Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیریوں سے یکجہتی ، مصطفیٰ کمال اور پی ایس پی قائدین  مظفرآباد پہنچ گئے

    کشمیریوں سے یکجہتی ، مصطفیٰ کمال اور پی ایس پی قائدین مظفرآباد پہنچ گئے

    چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال، صدر انیس قائم خانى کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے مظفرآباد پہنچ گئے

    باغی ٹی رپورٹ کے مطابق چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال، صدر انیس قائم خانى کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے مظفرآباد پہنچ گئے کچھ دیر بعد پریس کلب میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بات کریں گے ۔
    آج دوپہر 2 بجے چئیرمین سید مصطفی کمال اور صدر انیس قائم خانى کى سربراہی میں پاک سر زمین پارٹی کا وفد صدر آزاد کشمير سردار مسعود خان صاحب سے ملاقات کرے گا

    اس کے علاوہ آزاد کشمیر وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر کی مظفرآباد میں چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال اور صدر انیس قائیمخانی سے ملاقات کی اور انکا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے آزاد کشمیر کے دورہ کا شکریہ ادا کیا، اس موقعہ پر نیشنل کونسل میمبر حفیظ الدین اور شمشاد شمشاد صدیقی بھی موجود تھے۔

  • آرٹیکل 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مودی کو نوٹس، آئندہ سماعت کب ہو گی….جانیے

    آرٹیکل 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مودی کو نوٹس، آئندہ سماعت کب ہو گی….جانیے

    جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو نوٹس بھیج دیا ہے۔
    آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج
    چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگی۔ سماعت5 ججوں کا آئین بنچ سنے گا۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ نے کشمیر ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کی درخواست پر بھارت کی مرکزی حکومت کو نوٹس جاری اور مودی حکومت سے 7دن میں جواب طلب کر لیا۔

    یاد رہے کہ ایڈووکیٹ ایم ایل شرما، بیوروکریٹ سے سیاستدان شاہ فیصل ، جے این یو کے سابق طلباءرہنما شہلا رشید اور جموں و کشمیر سے رادھا کمارنے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کو چیلنج کیا ہے۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس کے ممبران پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے بھی مودی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں کی جانے والی تبدیلیوں کو چیلنج کیا ہے۔

    کشمیر ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع سے پابندی ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔

  • مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 24واں دن، ہزاروں کشمیری محاصرے میں

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا مسلسل 24واں دن، ہزاروں کشمیری محاصرے میں

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے ہوئے کرفیو کو آج مسلسل 24واں دن ہے۔ ہزاروں کشمیری محاصرے میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی فوج نے کشمیر کی حریت اور بھارت نواز سیاست دانوں سمیت دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے۔ جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
    کشمیر، کرفیوکا 23 واں روز، مساجد کو تالے، میڈیا پر بھی پابندیاں، 10 ہزار گرفتاریاں، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ
    پوری وادی میں 5اگست سے تمام انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے بند ہیں۔ مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن کی تازہ کاری نہیں کرسکے جبکہ ان میں سے بیشتر بھی پابندیوں کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے۔

    بھارتی فوج نے مساجد کو بھی تالے لگا دیئے ہیں۔ اکثر مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

    مقبوضہ وادی میں زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ لوگوں کو ادویات خریدنے کے لیے دہلی تک کا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی کشمیر میں بدستور بندش اور مواصلات کی بندش سے سیکڑوں مریض متاثر ہوئے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

  • امریکی سینیٹر کا سینیٹ میں کشمیراور کشمیریوں کی حمایت میں  قرارداد پیش کرنے کا اعلان

    امریکی سینیٹر کا سینیٹ میں کشمیراور کشمیریوں کی حمایت میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان

    واشنگٹن: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم شاید ٹرمپ کو تو نہ جھنجھوڑ سکیں مگر امریکی قانون ساز بڑے پریشان دکھائی دے رہے ہیں ، یہ وجہ ہے کہ امریکا کے سینیٹر گیری پیٹرز نے مسئلہ کشمیر پر سینیٹ میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق امریکا کے سینیٹر گیری پیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوج باہر نکالے اور شہریوں کو آزادی اظہار کی اجازت دے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹیکساس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر گیری پیٹرز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ، گیری پیٹرز نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مسئلہ پر دیگر اراکین سینیٹ سے بات کریں گے اور سینیٹ میں قراردادپیش کی جائے گی۔مذکورہ سینیٹر نے ٹرمپ انتظامیہ پر بھی تنقید کی کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر خاموش کیوں ہے.

  • پاکستان کی حمایت سے ہی کشمیر آزاد ہوگا ، وزیراعظم آزادکشمیر نے امریکہ میں یہ اعلان کرکے کھلبلی مچادی

    پاکستان کی حمایت سے ہی کشمیر آزاد ہوگا ، وزیراعظم آزادکشمیر نے امریکہ میں یہ اعلان کرکے کھلبلی مچادی

    واشنگٹن: امریکہ میں‌ وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر کے اس اعلان نے کھلبلی مچادی کہ پاکستان کی حمایت سے ہی کشمیر آزاد ہوگا ، کوئی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرے یا نہ کرے پاکستان کی حمایت ضرور ی ہے. وزیراعظم آزاد کشمیر نے چند عرب ملکوں کی بھارت نوازی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک حمایت نہ بھی کریں تو بھی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    مقبوضہ کمشیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے صرف پاکستان کی حمایت ہی کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدو جہد جاری رہے گی، پُر امن جدو جہد کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا، مسئلہ کشمیر پر ان ممالک میں کام کرنا ہے جہاں انسانی حقوق کی اہمیت ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کھل کر سامنے آچکی ہے، انسانی حقوق کے علم برداروں کے دروازے کھٹکھٹانے امریکا آیا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

  • کرفیو کے باوجود بھارتی فوج کشمیریوں سے خوفزدہ

    کرفیو کے باوجود بھارتی فوج کشمیریوں سے خوفزدہ

    کرفیو کے باوجود بھارتی فوج کشمیریوں سے خوفزدہ، کشمیر بھر میں بنکروں کا جال بچھانا شروع کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو چوتھا ہفتہ شروع ہو گیا ہے، کشمیری گھروں میں محصور ہیں، انہیں گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں، احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، اب تک بھارتی فوج 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر چکی ہے.

    بھارتی فوج نے کشمیریوں کے احتجاج سے خوفزدہ ہوکر کشمیر بھر مین بنکر بنانا شروع کر دئیے ہیں، سرینگر میں تین ہفتوں کے دوران دو درجن سے زائد مقامات پر بھارتی فوج نے بنکر بنا دئیے، سری نگر کے سول لائنز میں جہانگیر چوک فلائی اوور کے نیچے بھارتی فوج نے اپنا ایک بنکربنایا ہے۔ سری نگر کے علاقے کرن نگر، ایم اے روڑ، ریڈیو کشمیر، بربرشاہ، حیدر پورہ، مہجور نگر، برین نشاط، بڈیاری چوک ڈل گیٹ سمیت دیگر کئی مقامات پر بھی بھارتی فوج نے نئے بنکر تعمیر کئے ہیں۔ بھارتی فوج نے بنکروں کے علاوہ درجنوں مقامات پرعارضی پکٹ بھی قائم کئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سرینگر کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی بھارتی فوج پختہ بنکر بنا رہی ہے اور کشمیریوں کی زمینوں پر قبضے کر رہی ہے، کشمیریوں نے بھارتی فوج کی جانب سے بنکروں کی تعمیر پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے ،بنکروں کی تعمیر کے حوالہ سے بھارتی فوج نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے.

  • عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے رہائی کے لئے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے کیا انکار

    عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے رہائی کے لئے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے کیا انکار

    مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے رہائی کے لئے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا.

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل مودی سرکار نے جہاں حریت رہنماؤں کو گرفتار کیا وہیں سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار کر لیا تھا، دونوں سابق وزارائے اعلیٰ پانچ اگست سے گرفتار ہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، 23 ویں روز بھی کرفیو نافذ، کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا۔ کرفیو کے باوجود کچھ علاقوں میں قابض فوج کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔نیٹ اور موبائل سروس بند ہونے کے باعث مقبوضہ کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جب کہ بیماری کی صورت میں ایمبولینس منگوانا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔ وادی مکمل طور ایک قید خانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

  • ایل او سی پر بھارتی فائرنگ، بچی سمیت 2 شہری شہید، پاک فوج کی جوابی کاروائی سے دشمن کی توپیں خاموش

    ایل او سی پر بھارتی فائرنگ، بچی سمیت 2 شہری شہید، پاک فوج کی جوابی کاروائی سے دشمن کی توپیں خاموش

    بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے ہلمت اورٹنڈواس کےعلاقوں میں گولہ باری کی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اشتعال انگیزی سے بچی سمیت 2 شہری شہید، 4زخمی ہوئے ہیں‌ جبکہ گولہ باری سے 3 مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں، بھارتی فوج کی جانب سے وادی نیلم میں ہلمت، تاوبٹ، نکرو سمیت متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے،

    بھارتی فوج نےضلع جہلم ویلی کےعلاقےپانڈواورلیپاسیکٹرمیں بھی گولہ باری کی، پاک فوج کی منہ توڑجوابی کارروائی سے دشمن کی توپیں خاموش ہو گئیں، واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس پر پاکستانی فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا جاتا رہا ہے.

  • بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے شہری شہید، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے شہری شہید، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

    بھارتی فوج کی طرف سے وادی نیلم آزاد کشمیر میں ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نےگریس، تاؤبٹ، ہلمت، کریم آباد میں بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی ہے، بھارتی فوج کی فائرنگ سےایک شہری شہید،3زخمی ہوئے ہیں،

    چکوٹھی کےپانڈوسیکٹرپربھی بھارتی فوج کی گولہ باری اورفائرنگ،3گھروں کونقصان پہنچا ہے، بھارتی فائرنگ پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی ہے جس سے دشمن کی توپیں‌ خاموش ہو گئیں،

  • مقبوضہ کشمیر، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے پر پابندی کیوں؟ حکام نے ڈاکٹروں کو کیا ہدایات دیں۔ برطانوی اخبار نے بتا دیا

    مقبوضہ کشمیر، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے پر پابندی کیوں؟ حکام نے ڈاکٹروں کو کیا ہدایات دیں۔ برطانوی اخبار نے بتا دیا

    کشمیری فیملیز نے بھارتی حکومت کے اس موقف کی سختی سے تردید کی ہے کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ کے بعد اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فیملیز کے بقول سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کے دوران متعدد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
    باکسر عامر خان بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایل اوسی روانہ
    دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق5 اگست سے بھارت نے ریاست جموں وکشمیر میںکرفیو نافذ کردیا ہے ، جب نریندر مودی کی حکومت نے ریاست کو الگ کرنے اور اس کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق مواصلات کے تمام ترذرائع بند کرنے کے باوجود ، ریاست بھر میں چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم تین شہری جاں بحق ہوگئے ہیں ۔

    کرفیو کے دس دن بعد ، ریاست کے پولیس چیف دلباغ سنگھ نے فخر کے ساتھ دعوی کیا تھا کہ "لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں ایک بھی جانی نقصان نہیں ہوا”۔ لیکن سری نگر میں ایک ڈاکٹر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہسپتال عملے کو حکام کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ جھڑپوں سے متعلق داخلے کو کم سے کم رکھنے کے لئے ، اور متاثرین کو جلد فارغ کرنے کے لئے۔ اعدادوشمار کو کم رکھیں۔

    ان تینوں اموات کے معاملات میں ، رشتہ داروں نے ڈاکٹروں کو جھڑپوں کے ذریعہ ادا کیے گئے کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی کوشش کرنے پر اپنی مایوسی کی بات کی – نہ ہی انہیں موت کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا۔

    9 اگست کی سہ پہر کے وقت ، فہمیدہ بانو ، ایک 35 سالہ ماں ،اپنے دو جوان بیٹوں کے ساتھ ، سری نگر کے نواح میں میں اپنے گھر پر تھی ، جب باہر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

    اس کا شوہر ، 42 سالہ رفیق شگو بچوں کو کمرے میں لے گیا۔

    رفیق کے مطابق، ”مظاہرین کا پیچھا کرنے کے بعد ، سیکیورٹی فورسز نے شیشے کی کھڑکیاں توڑڈالیں اور گھروں پر پتھراو شروع کردیا۔“

    اس کی اہلیہ ، ہاتھ میں بیڈ شیٹ لے کر ، کھڑکیوں کو ڈھانپنے کے لئے اوپر کی طرف بڑھی۔ان کی پڑوسی ، تسلیمہ ، اس وقت اپنی کھڑکیوں کو بھی ڈھانپ رہی تھی۔

    ”فہمیدہ کھڑکی کے پاس تھی دھواں ، بڑی مقدار میں ، ان کی کھڑکی سے داخل ہوا۔ میں کھانسی کی آواز سن سکتی تھی“وہ کہتی ہیں۔

    اس کے بعد وہ سینے میں درد اور سانس لینے کی شکایت کرنے لگی۔ ”میں نے اسے سانس لینے کی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا۔ شگو نے بتایا کہ اس نے ابہت زیادہ آنسو بہائے تھے۔“

    شگو کے مطابق جب ایک کلومیٹر دور جہلم ویلی کالج (جے وی سی) کے اسپتال پہنچے تو ، بانو کو پھیپھڑوں کی چوٹ سے شدید تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ پہنچنے کے 40 منٹ میں ہی فوت ہوگئی۔

    چار دن بعد ، شگو اپنی اہلیہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لینے گیا ، لیکن چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) نے اسے بتایا کہ یہ سند پولیس کے پاس ہے۔اسے ڈاکٹر اور دوست کی مداخلت کے بعد ڈیٹھ سرٹیفیکیٹ مل ہی گیا۔

    شگو کہتے ہیں ، "انہوں نے جھوٹ بولا ، انہوں نے مجھے دھوکہ دیا۔” جب میں سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو اس میں موت کی اصل وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    بانو کے رشتہ داروں کو کم از کم موت کا سرٹیفکیٹ مل گیا۔ 55 سالہ ایوب خان کے خاندان کے لئے ، جو ایک خاندان میں تین روٹیوں کے ساتھ اکیلے روٹی کمانے والا تھا ، یہ انتظار ابھی بھی جاری ہے۔

    17 اگست کی شام 4 بجے ، سری نگر ضلع کے یاری پورہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ،یہاں بھی مظاہرین کا پیچھا کرنے کے بعد ، سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گھروں پر پتھراو شروع کردیا۔

    خان گھر میں تھا جب اس نے ایک مسجد سے اعلانات سنتے ہی لوگوں سے گھروں سے باہر آنے کو کہا کیونکہ پولیس نجی املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    خان نے اپنی سات سالہ بیٹی مہرین کو باہر جاتے ہی گھر کے اندر ہی رہنے کو کہا۔ انہوں نے مرکزی دوست پر اپنے دوست ، 60 سالہ فیاض احمد خان سے ملاقات کی۔

    "ہم دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے ، جب فورسز نے آنسوگیس کے گولے فائر کرنے شروع کیے۔ ان میں سے ایک گولہ ایوب کی ٹانگوں کے درمیان پھٹ پڑے اور ان کا دم گھٹنے لگا۔ فوری طور پر انھیں شری مہاراجا ہری اسپتال (ایس ایم ایچ ایس) لے جایا گیا ، "ان کے دوست کا کہنا ہے۔

    خان کے بھائی شبیر کو یاد ہے کہ ایوب کے منہ سے خون نکل رہا تھا ، جب وہ ہسپتال جاتے ہوئے تھری وہیلر آٹو رکشہ میں اپنی گود میں لیٹا تھا۔

    "جب ہم اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ وہ پہلے ہی مر چکا ہے۔ہم نے ان سے ریکارڈ پر یہ ذکر کرنے کو کہا کہ اس کی موت آنسوگیس کی وجہ سے ہوئی تھی ، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔”

    خان کی موت پر عوامی سطح پر اشتعال پھیلنے کے خوف سے ، پولیس نے اہل خانہ کو حکم دیا کہ وہ عام طور پر تدفین کا جلوس نہ نکالیں اور حاضرین کی تعداد کو 10 سے زیادہ تک نہ رکھیں۔

    ایمبولینس میں لاش گھر پہنچنے کے بعد بھی ، سیکیورٹی فورسز نے شاٹ گن کے چھروں سے فائرنگ کرکے گھر پر جمع ہجوم کومنتشر کر دیا ، جس سے شبیر اور خاندان کے دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

    کچھ دن بعد ، اہل خانہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ لینے کے لئے اسپتال پہنچ گئے ، اس موقع پر ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انہیں پہلے پولیس سے کسی جرم کی ایف آئی آر حاصل کرنی ہوگی ، جس کی فیملی کا کہنا ہے کہ موجودہ میں حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔

    شبیر کہتے ہیں ، "یہ واضح ہے کہ پولیس کے خلاف کسی بھی معاملے میں ، وہ موت کی اصل وجہ کا ذکر نہیں کریں گے۔ "یہ ناانصافی ہے ، ہم ہلاکتوں کا اندراج نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم بے بس ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق موجودہ مسئلہ کشمیر کی پہلی ہلاکت دراصل 5 اگست کو ہی ہوئی تھی ، جب سترہ سالہ اوسیب الطاف نے شمال مغربی سرینگر میں مظاہرین کا پیچھا کرنے پر دریائے جہلم میں چھلانگ لگائی۔
    ایک دوست جس نے صرف "ایس” کے طور پر شناخت کرنے کو کہا اس نے بتایا کہ جب پل کے دونوں اطراف سے پولیس پہنچی تو وہ ، الطاف اور دیگر ایک فٹ برج پر پھنس گئے۔

    “اسیب کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ جب ہم اچھل پڑے ، میں نے اسباب کو اپنی پیٹھ پر لے جانے کا فیصلہ کیا ، لیکن فوج کے ایک اہلکار نے آکر اس کی چھڑی کو اسیب کے ہاتھ پر مارا جو جھاڑیوں کو تھامے ہوئے تھا۔
    الطاف کو ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے جایا گیا لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ ان کے والد ، الطاف احمد معرازی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کی موت کا سرٹیفکیٹ نہ دینے کے علاوہ ، ڈاکٹروں نے ان کو اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے بھی دستاویزات دینے سے انکار کردیا کہ انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں پر دباو ہے کہ وہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ دیں۔ بھارت کا دعوی ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول کی ہے ، جو سچ نہیں ہے۔ اگر وہ مواصلات پر پابندی کو ختم کرتے ہیںتو حقیقت سامنے آجائے گی۔
    بانو کا علاج کرنے والے جے وی سی اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر نے اپنے ڈاکٹروں کے طرز عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک موت کی وجہ کو آنسوگیس نہیں کہہ سکتے جب تک کہ یہ قطعی طور پر ثابت نہ ہوجائے۔”

    کشمیر میں غیر معمولی پابندیاں لاگو ہونے کے 20 دن سے زیادہ کے بعد ، حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ وادی میں صورتحال "معمول کی طرف لوٹ رہی ہے” ۔