Baaghi TV

Category: اسلام

  • ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ از قلم۔۔۔مشی حیات

    ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ از قلم۔۔۔مشی حیات

    کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
    از قلم۔۔۔مشی حیات
    اے دنیا تے دنیا دی ہر چیز فانی

    اے دنیا ہے صرف چند دن دی زندگانی
    دنیا میں آنکھ کھولی تو اذان کانوں میں سنائی گئی کہ میں مسلمان ہوں۔۔۔
    اور جب دار فانی سے کوچ کیا تو نماز پڑھادی گئی کہ مسلمان آیا تھا رب کی امانت تھا واپس چلا گیا۔۔۔۔
    پچپن سے جوانی۔۔جوانی سے بڑھاپا۔۔۔یہ سفر طے ہوا اے انسان تیرا۔۔
    اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اور لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا۔۔
    کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ
    ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔
    میرا گھر والوں کے ساتھ قبرستان کی طرف جانا ہوا۔۔
    امی جان سے اسرار کیا کہ ابو جی کی قبر پر دعا کر آتے ہیں۔۔
    انتہائی زیادہ اموات اور وہ بھی اللہ کے دین کے علماء کی۔۔ان سب سے دل پر بہت زیادہ غم تھا جو صرف اس خاموش اور سنسان جگہ جہاں نجانے کہاں میری جگہ بھی لکھی میرے رب نے۔۔وہاں پر ہی کم ہو سکتا تھا ۔۔۔گھر سے روانہ ہوئے۔ سوچوں کا سفر بھی جاری ہوا۔۔
    میرے ذہن میں تمام مرحوم علماء اکرام گردش کرنے لگے۔۔کتنے اچھے اللہ کے بندے تھے دین کا کام کر گئے۔۔ہر کوئی انکی اچھائی پر مبنی سٹیٹس لگاا رہا۔۔ہر کسی کی زبان سے سنا کہ شیخ بہت اچھے دل کے مالک تھے۔۔آپ نے خالص اللہ کے لیے کام کیا۔۔۔
    صرف چند میں 7 علماء اکرام کا اس دور فانی سے کوچ کر جانا انتہائی صدمہ تھا۔۔یہ صدمہ صرف دین کے پاسبانوں کو تھا۔۔
    میرے ذہن میں جو سب سے زیادہ سوال تھا وہ یہی تھا کہ اے بنت آدم۔۔۔
    آج فلاں شخص اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور دنیا اس کی خوبیاں،اس کا اخلاق،اور اس کے کردار کے بارے کتنی سچائیاں دے رہی۔۔یقینا اللہ کو بھی پسند آئیں ہونگے اپنے برگزیدہ بندے۔۔۔
    سوشل میڈیا کے جدید دور میں معلومات ملتے ہی سٹیٹس لگ جاتے ہیں۔۔۔
    انا للہ وانا الیہ راجعون

    آج معزز شخص وفات پاگئے ۔۔۔
    وفات ہونے والی شخصیت صرف چند سیکنڈ میں ماضی بن جاتی ہے۔۔
    ایک دن وہ بھی ہے جب میرا رب مجھے اس دار فانی سے اٹھا لے جائے گا۔۔میری زندگی کے بھی سٹیٹس لگ جائیں گے کہ بنت فلاں اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔بہن اچھی تھی ۔۔عمدہ اخلاق کی مالک تھی۔۔یا پھر غلطی سے جن کا دل دکھا وہ میری اپنے انداز سے زندگی کا سٹیٹس لگائیں گے۔۔۔۔مگر تو کیا جانے سٹیٹس لگانے والے جب تو لکھے کہ بنت فلاں کا جنازہ بعد نماز ادا کیا جائے گا۔۔۔تیرا سٹیٹس لگ جائے گا تیرے سیل میں موجود لوگ دیکھ لیں گے۔۔مگر میری زندگی کا حقیقی سٹیٹس اس وقت میرے رب کے فرشتے لے رہے ہونگے۔۔۔ وہ پوچھے گے بتا۔۔۔۔
    تیرا رب کون ہے؟
    تیرا نبی تیرا دین کون ہے۔۔۔؟
    تو کیا جانے گا اس وقت کا عالم۔۔۔
    کوئی بھی جان نہیں سکتا وہ لمحہ نہ وہ سٹیٹس ہی کوئی لکھ پائے گا کہ فلاں شخص نے فلاں جواب دیا۔۔۔۔۔
    فرشتے مجھے جنجھوڑے گے۔۔اگر میرا کردار اسلام کے مابین اور اسوہ رسول کے مطابق ہوا تو میں کہہ دوں گی۔۔
    میرا رب اللہ ہے۔۔۔
    میرا نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اور میرا دین اسلام ہے۔۔
    اگر میں نے اسلام کو چھوڑا اور غلط رستہ اپنایا تو مجھے کیا معلوم۔۔۔میں جواب دے پائوں بھی یا نہیں۔۔۔۔
    یہ دنیا عارضی ہے۔۔یہ دنیا محض کھیل تماشہ ہے۔۔زندگی رب کی امانت ہے اور امانت لوٹانی پڑتی ہے ہر حال میں۔۔
    کیوں نہ ہم کچھ اچھا کر گزرے۔۔
    اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے ۔۔اللہ کے آگے سر سجدہ ہو جائے۔۔یا رب مجھے معاف کردے۔۔
    اپنے گناہوں کو صاف کروا کر نیکیوں میں بدل لیں ۔۔
    زندگی موقع نہیں دیتی۔۔
    اگر ابھی جسم میں روح ہے تو رب کا ہم پر انعام ہے۔۔۔
    اللہ نے ہمیں مہلت دی گناہوں سے معافی کی۔۔۔
    آئیے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔۔
    اللہ ہمیں بخش دے۔۔ہمیں معاف کردے
    یا رب ہمیں نیک اور شہادت کی موت عطا کرنا۔۔
    ہمیں زندہ اسلام پر رکھنا اور موت کلمہ شہادت پر دینا ۔۔
    آمین یا رب العلمین۔۔۔
    اگر ہم نے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیا اگر ہماری بخشش ہوگئی تو یقینا ہم اپنے رب سے سرخرو ہو جائیں گے۔۔۔۔۔

    ان شآءاللہ العزیز۔۔۔۔

  • بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!  بقلم سلطان سکندر!!!

    بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!! بقلم سلطان سکندر!!!

    بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!

    Sea Breeze
    (سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یعنی
    ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,

    سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.

    Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
    "ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”

    سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے

    اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
    یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.


    یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
    یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
    Quran 81:18
    وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ (التکویر 18#)
    اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)

    لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)

    اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان  بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعین کا بیان۔

    Gender
    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ جنس XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر جنس XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔


    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے نیچے دی گئی تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46
    وَاَنَّهٝ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الـذَّكَـرَ وَالْاُنْثٰى (النجم 45)
    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔

    مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (النجم 46)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!!

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی(سورج کی روشنی) سے باہر یعنی دور ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30
    اَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانبیاء 30)

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12
    اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَّّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَـهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّاَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا (الطلاق 12)

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر !!!

