے اثرات بقلم: عمران محمدی

    اچھی اور بری صحبت کے اثرات

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
    التوبة : 119

    دو اینٹوں کی مثال

    ایک آدمی نے دو اینٹیں لی ایک اینٹ کو مسجد میں لگا دیا..
    اور ایک اینٹ بیت الخلا میں لگا دی
    اینٹیں ایک جیسی
    بنانے والا اک جیسا
    لگانے والا بھی ایک ہی آدمی
    لیکن ایک کی نسبت مسجد سے ہوئی اور ایک کی نسبت بیت الخلا سے
    جس اینٹ کی نسبت بیت الخلا سے ہوئی
    وہاں ہم ننگے پاوں بھی رکھنا پسند نہیں کرتے
    اور جس اینٹ کی نسبت بیت اللہ سے ہوئی
    وہاں ہم اپنی پیشانیاں ٹیکتے پھرتے ہیں
    دونوں کے رتبے میں فرق کیوں ہوا
    قیمت ایک تھی چیز بھی ایک تھی
    ایک ہی طریقے سے دونوں اینٹ ایک انسان نے لگائی بھی
    فرق صرف یہ تھا کہ دونوں کی نسبت الگ الگ تھی
    اپنی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رکھئیں
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رکھیں
    یقینا بہت فرق پڑے گا اللہ والوں کی محفل اور اللہ والوں سے نسبت اللہ تک پہنچا دیتی ہے.

    دوستی، صحبت، مجلس اور تعلقات کے ماحول پر کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں

    مرغے اور گدھے کی صحبت میں فرق

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا»
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ،بَابٌ: خَيْرُ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ،3303)
    جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو ، کیوں کہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیو ںکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے

    اس حدیث سے یہ نکلا کہ نیک لوگوں کی صحبت میں دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ قبول ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔

    سیدنا زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ, فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ
    (ابوداؤد ،كِتَابُ النَّومِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ،5101صحیح)
    ” مرغ کو گالی مت دیا کرو ، اس لیے کہ یہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۔ “

    گھوڑوں اور بکریوں کی صحبت میں فرق

    بکریوں کی طبعیت میں چونکہ نرمی ہوتی ہے اس لیے بکریوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت نرم ہوتی ہے اور اونٹوں اور گھوڑوں کی طبیعت میں چونکہ نخرا، سختی اور شیخی ہوتی ہے اس لئے ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں بھی فخر اور تکبر پیدا ہوتا ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «رَأْسُ الكُفْرِ نَحْوَ المَشْرِقِ، وَالفَخْرُ وَالخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الخَيْلِ وَالإِبِلِ، وَالفَدَّادِينَ أَهْلِ الوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الغَنَمِ»
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ،بَابٌ: خَيْرُ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ،3301)
    کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو ( عموماً ) گاوں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے ۔

    درندوں کی کھال کے قالین وغیرہ استعمال کرنے سے منع فرمایا

    حضرت ابوملیح بن اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
    نَہٰی عَنْ جُلُوْدِ السَّبَاعِ ۔
    رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤُدَ وَالنَّسَائِیُّ
    درندوں کی کھال استعمال کرنے سے منع فرمایاہے۔

    وَزَادَ التِّرْمِذِیُّ وَالدَّارِمِیُّ :
    ترمذی اور دارمی نے اس حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیاہے
    اَنْ تُفْتَرَشَ
    (صحیح)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال نیچے بچھانے سے منع فرمایاہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ خونخوار درندوں سے بنی ہوئی اشیاء کی صحبت کا انسان کی طبیعت پر یہ برا اثر پڑتا ہے کہ اس کے اندر بھی درندگی کے اوصاف در آتے ہیں

    مردوں پر ریشم اور سونے کے زیورات حرام قرار دینے میں حکمت

    سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے
    أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
    (ابو داؤد، كِتَابُ اللِّبَاسِ،بَابٌ فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ،4057)
    ریشم لیا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا ‘ پھر فرمایا ” بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ “

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چونکہ نرم اور ملائم ہیں یا نرمی کو لازم ہیں لہذا ان کے استعمال سے مردوں کی طبیعت میں نزاکت، آرام پسندی، کمزوری اور بزدلی پیدا ہو گی-

    جیسا کہ اللہ نے یہی بات عورت کے متعلق زیوارت کے استعمال کی وجہ سے بیان کی ہے
    فرمایا
    أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ
    اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟
    الزخرف : 18

    اصحاب کہف کی چوکیداری کی وجہ سے کتے کا تذکرہ تاقیامت باقی رکھا گیا

    کتا ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لاَ تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيْرُ ]
    [ بخاری، اللباس، باب التصاویر : ۵۹۴۹ ]
    ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویر ہو۔‘‘

    لیکن جب وہی کتا چند نیک افراد کی چوکیداری کے لیے ان کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ نے صحبت صالحین کی وجہ سے ناصرف یہ کہ محل مدح میں اس کا تذکرہ کیا بلکہ تاقیامت اس کی یاد زندہ کردی
    فرمایا
    وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ
    اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔
    الکہف :18

    ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایک جانور کی جان بخشی اور دشمنی کی وجہ سے دوسرے کے قتل کا حکم

    ام شریک رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا :
    [ وَكَانَ يَنْفُخُ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ]
    [ بخاري، الأنبیاء، باب قولہ تعالٰی: « واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا… » : ۳۳۵۹ ]
    ’’یہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکیں مارتی تھی۔‘‘

    محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (۸۳۹۲) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ كَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وَكَانَ الْوَزَغُ يَنْفُخُ فِيْهِ فَنَهَی عَنْ قَتْلِ هٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ هٰذَا ]
    ’’مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔‘‘

    اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
    [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ ]
    [ بخاري : ۳۳۰۶ ] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(چھپکلی کو) قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

    اچھے اور برے دوست کی مثال

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَ نَافِخِ الْكِيْرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُّحْذِيَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً، وَ نَافِخُ الْكِيْرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيْحًا خَبِيْثَةً ]
    [ بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک : ۵۵۳۴، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ ]
    ’’نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔‘‘

    نیک لوگوں کی صحبت کی تمنا کیجئے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ
    اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔
    المائدة : 84

    نیک لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کے ساتھی بننے کی دعا سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یوں تعلیم دی ہے
    فرمایا
    اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
    ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
    الفاتحة : 6
    صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
    ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔
    الفاتحة : 7

    مومن کے علاوہ کسی اور کو اپنا ساتھی نہ بناؤ

    ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :
    لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
    (ترمذی ،ابْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ،​2395)
    مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے

    سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
    التوبة : 119

    ہر آدمی قیامت کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ»
    (بخاري ،بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،6168)
    تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو

    اور ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
    (بخاری ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،6168)
    انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے

    سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
    (ابو داؤد، كِتَابُ اللِّبَاسِ،بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ،4031حسن)
    ” جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا ۔ “

    متقی لوگ قیامت کے دن اپنے دوستوں کی سفارش کریں گے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
    سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔
    الزخرف : 67

    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

    "جب اہل جنت، جنت میں داخل کیے جائیں گے اور وہ وہاں ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جن کے ساتھ وہ دنیا میں خیر کے کاموں پر ہوا کرتے تھے، تو وہ ان کے بارے میں رب العزت سے سوال کریں گے، اور کہیں گے
    "اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہوا کرتے تھے جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ ہم انہیں یہاں نہیں دیکھتے۔؟

    تو اللہ عزوجل و تعالی فرمائیں گے،
    (جاؤ آگ سے انہیں نکال لاؤ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے)

    حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

    مؤمن دوست بنانے میں کثرت سے کام لو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے لیے شفاعت (کرنے کا اختیار) ہوگا۔
    وفادار دوست : وہ ہے جو تمہارے ساتھ جنت تک جائے!

