Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر: دو نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا

    سرینگر:بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری وساری ہے، اور دوسری طرف کشمیری بھی آزادی کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں‌ ہیں، اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں گذشتہ روز سے جاری سرچ آپریشن میں دو نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بانڈی پورہ کے لوڈارہ علاقے میںاتوار کے روز سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی گئی۔ تلاشی کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو کل رات اور ایک کو پیر کی صبح شہید کر دیا گیا۔شہید نوجوانوں کی شناخت نہیں ہو سکی

    دوسری طرف ان دوکشمیریوں کی شہادت کےخلاف بانڈی پورہ میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے بھارتی افواج کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، اس موقع پر کشمیری خواتین نے بھی کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے لگاکر بھارت کو اپنے آخری اورحتمی فیصلے سے آگاہ کردیا

  • مقبوضہ کشمیر:اخروٹ کی فصل میں 10کروڑ کا خسارہ

    جموں :مقبوضہ کشمیرمیں اخروٹ کی تجارت کے مرکز سرحدی شہر اوڑی میں میں ، اگست کے بعد سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اخروٹ کے تاجروں کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ، اوڑی کی لگامہ مارکیٹ اخروٹ کے حوالے سے خاص اہمیت کی حامل ہے جہاں خطے کا سب سے اعلیٰ اخروٹ فروخت ہوتا ہے۔

    سری نگر سے ذرائع کےمطابق 76 سالہ تاجر محمد امین چلو کا کہنا ہے کہ اس موسم میں اخروٹ کی بیشتر فصل تباہ ہوگئی ہے۔ کرفیو نے صورتحال کو مشکل بنا دیا تھا ۔”ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اوڑی بیوپار منڈل کے صدر پرویز احمد چلو نے کہا ، "ہم اپنا اسٹاک باہر کے بازاروں میں بھیجنے سے قاصر ہیں،

    تاجر محمد امین چلو کہتے ہیں‌کہ ہم نے دو مہینوں میں 10 کروڑ کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔ ہم اخروٹ کو مقامی منڈیوں میں فروخت کررہے ہیں لیکن زیادہ کمائی نہیں کر رہے ۔اوڑی سے اخروٹ دہلی ، ممبئی اور کولکتا ، خاص طور پر دیوالی کے دنوں میں لے جایا جاتا ہے۔ مواصلات کی عدم موجودگی میں ، تاجر آرڈر لینے اور مال بھیجنے سے قاصر ہیں۔

    محمد امین چلکوکہتے ہیں‌ کہ اگر اخروٹ لینے میں تاخیر ہوتی ہے تو ، اس کادانہ سیاہ ہوجاتاہے ، جس کی وجہ سے قیمت میں کمی آتی ہے۔اخروٹ کے مغز، یعنی دانے کے رنگ سے اس کے معیار اور قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ سفید اخروٹ کے دانے کوہول سیل میں 800 سے 1000 روپے کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے ، بھورے رنگ یا کالے رنگ کے دانے کو کو آدھی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔

    60 سالہ محمد یوسف کاکڑو ، جو لاگاما میں دکان بھی چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سے ہمارے نقصان میں اضافہ ہوا۔ہم یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیںکہ اخروٹ کی شرح قیمت کیا ہونی چاہئے۔اوڑی میں تاجر اخروٹ کو توڑنے کے لئے روزانہ مزدوری دیتے ہیں جسے بعد ازاں فروخت کیا جاتا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے کوئی مزدور میسر نہیں ہیں۔ محمد امین چلکو نے کہا جن تاجروں نے مزدورلگائے انہیں اس کے لئے بہت زیادہ معاوضہ ادا کرنا پڑا۔

    بادگراں گاؤں کے 36 سالہ شبیر احمد اعوان نے بتایا کہ اخروٹ توڑنے کے لئے مزدور روزانہ 500 روپے کا مطالبہ کرتے ہیں ، جبکہ اس سے پہلے کی شرح 200 تھی۔لیکن اب صورت حال اس قدر خراب ہے کہ جس چیز پر گزارا کرتے تھے وہ بھی بھارتی مظالم کی نذرہوگئی ہے

    40 سالہ شفقت عزیز ، جو 15 سال سے کاروبار میں ہیں ، نے بتایا کہ اس سال اخروٹ کی قیمتیں حالات کی وجہ سے بڑھ گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لگامہ مارکیٹ کا مجموعی کاروبار ہر موسم میں 50 سے 60 کروڑ ہے۔ لاگاما میں 25 تھوک فروش اور 60 سے زیادہ مقامی فروخت کنندہ ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں عید میلادالنبی ﷺ پر بھی کرفیو، نوجوانوں کا بھرپور احتجاج

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جبر اور پابندیوں اور عید میلادالنبی ﷺ پر بھی کرفیو کے باعث نوجوانوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ عوام بی جے پی اور آر ایس ایس سے ملے غداروں پر نظر رکھیں۔

    نبی کریم ﷺ نے ظلم، تعصب، نفرتوں اور ناانصافی کا خاتمہ کیا؛ نور الحق قادری

    مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاؤن 5 اگست سے جاری ہے، جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں، سری نگر سمیت تما م بڑوں شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے تو تعلیمی ادارے بند ہے ۔

    اسوہ کامل کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے، ڈاکٹر محمد عبدالصمد موہنہ

    حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ عوام بی جے پی اور آر ایس ایس سے ملے غداروں پر نظر رکھیں۔ ضلع کشتواڑ میں بھارتی فورسز نے تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا، بھارت کی ظالمانہ کارروائی کے خلاف کشمیریوں نے احتجاج کیا۔

    نبی کریم ﷺ ہمارے لیے رول ماڈل ہیں، وزیراعظم

  • مودی اورسپریم کورٹ ہندوتوا کی محافظ ،مسجدکی جگہ مندرامت کیخلاف اعلان جنگ ہے، مسعود خان

    کراچی: بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہندوتوا کے تحفظ کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے ، بھارت کی اسی سازش کے پردے فاش کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے بابری مسجد کی جگہ مندرکی تعمیرکے بھارتی فیصلے کو امت کیخلاف اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ متعصب اور جانبداری پر مبنی ہے۔

    مودی کےاسرائیلی جاسوس ایجنسی سے خفیہ تعلقات سامنے لائے جائیں، بھارتیوں نے مطالبہ کردیا

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل ، جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور دیگر سے ملاقات اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نےانتہائی جانبدارانہ اورمتعصبانہ فیصلہ کیا۔

    سپریم کورٹ کے ہندووں کے حق میں فیصلے سے حوصلہ ملا،اسی کی تناظر میں آگے بڑھیں گے:مودی

    سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ ایسےوقت میں دیا جب پاکستان نےکرتارپورراہداری کاافتتاح کیا، پاکستان نے امن، محبت اورمذہب کےتقدس کاپیغام دیا جب کہ بھارت نےپیغام دیاکہ وہ مسلمانوں کےمقدس مقامات کااحترام نہیں کرتا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کےاس اقدام نےہندومسلم تصادم کاآغاز کیاہے ،بھارت چاہتاہےکہ ایک نیاتصادم اورشورش پیداہو با ہماری ذمہ داری ہےکہ بھارت کوروکنےکیلئے عملی اقدامات کریں۔

    9-نومبرسکھوں کی تاریخ کا بھی حصہ بن گیا تاریخ ساز کرتارپور راہداری کے افتتاح کے مناظر

    صدرآزادکشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرسےتوجہ ہٹانا چاہتا ہے مقبوضہ وادی میں کرفیوکو97دن ہوگئے ہیں،مقبوضہ وادی میں خواتین کی بےحرمتی کی جارہی ہےا ور 9لاکھ غاصب بھارتی افواج رات کی تاریکی میں گھروں پرحملہ کررہی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم سناتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے ۔

    بنارس ہندو یونیورسٹی میں’مسلم پروفیسر‘ کی تقرری پر ہنگامہ، طلبا نے کیا احتجاجی مظاہرہ

  • بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

    لاہور : بھارتی انتہاپسند ہندو حکومت کے تھوڑے عرصے کے اندر مسلمانوں‌پر دہراوارکرکے دل چھلنی کردیئے ہیں، بھارت نے ایک طرف مقبوضہ کشمیر پر بندوق کی نوک پرقبضہ کرکے کشمیریوں کو بے دخل کردیا تو دوسری طرف مسلمانوں کے مرکز و محور بابری مسجد کوشہید کرکے مندربنانے کا حکم دےکرزخموں پر نمک چھڑک دیا ہے ،

    بھارت کی ہندو سرکار اور بھارتی سپریم کورٹ کے ہندوتوا فیصلے کے بعد اب بھارت میں پڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم دیا ہے جس کے بعد بھارت بھر میں شدید ہندو مسلم فسادات کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اقدامات، مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن نے پہلے ہی بھارت کے مسلمانوں کو متنفر کر رکھا ہے۔آج بھارتی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے سنائے گئے متنازع فیصلے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے جس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے شدید خدشات ہیں۔

    بھارتی سپریم کورٹ کے جس 5 رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا ہے اس میں ایک ہی مسلم جج جسٹس نذیر شامل ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ تعصب پر مبنی اور متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔اس متنازع فیصلے کے موقع پر ایودھیا میں دفعہ 144 نافذ کر کے متنازع مقامات سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، کئی مقامات پر انسدادِ دہشت گردی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

    بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کیا جائے جبکہ مسلمانوں (سنی وقف بورڈ) کو ایودھیا میں متبادل 5 ایکڑ زمین دی جائے۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے شیعہ وقف بورڈز اور نرموہی اکھاڑے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیں۔بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد گرانا، اس میں بت رکھنا غیر قانونی ہے، مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب یا عقیدے پر بات کرے، عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ تمام مذاہب کے عقیدوں کی بات کرتا ہے۔عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا، بابری مسجد کے نیچے تعمیرات موجود تھیں جو اسلامی نہیں تھیں، تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیا رام کی جنم بھومی ہے۔

    بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے مندر مسجد کے اس طویل تنازع کا فیصلہ سنایا، رنجن گوگئی 17 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پانچوں ججز نے ایک ایک کر کے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا، جسٹس نذیر اس بینچ میں واحد مسلمان جج ہیں۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اس موقع پر عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کی تھی، ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک مندر تھا، مسجد کی شہادت کے بعد الہٰ آباد ہائی کورٹ میں کیس چلا۔

    ہائی کورٹ نے 30 ستمبر 2010ء کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایودھیا کی 2 اعشاریہ 7 ایکڑ زمین کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک تہائی زمین رام لِلا مندر کے پاس جائے گی، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو اور باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 14 اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019ء کو مکمل کی تھی اور فیصلہ محفوظ کیا تھا، یہ محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سنایا گیا۔

  • ضلعی محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار یکجتی ریلی

    فیصل آباد(محمد اویس)حکومتی ہدایات پر ضلعی محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار یکجتی کے لئے جنرل بس سٹینڈ میں ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سیکرٹری آر ٹی اے ضمیر حسین نے کی۔اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر جنرل بس سٹینڈ رانا حبیب اللہ اور ٹرانسپورٹرز وشہریوں نے بھی شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے بینرز اور پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سیکرٹری آر ٹی اے نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر میں جرات، دلیری اور بہادری سے بھارتی ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے والے بھائیوں،بزرگوں، ماؤں،بہنوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بہنے والا خون راہیگاں نہیں جائے گا اورخواتین کی تحریک آزادی میں قربانیاں اور خدمات تاریخ کا حصہ ہیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حد کررکھی ہے اور بھارتی فوج گھروں کے اندر داخل ہوکر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کررہی ہے عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے میں کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو ختم نہیں کرسکتا کیونکہ بین الاقوامی اداروں میں کشمیر پر موثر آوازیں اٹھ اور ہندوستانی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب ہو رہی ہیں کشمیر کی آزادی کا سورج اب طلوع ہونے والا ہے۔اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر جنرل بس سٹینڈ نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کشمیریوں کا حق ہے جسے کوئی طاقت سلب نہیں کر سکتی۔اس موقع پر کشمیر بنے گ پاکستان،آزادی کشمیر ناگزیر کے نعرے بھی لگائے گئے۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے چوک گھنٹہ گھر میں بڑی ریلی

    فیصل آباد (محمد اویس)حکومت پنجاب کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے اشتراک سے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے چوک گھنٹہ گھر میں بڑی ریلی منعقد ہوئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنرمحمد علی نے کی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی علی احمد سیان،پرنسپل ایم سی بوائز ہائر سیکنڈری سکول کوتوالی روڑ راؤ اقبال،اختر بٹ،بوائز وگرلز سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز، ٹیچرز اور بڑی تعداد میں طالب علم بھی موجود تھے جنہوں نے ہاتھوں کی رنجیر بنا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔شرکا نے کشمریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے بینرزاورپلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جبکہ کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کا ہر شہری مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی کے لئے ان کی اخلاقی و سفارتی امداد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کشمری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔اس سلسلے میں عالمی اداروں کو موثرکردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم چٹان کی طرح متحد ہے جو کہ کشمیر کی آزادی کے لئے واضح پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلی میں طالب علموں کی بڑی تعداد میں شرکت کشمیریوں کے ساتھ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاجی طور پر بازو پر سیاہ پٹی بھی باندھی اور تقریبا سو دن سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے عائد کرفیو اوران پرظلم وستم کی مذمت کی۔سی ای او ایجوکیشن نے کشمیری عوام کی آزادی کے لئے لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کے دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔یکجہتی کشمیر ریلی سے دیگر مقررین وطالب علموں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت کو مظالم کے ذریعے نہیں دبا سکتا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں مسلم بچوں‘ خواتین اور بوڑھوں پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم اورقتل عام افسوسناک ہے جسے فوری بند کیا جائے۔اس موقع پر کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے جبکی کشمیری عوام کی فتح و نصرت‘ قومی یکجہتی اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی خصوصی دعا کی گئی۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی عروج پر ہے، سردار مسعود خان

    کراچی : بھارت یہ یاد رکھے کہ تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری اپنی منزل "آزادی ” کی طرف بڑی تیزی سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی عروج پر ہے، دنیا مفادات کی خاطر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو نظرانداز کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں کونسل آف فارن ریلیشنز کے ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    تبدیلی سعودی عرب پہنچ گئی ، نصاب میں موسیقی، تھیٹراوردیگرفنون شامل

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ96دن سے کشمیری عوام قیدوبند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بھارت کی دھوکا دہی اب دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی عروج پر ہے، بھارت کئی دہائیوں سے یو این قرادادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

    امریکہ جانے والوں کے لیے خوشخبری آگئی

    سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کا ظلم کشمیری نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ بڑھا رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں اکثریت تبدیل کرنے کی مذموم سازش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کے بھارت کے ساتھ معاشی مفادات وابستہ ہیں، دنیا مفادات کی خاطر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو نظرانداز کررہی ہے، چین، ملائیشیا، ترکی اور ایران نے کھل کر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ہے۔

    نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

  • شدید برف باری اورموسلا دھار بارش دوافراد ہلاک

    جموں :،سخت سردی اور برف باری وادی کشمیرکے حصے میں آنے والا قدرتی ایک موسم ہے ، یہ سخت سردی اور برف باری ہر سال ہوتی ہے لیکن یہ جاری سال اس حوالے سے پچھلے سالوں سے مختلف ہےکہ برف باری اور بارش کے دوران بھارتی افواج کے آپریشن جاری ہیں اور کشمیر پہلے ہی ایک مشکل صورت حال سے گزررہے ہیں،

    کرتارپورپاکستانی سازش اورپروپیگنڈا ہے، بھرپورمقابلہ کیا جائے گا: بھارت کی ہرزہ سرائی

    اطلاعات کے مطابق سرما کی آمد کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کے بالائی علاقوں میں برفباری ہوئی ہے جبکہ گزشتہ شب سے ہی پورے خطے میں لگاتار بارش برس رہی ہے جس سے وادی کشمیر میں سردی میں اضافہ ہوا ہے۔وادی کشمیر کے بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ اب میدانی علاقوں میں بھی رات سے بھاری برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ دو افراد برفانی طوفان کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔

    بے بی کون؟ بلاول یا سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹ میں‌ دلیلیں اورتاویلیں، دلچسپ کارروائی

    انتظامیہ کے مطابق برف باری کے سبب جموں سرینگر قومی شاہراہ کو آمد رفت لے لیے بند کر دیا گیا اور سرینگر ائیرپورٹ سے جانے والی پروازوں کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کی اطلاعات کے مطابق برف باری کے سبب کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے لیے جانے والے تمام امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وادی کشمیر کو جموں خطے سے ملانے والی متبادل مغل شاہراہ، پیر کی گلی پر تازہ برفباری اور بارشوں کے باعث شاہراہ کو ٹریفک کی آمد رفت کے لیے بند کردیا گیا۔ جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں بشمول گلمرگ میں بھی برف باری ہوئی ہے۔گلمرگ میں اب تک تقریبا ایک فٹ برف جمی ہوئی جبکہ قریبی افروٹ پہاڑی اور اس سے منسلک دیگر چھوٹی پہاڑیوں پر ایک فٹ سے زیادہ برفباری ہوئی ہے۔

    ظلم کی انتہا، فلسطینی بچے کے سامنے اس کے والد پر تشدد،وائرل ویڈیونے جھنجھوڑ کررکھ دیا

    کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ، سونہ مرگ، پیر کی گلی، گریز، زوجیلا، کے علاوہ پیر کی گلی، دھوبی جن، اور کپوارہ کے بالائی علاقوں میں دوران شب ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے سبب پوری وادی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔کشمیر میں موسلا دھار بارشکرگل، لداخ، لیہہ، گلمرگ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پورے خطے میں گزشتہ شب یعنی پانچ تاریخ سے ہی موسم خراب ہوا اور آٹھ تاریخ تک بارشوں کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

    اس دوران گلمرگ، سونہ مرگ، پیر کی گلی، کپوارہ وغیرہ کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری ہوگی جبکہ وادی میں بارش وقفے وقفے سے ہوتی رہے گی۔ محکمہ کی جانب سے اس ضمن میں صوبائی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ہے ساتھ ہی مشاورت بھی جاری کی گئی ہے۔محکمہ کے ڈپٹی ڈائیریکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ موسم کے بارے میں محکمہ کی جانب سے پہلے ہی کشمیر، لیہہ اور لداخ کی انتظامیہ کوالرٹ جاری کیا گیا ہے۔ رواں موسم میں بارش اور برفباری عام ہے اور اس میں سردی کی شدت میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔سردی میں اضافے سے اکثر لوگ گھروں میں ہی بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ گرم ملبوسات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

    کئی علاقوں میں ابھی تک درختوں سے سیب نہیں توڑے گئے ہیں اور موسم مزید خراب ہونے کی صورت میں انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔گزشتہ برس بھی نومبر کے پہلے ہفتے میں برفباری ہوئی تھی جس کی وجہ سے میوہ باغات خصوصا سیب کے درختوں کو شدید نقصان ہوا تھا۔

    جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ذرہامہ گجر پتی علاقے میں فوج کے ساتھ کام کرنے والے دو پورٹر ہلاک ہوگئے۔دونوں افراد برفانی طوفان کی زد میں آکر ہلاک ہوئے، لیکن حکام نے اس بات کی تصدیق ابھی نہیں کی ہے دونوں کی موت کیسے واقع ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد یا تو برفانی طوفان کی زد میں آگئے یا جانوروں نے انہیں کھایا ہے۔

  • جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت کا اپنے ہی افسران پرجبری وار

    نئی دہلی:جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت کا اپنے ہی افسران پرجبری وارکرنے شروع کردیئے ہیں‌، اطلاعات کے مطابق بھارتی سول سروس (آئی اے ایس)کے ایک سابق افسر کنن گوپناتھن نے بدھ کے روز دعوی کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اظہار رائے کی آزادی سے انکار پر نوکری چھوڑنے کے دو ماہ بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔

    سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    گوپناتھن نے ایک ٹویٹ میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو رد کیا اور ساتھ ہی چارج شیٹ کے ذریعہ وزارت داخلہ کوانہیں نشانہ بنانے پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر وزیر داخلہ امیت شاہ کو اصلیت بتاسکیں۔

    جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    بھارتی سول سروس (آئی اے ایس)کے ایک سابق افسر کنن گوپناتھن نے کہا ہے کہ ، "وزارت داخلہ نے نے مجھے چارج شیٹ ای میل کی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ہونا ہی تھاکیونکہ آپ اپنی ناک کے نیچے وکلا اور پولیس کے مابین ہونے والے معاملات کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔”

    کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی