Baaghi TV

Category: کشمیر

  • واہ سبحان اللہ ! ہر پاکستانی اپنی جگہ ، ملک بھر کی ٹرانسپورٹ تنظیوں نے بھی کشمیریوں سے بھر پور یکجہتی کے اظہار کا اعلان کردیا

    واہ سبحان اللہ ! ہر پاکستانی اپنی جگہ ، ملک بھر کی ٹرانسپورٹ تنظیوں نے بھی کشمیریوں سے بھر پور یکجہتی کے اظہار کا اعلان کردیا

    نارووال : کشمیریوں سے محبت کسی خاص جماعت ، گروہ ، یا فرد کو نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی مظالم سہتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتا ، وزیراعظم کی اپیل پر دیگر ہم وطن پاکستانیوں کی طرح کشمیریوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق ملی رکشہ یونین ملحقہ ملی لیبر فیڈریشن’پنجاب گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ; شکرگڑھ نارووال سیالکوٹ ویلفیر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن : آل پاکستان ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے زیراھتمام کیے جائیں‌گے

    باغی ٹی ذرائع کے مطابق ان احتجاجی مظاھروں میں بھارتی وزیراعظیم مودی کتے کا پتیلا نذر آتش کیا جائے گا . یہ احتجاج اور مظاہرے مورخہ 30 اگست 2019 بوقت دن11:00 بجے بروز جمعتہ المبارک بابو صابو انٹر چینج موٹر وے چوک کیے جائیں‌گے

  • وزیراعظم آزاد کشمیر کا ایل او سی کی جانب مارچ کا اعلان، کہا ہم ختم ہوجائیں گے یا بھارت کشمیر میں نہیں رہے گا

    وزیراعظم آزاد کشمیر کا ایل او سی کی جانب مارچ کا اعلان، کہا ہم ختم ہوجائیں گے یا بھارت کشمیر میں نہیں رہے گا

    وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہےکہ یا ہم ختم ہوجائیں گے یا بھارت کشمیر میں نہیں رہےگا کیونکہ ہم مارے بھی جائیں اور ہندوستان بھی یہاں رہے یہ نہیں ہوسکتا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیریوں کےساتھ اب ہندوستان بھی بات کرے گا، ہرکوئی بات کرےگا، مظلوم کشمیریوں کی منزل بہت قریب نظر آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ یا ہم ختم ہوجائیں گے یا بھارت کشمیر میں نہیں رہےگا، ہم مارے بھی جائیں اور ہندوستان بھی یہاں رہے یہ نہیں ہوسکتا، کشمیریوں کو سرحد کے دونوں جانب آنے جانے کا حق ہے،

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ ہم بہت بڑی تعداد میں ایل اوسی کی جانب مارچ کریں، 9 اگست کو آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں یہ آپشن شامل ہے، یہ مارچ سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ جارح کے مقابلے میں مظلوم کھڑا ہوتا ہے تو دنیا کی ہمدردی مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے،

  • کشمیر کے معاملہ پر کوئی ملک پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہا، راجناتھ سنگھ کی ہرزہ سرائی

    کشمیر کے معاملہ پر کوئی ملک پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہا، راجناتھ سنگھ کی ہرزہ سرائی

    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں تھا اور کوئی بھی ملک کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ پر اس کی حمایت نہیں‌ کر رہا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راجناتھ سنگھ نے یہ بات لیہہ کے دورہ کے دوران کہی، ہندوستانی وزیر دفاع نے پاکستان کے خلاف زہر الگتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے،

    راجناتھ سنگھ نے الزام تراشی کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان مبینہ طور پر انڈیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کشمیر پر پاکستان کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے،

  • کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے واپڈا پیغام یونین اور ملی رکشہ یونین کی ریلی

    کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے واپڈا پیغام یونین اور ملی رکشہ یونین کی ریلی

    واپڈا پیغام یونین اور ملی رکشہ یونین کی طرف سے کشمیر ریلی لیسکو ہیڈ کواٹر سے واپڈا ہاؤس تک نکالی گئی جس میں کثیر تعداد میں افراد کی شرکت ہوئی

    باغی ٹی وی رپورٹ :واپڈا پیغام یونین اور ملی رکشہ یونین کی طرف سے کشمیر ریلی لیسکو ہیڈ کواٹر سے واپڈا ہاؤس تک نکالی گئ۔ ریلی میں محنت کشوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔کشمیریوں اور پاک فوج کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اور اللہ کے حضور دعا کی گئ۔اس موقع پر مزدور، ملازمین اور رکشہ ڈرائیوروں کی طرف سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.مظاہرین نے اپنے ہاتھوں پر بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے . جن پر نعرے درج تھے،کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ، کشمیر بنےگا

    پاکستان..پاک فوج قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں. اس موقع پر شرکا ء کا جوش و ولولہ قابل دید تھا ، وہ بلند آواز سے بھارتی مظالم کے خلاف نعرہ بازی لگا رہے تھے . عالمی برادری سےپر زور مطالبہ کر رہےتھےکہ کشمیر کےاند جاری ظلم و ستم کو فی الفور ختم کیا جائے..
    واضح رہےکہ جب سے بھارت نے کشمیر کے متعلق اپنے آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی ہے تب سے کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارت کے خلاف ریلیاں ، مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے.

  • شاہ محمود قریشی کا سری لنکن ہم منصب تلک ماراپانا سے رابطہ

    شاہ محمود قریشی کا سری لنکن ہم منصب تلک ماراپانا سے رابطہ

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیرکی تازہ صورت پر بین الاقوامی برادری سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے سری لنکن ہم منصب تلک ماراپانا سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور ان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے متعلق آگاہ کیا۔
    شاہ محمود قریشی کا نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹر سے ٹیلی فونک رابطہ
    شاہ محمود قریشی نے تلک مارا پانا کو بتایا کہ بھارت نے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ بھارت مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ عالمی میڈیااورعالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ 5اگست سے مقبوضہ کشمیرکے نہتے مسلمانوں کومسلسل کرفیو کا سامنا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر اور خطے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • بھارتی کھلاڑی بھی انتہا پسند ،  شاہد آفریدی کے کشمیر جانے کے اعلان پر گوتم گمبھیرآگ بگولہ ہوگئے

    بھارتی کھلاڑی بھی انتہا پسند ، شاہد آفریدی کے کشمیر جانے کے اعلان پر گوتم گمبھیرآگ بگولہ ہوگئے

    اسلام آباد : بھارتی کھلاڑی بھی ہندتوا کے نظریہ پر انتہا پسندی کا مظاہرہ کرنے لے ، بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر ایک بار پھر شاہد آفریدی پر برس پڑے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر شاہد آفریدی کی اپنے وزیراعظم کی کال پرکشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کشمیر جانے کی جتنی تکلیف بھارتی کھلاڑی گوتم کوہوئی ہے کسی اور کو شاید ابھی نہیں‌ہوگئی ،

    ذرائع کے مطابق کشمیریو سے اظہار یکجہتی کے لیے جانے کا اعلان بھارتی تعصب زدہ کرکٹر گوتم گمبھیر کو پسند نہیں آیا، کہتے ہیں شاہد آفریدی ابھی تک میچور نہیں ہوئے۔ گراؤنڈ کے حریف، سماجی کاموں میں بھی آمنے سامنے آ گئے۔ شاہد آفریدی نے کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے اپنے وزیراعظم کی کال پر لبیک کہا اور مداحوں کو جمعے کو مزار قائد پر جمع ہونے کا پیغا م بھی دیا۔

    ذرائع کے مطابق بھارت کے سابق کرکٹر اور موجود ہ سیاستدان گوتم گمبھیر کو یہ ٹوئٹ زیادہ گمبھیر لگا۔ اسی لیے آفریدی کو امیچور لکھا ، تو سوشل میڈیا پر خود ہی مذاق کا نشانہ بن گئے۔ سابق انڈین سائیکولوجسٹ کوچ پیڈی اپٹن نے گوتم کو نہ صرف ذہنی مریض کہہ دیا بلکہ انہیں دنیا کے اِن سیکیور لوگوں میں سے ایک بھی قرار دیا۔ شاہد آفریدی نے جواب دیا کہ کراچی کا موسم تبدیل ہو رہا ہے، گوتم بھی موسم کی طرح خود کو بدلنے کا عادی ہے۔سوشل میڈیا پر اس وقت بھارتی کھلاڑی کے اس رویے پر بڑی تنقید ہورہی ہے.

  • کارگل اور دراس میں بھی آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے خلاف زبردست ہڑتال

    کارگل اور دراس میں بھی آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے خلاف زبردست ہڑتال

    مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے خلاف کارگل اور دراس میں زبردست ہڑتال کی گئی۔ اس سلسلے میں کارگل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بدھ اور جمعرات کو کارگل میں دو روزہ احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
    بھارت نے جموں و کشمیر کے بعد ایک اور ضلع میں دفعہ 144نافذ کر دی، جانئے اس رپورٹ میں
    بھارتی میڈیا کے مطابق دراس کے مقامی باشندوں اور رہنماﺅں نے بھی دفعہ 370 اور 35 اے ہٹائے جانے مخالفت شروع کر دی ہے۔ وہ لداخ کے ساتھ دراس اور کارگل کو ملائے جانے کو لے کر بھی خوش نہیں ہیں۔

    بدھ کو مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف دراس، کارگل، سانکو اور کارگل ضلع کے دوسرے علاقوں میں زبردست ہڑتال ہوئی۔ کارگل جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ مذہبی لیڈر بھی شامل ہیں۔ دراس کی بی جے پی یونٹ نے بھی اس ہڑتال کی کھل کر حمایت کی ہے۔

    دراس میں بی جے پی لیڈر بلال احمد کا کہنا ہے کہ ”ہم لداخ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ حکومت یا تو کارگل کو الگ مرکز کے ماتحت ریاست بنائے یا پھر ہمیں جموں و کشمیر کے ساتھ رہنے دے۔ جموں و کشمیر سے ہمارے کافی رشتے ہیں جب کہ لداخ سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ وہاں کے اور ہمارے رسم و رواج، رہن سہن اور کھانے پینے میں بھی بہت فرق ہے۔ ہماری فیملی کی بہت سی خواتین کی شادی کشمیر میں ہوئی ہے۔ کارگل یوں بھی کشمیر کے نزدیک ہے۔“

    دوسری طرف نیشنل کانفرنس لداخ کے رہنما اور کونسلر غلام نقوی کا ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ ہم لداخ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کے بقول سیاسی پارٹی سماج اور ریاست میں سے ہی آتے ہیں، اگر ریاست کا ہی احساس نہیں ہوگا تو پھر سیاسی پارٹی کا بھی کیا کرنا؟ ہمارے لیڈر دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے ہی نظر بند ہیں۔ ہم آسانی سے پیچھے ہٹنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم مرنے کے لیے تیار ہیں۔“

    نقوی نے عدالت میں جانے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم کسی بھی مرکز کے ماتحت ریاست کا حصہ ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ کیا کوئی حکومت اس طرح قانون بدلتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کر انھوں نے ایسا کیا ہے۔“

    بلال احمد بھی بی جے پی لیڈر ہیں لیکن مودی حکومت کے مذکورہ فیصلہ کے خلاف ہیں۔ بلال احمد کے مطابق 35 اے ہٹا کر حکومت نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ”جس طرح سے لیڈروں کو نظر بند کیا گیا ہے وہ شرمناک ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مودی حکومت نے طاقت کے زور پر ایسا کیا ہے۔“

  • شاہ محمود قریشی کا نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹر سے ٹیلی فونک رابطہ

    شاہ محمود قریشی کا نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹر سے ٹیلی فونک رابطہ

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر اور خطے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
    شاہ محمود قریشی کا کویتی نائب وزیر اعظم سے رابطہ، کشمیر کیلئے حمایت پر شکریہ ادا کیا
    وزیرخارجہ نے نائب وزیراعظم کو بتایا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔ 5اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔

    قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگوں کو مسلسل کرفیو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت نے مقبوضہ وادی میں ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

    نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم ساری صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کشمیری کمیونٹی کی طرف سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 25واں دن

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 25واں دن

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے ہوئے کرفیو کو آج مسلسل 25واں دن ہے۔ مقبوضہ وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے مسلسل کٹا ہوا ہے۔ بچوں کی خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ کرفیو کی وجہ سے 5000ہوٹلز بند جبکہ یہاں کام کرنے والا کم وبیش 10000کشمیری ملازمتوں سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔
    میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟
    بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بیرونی دنیا میں مقیم کشمیری احتجاج کر رہے ہیں۔ ہزاروں کشمیری محاصرے میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے۔بھارتی فوج نے کشمیر کی حریت اور بھارت نواز سیاست دانوں سمیت دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے۔ جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔

    مقبوضہ وادی میں 5اگست سے تمام انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے بند ہیں۔ مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن اپڈیٹ نہیں کر سکے جبکہ ان میں سے بیشتر بھی پابندیوں کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے۔

    دریں اثنا مقبوضہ وادی میں ادویات کی شدید قلت ہو چکی ہے ۔کشمیری دہلی سے ادویات خریدکر لا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی کشمیر میں بدستور بندش اور مواصلات کی بندش سے سیکڑوں مریض متاثر ہوئے ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

  • میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟

    میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہو رمیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں نےکہا تھا کشمیرکی آزادی تک ریشم اورزیورنہیں پہنوں گی ،ماضی میں کشمیرکمیٹی کے چیئرمین نےکہیں بھی کشمیرکی بات نہیں کی،

    اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ کرتارپورراہداری سے متعلق پاکستان کے اقدامات سے مودی شرمندہ ہے ،انڈیا کےاندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ،وہاں کی سول سوسائٹی اوراپوزیشن اٹھ رہی ہے ،اب ففتھ جنریشن وارہورہی ہے،اس میں گولی،بندوق،بمباری کاکوئی عمل دخل نہیں،

    اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ ہم نےکشمیرکمیٹی کےچیئرمین ایسےبنائےجوکسی فارن منسٹرسےبات نہیں کرسکتے،کیبنٹ میٹنگ میں جومعاملہ ایجنڈےپرنہیں اس پرباہربحث شروع ہوجاتی ہے ،نہ ہندوستان اسرائیل ہے،نہ کشمیرغزہ ہے،نہ پاکستان اردن ہے،نہ مصرہے ،کلبھوشن یادیونےبلوچستان ،سندھ میں دہشت گردی کا اعتراف کیاہے ،عالمی عدالت میں ہماری فتح ہوئی ہے،بھارت کوریلیف نہیں ملا،

    خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    کشمیر میں تین ہفتوں کے دوران پانچ سو سے زائد مقامات پر کشمیریوں نے احتجاج کیا،”الجزیرہ“ کی رپورٹ کے مطابق سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ 3 ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مودی سرکار کیخلاف 500 مظاہرے ہوئے جبکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 100 سے زائد کشمیری زخمی ہوئے.

    الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مطابق کشمیر میں لاک ڈاؤن آرٹیکل ختم کرنے سے کئی گھنٹے پہلے ہو چکا تھا۔ بھارتی فوج احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنز اور آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