    ابن جوزي رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    اگر تم جنت میں مجھے اپنے درمیان نہ پاؤ تو میرے بارے میں سوال کرنا
    پھر کہنا
    "اے ہمارے رب! تیرا فلاں بندہ ہمیں تیری یاد دلاتا تھا۔
    پھر آپ رحمہ اللہ رو دئیے
    اللہ تعالی وسیع رحمت نازل فرمائے

    جہنمی خواہش کریں گے کہ کاش ہمارا کوئی نیک دوست ہوتا جو ہماری سفارش کرتا اور ہمیں چھڑا لیتا

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا جہنمی لوگ کہیں گے

    وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ
    اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔
    الشعراء : 99
    فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ
    اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔
    الشعراء : 100
    وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ
    اور نہ کوئی دلی دوست۔
    الشعراء : 101

    یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہو گا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے

    دوست انسان کی پہچان ہوتے ہیں لہذا اچھے لوگوں کو دوست بنائیں

    عدي بن زيد نے کہا ہے

    إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ فَصَاحِبْ خَيَارَهُمْ
    وَلَا تُصَاحِبِ الأَرْدَى فَتَرْدَى مَعَ الرَّدِي

    عَنِ المَرءِ لاَ تَسْأَلْ وَاسئَلْ عَنْ قَرِينِهِ
    فَكُلّ قَرِينٍ بالمُقَارِنِ يَقْتَدِي

    جب تولوگوں کے درمیان ہو تو ان میں بہترشخص کو اپنا ساتھی بنا،اور یاد رکھ کہ خراب اوربدمزاج انسان کو اپنا ساتھی اوردوست نہ بنانا،چونکہ اس سے دوستی تیری خرابی کا باعث بنے گی۔
    آدمی کے بارے میں معلومات نہ لے بلکہ اس کے دوست یا ساتھی کے بارے میں معلومات لے
    چونکہ ہر دوست اور ساتھی اپنے ہم جولیوں کی اتباع کرتا ہے

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    «اعْتَبِرُوا النَّاسَ بِأَخْدَانِهِمْ»
    [الطبراني ,المعجم الكبير للطبراني8919 ,9/187]
    لوگوں کو ان کے دوستوں سے پہچانو

    آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

    آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُّخَالِلُ ]
    [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یؤمر أن یجالس : ۴۸۳۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و حسنہ الألباني ]
    ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔‘‘

    مربہ اور سرکہ کی مثال

    کچھ گاجریں خریدیں ان میں سے آدھی پانی اور چینی میں ڈال دیں اور آدھی پانی اور نمک میں ڈال دیں

    کچھ دنوں کے بعد آپ دیکھیں گے گے کہ پہلے والی مربہ اوربعدوالی سرکہ بن چکی ہیں

    گاجر وہی ہے لیکن ماحول تبدیل ہوا ہے
    پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ نیک بنیں تو نیک لوگوں کے ساتھ رہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ برے بنیں نے تو برے لوگوں کے ساتھ رہیں

    یہودی کے بیٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فائدہ دے گئی

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا:
    أَسْلِمْ
    مسلمان ہوجا۔
    اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا
    أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ
    ( کیا مضائقہ ہے )
    ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔
    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ
    شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا
    بخاری 1356

    پیغمبر کا بیٹا اور بیوی ہونے کے باوجود بری صحبت لے ڈوبی

    نوح علیہ السلام کے بیٹے اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے اعزاز سے نوازا تھا
    اور کو پیغمبر کا بیٹا بنایا تو دوسری کو پیغمبر کی بیوی بنایا
    مگر افسوس کہ دونوں کے تعلقات اور مراسم برے لوگوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں دھتکار دیئے گئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو برے دوست جہنم لے گئے

    صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ چچا! آپ ایک کلمہ «لا إله إلا الله» ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں ) کہہ دیجئیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ مغیرہ نے کہا ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے۔ ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا

    مامون الرشید کو خلق قرآن پر قائل کرنے والا اس کا ایک دوست ہی تھا

    یہ فتنہ برپا کرنے والا شخص قاضی احمد بن ابودائود تھا۔ یہ بڑا عالم فاضل اور فصیح و بلیغ آدمی تھا معتزلی عقیدہ کا مالک تھا۔ خلیفہ مامون کے بہت قریب تھا۔ اپنی قابلیت کی وجہ سے مامون کے دماغ پر چھا گیا اور اسکو قرآن کے مخلوق ہونے کے عقیدہ کی ترویج و اشاعت پر آمادہ کیا اس نے خلیفہ مامون کو پٹی پڑھائی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس عقیدے کی اشاعت کی جانی چاہیے
    مامون نے روم و ایران اور ہندوستان وغیرہ سے منطق و فلسفہ کی کتابیں جمع کیں اور ان کے ترجمے کراۓ ان کی اشاعت ہوئی جس کی وجہ سے طرح طرح کے شکوک وشبہات عوام میں پیدا ہونے لگے

    شیعہ استاد کی صحبت کا اثر

    "ملک محمد سبحان(صوفی محمد عبداللہ کے دادا) اور ان کے بیٹے قادر بخش فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ ملک قادر بخش کے ایک لڑکے ملک محمد رمضان اور داماد منشی محمد دین نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔
    وہ اس طرح کہ ایک شخص ماسٹر برکت علی سے جو شیعہ تھے، یہ ٹیوشن پڑھا کرتے تھے؛ ان سے متاثر ہو کر یہ بھی شیعہ ہو گئے۔
    ملک قادر بخش نے ان کو بہت سمجھایا، سختی بھی کی، لیکن یی شیعہ ہی رہے۔
    ان دونوں کی اولاد میں سے بھی زیادہ افراد شیعہ ہی۔*

    صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ
    حیات، خدمات، آثار

    اہل بدعت اور گمراہ لوگوں کی اچھی باتوں سے بھی دور ہی رہیں

    خلیفہ مامون کے واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف یہ کہ بدعقیدہ لوگوں کی صحبت سے دور رہنا چاہئے بلکہ ان کی کتب سے بھی بچ کر رہیں

    امام احمد رحمه الله حارث محاسبي جیسے زاہد كى اچھی اچھی خشوع وزهد والى كتابوں سے سختى سے منع كرتے
    اسی طرح محدث كبير إمام ابوزرعة الرازي رحمه الله وغيرهم اور دیگر کہتے جس کیلئے كتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم اور سلف كى كتب میں ہدایت نہیں اسکو ان بدعتيوں کی کتابوں سے کہاں ہدایت مل سکتی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ
    اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
    المائدة : 77

    اہل بدعت، آیاتِ الہی میں کجی کے متلاشی اور ظالم لوگوں کی دوستی سے پرہیز کریں

    فرمایا
    وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
    اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔
    الأنعام : 68

    یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملاً ان کی بے قدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بے جا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔

    اہل بدعت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصاً اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور بدعتیوں کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔

    سورہ نساء میں ہے
    فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ
    تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔ بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو۔
    (النساء، آیت 140)

    برے شخص کی صحبت اس کے مرنے کے بعد بھی ناقابل قبول قرار

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ
    (بخاری ،كِتَابُ الجَنَائِزِ،بَابُ السُّرْعَةِ بِالْجِنَازَةِ،1315)
    کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو

    اپنے آپ کو فاحش قسم کےلوگوں کی بری صحبت سے دور رکھیں

    اپنی عزت، دین، ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کے لئے ہمیں ان تمام دوستوں، سوسائٹیز، مقامات اور اشیاءسے دوری اختیار کرنی چاہئے جو فتنہ وفساد کا باعث بن سکتی ہیں
    جیسے بازار، مخرب اخلاق میگزین اور رسائل، حیا سوز فلمیں، ٹی وی چینلز، انٹر نیٹ کے ویب سائٹس اور عریاں اشتہارات وغیرہ وغیرہ

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’
    الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ
    آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہرشخص کویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے
    ترمذي /2378

    لہذا ایسی مجالس، دوستیاں اور سوسائٹیز ، بالخصوص غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہونے سے اپنے آپ کو بچا کر رکھا جائے جہاں زنا کاری اور بدکاری کو گناہ نہیں سمجھا جاتا

    اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو بری دوستی کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔

    سورہ صافات میں اللہ تعالیٰ نے جنتی لوگوں کی مجالس کا تذکرہ کیا ہے کہ جنتی جنت میں لگی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے دنیا میں گزرے ہوئے حالات و واقعات پوچھیں گے اور سنائیں گے
    ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی؟
    پھر وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے؟
    چنانچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
    پھر وہ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم ! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کر دیتا۔

    اس ساری گفتگو کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان کیا ہے
    فرمایا
    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
    پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
    الصافات : 50
    قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ
    ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بے شک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔
    الصافات : 51
    يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ
    وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔
    الصافات : 52
    أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ
    کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں؟
    الصافات : 53
    قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ
    کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟
    الصافات : 54
    فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ
    پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
    الصافات : 55
    قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ
    کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔
    الصافات : 56
    وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
    اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔
    الصافات : 57

    برا دوست عذاب الہی کی ایک شکل ہے

    جب کوئی شخص دنیا کی زیب و زینت میں ہمہ تن مشغول ہو جاتا ہے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے،تو فرشتے اس سے نفرت کرتے ہیں اور شیطان اور غلط دوست اس سے چمٹ جاتے ہیں، جو اسے ہر برائی میں مبتلا کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

    فرمایا
    وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
    اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔
    (الزخرفآیت 36)
    وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ
    اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔
    الزخرف : 37
    حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
    یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔
    الزخرف : 38
    وَلَنْ يَنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
    اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔
    الزخرف : 39

    قیامت کے دن انسان خواہش کرے گاکاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا

    فرمایا
    وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔
    الفرقان : 27
    يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔
    الفرقان : 28
    لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا
    بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔
    الفرقان : 29

    ہر ایسے شخص، مجلس اور ماحول سے دور رہیں جہاں ایمان خطرے میں پڑنے کا امکان ہو

    سیدنا عمران بن حصین ؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ, فَلْيَنْأَ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ, فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْمَلَاحِمِ،بَابُ خُرُوجِ الدَّجَّالِ،4319صحیح)
    ” جو شخص دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے ‘ اللہ کی قسم ! آدمی اس کے پاس آئے گا جب کہ وہ سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے ‘ مگر ان شبہات کی بنا پر جو اس کی طرف سے اٹھائے جائیں گے ‘ اس کی اتباع کر بیٹھے گا ۔ “

  • مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث   بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    ہم میں سے اکثر لوگ پریشان رہتے اور خوشی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں لیکن ہم یہ اہم ترین نکتہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ خوشی کا وجود ہمارے اندر سے پھوٹتا ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اور ہم ہمیشہ اُسے باہر تلاش کرتے رہتے ہیں…

    خوشی اور اطمینان کا بنیادی تعلق یقین،شکر،مثبت سوچ، متوازن اندازِ زندگی اور رضا بالقضا سے ہوتا ہے…

    اس تحریر میں آپ کو چند ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں بتائی جا رہی ہیں جنہیں سفرِ زندگی میں خوش رہنے اور اُداسی و غم اور قلق و اضطراب کے بچنے کے نسخے کہا جا سکتا ہے…!

    ہمیشہ دوسروں کی خوبیوں کو اُجاگر کریں،چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظر انداز کریں…بتدریج اُن کی نشاندہی اور اصلاح کی جانب توجہ دلائیں،کیوں کہ ایک دم کسی کو اُس کی خامیاں ہی خامیاں بتانا اُسے سخت نفسیاتی دباؤ میں لے جا کر چڑچڑا کر سکتا ہے،جبکہ کسی کو اُس کی مثبت خوبیوں اور صلاحیتوں کا یقین دلانا،حوصلہ بڑھانا،گائیڈ لائن دینا اُس کے اندر کی مذید خوبیوں کو اختراع کرنے سامنے لانے اور نکھارنے میں مددگار ہوتے ہیں…وہ بسر و سہولت کے پہلو پر خوشی محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھے گا…کیوں کہ دین اصلًا قلبی اضطراب،بے چینی،ذہنی انتشار اور اجتماعی بے راہ روی سے نجات دلانے کے لیے ہے کیوں کہ یہ ساری چیزیں،اُمید،حوصلہ،تدریج اور نرمی کی متقاضی ہیں…سو اُمید بنیں،مایوسی نہیں…حوصلہ بڑھانے والے ثابت ہوں،گِرانے والے نہیں…!!!

    آزمائش اور رنج و الم دو وجہ سے آتے ہیں…کبھی ہماری اوقات بڑھانے کے لیے…کبھی ہمیں اوقات دکھانے کے لیے…پہلی صورت میں ہمیں ٹیسٹ کرنے کے لیے کہ ہم کتنے مضبوط ہیں…کھرے اور کھوٹےکی پہچان کے لیے…یقین و شک کو جدا جدا کرنے کے لیے…پھر جو اُس امتحان کے معیار پر پورا اترتا ہے و بشر الصبرین¤بشارتوں کے سندیسہ کا حقدار ٹھہرا دیا جاتا ہے…کبھی کبھی جب ہم حد سے باہر پاؤں مارنے لگ جاتے ہیں…بے جا غرور میں کھیلنے لگتے ہیں…گھمنڈ میں مبتلا ہونےلگتے ہیں…زیادہ پھولنے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں تو ہماری حفاظت،ہمیں صحیح راستے پر گامزن رکھنے کے لیے یہ رنج ہی معاون بن جاتے ہیں،ہمیں ہماری اوقات،انسان کی کمزوری اور حقیقت کی پہچان کروا جاتے ہیں…ولا تفرحو بما ما اٰتکم…یہ دو اصول ہمارا نفسیاتی دباؤ کم اور اعصاب کو درست رکھتے ہیں.

    راحت کے بنیادی اسباب میں میں سب سے زیادہ توانائی فراہم کرنے والی چیز قضا و قدر پر ایمان ہے کہ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ تقدیر لکھی جا چکی ہے…میں نے کوشش کرنی ہے باقی میرے رزق،نفع و نقصان،نشیب و فراز،چیزوں کا آنا جانا،غموں کو ٹالنے اور خوشیوں سے نوازنے کا اختیار میرے رب کے ہاتھ میں ہے تو وہ کبھی پریشان نہیں رہ سکتا…واقعات پر افسوس کرتا ہے اور نہ رنجیدہ ہوتا ہے…

    ماضی چلا گیا ہے وہ کبھی لوٹنے کا نہیں،مستقبل ابھی آیا نہیں وہ بہت دُور ہے،ہاں بہت دُور کہ کیا خبر سانس کی آخری ہچکی پہنچ کر یومِ جزا و سزا تک کا فاصلہ پیدا کر دے…ہماری زندگی تو صرف آج ہے…ہم غم و قلق کو اپنے اندر قید کیوں کریں؟نیکی،احسان،شکر و خوشی کا تو ہمارے پاس آج ہی کا دن ہے…اس کی برکات و ثمرات سمیٹ لیں یہی یقینِ مومن ہوا کرتا ہے…!!!

    جب ہم زندگی کا کوئی مقصد بنا لیتے ہیں…چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو…اپنی راہ کی روشنی،نیکیوں میں اضافہ اور دوسروں کی زندگی میں روشنی کی کرن پھیلانے کی ادنٰی سی کوئی کاوش ہی کیوں نہ ہو…تو یہ چیز ہمیں راحت دیتی ہے…

    بندۂ مومن کے دل کو یہ بات اُمید کے باغ و بہار سے ہم آہنگ کر دیتی ہے کہ یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اجر و ثواب ہے،دس گنا سے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک…کسی کا درد بانٹ دیں،بات چیت کا موقع دے کر اُس کے اضطراب و بے چینی کو سمجھیں،کسی کو معاف کر دیں،جہالت پر اندازِ تکریمانہ اختیار کر جائیں،اچھے نام سے پکار دیں،اچھی بات کہہ دیں،اچھی بات اور کام دیکھ کر حسد کی بجائے برکت کی دُعا دے دیں…یہ چیزیں ہمیں حرص،دل کی تنگی سے محفوظ رکھتی ہیں اور اپنےمقصد کو یاد رکھناہمیں متحرک رکھتا ہے.

    ہم لوگ تنہائی اور ملنے ملانے کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار رہتے ہیں…یا مکمل تنہائی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر سوار ہو کر کوئی بھی تعلق نبھانے لگ جاتے ہیں…یعنی کُچھ لوگ اس انتہا تک چلے جاتے ہیں کہ بالکل ہی سب چھوڑ دیتے ہیں خوشی نہ غمی،عیادت نہ مفید اجتماعات میں شرکت…اور کئی ہر وقت ہی اختلاط،محفل،لہو و لعب،ہنسی مذاق،فضول مباحات،قیل و قال یہ دونوں صورتیں ہی نقصان دہ ہیں، ہماری تنہائی کا مقصد غلط معاشرتی اثرات سے محفوظ رہنا،لوگوں کو تکلیف دینےسے بچنا اور مفید سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنا ہو یعنی ولا تعاونو علی الاثم و العدوان…اور ہمارا میل ملاپ کا مقصد حقوق کی ادائیگی،اجتماعی عبادات میں شرکت،اچھے اجتماعی و سماجی کاموں پر تعاونو علی البر والتقوی کی صورت میں ہو یہی اعتدال ہے اور یہی مقصود ہے…!!!

    یہ زندگی بہت سادہ اور آسان بھی ہے لیکن ہم اسے نفس کی تسکین…لوگ کی رضا کے لیے تکلفات کی دلدل میں اُتر کر اِسے مشکل بنا دیتے ہیں…اور ستم یہ کہ اہلِ دنیا راضی پھر بھی نہیں ہوتے…

    ہم جب رب کے احکامات پر عمل اس زندگی کا مقصد بنا لیں تو یہاں ہماری ذات پر ہماری برداشت سے زیادہ بوجھ ہے ہی نہیں…کوئی طعنہ،شرمندگی اور احساسِ کمتری نہیں…قضا و قدر پر یقین ہے…اپنے رزق،پونجی،اور صلاحیتوں پر اطمینان ہے… جو جو بس میں ہے کرتے جانا ہے،ذرا کوتاہی نہیں لیکن جہاں بے بسی یا غیر ضروری بوجھ ہے وہاں کوئی طوق اور بیڑی بھی نہیں…میسر نعمتوں،احسانات اور خیر کا شکر ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ کے عطیات سے مستفید ہو کر انہیں ثمر خیز بنانا ہے لیکن ہم ایسی صلاحیتوں کو عقل و بدن میں خفتہ رکھتے اور پریشان و شکوہ کناں رہتے ہیں…!

    یہ قانونِ فطرت ہے کہ سب لوگ جمال،سیرت،رزق،چستی،ہشیاری اور تعلیم و تعلم میں برابر نہیں ہو سکتے…یہ تفاوت اس کائنات کا حُسن ہے…اگر سبھی لوگ ہر معاملے میں یکساں اور برابر ہوں تو کتنی یکسانیت اور بوریت جنم لے، ایک دوسرے کی قدر کون کرے…؟

    صرف خوب صورتی کی اہمیت ہوتی تو سیرتوں کو صورتوں پر ترجیح کون دیتا؟اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا کہ ہم نے بعض کو بعض سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں،یہ اللّٰہ تعالٰی کی حکمت ہی ہے جس سے کائنات کا یہ نظام بحسن و خوبی چل رہا ہے،برابری میں تو کوئی کسی کے کام کے لیے تیار ہی نہ ہوتا…یہ احتیاجِ انسانی ہی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتی ہے…

    تو ہمیں چاہیے کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے دوسروں کی کمیوں کو اُچھالنے، حوصلےپست کرنے کی بجائے آگے بڑھنے کی جہت دیں…!

    ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرہ ہمیں بدلے گا…ماحول ہمیں متاثر کرے گا…جب کہ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ اور ماحول تشکیل کون دیتا ہے؟سوسائٹی تو انفرادی چیز ہے،اُسے اجتماعیت کا رنگ تو ہم افراد ہی دیتے ہیں…

    لیکن جب ہم نفس کی اصلاح،تزکیہ اور خواہشات کی غلامی سے جان چُھڑانے کی کوشش ہی نہیں کرتے تو آہستہ آہستہ ماحول بھی خراب ہونے لگتا ہے…پھر معاشرہ بدلنے لگتا ہے اور بالآخر ہم بھی اس ماحول کی طلب اور خواہشات کی غلامی کرتے کرتے سٹریس،ڈپریشن اور اینگزائٹی کی وادیوں میں اُتر کر کھوکھلے اجسام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اپنے ہاتھوں ہم وائٹل فورس کا نقصان کرتے ہیں اور پھر شکایتیں لوگوں سے،معاشرے اور ماحول سے کرتے رہ جاتے ہیں…

    بے شک انسان خسارے میں ہے،سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیے…!!!اچھائی اور برائی کی تخلیق کا مقصد انسان کی آزمائش ہے،اگر اچھائی ہی اچھائی کا وجود ہو اور برائی کہیں بھی موجود نہ ہو پھر آزمائش کیسی…؟

    یہ اچھائی یا برائی سوچیں ہیں،نیتیں ہیں،جس طرف دلچسپی بڑھتی جائے گی،ویسے ہی عمل سرزد ہو کر نتائج پر اثر انداز ہوتے چلے جائیں گے…اگر نفس اچھائی کو ریسپانڈ ہی نہیں کرے گا،اُس کی ترجیحات دنیوی سرکل میں ہی گھومتی رہیں گی تو یقینًا وہ تزکیہ کی بھٹی سے گزرنا پسند نہیں کر رہا…برائی اور مفاد ہی اُس کی تسکین بنتی جا رہے ہیں،تو پھل بھی ویسا ہی سامنے آئے گا لیکن اگر مقصد اللّٰہ کی رضا بن رہا ہے تو سارے بند دریچے کھلتے چلے جائیں گے نفس برائی پر مزاحمت کرے گا اور بھلائی کو ریسپانس…تب رب کا سارا سسٹم آہستہ آہستہ اس کی راہ کی رکاوٹیں دور کرتا جاتا ہے،قد افلح من تَزَکّٰی¤

    جو سامنے ہے اُسے دیکھنے،سمجھنے اور ہینڈل کرنے کی کوشش کیجیے…آنے والے واقعات و حالات سے حد سے زیادہ جذباتی وابستگی ہماری توجہ موجود سے ہٹا اور منقسم کر دیتی ہے…پھر انسان اُسی چیز کو سوچتا اور یاد کرتا رہتا ہے جس کے بارے میں یقین سے کُچھ کہا بھی نہیں جا سکتا،ہمیشہ نفس کو اپنا ہمدرد نہ سمجھیں بلکہ حقائق کا مشاہدہ کریں…

    ذہنی سکون کے لیے جو کام گھرکےاندر ہوں اُن کا دباؤ باہر کےکاموں کےدوران اور جو کام باہر کے ہوں،ان کی سوچ گھر میں گزرتے وقت پر مسلط نہ کریں کیوں کہ ایمان داری سے اَدا کیے جانے والے گھر اور باہر کے فرائض پریشان نہیں کر سکتے…لیکن جب جزئیات میں سُقم رہ جائےاور کام دھیان اور یکسوئی سےنہ ہو تو ضمیر میں خلش باقی رہتی ہے…

    اس کا آسان حل حال میں موجود رہنا اور توجہ ہے… ماضی و مستقبل میں نہیں…نفس امارہ انسان کو برائی پر اُکساتا ہے…اگر انسان کسی غلطی یا برائی کا مرتکب ہو جائے تو پھر اُس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو…دو ہی صورتیں ہوتی ہیں کہ یا تو انسان کھلم کھلا یہ بات تسلیم کر لے کہ وہ بُرا ہے،دنیا کے سامنے،دوستوں کے سامنے لیکن یقینًا وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا نفسِ لوامہ ملامت کرنے لگ جاتا ہے…توہین محسوس ہوتی ہے خود کی…تب ایک لمحہ آتا ہے دل کی دنیا میں ہدایت کی طلب کا…لیکن ہدایت صرف منہ سے کہہ دینے سے نہیں آیا کرتی،اس کے لیے تو خلوص درکار ہے…جب وہ پودا اُگ آئے تو پھر ہدایت پر گامزن رہنے کی راہیں بتدریج آسان ہوتی چلی جاتی ہیں…ہدایت کے بعد کوئی آزمائش،تکلیف وبال،مایوسی اور تناؤکا ذریعہ نہیں بنتی کیونکہ نفس مطمئن رہتاہے کہ یہ سب عبث نہیں بلکہ ایک عظیم اجر میں بدلنے والا ہے.

    شہوات،جذبات اور علم تینوں چیزوں میں اعتدال سعادت کی راہ ہے…کیوں کہ انسان کا ہر معاملہ میں معتدل ہونا ہی اُسے سیدھی راہ دکھاتا اور اُس پر سنجیدگی سے گامزن رہنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتا ہے،اگر ایسا نہیں ہو گا تو کشتی ڈانواں ڈول…پھر آدمی شہوات کے بے لگام ہونے سے فسق و فجور کی رخصتیں ڈھونڈتا اور ہلاکت کی طرف بڑھنے لگتا ہے…

    منفی جذبات مثلًا غصہ،حسد،تکبر بڑھے تو انسان سرکشی کی حدیں پار کر جاتا ہے…غصہ میں عقل کا خراج دے کر غلط اقدامات کی طرف بڑھنے لگے گا اور اگر "سب ٹھیک ہے” کہنے والا اور بالکل ہی نرمی اختیار کرنے والا ہو گا تو اہم معاملات میں بھی حمیت سے تہی دست ہو جائے گا،علم میں اعتدال سے ہٹنا شدت پسندی کی طرف مائل کر دے گا…چنانچہ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جہاں نجات ہےفرمایا وکذلک جعلنکم امۃ وَّسَطًا…ہمیشہ دوسروں کی معتدل اور مؤدبانہ حوصلہ افزائی کرتے رہیں…اُن کی خامیوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خوبیوں کو اُجاگر کرتے رہیں اگر چہ وہ آپ کے سخت مخالفین ہی کیوں نہ ہوں،اچھائی کے اعتراف میں بخل نہ کریں یہ چیز لوگوں پر اثر کرتی ہے اور وہ بسا اوقات اپنی غالب صفات کے ساتھ معاشرے کا بہترین فرد بن سکتے ہیں،لوگوں کو قرار واقعی مقام اور حوصلہ دینا تعلیمِ اسلام ہے…

    زندگی کا مزہ دوبالا ہی تب ہوتا ہے جب ہم اپنی تحسین کے ساتھ دوسروں کو بھی خوش دیکھیں اور رکھیں،یہ چوں کہ انسانی نفسیات ہے…سو بہتر آرزوؤں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ محنت پر پانی پھیر کر کردار کی نفی کرتے ہوئے نیچا دکھانے کی کوشش…صرف اپنے آپ کو دیکھنا،نابغۂ روزگار اور نادر العصر بننا اور باقی سب کو قاصروکمتر سمجھنا زندگی کے حُسن کو ماند کر دیتا ہے.

    اپنی ذات پر تنقید کا جواب تنقید کی بجائے ہمیشہ اپنے کردار سے دیجیے…کیوں کہ ناقدین کو ہرانے اور مؤثر انداز میں جواب دینے کا یہی طریقہ سب سے بہترین ہے…جواب میں تنقید کی برسات کرنے سے وہ دس گنا برائی پر آمادہ ہو گا اور ہو سکتا ہے آپ تنقید سے اُسے اپنی کم ظرفی اور غلطی پہ مصر اور اپنا وقار بحال کرنے میں ناکام رہیں اور یہ سلسلہ پھر چل سو چل کی صورت اختیار کر جائے…برداشت کر لینے سے ہی مصائب و معائب دفن ہو جاتے ہیں…

    آپ کا حاسد اُس وقت تھک جائےگا جب اُسےاہمیت ہی نہیں ملے گی…آپ اُس کی منفی باتوں کی پرواہ ہی نہیں کریں گے،اثبات کے فروغ میں جتے رہیں گے اور طرزِ تغافل سے اُسے مات دیں گے…اور حکم بھی یہی ملا…احسن طریقہ سے جواب دو،معاف کر دو،اعراض کرو…فضول گوئی کرنے والے جاہلوں کو سلام کہہ دو…

    یہی بہترین پالیسی ہے،وہ بیماری جوجہدِ مسلسل،عملِ پیہم،مستقل مزاجی،یکسوئی اور عاجزی کی راہ میں اکثر رکاوٹ بنتی ہے وہ عیش و عشرت ہے…تبھی رسول اللّٰہﷺ نے عیش کی زندگی سے بچنےکی تاکید فرمائی ہے… نفس کے نکھار میں بھی یہ چیز رکاوٹ بنتی ہے کیوں کہ اِسے نکھارنے کے لیے تو تھکانا ضروری ہے نہ کہ مطیع ہو جانا…بہت سے لوگ ایسے تو نظر آئیں گے جن کے اقوال اُن کے اعمال کے موافق نہیں ہوتے لیکن بہت تھوڑے ایسے ہوں گے جن کے کردار اُن کی گفتار کے موافق ہیں…اس دنیا کی زندگی میں جائز ضروریات کو ضرور پورا کرنا اور نفع اُٹھانا چاہیے مگر صرف انہیں ہی مقصد حیات نہیں بنا لینا چاہیے…روٹی کا مقصد بھوک مٹانا،پانی کا پیاس بجھانا،کپڑے کا آرائش سے زیادہ آسائش اور ستر پوشی اور گھر کا مقصد رہائش کی مناسب جگہ کا بندوبست ہو…عیش کا گھر تو جنت ہے ناں…!

    اسی طرح خود اعتمادی ہمیں زندگی کی تلخیوں سے نبرد آزما ہونا سکھاتی ہے جب کہ احساسِ کمتری دوسروں جیسا بننے کا بھوت ذہن پر سوار کرنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات حسد جیسی جہالت کو جنم دیتی ہے…یہ بات سچ ہے کہ دوسروں کی نقل اپنی منفرد شخصیت کی خود کشی اور حسد جیسی بیماری واقعتاً جہالت ہے…

    کیوںکہ نفسیاتی پیچیدگیوں کو کم کرنےکے اسباب میں ایک چیز منفرد انداز میں جینا یعنی ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو ویسا ہی سمجھنا جیسا کہ فی الواقع ہے،اپنے نصیب پر راضی رہنا…کیوںکہ اس سے بڑی نامرادی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنی ذات،زندگی،صلاحیتوں،معاملات،واقعات سے بے خبر اپنی رفتارِ ترقی کو پرکھے بغیر دوسروں سے موازنہ میں کھپ جائے،کیوںکہ بآسانی ہو سکنے والےکام،جو ملے اُس پر رضا مندی سے حزن ختم اور اعصابی دباؤ سے نجات ملتی ہے،روح کے لیے مہلک بیماری غرور کرنا،خود کو کامل وبرترسمجھنا …پھر دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھنا یہ ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی سوائے نشانِ عبرت کے…کیوں کہ یہ حقائق کو جھٹلا کر’میں’ کے لبادہ میں لپٹ جانا ہے،تکبر کے زعم میں انسان جتنا مرضی اپنےتئیں کامیاب بن جائےلیکن توبہ و عاجزی اختیار کیے بغیر بالآخر انجام رسوائی ہوا کرتا ہے…

    قرآن ہمیں طاقتور فرعون و مالدار قارون جیسے متکبرین کے قصے سے کیا سبق دے رہا ہے…کہ قدرت کےسامنے سمندر کی لہروں میں ہچکولے کھاتا فرعون پکار اُٹھتا ہے میں موسٰی و ہارون کے رب پر ایمان لایا…اور قارون زمین میں دھنستے ہوئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے…تکبر صرف رب کی شان ہے انسان مٹی سے تخلیق ہوا اس پر ہمیشہ عاجزی ہی جچتی،اور تکبر سوائے ذلت کے کچھ نہیں.

