Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 25واں دن

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 25واں دن

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے ہوئے کرفیو کو آج مسلسل 25واں دن ہے۔ مقبوضہ وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے مسلسل کٹا ہوا ہے۔ بچوں کی خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ کرفیو کی وجہ سے 5000ہوٹلز بند جبکہ یہاں کام کرنے والا کم وبیش 10000کشمیری ملازمتوں سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔
    میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟
    بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بیرونی دنیا میں مقیم کشمیری احتجاج کر رہے ہیں۔ ہزاروں کشمیری محاصرے میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے۔بھارتی فوج نے کشمیر کی حریت اور بھارت نواز سیاست دانوں سمیت دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے۔ جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔

    مقبوضہ وادی میں 5اگست سے تمام انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے بند ہیں۔ مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن اپڈیٹ نہیں کر سکے جبکہ ان میں سے بیشتر بھی پابندیوں کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے۔

    دریں اثنا مقبوضہ وادی میں ادویات کی شدید قلت ہو چکی ہے ۔کشمیری دہلی سے ادویات خریدکر لا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی کشمیر میں بدستور بندش اور مواصلات کی بندش سے سیکڑوں مریض متاثر ہوئے ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

  • میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟

    میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی،ایسا کس نے کہا؟

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ میری ماں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ریشم اور زیور نہیں پہنوں گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہو رمیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں نےکہا تھا کشمیرکی آزادی تک ریشم اورزیورنہیں پہنوں گی ،ماضی میں کشمیرکمیٹی کے چیئرمین نےکہیں بھی کشمیرکی بات نہیں کی،

    اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ کرتارپورراہداری سے متعلق پاکستان کے اقدامات سے مودی شرمندہ ہے ،انڈیا کےاندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ،وہاں کی سول سوسائٹی اوراپوزیشن اٹھ رہی ہے ،اب ففتھ جنریشن وارہورہی ہے،اس میں گولی،بندوق،بمباری کاکوئی عمل دخل نہیں،

    اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ ہم نےکشمیرکمیٹی کےچیئرمین ایسےبنائےجوکسی فارن منسٹرسےبات نہیں کرسکتے،کیبنٹ میٹنگ میں جومعاملہ ایجنڈےپرنہیں اس پرباہربحث شروع ہوجاتی ہے ،نہ ہندوستان اسرائیل ہے،نہ کشمیرغزہ ہے،نہ پاکستان اردن ہے،نہ مصرہے ،کلبھوشن یادیونےبلوچستان ،سندھ میں دہشت گردی کا اعتراف کیاہے ،عالمی عدالت میں ہماری فتح ہوئی ہے،بھارت کوریلیف نہیں ملا،

    خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    کشمیر میں تین ہفتوں کے دوران پانچ سو سے زائد مقامات پر کشمیریوں نے احتجاج کیا،”الجزیرہ“ کی رپورٹ کے مطابق سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ 3 ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مودی سرکار کیخلاف 500 مظاہرے ہوئے جبکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 100 سے زائد کشمیری زخمی ہوئے.

    الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مطابق کشمیر میں لاک ڈاؤن آرٹیکل ختم کرنے سے کئی گھنٹے پہلے ہو چکا تھا۔ بھارتی فوج احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنز اور آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر کے گورنر جھوٹ بولنے میں سب سے آگے،کہا کشمیریوں کو کمر کے نیچے پیلٹ مار رہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر کے گورنر جھوٹ بولنے میں سب سے آگے،کہا کشمیریوں کو کمر کے نیچے پیلٹ مار رہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیہ پال نے کشمیر کی صورتحال پر دنیا کو دکھانے کے لئے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے مضحکہ خیز باتیں کیں ،گورنر کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پیلٹ کے چھرے کمر کے نیچے مارے جا رہے ہیں، گورنر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ 40 ہزار لوگ سرحد پار کی دہشت گردی کی وجہ سے مارے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی میڈیا نے جب بھارت کو بے نقاب کیا تو گورنر نے پریس کانفرنس کر ڈالی اور پریس کانفرنس میں جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے گئے، گورنر نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں سکول کھلے ہیں حالانکہ کرفیو کے باعث تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، سکول تو کیا ہسپتال بھی بند ہیں، مساجد کو بھی تالے لگے ہوئے ہیں

    کشمیر میں جنازوں پر بھی پابندی، گھروں میں قید کشمیری بے بسی کی تصویربنے ہوئے ہیں

    گورنر کا یہ کہنا تھا کہ ہم نے کسی کشمیری کو نہیں مارا حالانکہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے درجنوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ظالم بھارتی فوج نے ایک کشمیری خاتون کو بھی شہید کیا، احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی جاتی ہیں، دس ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے.

    گورنر نے پیلٹ گن کے حوالہ سے دعویٰ کیا کہ پیلٹ کے چھرے کشمیریوں کو کمر کے نیچے مارے جا رہے ہیں ،یہ بھی اس نے جھوٹ بولا، کشمیریوں کو چھرے ان کی آنکھوں اور چہرے پر مارے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے کشمیریوں کی بینائی چلی گئی، سینکڑوں کشمیری نوجوان پیلٹ کے چھروں سے زخمی ہوئے، جن کے علاج کے لئے ہسپتالوں کو تالے لگا دئیے گئے

    دوسری جانب بھارتی صحافی نے کشمیر کے حوالہ سے مودی سرکار کو بے نقاب کیا ہے، مقبوضہ وادی میں صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ معروف انڈین صحافی برکھا دت نے بھی کشمیریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کردی ہے۔

    سری نگر کے دورے کے دوران برکھا دت انتظامیہ سے گرفتار افراد کی تعداد کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی رہیں۔ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے جو لینڈ لائن کھلی ہیں وہاں لوگوں کی قطاریں لگی ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔

    برکھا دت نے اپنی رپورٹ میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری پر سوال اٹھایا۔ کشمیریوں نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی گرفتاری کو ان کے منہ پر بھارتی طمانچہ قرار دیا۔ بھارتی صحافی برکھا دت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اس وقت پریشر کُکر جیسی ہے

    انٹرنیشنل میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کشمیر میں تین ہفتوں کے دوران پانچ سو سے زائد مقامات پر کشمیریوں نے احتجاج کیا،”الجزیرہ“ کی رپورٹ کے مطابق سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ 3 ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مودی سرکار کیخلاف 500 مظاہرے ہوئے جبکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 100 سے زائد کشمیری زخمی ہوئے.

    الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مطابق کشمیر میں لاک ڈاؤن آرٹیکل ختم کرنے سے کئی گھنٹے پہلے ہو چکا تھا۔ بھارتی فوج احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنز اور آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔

    خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

  • پاکستانی سفیرکی سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات، وزیر خارجہ کا کشمیر بارے خط دیا

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیرراجہ علی اعجازنے سیکریٹری جنرل اوآئی سی سےملاقات کی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راجہ علی اعجازنے یوسف العثیمین کووزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا خط دیا ،پاکستانی سفیر نے سیکریٹری جنرل اوآئی سی کوکشمیرمیں زمینی حقائق سےآگاہ کیا ،یوسف العثیمین نےجموں وکشمیرکے معاملے پراوآئی سی کے اصولی موقف کااعادہ کیا.

    شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو خط میں لکھا کہ بھارتی اقدامات کے باعث جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں ،مکمل لاک ڈاوَن کے باعث مقبوضہ کشمیر میں صورتحال خراب ہے ،بھارت مقبوضہ وادی میں تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو،عام شہریوں اورسیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں ،مذہبی پابندیاں ،بچوں اور خواتین کی عصمت دری اور تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں نسلی بنیادوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی
    ہیں،

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا آٹھواں اجلاس آج ہوا ہے ،اجلاس میں سابق خارجہ سیکریٹریز،ماہرین بین الاقوامی امور اور دیگر اراکین مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شریک تھے، اجلاس میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال پر مشاورت کی گئی، وزیرخارجہ نے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے کیے جانے والے حالیہ رابطوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگ گزشتہ 23روز سے مسلسل کرفیوں کا سامنا کررہے ہیں،مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو نماز عید اور نمازجمعہ تک ادا نہیں کرنے دی گئی،بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی سامنے آنے والی رپورٹس تشویشناک ہیں ،مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی بربریت سے نجات دلانے کے لیے ہر فورم پر جائیں گے پاکستان نہتے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی معاونت جاری رکھے گا

  • مسلسل کرفیو سے کشمیریوں کی معیشت تباہ، 10 ہزار افراد ملازمتوں سے فارغ کر دیے گئے

    مسلسل کرفیو سے کشمیریوں کی معیشت تباہ، 10 ہزار افراد ملازمتوں سے فارغ کر دیے گئے

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے لاک ڈاؤن سے وادی کشمیر کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 3 ہفتوں سےجاری کرفیو نےمقبوضہ وادی کےسیاحتی مقامات کو بھی سنسنان کردیا ہے، مقبوضہ وادی کے 5 ہزار سے زائد ہوٹل بند ہیں اور 10ہزار سے لوگوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے، بھارتی فوج کی دہشت گردی کے نتیجہ میں کشمیریوں کے باغات بھی بڑے پیمانے پر تباہ کئے گئے ہیں،

    مقبوضہ کشمیر میں اس وقت لاکھوں کشمیری محاصرے میں ہیں، ہر طرف مکمل لاک ڈاﺅن ہے اور مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے، بھارتی فوج نے کشمیر کی حریت اور بھارت نواز سیاست دانوں سمیت دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے، مقبوضہ کشمیر کی جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، پوری وادی میں 5اگست سے تمام انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے بند ہیں، مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن کی تازہ کاری نہیں کرسکے جبکہ ان میں سے بیشتر بھی پابندیوں کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے،

    بھارتی فوج نے مساجد کو بھی تالے لگا دیئے ہیں، اکثر مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے، مقبوضہ وادی میں زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، لوگوں کوجان بچانے والی ادویات خریدنے کے لیے دہلی تک کا سفر کرنا پڑ رہا ہے، ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی کشمیر میں بدستور بندش اور مواصلات کی بندش سے سینکڑوں مریض متاثر ہوئے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے،

  • ”بھارتی مصنوعات سے بائیکاٹ“، بھارت میں بھی ٹاپ ٹرینڈ

    ”بھارتی مصنوعات سے بائیکاٹ“، بھارت میں بھی ٹاپ ٹرینڈ

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی مصنوعا ت سے بائیکاٹ کا ٹرینڈ ٹاپ ٹین میں آ گیا۔ ٹرینڈ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی ٹاپ ٹین پر ہے۔ بھارتی صارفین بھی کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
    "کشمیر کو ہٹلر سے آزاد کروایا جائے” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
    ٹوئٹر صارفین نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو فروغ دیا جائے۔ کچھ صارفین نے حکومت پاکستان سے بھارتی طیاروں سے پاکستانی فضائی حدود پر پابندی لگانے کا مطالبہ کی۔

    صارفین کے بقول بھارت معیشت کے زور پر کشمیری عوام پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ صارفین کی بڑ ی تعدادنے بھارتی ثقافت اور فلم انڈسٹری کا بھی بائیکاٹ کرنے کا کہا ہے۔

  • شاہد آفریدی کی قوم سے کشمیریوں سے یکجہتی کرنے کی اپیل

    شاہد آفریدی کی قوم سے کشمیریوں سے یکجہتی کرنے کی اپیل

    کرکٹ کے آل راﺅنڈر شاہد آفریدی نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے کشمیر کال کا جواب دیں۔
    شاہد آفریدی کے کشمیر سے متعلق بیان پر بھارتی کھلاڑی آگ بگولہ ہو گئے، کیا بات ہوئی؟ اہم خبر
    اپنے ٹوئٹ میں آفریدی نے لکھا ہے کہ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعہ کو دن 12 بجے مزار قائد پر ہوں گا۔ 6ستمبر کو میں ایک شہید کے گھر جاﺅں گا۔ میں جلد ہی ایل او سی کا دورہ کروں گا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے مزید توقع کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ بھارتیوں کی اکثریت مودی کی وحشیانہ کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسے (مودی) طویل مدتی امن کی طرف راغب ہونا چاہئے اور اس غیر انسانی حرکت کورکنا چاہئے۔

  • بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں سے متعلق مودی سرکار سے جواب طلب کر لیا۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں سے متعلق مودی سرکار سے جواب طلب کر لیا۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں سے متعلق مودی سرکار سے جواب طلب کر لیا۔

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے سے متعلق 14 درخواستوں کی سماعت بھارتی سپریم کورٹ میں ہوئی۔
    سپریم کورٹ کی جانب سے بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت کو 2 نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت 5 رکنی بینچ اکتوبر میں کرے گا۔

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو: بھارتی سپریم کورٹ میں دو ہفتے بعد دوبارہ سماعت ہو گی
    اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں سے متعلق کیس کی سماعت بھی ہوئی۔

  • یورپی یونین کا مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل پر غور

    یورپی یونین کا مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل پر غور

    یورپی یونین نے بھارت اور پاکستان پر مسئلہ کشمیر کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے، برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی اسد قیصر سے ملاقات
    یوروپی یونین کے امور خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی کی ترجمان، ماجا کوکیجنک نے برسلز میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ یورپی یونین بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر کے دوطرفہ سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے ، جو ہمارے خیال میں تنازعہ حل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔

    کوکیجنک نے کہا کہ یورپی یونین تنازعہ کشمیر پر سفارتی محاذ پر کافی سرگرم ہے۔

    اس ماہ کے شروع میں ، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ ، فیڈریکا موگھرینی نے ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کو بلا کر ان پر زور دیا تھا کہ وہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

  • پورے سندھ سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مصطفیٰ کمال

    پورے سندھ سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مصطفیٰ کمال

    پورے سندھ سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین ،مصطفیٰ کمال کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے مظفرباد شہر میں ہیں .اس موقع پر انہوں نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ میرےکشمیری بھائیو ہم نےکشمیرکی جنگ کراچی میں لڑی ہے
    جب بھی کشمیرمیں تحریک زورپکڑتی تھی توکراچی میں لاشیں گرتی تھیں ہم پورےسندھ سےیہاں آکریہ پیغام دیناچاہتےہیں ہم آپ کےساتھ کھڑےہیں،نریندرمودی کاشکریہ اداکرتےہیں،اس نےپورےپاکستان کومتحدکردیاہے،اگرکوئی اس گمان میں تھاتومڈل ایسٹ کےحالیہ واقعے سےسمجھ لیناچاہیے .وزیراعظم پاکستان،حکومتی اداروں نےجوبھی قدم اٹھایاہے،ہم نےاس کی غیر مشروط حمایت کی،
    کشمیریوں سے یکجہتی ، مصطفیٰ کمال اور پی ایس پی قائدین مظفرآباد پہنچ گئے