  • عید خوشی کا دن ہے تحریر جویریہ بتول

    عید خوشی کا دن ہے تحریر جویریہ بتول

    *”تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!”*
    *(تحریر✍🏻:جویریہ بتول)۔*
    رات ذہنی طور پر روزے اور سحری کی تیاری نمٹا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ عشاء سے کافی دیر بعد عید الفطر کا اعلان ہوا…
    سو ترجیحات بدل چکی تھیں،
    نمازِ عید کے لیئے سب کے کپڑے تیار کرنا تھے…
    سو کیئے،کچھ دیگر کام نمٹا کر سو گئی…
    حسبِ معمول الارم آن ہی رکھا کہ کہیں صبح سورج چڑھے تک نیند کی اغوش میں مزے لیتے ہی نہ رہ جائیں…
    تہجد کے وقت بیدار ہو کر نوافل ادا کیئے،تھوڑی دیر انتظار کے بعد اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی…
    نماز فجر ادا کر کے،اذکار مکمل کر کے نمازِ عید کی تیاری مکمل کی…اور والدِ محترم کے ساتھ مسجد کا رُخ کیا…
    رستے میں سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ ذرا قبرستان میں جا کر اپنے خاندان کے مرحومین کی دعائے مغفرت کر دی جائے۔
    قبرستان میں داخل ہونے کی دعا پڑھی اور اندر چلے گئے۔
    کافی دیر سے سوچا تھا کہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی نشاندہی تو ہونی چاہیئے…
    آج پہلا اتفاق تھا،ابو جی سب کی قبروں کا تعارف کروا رہے تھے اور میری نگاہوں اور دماغ کے پردۂ سکرین پر وہ وہ سارے چہرے گھومتے جا رہے تھے…
    جن میں بزرگ بھی تھے،نوجوان بھی،چھوٹے بھی تھے اور بے اولاد چلے گئے لوگ بھی…
    دادا،دادی کی قبر کے ساتھ دیگر کئی رشتہ داروں کی قبروں پر دعائے مغفرت کی…
    اور دادی کی بہن تو ابھی ستائیس رمضان کو وفات پا گئی تھیں ان کی تازہ قبر کو بھی دیکھا…
    دعائے مغفرت کی،عجب گہری خاموشی تھی…
    تاحد نگاہ ابدی نیند سوئے لوگ کیسی خاموش بستی کے مکین بن چکے تھے…
    میرے دل میں گہرائی سے خیال اُبھرا کہ کل کو ہم سب کا ٹھکانہ بھی یہیں کہیں ہے…
    وہ جو کبھی عید کی خوشیاں اپنے گھر والوں اور بچوں کے ساتھ مناتے تھے،مگر اب جدا ہو کر کیسے بے فکر سو رہے تھے اور کبھی نہ آنے کی اُمید میں اپنوں کو تڑپتا چھوڑ گئے تھے…
    پچھلوں کی خوشی اور غم سے لا علم کتنی دور کی بستی میں جا ڈیرے لگائے تھے۔
    وہاں سے مسجد پہنچ کر نماز عید ادا کی،خطیب صاحب نے رمضان کے مقاصد، اس کی برکات کو سمیٹنےوالے خوش نصیب،اجر اور عید کی حقیقی خوشی پر روشنی ڈالی…
    نمازِ عید میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کر رہے تھے…
    جب وہ اس آیت پر پہنچے:
    *وُجُوہٌ یَومَئِذِِ نَّاعِمۃٌ¤*
    *لِسَعیِھَا رَاضِیَۃٌ¤*
    "بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے،اپنی کوشش پر خوش ہوں گے…”
    تو اُمید اور خوشی کے ملے جلے آنسو چھلک کر نیچے گزر گئے
    یا اللّٰہ ہمیں بھی ایسوں میں شمار کرنا آمین۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے صیام،قیام،صدقہ،دعائیں سب اپنی بارگاہ میں قبول فرما لینا،
    ہمیں اسی راہ پر گامزن رکھنا،
    خطبہ اور دعاؤں کے بعد گھر واپسی کی راہ لی…
    اور اب سوچا سب قارئین سے عید کی خوشی شیئر کر دی جائے…
    یہ دن اچھا لباس پہننے،کھانے پینے،کھلانے پلانے اور غرباء و مساکین کا خیال رکھنے کا دن ہے…
    اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور اپنوں کو ملنے ملانے کا دن ہے…
    خوشی کی باتیں کرنے اور شیئر کرنے کا دن ہے…
    سو جہاں رہیئے…
    خوش رہیئے…
    خوشیاں پھیلایئے…
    خوشیاں بانٹیئے…
    ہنسیئے اور مسکرایئے…
    حال احوال بانٹیئے…
    اور اپنے پیارے گھر والوں کے ساتھ یہ لمحات بِتایئے…
    کہ عید خوشی کا دن ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    *ان لکل قوم عیدًا و ھذا عیدنا…*
    اپنی دعاؤں میں مظلوم اور مشکلات میں گھرے عید مناتے بہن بھائیوں کو ہر گز نہ بھولیئے…جہاں:
    *عید کا چاند خوشیوں کا سوالی ہے اے دوست…!!!*
    اے مہ نَو تیرا آنا مبارک ہو کہ:
    *سرگزشت ملتِ بیضا کا تو آئینہ ہے۔*
    *اے مہ نَو ہم کو تُجھ سے الفت دیرینہ ہے۔*
    (اقبال رحمہ اللہ)۔
    *تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!*
    ==============================

  • "تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!! تحریر:جویریہ بتول

    "تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!! تحریر:جویریہ بتول

    *”تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!”*
    *(تحریر✍🏻:جویریہ بتول)۔*
    رات ذہنی طور پر روزے اور سحری کی تیاری نمٹا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ عشاء سے کافی دیر بعد عید الفطر کا اعلان ہوا…
    سو ترجیحات بدل چکی تھیں،
    نمازِ عید کے لیئے سب کے کپڑے تیار کرنا تھے…
    سو کیئے،کچھ دیگر کام نمٹا کر سو گئی…
    حسبِ معمول الارم آن ہی رکھا کہ کہیں صبح سورج چڑھے تک نیند کی اغوش میں مزے لیتے ہی نہ رہ جائیں…
    تہجد کے وقت بیدار ہو کر نوافل ادا کیئے،تھوڑی دیر انتظار کے بعد اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی…
    نماز فجر ادا کر کے،اذکار مکمل کر کے نمازِ عید کی تیاری مکمل کی…اور والدِ محترم کے ساتھ مسجد کا رُخ کیا…
    رستے میں سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ ذرا قبرستان میں جا کر اپنے خاندان کے مرحومین کی دعائے مغفرت کر دی جائے۔
    قبرستان میں داخل ہونے کی دعا پڑھی اور اندر چلے گئے۔
    کافی دیر سے سوچا تھا کہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی نشاندہی تو ہونی چاہیئے…
    آج پہلا اتفاق تھا،ابو جی سب کی قبروں کا تعارف کروا رہے تھے اور میری نگاہوں اور دماغ کے پردۂ سکرین پر وہ وہ سارے چہرے گھومتے جا رہے تھے…
    جن میں بزرگ بھی تھے،نوجوان بھی،چھوٹے بھی تھے اور بے اولاد چلے گئے لوگ بھی…
    دادا،دادی کی قبر کے ساتھ دیگر کئی رشتہ داروں کی قبروں پر دعائے مغفرت کی…
    اور دادی کی بہن تو ابھی ستائیس رمضان کو وفات پا گئی تھیں ان کی تازہ قبر کو بھی دیکھا…
    دعائے مغفرت کی،عجب گہری خاموشی تھی…
    تاحد نگاہ ابدی نیند سوئے لوگ کیسی خاموش بستی کے مکین بن چکے تھے…
    میرے دل میں گہرائی سے خیال اُبھرا کہ کل کو ہم سب کا ٹھکانہ بھی یہیں کہیں ہے…
    وہ جو کبھی عید کی خوشیاں اپنے گھر والوں اور بچوں کے ساتھ مناتے تھے،مگر اب جدا ہو کر کیسے بے فکر سو رہے تھے اور کبھی نہ آنے کی اُمید میں اپنوں کو تڑپتا چھوڑ گئے تھے…
    پچھلوں کی خوشی اور غم سے لا علم کتنی دور کی بستی میں جا ڈیرے لگائے تھے۔
    وہاں سے مسجد پہنچ کر نماز عید ادا کی،خطیب صاحب نے رمضان کے مقاصد، اس کی برکات کو سمیٹنےوالے خوش نصیب،اجر اور عید کی حقیقی خوشی پر روشنی ڈالی…
    نمازِ عید میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کر رہے تھے…
    جب وہ اس آیت پر پہنچے:
    *وُجُوہٌ یَومَئِذِِ نَّاعِمۃٌ¤*
    *لِسَعیِھَا رَاضِیَۃٌ¤*
    "بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے،اپنی کوشش پر خوش ہوں گے…”
    تو اُمید اور خوشی کے ملے جلے آنسو چھلک کر نیچے گزر گئے
    یا اللّٰہ ہمیں بھی ایسوں میں شمار کرنا آمین۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے صیام،قیام،صدقہ،دعائیں سب اپنی بارگاہ میں قبول فرما لینا،
    ہمیں اسی راہ پر گامزن رکھنا،
    خطبہ اور دعاؤں کے بعد گھر واپسی کی راہ لی…
    اور اب سوچا سب قارئین سے عید کی خوشی شیئر کر دی جائے…
    یہ دن اچھا لباس پہننے،کھانے پینے،کھلانے پلانے اور غرباء و مساکین کا خیال رکھنے کا دن ہے…
    اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور اپنوں کو ملنے ملانے کا دن ہے…
    خوشی کی باتیں کرنے اور شیئر کرنے کا دن ہے…
    سو جہاں رہیئے…
    خوش رہیئے…
    خوشیاں پھیلایئے…
    خوشیاں بانٹیئے…
    ہنسیئے اور مسکرایئے…
    حال احوال بانٹیئے…
    اور اپنے پیارے گھر والوں کے ساتھ یہ لمحات بِتایئے…
    کہ عید خوشی کا دن ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    *ان لکل قوم عیدًا و ھذا عیدنا…*
    اپنی دعاؤں میں مظلوم اور مشکلات میں گھرے عید مناتے بہن بھائیوں کو ہر گز نہ بھولیئے…جہاں:
    *عید کا چاند خوشیوں کا سوالی ہے اے دوست…!!!*
    اے مہ نَو تیرا آنا مبارک ہو کہ:
    *سرگزشت ملتِ بیضا کا تو آئینہ ہے۔*
    *اے مہ نَو ہم کو تُجھ سے الفت دیرینہ ہے۔*
    (اقبال رحمہ اللہ)۔
    *تقبل اللّٰہ منی و منکم…!!!*
    ==============================

  • پاکستان کورونا پھیلانے والا ملک بن گیا. جاپان نے خصوصی پرواز منسوخ کر دی

    پاکستان کورونا پھیلانے والا ملک بن گیا. جاپان نے خصوصی پرواز منسوخ کر دی

    جاپان نے 20 مئی کو ٹوکیو سے پاکستان آنے والی پی آئی اے کی خصوصی فلائٹ کو منسوخ کر دیا جس کے بعد ٹوکیو سے پاکستان واپس جانے والے دو سو پاکستانی مسافروں میں مایوسی پھیل گئی اور ان کی اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے. ٹوکیو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاپانی حکام نے ٹوکیو میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام کو اس بارے میں مطلع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت کورونا کو پھیلانے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے کی خصوصی فلائٹ کو ٹوکیو اترنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی.

  • سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ

    ورک کسی چیز کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے کی وجہ سے فورسز(قوت) کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) ہے ،

    فزکس کی زبان میں کشش ثقل (گریویٹی) کے خلاف کام کرنا، فورسز یا وزن کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) کہلاتا ہے۔
    مثال کے طور پر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی راڈ میں پلیٹیں ڈالے اسے اٹھائے ہوئے کھڑا ہے، اب اس راڈ پہ وہ فورس بھی لگ رہی ہے جسکے ذریعے اس آدمی نے اسے اٹھا رکھا ہے اور اسکے علاوہ اس راڈ پہ کشش ثقل(گریویٹی) فورس بھی لگ رہی ہے کہ اگر یہ انسان اس راڈ کو چھوڑ دے تو یہ راڈ آزادانہ طور پر زمین پر آ گرے،
    دوسری طرف اگر یہ راڈ زمین پہ پڑا ہو تو اس پہ صرف ایک فورس کام کر رہی ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ زمین پہ پڑا رہتا ہے اور وہ فورس ہے کشش ثقل(گریویٹی)، تو ثابت ہوا کہ کسی بھی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے سے فورسز ملٹی پلائی یعنی بڑھ جاتی ہیں۔

    Work by Gravity
    "جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے یا اونچائی سے گرائی جاتی ہے تو باقی فورسز کی عدم موجودگی میں اور کشش ثقل (گریویٹیشنل فورس) کے نتیجے میں اس چیز کی رفتار میں آزادانہ طور پر تیزی آتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ چیز سطح زمین کے قریب پہنچتی ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے اسکی رفتار g = 9.8 m.s-2 یعنی 0.098m.s ہوتی ہے اور کسی چیز کے وزن پہ کشش ثقل fg = mg کہلاتی ہے۔ یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کشش ثقل کسی بھی شے کے وزن کے مرکز پہ مرکوز(کنسنٹریٹ) ہوتی ہے۔ اگر کسی شے کو اسکے قائم مقام سے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ہلایا جائے تو دونوں طرف کی جگہیں y1-y2 کہلاتی ہیں مثلا اب اگر راڈ زمین پہ پڑا ہوا ہے تو وہ y1 جگہ کہلائے گی اور ایک آدمی جہاں تک یہ راڈ اٹھائے گا تو وہ y2 جگہ کہلائے گی(جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)، کسی شے پہ اس کے وزن mg کے مطابق اس پہ فورس کام(W= Work) کرتی ہے۔

    W = Fg (y2-y1) = Fg Δy = – mg Δy

    اس فارمولے میں fg وزن(امپیرئیل یونٹ میں پاونڈ اور ایس آئی یونٹ میں نیوٹن) کو ظاہر کرتا ہے اور Δy اونچائی y میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ غور کریں کہ کشش ثقل(گریویٹی) کے ذریعے کیا گیا کام اس شے کے عمودی یعنی ورٹیکلی(اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ) حرکت کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک شے پہ اسکے وزن کے ذریعے کیے گئے کام پہ فرکشن فورس کی موجودگی اثرانداز نہیں ہوتی۔”
    Reference:- Wikipedia, Work (Physics), 2019

    کشش ثقل کے خلاف کام کرتے عام طور پر کسی شے کو اسکی جگہ سے یعنی اسکے قائم مقام سے ہلانے کی وجہ سے فورسز(قوت) یا اسکا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں بیان کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہ قرآن میں اسکا ذکر کر دیا گیا تھا،
    Quran 99:7-8
    "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7)

    پھر جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) نیکی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔

    وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)
    اور جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) برائی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

    یہاں پہ "عْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) اور "يَّعْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) کرنا ہے۔ اور یہاں پہ کام(ورک) کا وزن(mg) سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ جتنی زیادہ برائیوں والے کام کرے گا اسکا برا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور جتنی زیادہ اچھائیوں والے کام کرے گا اسکا اچھا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور حساب تو ہوگا ہی ترازو کے ذریعے یعنی وزن تول کر،

    1400 سال پہ غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ وزن(weight) کا اور کام(work) کا آپس میں گہرا تعلق ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان  تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    Terminal Velocity in Quran
    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.


    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار مندرجہ ذیل(کمنٹ میں) بیان کی گئی ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31
    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سلسلہ امہات المؤمنین: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر:جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر:جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
    (تحریر:جویریہ بتول)۔

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہُ عنھا کےلقب صدیقہ اور حمیرا تھے۔
    آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔۔۔
    اور حضرت عائشہ اس خوش نصیب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں کہ جس گھر پر سب سے پہلے اسلام کی نورانی و ٹھنڈی کرنیں پڑی تھیں۔۔۔
    یوں حضرت عائشہ وہ ہیں جن کا شروع سے ہی کبھی کفر وشرک کے ماحول سے واسطہ نہیں رہا۔۔۔
    آپ کے والد گرامی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت اوراسلام کے لیئے جذبۂ قربانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔۔۔۔جنہوں نے ہر کڑے موقع پر رسول اللہ کا ساتھ دیا،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کسی کے مال سے اتنا فائدہ نہیں ہوا،جتنا ابو بکر کے مال سے ہوا(رضی اللہ عنہ)۔
    سب سے پہلے اسلام قبول کر کے اپنا سارا مال اللّٰہ کی راہ میں دے دینے والے صحابئ رسول پر اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں آمین۔
    حضرت عائشہ رسول اللہ کی وہ واحد بیوی ہیں جو کنواری تھیں۔
    آپ کو کئی ایک اعزازات حاصل ہیں جن کا آگے چل کر ذکر آئے گا ان شآ ء اللہ۔
    حضرت عائشہ کا نکاح بہت کم عمری میں رسول اللہ سے ہوا تھا،جبکہ ان کی عمر چھ،سات برس تھی۔۔۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تیرہ نبوی میں اپنے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو حضرت ابو بکر کے اہل خانہ مکہ میں کفار مکہ کے نرغے میں ہی تھے۔۔۔
    غرض جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق اللہ کے حکم سے ہجرت کرکے مدینہ آن پہنچے اور آہستہ آہستہ معاملات سنبھل گئے تو آپ نے ام رومان، عائشہ و اسماء رضی اللّٰہُ عنھن کو مدینہ بلا لیا۔۔۔
    مدینہ کی آب و ہوا سے بہت سے لوگ بیمار ہو گئے اور حضرت عائشہ بھی بیمار ہو گئیں۔۔۔
    نو سال کی عمر میں آپ کی رخصتی ہوئی اور یہ تقریب انتہائی سادہ و ایمان افروز تھی۔۔۔
    حضرت عائشہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں،آپ کی والدہ نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور چہرہ دھویا۔۔۔
    انصاری عورتوں نے آپ کو تیار کیا اور ام رومان آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں چھوڑ آئیں۔۔۔
    جہانوں کے لیئے رحمت بن کر آنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی شادی کی محفل کتنی سادہ تھی کہ جس میں کوئی کھانا نہیں بنایا گیا تھا۔۔۔
    آج ہم مسلمان ہو کر بھی شادی بیاہ کی تقریبات پر اپنے مال کا بے دریغ ضیاع کرتے ہیں اور حدوں کو توڑ توڑ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللہ ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے۔۔۔ !!!!
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "ایک بار جبریل سبز ریشم میں لپٹی ہوئی کوئی چیز لائے اور فرمایا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں،میں نے دیکھا تو وہ عائشہ تھی۔”
    (ترمذی)۔
    آپ رسول اللہ کی چہیتی زوجہ تھیں۔۔۔
    حضرت عائشہ کی سہیلیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ کر گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں،جب رسول اللہ تشریف لاتے تو چھپ جاتیں،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرکے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کرتے تاکہ وہ عائشہ کے ساتھ کھیل سکیں۔۔۔”(رواہ البخاری:کتاب الادب)۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے نکاح سے جاہلیت کی تین رسوم کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔
    آپ کا نکاح و رخصتی شوال میں ہوا،
    جبکہ اسے ٹھیک نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    منہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔
    اس نکاح سے اس جاہلانہ رسم کا بھی خاتمہ ہوا۔

    دلہن کے آگے آگ جلانے کی رسم ختم ہوئیں۔۔۔۔
    حضرت عائشہ علم و فضیلت میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔۔۔
    آپ کا اہم ترین کردار علمی خدمات ہیں۔۔۔۔
    آپ محدثہ تھیں۔۔۔عورتوں میں سب سے زیادہ یعنی(2210) احادیث آپ نے روایت کی ہیں۔۔۔
    اور بہت زیادہ علم آپ کم عمری میں سیکھ چکی تھیں…!!!
    سلسلہ امہات المؤمنین:

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا۔
    (تحریر:جویریہ بتول)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ایک غزوہ سے واپس آئے۔۔۔میرے گھر کے طاق پر پردہ پڑا ہوا تھا،
    ہوا سے پردے کا کونہ اڑا تو میری گڑیاں نظر آنے لگیں۔۔۔
    رسول اللہ نے پوچھا یہ کیا ہیں۔۔۔میں نے کہا میری گڑیاں ہیں۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی ہے،جس کے اوپر دو پر تھے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہیں ؟
    میں نے کہا دو پر ہیں۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا گھوڑوں کے بھی پر ہوتے ہیں؟؟
    میں نے کہا:
    آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟
    یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں۔۔۔
    (رواہ ابو داؤد۔۔۔کتاب الادب)۔
    کیوں کہ حضرت عائشہ بہت ذہین،حاضر دماغ اور فصیح اللسان تھیں۔۔۔
    تو فوراً یہ جواب دیا تھا۔۔۔
    ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی
    میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی۔۔۔
    پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو ایک بار پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا،
    اب کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے۔
    اس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یہ اُس جیت کا بدلہ ہے۔۔۔ !!!
    (رواہ ابو داؤد_کتاب الجہاد)۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں پانی پیتی پھر یہی برتن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ رکھ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا،پانی پیتے،
    میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت الگ کرتی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ سے کھاتے۔۔۔”
    (رواہ مسلم)۔

    حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا
    میں جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔۔۔
    میں نے پوچھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رب کی قسم
    اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو۔۔۔نہیں ابراھیم کے رب کی قسم۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا بے شک آپ سچ کہتے ہیں
    اللّٰہ کی قسم!
    اے اللہ کے رسول۔۔۔
    غصے میں صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔۔۔۔(رواہ البخاری)۔
    ان واقعات میں میاں بیوی کے لیئے بہت سے اسباق ہیں۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بیویوں کے مقام اور ان سے حسنِ سلوک اور عزت افزائی کرنا سکھائی۔۔۔ہمارے معاشرے میں آج بھی کئی شوہر بیویوں کے حوالے سے عجیب وغریب سوچیں رکھتے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔۔
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ بقیع سے لوٹے میرے سر میں درد تھا اور کہہ رہی تھی ہائے میرا سر۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔بلکہ میں۔۔۔اے عائشہ ہائے میرا سر۔۔۔!!!
    (رواہ ابن ماجہ)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے بے حد محبت تھی۔۔۔۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں زیادہ دن حضرت عائشہ کے حجرے میں گزارے اور جب نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر حضرت عائشہ کی گود میں تھا۔۔۔۔ !!!
    اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں ہی دفن ہوئے(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    مردوں میں سے تو بہت کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ (علیھما السلام)۔۔۔۔اور عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے۔۔۔ !!!”
    (صحیح بخاری)۔
    (رضی اللّٰہُ عنھا)۔
    اللّٰہ تعالی ہم سب کو ان تعلیمات سے خود کو منور کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔۔۔ !!!!
    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا فقیہہ،قرآن و احادیث، عرب تاریخ،علم النسب اور علمِ وراثت کی ماہرتھیں۔ آپ عرب شاعری پر بھی عبور رکھتی تھیں۔۔۔
    آپ رضی اللّٰہُ عنھا کا نام بے تکلف مجتہدین صحابہ کرام کے ساتھ آتا ہے۔
    اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ آپ سے مسائل کا حل پوچھتے اور آپ دورِ خلافت ابو بکر صدیق،عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم میں فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔۔۔۔رویت باری،علمِ غیب،واقعہ معراج،عصمت انبیاء کی وضاحت میں آپ کی دقتِ نظر کا پلہ بلاشبہ بھاری نظر آتا ہے۔۔۔ !!!
    غزوہ بنی مصطلق 5ھ میں پیش آیا،اماں عائشہ صدیقہ بھی اس سفر میں رسول اللہ کے ساتھ تھیں،
    راستے میں آپ کا ہار گم ہو گیا،
    جس کی وجہ سے قافلہ کو رکنا پڑا،
    نماز کا وقت آن پہنچا اور پانی بھی موجود نہیں تھا،
    صحابہ کرام پریشان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیمم کا حکم نازل ہو گیا۔۔۔
    صحابہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے:
    اے آل ابو بکر !
    تم سرمایۂ برکت ہو۔۔۔۔
    تم پر جب بھی کوئی مصیبت آئی ہے اس میں مسلمانوں کے لیئے آسانی و خوشی کا ہی سامان نکلا ہے۔۔۔ !!!!
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عائشہ اور ام سلیم زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں،یہ غزوہ مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔۔۔
    کئی مسلمان شہید ہو چکے تھے اور کئی زخمی تھے۔۔۔
    اس وقت میں بھی حضرت عائشہ کا کردار ہمیں نظر آتا ہے۔۔۔
    سرخ و سفید رنگت رکھنے والی،حسن و جمال کی پیکر ام المؤمنین حضرت عائشہ عاجزی و قناعت میں بھی نمایاں تھیں۔۔۔
    آپ پر تین اوقات بہت گراں گزرے۔۔۔
    واقعۂ افک،
    واقعۂ تحریم،
    اور واقعۂ ایلاء۔۔۔
    واقعۂ افک میں منافقین کی گھڑی گئ سازش کو اللہ رب العزت نے آسمان سے اپنا قرآن اتار کر بے نقاب کر دیا اور آپ رضی اللّٰہُ عنھا کی صداقت کی گواہی دے کر منافقین و مومنوں کو واضح کر دیا۔۔۔
    اہل ایمان اپنی ماں کی شان میں اترے قرآن کی تلاوت تا قیامت کرتے رہیں گے اور ان کے ایمان کو جِلا ملتی رہے گی ان شآ ء اللہ۔
    حضرت عائشہ نے اٹھارہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارے اور اڑتالیس سال بیوگی کے گزارے۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی تمام عمر قرآن و حدیث کی تعلیم عام کرتے گزری۔۔۔
    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخر میں 17 رمضان المبارک میں 66سال کی عمر میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔۔

    سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول