آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ایک ہی روز پولنگ کرانے کے بجائے انتخابات کو تین مراحل میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی مجموعی 53 نشستیں ہیں، جن میں 45 جنرل اور 8 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ مخصوص نشستیں خواتین، علما، ٹیکنوکریٹس اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مختص ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 38 لاکھ 4 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن کے لیے 6 ہزار 983 پولنگ اسٹیشن اور 10 ہزار 913 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔
پولنگ تین مراحل میں ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستوں پر پولنگ ہوگی، جبکہ آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر مکمل ہوگا۔
ابتدائی طور پر 1,265 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، تاہم جانچ پڑتال، اپیلوں اور دستبرداری کے بعد 45 جنرل نشستوں پر تقریباً 852 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔
سیاسی منظرنامے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کیا ہے۔ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارٹی کے کئی اہم امیدوار مختلف حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) بھی بھرپور انداز میں میدان میں موجود ہے اور تقریباً 44 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پارٹی کی قیادت شاہ غلام قادر کر رہے ہیں جبکہ متعدد سابق پی ٹی آئی رہنما بھی ن لیگ میں شامل ہو کر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض سابق رہنما آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، استحکام پاکستان پارٹی، جموں کشمیر پیپلز پارٹی، پیپلز نیشنل پارٹی، تحریک لبیک پاکستان اور متعدد آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں میں قسمت آزما رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان متوقع ہے، جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔ مرحلہ وار پولنگ سے سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ہر مرحلے کے نتائج ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسی روز جاری کیے جائیں گے۔
آزاد کشمیر انتخابات 2026: تین مرحلوں میں پولنگ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع
