اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ اسپنوزا سے ملاقات۔ ملاقات کے دوران ملیحہ لودھی نے ماریہ اسپنوزا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ سلامتی کونسل اجلاس سے ثابت ہو گیا کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، ملیحہ لودھی
اس موقع پر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کی آزادیاں سلب کررکھی ہیں۔ بھارتی غاصبانہ تسلط نے مقبوضہ کشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پراپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ملیحہ لودھی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے کردار ادا کرے۔
لاہور: "پاکستان کا خدا حافظ” (پی کے کے ایچ) نامی ادارے نے کشمیر کے مسلئے پر دوسرے چینلز سے ہٹ کر تخلیقی کام کیا ہے.
تفصیلات کے مطابق "پاکستان کا خدا حافظ” (پی کے کے ایچ) نامی ادارے نے مسئلہ کشمیر پر تخلیقی کام کیا ہے. "پی کے کے ایچ” نے کشمیر کے مسئلے پر معمول سے ہٹ کر کام کیا ہے، بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کو تصویروں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا ہے. باغی ٹی وی کی "پی کے کے ایچ” کے ایم ڈی حنان ملک سے بات ہوئی ہے جنہوں نے باغی ٹی وی کو بتایا ہے کہ یہ ادارہ 10 سال سے لوگوں کی بھلائی کیلئے کام کر رہا ہے. ہم لوگ نہ صرف ملکی مسائل بلکہ بین الاقوامی مسائل کو بھی کوریج دیتے ہیں. اور چونکہ کشمیر شروع سے ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسلئہ رہا ہے اس لیے ہم لوگ کشمیر کو زیادہ کوریج دیتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر سے آرٹیکل 35 اے اور 370 کی منسوخی کے بعد ہم نے ریسرچ کی اور ہم نے سوچا کہ اگر کشمیر کی آواز دنیا تک پہنچانی ہے تو اس کا بہترین طریقہ ویڈیو اور تصاویر ہے. اس لیے انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر تصاویریں اور ویڈیوز بنائیں جس کا دنیا بھر سے بہترین ردعمل آیا ہے.
دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ کشمیر پر ویڈیو اور تصاویر بنائی گئی ہیں بلکہ اس سے قبل بھی بہت دفعہ ایسی ویڈیوز بن چکی ہیں جو دنیا بھر میں مشہور ہوچکی ہیں. اور ان ویڈیو کا مقصد دنیا کو کشمیر میں ہونے والے مظالم کا بتانا ہے.
"پی کے کے ایچ” کی کشمیر پر بنائی گئی چند ویڈیوز درج ذیل ہیں:
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کو بیان کیا گیا ہے کہ وہاں پر کھانے پینے کیلئے بھی کچھ نہیں جبکہ وہاں کرفیو بھی نافذ ہے:
اس ویدیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں آزادی نہیں ہے بلکہ کشمیری آزادی کے منتظر ہیں:
اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کشمیر میں انسانیت کو گولی سے مار دیا گیا ہے:
اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کشمیری آزادی کے منتظر ہیں:
اس ویڈیو میں کشمیر کی تحریک آزادی کو دکھایا گیا ہے ساتھ ہی انہیں امید دلائی گئی ہے کہ کشمیر میں جلد آزادی بحال ہوجائے گی.
وادی کشمیر میں حکومت کی طرف سے 2 اگست کو جاری کی گئی ایڈوائزری اور 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد یہاں کے سیاحتی شعبے کو ایک زبردست دھچکا لگا ہے۔ وادی کے تمام سیاحتی مقامات پر واقع ہوٹل بند یا خالی ہیں اور سری نگر میں سبھی ہاوس بوٹ خالی ہیں۔ وہ کشمیری جن کا ذریعہ معاش سیاحتی شعبے سے وابستہ ہے، انہیں شدید مالی تنگیوں کا سامنا ہے۔ بھارتی انتظامی افسر بھی آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف بول پڑا
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی کے تمام مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری میں سیاحتی سرگرمیاں 5 اگست سے مسلسل معطل ہیں۔ ان مقامات پر سبھی ہوٹل اور دکانیں بند ہیں جبکہ ہوٹلوں میں کام کرنے والے ملازمین کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔
گلمرگ کے ہوٹل مالکان کے ایک گروپ کے مطابق ہوٹل 5 اگست سے بند ہیں اور انہوں نے اپنے 90 فیصد ملازمین کی چھٹی کرا دی ہے۔ اس سال جولائی تک سیاحوں نے بڑی تعداد میں گلمرگ کا رخ کیا تھا۔ لیکن 2 اگست کے ایڈوائزری کے بعد 5اگست تک گلمرگ مکمل طور پر خالی ہو چکاتھا۔ مالکان کے بقول کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے جس کی بحالی کے ابھی تک کوئی آثا ر نہیں۔
جاری ہونے کے ساتھ ہی گلمرگ خالی ہونا شروع ہوا اور 5 اگست تک مکمل طور پر خالی ہوچکا تھا۔ ہمارا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے، بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
یاد رہے کہ 2 اگست کو ریاستی حکومت کی طرف سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں وادی میں موجود تمام امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر کشمیر چھوڑ کر چلے جانے کا کہا گیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بنیادی حقوق سے انکار کے بعد، احتجاجاً استعفی دینے والے بھارتی حاضر سروس افسرگوپی ناتھن نے کہا ہے کہ ایسا کرنا جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رکن نے کیا کہا
گوپی ناتھن نے کہا کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ کو بیس دن ہو چکے ہیں لیکن اب بھی کشمیری لوگوں کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی اجازت نہیں۔یہ چیز جمہوری سیٹ اپ میں قابل قبول نہیں ہے۔
گوپی ناتھن نے مزید کہا کہ ہمیں کشمیریوں کو اظہار رائے کی آزادی دینی چاہیے۔ اگر انہیں یہ پسند نہیں ہے تو ہم ان کو راضی کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جمہوریت میں عوام کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ 32سالہ گوپی ناتھن نگرحویلی، دمان اور دادراکے پاور ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری تھے۔ انہو ں نے گذشتہ بدھ کو اپنا استعفی پیش کیا تھا۔
ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار
ڈی راجہ، جو حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے راہول گاندھی کے وفد کا حصہ تھے، نے کہا کہ کشمیری تکلیف میں ہیں اور انہیں کھانے ، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ڈی راجہ کے بقول سری نگر کا دورہ کرنے والے اپوزیشن کے وفد کے ایک حصے کو ہوائی اڈے سے واپس آنے پر مجبور کیا گیا۔
راجہ نے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ غیر جمہوری اور غیر آئینی تھا۔ ”ایک طرف ، مودی حکومت آئین کے مطابق کشمیر کو دوسری ریاستوں کے برابر لانا چاہتی ہے ، لیکن وہ اس آئین کو کشمیر پر لاگو کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے”۔
اسلام آباد: سوشل میڈیا کے صارفین نے بھارتی وزیراعظم نریند مودی کو ہٹلر سے تشبیع دیدی. "کشمیر کو ہٹلر سے آزاد کروایا جائے” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا.
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے صارفین کشمیریوں کی آواز بن گئے. ٹویٹر پر "کشمیر کو ہٹلر سے آزاد کروایا جائے” ٹاپ ٹرینڈ بن گیا. ٹویٹر صارفین نے نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ظالم حکمران ہٹلر سے تشبیع دیدی. صارفین کی جانب سے کشمیریوں پر اٹھانے والے ظلم کی سخت تردید کی گئی. ساتھ ہی نریندر مودی کو وارننگ دی گئی کہ کشمیریوں پر ظلم فوری طور پر روکا جائے نہیں تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے. نریندر مودی کو نہ صرف پاکستانیوں نے بلکہ بھارت کے کئی شہریوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا.
واضح رہے کہ کشمیر میں 22 روز سے کرفیو نافذ ہے جہاں بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم کر رہی ہے.
ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی کرفیو کے باوجود فوج کے خلاف نفرت اور پتھر بازی عروج پر ہے۔ ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے ایک واقعہ ٹرک کو فوجی گاڑی سمجھ کر پتھراﺅ کیا جس سے ٹرک ڈرائیور جاں بحق ہو گیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار
پولیس کے مطابق بیج بہاڑہ کے رہائشی نور محمد ڈار کے ٹرک کو لوگوں نے غلطی سے سیکورٹی گاڑی سمجھ کر انھیں پتھروں سے نشانہ بنایا۔ اس پتھر بازی میں ڈار کو سر میں چوٹ لگی ۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
دریں اثنابھارتی حکومت ابھی بھی اس بات پر مصر ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ لیکن کانگریس نے بھارتی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے ۔یاد رہے کہ حکومت نے کانگریس کے وفد کو سری نگر جانے سے روک دیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار کو روکنا غیر قانونی ہے، مودی سرکار گرفتار کئے گئے سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکر پٹیل نے کشمیر کے معاملے پر مودی سرکار کے خلاف بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر میں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں۔ کمیونی کیشن بلیک آؤٹ، غیر قانونی گرفتاریاں اور میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے انفارمیشن بلیک ہول پیدا کر دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار کو روکنا غیر قانونی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے آکر پٹیل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ماضی میں بھی مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھ چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر مودی سرکار کا مکمل کنٹرول سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو تین ہفتے گزر گئے ،بھارتی فوج کرفیو میں معمعولی سی بھی نرمی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بدستور تین ہفتے تک تسلسل کے ساتھ کرفیو رکھنے کی روایت دنیا میں نہیں ملتی ،مہذب دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ جہاں بھی کرفیو ہو وہاں دوسرے دن نرمی کی جاتی ہے یا ایک دو دن بعد کرفیو اٹھا لیا جاتاہے تاکہ لوگ اشیائے ضرورت لے سکیں .بھارت نے یہ سب ریکارڈ توڑ دیے اور مسلسل تیسرے ہفتے سے کرفیو جاری ہے . بیمار ادویات لینے سے قاصر ہیں. بچے دودھ پینے سے محروم ہیں.لوگوں کے پاس اشیائے ضروریات کی قلت ہے.کشمیری اب ضرورت زندگی سے دو دو ہاتھ تنگ ہیں.ان تمام حالات میں کشیری اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں.
مقبوضہ کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروباری مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند ہے،کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں. کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے حریت رہنماؤں سمیت کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار و نظر بند کر رکھا ہے. اس کے باوجود کشمیری بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، بارہمولا میں بھارتی فوج نے دو کشمیری شہید کئے، درجنوں کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں سے زخمی کیا گیا، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، گھروں میں چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کے ساتھ بھی دست درازی کی گئی.
بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کا دورہ کرنا چاہا تو مودی سرکار نے سرینگر ائیر پورٹ سے انہیں واپس بھجوا دیا،کشمیریوں سے نہیں ملنے دیا گیا
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) جمنا ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے میٹرک پاس کرنے والے ہونہار طلبا و طالبات کے لیے عزازی تقریب اور جشن آزادی اور اظہار یکجہتی کشمیر کے خوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا.
جس میں مہمان خصوصی ایم ڈی دی سمارٹ کالج گجرات کیمپس تیمور احمد. اسسٹنٹ منیجر مارکیٹنگ ذار علی , اور دیگر نے شرکت کی. فاؤنڈر جمنا ویلفیئر سوسائٹی سید جواد خسن شاہ، سلیم رضا, نمبردار جمنا چوہدری محمد اعظم نمبردار, کونسلر بشیر چیمہ، صدیق بٹ، امتیاز ہنجرا, اور دیگر معززین علاقہ سمیت نوجوانوں بچوں اور خواتین کی بھرپور تعداد نے شرکت کی .مہمانوں اور معززین علاقہ نے طلبا و طالبات میں تعریفی سرٹیفکیٹ اور انعامات تقسیم کیے. سٹیج سیکرٹری کے فرائض چوہدری اسداللہ وڑائچ نے ادا کیے جبکہ جرنل سیکرٹری شہروز صفدر نے سوسائٹی کی گزشتہ کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا. تقریب میں طلبا و طالبات کی خوصلہ افزائ کی گئ اور اس کے علاوہ جشن آذادی اور جمنا ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی گئی .تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے پودے لگا کر جمنا ویلفیئر سوسائٹی کی شجر مہم میں بھی اپنا خصہ ڈالا ۔ تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا.
مقبوضہ کشمیر میں یوتھ لیگ مزاحمتی تحریک سامنے آ گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں یوتھ لیگ مزاحمتی تحریک سامنے آ گئے، وادی کے چپے چپے میں یوتھ لیگ کی قیادت کےاحتجاجی پوسٹر آویزاں کئے گئے ہیں.یوتھ لیگ کی جانب سے آج سرینگر لال چوک تک مارچ کا اعلان کیا گیا ہے،یوتھ لیگ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر لگا کر بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کا شیڈول دیا گیا ہے. یوتھ لیگ نے پانچ دن کا احتجاج کا شیڈول جاری کیا ہے
بھارت سرکار کی جانب سے جموں کشمیر پر بھارتی قبضے اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کوروکنے کے لیے آج مسلسل22ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری ہیں۔ تین ہفتوں سے جاری مسلسل کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے کشمیری عوام کو غذائی اجناس اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامناہے.لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں محصورہوکر رہ گئے ہیںا ور جموں کشمیر اپنے ہی باشندوں کے لیے ایک بڑی جیل بن چکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں مام تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروباری مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند ہے،کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں. کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے حریت رہنماؤں سمیت کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار و نظر بند کر رکھا ہے. اس کے باوجود کشمیری بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، بارہمولا میں بھارتی فوج نے دو کشمیری شہید کئے، درجنوں کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں سے زخمی کیا گیا، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، گھروں میں چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کے ساتھ بھی دست درازی کی گئی.
بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کا دورہ کرنا چاہا تو مودی سرکار نے سرینگر ائیر پورٹ سے انہیں واپس بھجوا دیا،کشمیریوں سے نہیں ملنے دیا گیا