پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 نکیال میں پارٹی کارکن مختار یونس کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ میرپور نکیال میں ان کی جماعت کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں اور الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ فائرنگ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی جانب سے کی گئی۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ دو روز قبل بھی مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سردار عمیر کی مبینہ فائرنگ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس پر بروقت کارروائی کی جاتی تو آج ایک قیمتی انسانی جان ضائع نہ ہوتی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مختار یونس نکیال میں پارٹی کی انتخابی مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے تھے۔ ان کے بقول مخالفین انتخابی میدان میں شکست کے خوف سے بوکھلا گئے ہیں اور اسی وجہ سے غیر جمہوری اور تشدد پر مبنی ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور انتخابی عمل کو ہر قسم کے تشدد اور دباؤ سے پاک بنایا جائے تاکہ ووٹرز آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ فائرنگ کے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مختلف دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
نکیال فائرنگ واقعہ، بلاول بھٹو کا نوٹس کا مطالبہ، کارکن کی ہلاکت پر شدید ردعمل
