سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چند افراد فوٹو سیشن کے لیے زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور ان پر سرخ رنگ کا مائع ڈالا گیا تھا تاکہ زخمی ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔
وائرل پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیسے ہی پولیس اہلکار ان کے قریب پہنچے اور انہیں حرکت کرنے کو کہا، وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، جس کے بعد پوسٹ کرنے والوں نے اسے "دھوکا دہی” قرار دیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی)، جو گزشتہ سال بجلی کے نرخ، طرزِ حکمرانی، معاشی حقوق اور عوامی مسائل کے حوالے سے سامنے آئی تھی، حالیہ مہینوں میں اپنی توجہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ان 12 مخصوص نشستوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے جو بھارتی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ ان مخصوص نشستوں کی موجودگی کے باعث پاکستان میں قائم سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر کی حکومت کی تشکیل پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں آئین کے تحت محفوظ ہیں اور انہیں ختم کرنے یا ان میں تبدیلی کے لیے باقاعدہ آئینی ترمیم درکار ہوگی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا فراڈ بے نقاب
