Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے شہری شہید، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے شہری شہید، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

    بھارتی فوج کی طرف سے وادی نیلم آزاد کشمیر میں ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نےگریس، تاؤبٹ، ہلمت، کریم آباد میں بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی ہے، بھارتی فوج کی فائرنگ سےایک شہری شہید،3زخمی ہوئے ہیں،

    چکوٹھی کےپانڈوسیکٹرپربھی بھارتی فوج کی گولہ باری اورفائرنگ،3گھروں کونقصان پہنچا ہے، بھارتی فائرنگ پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی ہے جس سے دشمن کی توپیں‌ خاموش ہو گئیں،

  • مقبوضہ کشمیر، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے پر پابندی کیوں؟ حکام نے ڈاکٹروں کو کیا ہدایات دیں۔ برطانوی اخبار نے بتا دیا

    مقبوضہ کشمیر، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے پر پابندی کیوں؟ حکام نے ڈاکٹروں کو کیا ہدایات دیں۔ برطانوی اخبار نے بتا دیا

    کشمیری فیملیز نے بھارتی حکومت کے اس موقف کی سختی سے تردید کی ہے کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ کے بعد اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فیملیز کے بقول سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کے دوران متعدد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
    باکسر عامر خان بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایل اوسی روانہ
    دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق5 اگست سے بھارت نے ریاست جموں وکشمیر میںکرفیو نافذ کردیا ہے ، جب نریندر مودی کی حکومت نے ریاست کو الگ کرنے اور اس کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق مواصلات کے تمام ترذرائع بند کرنے کے باوجود ، ریاست بھر میں چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم تین شہری جاں بحق ہوگئے ہیں ۔

    کرفیو کے دس دن بعد ، ریاست کے پولیس چیف دلباغ سنگھ نے فخر کے ساتھ دعوی کیا تھا کہ "لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں ایک بھی جانی نقصان نہیں ہوا”۔ لیکن سری نگر میں ایک ڈاکٹر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہسپتال عملے کو حکام کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ جھڑپوں سے متعلق داخلے کو کم سے کم رکھنے کے لئے ، اور متاثرین کو جلد فارغ کرنے کے لئے۔ اعدادوشمار کو کم رکھیں۔

    ان تینوں اموات کے معاملات میں ، رشتہ داروں نے ڈاکٹروں کو جھڑپوں کے ذریعہ ادا کیے گئے کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی کوشش کرنے پر اپنی مایوسی کی بات کی – نہ ہی انہیں موت کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا۔

    9 اگست کی سہ پہر کے وقت ، فہمیدہ بانو ، ایک 35 سالہ ماں ،اپنے دو جوان بیٹوں کے ساتھ ، سری نگر کے نواح میں میں اپنے گھر پر تھی ، جب باہر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

    اس کا شوہر ، 42 سالہ رفیق شگو بچوں کو کمرے میں لے گیا۔

    رفیق کے مطابق، ”مظاہرین کا پیچھا کرنے کے بعد ، سیکیورٹی فورسز نے شیشے کی کھڑکیاں توڑڈالیں اور گھروں پر پتھراو شروع کردیا۔“

    اس کی اہلیہ ، ہاتھ میں بیڈ شیٹ لے کر ، کھڑکیوں کو ڈھانپنے کے لئے اوپر کی طرف بڑھی۔ان کی پڑوسی ، تسلیمہ ، اس وقت اپنی کھڑکیوں کو بھی ڈھانپ رہی تھی۔

    ”فہمیدہ کھڑکی کے پاس تھی دھواں ، بڑی مقدار میں ، ان کی کھڑکی سے داخل ہوا۔ میں کھانسی کی آواز سن سکتی تھی“وہ کہتی ہیں۔

    اس کے بعد وہ سینے میں درد اور سانس لینے کی شکایت کرنے لگی۔ ”میں نے اسے سانس لینے کی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا۔ شگو نے بتایا کہ اس نے ابہت زیادہ آنسو بہائے تھے۔“

    شگو کے مطابق جب ایک کلومیٹر دور جہلم ویلی کالج (جے وی سی) کے اسپتال پہنچے تو ، بانو کو پھیپھڑوں کی چوٹ سے شدید تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ پہنچنے کے 40 منٹ میں ہی فوت ہوگئی۔

    چار دن بعد ، شگو اپنی اہلیہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لینے گیا ، لیکن چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) نے اسے بتایا کہ یہ سند پولیس کے پاس ہے۔اسے ڈاکٹر اور دوست کی مداخلت کے بعد ڈیٹھ سرٹیفیکیٹ مل ہی گیا۔

    شگو کہتے ہیں ، "انہوں نے جھوٹ بولا ، انہوں نے مجھے دھوکہ دیا۔” جب میں سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو اس میں موت کی اصل وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    بانو کے رشتہ داروں کو کم از کم موت کا سرٹیفکیٹ مل گیا۔ 55 سالہ ایوب خان کے خاندان کے لئے ، جو ایک خاندان میں تین روٹیوں کے ساتھ اکیلے روٹی کمانے والا تھا ، یہ انتظار ابھی بھی جاری ہے۔

    17 اگست کی شام 4 بجے ، سری نگر ضلع کے یاری پورہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ،یہاں بھی مظاہرین کا پیچھا کرنے کے بعد ، سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گھروں پر پتھراو شروع کردیا۔

    خان گھر میں تھا جب اس نے ایک مسجد سے اعلانات سنتے ہی لوگوں سے گھروں سے باہر آنے کو کہا کیونکہ پولیس نجی املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    خان نے اپنی سات سالہ بیٹی مہرین کو باہر جاتے ہی گھر کے اندر ہی رہنے کو کہا۔ انہوں نے مرکزی دوست پر اپنے دوست ، 60 سالہ فیاض احمد خان سے ملاقات کی۔

    "ہم دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے ، جب فورسز نے آنسوگیس کے گولے فائر کرنے شروع کیے۔ ان میں سے ایک گولہ ایوب کی ٹانگوں کے درمیان پھٹ پڑے اور ان کا دم گھٹنے لگا۔ فوری طور پر انھیں شری مہاراجا ہری اسپتال (ایس ایم ایچ ایس) لے جایا گیا ، "ان کے دوست کا کہنا ہے۔

    خان کے بھائی شبیر کو یاد ہے کہ ایوب کے منہ سے خون نکل رہا تھا ، جب وہ ہسپتال جاتے ہوئے تھری وہیلر آٹو رکشہ میں اپنی گود میں لیٹا تھا۔

    "جب ہم اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ وہ پہلے ہی مر چکا ہے۔ہم نے ان سے ریکارڈ پر یہ ذکر کرنے کو کہا کہ اس کی موت آنسوگیس کی وجہ سے ہوئی تھی ، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔”

    خان کی موت پر عوامی سطح پر اشتعال پھیلنے کے خوف سے ، پولیس نے اہل خانہ کو حکم دیا کہ وہ عام طور پر تدفین کا جلوس نہ نکالیں اور حاضرین کی تعداد کو 10 سے زیادہ تک نہ رکھیں۔

    ایمبولینس میں لاش گھر پہنچنے کے بعد بھی ، سیکیورٹی فورسز نے شاٹ گن کے چھروں سے فائرنگ کرکے گھر پر جمع ہجوم کومنتشر کر دیا ، جس سے شبیر اور خاندان کے دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

    کچھ دن بعد ، اہل خانہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ لینے کے لئے اسپتال پہنچ گئے ، اس موقع پر ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انہیں پہلے پولیس سے کسی جرم کی ایف آئی آر حاصل کرنی ہوگی ، جس کی فیملی کا کہنا ہے کہ موجودہ میں حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔

    شبیر کہتے ہیں ، "یہ واضح ہے کہ پولیس کے خلاف کسی بھی معاملے میں ، وہ موت کی اصل وجہ کا ذکر نہیں کریں گے۔ "یہ ناانصافی ہے ، ہم ہلاکتوں کا اندراج نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم بے بس ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق موجودہ مسئلہ کشمیر کی پہلی ہلاکت دراصل 5 اگست کو ہی ہوئی تھی ، جب سترہ سالہ اوسیب الطاف نے شمال مغربی سرینگر میں مظاہرین کا پیچھا کرنے پر دریائے جہلم میں چھلانگ لگائی۔
    ایک دوست جس نے صرف "ایس” کے طور پر شناخت کرنے کو کہا اس نے بتایا کہ جب پل کے دونوں اطراف سے پولیس پہنچی تو وہ ، الطاف اور دیگر ایک فٹ برج پر پھنس گئے۔

    “اسیب کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ جب ہم اچھل پڑے ، میں نے اسباب کو اپنی پیٹھ پر لے جانے کا فیصلہ کیا ، لیکن فوج کے ایک اہلکار نے آکر اس کی چھڑی کو اسیب کے ہاتھ پر مارا جو جھاڑیوں کو تھامے ہوئے تھا۔
    الطاف کو ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے جایا گیا لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ ان کے والد ، الطاف احمد معرازی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کی موت کا سرٹیفکیٹ نہ دینے کے علاوہ ، ڈاکٹروں نے ان کو اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے بھی دستاویزات دینے سے انکار کردیا کہ انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں پر دباو ہے کہ وہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ دیں۔ بھارت کا دعوی ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول کی ہے ، جو سچ نہیں ہے۔ اگر وہ مواصلات پر پابندی کو ختم کرتے ہیںتو حقیقت سامنے آجائے گی۔
    بانو کا علاج کرنے والے جے وی سی اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر نے اپنے ڈاکٹروں کے طرز عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک موت کی وجہ کو آنسوگیس نہیں کہہ سکتے جب تک کہ یہ قطعی طور پر ثابت نہ ہوجائے۔”

    کشمیر میں غیر معمولی پابندیاں لاگو ہونے کے 20 دن سے زیادہ کے بعد ، حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ وادی میں صورتحال "معمول کی طرف لوٹ رہی ہے” ۔

  • مظفرآباد:سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ہزاروں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کی بھارت کے خلاف اور کشمیریوں حق میں ریلی

    مظفرآباد:سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ہزاروں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کی بھارت کے خلاف اور کشمیریوں حق میں ریلی

    مطفرآباد میں پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ہزاروں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کی بھارتی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی حمایت میں شاندار ریلی اور قرار دادیں پیش کی گئیں.

    پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ہزاروں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کا یہ اجتماع حکومت ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر کی خاص قانونی حیثیت کے خاتمے کو کشمیری عوام کے ساتھ بدترین ظلم اور فریب قراردیتا ہے، عالمی برادری جانتی ہے کے بھارت نے لاکھوں مسلح افواج کے پہرے میں دفعہ 35A کو ختم کرکے مقبوضہ ریاست کے عوام کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق چھین لیئے ہیں، بھارت نے اس ظالمانہ اقدام سے کشمیر کے لاکھوں بچوں کو دکھ، دردمیں مبتلاء کرکے اذیت ناک ذندگی جینے پر مجبور کردیئے ہیں۔ 

    آج کے اس اہم اجتماع میں مندرجہ ذیل قراردادیں متفقہ طور منظور کیئے جانے کیلیئے پیش کی جارہی ہیں۔
    1:- ہندوستان کی لوک سبھا سے 5 اگست 2019 کو کیئے گئے فیصلے کو ہم مکمل طور مسترد کرتے ہیں اس اقدام کو ہم کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش سمجھتے ہیں۔۔
    2:- جموں کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کی بنیاد پرکیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔تاکہ جموں کشمیر کے عوام مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔
    3:- بھارت کے کسی بھی یکطرفہ اقدام جس سے ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور شناخت متاثر ہوتی ہو اسے ہم کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔
    4:- یہ اجتماع بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلسل تئیسویں دن کے کرفیو، گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں کو ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کیخلاف جنگی جرائم قراردیتا ہے۔
    5:- یہ اجتماع اقوام متحدہ سے ریاست جموں کشمیر کے منصفانہ، دیرپا اور مستقل حل کیلیئے پاس شدہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا فوری مطالبہ کرتا ہے۔
    6:- یہ اجتماع اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مقبوضہ جموں کشمیر سے کرفیو کے خاتمے، مواصلات کو فوری بحال کرنے اور بھارتی فورسز کوفوری طور شہروں سے نکالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
    7:- یہ اجتماع جموں کشمیر میں طفیل متو ، مدثر احمد سمیت ہزاروں بچوں کو یاد کرکے خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنھیں آج تک آزادی کیلیئے آواز اٹھانے کے جرم میں بھارتی ظالم افواج نے شہید کردیا۔
    8:- بچوں کا یہ اجتماع کشمیر کی بچیوں انشآء ، حبہ نثار سمیت ان ہزاروں بچوں، بچیوں اور جوانوں کے دکھ میں شریک ہے جنھیں بھارتی افواج نے پیلٹ گنوں سے اندھا کردیا ہے۔
     9:- ہزاروں بچوں کا یہ اجتماع مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی سے یتیم ہونے والے ایک لاکھ سے زائد بچوں کے دکھ، درد اور پریشانیوں میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
    10:- یہ اجتماع گزشتہ بائیس دنوں سے بھارتی حکومت کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جنگ بالخصوص کشمیر کے لاکھوں بچوں کو محصور کر کے ان کی ذندگیوں سے کھیلنے کی سازش قرار دیتا ہے۔
    11:- ہزاروں بچوں کا یہ مطالبہ ہے کے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور او آئی سی جموں کشمیر میں لاکھوں محصور بچوں کی زندگیوں کا بچانے کیلیئے اپنا کردار ادا کریں۔
    12:- یہ اجتماع جموں کشمیر میں بھارتی ظلم کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بچوں کی تعلیم و تربیت ان کی بہترین نشونما اور روشن مستقبل کے متاثر ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔…….

  • کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بہاولپور میں  ریلی کا انعقاد

    کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بہاولپور میں ریلی کا انعقاد

    بہاولپور میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی حکومت کی ریاست دہشت گردی کو رد کرنے کےلیے شاندار ریلی کا انعقاد ہوا.

    بہاولپور میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی حکومت کی ریاست دہشت گردی کو رد کرنے کےلیے ریلی نکالی گئی. ریلی میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی .شرکاء میں طلبا. اساتذہ .سمیت معاشرے کے ہر فرد نے شرکت کی .اس موقع پر مظاہر ین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر کشمیریوں کے ساتھ ہرطرح کے تعاون اور حمایت کے نعرے درچ تھے .

    ریلی میں‌شرکا نعرے لگار ہے تھے کہ ہم آخری دم تک کشمیر کے لیے لڑیں گے ، کشمیر بنے گا پاکستان. اس موقع پر شرکاء نے خطاب بھی کیا اور کہا کہ ہم کشمیری عوام کی آواز میں آواز ملانے میں عوام پاکستان اور معاشرے کے ہر فرد کو وزیر اعظم صاحب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے جمعہ کے دن 12 سے 12:30 تک پوری دنیا کو پاکستان بتا دے کہ
    کشمیر ہمارا ہےاور سارے کا سارا ہے

  • کشمیر میں نسل کشی،مودی کو عالمی عدالت لانا چاہیے، برطانوی اراکین پارلیمنٹ

    کشمیر میں نسل کشی،مودی کو عالمی عدالت لانا چاہیے، برطانوی اراکین پارلیمنٹ

    برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی پر مودی کو عالمی عدالت لانا چاہیے،مودی سرکار اپنے ارکان پارلیمنٹ سے بھی معاملات چھپارہی ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے خاندان کے افراد سے رابطہ نہیں کر سکتے ،مقبوضہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کے بعد برطانوی پارلیمانی وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر پاکستان آئے،آج صدرمملکت اور خارجہ حکام سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے،لائن آف کنٹرول کا دورہ کریں گے،سردارمسعودخان کشمیر کے بہترین سفیر ہیں،جیریمی کاربن نے بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں آواز بلند کی ،سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر پر اجلاس بہت بڑی بات ہے،پاکستان پرامن اندازمیں مشکل صورتحال کا مقابلہ کررہا ہے،سلامتی کونسل کو متفقہ مذمتی قرارداد لانی چاہیے تھی ،مقبوضہ کشمیر سے متعلق معلومات بہت کم آرہی ہیں

    برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا،صدرآزاد کشمیر

    برطانوی پارلیمانی وفد کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 4ہزار سے زائد قید کرلیاگیا ہے ،کرفیو سے مقبوضہ کشمیر میں ادویات اورخوراک ختم ہوچکی ہے،بھارتی کانگریس رہنما کوبھی مقبوضہ کشمیر سے واپس بھیج دیاگیا،کرفیو ختم کرنے کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے،بھارتی وزراکی جانب سے بیانات قابل مذمت ہیں،پوری دنیا کو مقبوضہ کشمیر کےحق میں آواز بلند کرنی ہوگی،برطانوی عوام میں کشمیریوں کے لیے جذبہ پایاجاتاہے،بھارتی اقدام ہندونسل پرستی کےلیے ہے ،

    مودی دہشت گرد، حافظ سعید کی باتیں آج درست ثابت ہوئیں، مبشر لقمان

    قبل ازیں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمانی ارکان بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں ،5اگست کےبھارتی اقدامات کی مذمت کرتےہیں ،برطانوی حکومت نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی مخالف نہیں کی ،برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ،5اگست کےبعد دنیا نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو مستردکردیا ہے

  • برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا،صدرآزاد کشمیر

    برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا،صدرآزاد کشمیر

    آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے برطانوی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی ہے، اس موقع پر صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی مخالف نہیں کی ،برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا

    کشمیری ہر حال میں اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے، سردار مسعود خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمانی ارکان بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں ،5اگست کےبھارتی اقدامات کی مذمت کرتےہیں ،برطانوی حکومت نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی مخالف نہیں کی ،برطانوی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ،5اگست کےبعد دنیا نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو مستردکردیا ہے ،

    مودی دہشت گرد، حافظ سعید کی باتیں آج درست ثابت ہوئیں، مبشر لقمان

    سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہی ہے ،مقبوضہ کشمیر کے حق میں بھارتی سول سوسائٹی بھی آواز بلند کررہی ہے،بھارت کو مجبور کیاجائےکہ وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدامات واپس لے ،پہلی بار اتنی مضبوط آواز کشمیریوں کی طرف سے بلند ہوئی

    مقبوضہ کشمیر میں بچے بلک بلک کر جان دے رہے ہیں،صدر آزاد کشمیر

    برطانوی پارلیمانی وفد نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر پاکستان آئے،آج صدرمملکت اور خارجہ حکام سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے،لائن آف کنٹرول کا دورہ کریں گے،سردارمسعودخان کشمیر کے بہترین سفیر ہیں،جیریمی کاربن نے بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں آواز بلند کی ،سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر پر اجلاس بہت بڑی بات ہے،پاکستان پرامن اندازمیں مشکل صورتحال کا مقابلہ کررہا ہے،سلامتی کونسل کو متفقہ مذمتی قرارداد لانی چاہیے تھی ،مقبوضہ کشمیر سے متعلق معلومات بہت کم آرہی ہیں

  • آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

    آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

    ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی رہنما شاہ فیصل اور سماجی کارکن شہلا رشید نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
    بھارتی فوج کے تشدد کے بیان پر قائم ہوں، شہلا رشید کے بیان کے بعد بھارت نے پھر کشمیر کی بیٹی کو گرفتار کرلیا
    شاہ فیصل اور شہلا رشید سمیت سات افراد کے ایک گروپ نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، اور جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے صدارتی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے اعلی عدالت سے رجوع کیا۔

    سپریم کورٹ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام درخواستوں پر سماعت کل بروز بدھ ہو گی۔

    یاد رہے کہ وادی میں صورتحال بدستور برقرار ہے ۔ گذشتہ 23دن سے کرفیو نافذ ہے۔شہلارشید نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کیا ہے۔

    ادھر ، جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے پیر کو کانگریس کے رہنما راہول گاندھی پر وادی میں آنے کی دعوت پر "سیاست کھیل” کرنے کا الزام لگایا۔

  • امریکی مسلم خاتون کانگریس الہان عمر نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکی مسلم خاتون کانگریس الہان عمر نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکی مسلم خاتون کانگریس الہان عمر نے مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق ، جمہوری اصولوں اور مذہبی آزادی کا احترام ہونا چاہیے۔
    باکسر عامر خان بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایل اوسی روانہ
    الہان عمر نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو ،کشمیر کی صورت حال کو پوری طرح سے دستاویز کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تین ہفتے سے زیادہ عرصہ کرفیو نافذ ہے۔ بچوں کی خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کو بھارتی فوج حراست میں لے چکی ہے۔

  • باکسر عامر خان بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایل اوسی روانہ

    باکسر عامر خان بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایل اوسی روانہ

    پاکستانی نژاد عالمی لائٹ ویٹ چیمپین باکسر عامر خان کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لائن آف کنٹرول روانہ ہو گئے ۔
    پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ اسپنوز سے ملاقات
    قبل ازیں عامر خان نے اسلام آباد پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں صرف ٹی وی پر دیکھا،محسوس کیا خود ایل او سی جاوں۔ کشمیریوں کی آواز بننے کیلیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کر رہا ہوں۔

    عامر خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بچے ا سکول نہیں جا سکتے۔چاہتا ہوں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کےخلاف آواز اٹھاوں ۔بھارت کے غاصبانہ اقدامات اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کودنیا میں اجاگر کروں گا۔

  • مقبوضہ کشمیر:23 ویں روز بھی کرفیو نافذ، کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا

    مقبوضہ کشمیر:23 ویں روز بھی کرفیو نافذ، کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، 23 ویں روز بھی کرفیو نافذ، کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، 23 ویں روز بھی کرفیو نافذ، کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا۔ کرفیو کے باوجود کچھ علاقوں میں قابض فوج کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔
    نیٹ اور موبائل سروس بند ہونے کے باعث مقبوضہ کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جب کہ بیماری کی صورت میں ایمبولینس منگوانا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔ وادی مکمل طور ایک قید خانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

    بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    حریت قیادت اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتاریوں یا گھروں میں نظر بند کیا جا رہا ہے جب کہ بھارتی اقدامات کے خلاف مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