    خوشی ایک روشنی ہے جو ہمارے اندر سے پھوٹتی اور ارد گرد کو روشن کرتی ہے…اُداسی کا بہترین علاج خود کو مثبت کاموں اور تفکر میں مصروف رکھنا ہے…نیکی کے جذبے سے چھوٹے چھوٹے کاموں کو خوب صورتی سے ترتیب دینا ہے… ایسے کام جو ہمیں ذہنی بالیدگی،راحت اور روحانی سکون فراہم کر کے دل کو خوش کریں…اور یقین و اطمینان کی دولت ہمارے باطن میں بتدریج بڑھنے لگ جائے…خوشی کی تلاش کے لیے اگر راستہ ہی غلط اختیار کر لیا جائے اور روح کے لیے مہلک کاموں،چیزوں اور راستوں پر نکل جایا جائے تو بجائے خوشی کے اُداسی ہی بڑھتی ہے-

    اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوشی کی تلاش اُس راستے پر کی جائے جو دل میں نرمی،سوز وگداز،رنگینی اور تابانی لائے،اُداس و فضول لٹریچر،لغو موسیقی،حرام روابط اُداسیوں کو دور کرنے اور خوشی کے راستے ہر گز نہیں ہیں…چھوٹی چھوٹی فکریں ذہن میں پالتے رہنا بندۂ مومن کے لیے باعثِ غفلت بن جاتی ہیں…کسی کے ساتھ احسان کریں تو بھلا دیں اگر چہ وہ نیکی کا انکار ہی کر دے…اِسے سوچتے رہنا رنجیدہ کر دے گا جب عمل خالصتًا اللّٰــــہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو لوگوں کے شکریہ کی اُمید رکھنا ہی فضول ہے کیوں کہ وہ تو اپنی سوچ و مزاج کے موافق ہی سمجھنے کی کوشش اوربرتاؤ و ردعمل کا اظہار کریں گے…

    جو لوگ سنجیدگی اور نتیجہ خیز کام کے اعتبار سے مفلس ہوں اُن کا سرمایہ پریشان خیالات و افواہیں ہوا کرتی ہیں…اس سے بچنے کا راستہ خود کو حرکت میں رکھنا،وقت کو کام میں لانا،بےکار و معطل نہ رہنا ہے…مصروف رہیں،عبادات وقت پر بجا لائیں،کام کریں،لکھنے،پڑھنے کی کوئی سرگرمی تشکیل دیں اور خالی پن و طویل فراغت سے خود کو دُور رکھنا بہت مفید ہے…جس چیز کو خریدنے کی طاقت نہ ہو،اُسے فروخت کرنے سے ہی گریز کیا جائے…
    وہ ایمان ہو…عزت ہو…
    وہ حیا ہو یا کردار ہو…
    ادب و تربیت کے دیرپا نقوش ہوں…

    عملِ صالح کی توفیق کا ملنا ہو یا علمِ نافع کی صورت خود کی پہچان ہو… بہترین اوصاف کی منفرد دولت ہو تو یہ سب قدرت کی عطا کردہ نعمتیں ہیں…انہیں نفس کی خواہش و تسکین یا دنیاوی منفعت کی خاطر کبھی کہیں بھی ضمیر کو سُلا کر بیچیں نہ ضائع کریں…یہی اصل طاقت کے بحال رہنے کی صورت ہے…کیوں کہ جب قوتِ خرید ہی باقی نہ ہو تو پھر مفلسی و معدومیت یقینی ہو جایا کرتی ہے…

    زندگی کے سفر میں کبھی کبھی ایسی مناسب و صحتمند تنہائی جو خیر کا ذریعہ اور شر کے کاموں اور فضول باتوں سے بچائے،سینہ کھولتی اور احتسابِ نفس کے لیے مفید ہے…انسان یکسوئی سے اُس وقت میں استغفار کرتا ہے…جولانِ فکر،گوہرِ حکمت نکالتا،مقاصد پر غور کرتا،تدبر و تفکر کا مزہ لیتا،اور اچھی رائے کا خوب صورت ہیکل تعمیر کر سکتا ہے…ریا کاری سے بھی بچاؤ ہوتا اور انسان تفکرات سے آزاد رہتا ہے…

    بغیر کسی مقصد کے ہر وقت لوگوں کی مجلس میں رہنا ہمیں قیل و قال،نفسیاتی دباؤ میں مبتلا اور سوچیں منتشر کر دیتا ہے بہت خوب کہا ہے کسی نے ”علم سے زیادہ باعزت کوئی چیز نہیں،کاپیاں میری غم خوار ہیں،چراغ سے مجھے محبّت ہے…” ایک مناسب حد تک لوگوں سے فاصلہ پر رہنا محاسن کے چہرے کا حجاب،مناقب کا غلاف اور فضیلت کا صدف ہے…!!!

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے زمین کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر پتھریلی چٹانوں والے دیگر سیاروں پر موجود ماحول کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ ہو سکتی ہے س نئی دنیا کو ’گلیز 486b ‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے مگر اسے سپر ارتھ بھی کہا جا رہا کیونکہ یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

    سپر ارتھ کے نام کے باوجود یہ کئی لحاظ سے ہماری زمین سے مختلف ہے۔یہ سیارہ ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور تقریباً تین گنا زیادہ بھاری ہے یہ اتنا گرم ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ پگھل سکتا ہے اور وہاں لاوا کے دریا اس کی سطح پر بہتے ہیں۔

    ایک ستارے کے گرد گھومنے والا یہ سیارہ صرف 26 نوری سال دوری پر ہے جو کائنات میں ہمارا سب سے قریبی پڑوسی ہے گلیز 486b مدار میں گردش کرتے ہوئے اور ایک سرخ چھوٹے ستارے سے قربت کی وجہ سے محققین کی نظر میں آیا۔

    اس کی ایک حیرت انگیز وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ’منتقل‘ ہونے والا سیارہ ہے اور جب یہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو سائنس دان اس کا اچھے طرح سے نظارہ کر سکتے ہیں اور اس کے ماحول کی جانچ کرسکتے ہیں یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اسے دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک تو اسے ستاروں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دوسرا ڈوپلر ریڈیل ویلاسٹی کے ذریعے بھی اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں طریقوں کو ملا کر اس سیارے اور اس کے ماحول کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

    اس کا ماحول خاص طور سائنس دانوں کو زیادہ پر پُرجوش بناتا ہے کیوں کہ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے ماحول کے پھیلتے ہوئے درجہ حرارت کی ماہر فلکیات پیمائش کر سکتے ہیں۔

    دوسرے سیاروں کے ماحول کو جاننے کا ایک کلیدی طریقہ ہے کہ آیا وہاں زندگی کے لیے کیا امکانات ہیں۔ اگر اس کا امکان کم ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ستارہ غیر مستحکم ہے جو اسے کبھی بھی مٹا سکتا ہے۔

    شاید اسی وجہ سے یہاں زندگی کے امکانات کم ہیں زیادہ ترقی یافتہ ماحول یہ تجویز کرے گا کہ یہ زندگی کے لیے بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ گلیز 486b کی سطح کا درجہ حرارت 430 ڈگری سیلسیئس ہے اور اس طرح یہاں ہماری جیسی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔

    لیکن سائنس دان امید کرتے ہیں کہ وہ اس ماحول کی مزید جانچ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا اسی طرح کے سیارے انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں اور وہاں زندگی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے۔

    اس مطالعے کے شریک مصنف بین مونٹیٹ نے ایک بیان میں کہا یہ وہ سیارہ ہے جسے دریافت کرنے کا ہم کئی دہائیوں سے خواب دیکھ رہے ہیں-

    ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ قریبی ستاروں کے آس پاس چٹانوں والے سیارے یا سپر ارتھز کا وجود ضرور ہے لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجی نہیں۔‘

    ’یہ دریافت کرہ ارض کے ماحول کے بارے میں ہمارے خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘ سائنس دانوں کو اب امید ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں جدید ترین دوربینوں کی مدد سے اس کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کرسکیں گے۔

    ڈاکٹر مونٹیٹ کا کہنا ہے’گلیز 486b سیارے کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہم اگلے 20 سالوں میں مزید مطالعہ کریں گے۔ یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ اگرچہ کائنات میں سپر ارتھز شاذ و نادر نہیں ہیں لیکن کائنات میں ہمارے اپنے پڑوس میں ان کا ملنا غیر معمولی ہے۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

  • یقین اک صدا ہے  بقلم:جویریہ بتول

    یقین اک صدا ہے بقلم:جویریہ بتول

    یقین…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔

    یقین اک صدا ہے…
    یقین تو وفا ہے…

    دل کی سر زمیں پر…
    جڑ جو پھیلائے…
    شجرِ طیبہ بن کر…
    عمل سے کھلکھلائے…
    یقین تقاضۂ محبّت…
    یقین تو دوا ہے…
    وہ بھی سخت لمحے…
    جو لگتے ہوں محال…
    خیال میں بھی اپنے…
    گزر جاتے ہیں خود پر…
    تو یقین پکار ہے اُٹھتا…
    یہی تو راہِ رضا ہے…!!!
    یاں حوصلے چٹانوں جیسے…
    نہیں ریت کے مکانوں جیسے…
    نشیب کہیں فراز ہیں…
    سوز ہیں کہیں ساز ہیں…
    راہوں کا شکوہ ہے نہ…
    موسموں پہ کوئی خفا ہے…
    درد کی چوٹ سے جب…
    اُٹھتی ہیں کئی ٹیسیں…
    شدت کی دوڑتی ہوئی…
    محسوس ہوتی ہیں لہریں…
    ہر ایسی بے چینی میں…
    بنتا یقین ہی شفا ہے…
    رضا کی تلاش میں پھر…
    یہ اور وہ نہیں ہے…
    جو جو بھی ہے ملتا…
    جسم و روح اُسی کے…
    تابع ہیں ہو کے چلتے…
    پھولوں کی ہو خوشبو…
    یا راستہ کانٹوں بھرا ہے…
    یقین کی راہوں پر کبھی…
    ہوتی نہیں کثرتِ سوال…
    نہ اگر مگر کا کچھ وبال…
    شکوہ فضا کی ناسازی…
    نہ نفس کی کوئی در اندازی…
    اطمینان کا بنتا ہے سَمندر…
    کہ یہ سکون کی برکھا ہے…
    جو دل کی دھرتی پر…
    برستے ہوئے رم جھم…
    دیتی ہے اِک قوت جنم…
    مایوسیوں کو بہا کر…
    اُداسیوں سے بچا کر…
    جو چہرے کو مسکرائے…
    پھر حوصلے کی جِلا ہے…
    اَجر کی اُمید کا دائرہ…
    بڑھتا ہے یہاں مسلسل…
    آنکھوں سے چھلکتی چمک…
    ہے راستوں کی رونق…
    مگر سفر کا اِک تسلسل…
    اس شاہراہ کا تقاضا ہے…
    یقین کا سفر منزل کے…
    ستونوں سے جڑا ہے…
    کہیں راحتوں کے سائے…
    کبھی امتحاں بھی کڑا ہے…
    وسوسہ ہے نہ بہکاوا مگر…
    کہ یہاں شان ہی جُدا ہے…!!!
    ===============================

  • سلام محافظِ نسواں   بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    نہ کر تہذیبِ غیر پر نظر تیرے اپنے دامن میں نور ہے…
    کر نگاہ اپنے نصیب پر،جو شعور تھا وہ شعور ہے…
    ہر اِک تہذیب کے درمیاں،ہے تیرا مقام کِھلا ہوا…
    ہر دَور ہے تازہ دَم تیرا،نہ تھکن سے کہیں یہ چُور ہے…
    تو حصارِ عظمت پہ ناز کر جو چہار جانب سے ہے کھڑا…
    تیرے حُسن پر کوئی مَیل ہے،نہ کوئی عبرتوں کا ظہور ہے…
    اُنہیں مان عزت کو بیچ کر،تجھے ناز حفظ و اماں پر ہے…
    اِسی منفرد سی پہچان سے تو عالمِ دیّار میں مشہور ہے…
    تیرے دشتِ جاں کو سنوار کر تیرے چمنِ دل کو نکھار دیں…
    جنہیں جاں سے بھی تو عزیز ہے وہ مقام تیرا غرور ہے…
    یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری اندر سے ہے جو شکستہ تَر…
    کُچھ کر سکے گی نہ رہبری،جو خود راہ سے مفرور ہے…
    تیرے حقوق کی انمٹ تحریر قرآن و حدیث کی صورت…
    یہی نامہ ہے ابدی بہار کا،ہر خزاں یہاں رنجور ہے…
    نقشِ عائشہ و فاطمہ تیری زندگی کے ہیں راہ نما…
    جنت میں اُن کی سرداری میں گر رہنےکو دل یہ مسرور ہے…؟
    ==========================

  • منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما    بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما بقلم:عطیہ وانی

    منقبت صدیق و عمر رضی اللہ عنہما
    عطیہ وانی

    جب سب تھے مخالف آقا کے
    تب ساتھ دیا جس نے ان کا
    وہ بھی اپنی جان پہ کھیل کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم سب چاہتے ہیں رضا رب کی
    خود اللہ پوچھے رضا جس کی
    وہ بھی جبریل امین کو بیج کر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    یوں تو جنت کی بشارت دنیا میں
    تھی ان کو میرے نبی ﷺ نے دی
    پھر بھی رشک کرتے رہے جن پر عمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    میں اک گھاس کا تنکا ہوتا اگر
    کوئی کھائے اور پھر حساب نا ہو
    یوں خوف خدا تھا طاری جن پر
    کوئی اور نہیں وہ ہے ابو بکر

    ہم امتی ہیں وہ ہے مراد
    کوئی ہوتا اگر نبی آقا کے بعد
    جو نبی کی دعاؤں کا ہے اثر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    جو نبی کے سچے یار تھے
    جو عدل کے پہرےدار تھے
    جس نے کھلوائے کعبے کے در
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی عجب ہی ہیبت کفر پر
    وہ لرزتے تھے ان کے نام سے
    جس نے توڑ دی باطل کی کمر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر

    تھی حقومت ان کی ہر چیز پر
    ان کی سوچ بنی قرآن کی آیتیں
    جس کے حکم سے جاری ہو نہر
    کوئی اور نہیں وہ ہے عمر