Baaghi TV

Category: کشمیر

  • جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    لندن:جوکشمیریوں‌ کا حامی ہو اسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا ، اطلاعات کے مطابق 12 دسمبر کو برطانیہ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ، بی جے پی کابیرون ملک ایک حامی گروپ ،بھارتی باشندوں کو لیبر پارٹی کو کو ووٹ نہ دینے اورقدامت پسندوں کی حمایت کرنے پر مجبور کررہا ہے۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…

    اوورسیز فرینڈز آف بی جے پی کے صدر کلدیپ سنگھ شیخوات نے سردیوں کے انتخابات میں "لیبر پارٹی کو ووٹ نہ ڈالنے” کے لئے مندروں ، گرودواروں اور کمیونٹی تنظیموں کے توسط سے ہندوستانی باشندوں کو متحرک کرنے کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق لیبر پارٹی نے 25 ستمبر اپنی پارٹی کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں "کشمیر میں بین الاقوامی مداخلت اور اقوام متحدہ کے زیرقیادت رائے شماری کے مطالبے کی حمایت کی گئی تھی۔”

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    ذرائع کے مطابق وریندر شرما اور بیری گارڈنر جیسے لیبر ارکان اسمبلی نے ان کی پارٹی کے اس اقدام پر "مایوسی” کا اظہار کیا۔ ہندوستانی لیبر ارکان پارلیمنٹ اور ہندوستانی باشندوں نے اس معاملے پر "تشویش” کا اظہار کیا ہے۔شیخوات نے کہا کہ اب ہم کنزرویٹو کی حمایت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہے ۔ برمنگھم میں مقیم تحریک کشمیر یوکے کے صدرراجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ان کے نزدیک ، "مسئلہ کشمیر یہاں انتخابات کا فیصلہ کن عنصر ہے۔”

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

  • سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    جموں:مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع رام بن میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ایک حادثے میں دو خواتین سمیت پانچ مسافر موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق کے قومی شاہراہ ایک نجی کار Swift dzire شام قریب ساڑھے سات بجے جموں سے سرینگر کی طرف جارہی تھی کہ پیٹھال کے مقام پر دوسری گاڑی سے اوور ٹیک کرتے ہی سڑک سے پھسل کر گہرے نالے میں جاگری۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    جس کے نتیجہ میں دو خواتین سمیت پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق حادثے کی خبر ملتے ہی پولیس اور مقامی رضاکاروں نے بچاو مہم شروع کر کے لاشوں کو ضلع ہسپتال رامبن منتقل کیا۔رامبن پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…

    حادثے میں مرنے والوں کی شناخت وکرم سنگھ (29) ولد دھرم سنگھ ساکنہ کٹھوعہ، سنسار سنگھ (33) ولد اوتم سنگھ ساکنہ ہرہ نگر کٹھوعہ،سنیل کمار (29) ولد وجے کمار ساکنہ سامبہ، اوتار سنگھ (25)ولد رام سنگھ ساکنہ جموں کے طور ہوئی جبکہ ایک لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

  • کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

    سری نگر:کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین کسے اضافی رقم لی جانے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل)کے صارفین نے الزام لگایا ہے کہ ‘انہیں لینڈ لائن کنکشن نصب کرانے کے لیے نہ صرف بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے بلکہ ہفتوں تک انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    یہ بات بھی قابل غور ہےکہ وادی میں پانچ اگست کو مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد ہونے کے قریب ایک ماہ بعد لینڈ لائن سروس کو بحال کیا گیا تھا جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بی ایس این ایل کے دفاتر میں لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے درخواستیں جمع کی تھیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق بی ایس این ایل کے صارفین کے ایک گروپ نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کے لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے تمام واجبات ادا کئے ہیں ۔ لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں اور رقم ادا کرنے کے بعد بھی دو دن کا کام پندرہ دن گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہوپا رہا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ایک صارف غلام نبی نے کہا کہ ‘بی ایس این ایل کا فیلڈ عملہ لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے میں کوئی پس وپیش نہیں کررہا ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو لوگ لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے بے تاب ہوگئے جس کا فیلڈ عملے نے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ لوگوں سے کنکشن کے لیے منہ مانگی رقم وصول کررہے ہیں’۔

    ایک صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں ہورہے۔ اضافے کو دیکھ کر متعلقہ دفاتر کے باہر ‘ایجنٹ’ بھی نمودار ہوئے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جوں ہی لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں اضافہ ہونے لگا تو متعلقہ دفاتر کے باہر ایجنٹ نمودار ہوئے جو فارم جمع کرنے میں ایک ہزار سے پندرہ سو روپے وصول کرتے ہیں جبکہ خود فارم جمع کرنے کے صرف پانچ سو روپے لگتے ہیں’

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘یہ ایجنٹ بی ایس این ایل کے سم کارڑ بھی مقررہ ریٹ سے کافی مہنگے داموں فروخت پر کرتے ہیں۔’ ‘کئی کیسز میں ایسا بھی ہوا کہ حکام نے لینڈ لائن نصب کرانے کے احکامات جاری کیے لیکن موقع پر حالات اس کے برعکس تھے۔۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    بی ایس این ایل کے جنرل مینیجر نذیر احمد نے ساؤتھ ایشین وائرسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ ان کی نوٹس میں لائی جانے والی شکایات کو دیکھیں گے۔’قابل ذکر ہے کہ بی ایس این ایل مالی بحران سے دوچار ہے لیکن وادی میں مواصلاتی نظام پر پابندی کے بعد جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو ہزاروں لوگوں نے لینڈ لائن کنکشن کی فراہمی کے لیے درخواستیں جمع کیں جس سے کمپنی کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچا۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم

  • کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم سنگھ

    سری نگر:کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال بہت خراب،قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،یہ مطالبہ پینتھر پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ نے کیا ہے، اطلاعات کےمطابق جموں وکشمیر نیشنل پینتھرزپارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر سے اپیل کی ہے کہ حریت کانفرنس سمیت جموں و کشمیر کی تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جلد از جلد قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلائیں کیونکہ جموں و کشمیر کے لوگ نہایت خراب صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    انہوں نے اپنی اپیل میں مزید کہا کہ صدر جموں و کشمیر میں قانون کی حکمرانی واپس لانے کے لیے مداخلت کریں کیونکہ لیفٹننٹ گورنر کو ریاست میں قانونی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر میں گزشتہ تین مہینہ سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کی قید پر افسوس کا اظہار کیا جو کشمیر میں حراستی مراکز میں قید میں ہیں جن میں سنٹور ہوٹل اور گیسٹ ہاوس وغیرہ شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی شخص (خواہ بھارت کا شہری نہ ہو)کو مقدمہ یا ایف آئی آر کے بغیر تین مہینہ سے زیادہ حراست میں رکھا جائے اور ایسا کرنا غیرقانونی، غیر آئینی ہے، جو آئین کے چیپٹر۔3میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جو 5اگست 2019کو صدر کے ذریعہ آرٹیکل 35 اے کو، جسے 14 مئی 1954کو صدر کے آرڈی ننس سے جموں وکشمیر میں فذ کیا گیا تھا، ہٹانے کے بعد ریاست میں نافذ ہوگئے ہیں۔

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    جموں وکشمیر نیشنل پینتھرزپارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ اس کے بعد تین سابق وزرائے اعلی سمیت کسی بھی شخص کو پی ایس اے کے تحت قید میں رکھا جانا غیرقانونی اور بنیادی حقوق کی خلا ف ورزی ہے۔ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی دلچسپ ہے کہ حکومت ہند کشمیر میں ان31سیاسی قیدیوں کی دیکھ بھال میں اب تک 2کروڑ 63لاکھ روپے خرچ کرچکی ہے۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

  • کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں حکومت ایس ایم ایس سروس کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ چند علاقوں میں براڈ بینڈ کنکشنز کو بھی بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق براڈ بینڈ کنکشنز خاص طور پر سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور چند ہوٹلز میں بحال کیا جاسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل رہے گی۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ذرائع کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد وادی کشمیر میں پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس بحال ہونے کے بعد انتظامیہ نے ایس ایم ایس سروس کو بند کر دیا تھا۔ وادی کے تمام میڈیا و نجی دفاتر کے انٹرنیٹ کنکشنز بند رکھے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق بعض سرکاری دفاتر بشمول ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھا گیا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے سینیئر افسر نے ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت اب وادی میں ایس ایم ایس سروسز کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن براڈ بینڈ کنکشنز کو بحال کرنے کا وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔’

     

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    گذشتہ روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر سے متعلق جائزہ میٹنگ طلب کی جس میں داخلہ سکریٹری، جموں و کشمیر چیف سکریٹری اور ڈی جی پی نے شرکت کی تھی۔

     

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    معتبر ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں وادی کشمیر میں مواصلاتی نظام پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کا منصوبہ ہے۔بتادیں کہ 5 اگست جس روز مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کیے اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، اس سے ایک روز قبل یعنی 4 اگست کو ریاست بھر میں موبائل فون و انٹرنیٹ سروسزمعطل کردی گئی تھیں۔

  • ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    سری نگر:ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم ہوگئی ہے ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیرکے وفاقی علاقے میں تبدیل ہونے سے یہاں ستر دہائیوں تک لوگوں کے دلوں میں رہنے والا نام ریڈیو کشمیر سرینگر بھی تبدیل کیا گیا جس سے ہزاروں مقامی سامعین بے حد جذباتی ہو گئے۔ریڈیو کشمیر سرینگر کے ڈلگیٹ میں قائم اس اسٹیشن کا نام اب آل انڈیا ریڈیو سرینگر ہے

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    سری نگرسے ذرائع کے مطابق بھارتی قبضے کے بعد اس اسٹیشن سے ایسے تمام تر بینرز، پوسٹرز اور بورڈ ہٹا لیے گئے جن پر ریڈیو کشمیر سرینگر نام تحریر تھا، اب نئے نام کو چسپاںکئے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ حالانکہ نام کی اس تبدیلی سے اسٹیشنوں کے کام کاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن اس تبدیلی سے یہاں کے مقامی لوگ کافی جذباتی ہوئے ہیں۔

    معتبر ذرائع کے مطابق ریڈیو کشمیر سرینگر 1953 سے آل انڈیا ریڈیو کنٹرول میں کام کرتا آ رہا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ریڈیو کے کئی سامعین نے بتایا کہ انہوں نے جوں ہی ریڈیو کشمیر کے بجائے آل انڈیا ریڈیو سنا تو وہ بے حد جذباتی ہو گئے کیوںکہ ریڈیو کشمیر نام ان کے لیے دہائیوں کا ساتھی تھا۔

    بجلی کے نرخنامے میں اضافے کی تردید، مولانا دھرنے والوں کواکسانے کے لیے جھوٹ بولتے…

    سرینگر اسٹیشن میں کام کر نیوالے ایک پروگرام پیش کرنے والے نے ایک ٹی وی چینل ساؤتھ ایشین ٹی وی کو بتایا کہ جمعرات کو سبھی خبر پڑھنے والوں، میزبانوں اور ہدایت کاروں کو ہدایت ملی کہ ریڈیو کشمیر سرینگر کے بجائے آل انڈیا ریڈیو سرینگر پڑھا جائے ۔

    بھارت کے اس جارحانہ رویے پرسخت تنقید کرتے ہوئے سنئیر صحافی و آل انڈیا ریڈیو سرینگر کے سابق ڈائریکٹر سید ہمایوں قیصر نے کہاکہ ‘ظاہری طور پر ریڈیو کشمیر کا نام تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن کشمیری عوام کے دل اور دماغ میں ریڈیو کشمیر ہی رہے گا’۔

    سید ہمایوں قیصرکہتے ہیں‌ کہ ریڈیو کشمیر نام سے مقامی لوگوں کے احساسات اور جذبات جڑے ہیں اور یہ کشمیری عوام کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کی تبدیلی یہاں کی عوام میں کافی فرق پڑ سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے جتنی زیادہ پابندیاں لگائی جارہی ہیں کشمیریوں کے دلوں میں اتنی زیادہ نفرت اور دوری پیدا ہورہی ہے

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    ہمایوں قیصر نے کہا کہ اس اسٹیشن سے براڈ کاسٹ کیے جانے والے نغموں کی وجہ سے لوگوں نے ریڈیو کشمیر کو اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ بنا لیا تھا اور اب یہ نام تبدیل کرنے سے لوگوں میں کافی فرق پڑ سکتا ہے۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق سابق ڈائریکٹر نے کہا کہ ریڈیو کشمیر نے مقامی تمدن، ثقافت زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو اس نام سے کافی لگاؤ ہے، اور کئی صدیوں تک یہ لگاؤ رہے گا۔

    انہوں نے کہا کہ نام تبدیل کرنے کے بعد بھی وہیں پروگرام نشر ہونگے لیکن لوگوں کے دلوں میں جو امید تھی کہ ریڈیو کشمیر ان کے مسائل کو اجاگر کرنے نمایاں کردار کر رہا ہے اس امید میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

    ہمایوں قیصر نے ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو کشمیر اہم تھا اور رہے گا، کشمیری عوام اسی نام ( ریڈیو کشمیر)سے جڑے تھے اور آگے بھی اسی نام سے کو پکارتے رہیں گے، کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہ نام بسا ہوا ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی ایسے ریڈیو اسٹیشنز ہیں جنہیں لوگ سننے کو گوراہ نہیں کرتے لیکن یہ اسٹیشن لوگوں کے دلوں سے جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس نام کو بھول نہیں سکتے ہیں۔

    جموں، لیہہ اور سرینگر کے اسٹیشنز سے کشمیری، اردو، کرگلی، ہندی اور پہاڑی زبانوں میں مختلف نوعیت کے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ریڈیو کشمیر سرینگر کو یکم جولائی 1948 کو قائم کیا گیا، اور اس وقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے ڈلگیٹ میں زیرو برج کے پاس اس کا سنگ بنیاد رکھا۔چھ جون 1960 کو اسی جگہ پر اس وقت کے وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے نئی اور وسیع عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔

    کس کی قسمت جاگے گی ؟ماورا حسین کوجیون ساتھی مل گیا؟

    جی این زتشی کو ریڈیو کشمیر کا پہلا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا۔اس کے بعد ایک معروف پروگرام زون ڈب سے ریڈیو کی مقبولیت میں چار چاند لگ گئے اور ریڈیو کو ہر گھر میں سنا جانے لگا۔ کشمیری زبان میں نشر کیا جانے والا یہ پروگرام 19 برسوں تک نشر ہوتا رہا۔سنہ 2014 میں ریڈیو کشمیر سرینگر ایک بار پھر ہر کسی کی زباں پر آگیا جب تباہ کن سیلاب نے تمام تر جدید تکنیک، مواصلاتی نظام اور ذرائع ابلاغ کو تباہ کیا اس وقت ریڈیو کشمیر نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور حالات سے آگاہ کرنے کا کام کیا۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    سری نگر:پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ریلوے کے حالات بہت برے ہیں، دوسری طرف انڈین ریلوے اس وقت خسارے میں جارہا ہے، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری نا مساعد صورتِحال اور عوامی ہڑتال کی وجہ سے جہاں عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے، وہیں ریلوے محکمے کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    سری نگر سے آمدہ اطلاعات کےمطابق جموں وکشمیرانتظامیہ کےایک اعلی افسرکے مطابق گزشتہ 13 ہفتوں میں ریلوے محکمے کو تقریبا تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جو یومیہ تقریبا 3 لاکھ بنتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے پورے ملک کی طرح کشمیر میں بھی کچھ خاص آمدنی نہیں حاصل کر رہی اور ایسی صورتحال میں نقصان ہونا محکمے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    کس کی قسمت جاگے گی ؟ماورا حسین کوجیون ساتھی مل گیا؟

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ آنے والے ایام میں عوام کے لیے ریلوے سہولیات بحال کی جائیں گی۔قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی اس ٹرین میں روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کرنے کے بعد مواصلاتی نظام بشمول انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروسزمعطل کرنے کے علاوہ ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا

    انڈین پریمیئر لیگ میں خراب امپائرنگ ، ٹیموں کے مطالبے پر اضافی امپائرچیک رکھیں گے

    نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق جہاں گورنر انتظامیہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئی تھیں وہیں سیاسی رہنمائوں اور کارکنان کی گرفتاری اور نظر بندی کے علاوہ مواصلاتی نظام بشمول انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروسزمعطل کرنے کے علاوہ ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

    اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے مرحلہ وار بندشوں میں نرمی اور لینڈلائن و پوسٹ پیڈ موبائل خدمات کو بحال کیا گیا تاہم پری پیڈ موبائل، ایس ایم ایس خدمات اور انٹرنیٹ پر ہنوز قدغن عائد ہے، اسکے علاوہ ٹرین سروسز بھی بدستور معطل ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے، ویمن انڈیا موومنٹ

    جے پور :ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ‘ویمن انڈیا مومنٹ’ کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کی گئی۔ اس کا مقصد کشمیر کے حالات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔پریس کانفرنس میں ویمن انڈیا مومنٹ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ‘کشمیر سے کرفیو ہٹا کر وہاں حالات بہتر کیے جائیں’۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق تنظیم کی ایک رکن نے کہا کہ ‘کشمیر میں لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں جلد سے جلد آزاد کیا جائے’۔

    سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان…

    تنظیم کے اعلی ذمہ داروں کے مطابق ‘کشمیر کے حالات کافی خراب ہو چکے ہیں۔ وہاں تین ماہ سے کرفیو نافذ ہے جسے ابھی تک ہٹایا نہیں گیا ہے’۔تنظیم کی ایک رکن کے مطابق ‘کشمیر میں جن لوگوں کا انتقال ہو رہا ہے انہیں گھروں میں ہی دفن کیا جا رہا ہے۔ جو سبھی لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کہہ رہے تھے وہ لوگ کہاں چلے گئے؟’۔القمرآن لائن کے مطابق تنظیم کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ‘ہماری تنظیم سے منسلک کچھ لوگوں نے کشمیر کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں خاص کر خواتین پر ظلم ہو رہا ہے’۔

    سن لیں !مولانا صاحب جلدی جانے والے ہیں، فیصل واوڈا کا دعویٰ

    تنظیم کی قومی صدر مہرالنسا خان نے صحافیوں سے بات چیت کے درمیان کہا کہ ‘کشمیر میں جو ہو رہا ہے میڈیا اسے نہیں دکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اب بھی صحافی نہیں جاگے تو آنے والے وقت میں وہ اپنے بچوں کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔

    انڈین پریمیئر لیگ میں خراب امپائرنگ ، ٹیموں کے مطالبے پر اضافی امپائرچیک رکھیں گے

    خان کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر میں بچیاں محفوظ نہیں ہیں ان کے ساتھ آرمی کے جوان زیادتی کر رہے ہیں۔ بچوں کو قید کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی’۔ خان کا کہنا تھا کہ ‘ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ جلد سے جلد کشمیر کے حالات کو ٹھیک کیا جائے’۔

  • فکرِاقبال، ذکرِکشمیر، یوم اقبال پر کنونشن "سرعام” کےسنگ

    لاہور: فکرِاقبال، ذکرِکشمیر،یوم اقبال پر کنونشن”سرعام”کےسنگ ،تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مشہورومعروف سماجی پروگرام "سرعام : کے روح رواں اقرارالحسن نے اعلان کیا ہے کہ ان کے مشہورزمانہ سماجی پروگرام کے تحت سیالکوٹ میں ہونے والے فکراقبال پروگرام کو کشمیر کے نام کیا جائے گا

    ذرائع کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس پروگرام کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے اقرارالحسن کا کہنا تھا کہ وہ اس یومِ اقبال پر ٹیم سرِعام سیالکوٹ میں اپنے ڈویژنل کنونشن کا انعقاد کر رہی ہے۔ فکرِاقبال، ذکرِکشمیر کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس کنونشن میں علامہ اقبال کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیم سرِعام کی ہر تقریب کی طرح کشمیر پر بھی آواز بلند کی جائے گی۔

    یاد رہےکہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے خصوصی ہدایت کے بعد ملک میں کشمیراورکشمیریوں کے حقوق کے لیے بہت زیادہ پروگرام اور سلسلے جاری ہیں ، سرعام کی ٹیم کے سربراہ اقرار الحسن کیطرف سے اعلان کے بعد سیالکوٹ میں بھرپورتیاریاں کی جارہی ہیں

  • میں مودی سے پوچھتاہوں کہ کیا کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے؟ اشوک سوائن

    نئی دہلی :بھارت کے اشوک سوائن جو کہ معروف تجزیہ نگارہیں‌نے کشمیریوں کی بے بسی پر بہت خوبصورت انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دعوے بھی عجیب ہیں کہ ایک طرف تو بھارت کہتا ہےکہ کشمیربھارت کا حصہ بن چکا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو شہریوں کے حقوق بھی نہیں دے رہا

    اشوک سوائن نے ٹویٹ پیغام کے ذریعے کہا ہےکہ بھارت اپنے ہی دعووں کے برعکس کام کرتا ہے، اشوک کہتے ہیں کہ نئی دہلی میں پولیس کو تو احتجاج کا حق حاصل ہے حالانکہ وہ ریاستی ادارہ ہے اور ریاستی ادارے اپنی ریاست کے خلاف احتجاج نہیں کرتے لیکن وہ پھر احتجاج کرلیتے ہیں مگر کشمیریوں کو تو زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں

    اشوک سوائن کہتے ہیں کہ بھارت اپنے دہرے معیار کی وجہ سے نقصان اٹھائے گا، کشمیریوں کو پہلے ہی بھار ت سے نفرت ہے ، اب اگر ان سے بولنے کا حق کا بھی چھین لیا جائےتو پھر انہیں کوئی بھارت سے دور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا